انسانی معاشروں کی سزا و جزا کا بنیادی اُصول

گزشتہ درسِ قرآن کی آیت (البقرہ: 79) میں بیان کیا گیا ہے کہ یہود کے اہلِ علم و دانش تورات کی آیات میں تحریف کرتے تھے۔ خاص طور پر آیات کے معانی اور اُن کی تعبیر و تشریح کے بیان کرنے میں تحریف سے کام لیتے تھے اور اس طرح اَن پڑھ اور جاہل لوگوں سے ذاتی اور طبقاتی مفادات اُٹھاتے تھے۔ درجِ ذیل آیات (البقرہ: 80-82) میں اُن کی اس تحریفِ معنوی کی ایک اہم مثال واضح کی گئی ہے اور احکاماتِ الٰہیہ کے حوالے سے ایک قاعدۂ کلیہ بیان کرکے اس تحریف کی حقیقت آشکارا کی جا رہی ہے۔
وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعْدُودَةً ۚاور کہتے ہیں: ہم کو ہرگز آگ نہ لگے گی، مگر چند روز گنے چنے): امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’ہر ملت اور مذہب میں کافر، منکر اور دین کو تسلیم کرنے والے فاسق و فاجر کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ کافر کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی سزا تجویز کی گئی ہے، جب کہ فاسق و فاجر اور گناہگار دین دار انسان کے لیے گناہوں کی سزا بھگتنے اور انبیا علیہم السلام کی شفاعت کے سبب جہنم سے نکلنے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ہر ملت کی کتاب میں یہ حکم ہر اُس آدمی کے لیے ہے، جو اُس دین اور ملت کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کو تسلیم کیے ہوئے ہے۔ چناں چہ تورات میں یہ بات ایک یہودی (مذہب) اور عبرانی (نسل) کے لیے بیان کی گئی اور انجیل میں ایک نصرانی کے لیے واضح کی گئی اور قرآن عظیم میں مسلمانوں کے لیے یہی بات بیان کی گئی ہے۔
اس حکمِ الٰہی کا اُصولی اور صحیح مطلب یہ ہے کہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر صدقِ دل سے ایمان لانا، اپنے نبی _ جو اُن کی طرف مبعوث ہوئے ہیں _ کی پوری فرماں برداری کرنا، اُس ملت کی شریعت کے مطابق پورا عمل کرنا، اور اُس ملت میں جن چیزوں سے روکا گیا ہے، اُن سے اجتناب کرنا ہے۔ یہ حکم کسی فرقے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
یہودیوں نے اس حکم میں یہ تحریف کی کہ یہ حکم صرف یہودیوں اور عبرانیوں کے لیے خاص ہے کہ اپنے انبیاؑ کی سفارش سے وہ ضرور بالضرور جنت میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ اس حکمِ الٰہی پر کسی طور عمل نہ بھی کیا جائے۔ اور اگرچہ وہ صحیح طور پر مؤمن نہ بھی ہوں۔ اور ایمان بالآخرت بھی نہ رکھتے ہوں۔ اور اپنی طرف مبعوث شدہ نبیؑ کی رسالت کو بھی صحیح طور پر نہ مانتے ہوں۔ چناں چہ قرآن حکیم نے ان کی اس بات کو نقل کیا ہے کہ: ’’اور کہتے ہیں: ہم کو ہرگز آگ نہ لگے گی، مگر چند روز گنے چنے‘‘۔ ان کی یہ بات سراسر غلط ہے اور محض جہالت پر مبنی ہے۔
قرآن حکیم گزشتہ کتابوں کی تحریفات کو واضح کرکے سیدھا راستہ بتلاتا ہے اور یہودیوں کے اَحبار و رُہبان نے جو شکوک و شبہات اور اِشکالات دینِ حنیفی کے بارے میں پیدا کیے ہیں، انھیں اچھی طرح کھول کر بیان کرتا ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تحریف کو اگلی آیات میں واضح طور پر بیان کردیا ہے‘‘۔ (الفوز الکبیر، فصلِ اوّل)
قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ ٱللَّهِ عَهْدًا فَلَن يُخْلِفَ ٱللَّهُ عَهْدَهُۥٓ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
(کہہ دو: کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار (عہد)؟ کہ اب ہرگز خلاف نہ کرے گا اللہ اپنے قرار کے؟ یا جوڑتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے؟): کسی بھی معاشرے میں جاری احکامات اور قوانین یا تو کسی معاہدے کے تحت وجود میں آتے ہیں، یا کسی علم و تجربے کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔ یہود کے علما نے دین میں تمام تر تحریفات کے باوجود اپنے فرقے اور گروہ کے لیے ہمیشہ کی جنت میں داخلے اور صرف کچھ دنوں کے لیے جہنم میں داخل ہونے کے حوالے سے جو تحریف کی تھی، اُس کو واضح کرتے ہوئے اللہ پاک نے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا کہ: آپ ان سے پوچھیں کہ کیا تھوڑے دن جہنم میں رہنے کے حوالے سے صرف تمھارے فرقے کا ہی اللہ سے کوئی معاہدہ ہے؟ یا تم کوئی ایسا علم رکھتے ہو کہ جس کی بنیاد پر تم نے صرف اپنے فرقے کی جنت میں داخلے کا تصور اپنا رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات نہ تو تورات کے کسی قدیم یا جدید ’’عہد نامہ‘‘ میں موجود ہے اور نہ ہی اس حوالے سے یہودی علما کوئی علم و شعور رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ تحریف محض غلط اور جہالت پر مبنی ہے۔
بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ کیوں نہیں! جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے، سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
جنت اور جہنم کا فیصلہ فرقوں، گروہوں اور نسلوں کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ اس قانونِ الٰہی پر مبنی ہے کہ جو انسان بُرے اعمال کرے اور پھر مسلسل بداعمالی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بداَخلاقی اُس کے پورے وجود کو گھیر لے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ خواہ وہ آدمی کسی نسل، کسی فرقے اور کسی قوم سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو۔ تورات، انجیل اور قرآن حکیم کی تعلیمات میں یہ حکمِ الٰہی بغیر کسی فرقہ وارانہ تفریق اور نسلی امتیاز کے‘ اُصولی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسے کسی خاص فرقے کے ساتھ نتھی کرنا درست نہیں ہے۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
(اور جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، وہی ہیں جنت کے رہنے والے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے): اسی طرح جو لوگ صدقِ دل سے اللہ اور اپنے نبیؑ پر ایمان لائیں اور اس کے مطابق صحیح عمل کرکے اعلیٰ اَخلاق ؛ طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت حاصل کرلیں تو وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اس طرح ہر ملت کے جو لوگ اپنے زمانے میں اپنے نبیؑ کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے، وہ جنتی ہیں۔ آج یہ دور نبیٔ آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہے، اس لیے اس دور میں سچا مؤمن وہ ہے، جو آپؐ کے لائے ہوئے دین کی پوری اتباع کرے اور اُس کی روشنی میں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی، انسانیت کے بنیادی چار اَخلاق اور قومی و بین الاقوامی تقاضوں کے تناظرمیں پورا کرے، وہی کامیاب انسان ہے۔ اس لیے اس دور میں تمام نسلوں اور قوموں کو قرآن حکیم کی تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کرنا ضروری ہے۔ انبیا علیہم السلام کی سفارش بھی ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ہوگی، جو انبیاؑ کی تعلیمات پر صحیح طور پر عمل کریں گے۔
حُبِّ نبویﷺ کا معیار

عَنْ عَبدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ قُرَادٍ أنَّ النَّبیَّﷺ تَوَضَّأَ یَوْمًا، فَجَعَلَ أصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْئِہٖ۔ فَقَالَ لَہُمْ النَّبِیُّﷺ: ’’مَا یَحْمِلُکُمْ عَلٰی ھٰذَا؟‘‘ قَالُوْا: حُبُّ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ۔ فَقَالَ النَّبیُّﷺ: ’’مَنْ سَرّہٗ اَنْ یُّحِبَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اَوْ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ فَلْیَصْدُقْ حَدِیْثَہٗ اِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ اَمَانَتَہٗ اِذَا اؤْتُمِنَ، وَلْیُحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَہٗ۔‘‘ (مشکوٰۃ، 4771)
(حضرت عبدالرحمن بن قُرادؓ سے روایت ہے کہ: ایک دن رسول اللہﷺ نے وضو کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپؐ کے وضو کا پانی لے لے کر چہرے اور بدن پر ملنے لگے۔ نبیؐ نے ان سے پوچھا: ’’ایساکرنے پر تمھیں کس چیز نے آمادہ کیا؟‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا کہ: اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت نے۔ اس پر نبیؐ نے فرمایا: ’’جس کو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کی تمنا ہو، یا یہ چاہتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ اس سے محبت کریں، اسے چاہیے کہ جب بات بیان کرے تو سچی گفتگو کرے۔ اگر اس کے پاس کوئی امانت رکھوائے تو اس کی پاسداری کرے۔ او رجو اس کا پڑوسی ہو، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘۔)
زیرِنظر حدیث میں محبتِ رسولﷺ کا معیار یہ ذکر کیاگیا ہے کہ انسان کی عملی زندگی رسول اللہﷺ کی ہدایات اور سیرت کے تابع ہوجائے۔ اس ضمن میں نبی اکرمﷺ نے تین باتوں کو بہ طورِ خاص ذکر کیا ہے: (1) ’سچ بولنا‘: یہ ایک ایسا خُلق ہے جو بہت سی نیکیوں کی بنیاد اور اہلِ ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے سچائی کو اپنی محبت کا معیار بناکر اس کی اہمیت کو مزید اُجاگر کردیا ہے۔ (2) محبتِ رسولؐ کا دوسرا معیار آپؐ نے ’امانت کی حفاظت‘ بتایا۔ امانت کے ساتھ انسان کو عموماً اُنس ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ساتھ ضرورت بھی وابستہ ہوتی ہے۔ جب مالک اس امانت کو واپس لینا چاہتا ہے تو انسان کا نفس رُکاوٹ بنتا ہے۔ حُبِّ رسولؐ کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے نفس کی خواہش کو قربان کرے اور امانت واپس لوٹا دے۔ (3) حُبِّ رسولؐ کا تیسرا معیار رسول اللہﷺ نے ’پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک‘ بتایا ہے۔ یہ خُلق انسان کے عمدہ اَخلاق کا مظہر ہے۔ یہ ایک دن کا نہیں، بلکہ زندگی بھر کا معاملہ ہے۔ بعض اوقات اس حوالے سے اپنے حقوق بھی چھوڑنے پڑتے ہیں۔ بے لوثی اور ایثار اس خُلق کا خاصا ہے۔ اس عالی ظرفی کی بنا پر اسے حُبِّ رسولﷺ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
