جولائی،2023ء

ماہنامہ رحیمیہ

جولائی،2023ء

جولائی 10, 2023 3 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 3

ظلم کے خلاف جدوجہد نہ کرنے والے ذلت میں مبتلا ہوتے ہیں

ظلم کے خلاف جدوجہد نہ کرنے والے ذلت میں مبتلا ہوتے ہیں

گزشتہ آیات (91 تا 93) میں یہ حقیقت واضح کی گئی تھی کہ یہودیوں کا تورات و انجیل کی تعلیمات پر ایمان کا دعویٰ علمی طور پر اس لیے غلط ہے کہ انھوں نے ان دونوں کتابوں کی تعلیمات کو پسِ پُشت ڈال دیا۔ انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی کی اور اُس پر پختہ دل سے ایمان نہیں لائے۔

ان آیات (94 تا 96) میں یہودیوں کے دعوے کے غلط ہونے کی عملی دلیل پیش کی جا رہی ہے۔ الٰہی تعلیمات پر عمل کرنے والے لوگ آخرت میں کامیابی کے نظریے سے عمل کرتے ہیں۔ جو لوگ دنیا میں اپنے سچے فکر و عمل کو خالصتاً اللہ کے لیے کرتے ہیں، اور اس کا نتیجہ آخرت میں حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں، وہ کبھی موت سے نہیں ڈرتے۔ ان آیات میں کہا گیا ہے کہ اگر واقعی تم تورات و انجیل پر پختہ ایمان رکھتے ہو، تو اپنی موجودہ پستی اور ذِلت کی حالت سے نکلنے کے لیے دشمنوں کے خلاف جہاد کرکے موت کو گلے لگاؤ۔

قُلۡ إِن كَانَتۡ لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةٗ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ ( کہہ دے کہ اگر ہے تمھارے واسطے آخرت کا گھر اللہ کے ہاں تنہا سوا اَ ور لوگوں کے ): یہود اپنے ایمان کے دعوے کی بنیاد پر کہا کرتے تھے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے لیے ہی جنت رکھی ہے۔ الٰہی تعلیمات کے حامل جب دین کی جامع تعلیمات پر پورے طور پر عمل نہیں کرتے تو ایسے ہی جھوٹے سچے دعوے کرکے اپنے لیے جنت ثابت کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے اُن کے اس دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے فرمایا:

فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ : (تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچ کہتے ہو) یہاں موت کی تمنا کرنے سے مراد دینی تعلیمات کے مطابق جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو آج تم جس ذلت اور رُسوائی کی زندگی بسر کر رہے ہو، اور مخالفوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہو تو اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرو اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوئے موت قبول کر لو اور جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اس لیے کہ جب کوئی آدمی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے تو اس کے لیے موت قبول کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ انسانیت دُشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور حق کے غلبے کے لیے موت قبول کرنا نہیں چاہتا تو گویا اسے اپنے دین کی حقانیت پر پختہ ایمان اور یقین نہیں ہے۔ اگلی آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے:

وَلَن يَتَمَنَّوۡهُ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ  (اور وہ ہرگز آرزو نہ کریں گے موت کی کبھی‘ بہ سبب ان گناہوں کے کہ بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ): وہ کبھی بھی اپنے خدا اور انسانیت دشمن اعمال کے سبب موت کا ایسا راستہ ہرگز اختیار نہیں کریں گے۔ وہ اپنے فکر و عمل میں تورات کی تعلیمات پر علمی کوتاہیوں اور بداعمالیوں کو خوب جانتے ہیں۔ انھوں نے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے ہوئے معاہدے توڑے ہیں، انبیا علیہم السلام کو قتل کیا ہے، دین کی تعلیمات کو اپنی ذاتی برتری اور گروہی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ اپنی ان بداعمالیوں کے نتائج سے بہ خوبی آگاہ ہیں۔ اس لیے وہ کبھی بھی جدوجہد کا راستہ اختیار کرکے موت کی تمنا نہیں کریں گے، بلکہ دین فروشی سے انھوں نے جو دولت کمائی ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ اس دنیا میں عیاشی کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے دنیا کی چند روزہ زندگی کی لذتوں اور خواہشوں کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی ہوئی ہے۔ حقیقت میں وہ بہت ظالم ہیں۔

وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ  (اور اللہ خوب جانتا ہے گناہ گاروں کو): اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے ظلم و ستم اور خرابیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کیسے انھوں نے دین کی تعلیمات کو پسِ پُشت ڈالتے ہوئے پہلے خود اپنے بنی اسرائیلی بھائیوں کو دشمنوں کے ہاتھوں گرفتار کروایا، پھر کیسے انھیں رہا کرانے کے لیے ’’فدیہ‘‘ کے نام پر پیسے جمع کیے۔ انھوں نے کیسے انسانیت کا خون بہایا اور دینی اجتماعیت کے بنیادی عُمرانی معاہدات کی خلاف ورزی کی۔ جیسا کہ اس سورت کی گزشتہ آیات 84 و 85 میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

وَلَتَجِدَنَّهُمۡ أَحۡرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٖ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۚ  (اور تُو دیکھے گا ان کو سب لوگوں سے زیادہ حریص زندگی پر اور زیادہ حریص مشرکوں سے بھی ): یہودی‘ موسوی تعلیمات پر عمل کے دعوے دار ہیں، حال آں کہ ہر ایک انسان جو اُن کے عملی کردار کا بہ خوبی مشاہدہ کرے تو اُسے وِجدانی طور پر اچھی طرح محسوس ہوجائے گا کہ یہود اور مشرکین تمام انسانیت سے زیادہ اس دنیا میں رہنے کے حریص اور لالچی ہیں۔

يَوَدُّ أَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ أَلۡفَ سَنَةٖ  (چاہتا ہے ایک ایک ان میں کا کہ عمر پاوے ہزار برس): ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ کاش اُس کی عمر ہزار سال ہوجائے، تاکہ وہ خوب عیاشیاں کریں اور دوسرے انسانوں کی توہین و تذلیل کرکے اپنی جاہ پرستی اور مفاد پرستی کی تسکین کرتے رہیں۔

وَمَا هُوَ بِمُزَحۡزِحِهِۦ مِنَ ٱلۡعَذَابِ أَن يُعَمَّرَۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ (اور نہیں اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا، اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں): اُن کا لمبی عمر پا لینا اللہ کے عذاب سے انھیں ہرگز نہیں بچا سکتا۔ اس لیے کہ انھوں نے جس قدر جرائم کیے ہیں، اللہ اور اُس کے رسول کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، انسانیت کو ستایا ہے، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں خوب جانتا ہے۔ یہ لوگ ضرور اُس کی گرفت میں آئیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تعلیماتِ الٰہیہ پر ایمان کا دعویٰ کرنے والی کسی بھی جماعت میں حق کے نظام کو غالب کرنے کا نظریہ نہ رہے، ان میں بزدلی اور کاہلی کا مرض پھیل جائے، وہ فرقہ وارانہ گروہیّتوں میں مبتلا ہوجائے اور ہر ایک فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر جنت کا مستحق اور دوسرے فرقے کو جہنم کا مستحق سمجھنے لگے تو انھیں دنیا اور آخرت کی ذلت سے کوئی نجات نہیں دلا سکتا۔ اُن کا ایمانی دعویٰ جھوٹا ہوتا ہے۔ اس طرح کے غلط نظریات رکھنے والے اور بدعملی کا شکار لوگ ظالموں اور غاصبوں کے خلاف جدوجہد اور کوشش نہیں کرتے اور دوسروں کی غلامی میں سیاسی اور معاشی ذلت میں مبتلا رہتے ہیں۔

