اکتوبر2020ء

ماہنامہ رحیمیہ

اکتوبر2020ء

اکتوبر 12, 2020 13 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 13

مال کے استعمال کے آداب (1)

مال کے استعمال کے آداب  (1)

مال کے استعمال کے آداب  (1)

حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ: سمعتُ أَبَا أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ: ’’یَاابْنَ آدَمَ! إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَیْرٌ لَکَ، وَأَنْ تُمْسِکَہُ شَرٌّ لَّکَ، وَلَا تُلاَمُ عَلٰی کَفَافٍ، وَابْدَأ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِالسُّفْلٰی۔‘‘

(سیّدنا ابو اُمامہ رضی اللہ عنہٗ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے اولادِ آدم! ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے۔ اسے روک کر رکھنا تیرے لیے شرّ ہے۔ ہاں! اس قدر بچانا قابلِ ملامت نہیں، جو تیری ضرورت کے لیے کافی ہو۔ مال خرچ کرنے کی ابتدا اُن سے کر، جن کی ذمہ داری تجھ پر عائد ہوتی ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔‘‘ (الصّحیح المسلم: 2388)

مال کے استعمال کا متوازن طرز ِعمل کیا ہے؟ زیرِنظر حدیث میں تین پہلوئوں کے حوالے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے: (1) آپﷺ نے سرمایہ پرستی اور مال و دولت جمع کیے رکھنے کی دُھن سے منع فرمایا ہے۔ اس طرز ِعمل کو رسول اللہؐ نے انسان کے لیے شر اور وَبال قرار دیا ہے۔ آپؐ نے مزید فرمایا کہ ’’انسان اپنی ضرورت کے مطابق مال کو اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتا ہے‘‘۔ یوں آپؐ نے دوسری انتہا سے بھی منع کیا کہ آپ اپنا سارا مال خرچ کرکے مجبور اور محتاج ہوجائیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی محتاج کردیں۔ چناںچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے رسول اللہؐ سے اپنا سارا مال اللہ کے راستے میں دینے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے انھیں منع فرمایا۔ جب انھوں نے ایک تہائی مال خرچ کرنے کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔ ساتھ یہ ارشاد فرمایا کہ: ’’تم اپنے ورثا کو مال دار چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو فقیر اور محتاج کرکے چھوڑو اور وہ تمھارے بعد لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘ (رواہ البخاری)

(2) اس حدیث ِمبارکہ میں نبی اکرمﷺ نے دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ آپ کے مال پر سب سے زیادہ حق اُن کا ہے، جو آپ کے زیرِکفالت ہیں۔ گویا ایک مؤمن کو سب سے پہلے اپنے زیرِکفالت لوگوں کا مکمل ذمہ دار بننا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے۔ حدیثِ مبارکہ میں ’وابدأ‘ کا لفظ قابلِ غور ہے، یعنی خرچ کرنے کا آغاز انسان اپنے قریبی رشتے داروں سے کرے۔ دیگر احادیث و آیات کی روشنی میں وہ اپنی استطاعت کے مطابق تمام معاشرتی دائروں میں اپنا حصہ ڈالنے کا ذمہ دار بھی ہے۔ مذکورہ بالا دونوں اُمور کی روح کے مطابق اگر کسی معاشرے کا اجتماعی ماحول بن جائے تو ابتدائی سطح پر بھی سماج کے بے شمار مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ یہ طرز ِعمل حسنِ خلق اور انسانی اَقدار کے لحاظ سے انفرادیت کے بجائے اجتماعیت پسندی اور بندہ نوازی کا ہے۔

جس معاشرے میں مذکورہ متوازن رویہ ختم ہوجائے، دولت کو سمیٹنا اور سرمایہ پرستی کا مرض عام ہوجائے تو ایسا معاشرہ جہنم کدہ بن جاتا ہے، جس سے دین میں ممانعت ہے۔

2 / 13

ملیکۃ العرب؛ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

ملیکۃ العرب؛ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

ملیکۃ العرب؛ حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سب سے پہلی زوجہ مطہرہ اورسب سے پہلی مسلمان خاتون اُم المؤمنین حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عام الفیل سے 15 سال پہلے 555ء میں مکہ میں پیداہوئیں۔ قُصی پر حضوؐر اور ان کا نسب مل جاتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ کے والد خویلد ایک کامیاب تاجر تھے۔ وہ حسنِ معاملہ اور دیانت داری کی وجہ سے مکہ میں نامور، قابلِ قدر اور ہر دل عزیز شخص تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنے والد کی وفات کے بعد کاروبارِ تجارت سنبھالا۔ انھوں نے اس کاروبار کو مکہ مکرمہ کے امانت دار، تجربہ کار تاجروں کی ٹیم اور خاندان کے چنیدہ افراد پر مشتمل ایک تجارتی کارواں کی شکل دی۔ بین الاقوامی تجارت سے اپنی دیانت داری، حذاقت و مہارت اور فہم و بصیرت، حسن تدبیر ا ور کاروباری پیچیدگیوں کی گتھیاں سلجھانے میں ایک مقام پیدا کیا۔ آپؓ مکہ اور اس کے اردگرد معاشرے کے احوال پر بھی گہری نگاہ رکھتی تھیں۔

حضور اقدسؐ حضرت خدیجہؓ کا مال لے کر بصریٰ شام کی تجارتی منڈی گئے اور واپسی پر دوگنا نفع کما کر لائے۔ ان کاروباری معاملات میں صدق و صفائی، امانت داری اور عقل مندی کی منصوبہ بندی نے حضو اکرمؐ کا حضرت خدیجہؓ کے سامنے اعتماد تسلیم کروایا۔ اس قافلے کے ہر فرد نے آپؐ کی صلاحیتوں کی گواہی دی۔ خاص طور پر حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے آپؐ کی زندگی کے ہر گوشے کے حوالے سے چشم دید گواہی دی، جس سے متأثر ہو کر سیّدہؓ نے حضوؐر کو اپنے نکاح کے لیے پیغام بھجوایا۔ آپؐ نے اپنے چچا ابوطالب کی مشاورت سے پیغام قبول کرلیا اور دونوں کی شادی طے پائی۔ ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ اس وقت حضوؐر کی عمر 25 سال اور آپؓ کی عمر 40سال تھی۔ حضوؐر ہر بات میں حضرت خدیجہؓ سے مشورہ فرماتے۔ وہ بھی اپنے تجربات، تعلقات اور وسائل سب کچھ آپؐ پر نچھاور کرتیں۔ حضرت خدیجہؓ 24 سال سے زائد عرصے تک آپؐ کے ساتھ رہیں۔ شادی کے بعد اپناسارا مال آپؐ کو ہدیہ کردیا۔ اس شادی کے موقع پر حضرت صدیق اکبرؓ نے حضوؐر کی خدمت میں کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہا، مگر اندیشہ ہوا کہ شاید حضور گوارا نہ فرمائیں تو یہ تدبیر کی کہ عرض کیا کہ میرے دادا کے پاس حضوؐر کے دادا نے کچھ امانت رکھ دی تھی، میں وہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس طرح حضرت صدیق اکبرؓ نے وہ ہدیہ پیش کیا۔

10 نبوی میں شعبِ ابی طالب (مکہ کے نظام کے سیاسی، معاشی اور سوشل بائیکاٹ) کی آزمائش کے بعد حضرت خدیجہؓ کی طبیعت ناساز ہوئی۔ آپؐ نے علاج معالجے اور تسکین و تشفی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، مگر موت سے مفر نہیں۔ 10؍ رمضان المبارک 10 نبوی کو آخری لمحات میں حضرت خدیجہؓ کی نگاہیں رسول اقدسؐ کے چہرۂ انور پہ جمی ہوئی تھیں کہ ان کی پاکیزہ روح جسد ِعنصری سے پرواز کرگئی۔ مکہ مکرمہ کے قبرستان مقام حجون میں حضرت خدیجہؓ کی قبر تیارہوئی تو آپؐ بہ نفسِ نفیس اس میں اُترے اور آپؓ کے جسد ِاطہر کو قبر میں اتارا۔

