محض گمان پر رائے قائم کرنے کی ممانعت

محض گمان پر رائے قائم کرنے کی ممانعت


عَنْ أَبِي قلَابَۃَ قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لأبِي عَبْدِاللّٰہ، أَو قَال أَبُو عَبْدِاللّٰہ لأبِي مَسْعودٍ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہﷺ یَقُوْلُ في زَعَمُوا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہؐ یَقُوْلُ: ’’بِئْسَ مَطِیَّۃُ الرَّجُلِ: زَعَمُوا۔‘‘ (سنن ابي داؤد، 4972)
(حضرت ابوقلابہؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابومسعودؓ نے ابوعبداللہؓ (حضرت حذیفہؓ) سے یا ابوعبداللہؓ (حذیفہؓ) نے حضرت ابومسعودؓ سے پوچھا کہ آپ نے اس بارے میں کیا سنا ہے جو لوگ ’’زعموا‘‘ (لوگوں کا خیال ہے،با ور کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے وغیرہ) کے انداز میں بات کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ: ’’زعموا‘‘ آدمی کی بہت بُری سواری ہے۔‘‘) 
کسی بھی امر پر حتمی رائے قائم کرنے کے لیے قرآن و حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ رائے واضح ہو اور مستحکم دلیل پر مبنی ہو۔ مسلمان ایسا ذہن اور سوچ رکھے جو عقل و دانش پر مبنی ہو۔ مثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز رائے کا مالک ہو۔ محض تخیلات اور توہمات پر مبنی مؤقف اپنانے کے بجائے کسی بھی مسئلے پر دستیاب معلومات کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنے کا خوگر ہو۔ مسلمان کو ایسی تربیت لینی چاہیے، جس سے اس کا ذہنی اُفق بلند ہو، جو اسے درست رائے قائم کرنے میں مددگار ہو۔ یہ رویہ اور رجحان کہ لوگ یہ کہتے ہیں، خیال (Perception) یہ ہے، میڈیا پر یہ بات چل رہی ہے، جیسی فضا سے متأثر ہوکر انسان رائے بنائے تو یہ رویہ نہایت گمراہ کن ہے۔ اگر انسان کی یہ عادت بن جائے تو یہ طرزِ عمل رسول اللہﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ اس کے برعکس انسان کو دینی، سماجی اور اجتماعی امور کے حوالے سے ایسا صاف ذہن بنانے کی ضرورت ہے، جس میں وہ خود پختہ رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے۔ اس کی تجزیاتی صلاحیت نکھر جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دستیاب علم تک رسائی، ٹھوس معلومات اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اہلِ علم و دانش کی صحبت اختیار کی جائے۔ ایسے ذی شعور لوگوں کی نگرانی میں اپنی ذہنی آبیاری اور تربیت کا اہتمام کیا جائے جو انسان کو درست رائے والا بنادے۔ 
قرآن حکیم نے بے بنیاد اور ناپختہ سوچ رکھنے والوں کوکہیں (78:2) (وہ محض گمان کرتے ہیں) کہا، کہیں (171:2) (سو وہ کچھ نہیں سمجھتے) کہا اور کہیں ان کے بارے میں کہا (22:18) (یہ لوگ بہت کم جانتے ہیں)۔ قرآن حکیم کے یہ اشارات انھیں لوگوں کی طرف ہیں جو محض گمان اور اٹکل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے مسلمان کو ممکنہ حد تک اپنے علم اور اپنی سوچ کو کامل اور پختہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ناپختہ سوچ انسان کو بے وقار، قوموں اور دینی جماعتوں میں بہت سے فسادات اور خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے۔ افراد، جماعتیں اور قومیں پروپیگنڈے کا شکار ہوکر غلط راہوں پر چل نکلتی ہیں۔ یوں دنیا و آخرت کی ناکامی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں