September,2020

ماہنامہ رحیمیہ

September,2020

ستمبر 11, 2020 13 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 13

حق چھپانے اور اس میں باطل کی ملاوٹ کی ممانعت

حق چھپانے اور اس میں باطل کی ملاوٹ کی ممانعت

 وَلا تَلبِسُوا الحَقَّ بِالباطِلِ وَتَكتُمُوا الحَقَّ وَأَنتُم تَعلَمونَ

وَأَقيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ وَاركَعوا مَعَ الرّاكِعينَ
(اور مت ملاؤ صحیح میں غلط اور مت چھپاؤ حق کو جان بوجھ کر۔ اور قائم رکھو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ۔ اور جھکو نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ۔)  (42-43:2)


گزشتہ دو آیات سے بنی اسرائیل کی خرابیوں کا بیان جاری ہے۔ اُن سے کہا گیا ہے کہ: ’’معاہدات کی پاسداری کرو، کتابِ مقدس قرآن حکیم پر ایمان لاؤ اور اللہ کی آیات کو معمولی معاوضے کے عوض مت بیچو۔‘‘ ان آیاتِ مبارکہ میں ان کی مزید دو خرابیاں بیان کی جا رہی ہیں، جن سے بچنے کے لیے انھیں اصولِ دین قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ 
وَلا تَلبِسُوا الحَقَّ بِالباطِلِ : حق و باطل میں فرق اور امتیاز دینِ حنیفی کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ِمصطفی ﷺ تک تمام انبیا علیہم السلام دنیا میں حق اور سچ کو غالب کرنے اور باطل کو مٹانے کے لیے آئے ہیں۔ حقائق کے خلاف تمام اُمور باطل کہلاتے ہیں اور تمام ادیانِ الٰہیہ میں حقائق پر مبنی بنیادی اساسی اُمور حق اور سچ ہیں۔ دینِ حق کا جھوٹ اور باطل پر غلبہ ضروری ہے۔ مسخ شدہ مذہبیت میں حق و باطل میں تلبیس اور ملاوٹ کی جاتی ہے۔ زوال کے زمانے میں مذہبی طبقہ ایسے ہی امراض کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہودیوں کو بھی یہ مرض لاحق تھا کہ انھوں نے حق و باطل میں تلبیس پیدا کردی تھی، اس سے انھیں روکا گیا ہے۔ 
حق و باطل کی تلبیس کی حقیقت یہ ہے کہ دینِ حنیفی دو بنیادی اُمور پر مشتمل ہے: (1) دین کے کچھ اُمور فرائض و واجبات کے طو رپر ہیں، جو اصل مقصد ہیں۔ (2) کچھ اُمور اُن اصل اُمورِ مقصودہ تک پہنچنے کے ذرائع اور وسائل ہیں۔ تلبیس یہ ہے کہ دین کے ذرائع اور وسائل کو اصل مقصود بنا لیا جائے اور دین کے اصل مقاصد پسِ پُشت ڈال دیے جائیں۔ مثلاً سنن و مستحبات کو فرائض و واجبات کی طرح سمجھا جائے اور فرائض و واجبات کو نظرانداز کردیا جائے۔ یا اسی طرح مستحب اور سنت کی اصل حقیقت اور نوعیت کو سمجھے بغیر انھیں بالکل بھلا دیا جائے۔ دین کے کسی فریضے اور حکم کو اس کی اصل حقیقت اور نوعیت سے گھٹا‘ یا بڑھا دینا اور شریعت ِحقہ میں کمی اور زیادتی کرنا تلبیس کہلاتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم نے تمام لوگوں کو حکم دیا ہے کہ حق و باطل میں تلبیس نہ کریں۔ 
وَتَكتُمُوا الحَقَّ: دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ حق و باطل میں تلبیس کی بجائے سِرے سے حق ہی کو چھپا لیا جائے۔ یہ بھی بہت بڑا جرم ہے۔ زوال کے زمانے میں رجعت پسند مذہبیت اس مرض کا بھی شکار ہوتی ہے اور وہ دین کی سچی تعلیمات کو ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے عام لوگوں سے چھپاتی ہے۔ یہودیوں میں بھی زوال کے زمانے میں یہ مرض لاحق ہوچکا تھا۔ اس لیے قرآن حکیم نے خاص طور پر بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے حق کو چھپانے سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ حق کو چھپانا اتنا بڑا جرم ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ: ’’جس آدمی سے کسی ایسے علم کے بارے میں سوال کیا گیا، جسے وہ جانتا ہے، پھر اُس نے اُسے چھپایا تو قیامت کے دن اُس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔‘‘ (مشکوٰۃ: 223) امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’ضرورت کے وقت علمِ حق کو چھپانا حرام ہے۔ اس لیے کہ ایسا کرنا دین کی توہین ہے۔ یہ شریعت کو بھلا دینے کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح کرنے سے علم کا بڑا حصہ مٹ جاتا ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، من ابواب الاعتصام بالکتاب و السنۃ) 
حقیقت یہ ہے کہ جب دین کے نااہل نمائندے دنیاوی لذات اور خواہشات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور دین کے غلبے کا اہتمام نہیں کرتے اور نہ اُس کی تعلیم دیتے ہیں اور نہ اس پر ٹھیک طرح سے عمل کرتے ہیں، نیکیوں اور معروفات کا نظام نہیں بناتے، منکرات سے نہیں روکتے تو آہستہ آہستہ دین کے خلاف رسومات اور نظام ہائے حیات قائم ہوجاتے ہیں۔ یہ سچے علم کو چھپانے اور اُسے پڑھنے پڑھانے سے رُک جانے کے نتائج ہوتے ہیں۔ اس لیے خاص طور پر حق و باطل کی تلبیس اور سِرے سے حق کو چھپانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اس کو بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ 
وَأَنتُم تَعلَمونَ: جانتے بوجھتے ہوئے اور صحیح علم رکھتے ہوئے یہ دونوں جرائم کرنا بہت بڑی خرابی ہے۔ غلطی اور غفلت سے اس طرح کی کچھ کوتاہی ہوجائے تو اپنی غلطی اور غفلت کو دور کرنے سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے، لیکن جانتے بوجھتے ہوئے ان جرائم کا اِرتکاب سخت عذاب کا سبب ہے۔ یہ دین مٹانے کے مترادف ہے۔ 
وَأَقيمُوا الصَّلاةَ : ان دو خرابیوں کے مقابلے میں دین کی اصل تعلیمات کے دو بنیادی اساسی اُصولوں کو بروئے عمل لانا ضروری ہے: (1) ایک نماز قائم کرنا اور (2)دوسرے انسانیت کی خدمت کے لیے زکوٰۃ ادا کرنا۔ نماز باجماعت کا قیام لوگوں کو حق و باطل کی تلبیس سے روکتا ہے۔ اس لیے کہ جب سب لوگ اجتماعی طور پر مسجد میں مقرر کردہ طریقۂ عبادت کے مطابق نماز ادا کریں گے تو دینِ حق میں کسی مخصوص طبقے کو تلبیس کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ فرائض و واجبات پورے مسلم اجتماع کو معلوم ہوں گے۔ نوافل اور مستحبات کی اصل حقیقت اور نوعیت بھی سب لوگوں کو معلوم ہوگی۔ نماز باجماعت کا اہتمام ہر طرح کی تحریف اور تلبیس سے دین کو محفوظ رکھتا ہے۔ 


وَآتُوا الزَّكاةَ :  دین کا دوسرا اُصول زکوٰۃ ہے۔ یہ مالی بدعنوانی اور خواہشات سے روکتی ہے۔ عام طور پر مال کے لالچ میں آکر حق بات چھپائی جاتی ہے۔ جب ارتفاقاتِ ضروریہ کے تحت کوئی انسان محتاجوں اور غریبوں پر مال خرچ کرتا ہے اور حق کو حق دار تک پہنچاتا ہے تو وہ کتمانِ حق جیسے جرم سے محفوظ رہتا ہے۔  
وَاركَعوا مَعَ الرّاكِعينَ:یہودیوں کو خاص طور پر رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس لیے کہ اُن کی شریعت میں رکوع کی عبادت نہیں تھی۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ دینِ اسلام قبول کرکے رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ ایسی اجتماعی عبادت کا اہتمام کرو کہ جو حق و باطل کی تلبیس اور حق کو چھپانے سے روکنے کا سبب بنتی ہے۔ 