3 / 13

سندھ دھرتی کا عظیم شہر؛ کراچی نشانے پر کیوں؟

سندھ دھرتی کا عظیم شہر؛ کراچی نشانے پر کیوں؟

سندھ کی عظیم دھرتی پر موجود کراچی شہر کی تاریخ سندھ کی تاریخ کی طرح ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ مچھیروں کی یہ ایک چھوٹی سی بستی آج دنیا کا بین الاقوامی شہر بن چکا ہے۔ اس حقیقت سے نئی نسل کے بہت کم لوگ آگاہ ہیں کہ سندھ پر انگریزوں کے قبضے سے قبل یہ دھرتی برعظیم پاک و ہند کی بڑی زرخیز دھرتی تھی۔ انگریزوں نے سندھ کے مجاہدینِ آزادی کی سرفروشانہ جدوجہد کے باوجود جب سندھ پر قبضہ کرلیا تو ان کی نظریں سندھ کے اس شہر کے محلِ وقوع کی اہمیت کے باعث اس پر جم گئیں۔ ہندوستان میں بیٹھا انگریز جب سندھ پر قبضے کے منصوبے بنارہا تھا تو وہ ساحلِ سمندر پر واقع اس شہر کی بندرگاہ کو بمبئی، سورت اور کلکتہ کی بندرگاہوں جیسی ہی اہمیت دے رہا تھا۔

چناںچہ کراچی پر قبضہ کرتے ہوئے جنرل نیپیئر نے کہا تھا: ’’ہمیں سندھ پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، مگر ہم ایسا ضرور کریں گے اور یہ ایک بے حد سود مند، کارآمد اور درمندانہ بدمعاشی ہوگی۔‘‘ اسی طرح ایک اَور انگریزافسر نے کہا تھا کہ: ’’ہمیں سندھ میں مستقبل کے لیے ہر کام کرنا چاہیے، تاکہ ایک اَور ’’مصر‘‘ کی بنیاد رکھی جاسکے۔‘‘

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سندھ میں اُبھرنے والی تحریکاتِ آزادی کا ایک اہم مرکز کراچی بھی رہا ہے۔ چناںچہ 1857ء کی جنگِ آزادی میں رام دین پانڈے اور اس کے ساتھیوں کو اسی پاداش میں پھانسی دے کر مشہورِ زمانہ ایمپریس مارکیٹ کی جگہ ان کو ایک گڑھے میں دفنایا گیا، جو بعد ازاں آزادی کے متوالوں کے لیے ایک عقیدت کے مرکز کی حیثیت اختیار کرنے لگا تو اس جگہ اس مارکیٹ کی عمارت کھڑی کرکے لوگوں کی نظروں سے آزادی کے ان نشانات کو اوجھل کردیا گیا۔

کراچی آئے دن گوناگوں مسائل کا شکار رہتا ہے۔ سندھ کی عظیم دھرتی کا یہ شہر کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔ وہ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ یہ شہر 25 ملین سے زائد آبادی رکھتا ہے۔ یہ 18 ٹاؤنز اور سات اَضلاع پر مشتمل ہے۔ پورے ملک کی معاشی سرگرمیوں کا بنیادی حب (hub) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے پورے ملک کا 44 فی صد ٹیکس جمع ہوتا ہے۔ اس کا تہذیبی تنوع پاکستان ہی نہیں، بلکہ برعظیم کی بہت سی ثقافتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسی تنوع کے سبب اسے ’’منی پاکستان‘‘ (mini Pakistan) بھی کہا جاتا ہے۔

ملک کا سب سے بڑا کاروباری اور تجارتی مرکز ہونے کے سبب اس کے مسائل صرف اہلِ کراچی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات مجموعی ملکی ترقی پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہاں کے باسی روزگار، امن وامان، رہائشی سہولتوں، بجلی پانی گیس سمیت اَن گنت مسائل کے شکار رہے ہیں، لیکن جس مسئلے نے ان کی زندگی کے سکون کو چھین لیا ہے، وہ گزشتہ دنوں بارشوں کے سبب شہر بھر میں بھر جانے والا پانی تھا، جو طونانِ نوح کا نقشہ پیش کررہا تھا، جس کی وجہ سے وہاں کی سڑکیں ندی نالوں کی صورت اختیار کرگئیں۔ مکانات میں پانی بھرنے کی وجہ سے لوگ اپنے ہی شہر میں بیگانے ہوکر رہ گئے۔

یہ بات سوچنے والی ہے کہ آخر سندھ جیسی عظیم اور قدیم تہذیب سے جڑے اس شہر کو اُجاڑنے کے درپے قوتیں کون ہیں اور ان کے کیا مقاصد ہیں؟ کراچی کے حالیہ مسائل ہوں یا ماضی میں عذابِ جان بننے والے المیے، ان کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو اسے نوآبادیاتی (neo colonial) عہدکے مصر کی طرح دیکھتی رہی ہیں۔ انھوں نے سندھ کے ترقی پسند سامراج دشمن مجاہدینِ آزادی کو ناکام کرکے کراچی کو اپنے کنٹرول میں رکھا تھا۔ وہ یہاں سے پاکستان کے تمام صوبوں کو کنٹرول کرنا اور خطے کے دیگر اہم ممالک کے مقابلے میں اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتے تھے، تاکہ مستقبل کی تجارت اور جنگوں کی حکمتِ عملی ان کے ہاتھ میں رہے۔ اسی لیے انھوں نے اس شہر کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے یہاں ترقیات کا آغاز کیا تھا۔

مزید برآں اس شہر کو قیامِ پاکستان کے بعد دارالحکومت بنایا گیا اور ہندوستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے طبقوں کو بھی تحفظات کاشکار بنا کر مستقبل کے منظر نامے کے لیے تیار کیا گیا۔ تقسیم کے بعد شاید ہی پاکستان کے کسی شہر کی ایسی مثال ملتی ہو، جو ایک دفعہ یکا یک خالی ہوگیا ہو اور پھر لبالب بھر جائے۔ پاکستان بننے کے بعد مسلط کی گئی بیوروکریسی کی تربیت انگریز نے کی تھی۔ اسی لیے انھوں نے پاکستان کے مستقبل کے نقشوں میں سارا رنگ اپنے منصوبوں کے تحت بھرا۔ اس نئے بننے والے نظام میں نہ صرف یہاں سندھ کے مقامی قومی سوچ رکھنے والے طبقوں کو نظر انداز کرکے اپنے منصوبوں کو روبہ عمل لایا گیا، بلکہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی یہ کھیل کھیلا گیا۔

پھر اس شہرکی صوبہ سندھ کے ساتھ ہم آہنگی ختم کرنے اور ان کے ساتھ تضادات پیدا کرنے کے لیے بین الاقوامی قوتوں کی آشیرباد سے مقامی اسٹیبلشمنٹ آئے روز یہاں نت نئی قوتوں کی سرپرستی کرتی رہی ہے۔ پہلے پہل یہاں سندھی تہذیب کی شناخت رواداری اور انسان دوستی کے علیٰ الرغم نام نہاد ایک اسلامی جماعت کو مقبولیت دلائی گئی۔ جس کا یہ دعویٰ تھا کہ اگر وہ کھمبے کو بھی کھڑا کردیں تو وہ بھی الیکشن میں جیت جائے۔ اس کے ذریعے نام نہاد ’’افغان جہاد‘‘ کے لیے مذہبی جذبات سے لبریز نوجوانوں کی صورت میں ’’ایندھن‘‘ فراہم کیا گیا۔ رجعت پسند مذہبی طبقوں کے ذریعے مدارس کا جال پھیلایا گیا، جنھیں بعد ازاں جہادی سرگرمیوں میں استعمال کیا گیا۔ پھر اسی عنصر کو شیعہ و سنی  فرقہ وارانہ جھگڑوں میں مسلح طور پر استعمال کرکے شہر کے امن کو خراب کیا گیا۔ کراچی پر شدت پسند طبقوں کی گرفت نے نہ صرف سندھ امن کی دھرتی کو خطرے سے دوچار کیا، بلکہ کراچی شہر سے اس طبقے کو فنڈنگ کی شکل میں ملنے والی آکسیجن نے پورے جنوبی ایشیا میں سامراج کی بساط بچھائی۔

کراچی کے مسائل ہوں کے پیچھے بھی وہی وجہ کار فرما ہے، جو پورے پاکستان میں موجود مسائل کی وجہ ہے۔ وہ ہے ہمارے حکمرانوں کی وہ روایتی بددیانتی اور نااہلی، جس کے سبب وہ کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ ماشاء اللہ سے اس میں ملک کی ساری مقتدر قوتیں شامل ہیں، خواہ وہ کسی بھی ڈھانچے سے تعلق رکھتی ہوں۔ ہمارے ملکی نظام کی مشترکہ اَساسی خرابی یہی نااہلی اور بددیانتی ہے، جس میں یہ ایک دوسرے کے لیے نہلے پہ دہلا ثابت ہوتے ہیں۔ قومی وجود پر جونکوں کی طرح چمٹا ہوا یہ طبقہ نہ صرف اپنی گرہ سے قوم پر کچھ خرچ کرنے کے انسانی جذبے سے محروم ہے، بلکہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے معصوم بچوں اور بیماروں کے لیے چیریٹی کے نام پر آنے والے فنڈز کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے میں بھی لمبے ہاتھ مارتا ہے۔ ان نا اہل اور بددیانت حکمران طبقوں کے سبب ہم گزشتہ سات دہائیوں سے ترقی کی کسی شاہراہ کا انتخاب نہیں کرسکے۔ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک دنیا کے نقشے پر ترقی یافتہ ملکوں کے طور پر اُبھر رہے ہیں، لیکن ہم ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ابھی تک آٹے اور چینی کے بحرانوں سے ہی نہیں نکل پائے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خطے میں نوآبادیاتی دور کی بچھائی گئی بساط کو سمجھ کر مستقل اور پائیدار بنیادوں پر اپنے مسائل کو مقامی اور قومی ترجیحات کی بنیاد پر مسائل کو حل کرنے کا شعور حاصل کریں، تاکہ ہم خطے کو حقیقی آزادی اور ایک خود مختار قومی نظام سے ہم کنار کرسکیں۔

