مئی۔ 2024ء

ماہنامہ رحیمیہ

مئی۔ 2024ء

مئی 13, 2024 5 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 5

خواہشات پر مبنی بلادلیل دعوے؛ ترقی کے راستے کی رُکاوٹ

خواہشات پر مبنی بلادلیل دعوے؛ ترقی کے راستے کی رُکاوٹ

گزشتہ آیات (-2 البقرہ: 110-109) میں مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ انسانیت دشمن قوموں اور غضبِ الٰہی کے مستحق فرقوں کی منفی عادتوں اور رویوں سے دور رہیں اور پوری یکسوئی کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کرکے اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم کریں۔ اور اپنے آپ کو اجتماعی طور پر مضبوط بنانے کے لیے اپنے نظم و ضبط پر توجہ دیں۔

ان آیات (البقرہ: 112-111) میں مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ غضبِ الٰہی کے مستحق یہود و نصاریٰ اپنے زوال کی حالت میں خواہشات پر مبنی جھوٹے دعوے کرنے کے عادی ہوچکے ہیں، اُن سے بچنا ضروری ہے۔ سلامتی کا صحیح راستہ یہ ہے کہ خالص اللہ کی طرف متوجہ ہوکر کام کریں، تاکہ خوف زدگی کی حالت سے نکل کر اجرِ الٰہی کے مستحق ہوں۔

 

(اور کہتے ہیں کہ: ہرگز نہ جاویں گے جنت میں مگر جو ہوں گے یہودی یا نصرانی): یہودیوں کے رہنما بنی اسرائیل کے سامنے ایسے دعوے کرتے رہے ہیں کہ جنت میں انھیں کے فرقے کے لوگ جائیں گے۔ اور نصرانیوں کے رہنما بنی اسرائیل کے سامنے یہ دعوے کرتے تھے کہ صرف ہمارے فرقے کو ماننے والا ہی جنت میں جائے گا۔

قومیں جب سچی کتاب اور اُس کے قوانین پر عمل سے عاری ہو کر سیاسی ذلت اور معاشی زوال میں مبتلا ہوتی ہیں تو اُن میں بے سروپا دعوے فروغ پاتے ہیں۔ تورات اور انجیل میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مؤمنین مخلصین کے لیے جنت اور نافرمانوں کے لیے جہنم کا وعدہ کیا تھا۔ بنی اسرائیل میں جب مفادپرستی پر مبنی فرقہ وارانہ گروہیت پیدا ہوئی تو ہر فرقہ اپنے آپ کو جنتی قرار دیتا۔ اور دوسرے فرقے کو جہنمی قرار دیتا رہا۔ اپنے فرقے سے متعلق لوگوں کو اپنے گروہ کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے اس طرح کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے رہے۔ بدقسمتی سے آج مسلمانوں میں بھی اسی طرح کی خواہشات پر مبنی تمنائیں اور آرزوئیں پیدا ہوچکی ہیں (اللہ بچائے، اللہ کی پناہ!)۔

(یہ آرزوئیں باندھ لی ہیں انھوں نے، کہہ دے: لے آؤ سند اپنی اگر تم سچے ہو): یہودیوں کے اس دعوے پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اُن کی خواہشات اور آرزوئیں ہیں۔ تمنا اور خواہش وہ ہوتی ہے کہ انسان کوئی عمل کیے بغیر اچھے نتائج کی توقع رکھے۔ کسی قوم کے لیے دنیوی اور اُخروی کامیابی اور ترقی کے لیے علم و شعور پر مبنی بلند فکری، حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی منظم قوت اور سیاسی ومعاشی طاقت وقوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اس سے ناآشنا ہوکر بے عمل بن جاتی ہے تو پھر ان کے دلوں میں تمنائیں اور آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ زمینی حقائق سے ناآشنا بڑے بلند بانگ دعوؤں کی عادی ہوجاتی ہیں۔ اور گروہوں میں بٹ کر اپنے اپنے فرقوں کی کامیابی کی خواہش اور تمنا رکھتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے فرقہ پرست اگر اپنی تمناؤں اور دعوؤں میں سچے ہیں تو کوئی عقلی دلیل پیش کریں۔ ’’بُرہان‘‘ اُسے کہتے ہیں کہ حقائق اور صحیح مقدمات پر مبنی عقلی اور منطقی دلائل پیشِ نظر رکھ کر نتائج پیش کیے جائیں۔ ایسی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، جن کے پیچھے کوئی حقائق نہ ہوں۔ زمینی حقیقت سے ماورا محض رومانویت پر مبنی تمنائیں اور آرزوئیں کسی صورت معتبر نہیں ہیں۔ زوال پذیر قوموں کا یہی المیہ ہوتا ہے کہ وہ حقائق سے آنکھیں چرا کر خواہشات پر مبنی تصورات، نظریات اور مصنوعی عملیات کی عادی ہوجاتی ہیں۔ یوں مزید زوال اور پستی کی حالت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور خواہشات پر مبنی بلند بانگ دعوؤں کی اَسیر قوم کو ذلت سے نکلنے کا راستہ بھی سجھائی نہیں دیتا۔ وہ ایسی ہی لایعنی بھول بھلیوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔

 

(کیوں نہیں، جس نے تابع کردیا منہ اپنا اللہ کے، اور وہ نیک کام کرنے والا ہے، تو اسی کے لیے ہے ثواب اس کا اپنے ربّ کے پاس) حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دینِ حنیفی کا آغاز ہوا ہے۔ حنیفی تحریک کا بنیادی قانون یہ ہے کہ جو آدمی مظاہرِ قدرت کی اُلوہیت کے دائرے سے اوپر اُٹھ کر صرف اور صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کا دل و جان سے فرماں بردار ہوا اور اُس نے اپنے آپ کو خالصتاً اللہ کی طرف متوجہ رکھا، اس کے لیے دُنیوی اور اُخروی انعامات ہیں۔ دنیا کا ماحول بھی اُس کے لیے جنت کا سا ہوتا ہے اور آخرت کی جنت کا انعام بھی اُس کو بڑی وافر مقدار میں اپنے ربّ کی طرف سے اجر کی صورت میں حاصل ہوگا۔ اب ابراہیمی تحریک کا لبادہ اَوڑھ کر کسی بھی طرح کی فرقہ وارانہ گروہیت پیدا کرنا درست نہیں ہے۔ ہر فرقہ اور گروہ اس بنیادی قانون کو نظرانداز کرکے محض تمنائیں اور آرزوئیں پالے تو وہ کیسے دنیا اور آخرت کی ترقی حاصل کرسکتا ہے۔

(اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے): دنیا اور آخرت کی کامیابی یہ ہے کہ انسان خوف اور غم کی حالت سے نکل کر امن اور خوش حالی کی حالت میں داخل ہوجائے۔ جو قوم سیاسی طور پر خوف زدگی کی حالت میں رہے، یا اپنی اجتماعی طاقت اور قوت سے محروم ہو کر بداَمنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو اور طاغوتی قوتیں اُن پر ظلم ڈھاتی رہیں، تو وہ کیسے دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ اسی طرح جو قوم معاشی حوالے سے غم واندوہ میں ڈوبی ہوئی ہو، افلاس نے اُن کا گھیراؤ کیا ہوا ہو تو وہ غموں کا اسیر بنا دیتی ہے۔ اس سے نکلنے کا ایک واحد راستہ یہ ہے کہ اللہ کے بیان کیے ہوئے سیاسی اور معاشی نظام کے مطابق اپنی اجتماعی طاقت اور قوت پیدا کرکے کام کیا جائے تو ایسی جماعت کے لیے دنیا میں نہ سیاسی طور پر خوف زدگی کی حالت ہوگی، بلکہ دشمن کے مقابلے پر کام کرنے کی جرأت اور ہمت پیدا ہوگی۔ اور نہ ہی معاشی طور پر غمگینی اور مسکینی کی صورت میں مبتلا ہوگا۔ دنیا کی جنت بے خوفی پر مبنی سیاسی امن اور غموں سے پاک معاشی خوش حالی سے حاصل ہوتی ہے اور آخرت کی جنت میں بھی انسان ہر خوف سے آزاد اور ہر غم سے پاک ہو کر جنت کی راحت پائے گا۔

 