2 / 13

محض گمان پر رائے قائم کرنے کی ممانعت

محض گمان پر رائے قائم کرنے کی ممانعت


عَنْ أَبِي قلَابَۃَ قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لأبِي عَبْدِاللّٰہ، أَو قَال أَبُو عَبْدِاللّٰہ لأبِي مَسْعودٍ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہﷺ یَقُوْلُ في زَعَمُوا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہؐ یَقُوْلُ: ’’بِئْسَ مَطِیَّۃُ الرَّجُلِ: زَعَمُوا۔‘‘ (سنن ابي داؤد، 4972)
(حضرت ابوقلابہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابومسعودؓ نے ابوعبداللہؓ (حضرت حذیفہؓ) سے یا ابوعبداللہؓ (حذیفہؓ) نے حضرت ابومسعودؓ سے پوچھا کہ آپ نے اس بارے میں کیا سنا ہے جو لوگ ’’زعموا‘‘ (لوگوں کا خیال ہے،با ور کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے وغیرہ) کے انداز میں بات کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ: ’’زعموا‘‘ آدمی کی بہت بُری سواری ہے۔‘‘) 
کسی بھی امر پر حتمی رائے قائم کرنے کے لیے قرآن و حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ رائے واضح ہو اور مستحکم دلیل پر مبنی ہو۔ مسلمان ایسا ذہن اور سوچ رکھے جو عقل و دانش پر مبنی ہو۔ مثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز رائے کا مالک ہو۔ محض تخیلات اور توہمات پر مبنی مؤقف اپنانے کے بجائے کسی بھی مسئلے پر دستیاب معلومات کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنے کا خوگر ہو۔ مسلمان کو ایسی تربیت لینی چاہیے، جس سے اس کا ذہنی اُفق بلند ہو، جو اسے درست رائے قائم کرنے میں مددگار ہو۔ یہ رویہ اور رجحان کہ لوگ یہ کہتے ہیں، خیال (Perception) یہ ہے، میڈیا پر یہ بات چل رہی ہے، جیسی فضا سے متأثر ہوکر انسان رائے بنائے تو یہ رویہ نہایت گمراہ کن ہے۔ اگر انسان کی یہ عادت بن جائے تو یہ طرزِ عمل رسول اللہﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ اس کے برعکس انسان کو دینی، سماجی اور اجتماعی امور کے حوالے سے ایسا صاف ذہن بنانے کی ضرورت ہے، جس میں وہ خود پختہ رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے۔ اس کی تجزیاتی صلاحیت نکھر جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دستیاب علم تک رسائی، ٹھوس معلومات اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اہلِ علم و دانش کی صحبت اختیار کی جائے۔ ایسے ذی شعور لوگوں کی نگرانی میں اپنی ذہنی آبیاری اور تربیت کا اہتمام کیا جائے جو انسان کو درست رائے والا بنادے۔ 
قرآن حکیم نے بے بنیاد اور ناپختہ سوچ رکھنے والوں کوکہیں (78:2) (وہ محض گمان کرتے ہیں) کہا، کہیں (171:2) (سو وہ کچھ نہیں سمجھتے) کہا اور کہیں ان کے بارے میں کہا (22:18) (یہ لوگ بہت کم جانتے ہیں)۔ قرآن حکیم کے یہ اشارات انھیں لوگوں کی طرف ہیں جو محض گمان اور اٹکل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے مسلمان کو ممکنہ حد تک اپنے علم اور اپنی سوچ کو کامل اور پختہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ناپختہ سوچ انسان کو بے وقار، قوموں اور دینی جماعتوں میں بہت سے فسادات اور خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے۔ افراد، جماعتیں اور قومیں پروپیگنڈے کا شکار ہوکر غلط راہوں پر چل نکلتی ہیں۔ یوں دنیا و آخرت کی ناکامی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

3 / 13

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ  ؛رسول اللہ ﷺ کے رازدار

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ  ؛رسول اللہ ﷺ کے رازدار



حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو والدین کے مسلمان ہونے کی وجہ سے بالکل بچپن میں رسول اللہؐ کی زیارت اوردیدار سے قبل ہی ایمان کی انمول دولت نصیب ہوگئی تھی۔ آپؓ قدیم الاسلام ہیں، مگر بدر میں ابوجہل کے لشکرنے زبردستی کا وعدہ لکھوا لیا، جس وجہ سے شامل نہ ہو سکے۔ رسول اللہؐ کی زیارت اور دیدار کاشوق حضرت حذیفہؓ کے رگ وپے میں سمایا ہوا تھا۔ جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے، رسول اللہؐ کے حالات جاننے کے لیے، نیز آپؐ کے اوصافِ حمیدہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی مسلسل کوشش اور جستجو میں لگے رہتے تھے۔ چناںچہ حضرت حذیفہؓ جب کچھ بڑے اور سمجھ دار ہوگئے تو ایک بار بہ طورِخاص رسول اللہؐ سے ملاقات کی غرض سے مدینہ سے سفرکرتے ہوئے مکہ پہنچے، جہاں انھیں زندگی میں پہلی بار آپؐ کا دیدار نصیب ہوا۔ اس کے بعدجب رسول اللہؐ ہجرت فرما کر مکہ سے مدینہ تشریف لائے توایک روز حضرت حذیفہؓ نے آپؐ سے دریافت کیا کہ: ’’اے اللہ کے رسول! کیا میں مہاجرین میں سے ہوں یا اَنصار میں سے؟‘‘ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم چاہو توخود کو مہاجرین میں شمار کرلو اور اگر چاہو تو اَنصارمیں سے‘‘۔ اس پر حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میں اَنصاری ہوں‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد حضرت حذیفہؓ اوران کے والد یمان ؓ دونوں کی یہی کیفیت رہی کہ ہمہ وقت زیادہ سے زیادہ رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضری اور علمی استفادے میں مشغول ومنہمک رہا کرتے تھے۔ ہجرتِ مدینہ کے فوری بعد محض اگلے ہی سال جب مشرکین و مخالفین کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جنگوں کا دور    شروع ہوا تو آپؓ بدر کے سوا سب معرکوں میں شریک رہے۔ حضوؐر نے حضرت عمار بن یاسرؓ اور آپؓ کے درمیان عقد ِمواخات (بھائی چارے کا معاہدہ) کرایا۔
حضرت حذیفہؓ سو سے زیادہ احادیث کے راوی ہیں۔ 12 صحیح بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں اور آٹھ احادیث صحیح بخاری میں ہیں۔ 17 صرف مسلم شریف میں ہیں۔ عہد ِرسالت میں ریاستی سطح کے اہم امور میں بھی شریک رہے۔ مدینہ میں مسلمانوں کی پہلی مردم شماری کی ڈیوٹی آپؐ نے حضرت حذیفہؓ ہی کی لگائی۔ اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد پندرہ سو تھی۔ ایک شخص نے آپؓ سے پوچھا کہ فتنوں میں سے بڑا فتنہ کون سا ہوگا ؟ تو آپؓ نے فرمایا : ’’اچھائی اور برائی دونوں تمھارے سامنے ہوں، لیکن تمھیں یہ پتہ نہ ہو کہ ہم کس کو اختیار کریں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہؓ کو مدائن کا گورنر بناکر بھیجا تو آپؓ نہایت سادگی سے اپنے گدھے پر سوار ہوکر گئے۔ ایک بار حضرت عمرؓ نے آپؓ کو مدینہ بلایا اور جنگل میں چھپ کر دیکھا کہ کتنا مال واپس ساتھ لاتے ہیں؟ دیکھا کہ تن تنہا سواری پر خالی ہاتھ آرہے ہیں۔ حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور فرمایا: ’’تُو میرا بھائی اور میں تمھارا بھائی‘‘۔ آپؓ کا انتقال ۳۶ھ / 656ء میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کے 40 روز بعد ہوا۔ اس وقت آپؓ مدائن دبا کے علاقے میں گورنر تھے۔ (طبقات ابن سعد) 

4 / 13

حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طر ز ِفکر اور عرب اسرائیل مسئلے کا پسِ منظر

حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کا طر ز ِفکر اور عرب اسرائیل مسئلے کا پسِ منظر


حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نوراللہ مرقدہٗ خطۂ برعظیم پاک وہند کی ایک باشعور دینی، سیاسی اور روحانی شخصیت تھے۔ ستمبر ان کے وصال کا مہینہ ہے۔ ان کا 26؍ ستمبر 2012ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔ 33/A کوئینز روڈ لاہور پر ادارہ رحیمیہ سے متصل ’’گلزارِ رحیمی‘‘ میں مدفون ہیں۔
حضرت رائے پوریؒ ایک قومی دھارے کے بین الاقوامی صلاحیتوں کے حامل لیڈر تھے۔ ان کی نگاہ بڑی دور رس تھی۔ وہ اپنے سیاسی تدبر میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے گراں قدر سیاسی و سماجی اَفکار ہماری علمی و فکری تاریخ کا قابلِ قدر قیمتی اَثاثہ ہیں۔ حالاتِ حاضرہ کے سیاسی و اقتصادی مسائل میں درست زاویۂ نگاہ ان کی شخصیت کا لازمی جزو تھا۔ اب تک کے متعدد ایشوز پر تاریخ ان کی رائے کے حق میں کروٹ لی چکی ہے۔ ہماری ماضی قریب کی تاریخ کے بہت سے قومی و بین الاقوامی ایشوز پر حضرت رائے پوریؒ کا زاویۂ نظر ملک کے باشعور حلقوں میں اپنی اِصابتِ رائے کے باعث خراجِ تحسین وصول کرچکا ہے۔ ان کا دینی و سیاسی شعور محض وقتی و ہنگامی حالات کے تابع نہیں تھا، بلکہ انسانی، آفاقی اور سدا بہار تھا۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی ایک بڑی اجتماعیت کی تربیت و ذہن سازی ان کے دانشورانہ اَفکار و خیالات کی رہینِ منت ہے۔ وہ ان کے افکار کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتی ہے۔ 
آج کل ایک بار پھر قومی وبین الاقوامی سطح پر میڈیا میں عرب اسرائیل مسئلہ زیرِ بحث ہے۔ ہم نے حضرت رائے پوریؒ کے وصال کی نسبت سے اس مسئلے کی نوعیت کو ان کے طرز ِفکر کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے طرز ِفکر کا کمال یہ تھا کہ وہ ایشوزکو جذبات کے بجائے زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھتے تھے۔ بدقسمتی سے آج بھی اس مسئلے کو اپنے درست تناظر میں نہ دیکھنے اور سمجھنے کی وجہ سے ہمارے ہاں جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں، ان کی وَجہ سے دین، سیاست، امن اور فکر و نظر کے بہت سے تقاضے مجروح ہورہے ہیں۔ 
ہمارے ہاں جب بھی اسرائیل، عرب اور فلسطین زیرِبحث آتے ہیں تو عام طور پر یہ سمجھ لیاجاتا ہے کہ یہ فلسطین کے عرب مسلمانوں اور اسرائیل کے یہودیوں کے درمیان کوئی مذہبی جھگڑا ہے۔ یعنی دو مذاہب؛ اسلام اور یہودیت کا کوئی تنازعہ ہے، جس کی وَجہ سے لوگ اپنے پہلے سے قائم شدہ تصورات کے حوالے سے عالَمِ کفر اور عالَمِ اسلام کی قائم شدہ نفسیاتی پناہ گاہوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں، حال آںکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں نے اپنے دورِ عروج میں بہت سے مقامات پر یہودیوں کو عیسائیوں کے ظلم وجبر سے بچایا۔ اس سلسلے میں ہسپانیہ ایک خصوصی مثال ہے، جہاں مسلمانوں نے انھیں ظلم سے نجات دلا کر کئی سو سال تک اپنے نظامِ عدل تلے ترقی و خوش حالی کے مواقع بہم پہنچائے۔ 
حضرت شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ: ’’یہ دو مذہبوں کی لڑائی نہیں ہے، بلکہ یہ برطانیہ کی استعماری پالیسی کا ایک شاخسانہ ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ اسرائیلی ریاست عرب دنیا کے سینے میں ایک استعماری خنجر ہے۔‘‘ ان کی گفتگو کا پسِ منظر یہ ہوتا تھا کہ دنیا بھر سے فلسطین میں یہودیوں کے ایک خاص جارحانہ فرقے کوعالمی قوتوں کے ایما پر اکٹھا کیا گیا ہے، جسے عربوں پر مسلط کرکے ان کی آزادیوں کو سلب کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہماری مخالفت کی وجہ صہیونیت کے سامراجی،  نسل پرستانہ اور توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔اس ملک کے قیام کے پیچھے چھپے صہیونیت اور سامراجیت کے درمیان قائم رشتے کو سمجھنا سب سے اہم ہے۔ 
اسرائیلی یہودی ضرور ہیں، لیکن وہ یہودیوں کا ایک خاص جارحانہ فرقہ ہے، جس کو مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں، بلکہ اس کا اصل مطمح نظر اس کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ فلسطین میں صہیونی ریاست کے قیام کے لیے بہت سی سرگرم صہیونی تنظیمیں اور افراد تشدد اور دہشت گردی کو بھی سرِعام روا رکھتے رہے ہیں۔ بہت سے پبلک مقامات پر وہ تشدد پسند کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کی بنیاد صہیونیت ہے، جو کہ یہودیت سے مختلف ہے۔ ہمیں آج بھی دنیا میں اس کی مثال ملتی ہے کہ بہت سے روایت پسند یہودی علما اسرائیل کے قیام کو درست نہیں سمجھتے۔ صہیونیت کے مبلغ یہودی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور دنیا میں مذہبی شدت پسندی کا ایک ماڈل ان صہیونی یہودیوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں جب تک قومی سیاسی سوچ کا فکر غالب رہا ہے تو ایسے ایشو پر تمام قومی سوچ کے حامل دانشوروں کا مؤقف یکساں رہا ہے۔ آپ دیکھ لیجیے کہ اس مسئلے پر اس خطے کے تمام انصاف پسند دانشور، خواہ وہ جس بھی مذہب یا پارٹی سے تعلق رکھتے تھے، وہ عربوں کی قومی تحریک کو سپورٹ کرتے رہے۔ بلاشبہ فلسطین کی قومی آزادی کی تحریک میں مقامی (عرب) مسیحی اور یہودی، مغرب کی قائم کردہ صہیونی ریاست کے خلاف مقامی مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ رہے ہیں اور کئی مواقع پر بین الاقوامی سطح کی سرفروشانہ کارروائیوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ 
 

5 / 13

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (2)

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (2)


امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
دوسرا بنیادی خُلق؛ اِخبات للہ تعالیٰ 
’’ان اَخلاق میں سے دوسرا خُلق اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا اور خشوع اختیار کرنا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ جس انسان کی فطرت سلامت ہو اور وہ تمام کاموں سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور اُس کی صفات کی طرف متوجہ ہو اور ان میں خوب اچھی طرح دھیان دے تو اُس کے نفسِ ناطقہ (روح) میں ان آیاتِ الٰہی اور صفاتِ خداوندی کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے حواس اور جسم میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری پیدا ہوتی ہے۔ اس کی روح اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک کر تھکی ماندی ہوجاتی ہے۔ اس کے دل میں ذاتِ باری تعالیٰ کی مقدس جناب کی طرف میلان پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے، جیسا کہ حکمرانوں کے سامنے ایک عام آدمی پر عجز کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ وہ اپنے دل میں انتہائی عجز و انکساری ملاحظہ کرتے ہیں اور کسی چیز کو دینے یا نہ دینے میں اُس کی طاقت اور قوت کو تسلیم کرتے ہیں۔ 
انسان کی قوتِ نسمہ (روحِ حیوانی) کی یہ حالت ملائِ اعلیٰ کے فرشتوں کی حالت کے زیادہ مشابہ اور قریب تر ہوتی ہے۔ فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور اس کے جاہ و جلال کو پوری طرح تسلیم کیے رہتے ہیں۔ وہ اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ انسان میں اخبات کی اس حالت کا پیدا ہونا اس میں کمالِ علمی کی استعداد پیدا کرتا ہے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ایسی حالت میں انسانی ذہن کی تختی پر معرفت ِالٰہیہ نقش ہو کر رہ جاتی ہے اوراُسے کسی نہ کسی پہلو سے حضرتِ الٰہیہ میں حضوری کی ایسی کیفیت حاصل ہوتی ہے، جس کے بیان کرنے سے قلم عاجز ہے۔ 
تیسرا بنیادی خُلق؛ سماحت 
تیسرا بنیادی خُلق سماحت ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسانی نفس ایسا ہوجائے کہ وہ قوتِ بہیمیہ کے تقاضوں کا فرماں بردار نہ بنے اور نہ ہی اُس میں حیوانی عادات کے نقوش پختہ ہوں اور نہ ہی حیوانیت سے متعلق کاموں کا اثر اور رنگ پایا جاتا ہو۔ 
اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسانی نفس جب اپنے معاشی اُمور میں مصروف ہوتا ہے، اُسے عورتوں کی خواہش ہوتی ہے، لذات حاصل کرنے کا تقاضا پیدا ہوتا ہے، یا کھانے پینے کا تقاضا پیدا ہوتا ہے تو وہ اُس کے حصول کے لیے کوشش کرکے اپنا تقاضا پورا کرلیتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس کی مطلوبہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب انسانی نفس غضب ناک ہو، یا کسی چیز کی محبت میں مبتلا ہو تو لازمی سی بات ہے کہ اُسے ایک وقت کے لیے اس کیفیت اور حالت میں مشغولیت ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں اُس کی نظر اپنے کھانے پینے کی ان لذات کے تقاضوں سے ہٹ کر کسی اور طرف نہیں ہوتی۔ 
پھر جب انسان اپنے اس نفسانی تقاضے کو پورا کرلیتا ہے اور اُس کی یہ حالت دور ہوجاتی ہے(مثلاً بھوک لگی تھی، کھانا کھالیا تو اُس کی بھوک دور ہوگئی)۔ اس کے بعد: 
(الف: سمیح انسان) اگر یہ انسان سماحت کے خُلق کا حامل ہے تو وہ اپنے نفس کے تقاضوں سے اس طرح فارغ ہوجاتا ہے کہ گویا وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ 
سماحت ِنفس کے حامل ایسے انسان کی روح جب جسم سے جدا ہوگی اور وہ تہہ بہ تہہ ظلمانی دنیاوی تعلقات سے آزاد ہوجائے گی اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرے گی تو اپنی مَلَکیت کے مخالف دنیا سے متعلق کسی چیز اور تعلق کو اپنے اندر نہیں پائے گی۔ اس طرح اُسے یہاں دنیا سے جانے کے بعد اُنس و سرور حاصل ہوگا اور وہ بہت عمدہ اور ہمیشہ رہنے والے عیش میں رہے گی۔ 
(ب: شحیح انسان) اگر وہ سماحت کے خُلق کا حامل نہیں ہے تو نفسانی تقاضوں کے پورا ہونے کے بعد بھی وہ اُن لذتوں اور کیفیتوں میں اُلجھا رہے گا۔ اس کی وہ نفسانی لذت اُس کے نفس میں ایسے منقش ہو کر رہ جائے گی، جیسے نقش کا کوئی سانچہ کسی موم پر منقش ہوجاتا ہے (ایسا انسان مثلاً کھانا کھانے کے بعد اُس کی لذت اورچاہت میں ایسے مشغول ہوجاتا ہے کہ وہ دل پر نقش ہو کر رہ جائے)۔ جس انسان کی روح پر دنیاوی لذات اور تعیشات کے نقش موجود ہوں گے اور وہ ’’شحیحۃ النّفس‘‘ (خُلقِ سماحت سے خالی بخیل روح) ہوگا تو وہ تمام بداَخلاقی کے نقوش مرنے کے بعد اُس کے سامنے آئیں گے۔ 
(ان دونوں رویوں کو اس طرح سمجھئے!) یہ ایسا ہی ہے، جیسا کہ تم اپنے گردو پیش میں بعض لوگوں کو دیکھتے ہو کہ ان کا عمدہ مال چرالیا گیاہو تو اگر وہ شخص سخی دل ہوتا ہے تو اُسے اس چوری کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور اگر وہ شخص کمزور نفس ہوتا ہے تو وہ اپنے عمدہ مال کے چوری ہونے پر ایک طرح سے مجنون اور پاگل ہوجاتا ہے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت وہ مال رہتا ہے۔ 
خُلق سماحت اور اُس سے متضاد رویے
اشیا اور چیزوں کی نسبت سے خُلقِ سماحت اور اُس کے مخالف بداَخلاقیوں کے بہت سے نام اور القابات ہیں: 
1۔     مال سے متعلق اَخلاق میں خُلقِ سماحت کا نام ’’سخاوت‘‘ ہے اور اس کی ضد ’’بخل‘‘ ہے۔ 
2۔     جنسی شہوت کے داعیے سے متعلق خُلقِ سماحت کا نام ’’عفت‘‘ (پاک دامنی) ہے 