4 / 13

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (3)

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (3)

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (3)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

چوتھا بنیادی خُلق؛ عدالت

’’چوتھا خُلق عدالت ہے۔

(عدالت کی تعریف)

وہ انسانی نفس میں ایسی صلاحیت اور مَلکہ کا ہونا ہے کہ جس کی وجہ سے کسی ملک یا کسی محلے کا نظام قائم کرنے سے متعلق اعمال و افعال سہولت کے ساتھ سرانجام پاتے ہوں۔ اس خُلق کی وجہ سے انسان کی روح فطری طور پر ایسے عادلانہ افعال سرانجام دے۔

(خُلقِ عدالت سے آخرت میں کامیابی کا راز)

اس خُلقِ عدالت کے سبب سے انسان کے لیے آخرت میں حقیقی کامیابی حاصل ہونے میں ایک راز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے وقت اس کے نظام کو درست رکھنے کا ارادہ فرمایا۔ یہ ارادۂ الٰہی فرشتوں اور جسم سے جدا ہوجانے والی روحوں میں منقش ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اُن فرشتوں اور روحوں کی مرضیات میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ وہ عدل کے نظام کی مناسبت سے کام کرنے لگتی ہیں۔ جسم سے جدا ہوجانے والی روح کا یہ طبعی تقاضا بن جاتا ہے۔

چناںچہ جب کوئی روح اپنے جسم سے جدا ہوجاتی ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے اُس میں عدل و انصاف کا ایسا خُلق موجود ہوتا ہے تو ملائِ اعلیٰ میں پہنچ کر بہت زیادہ خوش ہوتی ہے۔ اس طرح اُسے عدل و انصاف پر مبنی اعلیٰ قسم کی لذت حاصل کرنے کا راستہ مل جاتا ہے، جو ظلم اور ناانصافی پر مبنی پست قسم کی لذتوں سے بالکل جدا ہوتی ہے۔

اگر کوئی روح جسم سے جدا ہوئی اور اُس میں عدالت کے اس خُلق کی ضد ظلم کی بداَخلاقی موجود ہوتی ہے تو وہاں پہنچ کر اس کا حال بہت بُرا ہوتا ہے۔ اسے وہاں وحشت ہوتی ہے اور وہ بڑی تکلیف میں مبتلا ہوتی ہے۔

(نبی اکرمؐ کی بعثت کے مقاصد)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں نبی اکرم ﷺ کو اس لیے بھیجا ہے کہ آپؐ:

(الف)  لإقامۃ الدّین:دین کا نظام قائم کریں۔

(ب)         لِیُخرج النّاسَ مِن الظّلمات إلٰی النُّور:انسانوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور اور روشنی کی طرف لے جائیں۔

(ج)        یقومُ النّاس بالعدل: انسانوں میں عدل و انصاف قائم کریں۔

اب جو آدمی اس نورِ عدالت کو دنیا میں پھیلانے کی جدوجہد کرتا ہے اور لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کرتا ہے تو ایسا انسان اللہ کی رحمت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور جو آدمی عدل و انصاف کے اس بہترین نظام کو رد کرنے اور اس کو مٹانے کے لیے کام کرے، وہ ملعون اور سزا یافتہ قرار پائے گا۔

(عادل انسان اور فرشتوں کے درمیان باہمی اشتراکِ فکر و عمل)

جب کسی انسان میں خُلقِ عدالت اچھی طرح پختہ ہوجاتا ہے تو اُس کے درمیان اور عرشِ الٰہی کو اُٹھانے والے فرشتوں اور حضرتِ بارگاہِ الٰہیہ کے وہ مقرب فرشتے __ جو دنیا میں جود و سخاوت اور برکاتِ الٰہیہ کے نازل کرنے کا واسطہ بنتے ہیں __ کے درمیان اشتراکِ فکر و عمل پیدا ہوجاتا ہے۔

اس اشتراک کے نتیجے میں عدل و انصاف قائم کرنے والے آدمی اور اُن فرشتوں کے درمیان ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس طرح انسان میں یہ استعداد پیدا ہوجاتی ہے کہ اُن فرشتوں کے نورانی رنگ اُس پر نازل ہوں اور وہ اُن کے رنگ میں رنگا جائے۔ کچھ اس طرح پر کہ فرشتوں کے الہام کے نتیجے میں اُس میں اس خُلقِ عدالت کو پورا کرنے کی پوری قدرت اور طاقت حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ انسانی نظام درست کرنے کے لیے فرشتوں کے حسب ِمنشا کام کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

اَخلاقِ اربعہ کا نتیجہ؛ فقیہ اور باشعور ہونا

(الف)     اگر تم تحقیقی طور پر ان چاروں اَخلاق کی حقیقت سے واقف ہوگئے ۔

(ب)       اگر تم اس کے نتیجے میں علمی اور عملی کمال پیدا ہونے کی پوری کیفیت اور فرشتوںکی لڑی میں پروئے جانے کے عمل کو سمجھ گئے۔

(ج)        اگر تم اس کے نتیجے میں ہر زمانے میں شرائعِ الٰہیہ کے وجود میں آنے کی کیفیت کو پوری ذہانت کے ساتھ واقف ہوگئے۔

تو تمھیں بہت بڑی خیرِ کثیر اور بھلائی حاصل ہوگئی۔ اور تم دین کی تعلیمات میں ایک ایسے فقیہ اور باشعور فرد بن گئے کہ جن کے بارے میں اللہ نے خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہوا ہے۔

اَخلاقِ اربعہ کا مجموعہ ؛ فطرتِ انسانی

ان چاروں اَخلاق سے مرکب ہونے والی حالت کو ’’فطرت‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس فطرت کو حاصل کرنے کے کچھ اسباب ہیں:

(الف)     بعض علمی اسباب ہیں۔

(ب)       بعض عملی اسباب ہیں۔

اس فطرت سے انسانوں کو روکنے والے کچھ حجابات اور رُکاوٹیں ہیں۔

ان حجابات کو توڑنے کے کچھ طریقے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہم تمھیں ان تمام اُمور پر متنبہ کریں۔

اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توفیق سے اس حوالے سے جو باتیں ہم بیان کریں، تم انھیں توجہ کے ساتھ سنو اور عمل پیرا ہو۔‘‘

(باب الاصول الّتی یرجع إلیہا تحصیل الطّریقۃ الثّانیۃ)

5 / 13

پہلا مسلمان سائنس دان؛ خالد بن یزید بن معاویہؓ

پہلا مسلمان سائنس دان؛ خالد بن یزید بن معاویہؓ

ابن خلکان اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ: ’’زمانۂ اسلام میں سب سے پہلے علمِ طب میں جو شخص مشہور ہوا، وہ خالد بن یزید بن معاویہؓ اُموی ہیں۔‘‘ علامہ خالد طب و کیمیا کے علاوہ علمِ تفسیر، حدیث اور زبان و ادب میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ تاہم علمِ طب و کیمیا میں انھیں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ یونانی علم و حکمت سے واقفیت حاصل کرنے کی ابتدائی خواہش انھی خالد بن یزید کے دل میں پیدا ہوئی۔ چناںچہ انھوں نے یونانی حکما و فلاسفہ کو مصر میں جمع کیا۔ علمِ کیمیا پر یونانی و قبطی تصانیف کو عربی زبان میں ترجمہ کروایا۔ وہ چوںکہ خود بھی لسانیات کے ماہر تھے، اس لیے انھوں نے خود تراجم کی نگرانی کی۔ اپنی تجربہ گاہ بھی قائم کی۔ جورجی زیدان (Jurji Zaydan) جو ایک شامی النسل عیسائی فاضل تھے، ’’تاریخ تمدنِ اسلامی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ عرب ہی تھے، جنھوں نے موجودہ فن کیمیا کی اپنے تجربات اور ذہنی قابلیتوں سے بنیاد ڈالی۔‘‘ (ج:3، ص:84) تمام مؤرخین اور محققین کا اتفاق ہے کہ علامہ خالد کی علمی و عملی و تجرباتی کوشش سے علم کیمیا کو عملی درجہ حاصل ہوا۔ ’’کتاب الاغانی‘‘ کے شیعہ مصنف لکھتے ہیں کہ: ’’خالد بن یزید بن معاویہؓ سخاوت و فصاحت میں قریش کے بڑے لوگوں میں سے تھے۔ علمِ کیمیا میں انھوں نے اپنے آپ کو اس قدر مصروف کر رکھا تھا کہ ساری عمر اسی میں صَرف کرڈالی اور اپنے آپ کو اس میں فنا کردیا۔‘‘

