تعلیم و تربیت کے لیے کتابِ ہدایت ضروری ہے!

وَإِذ آتَينا موسَى الكِتابَ وَالفُرقانَ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ. وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يا قَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ فَتوبوا إِلىٰ بارِئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم عِندَ بارِئِكُم فَتابَ عَلَيكُم ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
(اور جب ہم نے دی موسیٰ کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام، تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ۔ اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے: اے قوم! تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنا کر، سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف، اور مار ڈالو اپنی اپنی جان، یہ بہتر ہے تمھارے لیے تمھارے خالق کے نزدیک، پھر متوجہ ہوا تم پر، بے شک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان)۔ (البقرہ: 53-54)
گزشتہ آیات میں ذکر کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو آزادی دلائی۔ اس موقع پر انھیں تعلیم و تربیت کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں چالیس دن تک اپنے پاس طور پہاڑ پر رکھا۔ اس دوران بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آکر سخت ناراض ہوئے، جس پر انھوں نے معافی مانگی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں معاف کیا۔
ان آیات میں بتلایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعلیم و تربیت اور ہدایت کے لیے تورات ایسی عظیم کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عنایت فرمائی اور شخصی تہذیب و تربیت کے حوالے سے سچی توبہ کا درست طریقۂ کار بتلایا گیا ہے۔
وَإِذ آتَينا موسَى الكِتابَ وَالفُرقانَ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ.
: اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل پر تورات کے نزول کے حوالے سے اپنے ایک عظیم ترین انعام کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ کسی قوم کو آزادی اور حریت کے بعد سب سے پہلی ضرورت ایک ایسے قانون، دستور اور آئین کی ہوتی ہے کہ جس پر عمل کرکے وہ اپنی شخصی تہذیب، ملکی نظام، قومی اور بین الاقوامی سیاسی اور معاشی ترقی کے حوالے سے کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکے۔ ان قوانین پر عمل کرکے وہ اپنے اندر ایسی استعداد پیدا کرے، جو اُن کی دُنیوی اور اُخروی ترقی کا باعث ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لیے قومی ترقی اور اُخروی کامیابی کا جامع پروگرام لائے تھے۔ اس لیے انھیں تحریر شدہ احکامات پر مشتمل کتاب دی گئی، اور اس کتاب پر عمل کرنے کے لیے انھیں ایسا فہم اور شعورِ الٰہی عنایت کیا گیا، جو حق و باطل میں فرق و امتیاز کرنا سکھاتا تھا۔ اس کا مقصد بنی اسرائیل کو انسانی زندگی کی تعمیر و تشکیل کے لیے درست راستہ دکھانا اور انھیں منزلِ مقصود تک پہنچانا تھا، تاکہ وہ تعلق مع اللہ کے ذریعے سے صفت ِاحسان حاصل کرکے شخصی تہذیب ِنفس بھی حاصل کریں اور قومی آزادی کے سیاسی اور معاشی فوائد بھی خوبی کے ساتھ حاصل کریں۔
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ يا قَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ
: تعلیم و تربیت میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ انسان ظلم اور عدل کے درمیان پہچان پیدا کرے۔ اُس سے جو ظلم اور زیادتی ہوئی ہے، اُس سے واقفیت حاصل کریں۔ غلطیوں سے سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ غلطی کو غلطی مانے بغیر توبہ نہیں ہوتی۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بچھڑے کو خدا بنا کر پوجا کی تھی۔ جب تک وہ تورات کے احکامات کی روشنی میں اس کو ظلم اور شرک سمجھ کر اپنی غلطی نہیں مانتے، تعلیم و تربیت نہیں حاصل کرسکتے۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچھڑے کی پوجا کرنے والے بنی اسرائیلی گروہ سے کہا: تم اپنے اس شرک اور ظلم کو غلطی کے طور پر تسلیم کرو کہ تم نے اللہ کے مقابلے میں ایک بچھڑے کو خدا بنا کر پوجا کی ہے۔
فَتوبوا إِلىٰ بارِئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم عِندَ بارِئِكُم
: اس شرک و ظلم اور عظیم غلطی پر اچھی طرح دلی ندامت اختیار کرکے اپنے پیدا کرنے والی ذات کے سامنے توبہ کرو اور اپنے آپ کو پاک بنانے کے لیے اُس کے حوالے کردو۔ اور قتل ہونے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ چناںچہ بنی اسرائیل کے جن لوگوں نے بچھڑے کو سجدہ نہیں کیا تھا، لیکن غلطی کرنے والوں کو روکا بھی نہیں تھا۔ انھیں حکم دیا گیا کہ وہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو قتل کریں، تاکہ اُن کے دلوں میں اس ظلم و کفر کی نفرت بیٹھے اور ان دونوں گروہوں کے دلوں کا روگ ختم ہو۔ بنی اسرائیل کے وہ لوگ جنھوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کا ساتھ دیا اور ان پوجا کرنے والوں سے نفرت رکھی، انھیں توبہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ باقی دونوں جماعتوں کے دلوں کے روگ کو دور کرنے کے لیے ایسی توبہ ضروری تھی۔ اس طرح توبہ کرنا تمھارے پروردگار کے نزدیک سب سے بہتر عمل ہے۔ اس لیے کہ انسان ظلم اور غلطیوں سے توبہ کے بعد ہی اپنی زندگی میں ترقی یافتہ تعلیمات سے پورے طور پر تہذیب یافتہ بنتا ہے۔
فَتابَ عَلَيكُم ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّحيمُ
: اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعلیمات انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ہیں۔ غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں۔ انسان جب اپنی غلطی مان کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ ضرور اُسے معاف کرتا ہے۔ توبہ کے نتیجے میں ترقیات حاصل ہوتی ہیں۔ احکاماتِ الٰہی کو درست طو رپر سمجھنے کا ملکہ اور صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو تعمیر کرنے کا صحیح جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
اس سورت کی آیت 49 سے لے کر آیت 56 تک بنی اسرائیل کے نفسانی امراض کے علاج، شخصی طور پر مسئولیت اور تہذیب ِاَخلاق سے متعلق امور بیان کیے گئے ہیں۔ انھوں نے ابھی غلامی سے نجات حاصل کی تھی۔ غلامی کے زمانے کے اثرات اُن پر بڑے گہرے تھے۔ ان آیات میں اُس حوالے سے ان کی شخصی تہذیب کرتے ہوئے اللہ کے حضور احسان کی صفت کے صحیح اور درست مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے۔
