مکہ مکرمہ اور بیت اللہ الحرام ؛ انسانیت کا ماڈل شہری نظام

مکہ مکرمہ اور بیت اللہ الحرام ؛ انسانیت کا ماڈل شہری نظام
گزشتہ آیت (-2 البقرہ: 125) میں امامِ انسانیت حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی طرف سے ’’ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ‘‘ کی تعلیم و تربیت اور اُس کی نشر و اِشاعت کے لیے انسانیت کی ترقی کے مرکز ’’بیت اللہ الحرام‘‘ کا مقصد بیان کیا تھا۔
ان آیت (-2 البقرہ: 127-126) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُن دعاؤں کا ذکر ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس مرکزِ انسانیت کی سرزمین ’’مکہ مکرمہ‘‘ کے ماڈل شہری نظام اور ’’بیت اللہ الحرام‘‘ کی تعمیر و ترقی اور اس کی قبولیت کے لیے کی تھیں ۔
﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا ﴾ ( اور جب کہا ابراہیم نے: اے میرے ربّ! بنا اس کو شہر اَمن کا): حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سرزمین میں ایک ایسے شہری نظام کی دعا فرمائی کہ جس میں انسانیت کے لیے اَمن و اَمان قائم ہوا۔ اس دعا کی معنویت یہ ہے کہ ایک تو اس سرزمین کو ’’بلدًا‘‘ ایک شہری تمدن کی صورت بنا دیا جائے، جہاں ’’مثابۃ للناس‘‘دور دور سے لوگ آئیں اور اَمن و اَمان کے ساتھ اسے اپنا ٹھکانہ بنائیں ۔ اور دوسرے یہ کہ یہ شہری نظام ’’آمِنًا‘‘ ہر قسم کی بداَمنی اور خوف و دہشت سے پاک اور اَمن و اَمان کا حامِل ہو۔ یہ واقعی حقیقت ہے کہ شہری تمدن افراد کی قومی تہذیب و تشکیل سے وجود میں آتا ہے، اور ’’ارتفاقِ ثالث‘‘ سے متعلق تمام سیاسی، معاشی اور سماجی ضروریات انسانی رفاقت اور امن و امان کے ساتھ سرانجام پائیں ۔ دنیا بھر میں سیاسی نظام‘ اَمن و اَمان کے قانونی نظام ’’لاء اینڈ آرڈر‘‘ کے نفاذ سے قائم ہوتے ہیں ۔ گویا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توحیدِ الٰہی پر مبنی دینِ حنیفی کی اَساس پر انسانیت کی ترقی کا ایک ماڈل شہری نظام وجود میں لانے کی دعا کی ہے۔
﴿وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ﴾ ( اور روزی دے اس کے رہنے والوں کو میوے، جو کوئی ان میں سے ایمان لاوے اللہ پر اور قیامت کے دن پر): حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا دوسرا جز یہ ہے کہ اس شہری نظام میں اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو وافر مقدار میں رزق فراہم کر۔ کسی شہری نظام میں جہاں انسانیت کی جان، مال، عزت وآبرو کے تحفظ پر مبنی امن واَمان کا نظام قائم کرنا ضروری ہوتا ہے، وہیں اُس شہر میں بسنے والی آبادی کے لیے معاشی وسائل کی وافر فراہمی بھی ضروری ہوتی ہے۔ کوئی شہری تمدن انسانی معاشی احتیاجات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وافر رزق کی فراہمی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔
﴿قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴾ (فرمایا: اور جو کفر کریں ، اس کو بھی نفع پہنچاؤں گا تھوڑے دنوں ، پھر اس کو جبراً بلاؤں گا دوزخ کے عذاب میں ، اور وہ بُری جگہ ہے رہنے کی): حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا کے دوسرے جز میں کافروں کو شامل نہیں کیا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو ’’ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ‘‘ کو نہیں بھی مانتے اور اُس کے منکِر ہیں ، انھیں بھی دنیا میں تو زندہ رہنے کے لیے رزق کی فراہمی جاری رہے گی، تاکہ دعوتِ دینِ حنیفی کا سلسلہ جاری رہے۔ اور جو عقل مند اِنسان‘ اَمن واَمان اور معاشی خوش حالی پر مشتمل اس شہری تمدن اور اس دین کی انسان دوست تعلیمات کا مشاہدہ کریں تو وہ بت پرستی پر مبنی گمراہ ملتوں سے نجات حاصل کرکے ’’ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ‘‘ کے حلقہ بگوش ہوجائیں اور دُنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کریں ۔ البتہ وہ لوگ جو اِن تمام تر باتوں کو سمجھنے کے باوجود کفر پر اڑے رہے اور ظلم و زیادتی کے ماحول اور نظامِ زندگی کو قائم رکھا، انھیں ضرور جہنم میں گھسیٹ کر ڈال دیا جائے گا اور وہ جہنم بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ گویا کہ دنیا میں معاشی وسائل کی فراہمی بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب ہونا ضروری ہے۔
﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ﴾ (اور یاد کر جب اُٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسماعیل ): حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ مکرمہ میں اَمن و اَمان اور معاشی خوش حالی پر مبنی ترقی یافتہ شہری تمدن کی دعا اور اُس کے پختہ عزم اور ارادے کے ساتھ اس شہر کی پہلی عمارت ’’بیت اللہ الحرام‘‘ کی صورت میں تعمیر کی۔
تمام انسانیت کو بتلایا جا رہا ہے کہ وہ منظر یاد کرو جب امامِ انسانیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر بیت اللہ الحرام کی بنیادیں اُٹھائی تھیں اور اس شہری نظام کو قائم کرنے کے لیے اس مرکز کی تعمیر و تشکیل کی تھی۔ اس پس منظر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تمام اولاد؛ اسرائیلی اور اسماعیلی شاخوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تمھارے آباؤ اجداد کا اصل مرکز یہ ’’بیت اللہ الحرام‘‘ ہے۔
’’ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ‘‘ کی تمام تر ترقیات اور کامیابیاں اسی مرکز کی مرہونِ منت ہیں ۔ اور نہ صرف اس ملت کے، بلکہ تمام الٰہی تعلیمات کے حامِل انبیا علیہم السلام اور اُن کے حواری اور الہاماتِ الٰہیہ کے حامل افراد یہیں سے رہنمائی لیتے رہے ہیں اور دنیا بھر میں دینِ حنیفی کے پھیلاؤ کے لیے کام کرتے رہے ہیں ۔ اور جب بھی طبیعاتی تجربات اور علمِ نجوم پر مشتمل ملتِ صابئین کے حامل انسانیت دشمن لوگوں نے اُن کی بات ماننے سے انکار کردیا اور انھیں ایذائیں پہنچائیں تو زمانۂ قدیم سے ہی وہ انبیا علیہم السلام اسی سرزمین میں آکر یکسوئی سے اللہ کی عبادت کرتے رہے، حتیٰ کہ انھوں نے یہیں اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کی۔ یہ جگہ ہزاروں انبیاؑ کا مدفن رہی ہے۔ یوں اُن اولوالعزم انبیاؑ کی عقلی اور قلبی ہمتوں کا یہاں اجتماع رہا ہے اور عرشِ الٰہی کے نیچے فرشتوں کے مرکز ’’حظیرۃ القدس‘‘ کی توجہات بھی یہاں بغیر کسی اِنقطاع کے جاری رہی ہیں ۔
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾ (اور دعا کرتے تھے: اے پروردگار ہمارے! قبول کر ہم سے، بے شک تو ہی ہے سننے والا، جاننے والا): مکہ مکرمہ کے پُرامن شہری نظام اور خانۂ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اس کام کی قبولیت کی اُس ذاتِ الٰہی سے دعا کی، جو بہت زیادہ توجہ سے دعاؤں کو سننے والا اور اپنے دین کے پھیلاؤ کی قلبی عزم اور بلند نیتوں کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔
روزِ قیامت کے پانچ سوال

روزِ قیامت کے پانچ سوال
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ’’لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنَِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْئلَ عَنْ خَمْسٍ عَنْ عُمْرِہٖ فِیْمَا أَفْنَاہُ، وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْماَ أَبْلَاہٗ وَمَالِہٖ مِنْ أَیْنَ اِکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَا أَنْفَقَہٗ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ‘‘۔
(حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’نہ ہٹیں گے قدم کسی بندے کے‘ یہاں تک کہ پانچ چیزوں کے بارے میں اس سے پوچھ لیا جائے: 1۔ اپنی عمر کس میں فنا کی؟ 2۔ جوانی کو کن چیزوں میں ضائع کیا؟3۔ مال کہاں سے کمایا؟ 4۔ اور کس میں خرچ کیا؟ 5۔ اور علم پر کتنا عمل کیا۔) (سنن ترمذی،2416)
مغربی تہذیب کے غلبے کی وَجہ سے انسان شخصی آزادی میں غیرمعتدل آزادی کا قائل ہوگیا ہے۔ اس نے گمراہ کن سوچ کو جنم دیا اور ہر معاملے میں انسان کو بے لگام کردیا، حال آں کہ مہذب معاشروں میں انسان کو عمل کی آزادی ایک حد تک ہے۔
اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کے بیان کردہ نظامِ زندگی کے بنیادی اُمور میں یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں انسان کو پانچ سوالوں کے جواب لازماً دینا ہوں گے:
پہلا سوال: زندگی ایک امانت ہے، اسے کیسے بسر کیا؟ طرزِزندگی‘ اجتماعیت اور بنیادی انسانی اَوصاف و اَخلاقیات کے دائرے میں تھا، یا حیوانی خواہشات کے غلبے کے ساتھ زندگی گزاری؟ فطری ہدایات؛ شریعت کو عملی زندگی میں کس حدتک جگہ دی؟
دوسرا سوال: جسمانی طاقت اور جوانی کی صلاحیتیں بھی ایک امانت ہیں ، اس کا استعمال کس طرح کیا؟ جوانی کی نعمت کو کن مفید کاموں میں لگایا؟ اَخلاقی اور شرعی قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی جوانی کا بہتر استعمال کیا‘ یا خواہشاتِ نفس کی اتباع میں لگا دی؟ ملازمت میں اپنے انتظامی اختیارات کا درست استعمال کیا‘ یا غلط؟
تیسرا سوال: مال کی انسانی زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔ اس کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ وہ حلال طریقوں سے حاصل کیا یا حرام طریقوں سے؟ جائز حقوق کے ساتھ مال حاصل کیا‘ یا دوسروں کے حقوق پامال کیے اور مال سمیٹ لیا؟ اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے رشوت اور بھتہ خوری کے ساتھ ناجائز طور پر دولت جمع کی؟
چوتھا سوال: اس مال کو کہاں خرچ کیا؟ ذاتی ضروریات، ماں باپ، بیوی بچوں ، اعزہ و اقربا، ہمسائے، ضرورت مند لوگوں اور فلاحِ انسانیت کے کاموں میں توازن کے ساتھ خرچ کیا‘ یا فضول خرچی اور اِسراف کی عادت تھی اور حرام امور میں خرچ کیا؟
پانچواں سوال: جو علم و فہم اور شعور ملا‘ خود اس پر عمل کیا؟ یا صرف دوسروں کو تلقین اور وعظ و نصیحت کرتے رہے اور خود عمل کے کورے رہے اور خوداحتسابی پر دھیان نہیں دیا۔ علم کا حق یہ ہے کہ اس کو محفوظ رکھے، اس کو پھیلائے، اس پر خود عمل کرے اور زیرتربیت لوگوں کی اس پر تربیت کرے۔ مؤمن کا شرف اسی میں ہے کہ اللہ نے اس کو جو بھی نعمت دی ہے، وہ اس کا حق ادا کرے۔ زندگی، جوانی، مال اور علم کا حق ادا کرے۔
حضرت رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری اوسی رضی اللہ عنہ

حضرت رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری اوسی رضی اللہ عنہ
حضرت رفاعہؓ اصحابِ صفہ میں سے ہیں ۔ آپؓ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ بیعتِ عقبہ میں اپنے قبیلے کے سردار کی حیثیت سے حاضر ہوئے اور اپنے قبیلے کے نقیب مقرر ہوئے۔ ہجرتِ نبویؐ سے پہلے اکثر صحابہ کرامؓ نے مدینہ ہجرت کی۔ اکثریت نے قبا میں حضرت ابولبابہؓ کے ہاں ہی قیام کیا۔ غزوۂ بدر میں شرکت کے لیے رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے تو ایک اونٹ پر رسول اللہؐ، رفاعہؓ اورعلیؓ تینوں باری باری سوار ہوتے تھے، جب آپ ﷺ کی پیدل چلنے کی باری آتی تو دونوں آفر کرتے کہ آپ سوار رہیں تو آپؐ فرماتے: ’’تم دونوں طاقت میں مجھ سے زیادہ نہیں اور راہِ خدا کی مشقت کے اجر و ثواب کا مَیں بھی محتاج ہوں ‘‘۔
آپؐ نے حضرت رفاعہؓ کو مقامِ بدر سے مدینہ کا امیر بنا کر واپس لوٹا دیا اور بدر کے شرکا میں شمار کر کے اجر و ثواب اور مال غنیمت میں ان کا حصہ مقررکیا۔ غزوۂ بنو قینقاع اور سویق کے موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ نے انھیں مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ ان دو غزوات کے علاوہ تمام غزوات میں آپﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ بالخصوص بیعتِ رضوان اور فتح مکہ میں شریک رہے اور فتح مکہ کے وقت اپنے قبیلہ بنو عمرو بن عوف کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔ آپؓ کی قبولیتِ توبہ کا واقعہ بھی بڑا مشہور ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو مسجدِ نبویؐ کے ستون کے ساتھ باندھ دیا تھا، جس وقت یہود بنوقریظہ نے آپؓ سے مشورہ مانگا تھا کہ ہم سعد ابن معاذ کو فیصل تسلیم کریں یا نہ کریں ، آپ کی رائے کیا ہے؟ تو اس وقت گردن کی طرف اشارہ کر کے انھیں ان کے قتل کا بتایا تھا، اس پر انھیں توجہ ہوئی کہ انھوں نے رسول اللہؐ کی رائے کے خلاف رائے دی ہے اور اپنے آپ کو ستون سے باندھ دیا۔ کئی دنوں کے بعد آپؓ کی توبہ قبول ہوئی اور مسجدِ نبویؐ کے اندر ’’ریاض الجنت‘‘ میں آج بھی ایک ستون ’’استوانہ ابولبابہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سات دن کے بعد توبہ قبول ہوئی تو اُمِ سلمہؓ نے خوش خبری دی۔ انھوں نے قسم کھا لی کہ میں اپنے آپ کو نہ کھولوں گا جب تک خود نبی ﷺ اپنے دستِ مبارک سے میری رسی نہ کھولیں ۔ آپؐ تشریف لائے اور اپنے دستِ مبارک سے اس قیدی کو آزاد کر دیا۔ یہ دیکھ کر ابولبابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اس توبہ کی قبولیت کی خوشی میں اپنا علاقہ چھوڑنا چاہتاہوں اور اپنا سارا مال اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ کردینا چاہتا ہوں ۔
آپؐ نے فرمایا: ابولبابہ! ایک تہائی مال تمھارے لیے کافی ہے‘‘، یعنی ایک تہائی مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کر دومگر علاقہ چھوڑنے سے منع کر دیا۔ حضرت ابولبابہؓ نے اسلام کی اجتماعی جدو جہد میں جانی، مالی اور ہر قسم کی قربانیاں دیں اور اجتماعی معاملے میں خود احتسابی کا مظہر بنے اور اپنے دینی و اجتماعی کردار کو شعوری طور پر قائم رکھا۔ حضرت علیؓ کے عہدِ خلافت میں آپؓ کی وفات ہوئی۔ (نسائی، حاکم، الاستیعاب، اسد الغابہ،تاریخ ابن کثیر)
پاکستانی نظام کی خود مختاری سے محرومی؛ ایک نوشتۂ دیوار

پاکستانی نظام کی خود مختاری سے محرومی؛ ایک نوشتۂ دیوار
کسی بھی قوم کی آزادی صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اصل آزادی فیصلہ سازی کے عمل میں نظر آنی چاہیے۔ ایک حقیقی خودمختار قوم وہی کہلائے گی جس کے سیاسی، معاشی اورداخلہ و خارجہ اُمورکے فیصلے داخلی ترجیحات اور عوامی مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں ، نہ کہ بیرونی دباؤ اور بین الاقوامی قوتوں کی خوشنودی اور ایما پر۔
پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلیاں ‘ اس ملک کے قیام ہی سے بیرونی قوتوں کی منشا اور مفادات کے زیرِاثر رہی ہیں ۔ ماضی قریب میں پاکستان کے اندر رجیم چینج آپریشن‘ اس کی تازہ ترین مثال ہے، جس نے پاکستانی سیاست میں بیرونی مداخلت کے بیانیے کو أظہر مِن الشّمس کردیا ہے۔ اس مداخلت نے پاکستانی سیاست میں بیرونی مداخلت پر پڑے پردوں کو چاک کردیا ہے۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت پاکستانی سیاسی تاریخ کے ان مستور گوشوں سے بچہ بچہ واقف ہوچکا ہے۔
اب جب کہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ سوال مزید شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا پاکستان کا سیاسی نظام واقعی خود مختار ہے، یا محض عالمی طاقتوں کے اشاروں پر چلنے والا ایک بے اختیار ڈھانچہ۔پاکستان میں بیرونی طاقتوں کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ۔ ڈھونڈنے سے پاکستانی تاریخ میں کئی ایسی مثالیں مل جائیں گی، جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات‘ پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہوتے نظر آئیں گے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بیش تر سیاسی بحران انھی بیرونی مداخلتوں کے شاخسانے رہے ہیں ۔ ان مواقع پر ہمیشہ یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان میں فیصلہ کن قوت‘ عوامی رائے سے زیادہ عالمی مفادات اور ان کے تابع وہ اندرونی مقتدر حلقے ہیں جو بیرونی قوتوں کے اشارۂ اَبرُو کے منتظر رہتے ہیں ۔ اب اس طرح کے گٹھ جوڑ جمہور عوام کی نظروں میں کھٹکنے لگے ہیں اور وہ اسے ناپسند بھی کرتے ہیں ، بلکہ پاکستانی تاریخ کے لیڈروں کو ملنے والی عوامی مقبولیت کے پیچھے بیرونی مداخلت کے خلاف عوامی ردِ عمل ہمیشہ ایک اہم عامل رہا ہے۔
2018ء اور 2022ء میں پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام اور اُس کی برطرفی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے اوراس وقت کے وزرائے اعظم نے کھل کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کو امریکی مداخلت کے زیرِ اثر مقتدر طبقوں کے اثر و رُسوخ سے ہٹایا گیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ کوئی انوکھے واقعات نہ تھے اوربعد کے حالات نے ان کے ان دعوؤں کی تصدیق بھی کردی تھی، جس سے عوامی سطح پر یہ احساس مزید تقویت پکڑ گیا کہ پاکستان کی سیاست میں اصل فیصلے کہیں اَور ہوتے ہیں ۔