2 / 3

یومِ عاشورہ اور آزادی کی اہمیت

یومِ عاشورہ اور آزادی کی اہمیت

عَنْ ابن عبّاسٍؓ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ، وَ الْیَہُوْدُ تَصُوْمُ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ فَسَأَلَھُمْ، فَقَالُوْا: ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِيْ ظَہَرَ فِیْہِ مُوْسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ۔ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ: ’’نَحْنُ أَوْلٰی بِمُوْسٰی مِنْھُمْ فَصُوْمُوْہُ‘‘۔ (الجامع الصّحیح للبُخاری، حدیث:4737)

(حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودی عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے تھے۔ نبی کریمﷺ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اس دن موسیٰ علیہ السلام نے فرعون پر غلبہ پایا تھا۔ آپؐ نے اس پر فرمایا کہ: ’’پھر ہم ان کے مقابلے میں موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں۔ مسلمانو! تم لوگ بھی اس دن روزہ رکھو‘‘۔)

زیرِ غور حدیث مبارک میں یومِ عاشورہ کے روزے کی فضیلت بیان کرنے کے ساتھ نبی ﷺ نے ایک اَور اہم بات کی طرف توجہ دِلائی، وہ یہ کہ بنی اسرائیل یومِ عاشورہ کو فرعون کی غلامی سے نجات کو بہ طورِ عید مناتے تھے اور شکرانے کا روزہ رکھتے تھے، جس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حقیقی وارث تو مَیں ہوں، لہٰذا اُن کو آزادی کی نعمت ملنے پر مَیں زیادہ حق دار ہوں کہ ربّ کے حضور اس پر شکر بجا لائوں۔

قوموں کی زندگی میں غلامی ہمیشہ بدترین لعنت قرار پائی ہے اور قوموں کی آزادی انبیائے کرام علیہم السلام کا ایک اہم مشن رہا ہے۔ قصصِ قرآن میں ایک اہم قصہ بنی اسرائیل کے اس دور کا ہے، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دور کے فرعون سے بنی اسرائیل کو آزادی دِلوائی تھی۔ نبوت ملنے کے بعد فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ’’بنی اسرائیل کو (آزاد کرکے) میرے ساتھ بھیج دو‘‘۔ (-7الاعراف: 105) یہی ذمہ داری رسول اکرمﷺ کی بھی تھی۔ چناں چہ رسول اللہ کی مختلف خصوصیات ذکر کرتے ہوئے قرآن حکیم بیان کرتا ہے کہ: ’’نبیؐ اپنی قوم پر پڑی ہوئی غلامی کی زنجیروں کو اُتارنے والے ہیں‘‘۔ (-7الاعراف: 105) نبی اکرمؐ کی جدوجہد اسی اُصول پر استوار رہی۔ نہ صرف عرب قوم، بلکہ پوری دنیا کی آزادی کے لیے رسولِ اکرمؐ نے رہنما اُصول متعین کیے اور عملی مثالیں قائم کیں۔

قرآن حکیم اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ ہماری قوم یا دنیا کی اقوام آج حقیقی آزادی سے کیوں محروم ہیں؟ وہ کس قسم کی غلامی کا شکار ہیں اور انھیں ان غلامی کی زنجیروں سے کیسے نجات دِلائی جاسکتی ہے۔ فرائض کی ادائیگی کے بعد سب سے اہم فریضہ قومی آزادی کا حصول ہوتا ہے، ورنہ غلامی کی وَجہ سے بہت سے شرعی اور دینی اعمال پر انسان عمل نہیں کرپاتا، یا وہ بے سود اور بے نتیجہ رہتے ہیں۔تمام انبیا علیہم السلام نے غلامی سے نجات حاصل کرنے اور حقیقی آزادی کے حصول کی جدوجہد کی ہے۔