اور اس کی ضد ’’شِرّہ‘‘ (جنسی خواہشات کو پورا کرنے کی عادت) ہے۔ 
3۔     رفاہیت کے حصول کا داعیہ اور مشقتوں سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے خلقِ سماحت کا نام ’’صبر‘‘ ہے اور اس کی ضد ’’بے صبراپن‘‘ ہے۔ 
4۔     شریعت کے ممنوعہ گناہوں کے داعیہ کے حوالے سے خُلقِ سماحت کا نام ’’تقویٰ‘‘ ہے اور اس کی ضد ’’فسق و فجور‘‘ ہے۔ 
جب کسی انسان میں سماحت کا خُلق پختہ ہوجائے تو اُس کا نفس دنیاوی شہوات سے بالکل خالی ہوجاتا ہے اور وہ بلند روحانی لذات کی استعداد حاصل کرلیتا ہے۔ الغرض! سماحت انسان کی ایسی حالت ہے، جو علمی اور عملی طور پر مطلوب کمالات کے مخالف بداَخلاقیوں سے باز رہنے اور رُکنے کی استعداد پیدا کرتی ہے۔‘‘ 
(باب الاصول الّتی یرجع إلیہا تحصیل الطّریقۃ الثّانیۃ) 

6 / 13

دورِ بنواُمیہ میں دینی و دُنیوی علوم کی ترقی و ترویج

دورِ بنواُمیہ میں دینی و دُنیوی علوم کی ترقی و ترویج


عہد ِنبویؐ اور خلافت ِراشدہ کی طرح اُموی دورِ خلافت میں بھی مسلمان عبادات کے پابند تھے۔ مذہبی شعائر سے کوئی بھی بے اِلتفاتی نہیں کرتا تھا۔ شہر، قصبے، گاؤں وغیرہ میں مساجد تھیں، جہاں پنج وقتہ نماز باجماعت ادا کی جاتی تھی۔ 
دورِ بنواُمیہ میں حدیث و فقہ، شعر و ادب کے علمی حلقے منعقد ہوتے، جہاں علمی اشتیاق رکھنے والے حضرات اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے جوق در جوق شریک ہوتے۔ اُموی دور میں شام، عراق اور حجاز اسلامی فقہ کے اہم مراکز تھے۔ شام اور عراق ان دونوں جگہوں سے مشرقی عالمِ اسلام خصوصاً ہندوستان کا انتظامی تعلق تھا۔ اس لیے یہاں شام و عراق کے فقہی مسلک کو ان ملکوں میں قبولِ عام حاصل ہوا۔ عراق (کوفہ) میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے شاگردوں کے سلسلے میں حضرت ابراہیم نخعیؒ (۹۶ھ)، حماد بن سلیمانؒ (۱۱۰ھ)، امام ابوحنیفہؒ (۱۵۰ھ) وغیرہم حضرات کتاب و سنت کی روشنی میں احکام مرتب کر رہے تھے اور شام میں امام مکحولؒ (۱۱۳ھ)، امام ابن شہاب زہریؒ (۱۲۴ھ) اور امام اوزاعیؒ (۱۵۹ھ) اپنے اپنے انداز سے حدیث و فقہ کی تعلیم و تدریس میں مشغول تھے۔ حجاز میں فقہائے سبعہ اور ان کے شاگرد و منتسبین اسلامی فقہ کی تشریح و تدوین کی خدمت سرانجام دے رہے تھے۔ ان علما کو حکومت ِوقت کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ 
لسانی و ادبی علوم کے حوالے سے بھی بنواُمیہ کا دور مثالی تھا۔ خود اُموی خلفا و اُمرا عربی روایات کے حامل تھے۔ زبان و ادب کا پورا پورا لحاظ کرتے۔ ولید بن عبدالملک کی عربیت پر دسترس قدرے کمزور تھی تو اُس کے والد عبدالملک بن مروان نے سرزنش کرتے ہوئے اُسے کہا: ’’انّہٗ لا یلی العرب إلاَّ من یحسن کلامہم‘‘ (وہی شخص عربوں کا والی و امیر ہوسکتا ہے، جو حسنِ کلام رکھتا ہو)۔ (فہرست ابن الندیم، ص 318)۔ اس سلسلے میں محمد بن قاسمؒ کا ایک دلچسپ واقعہ بھی علمائے تاریخ نے لکھا ہے کہ راجہ داہر کے ساتھ جب جنگ ہوئی تو کعب بن مخارق اس جنگ میں محمد بن قاسمؒ کے ساتھ تھے۔ انھوں نے حجاج بن یوسف کو جنگ کی ہولناکی کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتلایا کہ جب گھمسان کا رَن پڑا اور تلواریں اور نیزے ایک دوسرے پر ٹوٹنے لگے تو محمد بن قاسمؒ نے اپنے ایک ساتھی سے پانی طلب کرتے ہوئے کہا: ’’أطْعِمْنِی المَائَ‘‘ یعنی گھبراہٹ کی وجہ سے ’’أسْقِنِیْ‘‘ (مجھے پلایئے) کے بجائے اُن کی زبان سے ’’أطْعِمْنِی‘‘ (مجھے کھلائیے) نکل گیا۔ تو حجاج نے کہا (حجاج کی زبان پر دسترس و مہارت ملاحظہ فرمائیے): یہ جملہ عربیت کے لحاظ سے غلط نہیں۔ قرآن  مجید میں ہے: ’’إِنَّ اللَّهَ مُبتَليكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنهُ فَلَيسَ مِنّي وَمَن لَم يَطعَمهُ فَإِنَّهُ مِنّي(249:2) یعنی اللہ تمھیں ایک نہر کے ذریعے آزمانے والا ہے۔ جو شخص اس سے پانی پئے گا، وہ میری جماعت سے نہیں اور جو پانی نہیں پئے گا، وہ میری جماعت سے ہے۔ قرآن مجید میں بھی ’’ومن لم یطعمہ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ گویا ’’أسْقِنِیْ‘‘ کی جگہ ’’أطْعِمْنِی‘‘ کہنا درست ہے۔ اُموی دورِ خلافت میں حدیث و فقہ کے علوم کے ماہرین کے ساتھ ساتھ ادبی علوم کے بڑے بڑے علما و فضلا موجود تھے۔ 