خالد بن یزید نے نہ صرف علم طب و کیمیا کو سبقاً سبقاً رومی اساتذہ سے حاصل کیا، بلکہ اس موضوع پر انھوں نے متعدد کتابیں بھی لکھیں۔ بعض اہلِ تحقیق کی رائے یہ ہے کہ جابر بن حیان‘ خالد بن یزید ہی کا شاگرد تھا، لیکن بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ امام جعفر صادقؒ نے یہ علم خالد بن یزید سے حاصل کیا اور جابر بن حیان اس فن میں امام جعفر صادقؒ کے شاگرد ہیں۔ علامہ خالد نے اپنی لیبارٹری میں بعض ایسی ایجادات کیں، جن سے عربوں کو فنِ حرب میں رومیوں پر برتری حاصل ہوئی۔ رومی فوجیں لڑائی میں کریک فائر استعمال کرتی تھیں۔ یہ ایک کیمیائی مرکب تھا، جس کی ایک پچکاری چلانے سے آگ لگ جاتی تھی۔ جس چیز پر یہ مرکب پڑتا، اس میں آگ لگ جاتی۔ علامہ خالدؒ کی لیبارٹری میں اس کا فارمولا تیار کرلیا گیا۔ اس کیمیکل مرکب کی دریافت سے مسلمان آلاتِ حرب میں اَور زیادہ مؤثر ہوگئے۔

آج ہمیں اپنے ان روشن دماغ، ذہین و فطین سائنس دان سے آگہی نہیں، بلکہ سیاسی اختلافات اور مسلکی تعصبات کی بنا پر اپنی حیات افروز تاریخ کو نہ صرف فراموش کردیا، بلکہ تاریخ نویسی کے مسلمہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے قابلِ فخر شخصیات کو غلط رنگ میں پیش کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ خلافت ِبنواُمیہ کی طرف ہر بُرائی منسوب کی۔ ان کے خلاف ہر طرح کا جھوٹا سچا پروپیگنڈا کیا گیا۔

6 / 13

​​​​​​​کھوٹے سکّے

​​​​​​​کھوٹے سکّے

بانیٔ پاکستان محمد علی جناح مرحوم سے یہ منسوب ہے کہ اُن کی جیب میں سارے سکے کھوٹے تھے۔ یہ انھیں کا کمال تھا یا جماعتی عمل نہ ہونے کی مجبوری تھی کہ انھوں نے اُن تمام کھوٹے سِکّوں کو چلا کر دکھایا، لیکن ہوا یوں کہ پاکستان میں کھوٹے سکے چلنے کا سلسلہ کچھ یوں شروع ہوا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آج ہمارا تباہ شدہ انتظامی اور معاشی ڈھانچہ دراصل اُن اَن گنت کھوٹے سکوں کے تسلسل کی ایک شکل ہے، جو ہمیں ہر لحظہ بحرانوں میں مبتلا رکھتی ہے۔ آٹا، چینی، تیل، ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی اور گیس ایسی انسانی ضروریات ہیں، جن کی فراہمی پاکستان میں سال کے دوران کم از کم ایک دفعہ بحرانی شکل ضرور اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے علاوہ صحت اور خوراک سے متعلق اشیا کی رسد کب بحرانی صورت اختیار کرجائے، کہنا ممکن نہیں۔ ہمارے مقتدر طبقے کی طاقت کا محور ہی ان بنیادی انسانی ضرورتوں پر کنٹرول اور اجارہ داری سے عبارت ہے۔ چناںچہ ہم نے دیکھا کہ بہ ظاہر کوشش کے باوجود حکومت چینی اور آٹے کے بحران سے نجات حاصل نہیں کرسکی۔ گویا کھوٹے سکے وہ نتائج دے رہے ہیں، جن کی اُن سے توقع تھی۔ ایسا ہی چند ماہ پہلے تیل کی رسد کے معاملے پر ہوا، جہاں عالمی منڈی میں تیل کی انتہائی کم سطح پر آجانے والی قیمتوں کا فائدہ نہ صرف عوام تک نہیں پہنچ سکا، بلکہ اس فائدے سے حکومت بھی محروم رہی۔ نتیجہ تیل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی صورت میں نکلا۔ اس ماحول میں حکومت کی جانب سے نتیجے سے عاری نعرے بازی بھی شدت اختیار کرتی گئی۔

موجودہ حکومت نے بے بسی کے دوسالہ تجربے کے بعد بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کی حکمتِ عملی کچھ یوں وضع کی ہے کہ وزیراعظم نے خود میڈیا پر آکر یہ اعلان کردیا ہے کہ اگلا بحران گیس کا ہوگا۔ کمال سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ آمدہ سردیوں میں آنے والا بحران تو اس بحران کے سامنے کچھ بھی نہیں، جو اگلے سال آنے والا ہے۔ بڑی مہربانی وزیر اعظم صاحب کی، جنھوں نے سچ فرمایا، ورنہ تو پہلی حکومتیں اس طرح کی صاف گوئی سے کوسوں دور تھیں۔ یہاں بھی کھوٹے سکے کارفرما ہیں۔ وزیراعظم کو مسائل کا حل سمجھانے کے بجائے بتایا جارہا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ تو ایسے حقائق ہیں، جن سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ بحرانوں کا کیلنڈر سب کو روز ِروشن کی طرح واضح ہے۔ چناںچہ سردیوں میں گیس، سردیوں سے قبل آٹے، گرمیوں میں بجلی، برسات سے قبل پانی اور برسات میں چینی کے بحرانوں نے تو آنا ہی ہے۔ ان سب کے علاوہ سال میں ایک دفعہ ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال اور دیگر بحرانوں کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ شاید اب وزیراعظم صاحب اور ان کے چاہنے والوں کو جماعت سازی اور جماعتی بنیادوں پر جدوجہد کی اہمیت کا احساس ہوچکا ہو۔ کیوںکہ کھوٹے سکے مل تو آسانی سے جاتے ہیں، لیکن ان سے معیشت نہیں چلتی۔

7 / 13

نئی علاقائی صف بندی؛ مشرقِ وسطیٰ

نئی علاقائی صف بندی؛ مشرقِ وسطیٰ

23؍ستمبر 2020ء کو بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزینی اور اسرائیلی کے وزیراعظم بن یا من نیتن یاہو نے 15؍ ستمبر کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں معمول کے تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے، جسے ’’ ابراہام معاہدہ‘‘ (Abraham Accord Deal) کا نام دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ’’کم از کم پانچ یا چھ عرب ملک بہت جلد اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے‘‘۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: ’’سعودی عرب مناسب وقت پر سمجھوتہ کرنے کا اعلان کرے گا‘‘۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’’سعودی عرب کا اصل دشمن اسرائیل نہیں، بلکہ ایران ہے‘‘۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید نے کہا ہے کہ: ’’یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں تبدیلی لانے کا باعث بنے گا‘‘۔

15؍ ستمبر کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں طے پانے والے ’’ابراہام معاہدہ‘‘ کے بعد 2002ء کا ’’عرب امن منصوبہ‘‘ جسے ’’سعودی عرب امن منصوبہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، عملاً ختم ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ 2002ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں پیش کرکے منظور کروایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عرب لیگ میں شامل 22 ملکوں نے عزم کیا تھا کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نہیں کرلیا جاتا، اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے۔ نیشنل سکیورٹی کے فیکلٹی کے طلبا کی گریجویشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کھلے عام اعلان کیا تھا کہ: ’’عرب ممالک یہ راز جان گئے ہیں کہ اسرائیل سے تعاون کرنے میں توانائی موجود ہے، جس سے خطے میں اسلامی انتہا پرستی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔ ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رُسوخ کو اسلامی انتہا پسندی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے پسِ پردہ تعلقات چلے آرہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پہلی خلیجی ریاست تھی، جس نے 13؍ اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا۔ بی بی سی کی اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات ایک عرصے سے خطے میں بڑی جارحانہ اور سرگرم خارجہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔‘‘ یہ علاقائی تنازعات میں بڑھ چڑھ کر لیکن اکثر خفیہ طور پر کردار ادا کررہا ہے۔ مثال کے طور پر لیبیا اور یمن میں یہ بہت سرگرم ہے، تاکہ شدت پسند گروہوں اور ایران کو اپنا اثر و رُسوخ بڑھانے سے روکا جاسکے۔