3 / 3

حضرت حکیم بن حِزام قرشی اسدی رضی اللہ عنہٗ

حضرت حکیم بن حِزام قرشی اسدی رضی اللہ عنہٗ

حضرت حکیم بن حِزام قرشی اسدی رضی اللہ عنہٗ کی کنیت ’’ابو خالد مکی‘‘ ہے۔ فاختہ بنت زہیر آپؓ کی والدہ اور اُم المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپؓ کی پھوپھی ہیں۔ آپؓ حضرت زبیر بن عوامؓ کے چچا زاد بھائی تھے۔ آپؓ مکہ کے مشہور ’’واقعہ فیل‘‘ سے تیرہ سال پہلے کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔

حضرت حکیم بن حزامؓ رسول اللہﷺ سے شدید محبت رکھتے تھے۔ آپؓ فتح مکہ کے موقع پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور غزوۂ حُنَین میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور آپؐ نے اس موقع پر حضرت حکیمؓ کو 100 اونٹ دیے۔ انھوں نے مزید مطالبہ کیا تو آپؐ نے مزید عطا فرمائے، انھوں نے پھر مطالبہ کیا تو پھر آپؐ نے فرمایا کہ: ’’یہ مال بہ ظاہر شیریں ہے، جس نے اسے سخاوتِ نفس (دل کی سخاوت) سے لیا، اس میں برکت ہوگی اور جس نے اسے اِشرافِ نفس (نفس کے لالچ) سے لیا تو اس میں برکت نہ ہوگی، اور وہ شخص اس طرح ہوگا کہ کھائے گا، لیکن سیر نہیں ہوگا‘‘۔

اس پر حضرت حکیمؓ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپؐ کو نبیٔ برحق مبعوث فرمایا، میں آپؐ کے بعد کسی کے احسان کو قبول نہیں کروں گا‘‘۔ پھر انھوں نے آپؐ کے بعد کسی کے احسان کو قبول نہ کیا اور نہ ہی دورِ صدیقی و فاروقی میں کوئی وظیفہ قبول کیا۔ اس کے باوجود آپؓ صاحبِ ثروت لوگوں میں شامل رہے۔

حضرت حکیم بن حزامؓ بڑے سخی اور عقل مند تھے۔ آپؓ کے حق میں نبی کریمؐ نے دعا کی تھی کہ: ’’اے اللہ! تُو اس کے ساز و سامان میں برکت ڈال‘‘۔ جب بنو ہاشم اور بنوعبدالمطلب پر شعب ابی طالب میں خرید و فروخت اور باہمی نکاح کرنے پر پابندی تھی‘ آپؓ شام سے آنے والے تجارتی قافلے سے ملتے اور ان سے پورے کا پورا مال خرید لیتے، پھر اسے اونٹوں کی پُشت پر لاد کر کھانا و کپڑا آپ ﷺ کے اعزاز میں پہنچاتے تھے۔ حضرت حکیم بن حزامؓ یہ کام حضور ﷺ اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کی تکریم کی خاطر کرتے۔ آپؓ نے ہی حضرت زید بن حارثہؓ کو خریدا تھا اورآپؓ سے حضرت خدیجہؓ نے خرید کر آپ ﷺ کو ہدیہ کیا اور آپؐ نے ان کو آزاد کر دیا۔

آپؓ انسانی و قومی زندگی کے معاملات کے ماہرترین صاحب الرائے (درست رائے رکھنے والے) لوگوں میں سے تھے۔ آپؓ زمانۂ جاہلیت اور پھر زمانۂ اسلام دونوں میں قریش کے اَشراف اور ذی وجاہت لوگوں میں سے رہے ہیں۔ آپؓ نے جس قدر زمانۂ جاہلیت میں نیک کام کیے، اسی قدر اسلام میں بھی کیے۔ ایک دفعہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ: کیا اسلام لانے سے قبل کیے جانے والے نیک کام‘ اسلام لانے کے بعد بھی نفع بخش ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ: ’’ان کا ہی فائدہ ہوا کہ تم مسلمان ہو گئے ہو‘‘۔ آپؓ نے۵۴ہجری میں 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ( تاریخ ابن کثیر ج 4 ص 406 ، اسدالغابہ، طبری، الخصائص الکبریٰ)

شمارہ ختم

واپس