حُبِّ رسولﷺ کا یہ معیار کہ کچھ نمائشی چیزیں اختیار کرلی جائیں، یا محض عقیدت کی بنیاد پر کچھ کام کرلیے جائیں، مثلاً مخصوص لباس اختیار کرنا، کھانے پکا کر تقسیم کرنا، محفلیں منعقد کرنا وغیرہ، لیکن جب حق گوئی کا موقع آئے تو عذر پیش کیا جائے۔ امانت میں خیانت عادت ہو اور ہمسائے کے حقوق کی بالکل پرواہ نہ ہو تو پھر حُبِّ رسولﷺ کے نام سے یہ اُمور نمائشی محسوس ہوتے ہیں۔ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس سے تھا۔ آپؓ نے قریش کے متمول اور فیاض خاندان میں آنکھیں کھولیں اور ناز و نعم میں پرورش پائی ۔ آپؓ اور آپؓ کے پہلے شوہر حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد مخزومیؓ دونوں سابقینِ اوّلین میں سے ہیں۔ حضرت ابوسلمہؓ اُن صحابہؓ میں سے تھے، جن کو دو ہجرتوں (ہجرتِ حبشہ و ہجرتِ مدینہ) کا شرف حاصل ہوا۔ وہ رسول اللہؐ کی پھوپھی بَرّہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم کے صاحبزادے اور آپؐ کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت اُمِ سلمہؓ کے پہلے شوہر کی وفات کے بعد آپؓ کی دوسری شادی حضور اقدس ﷺ سے ہوئی۔
حضرت اُمِ سلمہؓ نہایت بلند اَخلاق کی مالک، فیاض اور رحم دل تھیں۔ کسی سائل کو اپنے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ واپس نہ کرتیں۔ آپؓ اپنے شوہر حضوؐر سے بہت محبت کرتی تھیں اور آپؐ کی ضرورتوں کا سب سے زیادہ خیال رکھتی تھیں۔ آپؓ اوصافِ حمیدہ اور ذہنی و عقلی صلاحیتوں کی مالک اور انتہائی ذی استعدادشخصیت کی حامل تھیں ۔ حضرت اُم سلمہؓ اپنی ذات کی قدرومنزلت سے خوب اچھی طرح واقف تھیں، کیوں کہ ان کے راسخ ایمان اور ان کی لامتناہی قربانیوں کی وجہ سے، ان کی موروثی عزت و بزرگی اور نبی کریمؐ کے حرم میں داخل ہونے کی وجہ سے، اور ان کی بے مثال عقل وذہانت اور نتہائی حسن و جمال جیسی صفات کی وجہ سے ان کو اسلامی معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل ہوا تھا۔
حضرت اُم سلمہؓ بڑی عالمہ و محدثہ تھیں، بڑے جلیل القدر صحابہ و تابعین آپؓ سے حدیث روایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ حدیث کی کتابوں میں آپؓ سے 378 کے قریب احادیثِ نبویؐ موجود ہیں۔ آپؓ قرآن حکیم اسی لہجے اور ترتیل کے ساتھ پڑ ھتی تھیں، جیساکہ رسول اللہؐ پڑھا کرتے تھے۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہؓ کا بہت اہم رول رہا، آپؓ نے ہی نبی کریمؐ کو بہترین رائے اور درست مشورہ دیا جس کی وجہ سے اہم ترین مسائل حل ہوئے۔ موقع و محل کو پہچاننا اور عملی تقاضوں کی معرفت جن سے جماعتی شیرازہ بندی قائم رہے، ایسی عقل و حکمت کی صلاحیت آپؓ میں بہت زیادہ موجود تھی۔ اسی طرح حضرت اُم سلمہؓ فتح مکہ، غزوۂ خیبر، غزوۂ ہوازن، غزوۂ ثقیف اور حجۃ الوداع اور دیگر مواقع میں نبی کریم کے ساتھ شریک ہوئیں۔
حضرت اُم سلمہؓ۶۱ھ /۶۲ھ میں ا س دارفانی سے کوچ کر گئیں۔حضرت ابوہریرہؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ جنت البقیع میں آپ کو دفن کیا گیا۔ اُمہات المؤمنین میں سب سے آخر میں آپ ہی کا انتقال ہوا۔ رِضوانُ اللّٰہ علیھنّ أجمعین۔
(کتب حوالہ: اُسد الغابہ، الاصابہ، سیرتِ نبوی از شبلی نعمانیؒ، سیرتِ مصطفی از ادریس کاندھلویؒ)
فرسودہ ملکی نظام کی فریب کاری اور قومی خود داری

اس سال اپریل سے ستمبر تک کے دورانیے میں اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے واقعات اور اقتدار کی چھینا جھپٹی نے ریاست کو بالادست طبقوں کے ہاتھ میں لعبِ صِبیان (بچوں کا کھیل) اور بازیچۂ اَطفال (بچوں کا تماشہ) بنا کر رکھ دیا ہے۔ قومی خودداری سے محروم اس ملک کے فیصلے آج بھی طاقت کے بیرونی مراکز میں ہورہے ہیں، خواہ وہ لندن ہو یا واشنگٹن۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہماری اشرافیا کی ڈوریں کس طاقت کے ہاتھ میں ہیں۔ کلونیل عہد میں ہندوستانی رعایا پر حکمرانی کے لیے وائسرائے لندن سے بھیجے جاتے تھے۔ بہ طور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی آمد اسی غلامانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ جب پاکستان کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین سے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے زبردستی استعفیٰ لکھوایا تھا تو معزول وزیراعظم نے اپنی مدد کے لیے پہلی کال لندن کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن جب انھوں نے ٹیلی فون کا ریسیور اُٹھایا تو ان کے فون کا کنکشن کاٹا جاچکا تھا۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری بڑی ہے کہ اس ملک کی آزادی کے دعوے داروں نے کب کب لندن سے مدد مانگی۔ اس لیے ہماری سیاست میں لندن کا ایک مخصوص کردار ہمیشہ رہا ہے، جو آج بھی موجود ہے۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے۔
ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں عالمی مالیاتی اداروں کے ایما پر معین قریشی، شوکت عزیز اور رَضا باقر کی آمد ابھی تک قوم کے حافظے میں محفوظ ہوگی۔ پھر بھی ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں بیرونی مداخلت نہیں ہوتی۔ پاکستان کی تاریخ میں بالعموم اور موجودہ تناظر میں بالخصوص پاکستان میں اقتدار کے حریفوں کے درمیان اقتدار پسندی کی جنگ نے اس ملک کے ہر ادارے اور شعبے کو بُری طرح سے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اوّل روز سے اس نومولود ریاست پر قومی جذبے سے عاری ایسے مفاد پرست طبقے مسلط ہوئے، جنھوں نے بیرونی عناصر کے زیرِ اثر نظام کی بنیادیں ہی غلط طور پر اُٹھائیں:
خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا مے رَوَد دیوار کج
(پہلی اینٹ جب معمار ٹیڑھی لگا دے تو ثُریا تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی)
اقتدار کے حصول کی اس جنگ کو بے چارے عوام اکثر حقیقی تبدیلی کی جنگ سمجھ بیٹھتے ہیں، حال آںکہ پاکستان میں طاقت ور حلقوں سمیت تمام بڑی پارٹیوں اور اتحادوں کے شریک عالمی سرمایہ داری نظام کے سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے پاس عوام کی حقیقی معاشی خوش حالی اور سیاسی خود مختاری کا کوئی جامع اور ٹھوس پروگرام سِرے سے ہے ہی نہیں۔ اور نہ ہی اس پر کوئی تیاری ہے۔ بس محض حصولِ اقتدار کے لیے خوش حالی اور سہانے مستقبل کا راستہ تکتے عوام کو دامِ فریب میں اُلجھائے رکھنے کے لیے جھوٹے وعدے اور دل بہلانے کے لیے جذباتی نعرے ہیں۔ اپوزیشن کی سر گرم جماعت پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو اہم عہدوں پر بار بار کی تبدیلیوں اور تقرریوں سے یہ سمجھنا آسان ہوگیا تھا کہ ان کی اپنے دعوؤں کے مطابق نہ تیاری ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ افراد ہیں، ورنہ عوام میں سے ایک بہت بڑا طبقہ ان کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو آمادہ تھا۔ بہ قولِ شاعر ؎
کوئی تعمیر کی صورت تو نکلے
ہمیں منظور ہے بنیاد ہونا!
لیکن وہ تقریباً اپنے ساڑھے تین سالہ اقتدار میں کوئی بھی جوہری تبدیل لانے سے قاصر رہے، لیکن اب وہ پھر میدانِ سیاست میں پہلے سے بڑھ کر دعوؤں کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر دوبارہ ان کے سر پر اقتدار کا ہُما بیٹھا تو وہ خفیہ سمجھوتوں کے ایوانوں سے پرواز کرتا آئے گا۔ خود داری اور حقیقی آزادی کے سلوگن محض نعرے ثابت ہوں گے۔
دوسری طرف اقتدار کی کرسی سے چمٹے ہوئے طبقے کا سیاسی قبلہ ہی لندن اور واشنگٹن ہے اور انھیں پاکستان میں بنامِ مذہب سیاست کرنے والے طبقوں کی اشیرباد بھی حاصل ہے، جو اپنے مفادات کے لیے سیاسی مُبارَزَت میں پیٹا جانے والا ڈھول سینے پر سجائے ان کے پسِ پُشت کھڑے ہیں۔ برسرِ اقتدار طبقوں کو بھی اپنے تجربوں اور تربیت یافتہ ٹیم ہونے کا دعویٰ تھا، لیکن اَن دیکھی چھتری تلے اقتدار پانے کے بعد ان کے بھی سارے دعوے سراب ہوئے۔ ویسے پاکستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے ان کی کارکردگی سے واقف ہیں کہ ان کے تجربے قومی وقار اور معیشت کی لُٹیا ڈبونے میں کیا کمال ہنر رکھتے ہیں۔ ویسے یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ پی ٹی آئی کا ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدار نکال کر پاکستان کی زندگی کے باقی بچ جانے والے ماہ و سال کے سیاہ وسفید کے مالک سارے طبقے آج کل ایک ہی ’’پیج‘‘ پر ہیں، لیکن حیرت ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے بیش تر وقت پر قابض رہنے کے باوجود بُری کارکردگی گنوانے کے لیے صرف پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور کو اپنا موضوعِ سخن بناتے ہیں۔ حالیہ اور سابقہ وزرائے اعظم دونوں گزشتہ 75 سالہ دور کا نوحہ پڑھ کر عوام الناس سے آئندہ کے لیے تعاون طلب کرتے ہیں اور اپنے اپنے درباریوں سے داد بھی پاتے ہیں۔یا لَلْعَجَب!