7 / 13

معاشی خودمختاری کی حقیقت

معاشی خودمختاری کی حقیقت


 چین اور امریکا کے درمیان تجارتی مخاصمت ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بعد امریکا کی عالمی مالیاتی نظام پر گرفت کے ڈھیلے پڑنے کے شواہد سامنے آرہے ہیں۔ صرف روس اور چین کے درمیان ڈالر کی جگہ مقامی کرنسیوں میں تجارت کاحجم بڑھ کر 50 فی صد ہوچکا ہے، جو 2016ء میں 19 فی فیصد تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کے دیگر ممالک سے مقامی کرنسیوں کی بنیاد پر تجارتی روابط دراصل ڈالر اور اس سے متعلق عالمی مالیاتی اداروں کی اجارہ داری کو کھلا چیلنج ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی پاکستان اور چین کے مابین مقامی کرنسیوں میں تجارت کا معاہدہ بھی ہے اور دو ارب ڈالر تک کی پاکستانی مصنوعات کی چین درآمد پر ڈیوٹیاں کم یا معاف کردی گئی ہیں۔ CPEC کو کون نہیں جانتا، جس کے تحت 46 ارب ڈالر پاکستان کو قرض کی صورت میں ملیں گے۔ ایران کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 400 ارب ڈالر کا معاہدہ، بنگلادیش سے 97 فی صد تجارت پر درآمدی ڈیوٹیوں کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، جن کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ چین کا اقدام اور نصب العین دراصل دنیا کو ایک متبادل قوت سے روشناس کرانا ہے۔ یقینا اس مقصد کا حصول اتنا آسان نہیں اور یہ صرف معاشی میدان میں برتری سے ممکن نہیں۔
چناںچہ وہ خطے جہاں چین بہ تدریج اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، وہاں دیگر عالمی طاقتیں علاقائی جتھے بندیوں کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان کو اب چین اور امریکا کے درمیان کسی ایک کے بلاک میں جانا ہوگا۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ پاکستان ایک طویل عرصے تک برطانوی اور امریکی اثر کے تحت خطّے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ہمیں معاشی فائدے دیے گئے۔ ہماری فوجی اور سول بیوروکریسی کی تربیت اُسی اثر کے مطابق پروان چڑھی۔ امداد ہو، تجارت ہو، یا سرمایہ کاری، سب مَدّات میں ہم نے اپنے مغربی آقاؤں کو اپنے ساتھ پایا اور اس غلامی میں مزید سہولت کے لیے ہمارے آقا کے عظیم غلام سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہماری ہر قسم کی معاونت کے لیے موجود رہے۔ اب اچانک یہ کہنا کہ پاکستان اپنا بلاک بدل رہا ہے، کچھ قبل از وقت لگ رہا ہے۔ یاد رہے پاکستان کے کُل بیرونی قرض کا 80 فی صد ہمارے مغربی اور وسط ایشیائی محسنوں (؟!) کے مرہونِ منت ہے۔ اب چین پاکستان کو اپنے بلاک میں لانے کے لیے یہ سارا قرض تو ادا نہیں کرے گا۔ اس وقت پاکستان کی حالت کچھ یوں ہے، جیسے کسی بچے کے ماں باپ میلے میں کھو گئے ہوں اور دیکھنے والے یہ کہیں کہ یہ اپنا راستہ خود ڈھونڈ لے گا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ امید ہے آقا پھر سے ہاتھ تھام لیں گے۔

بلاک کی تبدیلی ممکن ہے، لیکن یہ ایک طویل مدتی عمل ہے، جس میں خصوصاً پالیسی کا تسلسل ضروری ہے، جو ہمارے سیاسی منظر نامے میں کافی مشکل کام ہے۔ فوج کی صورت میں اس تسلسل کا حصول ہر گزرتے دن کے ساتھ محال ہوتا جارہا ہے۔ تاریخی حقائق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ کمان کی تبدیلی ممکن ہے، جو اس تسلسل کو متأثر کردے۔ خودمختاری کے لیے ضروری ہے کہ مستقل تبدیلی کے لیے جماعتی بنیادوں پر جدوجہد کی جائے اور وقت کی ضرورت، یعنی قومی خودمختاری کی پالیسی میں تسلسل لایا جائے۔

8 / 13

بدلتا ہوا عالمی سیاسی منظر نامہ (شمالی اوقیانوس سے بحر الکاہل کی طرف)

بدلتا ہوا عالمی سیاسی منظر نامہ (شمالی اوقیانوس سے بحر الکاہل کی طرف)


4؍اپریل 1949ء کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی (ڈسٹرکٹ آف کولمبیا) میں ایک معاہدہ وجود میں آیا۔ اس معاہدے کا نام فرانسیسی زبان میں رکھا گیا، جسے انگریزی میں NATO کہا جانے لگا۔ اس کا صدر دفتر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں قائم کیا گیا۔ اس معاہدے میں شریک ابتدائی ممالک پرتگال، اٹلی، نیدرلینڈ، لکسمبرگ، فرانس، برطانیہ اور امریکا وغیرہ تھے۔ 1954ء میں سوویت یونین نے تجویز دی کہ وہ یورپ میں قیامِ امن کے لیے نیٹو میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ تاہم نیٹو کے رُکن ممالک نے اس نظریے کی سختی سے مخالفت کی۔ اس کے بعد 14؍ مئی 1955ء کو سوویت یونین نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایک علاحدہ معاہدہ تشکیل دیا، جسے ’’وارسا پیکٹ‘‘ (Warsaw Pact) کا نام دیا گیا۔ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں معاہدے پر دستخط ہوئے، جسے ’’معاہدۂ دوستی، تعاون اور باہمی اعانت‘‘ کا نام دیا گیا۔ 
انسانی سماج کی ہیئت کو تبدیل کرنے میں ٹیکنالوجی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی سائنسی ترقیات انسانی زندگی کو جدت کا لبادہ پہنا تی ہیں۔ یہی سائنس اب ایک اور صنعتی انقلاب کا روپ دھارتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جہاں مشین انسانی دماغ کے برابر استعداد کے ساتھ اقوامِ عالم کی ترقی میں معاون بنتی جا رہی ہے، مادے میںپنہاں اصولوں کی جانکاری کا علم رکھنے والے سائنس دان اور معاشرتی و سماجی علوم کے اصو لوں سے آگاہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اب چوتھے صنعتی انقلاب کے دور میں داخل ہوچکی ہے، جس میں انسانی دماغ کی صلاحیت کے برابر مصنوعی ذہانت رکھنے والے روبوٹس اور ان جیسی مشینیں زندگی کو مزید بدل کررکھ دیں گی۔ 
ذرا ماضی پر نظر دوڑائیں! دنیا میں پہلا صنعتی انقلاب 1760ء سے 1820ء کے دورانیے میں آیا، جس میں پیداوار میں اضافہ کرنے کی غرض سے صنعتی شعبے میں مشینوں کوچلانے کے لیے پانی اور اس سے بنائی گئی گیس یعنی بھاپ کو ذریعہ بنایا گیا۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہاتھ کے بجائے پانی اور بھاپ کی توانائی سے مشینوں کو چلایا جانے لگا۔ اس کی بدولت دنیا میں بھاپ سے چلنے والے انجن ایجاد ہوئے۔ ا س ا نقلاب سے نہ صرف لوگوں کی زندگیاں مکمل طور پر تبدیل ہوگئیں، بلکہ ان کی آمدنیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ 
دوسرا صنعتی انقلاب اس دور کی دو بڑی ایجادات تھیں؛ بجلی اور مواصلات کا نظام۔ بجلی، برقی مواصلات یعنی ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کو یہاں نمایاں مقام حاصل تھا۔ ریلوے کی تعمیر کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات سے صنعتی پیداوار میں حیران کن حد تک اضافہ ہوگیا۔ 1820ء سے شروع ہونے والا یہ عہد پہلی جنگِ عظیم یعنی 1919ء تک جاری و ساری رہا۔ 
تیسرا صنعتی انقلاب: بیسوی صدی کے آغاز میں دنیا نے تیسرے صنعتی انقلاب کو ایک جدید ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھا۔ جب انسان نے کمپیوٹر کا ابتدائی ڈھانچہ بنایا۔ الیکٹرانک ٹیکنالوجی سے برقی ٹیکنالوجی کی طرف قدم بڑھایا۔ اسی عہد میں انٹینا سے چلنے والا ٹیلی ویژن دریافت ہوا۔ اسی دور میں جہاز ایجاد ہوا، جس نے ذرائع نقل و حمل کی مشکلات پر قابو پا لیا۔ 
چوتھا صنعتی انقلاب: 1940ء میںکمپیو ٹر کی ایجاد سے اس انقلاب کا آغاز ہوا۔ یہ انقلاب بائیولوجیکل، فزیکل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ایک ملاپ ہے، جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی مشینی ذہانت، بغیر ڈرائیور کے چلنے والی خود کار گاڑیاں، جدید ڈرونز، تھری ڈی پرنٹنگ، کوانٹم (قابل تقسیم چھوٹا ترین یونٹ) مکینکس، کوانٹم کمپیوٹر، جدید کرنسی اور انٹر نیٹ کے علاوہ بائیو ٹیکنالوجی اور نینو (کروڑواں حصہ) ٹیکنالوجی پر مشتمل ڈیوائسز شامل ہیں، جو انسانی کام کو انتہائی کم کرکے ہر شعبے میں مثالی اور حیران کن تبدیلیاں متعارف کروا رہی ہیں۔ سائنسی ایجادات پیدائش دولت کے عمل کو آسان، سستا ا ور سرعت رفتار بنادیتی ہیں، جو انسانیت کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ کہلاتی ہیں۔ گزشتہ صدیوں میں ان ایجادات کا اظہار ایسے خطوں میں ہوا، جہاں انھیں مفادِ عامہ کے عمومی استعمال میں لانے کے بجائے محض گروہی اور طبقاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا رہا۔ استعماری طاقتوں نے انھیں چھوٹے ملکوں کے مادی وسائل کو لوٹنے کے لیے خوف و ہراس پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے رکھا۔ طویل عرصے سے وہ اپنی اسی روش سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اپنی ڈگر سے پیچھے ہٹنے کے بجائے، انسانیت کے استحصال کی ترقی کے نام پر نت نئی سازشیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ نیٹو کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ جس نے سرد جنگ کے نام پر انسانیت کو سرمایہ پرستی کی آگ میں مبتلا رکھا ہے۔ انھوں نے گزشتہ صدیوں میں دریافت ہونے والی ٹیکنالوجی اور اس کے ثمرات کو گروہی مفادات تک محدود رکھنے والا سماجی ڈھانچہ دنیا پر مسلط رکھا۔
اگرچہ آج دنیا میں چوتھے صنعتی انقلاب کے نام پر وجود میں آنے والی جدید ٹیکنالوجی کی دریافت کے مراکز بھی شمالی اوقیانوس کے کنارے واقع ممالک ہی ہیں، لیکن ان کے ثمرات کو اقوامِ عالم میں فروغ دینے میں بحرا لکاہل کے کنارے آباد ممالک پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے وارسا پیکٹ کی جگہ نیا سماجی ڈھانچہ؛ SCO،BRICS، ترقیاتی بینک، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی شکل میں تشکیل دیا ہے۔ چوتھے صنعتی انقلاب کے ثمرات کا عمل آج پیدائشِ دولت کی صورت میں بحر الکاہل کے کنارے پر واقع خطوں کی طرف منتقل ہوتا جارہا ہے۔ خطے کی طاقتیںجس کے لیے نیا سماجی ڈھانچہ وضع کرنے میں مصروف ہیں۔ 