خطے میں اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کے لیے اماراتی حکام اور ان کے ذرائع ابلاغ یہ دعوے کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں میں مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ارادے کو ترک کردیا ہے۔  انڈی پینڈنٹ اخبار کی 14؍ اگست 2020ء کی رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید کے مطابق ’’امریکی صدر ٹرمپ سے مزید فلسطینی علاقوںکو اسرائیل میں ضم کرنے کی کاروائی روکنے کا معاہدہ طے پاگیا ہے‘‘۔ جب کہ نیتن یاہو نے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ: ’’اسرائیل کے انضمام کا منصوبہ ابھی میز پر موجود ہے اور میں دریائے اُردن کے مغربی کنارے فلسطینی علاقوں کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کے وعدے پر قائم ہوں‘‘۔ سعودی اخبار کے ایک تجزیہ نگار اُسامہ یمنی کے مطابق ’’اسرائیل ایک دانش مند دشمن ہے، جب کہ آج ہمارے اصل دشمن ترکی اور ایران ہیں‘‘۔ ایک عالمی نیوز ایجنسی MEI کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ: ’’فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن ناممکن ہے‘‘۔ ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ: ’’مسئلہ کشمیر و فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا‘‘۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ: ’’چین فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی اٹل حمایت جاری رکھے گا‘‘۔

وہ بادشاہ جو آج امریکی اشیرباد سے ریت کے گھروندوں پر بادشا ہتیں سجائے ہوئے ہیں، غلامی کی بد ترین مثال بنے ہوئے ہیں۔ ماضی میں آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے مستقبل میں بھی اسی قسم کے کردار کا عملی نمونہ ثابت ہوںگے۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ آقاکی سیاسی آغوش کے کھوجا نے کے بعد تیز آندھیوں کے جھکڑ اُنھیں روند ڈالیں اور یہ اوندھے منہ گہری وادی میں جا گریں۔

8 / 13

جامع علم‘ انبیا علیہم السلام کی وراثت ہے!

جامع علم‘ انبیا علیہم السلام کی وراثت ہے!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

11؍ ستمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! انسانی معاشرے تبھی ترقی کرتے ہیں، جب وہاں ہر شعبے کے اہلِ علم موجود ہوں۔ جب تک کسی معاشرے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شعور رکھنے والے موجود نہ ہوں، وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ جہالت کی بنیاد پر معاشرے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ جہالت انسانیت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اسی لیے انبیا علیہم السلام دنیا میں علوم کے فروغ کے لیے آتے ہیں۔ نبوت کا لفظی معنی ہی باخبر کرنا اور اطلاع دینا ہے۔ نبی وہ فرد ہے، جو اللہ کی طرف سے اس بات پر مامور ہوتا ہے کہ وہ سچ اور حق، صحیح اور درست علم انسانیت کو منتقل کرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علم کی خبر دے کہ اللہ کو انسانیت سے کیا مطلوب ہے۔ اسی علم کی اساس پر دنیا قائم ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے علم سے لے کر امام الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے علومِ نبوت تک تمام انسانی معاشرے انھیں انبیا علیہم السلام کی تعلیمات پر استوار ہوئے ہیں۔ ہر دور میں ان کے علوم سے انسانیت نے استفادہ کیا ہے۔انبیا علیہم السلام کے وارثین علمائے ربانیین ہوتے ہیں، جو انبیا علیہم السلام کے علوم انسانیت تک منتقل کرتے ہیں۔ 
ہم انسانی معاشرے میں انسانی اعمال کا جائزہ لیں تو ہر عمل کے پیچھے علم و شعور کارفرما ہوتا ہے۔ علم اعلیٰ ہوگا تو عمل بھی اچھا ہوگا۔ اگر علم موجود نہیں ہوگا تو جس پستی کی سطح پر علم کی حالت ہوگی، عمل بھی ویسا ہی ہوگا۔ اس لیے دینِ اسلام نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ معاشرے میں اعلیٰ علم کے حامل اہلِ علم اور علما ہوں، ہر ہر شعبے کے ماہرین موجود ہوں، جو انسانی سماج کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا علم اعلیٰ اور جامع ہوتا ہے۔ اس میں انسانی سماج سے متعلق علوم یعنی ’’ارتفاقات‘‘ (معاشی سہولتوں) کا علم بھی ہوتا ہے اور اللہ سے جوڑنے اور روح کی طاقت اور قوت پیدا کرنے کے علوم یعنی ’’اقترابات‘‘ (تقرب ِبارگاہِ الٰہی) کا علم بھی ہوتا ہے۔ 
دین اسلام میں انسانیت کو دو خانوں میں نہیں بانٹا گیا کہ ایک علم کو دُنیوی کہا جائے اور دوسرے علم کو دینی یا اُخروی کہا جائے۔ یہ تو زوال کے زمانے کی بات اور فکری پستی کا شاخسانہ ہے۔ جہالت کے زمانے اور غلامی کے اثرات ہیں۔ دنیاوی اور دینی علوم کا فرق انسان کے اعمال کے پیچھے کارفرما نیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔‘‘ نیت تکبر اور غرور کی ہے تو اس علم کا استعمال اور اس کی بنیاد پر حکمرانی انتہائی بُری اور دنیا داری کی ہوگی۔ اگر حکومت کا مقصد امن و امان قائم کرنا، انسانی حقوق پورے کرناہو تو یہ دین داری ہے۔ اس لیے اہلِ علم وہ ہیں، جو علم کو انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ ایسے اہلِ علم کی اساس پر سوسائٹی ترقی کرتی ہے۔‘‘ 
 

9 / 13

علمائے سُو کا کردار!

علمائے سُو کا کردار!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور


11؍ ستمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’علم انسانیت کے فائدے کا کب ہوتا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے علم کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب انسان کے پاس علم آتا ہے تو وہ ایک خاص قسم کی تعلّی اور تکبر پیدا کرتا ہے۔ جاہل کے مقابلے میں ایک عالم اپنے علم کے غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وہ علم پڑھتا جاتا ہے، ویسے ویسے اس کی گردن اکڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ وہ دوسرے انسانوں کو حقیر سمجھتا ہے، جو علم نہیں رکھتے۔ پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ جو علم نہیں رکھتے، ان کو اپنے علم کی بنیاد پر جیسے چاہو بے وقوف بنا لو، لوٹ لو، مفادات حاصل کرو۔ اس طرح کا علم اور مہارت انسان کے اندر انسان دشمنی کا وصف پیدا کرتا ہے۔ اس سے باز رہنے کا طریقہ اور قانون و ضابطہ قرآن حکیم نے بتا دیا کہ صحیح علما اور اہلِ علم وہ ہیں، جن کے دلوں میں اللہ کی خشیت اور ڈر ہے۔ (القرآن 28:35) اللہ کا ڈر اور خشیت اُن کے علم کو انسانیت کے لیے مفید بناتی ہے۔ جو علم نہیں رکھتے، یا علم رکھتے ہیں اور اُن میں اللہ کی خشیت نہیں ہوتی، وہ علم فروش ہوتے ہیں۔ جیسے جہالت کی مذمت کی گئی ہے، ایسے ہی ایسے اُن اہلِ علم کی مذمت بھی کی گئی ہے، جو علم رکھنے کے باوجود اُس پر عمل نہیں کرتے۔ 
نبی اکرمؐ نے دنیا دار علمائے سُو کے بارے میں فرمایا کہ جب قوموں پر زوال آتا ہے تو ’’اُن کے علما آسمان کے نیچے زمین پر دنیا کی سب سے بدترین مخلوق ہوتے ہیں۔‘‘ (شعب الایمان للبیہقی: 1763) کیوںکہ جاہل کو تو ایک درجے میں اُس کی بے علمی سے کیے ہوئے عمل کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ اُس نے اپنی جہالت کے سبب کوئی جرم یا کوئی غلطی کی، لیکن ایک عالم جو جانتے بوجھتے ہوئے اپنے علم پر عمل نہیں کرتا تو نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ دنیا میں کرۂ ارض پر اُس سے بدتر مخلوق کوئی اَور نہیں۔ وہ عالم اُس جاہل سے زیادہ بدتر ہے، جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا۔ ایک دین کا عالم، جس نے قرآن و حدیث پڑھا، اُسے پتہ چل گیا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے۔ اور اس حلال و حرام کے باوجود وہ قرآن کے علم کو بیچتا ہے۔ فروخت کرتا ہے۔ اپنی دینی وجاہت کو سرمایہ پرستی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ خواہ وہ کسی فرقے کا ہو، کسی مذہب کا ہو، کسی دین سے تعلق رکھتا ہو، وہ دین فروشی کا سب سے بدترین کام کرتا ہے۔ 
یاد رکھیے! دنیا کے کسی شعبے سے متعلق علم کا ایک عالم، کوئی انجینئر، پروفیسر، ڈاکٹر، کوئی سیاست دان بھی اگر ناجائز طور پر اپنا علم فروخت کرتا ہے، اپنے علم کا غلط استعمال کرتا ہے، اپنے شعبے سے متعلق منفی کردار ادا کرتا ہے تو اُس کا دائرہ اس دنیا تک محدود ہے، لیکن جس نے دین فروشی کی، اس نے نہ صرف دنیا کا نقصان کیا، بلکہ آخرت کا نقصان بھی کیا۔ اس لیے وہ زیادہ بدتر، فتنہ پرور اور زیادہ انسان دشمن ہے۔ اس نے دنیا بھی بیچی، دین بھی بیچا اور آخرت بھی بیچی۔ دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود بھی بیچی۔ اس کے لیے بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔‘‘ 

10 / 13

علم کے منافقین!