پاکستانی سیاسی نظام کا ڈھانچہ جن سیاسی، مذہبی اور سول و فوجی عناصر سے ترکیب پایا ہے، یہ اپنی سرشت میں ابھی بھی نو آبادیاتی اور گماشتہ عہد میں زندہ ہے۔ اس لیے وہ اس ریاست کے مسائل کو اپنے ہی مائنڈ سیٹ سے حل کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی بھی ہمارے ظاہری سیاسی نظام پر ایک سایہ منڈلاتا رہتا ہے اور وہ فرنٹ پر آئے بغیر ساری صورتِ حال کو کنٹرول کرنے کا خواہاں رہتا ہے، لیکن اب ہم دنیا سے پیچھے رہ جانے کے باوجود سیاست کے قومی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اب ذرائع ابلاغ کی ترقی اور انسانی شعور کی بیداری اس سارے کھیل کو سمجھنے لگی ہے اور لوگ تجسس بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے زیرِ لب کہتے سنائی دیتے ہیں ؎
کبھی خیال کی صورت کبھی صبا کی طرح
وہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
موجودہ حالات میں اس سہ فریقی کردار کے تجزیے کے بعد یہ بات سمجھنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارا سارا سیاسی کھیل ایک فریب ہے، جو صرف عوام کے جذبات سے کھیلتا ہے۔ اب اس نظام کی حقیقی تبدیلی‘ اصل کرنے کا کام ہے اور یہی راستہ قومی وقار کی بحالی کا آخری راستہ ہے۔ (مدیر)
اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اذکار (6)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
(5) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’قضائے خداوندی نہیں ٹلتی، مگر یہ کہ دعا مانگی جائے‘‘۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2233)
(تشریح) میں کہتا ہوں کہ: یہاں ’’قضا‘‘ سے مراد کسی کام کی وہ صورت ہے، جو عالمِ مثال میں پیدا کی گئی ہے، جو کہ کائنات میں کسی وقوعے کا سبب بنتی ہے۔ اور وہ وقوع پذیر ہونے والی مخلوقات کی طرح ہے، جسے ختم کرنا اور باقی رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
(یعنی اس حدیث میں قضا سے مراد تقدیر نہیں ہے، بلکہ عالَمِ مثال میں اسباب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سزا یا جزا کی شکل و صورت ہے، جو دعا سے مٹ جاتی ہے۔مترجم(
(6) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’بے شک دعا ہر صورت میں نفع دیتی ہے، خواہ اُس کا تعلق نازل ہوچکی مصیبت سے ہو، یا ایسی مصیبت سے جو ابھی نازل نہیں ہوئی۔ پس اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ دعا مانگا کرو‘‘۔ (مشکوٰۃ : 234)
(تشریح) میں کہتا ہوں کہ: دعا جب مستقبل میں کسی آنے والی مصیبت کا علاج کرتی ہے تو اُسے کمزور بنا دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ سبب نہیں پیدا ہوتا، جو زمین میں کسی واقعے کے وجود کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جب دعا نازل ہوچکی مصیبت کا علاج کرتی ہے تو اللہ کی رحمت اس صورت میں ظاہر ہوتی ہے کہ اُس کی تکلیف میں کمی ہوجاتی ہے۔ اور اُس کی وحشت سے انسان مانوس ہوجاتا ہے۔
(7) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ سختیوں اور مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ اُس کی دعائیں قبول کرے تو اُسے چاہیے کہ آسانی اور خوش حالی میں بھی اللہ سے کثرت سے دُعا مانگے‘‘۔ (رواہ الترمذی، مشکوٰۃ، حدیث: 2240)
(تشریح)میں کہتا ہوں کہ: آپؐ نے یہ اس لیے فرمایا کہ دعا اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی، جب تک کہ کوئی آدمی پوری رغبت کے ساتھ دُعا مانگنے میں قوت ظاہر نہ کرے اور اپنے ارادے کی پختگی کو ظاہر نہ کرے۔ اس لیے انسان کو مصیبت آنے سے پہلے اپنے ارادوں کی پختگی اور رغبت کے ساتھ دعا کی خوب مشق کرنی چاہیے۔
(8) نبی اکرم ﷺ کا معمول تھا کہ جب آپؐ دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے۔ اور دُعا کے بعد دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیر لیتے تھے۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2255)
(تشریح) میں کہتا ہوں کہ: دعا مانگتے ہوئے دونوں ہاتھ اُٹھانا اور پھر انھیں اپنے چہرے پر پھیرنا دعا میں انسان کی رغبت کی عملی تصویر ہے۔ بدن کی یہ عملی تصویر اُس کی دل کی کیفیت کا عملی مظاہرہ ہے۔ اس طرح ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا دل کو متنبہ کرنا ہے۔
(9) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس آدمی کے لیے دعا مانگنے کا دروازہ کھول دیا گیا تو اُس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے گئے‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2239)
(تشریح) میں کہتا ہوں کہ: جس آدمی نے یہ جان لیا کہ دل کی گہرائی سے اُبھرنے والی رغبت کے ساتھ اللہ سے دعا مانگنے کی کیفیت اور لذت کیا ہوتی ہے؟ اور یہ جان لیا کہ اللہ کی طرف سے دعا کی قبولیت کس صورت میں ظاہر ہوتی ہے؟ اور اس طرح اُسے اللہ کے سامنے حضوری کی صفت کی مشق ہوگئی تو اُس کے لیے دنیا میں رحمت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ اور پھر ہر مصیبت میں اُس کی مدد کی جاتی ہے۔