رمضان میں نماز ِتراویح کی اہمیت

(حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپﷺ نے ماہِ رمضان کا ذکر کیا تو اسے تمام مہینوں میں افضل قرار دیا اور فرمایا: ’’جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رات کو اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے ہی نکل جائے گا، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو‘‘۔)
اس حدیث میں رمضان اور اس کی راتوں میں قیام کی فضیلت ذکر کی گئی ہے۔ قرآن حکیم کے بیان کے مطابق رمضان کا مہینہ اس لیے افضل ہے کہ اس میں انسانوں کو ایسی کتاب عطا کی گئی جو واضح ہدایت پر مبنی ہے۔ (البقرہ:185) یہ کتاب عقل و شعور عطا کرتی ہے۔ حق و باطل میںتمیز کرنے کا فہم پیدا کرتی ہے۔گویا رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے۔
رمضان المبارک میں تراویح کی ادائیگی کو علمائے اُمت نے قیام اللیل میں شمار کیا ہے۔ تلاوت و سماعِ قرآن کی وَجہ سے قیام اللیل کی یہ صورت مزید اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ زیرنظر حدیث کی رو سے رمضان المبارک میں جس نے رات کو اُٹھ کر عبادت کی تو بشرطِ قبولیت یہ قیام اور عبادت‘ اسے گناہوں کے اَثرات سے اس طرح پاک کر دے گی کہ جیسے پیدا ہونے والابچہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے، مگر آج کل اس اہم عبادت کی اہمیت کم کرنے کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے۔
رمضان المبارک دیگر گیارہ مہینوں کی نسبت عبادات کے حوالے سے بڑا افضل مہینہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر روزے فرض کیے ہیں۔ رات کو خصوصی اہتمام کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہونا‘ احادیث سے ثابت ہے۔ متعدد احادیث اس بات کی ترغیب پر مبنی ہیں کہ مسلمان کو رمضان کی راتوں میں کچھ وقت نکالنا چاہیے، تاکہ وہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حضرت عمرفاروقؓ نے اُمت میں تراویح کا طریقہ جاری کیا، تاکہ توجہ الیٰ اللہ کی اجتماعی صورت قائم ہوسکے۔ عبادت کی یہ شکل خود حضورؐ سے بھی ثابت ہے، لیکن آپؐ نے اسے مستقل طور پر اس لیے اختیار نہیں کیا کہ کہیں یہ اُمت پر فرض نہ کردی جائے۔ اس دنیا سے آپؐ کے رخصت ہوجانے کے بعد چوںکہ اَب فرضیت کا امکان ختم ہوگیا، اس لیے حضرت عمرفاروقؓ نے اس کو سنت عمل قرار دے دیا اور حدیث کی رو سے خلفائے راشدینؓ کے طریقے کی پابندی اُمت پہ لازم ہے۔ (رواہ ابودائود) علمائے اُمت میں تراویح کا اہتمام ہمیشہ نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ گویا اس عمل کی دلیل عملِ رسولؐ، سنتِ خلفائے راشدین، اتفاقِ صحابہؓ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور رمضان المبارک کی دینی و تربیتی سرگرمیاں

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حضور اقدس سے 10نبوی میں نکاح ہوا۔ آپؓ درس گاہِ نبوی سے براہ راست فیض یاب ہوئیں۔ آپؓ انتہائی ذہین اور حاضر جواب تھیں۔ نہایت سخی اور فیاض تھیں۔ علمی بصیرت اور فقاہت کے اونچے درجے پر فائز تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ کرامؓ آپؓ سے نہایت مشکل اور پیچیدہ مسائل دریافت کرتے تھے۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے فقہ، طب اور شاعری میں حضرت عائشہؓ سے زیادہ کسی کو عالم نہیں پایا۔ ادب وخطابت میں بھی آپؓ کا پایہ نہایت بلند تھا۔ آپؓ نے رمضان المبارک کے حوالے سے رسول اللہؐ کے معمولات و مشاغل بڑے اہتمام سے نقل کیے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضوؐر نے فرمایا: ’’جس نے ایمان کے ارادے سے تراویح میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے‘‘(مجمع الزوائد)۔
آپؓ فرماتی ہیں کہ حضوؐر نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھائی۔ لوگوں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر اگلے دن بھی نماز پڑھائی، پھر چوتھی رات بھی، اس کے بعد تشریف نہیں لائے۔ لوگ شوق وطلب کے ساتھ کثرت سے جمع ہوئے اور جماعت میں شریک ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے آنے سے کسی چیز نے منع نہیں کیا، سوائے اس کے کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ہو جائے‘‘۔ یہ واقعہ رمضان کا تھا‘‘۔ (صحیح بخاری)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: ’’جب ماہِ رمضان آتا تو نبی کریمؐ کا رنگ بدل جاتا، آپؐ کی نماز میں اضافہ ہوجاتا، آپؓ دعا میں بہت عاجزی فرماتے اور آپؐ پر اللہ تعالیٰ کا خوف غالب ہوجاتا‘‘۔ حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’شبِ قدر میں دعا کرنا بہتر عبادت ہے، کیوںکہ اس رات حضرت عائشہؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر کا پتہ چل جائے تو میں کیا دعا مانگوں؟ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’یہ دعا مانگو: ’’اللّٰہمّ إنّک عفوّ تحبّ العفو فاعف عنّی‘‘ (اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، سو مجھے معاف فرما)۔
ازواجِ مطہرات کو بھی قیامِ رمضان کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک میں مسجد میں اعتکاف کے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہؓ نے دیکھا تو آپؓ نے بھی اپنا خیمہ لگا دیا۔ انھیں دیکھ کر دیگر ازواجِ مطہرات نے بھی اپنے خیمے نصب کروا دیے، مگر حضوؐر نے سب کے خیمے گرانے کا حکم دیا کہ خواتین گھروں میں اعتکاف بیٹھیں ۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ کاشانۂ نبویؐ میں رمضان المبارک کی رات و دن کی سرگرمیوں کا کتنا زیادہ اہتمام ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان سب معمولاتِ رمضان المبارک کا اہتمام کرنا نصیب فرمائے۔ آمین!
اپنے کندھوں پر نظام کی صلیب اُٹھائے سیاست دان

ہمارے ملک میں گزشتہ مہینے کے بیتے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے سیاسی نظام، پارٹیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے چہروں سے نقاب کو سِرکا دیا ہے۔ وہ لوگ جو اسی نظام میں رہتے ہوئے عوام کو کسی بڑی تبدیلی یا نئے پاکستان کا خواب دکھاتے آئے ہیں، ایک بار پھر اُن کے دعوؤں کی بھی قلعی کھل گئی ہے۔ اس سارے سیاسی کھیل میں ہر دو طرف کے رویوں نے قوم کے لیے حسبِ سابق سوائے مایوسی کے کچھ نہیں چھوڑا۔ ووٹ کے لیے عزت مانگنے والوں نے ووٹ کو قابلِ خرید جنس قرار دے کر جس طرح سے اس کی مٹی پلید کی ہے، وہ بھی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف قوم کی امانت فروخت کرکے اپنی تجوریاں بھرنے والوں نے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ نچلی سطح کے انتخابات سے لے کر ایوانِ بالا تک اس نظامِ انتخاب میں جو ووٹ کی بے توقیری ہوتی ہے، اس نے اس نظامِ انتخاب کی حقیقت کو واضح کردیا ہے۔
اپنے اپنے دھڑوں کی کامیابی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے ہماری سیاست پر قابض چغادری سیاست دانوں کے قول و فعل کے تضادات سے ان کی اَخلاقی پوزیشن بھی قوم کے سامنے طشت از بام ہوچکی ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان ابھی غلامی کے عہد کے طرز ِسیاست سے باہر نہیں نکل سکے۔ ان کے سیاسی رویے آزاد قوموں کے سے نہیں ہیں۔ وہ غلامی کی طرز ِسیاست ہی کواپنے لیے موزوں سمجھتے ہیں، جس کے ذریعے ان کے ذاتی اور خاندانی مفادات کا حصول اور اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوتا رہتا ہے۔اس نظام کی عیاری اور فسوں کاری کو سمجھنے کے لیے گزشتہ ماہ کے گزرے چند واقعات پر طائرانہ نظر ڈالنا ضروری ہے۔
اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی حکومت کے امیدوار اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے 5 ووٹوں کی برتری سے جب جیت گئے تو وزیر اعظم نے کہا کہ ’’سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہے‘‘۔ کیوںکہ الیکشن سے چند دن پہلے ہی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں کامیاب امیدوار کے بیٹے مبینہ طور پر حکومتی ارکان کو ووٹ منسوخ کروانے کا طریقہ بتا رہے تھے۔ حکمران پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ کامیاب ہونے والے امیدوار کے خلاف الیکشن کمیشن میں جائے گی، تاہم دوسری جانب اپوزیشن کی طرف سے اپنے کامیاب امیدوار کو چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کر دیا گیا۔
وزیراعظم نے اپنے امیدوار کی شکست پر قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ ایک شخص رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکانِ اسمبلی اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں، تو یہ کیسی جمہوریت ہے۔ الیکشن کمیشن کے بارے میں کہا کہ اس ادارے نے ملک کی جمہوریت اور اَخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ آج پتہ لگانا چاہتے ہیں کہ ہمارے کون لوگ بکے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپر ناقابلِ شناخت رکھنے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ ایک دوسرے موقع پر انھوں نے کہا کہ :اگر یہ اچھا الیکشن ہوا تو پھر برا کیا ہوتا ہے؟ سینیٹ الیکشن سے قبل ’بکرا منڈی‘ کی سی صورتِ حال تھی، جس پر وہ ’شرم‘ محسوس کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے سینٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہونے سے قبل اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ پھر ان کا امیدوار سینٹ کا چیئرمین بھی منتخب ہوگیا۔ اب دوسری طرف کے فریق کا ردِعمل قابل ملاحظہ تھا۔ اب وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس الیکشن کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور حکومت کی خوشیاں دیدنی تھیں۔ اب وزیراعظم اور حکومتی ارکان الیکشن کمیشن سے سارے گلے شکوے بھول کرمبارک بادیں وصول کررہے تھے۔ یہ کیا معیارات ہیں؟
وہ لوگ جو سینٹ کی ایک نشست جیت کر قوم کو آخری فتح کی نوید سنا رہے تھے، اب وہ کہاں ہیں؟ سال بھر آسمان سرپر اٹھائے رکھنے والی وہ نیم سیاسی اور مذہبی جماعت کے دعوے کیا ہوئے؟ بلکہ یہ سینٹ الیکشن مکمل ہونے پرسب جاکر چین کی نیند سورہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے بیانیے کا دھڑن تختہ ہوچکا ہے۔ حلیف پارٹیاں ایک دوسرے کی حریف بن کر آمنے سامنے اسی پرانی روش پر آچکی ہیں، بلکہ ایک قدم اور آگے اپوزیشن پارٹیوں کو اکٹھا کرنے والی مذہبی سیاسی جماعت اپنی ہی پارٹی توڑ بیٹھی ہے۔ ان سے ایک بہت بڑا حصہ الگ ہوکر اپنے بیانیے کے ساتھ میدان میں ہے۔ لیکن یہ صاحب بچی کھچی جماعت کو لے کر کرپشن میں ملوث خاندانوں کے دفاع میں آج بھی حسب ِسابق مصروف اور مُصِر ہیں۔ کیسی حیرانی کی بات ہے کہ اسلام کی دعوے دار پارٹی نیب دفتر کے باہر ملزم خاتون کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے اپنے کارکنوں کو پابند کر رہی ہے۔
ہم ان صفحات میں کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ یہ پارٹیاں اسی نظام کی فورسز ہیں۔ وہ وقت گزاری کے لیے عوام کو مصروف رکھتی ہیں۔ نتیجہ وہی ’’ڈھاک کے تین پات‘‘ ہی رہتا ہے۔ نظام اپنے مہروں کو حسبِ ضرورت اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور بس! یہ سیاسی نظام ایک ایسی صلیب ہے، جسے اس ملک کے سیاست دان اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ جب چاہتے ہیں قوم کے مفاد کو مصلوب کردیتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں نے انقلاباتِ زمانہ سے نہ سبق سیکھا ہے، نہ سیکھنے کو تیار ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جن معاشروں پر ایسے سیاست دان آکاس بیل کی طرح مسلط ہوجاتے ہیں، وہاں قومیں ایسے کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر نظام کی بساط ہی کو لپیٹ دیتی ہیں۔ کیوںکہ ایسے حالات میں انقلاب کی کونپل ان کے قدموں کے نیچے سے ہی پھوٹنا شروع ہو جاتی ہے اور بڑے بڑے طاقت ور حکمرانوں کا اقتدار عوام کے قدموں کے نیچے کچلا جاتا ہے۔ اور عوام اپنے خلاف جمع شدہ استحصال کے سارے وسائل کو جابر و ظالم نظاموں سے نجات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ شاعر سے معذرت کے ساتھ اس صورتِ حال کو تھوڑے تصرف کے ساتھ بہ زبانِ قوم یوں کہا جاسکتا ہے: ؎
جھوٹ تم نے بولا ہے ، مصلوب تم ہی کو ہونا ہے
اپنے کاندھے پہ صلیب اپنی اُٹھائے رکھو!
(مدیر)
نیکی اور بدی کی حقیقت اور اس کے بنیادی اُصول

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ہم نے (پہلی اور دوسری ’’مباحث‘‘ میں) سزا و جزا کے اسباب و علل بیان کیے ہیں۔ پھر ہم نے (تیسری ’’مبحث‘‘ میں ان چار) ارتفاقات کا ذکر کیا تھا، جن پر انسانی زندگی فطری طور پر پیدا کی گئی ہے۔ اور وہ ہمیشہ سے ان کی زندگی میں جاری ہیں۔ کبھی جدا نہیں ہوتے۔ پھر ہم نے (چوتھی ’’مبحث‘‘ میں) حقیقی ترقی اور کامیابی اور انھیں حاصل کرنے کا طریقۂ کار بیان کیا تھا۔
)نیکی اور بدی کی حقیقت(
اب ہم ’’البِرّ‘‘ (نیکی) اور ’’الإثم‘‘ (برائی) کے معنی کی حقیقت بیان کرنے میں مشغول ہوتے ہیں۔ نیکی کی حقیقت:
(1) ہر وہ عمل ہے، جسے انسان ملائِ اعلیٰ کی فرماں برداری حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے آنے والے الہام میں اپنی جان گھلا دیتا ہے۔ اور حق تبارک و تعالیٰ کی مراد میں اپنے آپ کو فنا کردیتا ہے۔
(2) ہر وہ عمل ہے، جس پر انسان کو دنیا یا آخرت میں اچھا بدلہ اور انعام ملے۔
(3) ہر وہ عمل ہے، جس کے ذریعے سے اُن ارتفاقات کو درست طور پر سرانجام دیا جائے، جن پر انسانی نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
(4) ہر وہ عمل ہے، جو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی حالت (یعنی اَخلاقِ اربعہ: طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت) کے لیے مفید ہو اور حجابات (حجابِ طبعی، حجابِ رسمی، حجابِ سوئِ معرفت) کو دور اور دفع کرے۔
بدی کی حقیقت:
(1) ہر وہ عمل ہے، جسے انسان شیطان کی فرماں برداری کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے۔ اور شیطانی مقاصد اور مراد کو پورا کرنے میں فنا ہوجاتا ہے۔
(2) ہر وہ عمل ہے، جو دنیا یا آخرت میں برے بدلے اور سزا کا مستحق بناتا ہے۔
(3) ہر وہ عمل ہے، جو ارتفاقات کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔
(4) ہر وہ عمل ہے، جو اللہ کی فرماں برداری سے متضاد حالت کو پیدا کرنے کا باعث بنے اور تینوں حجابات کو مضبوط اور پکا کرتا ہے۔
)نیکی حاصل کرنے کا طریقۂ کار)
جیسا کہ ارتفاقات کے طور طریقوں کو سب سے پہلے فہم و بصیرت رکھنے والے باخبر لوگ سمجھتے اور سمجھاتے ہیں، پھر عام لوگ اپنے دلوں کی گواہی دے کر ان کی اتباع کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان پر تمام اہل زمین متفق ہوجاتے ہیں، یا کم از کم انسانوں کی اکثریت ارتفاقات کے ان جدید طریقوں پر عمل پیرا ہوجاتی ہے۔
اسی طرح نیکی حاصل کرنے کے بھی ایسے طریقے ہیں، جنھیں اللہ تبارک و تعالیٰ ایسے لوگوں (انبیا علیہم السلام) کے دلوں میں الہام کرتا ہے، جنھیں نورِ مَلَکی کی پوری تائید حاصل ہوتی ہے۔ ان پر فطرتِ انسانیت کا بنیادی خُلق غالب ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسا کہ شہد کی مکھیوں کے دلوں میں شہد بنانے سے متعلق اُمور اور اُسے جمع کرنے کا طریقۂ کار الہام کیا جاتا ہے۔ پھر وہ (انبیا علیہم السلام) ان طریقوں کو جاری کرتے ہیں۔ انھیں مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ لوگوں کو اس کی ہدایت دیتے ہیں۔ انھیں اس پر اُبھارتے ہیں۔ پھر عام لوگ اُن کی پیروی کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ نیکی کے ان اصولوں پر زمین کے تمام علاقوں کی ملتیں اور اقوام متفق ہوجاتی ہیں۔ باوجود اس بات کے کہ اُن کے علاقے اور شہر ایک دوسرے سے بہت دور، اُن کے مذاہب اور ادیان میں بہت اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ پھر بھی فطری مناسبت اور نوعِ انسانی کے تقاضے سے وہ نیکی کے ان بنیادی اُصولوں پر عمل درآمد کرتے ہیں۔
ان اصولوں پر اتفاق کے بعد یہ بات کچھ نقصان دہ نہیں ہے کہ اُن پر عمل درآمد کرنے کی صورتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور نہ ہی پیدائشی طور پر ناقص اور ابنارمل انسانوں کی مخالفت سے اس اتفاق میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اگر صاحبِ بصیرت لوگ ان لوگوں کے بارے میں غور و فکر کریں تو انھیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہوتا کہ پیدائشی طور پر اُن کی ساخت میں انسانوں کی صورتِ نوعیہ کی اصل حقیقت نہیں پائی جاتی۔ اور نہ ہی اُن میں انسانیت کے تقاضے اور اُن کے احکامات پورے طور پر موجود ہیں۔ وہ انسانوں میں ایسی حیثیت رکھتے ہیں، جیسے جسم میں کوئی زائد عضو ہوتا ہے (جیسا کہ کسی کے ہاتھ یا پاؤں کی چھ اُنگلیاں ہوں)۔ ایسے عضو کو جسم سے دور کرنا، اُس کو باقی رکھنے سے زیادہ خوب صورت ہوتا ہے۔
(نیکی کے اصول پھیلنے کے اسباب)
نیکی کے ان طریقوں کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب ہوتے ہیں اور محکم تدبیرات اور طریقۂ کار اختیار کیے جاتے ہیں۔ ان اسباب اور تدبیرات کو وہ حضرات احکامات کی صورت میں متعین کرتے ہیں، جن کو وحی الٰہی کے ذریعے سے اللہ کی پوری تائید حاصل ہوتی ہے __ صلوات اللہ علیہم/اللہ اُن پر رحمت بھیجے__ ۔ یہ حضرات انبیا علیہم السلام انسانوں پر بہت بڑا احسانِ عظیم کرتے ہیں۔ ہمارا اِرادہ یہ ہے کہ:
(1) ہم ان طور طریقوں کے بنیادی اُصول سے تمھیں باخبر کریں۔ یہ اصول وہ ہیں، جن پر بڑی قوموں کے جمہور مہذب ممالک کا اتفاق ہے۔ ان اصولوں پر ہر ایک قوم __ خواہ عرب ہو، غیر عرب ہو، یہودی ہو، مجوسی ہو، ہندو ہو __ کے اللہ کو ماننے والے، بادشاہ اور درست رائے رکھنے والے حکما سبھی متفق ہیں۔
(2) ہم ان اصولوں پر عمل درآمد کے طریقوں کی تشریح بھی کریں گے کہ جس سے انسان کی قوتِ بہیمیہ، قوتِ ملکیہ کی فرماں بردار بن جائے۔
(3) ہم ان اصولوں کے کچھ فوائد بھی بیان کریں گے، جیسا کہ ہم نے ان اصولوں کا اپنے اوپر ایک سے زیادہ مرتبہ تجربہ کیا ہے اور اس کی طرف عقلِ سلیم رہنمائی دیتی ہے۔
(مبحث البرّ و الاثم:مقدمہ فی بیان حقیقۃ البرّو الاثم)
خلافت ِبنواُمیہ کے عظیم مجاہد و سپہ سالار؛ موسیٰ بن نُصَیرؒ

موسیٰ بن نصیر بن عبدالرحمن بن زید لخمیؒ تابعین میں سے تھے۔ انھوں نے مشہور صحابیٔ رسول حضرت تمیم داریؓ سے احادیث روایت کی ہیں، لیکن ان کی وجۂ شہرت مجاہدانہ کارنامے اور عدل و انصاف پر مبنی کامیاب حکمرانی ہے۔ ایک روایت کے مطابق وہ قبیلہ بنولخم سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے لخمی کہلاتے ہیں۔ عہد ِفاروقیؓ میں شام کی ایک بستی میں ۱۹ھ میں ان کی ولادت ہوئی۔ ان کے والد حضرت معاویہؓ کے دامن سے وابستہ تھے۔ موسیٰ بن نصیرؒ کی شام میں ہی پرورش ہوئی۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد ِخلافت میں ہوا۔
خلیفہ عبدالملک نے آغاز میں ان کو بصرہ کی زمینوں کے خراج کی وصولی کے لیے افسرِ اعلیٰ مقرر کیا۔ بعد میں ان کی انتظامی صلاحیتوں کے پیشِ نظر ان کو افریقا اور مغرب کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اسی زمانے میں انھوں نے افریقا کے بہت سے علاقے فتح کیے۔ افریقا کی بہادر قوم ’’بربر‘‘ نے ان کی اطاعت قبول کی۔