علم کے منافقین!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

11؍ ستمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’حضرت عمرفاروقؓ فرماتے ہیں کہ: ’’مجھے اس اُمت پر اُس انسان سے ڈر ہے، جو صاحب ِعلم ہو اور منافق (المنافق العلیم) ہو۔‘‘ (الاحادیث المختارہ: 236) جو علم رکھتا ہے اور منافق ہے۔ ایک جاہل منافق ہو تو ہوسکتا ہے جہالت کی وجہ سے اس کی زبان اور عمل میں فرق ہو، لیکن جس کے پاس علم بھی ہو، اس کے باوجود منافقت کرے۔ وہ ’’المنافق العلیم‘‘ ہے۔ ایسا مسلمان جو کلمہ پڑھے، اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے، لیکن ایمان کے مطابق عمل نہ کرے، اس کے بارے میں اللہ پاک نے تین باتیں فرمائی ہیں کہ وہ یا منافق ہے، یا فاسق ہے، یا فاجر ہے۔ عقیدے کا منافق وہ ہے، جو ظاہری طور پر ایمان لائے، لیکن اس کے دل میں کفر کی محبت ہو۔ فاسق وہ ہے، جس نے کلمہ تو زبان سے پڑھا اور پہلی مرتبہ دل سے تصدیق بھی کی، لیکن اس ایمان لانے کے نتیجے میں اللہ نے جو اعمال کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اعمال نہ کرے۔ اس کے عمل اور ایمان میں مطابقت نہ ہو۔ فاجر وہ ہے کہ جو ایمان بھی لائے، بہ ظاہر نیک عمل بھی کرے، لیکن عمل جس روح کے مطابق ہونا چاہیے، اس کے مطابق نہ کرے۔ اس عمل سے جو نتیجہ مطلوب و مقصود ہے، وہ پیدا نہیں کرتا۔ حیلہ کرکے جان بچانا چاہتا ہے۔ جو تربیت حاصل ہونی چاہیے تھی، وہ اُس کے اندر نہیں آئی۔ 
ایسے ہی منافق اہل علم کی بھی تین قسمیں ہیں: ایک وہ جو علم نہ رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو عالم کہے۔ منافقت کی شکل یہ ہے کہ عالم تو نہیں ہے، حقیقت میں اُسے مہارت حاصل نہیں ہے، کام کرنا آتا نہیں، محض رسمی طور پر کسی یونیورسٹی سے ڈگری لیے ہوئے ہو۔ دوسرا وہ ہے جو اپنے علم پر مہارت رکھتا ہے، بات درست سمجھتا ہے، لیکن اُس کے مطابق عمل نہیں کرتا۔ وہ اپنی مہارت کے علیٰ الرغم دولت کمانے کے لیے مفاد پرستی کے لیے عمل کرتا ہے۔ ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفاد کو سامنے رکھتا ہے۔ تیسرا وہ ہے جو ظاہری طور پر اپنے علم پر عمل کرتا ہے، لیکن ساتھ قانون شکنی بھی کرتا ہے۔ مثلاً ایک ڈاکٹر بہ ظاہر دوائی صحیح لکھ کر دیتا ہے، لیکن دوائی میں ہو کچھ نہ، صرف لیبل ہو اور اس کے اندر وہ سالٹ ہی نہ ہو، جس سے مریض صحت یاب ہو۔ وہ دوا جعلی ہے۔ مریض پر اثر نہیں کرتی۔ 
اسی طرح ایک شخص قرآن و سنت کاعالم ہو، لیکن سرمایہ پرستی کے نظام کا ایجنٹ بن جائے، جو حکمران طبقے چاہیں، وہ کرے۔ حکمران کہیں کہ یہ لڑائی جہاد ہے تو سارے مذہبی رہنما جہاد کا اعلان کردیں۔ حکمران کہیں کہ یہ فساد ہے تو وہ کہیں فساد ہے۔ حکومت فرقہ واریت پیدا کرنے کا کہے تو فرقہ واریت پھیلا دیں، اور فرقہ واریت ختم کرنے کا کہا جائے تو سب ملّی یک جہتی کونسل بنا کر سامنے آجائیں۔ اس طرح اگر دین کے عالم ظلم کے نظام کی ایجنٹی کریں، اُس کے سامنے موم کی ناک بن جائیں، اُن کے لیے فتوے دیں، اُن کے لیے مفادات اور مراعات کا کام کریں تو یہ بھی ’’المنافق العلیم‘‘ (صاحب ِعلم منافق) ہیں۔‘‘ 
 

11 / 13

علوم پر قابض مافیاز!

علوم پر قابض مافیاز!

رپورٹ: سیّد نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

11؍ ستمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’حضوؐر نے فرمایا تھا کہ مسلمانو! تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ کیا ان سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ حضوؐر نے فرمایا کہ اَور کون ہوسکتے ہیں؟ (صحیح بخاری و مسلم) آج سرمایہ پرستی کے اس دور میں جہاں طاغوتی نظام اور سرمایہ پرستی کا سسٹم موجو دہے، علم فروشی جاری ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے یہود و نصاریٰ کرتے تھے۔ سیاست کے نام پر مسلط ماہرین ملکی وسائل لوٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جو بیوروکریٹ علم اور مہارت رکھتا ہے، وہ سرمایہ پرستی میں ڈوب رہا ہے۔ آج کے اخبار میں آپ نے خبر پڑھی ہوگی کہ ایکسائز کے دفتر کے ملازم کے گھر سے تینتیس کروڑ روپے کیش ملا۔ کیا مہارت ہے اس ملازم کی؟ کیا دولت لوٹنے اور قوم پر ڈاکہ ڈالنے کی مہارت ہے؟ اتنی تو اس کی تنخواہ نہیں ہے، جتنے اثاثے ہیں۔ کس کس کو اٹھاؤ گے؟ یہاں کا تاجر،  سیاست دان، صنعت کار، جاگیردار، نام نہاد مذہبی رہنما، یہاں کے افراد میں جس کو جس درجے کا علم حاصل ہے، وہ اتنا ہی علم فروش ہے۔ اس کے دل سے اللہ کا ڈر اور خوف نکل گیا۔ 
آج وطنِ عزیز میں اہلِ علم پر مشتمل مافیاز کا تسلط ہے۔ مذہبی مافیاز، صحت کے مافیاز، انجینئروں کے مافیاز، سیاست دان اور بیوروکریسی کے مافیاز، ریاست کے لیے قانون کی حکمرانی کے ٹھیکے دار قانون دان اور رول آف لاء قائم کرنے کے دعوے دار مافیاز پوری ریاست کو اپنے شکنجے میں کسے ہوئے ہیں۔ دنیا عذاب میں مبتلا ہے۔ اذیت کی حالت میں ہے۔ سرمایہ پرستی کا عفریت سوسائٹی پر مسلط ہے۔ ہر آدمی پریشان ہے، لیکن مذہبی رہنما خوش ہے، ڈاکٹر خوش ہے، انجینئر خوش ہے، سیاست دان اور بیوروکریٹ خوش ہیں۔ پیروں کے مافیاز خوش ہیں، جو نذر و نیاز وصول کرکے انسانوں کی جیبوں سے پیسے نکالتے ہیں۔ یہ تمام ایسے مافیاز ہیں، جو علم کے نام پر علم فروشی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ اس حدیث کے مصداق نہیں ہیں، جس میں حضوؐر نے فرمایا کہ سنو! لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ اُن کی مسجدیں بھری ہوئی ہوں گی، لاکھوں کے مجمعے ہوں گے، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔ (شعب الایمان للبیہقی: 1763) بڑے بڑے علما ہوں گے۔ بڑے اچھے وعظ کہیں گے۔ تقریریں بڑی اچھی بیان کریں گے، لیکن علم فروش ہوں گے۔ عمل درآمد نہیں کریں گے۔ جو کہیں گے، وہ عمل نہیں کریں گے۔ کیا آج ہمارے سامنے بالکل وہی صورتِ حال اور نقشہ نہیں ہے ؟ 
ایسے موقع پر توبہ کا حکم دیا گیا ہے کہ اے تمام لوگو! واضح طور پر توبہ کرو۔ علم فروشی سے باز آجاؤ۔ سرمایہ پرستی کے دائرے سے نکلو۔ اللہ کا ڈر پیدا کرو۔ یہ بائیس کروڑ مخلوق تمھاری وجہ سے عذاب اور اذیت میں مبتلا ہے۔ یہاں کی انسانیت سسک رہی ہے۔ مظلوم ہے۔ حقوق سے محروم ہے۔ سچا انسان وہ ہے، جو قرآن کے اس پیغام کو سنے، سمجھے، عمل کرے اور دوسروں تک پہنچائے۔ اپنی زندگی اور کردار کو درست بنائے۔ بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب کل انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے اپنے دائرے میں کردار ادا کرے۔ وہی دنیا میں کامیاب ہے اور وہی آخرت میں کامیاب ہے۔‘‘