2 / 5

رحمتِ الٰہی کا تقاضا

رحمتِ الٰہی کا تقاضا

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو رضی اللّٰہ عنہ، یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیّ ﷺ: ’’الرَّاحِمُونَ یَرْحَمُھُمُ الرَّحْمٰنُ، ارْحَمُوا أَہْلَ الْأَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِیْ السَّمَائِ‘‘۔  (سنن ابو دائود، حدیث: 4941)

(حضرت عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ: نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’رحمن‘ رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا‘‘۔)

اس حدیث میں نبی اکرمﷺ اس کائنات کے نظامِ ربوبیت کی اَساس بیان کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہونے کے ناتے صفتِ رحمت پر اس کائنات کے نظام کو چلا رہے ہیں۔ مؤمنین کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ بھی صفتِ رحمت کی بنیاد پر شخصی، خاندانی اور اجتماعی نقطۂ نگاہ اپنائیں۔ جب خاندانی نظام صلہ رحمی کے اصول پر قائم ہوتا ہے اور اجتماعی سوچ کی روشنی میں بچوں کی تربیت ہوتی ہے اور اس سوچ کے تابع انسانوں کا مزاج ڈھلتا ہے تو ایسے لوگ قومی اور بین الاقوامی دائرے میں بھی اسی سوچ کے تحت خُلق اختیار کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔

صفتِ رحمت اور صلہ رحمی کے اُصول پر خاندانی نظام میں زندگی گزارنے والوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ قومی اور بین الاقوامی اُمور میں عمدہ اَخلاق کا مظاہرہ کریں گے۔ جب انسان اس کا عادی اور خوگر ہوجاتا ہے تو اس کی سماجیات، سیاسیات، معاشیات، اس کا اِنفرادی اور اجتماعی طرزِ عمل صفتِ رحمت کے اُصول پر ہی ڈھلتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بلاتفریق رنگ، نسل اور مذہب کے انسانوں سے تعلق قائم کرتا ہے۔ ایک خدا اور ایک مخلوق کے اُصول پر وہ تمام انسانوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتاہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیابت اور خلافت کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کی تربیت اور کردار و عمل اس کا عملی ثبوت ہے۔

مؤمن کا یہ طرزِعمل انسانیت کے لیے آسانی، کامیابی، ترقی اور خوش حالی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک مؤمن سے اللہ تعالیٰ یہی چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں اِنفرادی سطح سے لے کر  بین الاقوامی سطح تک اسی صفتِ رحمت کے اصول پر ریاستی نظام تشکیل دے، تاکہ یہ دنیا جنت نظیر بن جائے۔ جب انسان امن وامان کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور اپنی معاشی ضروریات کو بہ آسانی پورا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور معاشی بدحالی کے بھیانک اَثرات سے محفوظ ہوجاتا ہے تو پھر اُسے اُخروی کامیابی کے لیے یکسو ہونے میں کوئی رُکاوٹ باقی نہیں رہتی۔ اللہ کی طرف اس کی توجہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ یوں دُنیوی کامیابی اور اُخروی فلاح کا راستہ اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے اور صفتِ رحمت کے اصول پر دُنیوی نظام کی تشکیل انسان کے دنیا و آخرت کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

3 / 5

حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہٗ (27 ق ھ / 53ھ) کا نام عبد الکعبہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعدنبی کریمﷺ نے آپؓ کا نام ’’عبد الرحمن‘‘ رکھ دیا۔ آپؓ کے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ اور خاندان کے لوگوں نے ابتدا ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن آپؓ سابقہ مذہب پر قائم رہے اور آپؓ نے فتح مکہ سے پہلے صلح حدیبیہ کے نزدیک اپنی رائے اور حقانیت کی بنیاد پر پورے شعور و اِدرک سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد ہجرت بھی کی اور ہجرت کے بعد آپؓ اپنے والدؓ اور خاندان کے ساتھ  مدینہ منورہ میں رہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اور آپؓ دونوں سگے بہن بھائی تھے۔ آپؓ اپنے والدؓ کے سماجی و معاشی اور تجارتی کاموں میں مکمل معاون تھے۔