طارق نے اندلس میں فتح و ظفر کے جو کارنامے سرانجام دیے، اس کے محرک و مؤید بھی موسیٰ بن نصیر ہی تھے۔ ان کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے اور فتوحات کو استحکام بخشنے کی خاطر موسیٰ بن نصیر نے خود اٹھارہ ہزارفوج کے ساتھ اندلس جانے کا ارادہ کیا۔ اور ۹۳ھ / جون 712ء کو جزیرہ خضرا کے پاس ایک پہاڑی پر لنگرانداز ہوئے، جو بعد میں ’’جبلِ موسیٰ‘‘ کے نام سے منسوب ہوئی۔
طارق بن زیاد بارہ ہزار کی بہادر فوج کے ساتھ ایک لاکھ کے لشکر کو شکست دے چکے تھے۔ ادھر موسیٰ کے ساتھ فوجیوں کو اپنی بہادری کے جوہر دکھانے کے لیے کسی نئے میدان کی تلاش تھی۔ موسیٰ کا حوصلہ بھی بلند تھا۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ فتوحات کو اس قدر وسعت دیں کہ وہ اندلس سے قسطنطنیہ ہو کر شام میں داخل ہوں۔ اور یہ سارے علاقے اسلامی مملکت میں شامل ہوں۔ گویا اندلس کو خشکی کے راستے دارالخلافہ دمشق سے ملا دیں۔ اس طرح وہ اندلس کے عیسائیوں کو آسان شرائط کے ساتھ اسلامی خلافت کے زیرنگیں لانے اور یہاں ان علاقوں میں امن و امان قائم کرکے یہاں کے باشندوں کو عدل و انصاف کی برکات سے بہرہ ور کریں۔
اندلس کو دمشق سے خشکی کے راستے سے ملانے کی اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے خلیفہ وقت ولید کی منظوری ضروری تھی۔ چناںچہ انھوں نے یہ تجویز دمشق بھیجی اور جواب کا انتظار کرنے لگے۔ اس عرصے میں فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ ان مہمات میں طارق بن زیاد مقدمۃُ الجیش کے طور پر آگے آگے اور موسیٰ فوج کو ساتھ لیے ان کے پیچھے پیچھے ہوتے تھے۔ اس طرح جنوب سے شمال کی طرف پیش قدمی جاری رہی اور تقریباً شمال مشرقی اندلس کا یہ سارا علاقہ فتح ہوگیا۔
ان علاقوں میں افریقی مسلمان آباد کیے گئے۔ عبداللہ بن حنش کو پہلا گورنرمقرر کیا گیا۔ زمانۂ فتح سے مستقل اُموی حکومت کے قیام تک تقریباً چھیالیس برس کے عرصے میں وقتاً فوقتاً مختلف گورنر مقرر کیے جاتے رہے، جو کبھی دمشق سے اور کبھی افریقا سے نامزد ہو کر آتے۔ کبھی ضرورت کے لحاظ سے مقامی سطح پر ہی منتخب کرلیے جاتے۔ اس کے بعد جب بنوعباس کی حکومت قائم ہوئی تو اندلس پر عبدالرحمن الداخل اُموی نے مستقل حکومت قائم کی۔
وسط مدتی رپورٹ

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معاشی ڈھانچے میں بہتری اور اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بیانیے میں کتنی حقیقت ہے؟ اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کچھ اعشاریوں کا تجزیہ کرنا پڑے گا۔ چناںچہ معیشت کے بڑے بڑے اعشاریے کہاں کھڑے ہیں اور گزشتہ بیس سالوں میں چار مختلف حکومتوں کے وسط مدتی اعشاریوں کی بنیاد پر ان میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ ان سب کا جاننا اہم ہے۔ 2005، 2010، 2015 اور 2020ء میں ان اہم اعشاریوں کے لحاظ سے ہم کہاں کھڑے تھے؟ اس مضمون میں اس کا جائزہ پیش ہے:
1۔ادائیگیوں کا توازن: بین الاقوامی تجارت میں لین دین کا دار و مدار ملک میں فارن کرنسی کے ذخائر پر ہوتا ہے۔ اگر درآمدات پر محدود مدتی اُدھار بڑھ جائے تو ادائیگیوں کے توازن کو ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ چناںچہ 2005ء میں -1.8 ارب ڈالر، 2010ء میں -3.9 ارب ڈالر، 2015ء میں -2.8 ارب ڈالر اور 2020ء میں -2.8 ارب ڈالر۔ اس میدان میں پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کی وجہ درآمدات میں کمی، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور روپے کی قدر کا اپنی اصل کے قریب تر ہونا ہے۔ چناںچہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 2020-21ء میں تاریخ میں پہلی دفعہ ادائیگیوں کا توازن مثبت 0.2 ارب ڈالرتک چلا جائے گا۔
2۔ روپے کی قدر: کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر کا انحصار وہاں کی بین الاقوامی تجارتی طاقت پر ہوتا ہے۔ اگر اس ملک کی مصنوعات کی طلب بیرونی دنیا میں زیادہ ہے تو اس ملک کی کرنسی کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔ کسی بھی کرنسی کو خود سے ڈالر کے ساتھ قیمتاً روک دینا اور اسے اپنی مرضی سے اُپر نیچے کرنا دراصل ممکن تو ہے، لیکن یہ ایک مناسب طریقہ نہیں ہے۔ خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کے مخصوص حالات میں یہ حکمتِ عملی کافی خطرناک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں پیداواری عمل مؤثر نہیں ہے اور خاص طور پر بہتر‘ یا ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ ڈالر کے ساتھ ملکی کرنسی کو قیمتاً روکنے کا عمل چین نے بہت مؤثر طریقے سے کیا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا اور متحرک پیداواری عمل موجود ہے، جس کی طلب پوری دنیا میں ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت نے کرنسی کی قیمت کے تعین کو طلب اور رَسد پر چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی روپیہ عالمی منڈی میں استحکام کی جانب گامزن ہے۔ یہ وہ حکمتِ عملی ہے، جسے گزشتہ ادوار میں کوئی حکومت بروئے کار نہیں لائی اور کرنسی کے استحکام کو حاصل کرنے کے لیے مقامی مارکیٹ میں ڈالر بیچنے کا مضحکہ خیز سلسلہ جاری رکھا۔چناںچہ 2005ء میں ڈالر60۔ 2010ء میں 85۔ 2015ء میں 101۔ اور 2020ء میں 167 روپے کا تھا۔
ڈالر کے خلاف روپے کا استحکام اسے مارچ 2021ء میں 157 روپے تک لے آیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان بیس سالوں میں پاکستانی روپیہ پہلی دفعہ مقابلہ کرتا ہوا نظر آرہا ہے، جو خوش آئند ہے۔
3۔ بین الاقوامی تجارت کا توازن: پاکستان کا تجارتی خسارہ 2005ء میں 4.4 ارب ڈالر کا تھا، جو 2010ء میں 11.5 ارب ڈالر، 2015ء میں 20.2 ارب ڈالر اور 2020ء میں 17.1 ارب ڈالر رہا۔ اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2021ء میں یہ مزید کم ہو کر 13.7 ارب ڈالر تک آجائے گا۔ ڈالر کے خلاف پاکستانی روپے کی مضبوطی کی ایک بڑی وجہ تجارتی خسارے میں کمی بھی ہے۔ اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ اب حکومتِ پاکستان موبائل فونز، جاپانی گاڑیوں، کھانے پینے کی تیار اشیا اور دیگر تعمیراتی اور رفاہیتِ بالغہ سے متعلق اشیا پر درآمدی ٹیکسز میں اضافے سے سالانہ چار ارب ڈالر بچا رہی ہے، لیکن کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے خصوصاً ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی طلب میں کمی اور بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ایک محدود وقتی خطرہ ہیں۔ جاری ہے۔۔۔