ایسا آدمی جب مرتا ہے اور اُس کو اُس کے گناہ گھیر لیتے ہیں اور دنیاوی حالات اور معاملات کے پردے اُسے ڈھانپ لیتے ہیں تو اس وقت یہ آدمی دنیا میں دعا مانگنے کی مشق کے مطابق اللہ کی طرف پوری توجہ سے متوجہ ہوتا ہے۔ تو آخرت میں بھی اُس کی دعا قبول کی جائے گی۔ اور وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو کر نکل جائے گا، جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔
)دعائیں قبول کرنے کے مواقع اور مقامات(
جان لینا چاہیے کہ دعاؤں کی سب سے زیادہ قبولیت اُس وقت ہوتی ہے، جب ایسی حالت میں مانگی جائیں کہ جب رحمت کے نازل ہونے کا موقع ہو۔ یہ مواقع درجِ ذیل ہیں:
(1) انسان میں کسی نیک عمل کے نتیجے میں کوئی کمال پیدا ہو، مثلاً نمازوں کی ادائیگی کے بعد دعا مانگنا، اور روزے دار کی ایسی دعا جو وہ روزہ افطار کرتے وقت مانگتا ہے۔
(2) جب اللہ کی رحمت کے نزول کے اسباب موجود ہوں، جیسا کہ عرفات کے میدان کی دعا۔
(3) جب کوئی ایسا سبب جو کائنات کا نظام چلانے والی اللہ کی عنایات سے موافقت رکھتا ہو، جیسا کہ مظلوم انسان کی دعا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عنایات میں سے یہ ہے کہ ظالم آدمی سے انتقام لیا جائے۔ مظلوم کی دعا اللہ کی اس عنایت اور مہربانی سے موافقت رکھتی ہے۔ چناں چہ اس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ: ’’مظلوم کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ اور حجاب حائل نہیں ہوتا‘‘۔ (رواہ الترمذی، حدیث: 2014)
(4) ایسا سبب کہ جس کی وجہ سے دنیا کی راحت سے انسان دور ہوجائے تو اللہ کی رحمت اُس کے حق میں کسی دوسری صورت میں متوجہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ کسی مریض کی دعا، یا کسی پریشانی میں مبتلا آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے۔
(5) ایسا سبب کہ جس کی وجہ سے دعا میں اخلاص پیدا ہوجائے۔ جیسا کہ کسی آدمی کی نظروں سے غائب بھائی کے لیے دعا کرنا، یا والد کا اپنی اولاد کے لیے دعا مانگنا۔
(6) ایسے وقت میں دعا مانگی جائے کہ جس میں اللہ کی روحانیت فضا میں پھیلی ہوئی ہو اور اللہ کی رحمت نازل ہو رہی ہو۔ جیسا کہ شب ِقدر کی دعا اور جمعہ کے دن کی دعا۔
(7) ایسی جگہ جہاں فرشتے ہر وقت حاضر رہتے ہوں، جیسے مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات ۔
(8) یا انسان ایسے مقامات پر حاضر ہو کہ جہاں اُس کے نفس میں اللہ کے سامنے حضور و خشوع کی حالت پیدا ہوتی ہو۔ جیساکہ انبیا علیہم السلام سے نسبت رکھنے والے مقامات (مثلاً طور پہاڑ، مقامِ ابراہیم، مسجد ِحرام، مسجد ِنبویؐ اور بیت المقدس وغیرہ)۔
جو کچھ ہم نے پیچھے دعا سے متعلق اُمور بیان کیے ہیں، ان پر قیاس کرنے سے نبی اکرمؐ کے اس قول کا راز بھی معلوم کیا جاسکتا ہے، جس میں آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’بندے کی دعا ہمیشہ اُس وقت تک قبول کی جاتی ہے، جب کہ وہ گناہ کرنے کی دعا نہ مانگے، رشتے کو کاٹنے کی دعا نہ مانگے اور جب تک وہ جلد بازی نہ دکھائے‘‘۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ: جلد بازی کا کیا مطلب ہے؟ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’بندہ یہ کہے کہ میں نے دعا مانگی، اور پھر میں نے دعا مانگی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی اور نااُمید ہو کر دعا کرنا چھوڑ دے‘‘۔ (رواہ مسلم، حدیث: 6936)
صلح کے پیامبر

سیّدنا حضرت حسنؓ اور سیّدنا حضرت امیر معاویہؓ کے درمیان صلح سے حضوؐر کی وہ پیشین گوئی سچی ہوئی، حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو بکرہؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا کہ سیّدنا حسنؓ آپؐ کے پہلو میں تھے۔ کبھی آپ ؐ مجمع کی طرف دیکھتے اور کبھی ان کی طرف اور فرماتے: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا‘‘۔ (صحیح بُخاری، کتابُ الصّلح، حدیث: 2704) چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت حسنؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے درمیان صلح ہوئی، جو اُمت کے لیے باعثِ افتخار اور برکت بنی۔ اس صلح کی وجہ سے اس سال کا نام ’’عام الجماعہ‘‘ رکھا گیا۔ بعض مؤرخین اس صلح کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں کہ جس سے اس عظیم عمل کی عظمت ماند پڑ جاتی ہے۔ ایسے نام نہاد مؤرخین نے اس عظیم کارنامے کو کس طرح گہنانے کی کوشش کی ہے، بلکہ اَسلاف کی محبت جو ہرمسلمان کے دل میں ہونی چاہیے، اس کو دلوں سے نکالنے کی سعیٔ نا مشکور کی ہے۔