12 / 13

حضرت مولاناحبیب الرحمن رائے پوریؒ

حضرت مولاناحبیب الرحمن رائے پوریؒ

تحریکِ خلافت، تحریکِ عدمِ تعاون اور ’حزب الانصار‘ جیسی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کرنے والوں میں ایک نام مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کا بھی ہے۔ ان کی پیدائش 21؍ اپریل 1899ء کو موضع ’جنال‘ ضلع سنگرور میں سردار بگا سنگھ کے ہاں ہوئی۔ پیدائشی نام ’بلویندر سنگھ ‘ تھا۔ ابتدائی تعلیم ضلع انبالہ کے ورنیکلز مڈل اسکول اور فرید کوٹ کے برجندرا ہائی سکول سے حاصل کی۔ مولاناؒ نے 14سال کی عمر میں اَخبارات اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو دور کے سیاسی حالات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب عوام و خواص ہندوستان کی جدوجہد ِآزادی میں سرگرم تھے۔ انھیں حالات میں مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کے ذہن میں بھی حریت پسندی کا شوق بیدار ہونے لگا۔ فرید کوٹ میں قیام کے دوران ان کی ملاقات ایک نعت گو شاعر مولانا محمد علی رومؒ سے ہوئی تو ان کی رہنمائی میں دینِ اسلام کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ 
’بلویندر سنگھ‘ دینِ اسلام کی انسان دوست تعلیمات سے اس قدر متأثر ہوئے کہ 1915ء میں صرف 16 سال کی عمر میں حضرت سیّد جعفر شاہؒ کے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کرلیا۔ سیّد صاحبؒ نے ان کا نام ’حبیب الرحمن‘ رکھا۔ خاندان کی مخالفت کے خوف سے 4 سال تک اسلام کا اظہار نہیں کیا۔ 1919ء میں جب اظہارِ اسلام کیا تو دل چاہا کہ حجاز شریف میں مستقل سکونت اختیار کرلی جائے، لیکن وطنِ عزیز کی غلامی انھیں تڑپا رہی تھی۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ہندوستان کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔ یہ سیاسی گہما گہمی کا دور تھا۔ سکول کی تعلیم کے دوران ہی مولاناؒ کی ملاقات ایک صوفی منش سیّد ریحان مصطفی شاہؒ سے ہوئی۔ شاہ صاحبؒ کا سیاسی ذوق ہونے کی وجہ سے مولانا موصوفؒ کو ان سے خوب استفادے کا موقع ملا۔ برعظیم کی سرزمین پر انگریزوں کے جابرانہ قبضے کے خلاف مولاناؒ کے اندر نفرت گو اوائل عمر ہی میں پیدا ہو گئی تھی، اب سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ چھوٹی بڑی جماعتوں کی صورت میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ مولاناؒ بھی مانک پور میں جاری ایک خفیہ انقلابی سوسائٹی کے ساتھ جڑ گئے۔ 1920ء میں تحریکِ خلاف کا آغاز ہوا تو اس میں سر گرم کردار ادا کرنے لگے۔ انگریزوں کے خلاف تحریکِ عدمِ تعاون میں بھی لوگوں سے رابطوں میںرہے اور انھیں جدوجہد کے لیے تیار کرنے لگے۔ تحریک میں تیزی لانے کی خاطر مولاناؒ نے خان پور کھرڑ ضلع انبالہ کی تحریکِ سول نافرمانی کے رہنمائوں سے رابطے پیدا کیے۔ 
مولانا حبیب الرحمنؒ مذکورہ تحریکات میں حصہ لینے کی پاداش میں10؍ مارچ 1922ء کو گرفتار کیے گئے اور انبالہ جیل میں قید میں رکھا گیا۔ اس قید کے دوران ان کی ملاقات اَحراری رہنماؤں؛ چوہدری افضل حقؒ، خواجہ عبدالرحمن غازیؒ اور شیخ حسام الدینؒ وغیرہ سے ہوئی۔ جیل میں قیام کے دوران ہی قرآنِ حکیم کا ترجمہ، مثنوی مولانا روم، فقہ اور تفسیر کی تعلیم بھی حاصل کرلی۔ قید کے دوران مولاناؒ نے قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے بہیمانہ سلوک کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون بھی لکھا، جو لاہور کے ایک اخبار نے ’جیل نمبر‘ میں شائع کیا۔ فروری1923ء میں مولاناؒ کو جیل سے رہائی ملی۔ 
1923ء میں حضرت مولانا اللہ بخش بہاول نگریؒ اور حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے ’منی مرزعہ، انبالہ‘ میں قیام کے دوران مولاناؒ کی ملاقات ان حضراتؒ سے ہوئی تو ان کے گرویدہ ہو گئے۔ 1924ء میں حضرت مولانا اللہ بخش بہاول نگریؒ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ 1926ء میں انھوں نے ایک سیاسی انقلابی دستور مرتب فرمایا، جس میں ہندوستان کی مکمل آزادی کے حوالے سے منشور دیا گیا تھا۔ اس منشور کو مفتیٔ اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا ظفر علی خاںؒ اور خوا جہ حسن نظامیؒ نے بہت پسند فرمایا اور اس کوشش کو سراہا۔ 
سیاسی تحریکات میں حصہ لینے اور سیاسی شعور کی بیداری کی تحریکات کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے حوالے سے بھی مولانا حبیب الرحمنؒ سرگرم رہے۔ 1934ء میں دینِ اسلام کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنے آبائی گائوں میں مسجد اور مدرسے کی بنیاد رکھی۔ 1937ء تک اس مدرسے نے ایک بڑے مرکز کی شکل اختیار کرلی تھی۔  میاں جیو اللہ دین کو مرکز کی ذمہ داری سونپ کر مولاناؒ 1935ء میں مستقل قیام کے لیے  رائے پور تشریف لے آئے۔ 1937ء میں حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی زیرِسرپرستی نوجوانوں کی علمی، فکری اور تنظیمی تربیت کے لیے ’حزب الانصار‘ کے نام سے رائے پور میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔ 1938ء میں اس کا دستور مرتب کیا گیا اور مولانا موصوفؒ اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔ 1939ء میں جب امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ وطن واپس تشریف لائے تو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے انھیں ولی اللّٰہی علوم و افکار کی تعلیم کے لیے حضرت سندھیؒ کی خدمت میں جامعہ ملیہ دہلی بھیجا۔ 1940ء میں حضرت رائے پوریؒ کے حکم سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم سے متعلق ایک کتاب ’فلسطین الشہیدہ‘ ملک بھر میں تقسیم کی اور ’حزب الانصار‘ کے پلیٹ فارم پر بھی اس مسئلے کو خوب بیان فرمایا۔ 1945ء میں کانگریس کمیٹی ضلع سہارن پور کے صدر منتخب ہوئے اور اس حیثیت سے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ 1947ء کے فسادات کے موقع پر یو۔پی حکومت کی طرف سے اعزازی سپیشل مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ اس منصب پر انھوں نے مسلمانانِ ہند کے تحفظ اور حقوق کی ادائیگی کے لیے جدوجہد فرمائی۔ 1946ء میں مولاناؒ نے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی مجالس کو قلم بند کرنا شروع کیا، جو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع ہوئیں۔ 
1947ء کے بعد مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کی جدوجہد ِآزادی کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ہندوستان کا ’آزادی ایوارڈ‘ دیا گیا۔ اسی طرح یو۔پی حکومت اور کانگریس کمیٹی کی جانب سے بھی اعزازات سے نوازا گیا۔ 1956ء میںحضرت مولانا محمد اشفاق رائے پوریؒ کے وصال کے بعد مولاناؒ خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے متولّی مقرر کیے گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کے ساتھ اَسفار میں شریک رہتے تھے۔ 21؍ نومبر1981ء کو مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کا انتقال رائے پور ضلع سہارن پور میں ہوا۔ تدفین خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں ہوئی۔ 