مشترکہ جامع اقدامات کا منصوبہ 2015

سرمایہ پرست طاقتوں کی کوئی اَخلاقیات نہیں ہوتیں۔ سرمایہ اور اس کا حصول ان کی زندگی کا منشا و مقصود اور محور رہتا ہے۔ یہ طاقتیں دنیا میں کبھی کسی سے کوئی معاہدہ کرتی ہیں تو محض اس تأثر کو پھیلانے کے لیے کہ لوگوں کو لگے کہ یہ بڑے اصول پرست ہیں۔ معاہدات کی پابندی کرنے والے ہیں۔ تہذیبی اقدار کے حامل ہیں۔ امن کے متوالے اور دعوے دار ہیں۔ ان سے زیادہ کوئی معاہد ات کی اتباع کرنے والا نہیں ہے، لیکن جونہی کبھی کہیں انھیں چیلنج کرنے والی قوت کو تقویت ملنا شروع ہو، فوراً ان کا کھوکھلا پن کھل کر سامنے آجا تا ہے۔ خون خوار پنجوں میں تنائو پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بہروپیا پن جھٹ چھٹ جاتا ہے۔
دنیاکی چھ بڑی طاقتوں نے 2015ء میں اوباما ایڈمنسٹریشن کے عہد میں تین سال کے طویل دورانیے کے مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے عدم پھیلائو کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے نتیجے میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے عمل کو مستقل طور پر ختم کرنا تھا۔ بدلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر عائد گزشتہ تمام پابندیوں کو ختم کرنا تھا۔ بعد میں نئی پابندیوں کا ایک نیا مجموعہ عائد کیا، جو ایران کے اس معاہدے کی پاسداری کے دوران خود بہ خود تین مراحل میں ختم ہوجانا تھا۔ ایرانی اقدامات کی پاسداری کی تصدیق عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے باقاعدہ طور پر کردی تھی۔ چھ بڑی طاقتوں کے علاوہ یورپی یونین نے بھی اس عمل میں شریک ہوکر اس معاہدے پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت کی تھی۔ 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے اس معاہدے سے علاحدہ ہونے کا اعلان کردیا۔ الزام یہ لگایا کہ ایران ایک ایسے جوہری منصوبے پر کام کررہا ہے، جس سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے عالمی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ معاہدے سے نکلتے ہی امریکا نے یک طرفہ طور پر ترقی پذیر ممالک کے کاروباری اداروں پر دبائو ڈالنا شروع کردیا اور عدمِ تعاون کی صورت میں اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ ایران نے امریکا کے اس اقدام کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، البتہ اس نے جوہری معاہدے کی پاسداری کو جاری رکھا اور دعویٰ کیا کہ اس نے متنازع معاہدے کے تصفیے کا حل تلاش کرلیا ہے اور اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مرحلوں پر آہستہ آہستہ عمل درآمد شروع کردیا۔
ڈیلی سنگر کی 27؍ اگست 2020ء کی رپورٹ کے مطابق ’’ایران کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کے تحت جس میں برطانیہ چین، فرانس، روس، جرمنی اور امریکا شامل ہیں، اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ تہران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے اس کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیاں بہ تدریج اٹھا لی جائیں گی‘‘۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 20؍ اگست 2020ء کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کو ذاتی طور پر بتایا تھا کہ امریکا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231، جس کا تعلق 2015ء کے جوہری معاہدے کو بین الاقوامی قانون کا تحفظ دینے سے ہے، ایک طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھانا چاہتا ہے، اور ایران پر 2006ء سے عائد پابندیوں کودوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے۔ سلامتی کونسل کے حالیہ صدر دیان تریانسیان دجانی نے کہا ہے کہ ’’پندرہ رکنی کونسل میں ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں بحال کرنے پر اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے اور وہ امریکا کے اس مطالبے پر کوئی ایکشن نہیں لیں گے، جس میں ایران پر پابندیاں دوبارہ لگانے یعنی ’’سنیپ بیک‘‘ کرنے کو کہا گیا ہے۔
ایران گزشتہ چار دہائیوں سے سامراج کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔ آئے دن نت نئے ہتھکنڈوں کا سامنا کررہا ہے۔ حالات کے جبر نے ایرانیوں کو سفارت کاری کا ماہر بنا دیا ہے۔ انھوں نے چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ تین سال کے طویل ترین عرصے میں جو معاہدہ کیا تھا، اس کا منہ بولتا ثبوت امریکا کی بے بسی ہے، جس کا عملی اظہار ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبے سے علاحدہ ہونا ہے۔ نئے امریکی صدر نے حلف اٹھاتے ہی یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
امریکی مقتدرہ کا معاہدے سے علاحدہ ہو نا بہت بڑی غلطی تھی۔ اس کے ا قدام سے اقوامِ عالم میں اس کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ وہ دنیا میں معاہدات کی پرواہ کرنے کے بجائے اپنے گروہی مفادات کا اسیر ثابت ہوا ہے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے معاہدے سے علاحدہ ہونے کے نتیجے میں دیگر طاقتیں اس کی اتباع نہیں کریںگی۔ کیوںکہ وہ اپنے علاوہ کسی اَور کو اپنا ہم پلہ قرار دینے کو تیار نہیں تھا، لیکن دنیا اس کے رعونت کے رویے کو عبو ر کرچکی ہے۔ اگرچہ ماضی کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں اسے کمال حاصل تھا، جوآج تاریخ کا حصہ بنتی جارہی ہے، لیکن تاریخ کے علم میں بالکل کورا اور جاہل مطلق ثابت ہوا ہے۔ کیوںکہ تما م عہود و مواثیق کی خلاف ورزی کرنے سے دنیا میں تباہی پیدا ہوتی ہے، جس سے وہ تہی دامن دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے صدر کہنا کہ ’’ہم آپ کی ہدایات پر عمل نہیں کرسکتے‘‘ دنیا میں بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ورنہ یہی امریکا تھا جو بلا پوچھے چھوٹے چھوٹے ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔
ایرانیوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ سلامتی کونسل کے کلب میں اکثریت ایسے ارکان کی ہے جو آہستہ آہستہ اپنے معاشی مفادات ایشیا پیسفک کی اُبھرتی ہوئی قوتوں کے ساتھ منسلک کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ایرانیوں کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔ حکمتِ عملی کا تقاضا ہے کہ ایرانیوں کو ظالمانہ اقتصادی پابندیوں سے نجات مل سکے۔ معاہدے کے بحال ہونے سے نہ صرف ایرانیوں کی جیت ہوگی، بلکہ دنیا میں انقلابی جدوجہد کرنے والی قوتوں کو بھی تقویت ملے گی۔