اس عظیم عملِ صلح کے لیے حضرت امیر معاویہؓ نے جن دو بزرگوں کو حضرت حسنؓ کے پاس بات چیت کے لیے بھیجا اور صلح کے پورے اختیارات دیے تھے کہ جن شرائط پر چاہیں صلح کر لیں، ان بزرگوں میں ایک حضرت عبد اللہ بن عامر بن کُریزؓ ہیں۔ انھیں کا اجمالی تعارف مقصود ہے۔ عبد اللہ بن عامرؓ اپنے والد کی طرف سے عبدِ شمس بن عبدِ مناف کی اولاد سے ہیں اور ماں کی طرف سے ہاشمی ہیں۔ آپؓ کی دادی کی والدہ بیضا بنت عبدالمطلب ہیں، جو آپؓ کی پھوپھی ہوتی ہیں۔
جب سیّدنا عبد اللہؓ پیدا ہوئے تو ان کو نبی کریمؐ کی گود میں بٹھایا گیا تو آپؐ نے ان کے والد سیّدنا عامر بن کریز سے فرمایا کہ: ’’یہ بچہ تو تم سے زیادہ ہم پر گیا ہے‘‘۔ پھر آپؐ نے اپنا لعابِ دہن ان کے منہ میں ڈالا، جسے وہ چوسنے لگے تو آپؓ نے فرمایا: ’’یہ بچہ لوگوں کی پیاس بجھانے والا ہوگا‘‘۔ چناں چہ سیّدنا عبد اللہؓ کے بارے میں معروف ہے کہ یہ پانی کے لیے جہاں سے بھی زمین کھودتے، پانی نکل آتا۔ آپؓ نے عرفات میں حاجیوں کے لیے حوض بنوائے اور چشموں کا پانی ان میں بھروایا۔ اس کے علاوہ آپؓ کی سیاسی خدمات اس قدر ہیں کہ رہتی دنیا تک اُمت آپؓ پر فخر کرے گی۔ ایران کی فتح کی تکمیل آپؓ کے ہاتھوں ہوئی۔ آپ ہی کے ہاتھوں ساسانیوں کا آخری بادشاہ یزدگرد مارا گیا۔ آپ کی فتوحات کا سلسلہ حضرت امیرمعاویہؓ کے زمانے تک جاری رہا۔
دوسری شخصیت جو سیّدنا حسنؓ کے پاس صلح کے لیے بھیجی گئی، وہ حضرت عبد الرحمن بن سمرہؓ ہیں۔ ان کی بھی بڑی لازوال خدمات ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عامرؓ کے زیرِ کمان کابل تک کا علاقہ انھوں نے فتح کیا۔ان دو حضرات کا بہت بڑا شرف ہے کہ اہلِ ایمان کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرا کے دنیا و آخرت میں سُرخرو ہوئے۔
سیاسی طُفیلیے اور معاشی مسائل کا حل

بقا کے لیے جدوجہد ہر مخلوق کا خاصہ ہے۔ اور یہ معاملہ انسان کو درپیش ہو تو جدوجہد اجتماعیت کا رنگ لیے بغیر نہیں رہتی۔ اعلیٰ درجے کی اجتماعیت قائم کرنے کے لیے شعوری جدوجہد کا ہونا لازم ہے۔ انسانی کاوشوں کے علاوہ ارد گرد کے حالات و واقعات دراصل شعوری جدوجہد کے لیے مہمیز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہماری مقتدرہ نے اپنی نااہلی اور مفاد پرستی کے جو جھنڈے گاڑے ہیں اور جس یکسوئی کے ساتھ معاشی تباہی کو ممکن بنایا ہے، اس نے قوم کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اس مثالی گراوٹ اور پے در پے آفتوں کی یلغار نے گویا عام آدمی کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس پر طُرّہ یہ کہ آئے دن نت نئے طریقوں سے انواع و اقسام کے ٹیکسوں کا اجرا، دوسری طرف طاقت ور حلقوں کی لوٹ مار سے اُن کی مستقل خوش حالی اور ترقی کی داستانوں نے کھیل کافی حد تک واضح کر دیا ہے۔
دراصل یہ طریقۂ واردات متعدد دفعہ دہرایا جاچکا ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیا کی ابتدا اور بقا دونوں دراصل ہمہ مقتدر اسٹیبلشمنٹ کی مرہونِ منت رہی ہے، لیکن ایک سیاسی ملازم کو نوکری ملنے اور دوسرے کو نکالے جانے کا یہ کھیل اور بعد ازاں نکالے جانے والے کی جانب سے گریہ زاری کا دلچسپ و تکلیف دہ سلسلہ پچاس، ستر، نوے، بیس کی دہائیوں میں اتنی بار دُہرایا گیا ہے کہ اب ہر پاکستانی اس معاملے میں نجومی بن چکا ہے۔
نوکری سے نکالے جانے والے قومی لیڈر ملازمت پر واپس جانے کے لیے سراپا احتجاج ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان کی تمام معاشی مشکلات کا حل ہے۔ جیسے وہ پہلے کررہے تھے، ویسے ہی کام آگے بڑھائیں گے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اگر انھیں نوکری سے نہ نکالا جاتا، اُس صورت میں بھی ملکی معیشت ایسے ہی حالات سے گزرتی، جیسے موجودہ تیس مار خان حکومت کے ذیل میں گزر رہی ہے۔ پہلے والوں کی غلطی یہی تھی کہ انھوں نے آقا کی بات ماننے پر لیت و لعل کا مظاہرہ کیا اور وہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہی ملک کے حقیقی لیڈر ہیں، لیکنIMFکی حالیہ رپورٹ نے ان کی اس گستاخی کا برملا اظہار کردیا ہے، گویا چارج شیٹ کردیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پہلی دفعہ ہمارے سیاسی لیڈران کے نشانے پر آئی ہے۔ ایسا حالیہ دہائیوں میں کئی دفعہ ہوچکا ہے۔ وسائل اور حکمتِ عملی کے میدان میں کوئی سیاسی لیڈر ہماری ہمہ مقتدر اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ مسئلہ یہ ہے کہ نظام کی پیداوار ہمارا یہ ہر دل عزیز عوامی لیڈر جب اسی نظام کے ہاتھوں ناکام ہوگا تو پھر کیا ہوگا۔ اُس وقت یقینا پاکستانی عوام کا اجتماعی شعور مزید بلند ہوچکا ہوگا اور اس بار ان کے مسائل کے حل کے لیے وہ کسی روایتی سیاسی طُفیلیے کو یکسر ردّ کردیں گے۔اور نصف صدی سے جاری اس دھینگا مشتی کے طے شدہ اعادے کو بدلنا ہوگا۔ جو کم از کم ہماری ہمہ مقتدر اسٹیبلشمنٹ کے بس کی بات نہیں، کیوں کہ آقا نے انھیں درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا تھا۔
یورپی یونین کی جنگ بندی کی التجا !