اب سابقہ واقعات کے برعکس امریکا میں انتخابات کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ واضح اکثریت سے صدر منتخب ہوکر اپنی حکومت بناچکے ہیں تو ادھر پاکستانی سیاست کے حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں ایک نئی دوڑ پیدا ہو رہی ہے، ایک طرف عمران خان کے حامیوں کی توقعات‘ یقین کا درجہ اختیار کرتی جا رہی ہیں کہ ٹرمپ اقتدار میں آچکے ہیں ، اب وہ پاکستان کی مقتدر قوتوں پر دباؤ ڈال کر ان کی رہائی یقینی بنائیں گے۔ دوسری طرف حکومت کے اپنے نمائندے واشنگٹن میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اگر یہ حالات درست ہیں تو اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستانی سیاست اپنی خود مختاری سے تہی دست‘ بین الاقوامی قوتوں کے رحم و کرم پر رہے گی۔بین الاقوامی تبدیلیاں صحرا میں پڑے خس و خا شاک کی طرح پاکستان کی پوزیشن کو الٹ پلٹ کرتی رہیں گی اور یہاں اقتدار کے اصل فیصلے بیرونی ایوانوں میں ہی ہوتے رہیں گے۔ کسی قوم کی اس سے زیادہ کیا ہتک ہوسکتی ہے کہ ان کے فیصلے کسی اَور سر زمین سے ہوتے ہوں اور مقامی سیٹ اپ کے پاس سرِتسلیم‘ خم کیے بغیر کوئی چارہ بھی نہ ہو۔
یہ صورتِ حال نہ صرف پاکستان کے سیاسی نظام پر سوالیہ نشان ہے، بلکہ ہمارے قومی تشخص کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ اگر کسی قوم کے اندرونی معاملات کا انحصار بیرونی عناصر کی مرضی و منشا پر ہو تو ایسی ریاست‘ عملی طور پر نہ صرف خودمختار نہیں ہوتی، بلکہ وہ بین الاقوامی بساط پر محض ایک مہرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ بیرونی مداخلتوں کا بوجھ اُٹھانے والے نظام کے کندھے اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ اس میں بسنے والی قوم میں نہ صرف کبھی خوداعتمادی پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہ قومی وقار سے بھی محروم رہتی ہے۔ جب بیرونی طاقتیں حکومتوں کی تشکیل و تحلیل میں اپنا حصہ وصول کرتی ہیں تو ایسے معاشروں میں قومی جمہوری ادارے کبھی بھی مضبوط نہیں ہو پاتے اور عوام کی رائے ثانوی حیثیت سے بھی نیچے گرتی چلی جاتی ہے، جس سے ملک میں سیاسی عدمِ استحکام جنم لیتا ہے اور سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بھی ملک معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔
جب حکومتیں بیرونی اثر و رسوخ کے تحت تبدیل ہونے لگیں تو پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا، جس سے معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اگر کسی ملک کے داخلی فیصلوں میں بیرونی دباؤ جڑ پکڑ جائے تو اس کی خارجہ پالیسی بھی آزاد نہیں رہتی اور وہ محض عالمی طاقتوں کے سیاسی، معاشی اور تزویراتی مفادات کا آلۂ کار بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایک خودمختار قوم کے طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے، یا ہمیشہ عالمی طاقتوں کے مہرے کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا۔
اگر رجیم چینج آپریشنز کی طرح اب کے بھی بین الاقوامی کروٹ سے پاکستان متأثر ہوتا ہے اور عالمی استعماری طاقتوں کی سیاسی خواہشات پاکستانی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں تو یہ ہماری ریاست اور سیاست کے لیے کوئی نیک شگون نہ ہوگا، بلکہ تبدیلی کا یہ بھونڈا طریقۂ کار‘ جمہوریت کے ساتھ ساتھ قومی خودمختاری کے لیے بھی ایک دائمی خطرہ ثابت ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر اگر غیر جانب دارانہ نظر ڈالی جائے تو ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ ہمارے اجتماعی قومی فیصلوں پر بیرونی مداخلت کی گہری پرچھائیاں موجود ہیں ، جن کا انکار اب ممکن نہیں ۔
پاکستان میں انتخابات کے نتائج سے لے کرحکومتوں کی تشکیل و تحلیل اور فیصلہ سازی کے اہم مراحل میں غیر ملکی اثر و رسوخ ایک ناقابلِ انکار حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں قومی آزادی اور حریت کے حوالے سے ایسی شعوری سیاسی بیداری پیدا کی جائے جس کے باعث وہ اپنے ملک کی سیاسی تاریخ پر موجود پرچھائیں ختم کرکے اپنی قومی خودی، سیاسی وقار اور جمہوری آزادی کو محض وقتی مفادات کے لیے قربان کرنے کے بجائے ایک خودمختار، مضبوط اور آزاد سیاسی نظام تشکیل دینے کی جدوجہد کو یقینی بناسکے، جو کسی بیرونی طاقت کے دباؤ کے بغیر عوامی رائے کے مطابق فیصلے کر سکے۔ یہی ایک خوددار اور آزاد قوم کی پہچان ہے۔
تینوں لطائف کے تجرباتی دلائل اور عقل مندوں کا اتفاق

تینوں لطائف کے تجرباتی دلائل اور عقل مندوں کا اتفاق
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
(’’عقل‘‘ اور ’’قلب‘‘ و ’’نفس‘‘ کے حوالے سے چوتھی قسم)
’’چوتھا آدمی وہ ہے، جس پر اپنے قومی نظام کے غلبے کی سوچ ہو اور مرتبہ چاہتا ہو،۔اور اپنی ذات سے قومی عار اور ذِلت کی نفی کی خواہش رکھتا ہو تو وہ ان مقاصد کے لیے اپنے غصے کو پی لیتا ہے اور لوگوں کے بُرا بھلا کہنے کی تلخی پر صبر کرتا ہے۔ باوجود یہ کہ اُس میں قوتِ غضب اور شدتِ جرأت موجود ہوتی ہے۔ نیز وہ اپنی طبعی قوت وصحت کے باوجود اپنی شہوات اور لذات کو بھی چھوڑ دیتا ہے، اس لیے کہ:
٭ اُس کے بارے میں کوئی غیرپسندیدہ بات نہ کہی جائے،
٭ کسی بُری چیز کی طرف اُس کی نسبت نہ کی جائے،
٭ یا یہ کہ وہ جس جاہ اور رِفعت کا طالب ہے، وہ اُسے مل جائے۔
(تینوں طرح کے انسانوں کی مشابہت)
پہلا شخص (جو ’’قلب‘‘ کو ’’نفس‘‘ پر غالب رکھنے والا ہے) درندوں سے مشابہت رکھتا ہے (’’نفس‘‘ کی لذتوں کو چھوڑ کر ’’قلب‘‘ میں سمائی ہوئی ہر بات کو پورا کرتا ہے)۔
دوسرا شخص (’’نفس‘‘ کو ’قلب‘‘ پر غالب رکھنے والا) جانوروں سے مشابہت رکھتا ہے (’’قلب‘‘ کی کوئی بات نہ سنے اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے میں لگا رہے)۔
تیسرا شخص (’’عقل‘‘ کو ’’نفس‘‘ اور ’’قلب‘‘ پر غالب رکھنے والا) فرشتوں سے مشابہت رکھتا ہے (عقل و شعور کو پیش نظر رکھنے والا فرشتوں کی طرح ہوتا ہے)۔
اور چوتھا (قومی نظام کے غلبے کے لیے غصہ پینے والے) آدمی کے بارے میں کہا جائے گاکہ وہ بڑی مروّت اور بلند ہمتوں والا آدمی ہے۔
(دو یا تین لطائف کا غلبہ رکھنے والے افراد)
پھر عام لوگوں میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں ، جن میں (عقل، قلب، نفس) اِکٹھی دو قوتیں (لطائف) تیسری قوت (لطیفے) پر غالب ہوتی ہیں ۔ ایسے افراد کا معاملہ اُن لطائف کے مطابق ایک دوسرے سے متشابہ ہوتا ہے۔ کبھی اُس پر ایک لطیفے کے اثرات ہوتے ہیں اور کبھی دوسرے لطیفے کے اُس پر اثرات ظاہر ہوتے ہیں ۔
پس جب کوئی صاحبِ بصیرت آدمی پوری بصیرت کے ساتھ انسانی افراد کے احوال و کیفیات اور اُن کے اظہارات وتعبیرات کو منضبط کرے تو اس تجربے سے اُسے ماننا پڑے گا کہ انسانوں میں یہ تین لطائف (نفس، قلب اور عقل) ثابت شدہ ہیں ۔
(تینوں لطائف کے ثبوت پر عقل مندوں کا اتفاق ہے)
جہاں تک ان تینوں لطائف پر عقل مندوں کے اتفاق کا معاملہ ہے تو جاننا چاہیے کہ تمام ملتوں اور فرقوں میں سے جو لوگ اپنے ’’نفسِ ناطقہ‘‘ کی تہذیب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، اُن کا ان تینوں لطائف کے ثبوت پر اتفاق ہے۔یا ایسے ’’احوال‘‘ اور ’’مقامات‘‘ کے بیان پر اُن کا اتفاق ہے، جن کا تعلق ان تینوں لطائف کے ساتھ ہے۔
(1۔ ان تین لطائف پر فلسفیوں کا اتفاق)
پس فلسفی لوگوں نے ’’حکمتِ عملیہ‘‘ میں ان تینوں لطائف کے یہ نام رکھتے ہیں :
’’نفسِ مَلَکی‘‘ (فرشتہ صفت نفس) ’’نفسِ سبعی‘‘ (درندہ صفت نفس)
’’نفسِ بہیمی‘‘ (جانور صفت نفس)
(تحقیقی بات یہ ہے کہ) انھوں نے ان کے یہ نام رکھنے میں کچھ چیزوں کو نظرانداز کیا ہے۔ وہ ’’عقل‘‘ کو ’’نفسِ مَلَکی‘‘ کہتے ہیں ، حال آں کہ اُن کا یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ ’’نفسِ مَلَکی‘‘ تہذیبِ نفس کے بعد وجود میں آتا ہے۔ مناسب یہ ہے کہ انسانیت کے افضل ترین حصے کی وجہ سے ’’عقل‘‘ کا نام ’’نفسِ انسانی‘ ‘ رکھا جائے۔ نیز انھوں نے ’’قلب‘‘ کا نام اُس کے مشہور اَوصاف میں سے ایک کو سامنے رکھ کر ’’نفسِ سبعی‘‘ رکھا ہے( اس طرح یہ نام مکمل طور پر ان لطائف کی معنویت واضح نہیں کرتے، بلکہ ان ناموں سے اُن کے جزوی پہلو سامنے آتے ہیں )۔
((2۔ ان تین لطائف پر صوفیا کی جماعتوں کا اتفاق)