دینِ اسلام ایک نظام ہے

12؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! دینِ اسلام کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے ہیں۔ دنیا کے تمام مرد و عورت قرآن حکیم کی تعلیمات کے مخاطب ہیں۔ ان تعلیمات کی اساس یہ ہے کہ انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق قائم کرے اور انسانی حقوق کی ادائیگی میں پوری جدوجہد اور کوشش کرے۔ اس کے بغیر دین اسلام کا نظام مکمل نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ تمام مسلمان مرد اور عورت اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری کریں۔ یہ احکامات ایسے نہیں ہیں کہ انسانوں پر کوئی زبردستی مسلط کیے گئے ہوں، بلکہ یہ ان کی فطرت کا حصہ ہیں۔ انسانوں کی جسمانی ساخت ایسی ہی ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔ دنیا میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتے۔ وہ احکامات تمھارے فائدے کے لیے ہیں۔ اسی سے تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہو۔ اور جو تمھاری جسمانی ساخت سے ہٹ کر اور تمھارے بنیادی تقاضوں سے منافی ہیں، ان سے بچو۔ اس پر تم عمل کرو گے تو تمھارے لیے دنیا جہنم بن جائے گی۔ تم اس دنیا کی جہنم کے سرکل میں داخل ہوگئے تو پھر آخرت کی جہنم بھی ہے۔
قرآن حکیم کی ہدایات بڑی واضح ہیں۔ کسی بھی سسٹم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ واضح اور دو ٹوک ہدایات دی جائیں۔ گول مول بات کرنا، آدھی اِدھر کی اور آدھی اُدھر کی، یہ منافقت ہے اور نفاق سے دینِ اسلام کی تعلیمات نے قطعی طور پر منع کیا ہے۔ دین اسلام ایک نظام ہے اور ہر نظام ایک ڈسپلن کے تحت کام کرتا ہے۔ ڈسپلن توڑ کر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات اور دینِ اسلام کو نعوذ باللہ ایسا سمجھ لینا کہ اس میں سے جو مرضی کی بات ہو، اس کو مان لیں اور جو مرضی کی بات نہ ہو، اسے چھوڑ دیں۔ خواہشات سامنے آئیں تو دین کو ترک کردیں۔ خواہشات کے حوالے سے دین کی کسی بات پر مفاد حاصل ہو رہا ہو تو اس کو پورا کرلیں۔ یہ دین اسلام کا مزاج نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی بھی سسٹم میں ایسا ہوتا ہے۔
آج دنیا میں جو انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہیں، سرمایہ داری اور سوشل ازم، یا کسی پرائیویٹ کمپنی کا بنایا ہوا اپنا نظام ہو، اس کے اپنے ایس او پیز ہیں۔ کسی بھی خود مختار ادارہ اپنے لیے قواعد و ضوابط بناتا ہے۔ کسی ملک کا اپنا بنایا ہوا آئین اور دستور ہوتا ہے۔ ان تمام کی بھی اپنی ایک ضرورت اور تقاضا ہے۔ ان پر عمل کیے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ وہاں پابندی کرنا تو لازمی سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر گزارا نہیں۔ کیا اللہ کی اس زمین پر اور اللہ کے اس آسمان کے نیچے انسان فضول اور لغو پیدا کیا گیا ہے کہ اللہ کوئی ڈسپلن جاری کرے اور اس پر کوئی عمل نہ کرے اور سزا سے بچ پائے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
مرد و عورت کی اپنی اپنی ساخت کے مطابق اُن کی ذمہ داریاں ہیں
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’انسان ارتقا کے اُن تمام مراحل سے گزرا ہے، جو اس کی جسمانی ساخت میں اس کائنات کے عناصر سے جاری چلا آرہا ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنی خاندانی اجتماعیت کے لیے ایسی حدود و قیود مہیا کرنی ہیں جس سے کہ نیا انسان تخلیق پذیر ہوسکے۔ ایک خاندان وجود میں آئے۔ وہ خاندان مستقل طور پر تبھی بنے گا کہ جب ایک مرد اور عورت ایک دوسرے کی ہم آہنگی اور حقوق کی ادائیگی کی بنیاد پر اپنی اجتماعیت قائم کریں۔ ان دونوں میں سے ہر ایک مرد اور عورت کی اپنی اپنی ساخت ہے۔ اس کے مطابق ان کی اپنی اپنی ذمہ داریاں اور حقوق و فرائض ہیں۔ ضروری ہے کہ دونوں اپنی اپنی مختلف ساخت کے مطابق اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
نبی اکرم نے فرمایا: ’’خیرکم خیرکم لأہلہ‘‘ [مشکوٰۃ: 2/281] ( تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو)۔ مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں، اپنے خاندان والوں، اپنے رشتے داروں کے حقوق پورے کرے، ان پر خرچ کرے۔ اس پر ذمہ داری عائد کی گئی کہ وہ دن میں باہر نکلے، محنت مزدوری کرے، جدوجہد اور کوشش کرے۔ اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا رزق کما کر لائے۔ یعنی ایک مزدور کو اتنی مزدوری مارکیٹ سے ملنی چاہیے کہ جس سے عزت اور احترام کے ساتھ اُس کے سارے خاندان کی اچھی کفالت ہو۔ یہ وہ بنیادی ضابطہ ہے، جو نبی اکرمؐ نے مقرر فرمایا۔ اس سے بڑھ کر مرد کو قومی اور بین الاقوامی نظام کے اندر مزید کردار ادا کرنے کے لیے بھی ذمہ دار بنایا گیا ہے کہ وہاں کام بھی کرنا ہے۔
عورت کے متعلق نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’المرأۃ راعیۃ علیٰ بیت زوجہا‘‘ [بخاری: 5200] (خاتون اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے)۔ دین اسلام نے عورت کو اس بات کا ذمہ دار بنایا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کرے، خاندانی نظام اچھا بنائے۔ گھر کے نظام کو سنبھالے۔ وہ اپنے گھر کی سربراہ اور حکمران ہے۔ عورت پر گھر سے اوپر قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ وہ خواتین جن پر ایسی گھریلو ذمہ داریاں نہیں ہیں، وہ اس میں شریک ہوسکتی ہیں، کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن سب سے پہلے گھر کو سنبھالیں۔ اگر وہاں سے فراغت ہو تو اس سے اگلا کردار ادا کریں۔ جیسے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گھر میں کوئی مصروفیت نہیں تھی تو وہ اپنے مالِ تجارت سے حضور اکرمؐ کے ساتھ مل کر کاروبار کرتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہؓ کی کوئی اولاد نہیں تھی، جس کی پرورش کی ذمہ داری ہوتی، خاص طور پر نبی اکرمؐ کے دنیا سے جانے کے بعد۔ حضرت عائشہؓ اپنی مسند ِدرس پر بیٹھتی ہیں۔ جو تفقہ اور بصیرت، جو دین کی سمجھ اور بوجھ انھوں نے نبی اکرمؐ سے حاصل کی، اس کے مطابق اپنے حجرے میں بیٹھ کر درس و تدریس کا سلسلہ چلاتی ہیں اور بڑے بڑے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا مجمع آپؓ سے استفادہ کرتا ہے۔ درمیان میں پردہ لٹکا ہوا ہے اور حضرت عائشہؓ خطاب فرما رہی ہیں‘‘۔
عورت اور مرد کے مسائل کے پس پردہ نظام
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج عورت اور مرد اپنے حقوق کے نام پر لڑ رہے ہیں۔ لڑائیاں جھگڑے ہیں۔ سیاست دان بہ دست و گریبان ہیں۔ مذہبی رہنما ایک دوسرے کے خلاف تقریریں جھاڑ رہے ہیں، آپ ذرا سوچیں کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا اصل سبب سمجھنا ضروری ہے۔
جب سے دنیا پر سرمایہ داری نظام مسلط ہوا ہے __ جس کی اصل اساسیات انسان نہیں، کیپٹل اور سرمایہ ہے، زر و جواہرات اور مادیت ہے __ اس نے انسانوں سے انسانیت چھین لی۔ مرد سے مردانگی اور عورت سے اُس کی نسوانیت چھین لی۔ عورت عورت نہیں رہی، مرد مرد نہیں رہا۔ دونوں برائے فروخت(for sale)ہوگئے۔ اشیا(goods)بن گئے۔ اُن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ سب سے پہلے تو اس سرمایہ داری معاشی نظام نے انسانیت کو سرمایہ دار(capitalist)اور مزدور میں بانٹ دیا۔ سرمایہ دار منتظم قرار پایا اور بے چارہ مزدور اُس کا محتاج۔ پھر مزدور کے بارے میں کہا گیا کہ اس کے پاس بارگیننگ کی پاور نہیں ہے۔ سرمایہ دار کے بارے میں کہا کہ اس کے پاس بڑی طاقت سرمایہ ہے۔ دونوں کے لیے حقیقت سے ماورا خود ساختہ اصول بنائے۔ پھر سرمائے کے ریٹرن کے نام پر انسانیت کی محنت پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ مزدور کی مزدوری میں کٹوتی شروع کردی۔ مزدور کی مزدوری اتنی ہونی چاہیے تھی اور پہلے ادوار میں ہوتی رہی ہے کہ وہ اپنی بیوی، بچوں، اپنے پورے خاندان کے لیے باکفایت اتنی مزدوری حاصل کرے کہ اُس کی تمام ضروریات عزت کے ساتھ پوری ہوں، سرمایہ دار نے اس کو صرف اتنی مزدوری دی کہ جس سے وہ صرف زندہ رہ سکے، بس۔ ایسی صورت میں جب تک مرد اور عورت دونوں نہیں کمائیں گے تو گزارہ نہیں ہوگا، اس لیے اب عورتوں کو باہر نکالو۔ عورتوں کو کہا کہ تم اپنے گھر کے کام کو چھوڑو اور تم بھی مزدوری کرو۔ تم بھی کام کرو۔ عورت کے آنے سے لیبر مارکیٹ بڑھ گئی تو مزدور زیادہ ہوگئے۔ اب لیبر مارکیٹ کا قانون سرمایہ داری نظام نے یہ طے کیا کہ جس چیز کی کثرت ہوگی، اس کی قیمت بھی سستی ہوجائے گی۔ اس طرح مزدور کی حیثیت اور مزدوری مزید کم کردی گئی۔
پھر عورت سے کہا کہ اچھا تو نے مزدوری کرنی ہے نا، تو مزدوری کرنے کا ایک اَور طریقہ بھی ہے کہ تو اپنے جسم کی مزدوری کر۔ تیری خوب صورت سی تصویر اُتاریں گے اور اپنی پروڈکٹ کو فروخت کرنے کے لیے اشتہار میں استعمال کریں گے۔ تو ماڈلنگ کر۔ تو سیکس ورکر بن۔ پھر کوئی پڑھی لکھی ہے تو اُس کو کہا کہ تم مینجمنٹ اچھی کر لیتی ہو، تو چلو یہ کام کرو۔ اس طرح سے مرد و عورت دونوں کو برائے فروخت بنا دیا گیا۔ اس استحصال اور سرمایہ دارانہ تباہی اور بربادی پر کوئی عورت یا مرد بولتا ہے؟ جس سرمایہ داری نظام سے پیسے لے کر جلوس نکلا ہے، کیا اُس سرمایہ داری کے خلاف جلوس نکالا ہے کبھی؟ یہاں کی عورتیں آزادی تو حاصل کرنا چاہتی ہیں شوہر سے بھی، ماں باپ سے بھی، برادری سے بھی۔ ذرا سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی حاصل کرکے دکھائیں، جس نے ان کی انسانیت تک چھین لی‘‘۔
سرمایہ داری کا بھیانک کھیل
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’سرمایہ دارانہ نظام کا مرا ہوا کتا جب تک اس ملک کے اندر موجود ہے تو چاہے عورتوں کے حق میں جلوس نکالو یا عورتوں کے خلاف جلوس نکالو۔ اِدھر کی بات کرو، یا اُدھر کی بات کرو۔ کبھی بھی یہاں کا سرمایہ داری سسٹم نہیں بدل سکتا۔ جو سرمایہ داری نظام یہاں دینِ اسلام کے سسٹم کے خلاف بغاوت کر رہا ہے، اس کے خلاف سب کی زبانیں گنگ ہیں۔ مولوی کے منہ میں گھونگی ہے، وہ سرمایہ داری کے خلاف نہیں بولتا۔ سرمایہ دار مفادات کی وجہ سے خاموش ہے۔ سیاست دان چپ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ لیڈر خاموش ہیں، عورتوں کے منہ میں گھونگیاں ہیں، اس کے خلاف بولتی نہیں ہیں۔ ذرا یہ ساری کی ساری عورتیں خواہ برقعے والی ہوں یا بغیر برقعے والی ہوں، سرمایہ داری کے خلاف بول کر دکھائیں۔ اگرNGO'sکے پیسوں کی بنیاد پر ہی یہ جلسے جلوس نکلنے ہیں، یا سرمایہ داروں کے چندے پر ہی برقعہ باز عورتوں کے جلوس نکلنے ہیں تو پھر دونوں طرف سرمایہ دار ہیں۔ دونوں طرف سسٹم کھیل رہا ہے۔ دونوں طرف سے اصل مسئلے کی طرف سے توجہ ہٹا دی ہے۔
نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے اُس کو ادا کردو‘‘۔ اتنی مزدوری دو کہ جس سے اُس کے تمام گھر کی کفالت ہوجائے۔ کبھی یہاں کے لوگوں نے اس بات پر کوئی سوال اٹھایا ہے کہ ایک سرکاری کمپنی کے سی ای او صاحب لگے ہیں، جن کی ایک مہینے کی تنخواہ 68 لاکھ روپے ہے۔ کس قانون اور ضابطے کے تحت ہے؟ 68 لاکھ روپے ہی اس کا بونس ہے۔ اس طرح ایک کروڑ سے اوپر اُس کی تنخواہ ہے۔ اور ایک مزدور کی تنخواہ کیا ہے؟ پانچ سو روپے؟ ایک جج کی تنخواہ بارہ پندرہ لاکھ اور ایک مزدور کی تنخواہ؟!؟ کبھی اس کے خلاف بات کی ہے؟ اور اس مزدور نے کیا قصور کیا ہے، جس کو دو سو روپے مزدوری بھی نہیں ملتی۔ ذرا جا کر دیکھو جنوبی پنجاب میں، اندرونِ سندھ میں، بلوچستان میں، لوگوں کی جو غربت کی کیا حالت ہے، پستی کی حالت ہے، ایک وقت کی روٹی اس مزدور کے اپنے پاس نہیں، اپنی بیوی کی کہاں سے پوری کرے گا۔
اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے والے سرمایہ داروں کے ایجنٹ ہیں، سرمایہ داری کے لیے آلہ کاری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مفادات کی بنیاد پر جلوس نکالتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر پریس کانفرنسیں کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر حقوق کی بات کرتے ہیں۔ دین فروش ہیں، جمہوریت اور لبرل اِزم کے نام پر انسانی حقوق کے سوداگر ہیں۔ عورتوں کی طرف سے کون سی لبرٹی اور کس سے آزادی کی بات کی جا رہی ہے؟ کبھی سرمایہ داری سے آزادی کی بات کی ہے؟ نہیں! یہ سرمایہ داری وہ مرض ہے، جس سے تباہی اور بربادی آتی ہے۔ اس لیے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جب کسی قوم پر اللہ عذاب بھیجتا ہے تو اُس کی مت مار دیتا ہے، عقل ماری جاتی ہے۔ وہ آپس میں ہی لڑتے رہتے ہیں۔ آپس میں نان ایشوز میں اُلجھے رہتے ہیں۔ جو اصل بات ہوتی ہے، اس کی طرف توجہ نہیں ہوتی‘‘۔
شمارہ ختم
واپس