9 / 13

صحیح علم اور معرفت ِالٰہی

صحیح علم اور معرفت ِالٰہی

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

7؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! مسلمانوں کی کامیابی اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کریں اور اُس کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کریں۔ انسانیت کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اس کائنات کے خالق و مالک ذاتِ باری تعالیٰ کی حکمرانی، اُس کی شہنشاہیت، اُس کے مالک الملک ہونے کی حقیقت کو بالکل گہرائیوں سے تسلیم کرے۔ یقین کامل پیدا کرے اور یہ سمجھے کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ، اس کا عالم گیر نظام، اس کے چلانے، پیدا کرنے اور اس کے بنانے والی ذات صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے۔ کسی دوسری مخلوق کا اس میں براہِ راست کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی ذات کے ماتحت ہیں۔ اسی کے مطابق تمام امور سرانجام پاتے ہیں۔ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنا مسلمان کی اوّلین ضرورت اور تقاضا ہے۔ اللہ پر یقین رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو اس کائنات میں عالم گیر نظام کے اصول اور ضابطے مقرر کیے ہیں، ان تمام کو مِن و عَن سمجھیں اور انھیں تسلیم کریں۔ 
یہ کائنات اللہ نے ایک سسٹم کے تحت پیدا کی ہے۔ یہاں کوئی بھی کام بغیر طے شدہ نظام اور طریقۂ کار کے نہیں ہو رہا۔ ہر چیز اپنے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہی سرانجام پاتی ہے۔ انسان پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ ان گرد و پیش کے قوانین اور ضوابط کو سمجھے، تسلیم کرے اور اس کے مطابق اپنا نظام بنائے۔ کائنات پر غور و فکر اور تدبر کرے، جو اس کے گرد و پیش میں موجود تکوینی یا تشریعی نظام ہے، اس کی معرفت حاصل کرے۔ 
دنیامیں کون سا انسان ہے جو ترقی کا طالب نہ ہو؟ تنزلی اور ذلت، پیچھے رہنا، مغلوبیت کی حالت میں زندگی بسر کرنا، انسانیت کی اصل فطرت کے منافی ہے۔ اس ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کائنات کو بنانے والے نے اس کے جو بنیادی اساسی اصول وضع کیے ہیں، ان کا علم و شعور حاصل کرکے اس کے مطابق عملی نظام بنایا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بے علمی، جہالت اور لاشعوری کی بنیاد پر کوئی کام کیے جائیں اور سمجھا یہ جائے کہ یہ ترقی یافتہ کام ہیں۔ دنیا بھر کے تمام یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، کافروں اور مسلمانوں میں یہ بات طے شدہ ہے کہ علم ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ علم کے بغیر کسی بھی کام میں آدمی ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ ضرور خسارہ اٹھاتا ہے۔ علم صحیح اور پرفیکٹ ہو تو نتائج بھی صحیح اور درست آتے ہیں۔ علم ناقص اور ادھورا ہو یا سِرے سے علم موجود نہ ہو تو ہر طرح کا عمل خسارے کا باعث بنتا ہے۔ علم سے کورا جاہل آدمی غلط کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے۔ ایسا انسان اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بہ ظاہر اچھا کام کر رہا ہوں۔ یہی جاہلانہ  خوش فہمی بڑی خرابی کی بات ہے۔‘‘ 
 

10 / 13

علم کی بنیاد پر فضیلت

علم کی بنیاد پر فضیلت

7؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 


’’خالقِ کائنات نے انسانی ترقی کے جو اصول متعین کیے ہیں، وہ اُسی عالِم سے معلوم ہوسکتے ہیں کہ جو اللہ کی طرف سے دنیا میں علم لایا ہو۔ وہ سوائے نبی کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ انبیا علیہم السلام دنیا بھر کے تمام علوم کی مرکز اور منبع ذات یعنی اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے طے کردہ قوانین اور ضابطوں کو دنیا میں منتقل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ انبیاؑ سے اُن کے صحابہ اور تابعین علم حاصل کرتے ہیں اور پھر اُن کے تسلسل سے جو بھی اُس علم کے حصول کی جدوجہد اور کوشش کرے، وہ بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب اس علم کو حاصل کرسکتا ہے۔ اس میں کوئی نسلی فرق اور امتیاز نہیں ہے کہ فلاں خاص نسل کا آدمی ہی یہ علم حاصل کرسکتا ہے، اَور کوئی نہیں۔ 
ابھی پچھلے دنوں مدینہ منورہ میں مسجد ِنبویؐ میں پچاس سال تک درسِ حدیث دینے والے بہت بڑے عالِم ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی کا انتقال ہوا۔ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے اُن کا نام بانکے رام رکھا۔ وہ ہندوؤں کی ایسی نسل سے تھے کہ جن کو خود ہندوؤں میں بھی نچلا درجہ دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں توفیق دی، وہ مسلمان ہوئے، ماں باپ اور گھر والوں نے ان پر تشدد کیا تو وہاں سے بھاگ کر حرمین شریفین چلے گئے۔ وہیں علم حاصل کیا اور وہیں دنیا بھر کے علما سے استفادہ کیا۔ انھوں نے ایک یونیک اور منفرد کتاب ’’الجامع الکامل فی الحدیث الصّحیح الشّامل‘‘ لکھی، جو دنیا بھر میں پہلی مرتبہ نبی اکرمؐ کی صحیح احادیث کا ایک کامل مجموعہ بن کر سامنے آئی۔ امام بخاریؒ نے تو خاص شرائط کے تحت أصحّ الصّحیح احادیث جمع کی ہیں، لیکن انھوں نے دنیا کی کوئی ڈیڑھ دو سو حدیث کی بنیادی کتابوں میں جو صحیح اور حسن احادیث بکھری ہوئی تھیں، ان کا ایک مجموعہ 25 جلدوں میں مرتب کیا ہے۔ کہاں وہ ایک ہندو کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ہندوستان کی کمزور ترین نسلوں سے ان کا تعلق تھا۔ جن کو خود اُن کے اپنے ہم مذہب کوئی اہمیت اور عزت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اور کہاں انھوں نے علومِ نبوت حاصل کیے اور احادیث کی وہ خدمت سرانجام دی، جس کی عرصۂ دراز سے اُمت ِمسلمہ کو ضرورت تھی۔ 
اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں ہے، اور نہ کسی خاص زبان اور قوم کا مذہب ہے۔ یہ کل انسانیت کا آفاقی مذہب ہے۔ جو انسان بھی اس کا علم حاصل کرلے، وہ اس کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے سکتا ہے۔ علم کے سامنے ہی گردنیں جھکتی ہیں۔ بانکے رام جب تک غیرمسلم ہے تو کوئی اُس کو قریب لگانے کے لیے تیار نہیں ہے اور جب وہ محدث بن کر مسجد نبویؐ میں روضۂ رسولؐ کے قریب درسِ حدیث دے رہے ہیں، تو دنیا بھر کے بڑے بڑے محدثین ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں۔ یہ ہے علم، اس پر کوئی پہرے نہیں ہیں، کوئی قید نہیں ہے۔ اس لیے صحیح گفتگو وہی کرے گا، جو اپنے شعبے کا علم رکھتا ہے۔ دین کی رہنمائی وہی دے سکتا ہے، جسے علومِ نبوت پر عبور حاصل ہو۔‘‘