صوفیا کی مختلف جماعتوں نے بھی ان تینوں لطائف کا ذکر کیا ہے اور انھوں نے ان میں سے ہر ایک کو مہذب بنانے کی طرف توجہ کی ہے، مگر یہ کہ انھوں نے ان تین لطائف کے ساتھ دو مزید لطیفوں کو بھی ثابت کیا ہے اور ان دونوں لطیفوں کو مہذب بنانے کا بڑا اہتمام کیا ہے۔ وہ دو لطیفے ’’رُوح‘‘ اور ’’سِرّ‘‘ ہیں ۔
ان دونوں لطیفوں کے بارے میں تحقیقی بات یہ کہ ’’قلب‘‘ کے دو رُخ ہیں : ایک رُخ انسانی بدن اور اُس کے اعضا کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، جب کہ دوسرا رُخ ماورائے مادہ اور ذاتِ عالیہ کی طرف میلان رکھتا ہے۔ اسی طرح عقل کے بھی دو رُخ ہیں : ایک رُخ بدن اور انسانی حواس کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، جب کہ دوسرا رُخ ماورائے مادہ اور ذاتِ عالیہ کی طرف میلان رکھتا ہے۔ پس صوفیا نے ان دونوں لطائف کے وہ رُخ جو نیچے کی جانب ہیں ، ان کا نام ’’قلب‘‘ اور ’’عقل‘‘ رکھا ہے۔ اور ان دونوں کے وہ رُخ جو ماورائے مادہ اور بلندی کی طرف ہیں ، ان کا نام ’’روح‘‘ اور ’’سِرّ‘‘ رکھا ہے۔
پس ’’قلب‘‘ کی صفت‘ عبادات پر اُبھارنے والا شوق اور وجد پیدا کرنا ہے۔ ’’رُوح‘‘ کی صفت‘ اللہ تعالیٰ سے اُنس اور اُس کی طرف کشش رکھنا ہے۔ ’’عقل‘‘ کی صفت ایسا یقین ہے کہ انسان علومِ عادیہ کے ماخذ میں سے اَخذ کرکے قرب حاصل کرسکے۔ جیسے ’’ایمان بالغیب‘‘ اور ’’توحیدِ اَفعالی‘‘۔ اور ’’سِرّ‘‘ کی صفت علومِ عادیہ سے ہٹ کر تجلیات کے شہود کا ظہور ہے۔ اور وہ دراصل اُس ماورائے مادہ کائنات کی کچھ حکایت ہے کہ جہاں نہ کوئی زمان ہے، نہ مکان اور جسے کسی وصف سے بیان نہیں کیا جاسکتا، اور نہ ہی اُس کی طرف کسی چیز سے اشارہ کیا جاسکتا ہے۔
(شریعت کا مقصد؛ مجموعی طور پر نوعِ انسانیت کا معیار قائم کرنا)
شریعت کا مقصد اجتماعی طور پر ’’نوعِ انسانیت‘‘ کے میزان اور معیار کو قائم کرناہے، نہ کہ مخصوص افراد کی خصوصیات کو زیرِ بحث لانا، اس لیے شریعت ان دونوں لطیفوں (قلب اور عقل) کی تفصیلات سے زیادہ بحث نہیں کرتی۔ اور اِجمال کے پردے میں شریعت نے اس طرح کی مباحث کو چھوڑ دیا۔ باقی تمام ملتوں اور فرقوں کے نزدیک بھی ان باتوں کا علم موجود ہے، جسے استقرا (لوگوں کے حالات جمع کرکے اُن کا تجزیہ کرنے) سے کچھ ذہانت استعمال کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ (ابواب الاحسان، باب: 4، المقامات والاحوال)
نبویؐ منہج کے مطابق نظامِ حکومت

نبویؐ منہج کے مطابق نظامِ حکومت
ہم نے گزشتہ اقساط میں تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ واضح کیا تھا کہ خلافتِ راشدہ، خلافتِ اُمویہ اور خلافتِ عباسیہ کے ادوار میں ایک ہی نظام تھا۔ مجموعی طور پر اسلامی نظامِ حکومت تھا۔ یہ ادوار انتہائی خیروبرکت کے ادوار تھے، جن میں امن و امان کا قیام، غیرمسلموں کے حقوق کی نگہداشت، اسلام اور مسلمانوں کے حقوق و عزت و ناموس کی حفاظت، اسلامی شان و شوکت کا ظہور، علوم کی ترویج واشاعت، خصوصاً سائنسی علوم میں نئی نئی دریافتیں اور ایجادات، دینی علوم میں احادیثِ رسولؐ کی جمع وتدوینِ فقہ، فتوحات کی کثرت، ان تمام محاسن وبرکات کا ظہور انھی ادوار میں ہوا، جن کا اجمالی تذکرہ ہم ’’اسلامی دور کی ناقابلِ فراموش شخصیات‘‘ کے عنوان کے تحت کرچکے ہیں ۔ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسلام کا نظامِ حکومت ایک ہزار سال سے کچھ زائد عرصے تک اپنی پوری تابانی ودرخشانی کے ساتھ عملاً قائم و دائم رہا۔
انگریز کی غلامی کے زمانے میں قائم یہ تصور کہ اسلامی نظام بس تیس سال تک قائم رہا، پھر ملوکیت کا آغاز ہوگیا، یہ مؤقف دشمنوں کا پھیلایا ہوا ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ بنواُمیہ اور بنوعباس کے ادوارِ حکومت میں لوگوں میں مذہبی جوش وجذبہ موجود تھا۔ قرآن و سنت کے علاوہ کوئی قانون وفرمان ان کے لیے واجب التعمیل نہ تھا۔ خلیفہ اہم اُمور میں اربابِ حل و عقد سے مشاورت کرتے تھے۔
خصوصاً بنواُمیہ کے دور میں حکمرانوں میں سادگی تھی۔ ایک عام آدمی کی بھی خلیفہ تک رسائی ممکن تھی۔ اس بدوی کی طلاقتِ لسانی کو خلیفہ کا رُعب کم نہیں کرسکتا تھا۔ خلیفہ جس طرح عالم اسلام کا فرماں روا ہوتا، اسی طرح وہ عالمِ اسلام کا سپہ سالارِ اعظم بھی ہوتا، بلکہ وہ مذہبی پیشوا اور نمازوں کا امام بھی ہوتا۔ گویا امامتِ صغریٰ اور امامتِ کبریٰ ایک خلیفہ کی ذات میں جمع تھی، البتہ جب کبھی کسی دینی مسئلے میں رہنمائی کی ضرورت ہوتی تو وہ علما وفقہا سے دریافت کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتا۔
خلافت کے زیرِانتظام صوبوں میں عامل (گورنر) مقرر کیے جاتے اور دربارِ خلافت سے قاضی بھی مقرر ہوتے۔ گورنر کا کام ملک میں امن وامان قائم کرنا، ملکی سرحدات کی حفاظت کے لیے بروقت تیار رہنا، رعایا کے حقوق کی نگہداشت کرنا اور ملکی محاصل وصول کرنا اور انھیں صحیح مصارِف پر خرچ کرنا ہوتا تھا، جب کہ قاضی کا کام لوگوں کے باہمی جھگڑوں کو نمٹانا ہوتا تھا۔ غرض یہ کہ بنواُمیہ اور بنوعباس کی حکمرانی میں رعایا عدل و انصاف کی وجہ سے خوش حال وفارغ البال تھی۔ عام رعایا پر کسی طرح کا نامناسب ٹیکس نہیں تھا۔ یہی خوبیاں ، محاسن اور خصوصیات‘ اسلامی نظامِ حکومت کی ہوتی ہیں ۔
اب ہم اگلی اقساط میں خلافتِ عثمانیہ کے دور کے چیدہ چیدہ واقعات اور اس دور کے مشاہیر کا ذکر کریں گے۔ ان شاء اللہ۔
متوازی افسر شاہی

متوازی افسر شاہی
ورلڈ بینک اور حکومتِ پاکستان کا اشتراکِ عمل برائے صحت، تعلیم، روزگار، ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی ترقی کا فریم ورک اگلے دس سال کے لیے طے پایا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جو پاکستان کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ اس کے تحت پاکستان کو سال 2026ء تا 2035ء بیس ارب ڈالر سستے قرضوں اور گرانٹس کی شکل میں دیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ: ’’مذکورہ شعبوں پر ایسا اشتراکِ عمل دس سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا‘‘۔ تفصیلات کے مطابق بچوں کی نشوونما، صاف پانی کی فراہمی، رہائشی علاقوں کی صفائی، معیاری غذا اور خاندانی منصوبہ بندی صرف صحت کے شعبے سے متعلق مجوزہ اقدامات ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ: ’’آئی ایم ایف پوری قوم کی ناک سے لکیریں نکلوا رہا ہے‘‘۔ یہ دو بیان بے بسی کی ایک تصویر ہیں اور ہمارے عوامی نمائندے کی ایک نہیں چل رہی، جہاں نہ ہی ورلڈ بینک دس سال پہلے آیا اور نہ ہی آئی ایم ایف نے ہاتھ ہولا رکھا۔ اس پہلو سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آئی ایم ایف کی قیادت میں پاکستانیوں نے جس غربت اور تباہی کا سامنا کیا ہے، وہ تاریخی ہے اور بہت واضح ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ایسے ہی ہیں جیسے دو بہنیں ہوتی ہیں ۔ ایک ہماری غربت ، صحت اور بقا کے لیے گھلی جارہی ہے اور قرضے دینے کے لیے تیار ہے اور دوسری اس تباہی کی ذمہ دار بھی ہے۔
اگر سب ان عالمی مالیاتی اداروں نے ہی کرنا ہے تو حکومت اور اس کے کارندے کس لیے بیٹھے ہیں ؟ ان پر تو نااہلی کی مہر خود یہ ادارے متعدد بار لگا چکے ہیں ، لیکن انھیں استحکام دینے کے لیے ہم غریب پاکستانیوں کے بہانے رقوم دیتے رہتے ہیں ، لیکن خوب ڈانٹ پلانے کے بعد۔ چناں چہ عالمی مقتدرہ کے ایجنڈے پر پاکستان جیسے ممالک کے ادارے اور ان کے نظام وضع کیے جاتے ہیں اور کہیں یہ نظام‘ قومی تقاضوں پر نہ بننے پائیں تو اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے ممالک میں ایک متوازی افسر شاہی کھڑی کرلی جاتی ہے، جو ایک مربوط اور مستحکم بجٹ کے نظام کے تحت ایسی رقوم کو خرچ کرتی رہتی ہے۔ دوسری جانب ملکی اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہونے دیا جاتا۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ صلاحیت کی مالک مقامی افسر شاہی کو ان مالیاتی اداروں کے مقامی دفاتر میں مہنگے داموں دورانِ ملازمت یا ریٹائرمنٹ کے بعدرکھ لیا جاتا ہے۔ یوں سسٹم میں رسائی بھی رہتی ہے اور ہماری جاہل مقتدرہ بھی قابو میں رہتی ہے اور قرض وامداد کا پیسہ ایک مربوط نظام کے تحت واپس چلا جاتا ہے، یا ایسے افراد تیار کردیتا ہے جو اس چکر کو جاری و ساری رکھ سکیں ۔ یعنی بیمار، جاہل اور غریب پیدا ہوتے رہیں ، قدرتی آفات آتی رہیں اور پھر ان بیماروں ، جاہلوں اور غریبوں کی ’’خدمتِ خلق‘‘ کے نام پر قرضوں کا کاروبار بھی جاری وساری رہے۔
مشرقِ وسطی کاسلگتا مسئلۂ فلسطین

مشرقِ وسطی کاسلگتا مسئلۂ فلسطین