حضرت عبد الرحمن بن ابوبکرؓفطرتاً نہایت شجاع و بہادر تھے، خصوصاً تیر اندازی میں کمال درجے کی مہارت تھی اور ان خصوصیات میں تمام قریش میں ممتاز تھے۔ بعض مؤرّخین نے لکھا ہے کہ وہ عرب کے ان چنیدہ بہادروں میں سے ہیں، جنھیں ایک ہزار بہادروں کے برابر تسلیم کیا گیا۔ قبولِ اسلام کے بعد ان کے یہ جوہر دینِ حق کی حمایت و نصرت میں صَرف ہونے لگے۔ چناں چہ صلح حدیبیہ کے بعد دورِ نبوت میں جو غزوات پیش آئے، ان میں جاں بازی و پامردی کے ساتھ کامل سرگرمی سے شریکِ کار رہے۔  فتح مکہ، حنین، غزوۂ طائف اور تبوک میں بہ طور خاص شریک رہے۔ اس دوران جتنی دیگر سماجی و علمی سرگرمیاں ہوتیں، ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ نبی کریمؐ کی وفات کے بعد دورِ صدیقیؓ اور دورِ فاروقیؓ میں بھی جنگوں میں شریک ہوئے۔ جنگِ یمامہ میں تو آپؓ نے کمال ہی کر دکھایا۔ دشمن کے سات بڑے بڑے جنگی افسروں کو تنہا اپنے تیر کا نشانہ بنا کر ختم کر دیا۔ اسی طرح قلعہ یمامہ کی دیوار میں شگاف تھا، مسلمان اس کے ذریعے اندر داخل ہونا چاہتے تھے، لیکن محکم بن طفیل نام کا سردار اس کی حفاظت کر رہا تھا۔ حضرت عبدالرحمنؓ نے تاک لگا کر اس کے سینے پر ایسا تیر مارا کہ تڑپ کر خاک کا ڈھیر بن گیا اور مسلمان قلعہ میں داخل ہو گئے۔ اس طرح ان کی اس جاں بازانہ مہارت سے مسلمان جماعت نے اس موقع پر فتح حاصل کرلی۔

حضرت عبدالرحمن ظریف الطبع اور خوش مزاج تھے۔ آپؓ صحاح ستہ میں حدیث کے راویوں میں سے ہیں۔ متعدد حضرات نے آپؓ سے احادیث روایت کی ہیں۔ آپؓ حضرت علیؓ کی خلافت کے بعد حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں مدینہ چھوڑ کر مکہ چلے آئے اور مکہ سے دس میل کے فاصلے پر ’’حبشی‘‘ نام کے ایک پہاڑی مقام پر قیام پذیر ہوئے۔ وہیں ایک رات حالتِ نیند میں ۵۳ ہجری میں وفات پائی اور مکہ میں آپؓ کی تدفین ہوئی۔ آپؓ کے ایک بیٹے محمد کی کنیت ابو عتیق تھی۔ وہ بھی شرفِ صحابیت سے بہرامند تھے۔ ان کی نسل کثرت سے چلی۔ آپؓ کے دوسرے بیٹے عبداللہ کے بیٹے طلحہ تھے، جنھیں بڑا عروج نصیب ہوا اور سیّدنا صدیق اکبرؓ کی نسل سب سے زیادہ انھی سے چلی جو طلحیون کہلاتی تھی۔

4 / 5

قومی اور سماجی ویژن سے عاری‘ دھاندلی زدہ حکومتیں

قومی اور سماجی ویژن سے عاری‘ دھاندلی زدہ حکومتیں

2024ء کے دھاندلی شدہ الیکشن کے نتیجے میں جوڑ توڑ کی صورت قائم شدہ حکومت ویسے تو کسی بھی شعبے میں کچھ کرنے کے لائق نہیں، لیکن معاشی شعبے میں اس حکومت سے عوامی مایوسی آسمان کو چھونے لگی ہے۔معاشی شعبے میں عوامی فلاح وبہبود کا کوئی منصوبہ اس حکومت کے ہاں کہیں دور دور تک نظر نہیں آرہا، البتہ قوم کو بھکاری بنانے کے لیے بے تُکے اشتہارات ہمارے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں، جس میں سستی روٹی، قسطوں پر موٹر سائیکلوں اور لیپ ٹاپس کے علاوہ کیش بانٹنے کی نمائشی سکیمیں‘ پرائز بانڈز کے اشتہارات کی طرح سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔

حال آں کہ اگر بھکاریوں کو پیسے تقسیم کرنے کے بجائے لوگوں کو ضروریاتِ زندگی کے بہتر ریٹس اور روزگار کے ذریعے قوتِ خرید دی جائے، جس میں لوگ اپنی آمدن کے اندر رہ کر اپنی ضروریات کو اپنی کمائی ہوئی دولت سے باعزت طریقے سے خرید سکیں، جس میں ان کی عزت نفس اور اعتماد دونوں بحال رہیں، لیکن ہماری حکومتیں کوئی واضح معاشی ویژن نہ ہونے کے سبب ایک دوسرے کی نقل میں نقد کیش بانٹنے کی ایسی ایسی سکیمیں اناؤنس کرتی ہیں جس میں کرپٹ عناصر کھل کر کھیلتے ہیں اور قوم کے اربوں روپے ان سکیموں کی راہ میں ضائع کر دیے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں نئی قائم ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتیں ویژن اور بصیرت سے محروم ترقی کے نام پر ایسے فضول منصوبوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیتی ہیں، جن میں سڑکیں، بائی پاس، انڈر پاسز اور سگنل فری کوریڈور وغیرہ بنائے جاتے ہیں، جو معاشی نقل و حرکت کے بجائے طاقت ور ٹھیکے داروں کو بھاری ٹھیکوں سے نوازنے کے لیے ہوتے ہیں، ان ترقیاتی فنڈز کا بیش تر حصہ ایم این اے ایز اور ایم پی اے ایز کی جانب سے پیش کردہ نام نہاد ’’ترقیاتی‘‘ اسکیموں پر خرچ کردیا جاتا ہے۔

یہ ترقیاتی رقم ایم این اے ایز اور ایم پی اے ایز کو دینے کا مقصد ترقی نہیں، بلکہ واضح طور پر سیاسی وفاداریاں خریدنا ہوتا ہے، حال آں کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کا بنیادی مقصدبہتر منصوبہ بندی سے عوامی ڈومینز میں پائیدار اور جامع ترقی کی سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے، جو اس نظام میں ایک خواب ہوکر رہ گیا ہے۔

ایک طرف تو حقیقی عوامی ترقی کے بجائے اپنے سیاسی پارٹنرز کو نوازنے کے لیے جعلی ترقیاتی سکیمیں شروع کروائی جاتی ہیں اور دوسری طرف ریاستی سطح پرکفایت شعاری نام کی کوئی چیز کہیں موجود نہیں ہے، حال آں کہ اجتماعی قومی دولت کے ضیاع کو روکنا‘ ریاستی فنڈز اورعوامی پیسوں کے احتساب کے اعلیٰ معیارات میں مضمر ہے، جو کسی بھی ملک کے سیاسی رہنما استعمال کرتے ہیں، جب کہ ہمارے ہاں اگر پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات کی بات کی جائے تودنیا کے اکثر ممالک میں جہاں سیاست دانوں کو بہت کم تنخواہ ملتی ہے، ان کو کوئی خصوصی مراعات بھی نہیں دی جاتیں، وہ ملک ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، جب کہ پاکستان میں ایسے سیاست دان ہیں جو ٹیکس دہندگان کے وسائل کو بے رحمی سے ہڑپ کرتے ہیں اوراپنے آپ کو لامحدود مراعات دیتے ہیں اور کام ٹکے کا نہیں کرتے۔

قرضوں اور غربت میں ڈوبے ہوئے ملک پاکستان کا وزیر اعظم 12,000 مربع گز پر پھیلے ایک شان دار محل میں رہتا ہے۔ ہماری قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کل وقتی سرکاری لگژری کاروں اور ڈرائیوروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جو عوامی خرچ پر رکھی جاتی ہیں۔ الاؤنس، خصوصی یومیہ الاؤنس، کنوینس الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اس کے علاوہ ہیں۔کیا اسلام آباد کے کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے نئے مکینوں میں اتنی اَخلاقی جرأت اور  سمجھ داری ہے کہ وہ اپنے اور تمام سرکاری افسران سے مراعات، الاؤنسز، سرکاری گاڑیاں، مفت پیٹرول، بجلی، گارڈز، ڈرائیورز، سیکریٹریز، معاونین، نائب قاصد اور دیگر متعدد امتیازی حقوق واپس لے سکیں؟ جس کا عام شہری خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔ پھر اس پر مستزاد یہ ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ غریبوں کے مقابلے میں حکومتی سبسڈی سے کہیں زیادہ مستفید ہوتی ہے۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اشرافیہ کو سالانہ 17 ارب ڈالر سے زیادہ کی سبسڈی دی جاتی ہے۔