11 / 13

ٹھوس علم اور درست طریقۂ تعلیم

ٹھوس علم اور درست طریقۂ تعلیم

7؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’آج سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم انجینئرنگ کے علم کو علم سمجھتے ہیں۔ فزکس اور کیمسٹری کو ایک علم سمجھتے ہیں۔ میڈیکل سائنسز کو ایک علم سمجھا جاتا ہے اور بڑے ذوق شوق سے اس علم کے حصول کی طرف اپنی نوجوان نسل کو متوجہ بھی کرتے ہیں اور پڑھتے پڑھاتے بھی ہیں، لیکن کس قدر افسوس ہے کہ علومِ نبوت کو علم نہیں سمجھا جاتا۔ یہ دورِ زوال کی سب سے بڑی لعنت ہے، جو آج ہم پر مسلط ہے۔ کسی آدمی کو اُردو میں کوئی دو چار دینی مسئلے سمجھ آگئے، یا اسلام کی نماز روزہ کی کوئی عمومی باتیں اُس نے پڑھ لیں، یا کوئی پانچ چھ نمبر بیان کرنے آگئے تو وہ اپنے آپ کو دینی علم کا علامہ سمجھتا ہے۔ اب وہ جو چاہے لوگوں کے سامنے دینِ اسلام کے نام پر گفتگو کرے، ممبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر جو مرضی زبان سے نکالے، فرقہ واریت پھیلائے، آگ لگائے، مفادات اٹھائے، شکل و شباہت عالموں کی بنا لے، اب اس علامہ صاحب کے خلاف کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ 
دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں، کالجز، ہمارے مدارس، مسجدیں اور ہماری خانقاہیں علم کا محض تعارف کراتی ہیں۔ ٹھوس علم نہیں سکھاتیں۔ جب سے سمسٹر سسٹم آیا ہے، اس نے تو ویسے ہی علم کی صلاحیت اور استعداد ختم کر کے رکھ دی ہے۔ ایک سمسٹر میں بڑی مشکل سے چار مہینے پڑھاتے ہیں۔ اس میں ایک کتاب یا ایک شعبۂ علم سے متعلق ابتدائی تعارف کرایا جاتا ہے۔ ٹھوس علم نہ اُستاد کے پاس ہوتا ہے اور نہ شاگرد کے پاس۔ علم کے تمام پہلوؤں کا بڑا گہرا تعلق پریکٹیکل کے ساتھ ہوتا ہے۔ محض نظریات و افکار رَٹ لینے سے علم حاصل نہیں ہوتا۔ آپ میں وہ علم تب رچے بسے گا کہ جو کچھ پڑھا ہے، اس کا پریکٹیکل بھی کریں۔ اس علم کے استعمال کرنے میں اگر کوئی غلطی ہو تو اُسے اساتذہ اور ماہرین کی صحبت میں سیکھا جائے۔ لیکن یہاں تو استاد بھی کرائے کا ہوتا ہے۔ آدھا پونا گھنٹہ لیکچر دینے کے لیے آتا ہے کہ اس کے پیسے لینے ہیں اور بس۔ طالبِ علموں کو سمجھ میں آئے یا نہ آئے، وہ اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔ استاد سے سوال کرنا تو ہمارے تعلیمی اداروں میں جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ استاد کے سامنے بدتمیزی شمار ہوتا ہے کہ آپ سوال کرکے بات سمجھنا چاہتے ہیں۔ 
الحمدللہ! مجھے اس ملک کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں میں خطاب کرنے کا موقع ملا ہے۔ طلبا اور اساتذہ سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وہاں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی سوال کرسکے۔ یہ تو سکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوںکا حال ہے۔ مدرسوں میں بھی علما اور مفتیانِ کرام کا تقدس آڑے آتا ہے۔ وہاں تو مذہب کے نام سے تقدس کی ایک اَور چادر بھی چڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ آپ سوال نہیں کرسکتے۔ بھائی! جب سوال نہیں کریں گے تو بات کیسے سمجھ میں آئے گی؟ علم کیسے منتقل ہوگا؟ آج ہماری یونیورسٹیوں، کالجز اور مدارس میں عام طور پر علم نام کی چیز نہیں رہی۔ جہالت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈگریاں ہیں، علم  نہ دارد۔ یاد رہے کہ جن قوموں کے پاس ٹھوس علم نہیں ہوتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتیں۔‘‘ 

12 / 13

حقیقی علم کے درست نتائج

حقیقی علم کے درست نتائج

7؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’علم اس بات کی مہارت پیدا کرتا ہے کہ انسانی مسئلے کی نوعیت کو سمجھا جائے اور اُس کا ایسا حل تلاش کیا جائے، جس سے انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ قرآن حکیم میں ہے: ’’اللہ تمھارے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے، تمھاری لیے مشکلات کھڑی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ (185:2) علم اور شعور کی بنیاد پر جو حکمرانی قائم ہوتی ہے، اس کا بنیادی تصور اور بیانیہ یہی ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کی مشکلات دور کرے، آسانیاں پیدا کرے۔ رسول اللہ ﷺ دس سال تک مدینہ منورہ کی ریاست کے حکمران رہے تو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ اُن کی مشکلات دور کیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہٗ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہٗ دونوں حضرات کو حضوؐر نے اپنی ریاستِ مدینہ کی حکمرانی کے زمانے میں شمالی اور جنوبی یمن دونوں کا حکمران اور گورنر بنا کر بھیجا تو ان سے فرمایا: ’’لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا۔ اُن کو خوش خبریاں سنانا۔ نفرت اور مشکلات مت کھڑی کرنا۔ تنگی میں مت مبتلا کرنا۔‘‘ (صحیح مسلم: 1733) 
علم کا مقصد انسانی مشکلات کی گتھیوں کو سلجھانا ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں معاملہ اُلٹا ہے کہ ہم علم حاصل کرتے ہیں مشکلات کی گتھیوں کو مزید اُلجھانے کے لیے۔ ہمارا بیوروکریٹ علم حاصل کرکے حکومتی منصب پر پہنچتا ہے تو انسانوں کو سہولتیں دینے کے بجائے اُن کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے۔ رشوت کے لیے فائل دبا کر بیٹھ جاتا ہے۔ مولوی صاحب علم حاصل کرتے ہیں اور وہ دین کو پیچیدہ اور مشکل بنادیتے ہیں۔ فرقہ واریت کے دبیز لبادے میں اتنا اُلجھا دیتے ہیں کہ اصل دین ہے کیا؟ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی۔ وہ فرقوں کی بھول بھلیوں میں داخل کرکے مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔ آسانیاں پیدا نہیں کرتے۔ 

یاد رکھیے! جہالت پر مبنی ناقص علم اور جاہلانہ تصورات ہمیشہ مشکلات ہی کھڑی کرتے ہیں۔ وہ کبھی مشکل حل کرنے کی اہلیت نہیں حاصل کر پاتے۔ تجربے کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ آپ کے سامنے ہے۔ کتنے سیاسی تجربے کیے گئے۔ پارٹیاں بدلنے کے تجربے کتنے کیے گئے، سیاست اور معیشت کے حوالے سے کتنی پالیسیاں نافذ کرنے کے تجربے کیے گئے۔ ہر ایک تجربہ ایک نئی مشکل کی صورت میں پاکستانیوں کی گردنوں پر مسلط ہوا ہے۔ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید اُلجھتے اُلجھتے آج کئی مشکلات کی صورت میں قومی اُلجھاؤ ہمارے سامنے ہیں۔ ان مشکلات سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ علم و شعور جو قوموں کی ترقی کے لیے لازمی ہے، اسے پورے طور پر حاصل کیا جائے اور اس کا سسٹم بنایا جائے۔ اس سسٹم کے راستے کی رکاوٹوں کو توڑا جائے۔ اسی کو امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’فَکُّ کُلِّ نِظَام‘‘ کہا ہے کہ فرسودہ، ظالمانہ اور مشکلات پیدا کرنے والے نظام کو جب تک توڑ کر ختم نہ کیا جائے تو نیا نظام استوار نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے صحیح علم و شعور کی شمع جلانا، اس کا نظام قائم کرنے کی فکر کرنا، اس کی جدوجہد اور کوشش کرنا، تعلق مع اللہ کا پہلا، بنیادی اور لازمی تقاضا ہے۔‘‘ 
 

13 / 13

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ

برعظیم پاک و ہند میں ولی اللّٰہی اَفکار کے فروغ میں جن اکابرین نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں ایک اہم نام حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ہے، جنھوں نے نہ صرف یہ کہ دین اسلام کی تعلیمات کو علمی و عقلی بنیادوں پر واضح فرمایا، بلکہ عملی میدان میں بھی برعظیم کی آزادی کے لیے کردار ادا کیا۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ اسی عظیم ہستی کے پوتے ہیں۔ وہ محرم الحرام ۱۳۱۵ھ/ 1897ء میں دیوبند میں مولانا محمداحمد قاسمیؒ کے ہاں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے حصول کی غرض سے دارالعلوم دیوبند میں داخل کروائے گئے، جہاں سے 1918ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ، مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ، مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ، مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ، مولانا سیّد اصغر حسینؒ، مولانا انور شاہ کاشمیریؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ اور ان کے والد ِگرامی مولانا محمداحمدؒ شامل ہیں۔ 
دارالعلوم دیوبند میں قیام کے دوران ہی مولاناؒ کو حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ مناسبت پیدا ہوگئی تھی۔ حضرت شیخ الہندؒ کی توجہ سے ولی اللّٰہی علوم و افکار آپؒ پر واضح ہوئے اور ان میں سوچ و بچار کا آغاز ہوا۔ حضرت شیخ الہندؒ کے مالٹا تشریف لے جانے کے بعد آپؒ کا دلی تعلق حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ سے محبت کا ہوگیا تھا، جس کا اظہار اُن کے انتقال پر قاری صاحبؒ کے مرثیے کے ان اشعار سے ہوتا ہے   ؎


وہ دل جس میں تمنائے لِقا تھی ، ہائے! اب گھر ہے
اَلم  کا  ، رَنج  کا ،  اَندوہ  کا ،  حِرمان  کا ، غم کا
فراقِ  یار  میں  مضمر  ہے  وَصلِ  یار  کی  دولت
مِری  آنکھوں  میں  ہے ہر وقت  نقشہ قطبِ عالم کا

حضرت عالی رائے پوریؒ کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ساتھ بھی آپؒ کا عقیدت کا تعلق تھا۔حضرت شیخ الہندؒ کے وصال کے بعد ارادت کا تعلق مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ساتھ قائم فرمایا۔ 
1922ء میں حضرت قاری صاحبؒ کی علمی و انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے دارالعلوم کی مجلس شورٰی نے انھیں ادارے کے نائب مہتمم کی ذمہ داری تفویض کی۔ مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ کی قیادت میں قاری صاحبؒ نے اس ذمہ داری کو بہ خوبی نبھایا۔ 1929ء میں مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ کے وصال کے بعد ادارے کے مہتمم کی ذمہ داریاں بھی ان ہی کے حصے میں آئیں، جنھیں انھوں نے بہ حسن و خوبی سرانجام دیا۔ قاری طیب صاحبؒ کے دورِ انتظام میں ادارے میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں، جو ان کی انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن میں نمایاں کام اساتذہ کی پنشن کا اجرا، ٹیم ورک کے اصولوں پر شعبہ تنظیم وترقی کا آغاز، ماہنامہ رسالہ ’’دارالعلوم‘‘ کا آغاز، طلبا کے لیے فزیکل ایجوکیشن اور کیلی گرافی کے شعبے کی بنیاد وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ قاری طیب قاسمی صاحبؒ کے دورِ اہتمام میں دارالعلوم دیوبند کے مرکز نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی۔ اس مادرِ علمی کی شہرت کے باعث دور دراز سے لوگ حصولِ تعلیم کے لیے یہاں آتے تھے۔ اس کثیر تعداد کی تعلیم و تربیت اور انتظامات کے لیے انھوں نے ان تھک محنت کی۔ اساتذہ کی تدریسی صلاحیت کو نکھارنے کے لیے ان کی تربیت پر خاص توجہ دی۔
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ 1939ء میں جب ہندوستان واپس تشریف لائے تو حضرت قاری طیب قاسمیؒ نے اِصرار کے ساتھ دارالعلوم دیوبند میں اُن سے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی معرکۃ الآرا کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ پڑھانے کی درخواست کی۔ چناںچہ دارالتفسیر دارالعلوم دیوبند میں حضرت سندھیؒ نے یہ کتاب پڑھانا شروع کی، جس میں حضرت قاری صاحبؒ نے بھی امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ سے سبقاً سبقاً یہ کتاب پڑھی اور ولی اللّٰہی علوم و معارف میں کمال حاصل کیا۔ 
مذکورہ دور برعظیم کی سیاسی تاریخ کا ہنگامہ خیز دور تھا۔ اس دور میں تحریکِ آزادی اپنے عروج پر تھی۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کی سربراہی میںدیگر علمائے کرام جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے اس تحریکِ آزادی میں سرگرم تھے۔ 1942ء میں مولانا مدنیؒ کی گرفتاری کی خبر کے بعد ان کی رہائی کے لیے مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کی سربراہی میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو اساتذہ سمیت طلبا نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حضرت قاری صاحبؒ نے جمعیت علمائے ہند میں بھی بڑا سرفروشانہ کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں اپریل 1944ء میں جمعیت علما صوبہ سندھ کے اجلاس منعقدہ حیدرآباد سندھ میں انھوں نے بڑا جامع خطبہ صدارت ارشاد فرمایا۔ اس موقع پر حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ بھی تشریف فرما تھے۔ انھوں نے حضرت قاری صاحبؒ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کھڑے ہوئے کر اعلان فرمایا کہ: ’’میں خطبہ صدارت سننے ہی کے لیے شریکِ اجلاس ہوا تھا۔ اب میرا دل ٹھنڈا ہے۔ آپ نے اپنا خاندانی پیغام پہنچا دیا‘‘۔ (خطباتِ حکیم الاسلام، ج:4، ص: 268) 
1947ء میں تقسیم ہندوستان کے دوران جب فسادات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمانوں کی اعانت کا بندوبست کیا جائے۔ اس صورتِ حال میں انھوں نے صوبہ بہار کے متاثرین کے لیے مالی اعانت کا بندوبست کروایا۔ اسی دوران پاکستان تشریف لائے، لیکن کچھ عرصے بعد بہ وجوہ دیوبند واپس جانے کو ترجیح دی۔ 1949ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کی مجلس میں رکن کے طور پر قاری طیب صاحبؒ کو منتخب کیا گیا۔ اس طرح انھیں یہ موقع ملا کہ علی گڑھ اور دیوبند کے درمیان تعاون کا آغاز ہو۔ یہ شیخ الہندؒ کے مشن کا ایک خاص حصہ تھا، جس کے لیے انھیں کام کرنے کا موقع ملا۔ 1972ء میں ہندوستان میں مسلم عائلی قوانین کے تحفظ اور ان کے نفاذ کے لیے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کا قیام بھی انھیں کی کوششوں ہی کی بدولت ممکن ہوا، جس میں ملک بھر کے تمام طبقہ فکر کے نمائندے موجود تھے۔ قاری صاحبؒ اس بورڈ کے پہلے متفقہ صدر بھی نامزد کیے گئے۔یہ نامزدگی ان کی علمی قابلیت کا حکومتی سطح پر اعتراف بھی تھا۔ 

مولانا موصوفؒ کا پہلاسب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ان کے دورِ اہتمام میں دارالعلوم دیوبند نے بہت ترقیات حاصل کیں۔ دارالعلوم اساتذہ اور طلبا کے لیے ہر دل عزیز ادارے کے طور پر متعارف ہوا۔ قاری صاحبؒ نے دنیا بھر کے متعدد ممالک کے دورے کیے اور تقسیم ہند کے بعد کئی دفعہ پاکستان بھی آئے۔ ان کی دوسری بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ افکار و نظریات، جن کا تعارف ہمیں حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی متعدد کتابوں میں ملتا ہے، ان کو عام فہم انداز میں عوام و خاص کے سامنے پیش فرمایا۔ اپنے عہد میں وہ بلاشبہ ’’حکمتِ قاسمیہ‘‘ کے ترجمان اور شارح تھے۔ مولانا طیب قاسمیؒ کے خطبات میں عوام کی اصلاح اور اجتماعی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے اور اسلام کی تعلیمات کو عقلی بنیادوں پر انتہائی سہل انداز میں پیش کرنے کے موضوعات شامل ہیں۔ مولاناؒ نے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار کو آسان انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ ان کی تحریر، تقریر، تصانیف اور مجالس وغیرہ میں ولی اللّٰہی رنگ کچھ اس انداز سے غالب تھا کہ انھیں سننے اور پڑھنے والا ان سیاسی، معاشی اور سماجی تصورات کو بہت اچھے انداز سے سمجھ لیتا ہے۔ 
1980ء میں صحت کی کمزوری کے باعث دارالعلوم دیوبند کے اہتمام کی ذمہ داری نبھانے سے معذرت کرلی تھی، البتہ درس و تدریس میں تادمِ آخر پیش پیش رہے۔ علم و معرفت کے گلشن کے اس مالی نے ۶؍ شوال ۱۴۰۳ھ / 17؍ جولائی 1983ء کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی تدفین قبرستانِ قاسمی دیوبند میں ان کے دادا کے پہلو میں کی گئی۔ 
 

شمارہ ختم

واپس