کشمکشِ حیات‘ کائنات کی روح ہے۔ مثبت اور منفی قوتوں کا ٹکراؤ، ارتقائی طریقۂ کار کے مطابق جاری رہتا ہے۔ ایک قوت حتی المقدور اپنے تغلُّب کو دوام بخشنے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ مدمقابل قوت‘ پہلی کے کوتاہی برتنے پر بروقت اقدام کرکے سبقت حاصل کرلیتی ہے۔ کائنات ایک مرکز سے جڑی ہوئی ہے، جو ایک خاص ترتیب کے مطابق اسے تبدیلیوں سے ہم کنار کرتا رہتا ہے۔ ان تبدیلوں کا مرکز و محور کائنات کا بنیادی ذرہ قرار دیا جاتا ہے۔ ذرے سے تشکیل کردہ ہر وجود اسی سے تحریک پکڑتا ہے۔ کائنات میں کسی مخلوق کو دوام حاصل نہیں ہے۔ ذرّے سے تشکیل پانے والی ہر شکل‘ ایک خاص عرصے تک قائم رہتی ہے۔ اس کے بعد تحلیل ہو نا شروع ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ کسی نئی شکل نے اس کی جگہ ضرور لینی ہوتی ہے۔ جس طرح ہر ذی روح نے موت کو چکھنا ہے، اسی طرح ہر مادی وجود نے اپنی ماہیت تبدیل کرنا ہوتی ہے۔ کائنات میں تبدیلی کا یہ عمل ہر لحظہ جاری و ساری ہے۔
پچھلے 75 سالوں میں قوت کے ایک مرکز نے اپنے غلبے کے عہد میں سماج کو سائنسی ترقیات سے ہم کنار کیا، لیکن ان کے لیے انسانیت کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ ملکوں کے سماجی ڈھانچے کی تباہی اور انسانیت کا بہیمانہ قتلِ عام اس کے علاوہ تھا۔ ایسی طاقتوں کا مرکز‘ مشرقِ وسطیٰ کا ملک‘ اسرائیل تھا۔ اپنے سرپرستوں کی آشیر باد سے یہ مرکز‘ بلا شرکتِ غیرے دہشت گردی پھیلاتا رہا۔ کوئی اس کے راستے کا پتھر یا آہنی دیوار ثابت نہ ہوسکا۔ دنیا کی سامراجی طاقتوں کے زیرِ اثر جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہونے کے باعث کسی کی بھی دسترس سے باہر تھا، جس کا بھرپور استعمال کرتا رہا۔ کائنات کی روح کے مطابق گروہی مفادات کی ایک حد ہوتی ہے، جس کے عبور کرنے پر ردِعمل آتا ہے۔ شروع میں انتہائی معمولی ہوتا ہے، پھر دھیرے دھیرے زور پکڑتا ہے، حتیٰ کہ بھونچال بن کر سامنے آتا ہے۔ سب کچھ تباہ و برباد کردیتا ہے۔
حد عبور کرنے کی عملی شکل اعلیٰ ٹیکنالوجی کا وجود میں آنا ہے۔ طاقت، طاقت ور سے شکست کھاتی ہے۔ مدِمقابل قوت محض جواب ہی نہیں دیتی، بلکہ بہتر ٹیکنالوجی اور بہترین حکمتِ عملی کا مظاہرہ بھی کرتی ہے۔ غلبے کی حامل قوت کو جب یقین ہو جاتا ہے کہ اب طاقت کا مقابلہ مروّجہ اسلحے کی مدد سے نہیں کیا جاسکتا،میدانِ جنگ کی نوعیت تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے۔ دنیا کو تأثر دیا جا تا ہے کہ اب مسئلہ ہارجیت کا نہیں ، بلکہ ان انسانی جانوں کا ہے، جو گزشتہ عرصے میں بے دریغ طریقے سے قتل کی جار ہی ہیں ۔ بازی پلٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس سے نہ صرف شکست سے بچاؤ ممکن ہو، بلکہ فاتح کی حیثیت بھی برقرار رہے۔
چناں چہ اسی حکمتِ عملی کے تحت قطر کے دارلحکومت دوحہ میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15؍ جنوری 2025ء کو طے پاگیا، جس کے تحت یرغمالوں کی رہائی پر اتفاق ہوگیا۔ معاہدے کے نمایاں پہلوں درجِ ذیل سامنے آئے ہیں :
o معاہدے پر عمل درآمد 19؍ جنوری 2025ء بروز اتوار سے شروع ہوگا۔
o معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر لڑائی میں چھ ہفتے کا وقت ہوگا۔
o عرصۂ جنگ بندی کے دوران مکمل جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
o مقررہ کردہ چھ ہفتوں کے دوران تقریباً ایک سو 100 یرغمالوں میں سے 33 رہا کیے جائیں گے۔
o اسرائیل‘ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔
o امریکا، مصر اور قطر نے مذاکرات کی کئی ماہ تک ثالثی کے فرائض سرانجام دیے۔
غزہ میں جاری تباہ کن جنگ عارضی طور پر آخرکار خاتمے کو پہنچ گئی۔ 7؍ اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حماس کے حملوں میں یرغمال بنائے گے افراد رہا ہوجائیں گے۔ امریکا کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن قانون سازوں نے بد ھ 14؍ جنوری 2025ء کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی _ جس کی سربراہی میں مذاکرات ہوئے _ نے بدھ کو اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیاں طے پانے والے معاہدے پرعمل درآمد 19؍ جنوری 2025ء سے شروع ہوگا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے معاہدے کی تفصیلات کی تصدیق کرنے کے علاوہ اس کی حتمی شکل کی بھی منطوری دے دی ہے۔
امریکا کے مدِمقابل اُبھرتی ہوئی طاقتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کیوں کہ امریکی مقتدرہ نے دنیا میں ا پنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے نیا اسٹیٹ ایکٹر میدان میں اُتارا ہے۔ ایشیا پیسفک قوتوں نے نئی دنیا کی تشکیل کا جو تصور متعارف کروایا تھا، امریکا اپنی عالمی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیا۔ سرمایہ دار کی اصل طاقت سرمایہ ہے، جس کی آج شکل‘ ڈالر ہے۔ عالمی تجارت‘ ڈالر کے بغیر امریکی سرمایہ کی موت کے مترادف ہے۔ روس نے اسے حریف ریاست کا ہی درجہ دیا ہے۔ درجہ بندی کے اعتبار سے روس امریکا تعلقات انتہائی پست سطح پر ہیں ۔ یوکرین جنگ بھی وقتی طور پر ماند پڑگئی ہے، البتہ پائیدار امریکی اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد تعلقات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ چین نے مستقبل میں ساتھ مل کر کام کرنے کے سابقہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے چین کے دورے کا بھی عندیہ دیا ہے، البتہ فلسطینی ریاست کے سربراہ محمود عباس نے دو رِیاستی حل کے تصور کی توقع کی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے ہوئے دیرینہ مسئلے کی شدت کو جنگ بندی کے ذریعے ٹھندا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئے اسٹیٹ ایکٹر کے ذریعے امریکا اپنی عالمی ساکھ کو بچانے کی کوشش کرے گا۔پون صدی سے خون آلودہ اور داغ دار مریکی چہرے کو کاسمیٹک سرجری کے ذریعے خوش نما بنانے کی ایک کوشش ہے۔
صدیوں کے کردار سے واضح ہونے والے چہرے‘ لمحوں میں تبدیل نہیں ہوتے۔ تبدیلی،بنیادی کردار کے بدلنے سے آتی ہے۔ چہرے بدلنے سے محض مفادات کے حاملین تبدیل ہوتے ہیں ۔ لہٰذا عالمی امن، معاشی خوش حالی اور عدل و انصاف کا قیام‘ بنیادی سوچ کی تبدیلی کے بغیر ناممکن ہے۔ جس کا اپنا طے شدہ انسان دوست فکر و فلسفہ اور ایک خاص طریقۂ کار ہے۔
قرآن حکیم میں معاشرتی مسائل کا تجزیاتی اُسلوب اور علم و شعور کی نعمت کا تجزیہ

قرآن حکیم میں معاشرتی مسائل کا تجزیاتی اُسلوب اور علم و شعور کی نعمت کا تجزیہ
17؍ جنوری 2025ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہورمیں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! کتابِ مقدس قرآن حکیم انسانی معاشروں کا تجزیہ کرکے اُن میں پیدا ہونے والی خرابیوں ، فساد پیدا کرنے کی وجوہات واقدار، ترقی اور عروج کے لوازمات اور تقاضوں کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ اُن جماعتوں ، پارٹیوں ، گروہوں کا قرآن حکیم تجزیہ کرتا ہے، جو انسانیت دشمنی اور فساد کا کردار ادا کرتے ہیں اور انعام یافتہ جماعتوں کا تذکرہ بھی کرتا ہے جنھوں نے انسانیت میں سلامتی، امن، دنیا اور آخرت میں ترقی اور کامیابی کی راہیں متعین کی ہیں ۔یہ اس لیے تاکہ انسان‘ پوری انسانی تاریخ کا مطالعہ کرکے فسادی جماعتوں سے بچے، اور انعام یافتہ جماعتوں سے وابستہ ہو، جنھوں نے دنیا میں امن و سلامتی کا نظام قائم کیا ہے اور اپنی آخرت بھی سنواری ہے۔
خطبے میں تلات کی گئی آیتِ قرآنی ’’یہود کہتے ہیں : اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ (-5 المائدہ: 64) میں قرآن حکیم نے غضبِ الٰہی اور لعنت کی مستحق جماعت یہودیوں کا خاص طور پر تذکرہ کیا ہے۔ اور جو اُن کے نقشِ قدم پر چلیں - عیسائی ہوں یا مسلمان - کا اس ضمن میں تذکرہ کیا گیا ہے کہ جو بھی ان کے رویے اپنائے گا، وہ بھی لعنت والی جماعت میں شامل ہوگیا۔ یہودیت‘ اولادِ یعقوبؑ (بنی اسرائیل) کی وہ شاخ ہے جو تورات کے احکاماتِ الٰہی کو مسخ کرنے کی بدولت غضبِ الٰہی کی مستحق بنی۔
اللہ تعالیٰ نے ان بنی اسرائیل کو بہت سے انعامات سے نوازا تھا۔ کسی قوم کی ترقی کے لیے اعلیٰ علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اعلیٰ علم کے لیے اعلیٰ عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل اوسط یا پست درجے کی ہو تو وہاں اعلیٰ علم نہیں آتا۔ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد دنیا کے لوگوں میں بہت زیادہ عقل مند تھی۔ اس عقل مند جماعت کو صحفِ ابراہیمؑ سے لے کر تورات، زبور، انجیل تک اعلیٰ ترین علم دیا گیا۔ یہ ایک بہت بڑی نعمت تھی۔