 دھاندلی شدہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت پچھلے پیکج کی قسط وصول کرکے ہڑپ کرنے کے بعدآئی ایم ایف سے نئے پیکج کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔   روز مرہ کے اخراجات کے لیے آئی ایم ایف سے حاصل شدہ قرض کی لت پر ملک کا بڑھتا ہوا اِنحصار پاکستانی عوام کی اکثریت کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیوں کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ ان پروگراموں سے معیشت میں کوئی بامعنی بہتری آئی ہے۔

معاہدے کے مطابق، حکومت نے طے شدہ اہداف حاصل نہ ہونے کی صورت میں جاری مالی سال کے اختتام تک مزید ٹیکس عائد کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس سے لوگوں کی پریشانیوں کا کوئی خاتمہ نہیں ہوگا، کیوں کہ آئی ایم ایف نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ پاکستان ایک اَور درمیانی مدت کے پروگرام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان قرضوں میں اس بُری طرح پھنسا ہوا ہے کہ ہر جاری پروگرام کی تکمیل پر آئی ایم ایف سے نئے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ تقریباً تمام متواتر حکومتوں کے بار بار دعوؤں کے باوجود ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ان کا پروگرام آخری ہوگا۔ کوئی یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ اگر ہم قرض کے تازہ انجکشن کے بغیر اپنے معاملات اور قرض کو سنبھال نہیں سکتے تو پھر کیا ہوگا۔

اب عوام کو سوچنا ہوگا کہ عوام سے ووٹ لینے کا ڈھونگ رچانے والے در پردہ کن قوتوں کے نمائندہ ہیں؟ یہ انھیں قوتوں کے نمائندہ ہیں، جن کے لیے عوام پر آئے دن نئے سے نئے ٹیکس لگاکر ان کے لیے باج گزاری کی جاتی ہے۔ یہ عوام کو کوئی معاشی ریلیف دینے کے بجائے ان کے زخموں پر آئی ایم ایف کا نمک چھڑکتے رہتے ہیں۔ (مدیر)

5 / 5

اخلاص کی اہمیت اور رِیاکاری کی مذمت

اخلاص کی اہمیت اور رِیاکاری کی مذمت

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

’’جاننا چاہیے کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ جسم بغیر روح کے زندہ نہیں رہتا۔ بدن سے جدا ہونے کے بعد روح زندہ رہتی ہے، لیکن زندگی کے کامل آثار بغیر بدن کے ظاہر نہیں ہوتے۔ اسی لیے:

(1)         اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اللہ کو نہیں پہنچتا اُن کا گوشت اور نہ اُن کا لہو، لیکن اس کو پہنچتا ہے تمھارے دل کا ادب‘‘۔ (-22 الحج: 37)

(2)         اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’إنّما الأعمالُ بالنِّیّات‘‘ (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے)۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ، حدیث: 1)

نبی اکرم ﷺ نے بہت سے مقامات پر بیان فرمایا کہ جس آدمی نے کوئی عمل کرنے کی نیت کی ہو اور کسی رُکاوٹ کی وجہ سے وہ عمل نہ کرسکا ہو، اُس آدمی سے تشبیہ دی ہے کہ جس آدمی نے واقعی وہ عمل کیا ہے۔ مثلاً:

(1)         کسی ایسے وِرد اور وظیفے کی پابندی کرنے والے مسافر اور مریض حالتِ سفر اور مرض میں اُس وِرد کی پابندی نہ کرسکے ہوں تو اُن کے نامۂ اَعمال میں وہ عمل لکھ دیا جاتا ہے۔

(2)         اسی طرح وہ آدمی کہ جو مال کے خرچ کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہو، لیکن اپنی محتاجگی کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا ہو تو اُس کے نامۂ اَعمال میں بھی یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ گویا کہ اُس نے مال خرچ کیا۔

(نیت کی تعریف اور حقیقت)

نیت سے میری مراد یہ ہے کہ کسی عمل پر اُبھارنے والی وہ معنویت کہ جس میں:

(أ)           اُن باتوں کی تصدیق ہوتی ہو، جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی خبر دی ہے کہ فرماں بردار کو یہ ثواب ملے گا اورنافرمان کو یہ سزا ملے گی۔

(ب)        یا ایسی دلی محبت پیدا ہو کہ اللہ نے جن کاموں کے کرنے یا جن کاموں سے رُکنے کا حکم دیا ہے، انھیں دل وجان سے تسلیم کرے اور اُن کے مطابق عمل کرے۔

(احادیث میں ریاکاری کی مذمت)

یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا عمل کرنے سے منع فرمایا ہے، جو ریاکاری کے طور پر کسی کو دکھانے اور سنانے کے لیے کیا جائے۔ آپ ﷺ نے بڑی صراحت کے ساتھ ان دونوں کاموں کی بُرائی بیان کی ہے۔ اسی سلسلے میں درجِ ذیل احادیث ہیں:

(1)         آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱) وہ آدمی جو جہاد میں اس لیے قتل ہوا تاکہ اُس کے بارے میں لوگوں میں یہ بات کہی جائے کہ وہ بڑا بہادر آدمی تھا۔ (۲) وہ آدمی جس نے اس لیے علم حاصل کیا اور لوگوں کو تعلیم دی کہ یہ کہا جائے کہ وہ بڑا عالم ہے۔ (۳) وہ آدمی جس نے اس لیے لوگوں میں مال خرچ کیا، تاکہ لوگ کہیں کہ وہ بڑا سخی ہے۔ ان تینوں کو چہروں کے بَل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکنے کا حکم دیا جائے گا‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 205)

(2)         رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اَور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس شریک کے حوالے کردیتا ہوں، جس کو اُس نے شریک ٹھہرایا‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 5315)

(اچھے اعمال پر لوگوں میں تعریف ہونے سے متعلق احادیث کا مطلب)

(1)         جہاں تک حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت کردہ اس حدیث کا تعلق ہے، جس میں آپؐ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے، جس نے خیر کے کاموں میں سے کوئی کام کیا ہو اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہوں؟ تو آپؐنے فرمایا: ’’یہ مسلمان کے لیے دنیا میں خوش خبری ہے‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 5317)

                اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب مؤمن کے عمل کرنے کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس عمل کو زمین میں قبولیت بخشی ہو اور اس وجہ سے لوگ اُس انسان سے محبت کرتے ہوں۔

(2)         اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے پوچھا: یارسول اللہ! میں اپنے گھر میں اپنے مصلے پر نماز پڑھ رہا تھا، اتنے میں ایک آدمی میرے گھر میں داخل ہوا، اُس نے مجھے نماز کی اس حالت میں دیکھا تو مجھے اچھا لگا۔ تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے ابوہریرہ! اللہ آپ پر رحم کرے، آپ کو دو اَجر ملیں گے: ایک تو یہ کہ تم نے خفیہ طور پر تنہائی میں نماز پڑھی اور دوسرے یہ کہ تم نے نیکی کا ایک کام اعلانیہ طور پر کیا‘‘۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰۃ، حدیث: 5322)

                اس حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ کا نماز کی اپنی اس حالت کو اچھا سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے عمل صرف اچھا سمجھنے کی نیت سے نہیں کیا، بلکہ یہ اچھا سمجھنا عمل پر غالب ہونے کے بجائے مغلوبیت کی صورت رکھتا ہے کہ ازخود ہوگیا۔

                جہاں تک آپؐ نے ’’اجر السِّرّ‘‘ (تنہائی کے عمل کا اجر) بیان کیا ہے تو اس سے مراد وہ اخلاص اور للہیت ہے، جو کسی کام کو چھپ کر کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اور ’’اجر العَلانیّۃ‘‘ (اِعلانیہ اجر) کا مطلب یہ ہے کہ دین کو غالب کرنے اور سنتِ راشدہ کے پھیلاؤ اور فروغ کا اجر بھی ملے گا کہ دیکھنے والے لوگ اُس اچھے عمل کو دیکھ کر اُس پر عمل کریں گے‘‘۔

(أبواب الإحسان، باب: 3، بقیّۃُ مَباحث الإحسان)

شمارہ ختم

واپس