13 / 13

ادارہ رحیمیہ کی نئی ویب سائٹ  کا افتتاح

ادارہ رحیمیہ کی نئی ویب سائٹ  کا افتتاح

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے قیام کے بنیادی مقاصد میں سے اہم ترین مقصد اسلام کے حقیقی مقاصد و اہداف سے لوگوں کو آگاہ رکھنا ہے۔ اس لیے اپنے قیام (2001ئ) کے محض ایک سال بعد ہی ادارہ رحیمیہ کی انتظامیہ نے ذرائع ابلاغ کے اس اہم ترین Tool پر کام کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ لانچ کردی تھی۔ جدت و ارتقا انسانی زندگی اور ٹیکنالوجی کا اہم ترین قانون ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی ٹیکنالوجی کمپیوٹر، لیپ ٹاپ سے ہوتی ہوئی بہ تدریج موبائل فون میں سمٹنا شروع ہوگئی ہے۔ یہ تقاضا شدت اختیار کرتا گیا کہ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کی ویب سائٹ کو بھی جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے۔ گزشتہ دور میں خود ادارہ رحیمیہ کے پلیٹ فارمز سے اشاعت، لیکچرز اور خطبات وغیرہ کے جو نئے سلسلے شروع کیے گئے ہیں، انھیں ویب سائٹ کے اندر سمویا جائے۔ 
اس ہدف کے حصول کے لیے حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ (ناظمِ اعلیٰ ادارہ) کی زیر صدارت ادارہ کی مجلس منتظمہ کے اراکین جناب ڈاکٹر عبدالرحمن راؤ، مولانا ڈاکٹر محمدناصر اور مولانا محمدعباس شاد کا مؤرخہ 16؍ فروری 2020ء کو اجلاس ہوا، جس میں جناب حافظ محمدعرفان صادق کو ادارہ رحیمیہ کی ویب سائٹ جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ٹاسک سونپا گیا۔ اس کے لیے انھوں نے بین الاقوامی شہرت اور مہارت کی حامل مندرجہ ذیل احباب کی ٹیم تشکیل دی اور ان سے کام لیا: 
چیئرمین: جناب حافظ محمدعرفان صادق، سکرم ماسٹر: شاہد ریاض، بزنس ریکوائرمنٹ ٹیم: شاہدریاض اور احسن حسین۔ ڈیویلپمنٹ ٹیم: محمدعارف ٹیم لیڈر، ممبران: ملک شہزاد، محمدمزمل اور محمدعمیر۔ انفراسٹرکچر ٹیم: شاہد ریاض اور امین اللہ۔ ڈیزائن: شاہد ریاض، احسین حسین، محمدعمیر اور محمدخلیل۔ کوالٹی اشورنس ٹیم: احسن حسین ٹیم لیڈر، ممبران: محمدشفاعت نواز، شہریار اور محمدعلی خالد۔ ڈیٹا اپ لوڈ ٹیم: وسیم اعجاز اور حافظ اظہرمسعود۔ 
اس ٹیم نے 12؍ مارچ 2020ء کو طے کردہ فیچرز حضرت اقدس آزاد رائے پوری مدظلہٗ کو پیش کیے۔ 20؍ اپریل 2020ء کو ڈیزائن پاس ہوا اور الحمدللہ ۲۸؍ رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ / 22؍ مئی 2020ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ، ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن مدظلہٗ اور مولانا محمدمختارحسن مدظلہٗ نے بٹن دبا کر رحیمیہ ویب سائٹ کے انگریزی ورژن کے ڈیویلپمنٹ کے عمل کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس کا اُردو وَرژن بھی جاری کیا جائے۔ چناںچہ مؤرخہ 11؍ جولائی 2020ء کو اُردو ویب سائٹ کے ضروری فیچرز کی فہرست تیار کی گئی اور بنیادی ڈھانچے پر کام شروع کیا گیا۔ رحیمیہ آئی ٹی ٹیم نے محض 14 دنوں کے اندر اندر یہ کام بھی مکمل کردیا۔ 22؍ اگست 2020ء کو ادارہ رحیمیہ کی مرکزی مجلس کے شرکا کے سامنے رحیمیہ  آئی ٹی ٹیم کی طرف سے حافظ محمدعرفان صادق اور دیگر ممبران نے رحیمیہ ویب سائٹ کے اُردو وَرژن پر پریزینٹیشن دی۔ اسی موقع پر تمام مرکزی مجلس منتظمہ، عاملہ اور شوریٰ کے احباب نے اردو ویب سائٹ کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر سرپرست ادارہ رحیمیہ حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن نے ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا: 
’’نحمدہٗ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ، أمّا بعد! سب سے پہلے تو آپ سب دوستوں کو اس بنیادی پروجیکٹ کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے پر پوری ہماری مرکزی مجلس کی طرف سے آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ کام یقینا اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ جو آج کا دور ہے رابطوں کے حوالے سے، وہ خاصا تیز ہوچکا ہے اور چند لمحات میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک معلومات پہنچتی ہیں۔ ہم بہت عرصے سے سنتے آرہے ہیں کہ دنیا گلوبل ویلج ہے۔ یہ ساری اُس کی علامات ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے کہ ہم اپنا ابلاغ زیادہ سے زیادہ کس طرح وسیع بنائیں۔ یہ اس کا بڑا اہم ذریعہ ہے۔ ادارہ رحیمیہ کی ویب سائٹ جس کے ذریعے پوری دنیا میں جہاں بھی اس فکر سے وابستہ لوگ ہیں، یہ ویب سائٹ اُن کو جوڑتی بھی ہے، اس کے ذریعے ان تک بروقت متعلقہ معلومات اور ہمارا علمی مواد انشاء اللہ اُن تک پہنچ رہا ہے۔ مزید بہتر طریقے سے پہنچے گا۔ اس ٹیم میں جو آپ دوست مختلف حیثیتوں میں کام کر رہے ہیں، یہ بہت بڑی ذمہ داری آپ ادا کر رہے ہیں۔ انشاء اللہ آپ کی اس کاوش سے دوستوں کو بھی بہت فائدہ ہوگا اور یقینا آپ کے لیے بھی ایک بہت بڑے اجر کا ذریعہ بنے گا۔ ہمارے جتنے بھی یہاں پر مرکزی دوست بیٹھے ہیں، وہ سب آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انشاء اللہ ہمارا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رہے گا۔ ہماری طرف سے جن چیزوں کی ضرورت ہوگی، تو انشاء اللہ ان کو پورا کرنے کی کوشش ہوگی۔

۔ باقی آپ کی جو محنت ہے، وہ اپنی جگہ پر زیادہ مؤثر طریقے سے ہم تک پہنچی ہے۔ بہت شکریہ!‘‘

اس کے بعد حضرت اقدس آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا: ’’پورے سلسلے کو مبارک باد ہو۔ ماشاء اللہ آپ جو محنت کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں ہم سب دوستوں کو اس نظریے کے ابلاغ اور پھیلاؤ کے لیے کام کرنے کی توفیق دے۔ یہ یقینا اس وقت بہت اہم اور بنیادی کام ہے۔ جیسا کہ ابھی لاک ڈاؤن کے زمانے میں اس کا بہت فائدہ ظاہر ہوا ہے۔ ہمیں تمام چیزوں کو اس طریقے سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے آپ زیادہ بہتر انداز میں کام کریں گے، اس کا بہت دوستوں کو فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ تمام حضرات کو جزائے خیر دے اور آپ کی محنتوں کو قبول فرمائے۔‘‘

مؤرخہ 20؍ ستمبر 2020ء سے الحمدللہ ادارہ رحیمیہ کی اردو و انگریزی زبانوں پر مشتمل ویب سائٹ زیر استعمال ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا بھرپور فیڈ بیک دیں، تاکہ اسے مزید بہتر بنایا جاسکے۔ ادارے کی ویب سائٹ و دیگر معلومات رسالہ ہذا کے سرِورق پر موجود ہیں۔ وہاں سے دیکھی جاسکتی ہیں۔

شمارہ ختم

واپس