دوسری نعمت یہ دی کہ ان کے اندر حکمران بنائے، جو ان ہی کی قوم میں سے تھے۔ کسی قوم کے لیے اپنا حقِ حکمرانی استعمال کرنا بہت بڑا اِعزاز ہے۔ قرآن نے ان سے کہا کہ: ’’تمھیں ایسی نعمتیں دی ہیں کہ جو تم سے پہلے کسی کو نہیں دی تھیں ‘‘۔ کسی قوم کی سیاسی طاقت کا وجود میں آجانا، اپنی حکومتی رِٹ کا قائم ہوجانا، اپنے فیصلے خود کرنا، اور علم و شعور کے اندر اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل ہونا، یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ انھیں وہ نعمتیں دی گئی ہیں ، جو اُن سے پہلے دنیا میں کسی کو نہیں دی گئیں ، تاکہ وہ اپنی عقلی صلاحیتوں اور علمی استعداد کے ذریعے سے اپنی قوم کے تمام لوگوں کے مسائل حل کریں ، انھیں ایک کنبے کی طرح پالیں ، کمزوروں کو بھی ترقی دیں ، ان میں نظم و نسق قائم کریں ۔ ان کے حقوق کا لحاظ کریں ، لیکن انھوں نے ان نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے زمین میں فساد مچایا‘‘۔
جہاد کا حقیقی تصور اور اس کی غرض و غایت؛ الحرب اور الغزوہ میں فرق
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’اجنبی قومیں جب کسی سوسائٹی پر مسلط ہوتی ہیں ، غیرقومی بادشاہ کسی قوم پر مسلط ہوتے ہیں تو وہ اُس سوسائٹی میں فساد مچاتے ہیں ، اُن کے عزت والے لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں ، اُن کے عہدے اور منصب کو ذلیل و رُسوا کردیتے ہیں ۔ یہ ’’المُلوک الأجانِب‘‘ (اجنبی حکمران) ہوتے ہیں ۔ آیتِ قرآنی کے مطابق ان کا کام: ﴿طُغْيَانًا﴾ مغلوب قوم کے بنیادی حقوق کا انکار کرنا، اور سرکشی کرکے قوموں پر آمریت مسلط کرنا، ان کے حقوق غصب کرنا، ان کو انسان نہ سمجھنا ہوتا ہے۔ ﴿وَكُفْرًا ﴾ : اللہ کی حقانیت کو تسلیم نہ کرنا اس کے نتیجے میں ان کے اندر اگلی خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ ’’العداوۃ‘‘: نفسانی عداوت اور بغض پید اہوتا ہے۔ تیسری خرابی یہ ہوتی ہے کہ ﴿ أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ﴾ :جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں ۔ قوموں کے درمیان لڑائیاں پیدا کرتے ہیں ۔ ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کرتے ہیں ۔ یہ یہودیوں کی خصلتیں بیان کی جا رہی ہیں ۔ یہودی جنگ اور فساد کی آگ بھڑکا کر خود جلتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اُن پر اجنبی بادشاہ حکومت قائم کرتے رہے ہیں ، وہ آکر مزید فساد مچاتے ہیں ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور انبیا علیہم السلام اس آگ کو بجھاتے ہیں ۔ حرب اور جنگ کی آگ بھڑکانے کی خصلت مسلمان اپنائیں یا عیسائی، کوئی بھی ہو، لعنت کا مستحق ہوگا۔
یہاں یہ بات سمجھنے کی بڑی ضروری ہے کہ ’’حَرْب‘‘ اور ’’سَلْم‘‘ میں کیا فرق ہے۔ آج المیہ یہ ہے کہ مسلمان حرب یا جنگ کو ’’جہاد‘‘ کہنے لگ گئے۔ حال آں کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ’’الحَرْب‘‘ کا لفظ قرآن حکیم میں چھ جگہ پر استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ یہ منفی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ الحرب کا ترجمہ ’’جنگ‘‘ ہے، یہ شیطانی کام ہے۔ اسلامی کام نہیں ہے۔ ’’الحرب‘‘ کی ضد ’’السلم‘‘ ہے۔ السلم کا لفظ قرآن نے سلامتی کے لیے استعمال کیا ہے، اسی سے اسلام ہے، اسی سے مسلم ہے، اسی سے وہ حکم ہے جو اللہ نے فرمایا کہ اگر مکے والے ’’حَرْب‘‘ چھوڑ کر ’’سَلْم‘‘ اور سلامتی کی طرف آئیں تو اے محمد ﷺ آپ بھی نرمی دکھائیں ، جھک جائیں ۔ اللہ پر توکل کریں ۔ (-8 انفال: 61)
یاد رکھیں ! دین میں ’’حرب‘‘ اور جنگ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں دین میں ’’الجہاد‘‘ ہے، جو قیامت تک جاری رہے گا۔ (الحدیث) جہاد میں اور جنگ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ الحرب‘ عداوت، بغض، سرکشی اور طغیان کی اَساس پر ہوتی ہے۔ مال دولت لوٹنے، قوموں پر قبضہ کرنے، حقائق کا انکار کرنے اور انسانی حقوق سلب کرنے کے لیے جو لڑائی کی جاتی ہے، اُسے حرب کہتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں الجہاد یا الغزو کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حضور ﷺ نے دشمنوں کے خلاف جتنی بھی لڑائیاں لڑی ہیں ، وہ الجہاد ہیں ، غزوات ہیں ۔ ’’الغزو‘‘ کا معنی ہے کہ انسانی حقوق پامال کرنے والے انسان دشمنوں کے خلاف خروج کرنا۔ یہ صورتاً جنگ ہے، لیکن حقیقت میں انسانی سلامتی کے راہ کی رُکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ جہاد یا الغزو کے ذریعے انسانیت کے کینسر زدہ حصے کو کاٹ کر پھینک دینا ہوتا ہے۔ اسی لیے اس ’’جہاد‘‘ کو ’’عداوتِ مقدّسہ‘‘ کہا گیا ہے۔
دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی بھڑکائی گئی جنگوں پر ایک طائرانہ نظر
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’عصر حاضر میں دنیا میں عام طور پر جنگیں عداوت و بغض کی بنیاد پر ہوئیں ۔ اس کا سلسلہ آج سے سو سال پہلے جنگِ عظیم اوّل سے شروع ہوا اور آج تک جتنی بھی جنگیں دنیا میں لڑی گئیں ، وہ ’’الحرب‘‘ ہیں ، ’’الجہاد‘‘ نہیں ہیں ۔ کیوں کہ یہ جنگیں سرمایہ داروں اور طاغوتیوں نے اپنے مفادات اور لوٹ مار کے لیے لڑیں ۔ جنگِ عظیم اوّل اور دوم میں سات بادشاہتیں تباہ ہوئیں ، کروڑوں انسان قتل ہوئے، ریاستیں تباہ و برباد ہوئیں ، یورپ پورا اُجڑ گیا، لندن پیرس تباہ ہوگئے، برلن کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ کیوں کہ یہ جنگیں باہمی عداوت اور بغض پر مبنی جنگیں تھیں ۔ ایک ذرا سا کسی علاقے کے حکمران شہزادے کے ساتھ ایک حرکت ہوئی ہے اور اُس حرکت پر وہ جنگ چھڑی اور دو کروڑ انسانوں کے قتل پر منتج ہوئی۔ اس کا جہاد سے کیا تعلق ہے؟
مسلمانوں کے غلبے کے زمانے میں کبھی ایسی کوئی جنگ ہوئی؟ جہاد تو وہ ہوتا ہے جو سلامتی کے لیے ہو۔ جب سے یہ مغضوب علیہم یہودی خصلت دجالی حکومتیں پوری دنیا پر مسلط ہوئی ہیں ، انھوں نے ’’حرب‘‘ کو زندہ کردیا ہے۔ امریکی اسلحہ سازوں نے جنگِ عظیم دوم میں ہٹلر کو بھی اسلحہ سپلائی کیا، اور اتحادی قوتوں برطانیہ، فرانس اور رُوس کو بھی اسلحہ سپلائی کیا۔ دونوں طرف اسلحہ بھیج کر جنگ لڑوائی۔ کروڑوں انسان قتل کرائے۔
سعودیہ عرب پر قبضے کی جنگ کس نے لڑوائی؟ کون لوگ تھے جنھوں نے ترکوں کے خلاف عربوں کو بغاوت پر اُکسایا؟ وہ کون لوگ تھے جنھوں نے گیارہ دسمبر 1917ء کو جرنل ایلن بائی کا بیت المقدس پر قبضہ کروایا۔ یہی فلسطینی عرب تھے۔ ان کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ جھنڈے لے لے کر آگے جا رہے تھے اور ترکوں کو وہاں سے نکال کر برطانیہ کو مسلط کر رہے تھے۔ انھوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی۔ اس کو ’’جہاد‘‘ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ انھیں آلۂ کار عربوں نے حجاز میں تباہی مچائی، پورا حجاز ریلوے تباہ کردی، حرمِ مکی اور حرمِ مدنی کے اندر خون بہایا، انسانیت کی تباہی کے لیے کردار ادا کیا، یہ ہے قرآن حکیم کی اصطلاح میں ’’آگ بھڑکانا‘‘۔ انھوں نے ہر جگہ جنگ کی آگ بھڑکائی اور دجل سے اس کو ’’جہاد‘‘ کا نام دیا۔ کہیں غزوۂ ہند کے نام پر، کہیں جہاد کے نام پر، کہیں کسی اَور عنوان سے جنگیں بھڑکانے کا ہمیشہ سے سامراج کا کام رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ اور اس کی جماعت کا کام بھڑکی ہوئی جنگ کو بجھانا ہے، آگ لگانا نہیں ۔ جب مسلمان‘ یہودی خصلت اختیار کرگئے، وہی حرکت اُن میں پیدا ہوگئی۔ حضور ﷺ نے صحابہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ ’’تم بھی ضرور بالضرور اپنے سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع کرو گے‘‘۔ تم بھی جنگ کی آگ بھڑکاؤ گے۔ اندازہ لگائیے کہ الحرب یا جنگ دینِ اسلام میں نہیں ہے اور پچھلے سو سال سے اسلام کے نام پر بنائی گئی پارٹیاں ہر جگہ سامراج کی جنگ کو ’’جہاد‘‘ بنا کر پیش کرتی رہی ہیں ‘‘۔
غزہ میں جنگ بندی کی حقیقت اور ذمہ دار طبقوں کا گھناؤنا کردار
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج غزہ اور تل ابیب دونوں جگہ بڑی خوشیاں منائی جا رہی ہیں کہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔ ابھی تو صرف معاہدہ ہوا ہے۔ وہ جو جنگ بھڑکانے والی پارٹیاں ، گروہ اور مذہبی رہنما تھے، وہ بتائیں کہ پندرہ مہینوں کی اس جنگ سے نتیجہ کیا حاصل ہوا؟ پچاس ہزار فلسطینی شہید ہوئے، یہ اُن کے بتلائے ہوئے اعداد و شمار ہیں ، ورنہ جو لاکھوں افراد بلڈنگوں کے نیچے دب کر مر گئے، اُن کا کوئی حساب کتاب نہیں ۔ لاکھوں انسان بے گھر ہوگئے، زخمی ہوگئے، پورا غزہ اُجاڑ دیا۔ اُس کی حکومت کا جو سٹرکچر، جو چھوٹے موٹے ادارے موجود تھے، وہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگئے۔ اب اس پر خوشیاں منا رہے ہیں کہ جی اسرائیل نے وعدہ کیا ہے کہ وہ غزہ چھوڑ دے گا۔ غزہ کن کے سپرد کرکے جائے گا؟ انھیں کے، جن کی پوری قیادت اُس نے اُڑا کر رکھ دی۔ اس جنگ کے نتیجے میں شام پر قبضہ ہوا، لبنان میں تباہی آئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں فلسطین میں تباہی آئی۔ یہ الحرب تھی، آگ بھڑکائی گئی تھی، جس نے پورے فلسطین کو اور مشرقِ وسطیٰ کو بھسم کردیا۔
جب اسرائیل کے غزہ پر قبضے کے مقاصد پورے ہوگئے، تو اب کہتے ہیں جی کہ صلح کرلو۔ اب اُن کے خریدے ہوئے مسلمان حکمران معاہدے کرا رہے ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ کہتا ہے کہ 20؍ جنوری تک تم نے معاہدہ نہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ کو جہنم بنا دوں گا۔ جہنم تو بنا دیا اُس نے۔ غزہ کو تباہ و برباد تو کردیا۔ اب جنگ بندی پر اگر خوشیاں منائی جا رہی ہیں تو کیا 7؍ اکتوبر 2023ء سے پہلے جنگ بندی نہیں تھی؟ اُس جنگ بندی میں تمھارا سٹرکچر تو موجود تھا۔ اب تو کچھ باقی نہیں رہا۔ کس بات کی خوشیاں منا رہے ہیں ؟
’’الحرب‘‘ اسلامی ٹائٹل سے ہو، ’’جہاد‘‘ کے ٹائٹل سے ہو یا کسی بھی اَور عنوان سے ہو، یہ عداوت اور بغض پر مبنی ہوتی ہے۔ اُس خطے کے زیرِ زمین وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ اس پندرہ ماہ کی جنگ میں غزہ کے ساحل کے ساتھ جتنے گیس کے بڑے بڑے ذخائر موجود تھے، جب سے روس نے یورپ کی گیس بند کردی تو برطانوی اور امریکی سامراج نے مل کر ان ذخائر سے گیس نکالنے کا مکمل نظام بنا لیا۔ اب جنگ بند ہوگئی۔ کیوں کہ اپنے کام کرلیے، وسائل گیس، تیل اور زمین پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔
قرآن واضح بیان کر رہا ہے کہ جہاں بھی جنگ کی آگ بھڑکائی جائے، وہاں اُس کے پیچھے کوئی شیطان ہوگا، کوئی طاغوتی قوت ہوگی۔ اس کو اسلامی جہاد کہنا، غزوہ کہنا، بالکل غلط ہے۔ یہ جنگ کرنے کے لیے اسلام کا نام استعمال کرنا ہے۔ اسی لیے قرآن نے آگے کہا ہے: ’’ویسعون فی الارض فساداً‘‘ یہ جو جنگ بھڑکاتے ہیں ، اس لیے کہ زمین میں فساد پھیلایا جائے۔ فلسطین پر قبضہ فساد ہی تو ہے۔ یاد رہے کہ جہاد کا فیصلہ دینِ اسلام میں حکمران کرتے ہیں ، پارٹیاں نہیں کرتیں ۔ قوم کا منتخب کردہ حکمران قوم کی ہمدردی رکھتا ہے، اسی لیے ایسی حکومت اور ریاست جہاد کا اعلان کرتی ہے۔ دین میں پرائیویٹ جہاد نہیں ہوتا۔ کسی پارٹی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ جہاد کا اعلان کرے‘‘۔
حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ جروار مریؒ

حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ جروار مریؒ
حضرت مولانا عزیز اللہ جرواؒر کا شمار بھی امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ وہ سندھ میں ضلع لاڑکانہ کی تحصیل ’’شہدادکوٹ‘‘ کے گاؤں ’’گل محمدجروار‘‘ میں فقیر خان محمد کے ہاں 1911ء میں پیدا ہوئے۔ قرآنِ حکیم کی تعلیم آبائی گاؤں ہی میں حاصل کرنے کے بعد استاد حکیم محمد پٹھان کی درس گاہ میں داخلہ لیا۔ حکیم محمد پٹھانؒ علاقے بھر میں حکمت اور فارسی زبان کے بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ 1933ء میں شہر میرو خان میں اپنے والدِ گرامی کے عزیز دوست مولانا فتح محمد سیرانیؒ کے مدرسے میں تعلیم کی غرض سے داخل ہوئے۔ 1935ء میں عربی زبان کی تعلیم کے لیے حضرت مولانا تاج محمود امروٹیؒ کے شاگرد مولانا خوش محمد تنیوؒ ( ضلعی صدر جمعیت العلمائے ہند، ضلع لاڑکانہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ مدرسہ دارالہدیٰ ٹھیڑی( خیرپورمیرس، سندھ) میں بھی رہے۔ گوروپہوڑ میں ان کی ملاقات مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے نام ور شاگرد حضرت مولانا علامہ غلام مصطفی قاسمیؒ سے ہوئی۔ ان کی صحبت میں 4 سال گزارے اور دینی تعلیم بھی حاصل کی۔ انھیں کے مدرسہ ’’دارالسعادت گوروپہوڑ‘‘ سے فارغ التحصیل ہوئے۔
1937ء میں ’گل محمد جروار‘ گاؤں میں ہندوستان کی آزادی کے لیے کام کرنے والے اَحباب پر مشتمل ’’کانگریس کمیٹی گل محمد جروار‘‘ قائم ہوئی تو اس میں بھی مولانا موصوفؒ نے سرگرم کردار ادا کیا۔ 1943ء میں کسانوں کی بھلائی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے اور سرگرم رہے۔ اسی پُرخلوص عمل کی وجہ سے ہی بعد میں اس کمیٹی کے چیئرمین بھی منتخب کیے گئے۔ 1943ء ہی میں پنوعاقل میں جمعیت علمائے سندھ کا اجلاس ہوا، جس میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے بھی شرکت کی تو اس میں خاص طور پر اجازت لے کر اپنے ساتھی طلبا کو لے کر گئے اور حضرت سندھیؒ سے متعارف کروایا۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے جب مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ( کراچی ) میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ـ’’جمعیۃ خدام الحکمت‘‘ قائم کرنا چاہی تو اس سے قبل جن احباب سے مشاورت ہوئی، ان میں مولانا محمد صادق کراچویؒ، شیخ عبدالمجید سندھیؒ، مولانا عبداللہ لغاریؒ اور مولانا عبدالقادر لغاریؒ کے علاوہ مولانا عزیز اللہ جرواؒر بھی شامل تھے۔
مولانا قاسمیؒ سے اجازت لے کر حضرت سندھیؒ کو گوٹھ پیر جھنڈا میں مولانا موصوف نے خط لکھا جس میں حضرت سندھیؒ کے ساتھ رہنے اور ولی اللّٰہی علوم سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حضرت سندھیؒ نے انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت دے دی۔ حضرت سندھیؒ سے متعارف ہونے کے بعد مولانا موصوفؒ نے سندھ میں ولی اللّٰہی افکار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔جمعیت علمائے سندھ اور کانگریس کے پلیٹ فارم پر سرگرم رہے۔ اگست 1943ء میں جب گوٹھ پیر جھنڈا میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار کی تعلیم کے لیے زمین کا ٹکڑا حاصل کیا گیا تو وہاں حضرت شیخ الہندؒ کی یادگار ’’محمودنگر‘‘ قائم کیا گیا۔ اس سارے عمل میں بھی مولانا موصوفؒ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
15؍ تا 17؍ اپریل 1943ء کو حیدرآباد (سندھ) میں جمعیت علمائے (سندھ) کے اجلاس کے ساتھ طلبا کا اجلاس کروانے کی تجویز مولانا عزیز اللہ جروارؒ نے ہی میاں عبیداللہ لاڑکانویؒ کے ساتھ مل کرعلامہ غلام مصطفی قاسمیؒ کو دی اور حضرت سندھیؒ کو صدارت کے لیے بلانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حضرت سندھیؒ کو ایک خط کے ذریعے دعوت دی تو انھوں نے قبول کرلی۔ اس کے بعد مولانا موصوفؒ نے میاں عبیداللہ لاڑکانویؒ کے ساتھ مل کر پورے سندھ میں دعوت نامے ارسال کیے۔ مدارس کے طلبا کو خطوط اور اخبارات کے ذریعے شرکت کی اپیل کی گئی۔ انھی کاوشوں کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار طلبا اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں مولانا جروارؒ نے انتظامیہ اور استقبالیہ کی ذمہ داریاں بہ خوبی نبھائیں اور اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر اس اجلاس کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ اس اجلاس کے بعد سندھ کے مدارس کے طلبا پر مشتمل جمعیت طلبا کے عہدے داران کا تعین ہوا تو مولانا موصوفؒ کو اس تنظیم کا جوائنٹ سیکریٹری (نائب ناظم) مقرر کیا گیا۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی ہدایت کے مطابق مولانا جروارؒ نے مولانا غلام مصطفی قاسمیؒ کی رہنمائی میں شہداد کوٹ (ضلع لاڑکانہ) میں ولی اللّٰہی علوم و معارف کے فروغ کے لیے ایک اسکول ’’محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل سکول‘‘ کے نام سے بھی قائم کیا۔ 4؍ اگست 1943ء کو حضرت سندھیؒ نے اپنے وصال سے چند دن قبل ہی اس کا افتتاح کرنا تھا، لیکن ضعف اور بیماری کے سبب اس افتتاح میں خود تو شریک نہ ہوسکے، البتہ 2؍ اگست 1943ء کو خطبہ صدارت لکھوایا اور اسے چھپوانے کا فرمایا، لیکن وقت کی کمی کے باعث وہ تحریر شہدادکوٹ بھجوادی گئی۔
1956ء میں سندھی وڈیروں کے ظلم اور مخالفت کے سبب اپنا آبائی گھر بھی چھوڑنا پڑا۔ پوری زندگی اپنے استاذ مولانا غلام مصطفی قاسمیؒ کے ساتھ مل کر سندھ میں عبیداللّٰہی فکر و عمل کے فروغ میں کردار ادا کرتے رہے۔
مولانا عزیز اللہ جروارؒ نے حضرت سندھیؒ کی بیش تر تحریروں کو جنھیں مولانا عبدالمجید النجیح شکار پوری نے اپنے خوب صورت قلم سے لکھا تھا، محفوظ کیں ۔ وہ تحاریر، دستاویزات اور مقالات بعد ازاں حضرت سندھیؒ کی کتاب’’ خطبات و مقالات‘‘ میں بھی شامل ہوئیں ۔ موصوفؒ کی انھی کاوشوں کی بدولت آج ہم حضرت سندھیؒ کی تعلیمات کے قابلِ ذکرحصے سے متعارف ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مولانا سندھیؒ نے تفسیر ’’الہام الرحمن‘‘ جو اپنے شاگرد علامہ موسیٰ جار اللہ کو حجاز شریف میں اِملا کروائی تھی، اسے اپنے خرچ پر پنو عاقل سے شائع کروایا۔
مولانا جروارؒ نے اپنی بہت سی نایاب کتب کا ذخیرہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی کے کتب خانے میں وقف کروادیا اور کچھ حصہ ’’مولانا عبیداللہ سندھی اکیڈیمی سکھر‘‘ کو بھیج دیا۔
مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے خادم، شاگرد، جدوجہد، محنت اور جفاکشی کی علامت‘ مولانا عزیز اللہ جروارؒ اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کر 2004ء میں ہمیشہ کے لیے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی آخری آرام گاہ بائیجی شریف(پنو عاقل) کی جامع مسجد کے ملحق شہیدوں کے قبرستان میں ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ہمیں ان اکابرین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
بین الاقوامی تجارت اور محصولات کی جنگ

بین الاقوامی تجارت اور محصولات کی جنگ
تحریر: سلمان فاروق، راولپنڈی
اب سے لگ بھگ 95 سال قبل سن 1929ء میں امریکی معیشت کو کساد بازاری کا سامنا تھا۔ بعد میں اس کساد بازاری نے عالمی صورتِ حال اختیار کی، جس کو دنیا ’’دی گریٹ ڈِپریشن‘‘ (The great depression)کے نام سے جانتی ہے۔ امریکی منڈیوں سے شروع ہونے والی اس کساد بازاری کی بنیادی وجہ فائنانشل سیکٹر یعنی مالیاتی شعبے کی بے ضابطگیاں اور سٹاک مارکیٹ میں غیر پیداواری سرمایہ کاری جیسے عوامل تھے۔کساد بازاری کے نتیجے میں امریکا میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ ایسے میں امریکی حکومت اپنی منڈیوں کو بیرونی تجارتی مسابقت سے بچانے کے لیے اقدامات پر غور کرتی ہے اور ایک سال بعد ہی یعنی سن 1930ء میں سموٹ ہیلی ٹیرف ایکٹ کے نام سے قانون سازی متعارف کرائی جاتی ہے، جس کے تحت 20 ہزار سے زائد اشیا کی درآمد پر محصولات‘ یعنی ٹیرف لاگو کیا جاتا ہے۔ ان محصولات کے نتیجے میں ایک جانب تو بین الاقوامی تجارت کو دھچکا پہنچتا ہے اور امریکی تجارت یعنی درآمدات اور برآمدات 67 فی صد کم ہو جاتی ہیں تو دوسری جانب منڈیوں کو بچانے کی خاطر لاگو کردہ محصولات کی وجہ سے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مذکورہ بالا کساد بازاری سن 1941ء تک جاری رہتی ہے اور کچھ محققین کا یہ ماننا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کی ابتدا امریکا کی مقامی منڈی کی یہی کساد بازاری اور اس کے بعد کے اقدامات ہیں ، جن کے ذریعے امریکا نے اپنی منڈی کو محفوظ بنانے کی خاطر محصولات کی جنگ کا آغاز کیا۔ انھی اقدامات کی وجہ سے امریکا نے اپنی مقامی منڈی کو بین الاقوامی مسابقت سے تو محفوظ کرلیا، لیکن یورپ کی منڈیاں ‘ جن کی معیشت کا بڑا دارومدار امریکا سے تجارت پر تھا، ان کو بھی کساد بازاری کا شکار کر دیا۔ یوں غربت اور بے روزگاری کے شکار یورپی عوام اپنے ہاں الٹرا نیشنل حکومتیں منتخب کر لیتے ہیں ، جو جنگِ عظیم دوم کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ جرمنی میں ہٹلر کی نازی حکومت اور اٹلی میں مسولینی کی فاشسٹ حکومت اسی دور کی پیداوار ہیں ۔
امریکی صدر فرینکلن روزیلٹ 1933 میں ’’فرسٹ نیو ڈیل‘‘ کے نام سے اور 1935 میں ’’سیکنڈ نیو ڈیل‘‘ کے نام سے اقدامات متعارف کرواتے ہیں ، جب کہ دوسری جنگِ عظیم کے نتیجے میں یورپی صنعت اور معیشت مکمل تباہی کا شکار ہو چکی ہے تو بریٹن ووڈز سسٹم(Bretton Woods System)کے تحت عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ وہی امریکا جو کچھ سال پہلے تک اپنی مقامی منڈی کے پیدا کردہ مُضِر اثرات کو ساری دنیا میں منتقل کر چکا تھا اور اپنی مقامی منڈی کو بچانے کے لیے قانون سازی کر رہا تھا، اب اکیلا ہی بھاگ کر پہلی پوزیشن حاصل کرنا چاہتا تھا۔
بریٹن ووڈز سسٹم کے تحت قائم کردہ مالیاتی اداروں ‘ یعنی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے دنیا کی منڈیوں کو غلام بنائے رکھنا‘ اصل ہدف اور مقصد تھا۔ برٹن وڈز سسٹم نے ریاستوں کو منڈیوں میں اور عوام کو کنزیومر میں بدل دیا۔ کیپٹلسٹ اکانومی (سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت) میں رائج زر کی بنیاد پر قائم استحصالی معیشت کے لیے وسائل‘ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے ممالک سے حاصل کر کے اپنی انڈسٹری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے اجارہ داری کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کیوں کہ کیپٹل ازم کے طبعی داخلی رُحجانات کے ما تحت پیدا ہونے والے اثرات سے بچنا تبھی ممکن تھا، جب ان اثرات کو دوسرے ممالک کی منڈیوں پر منتقل کیا جا سکے، جیسا کہ سن 2008ء میں پیدا ہونے والے ریسیشن میں دیکھا گیا کہ امریکا کے ساتھ ساتھ یورپ کی معیشتیں بھی اس ریسیشن کی لپیٹ میں آگئیں ۔ زر کو غیر پیداواری عمل کے لیے سٹے کے رُحجانات کے تحت استعمال کرنا اور اس میں موجود خطرات کو ’’رِسک‘‘ کا نام دے کر اس کے تحت مراعات کا نظام تشکیل دے کر خود اِن مراعات سے مستفید ہونے کے نتیجے میں منڈی کساد بازاری کا شکار ہو جاتی ہے۔ پھر عوامی پیسے سے اس جوئے کی معیشت کو بازیاب کرایا جاتا ہے، جس کو ’’گورنمنٹ بیل آؤٹ‘‘ جیسے نام دیے جاتے ہیں ۔
امریکی معیشت کو اس سے پہلے کسی دوسری معیشت سے خطرہ لاحق نہیں ہوا تھا۔ کوئی ایسی معاشی طاقت موجود نہ تھی جو اقتصادی اور تجارتی میدان میں امریکا کے لیے چیلنج کھڑا کر سکتی۔ روس کی حربی قوت و صلاحیت کا مقابلہ امریکا نے سرد جنگ کے ذریعے کیا، لیکن اب کی بار امریکا کو معاشی،اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلے کا سامنا ہے اور امریکا کے اقدامات یہ بتا رہے ہیں کہ ان چیلنجز کا مقابلہ امریکا اسی طرح کے اقدامات دُہرا کر کر رہا ہے، جیسا سن 1930ء کی دہائی میں کیے گئے تھے۔ آج بھی امریکا‘ چائنیز کمپنیوں پر محصولات عائد کر کے اور اپنی منڈیوں کو بند کر کے خود کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مئی 2024ء میں امریکی صدر جو بائیڈن نے چائنیز الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات پر 100 فی صد محصولات عائد کی تھیں ۔ یہ محصولات اس لیے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں کہ چائنیز کمپنیاں ‘ امریکی کمپنیوں کے مقابلے پر 50 فی صد کم قیمت پر بہتر کوالٹی کی الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ اس سے پہلے بھی چائنیز کمپنیوں پر محصولات عائد کی گئیں ، لیکن وہ محصولات را مٹیریل(raw metrial)جیسے سٹیل وغیرہ پر ہوا کرتی تھیں ، لیکن اب کی بار معاملہ مختلف ہے۔ اور تو اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق محصولات کی شرح بڑھانے کی نہ صرف ضرورت ہے، بلکہ ان اشیا میں بھی اضافہ کرنا ضروری ہے، جن پر محصولات عائد کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ انھوں نے یورپ کی کمپنیوں پر بھی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
امریکی بین الاقوامی سرمایہ داری نظام اپنی منڈی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے، لیکن اب کی بار سن 1930ء والے حالات نہیں ہیں ۔ معاشی اور تجارتی میدان میں مسابقت کرنے والے دوسرے فریق موجود ہیں اور امریکا اپنے ہی قائم کردہ بریٹن ووڈز سسٹم سے دست بردار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
شمارہ ختم
واپس