یوکرین جنگ کو کم و بیش 195 واں دن ہوچکا۔ ستمبر اپنا پہلا ہفتہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ جاری ہے۔ ابھی تک یورپ کی سردیو ں میں شدت پیدا نہیں ہوئی۔ روس کو مختلف فورمز کے ذریعے جنگ بندی کی التجائیںآنا شروع ہوگئی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ امن کی طرف آجائیں۔ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کر لیتے ہیں۔ یہ پیغام یورپ کے ایک اہم ملک کی طرف سے ایران کو پہنچایا گیا ہے۔ انھوں نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے کہا ہے کہ: ’’آپ کے وزیر خارجہ 31؍ اگست2022ء کو ماسکو جانے والے ہیں۔ ہما را پیغام سرگئی لاروف کے حوالے کیا جائے، تاکہ وہ اسے وِلادی میر پیوٹن تک پہنچا دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یوکرین میں جنگ بندی ہوجائے‘‘۔ (ایران انٹر نیشنل 31اگست2022) پیغام دیتے وقت ایرانی وزیر خارجہ امیر عبدا للّہیان نے یورپ کے اہم ملک کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ ویسے اس پیغام کا ٹائٹل ’’یورپین پیس اِنیشیٹِو ٹو رشیا‘‘ (European Peace Initiative to Russia)تھا۔ ایرانی اخبار کے مطابق یورپین سربراہ نے ایران سے کہا ہے کہ: آپ ثالث کا کردار ادا کرکے یوکرین تنازعہ حل کروانے میں ہماری مدد کریں۔ بعد میں ایک دوسرے ایرانی اخبار نے یورپین سربراہ کا نام بھی ظاہر کردیا ہے۔ ’’آئی ایس این اے نیوز‘‘ (ISNA news)کے مطابق فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون ہی تھے، جنھوں نے ’’یورپین پیس اِنیشیٹِو ٹو رشیا‘‘ رُوس کے صدر وِلادی میر پیوٹن تک پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
روس نے فرانس کی گیس تین دن (یکم؍ تا 3 ستمبر) بند کردی۔ روس نے اعلان نہیں کیا کہ گیس کتنے عرصے کے لیے بند رہے گی۔ فرانس کے صدر پہلے بھی یوکرینی تنازعہ ختم کروانے کی کوشش کررہے تھے، لیکن امریکی صدر جو بائیڈن نے انھیں روک دیا تھا۔ اب فرانس کی طرف سے پہنچائے گئے ’’امن کے جرأت مندانہ پیغام‘‘ پر کسی یورپی ملک نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا، بلکہ فرانس نے مزید کہا ہے کہ: ترکی جو ہمارے معاملات کو سلجھانے کے لیے آگے بڑھ کر ایک فرنٹ مین کا کردار ادا کرہا ہے، ہم خود بھی ایسا کام کرسکتے ہیں۔ ترکی نے کوئی ٹھیکہ لے رکھا ہے؟ ترکی بھی نیٹو کا ایک رُکن ہے۔ اور امریکا کا ایک عام اتحادی ہے۔ اس کے علاوہ میکرون نے ایک اہم اجلاس میں دو باتیں ظاہر کردیں: پہلی یہ کہ جرمنی اور فرانس نے مارچ میں بھی ایسی کوشش شروع کی تھی، لیکن اس پر بہت سخت تنقید کی گئی کہ ایک طرف فرانس حملے کی مذمت کررہا ہے، دوسری طرف تعلقات استوار کرنے کے لیے مذاکرات کی باتیں ہورہی ہیں۔ میکرون کے ان خیالات کے ساتھ ہی جو بائیڈ ن نے انھیں سائیڈ لائن کردیا۔
دوسری اہم بات کہ نیٹو 2014ء سے منصوبہ بندی کررہا تھا کہ یوکرین کے ساتھ مل کر کریمیا کو روس سے کیسے واپس لیا جائے؟ دوسرا ’’ڈان باس‘‘ میں علاحدگی پسندوں کی تحریک کو کیسے پروان چڑھایا جائے؟ یوکرین کے سابق صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ: یورپ کے کئی ممالک مارچ میں یوکرینی صدر کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ جنگ جنگ کھیلنا بند کر و اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کاکوئی راستہ نکالو ! حتیٰ کہ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ: روس نے جن علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے، تم ان کو بھول جاؤ اور ان علاقوں کو روس کے پاس رہنے دو! کیوں کہ آگے سردیاں آنے والی ہیں، حالات کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔
یوکرین والوں کا کہنا ہے کہ ہم روس کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں، ہم اس کے اقدامات کو ناکام بنا رہے ہیں، حال آں کہ یوکرین کے تما م اہم علاقوں پر روس کا قبضہ ہوچکا ہے۔ روس‘ یوکرین میں بہت احتیاط سے پیش قدمی کررہا ہے۔ وہ شہری علاقوں کو نشانہ بنائے بغیر آگے بڑھ رہا ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا پاور پلانٹ ’زیپورزیا‘ (Zaporizhzhya)میں ہے۔ اس کے اندر چھ یونٹ ہیں جو جوہری توانائی سے بجلی پیدا کررہے ہیں۔ روس کا اس پر قبضہ ہے۔ زیلنکسی نے وہاں اشتعال انگیزی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ روس نے عالمی جوہری ایجنسی کے چیف کو لکھا کہ: یوکرینی حلقے پلانٹ کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ جوہری توانا ئی کا چیف اپنے 14 رُکنی وفدکے ساتھ 29؍ اگست 2022ء کو زیپورزیا پہنچ گیا۔ پہلے تو یوکرینی اہل کاروں نے روکنے کی بھر پور کوشش کی اور ڈرایا دھمکایا کہ وہاں مت جاو۔ کیوں کہ روس حملہ کرکے آپ کو ہلاک کردے گا۔ چیف نے کہا کہ: تم ہماری جان کی فکر نہ کرو۔ ہم موقع پر پہنچ کر مشاہدہ کریں گے اور پھر اپنی رپورٹ مرتب کریں گے۔ جب پورٹ مرتب کی تو زیلنسکی خوب سر پٹیا، چیخا چلایا اور اس نے بہت وا ویلا کیا۔
یوکرین جنگ کے دوران یورپ حالات کی سنگینی کو بھانپ چکا ہے۔ نیٹو اتحاد اگرچہ وارساپیکٹ کے خلاف وجود میں آیا تھا، لیکن وارسا پیکٹ کے خاتمے کے بعد یہ اتحاد یورپ کے گلے کا طوق بن چکا ہے۔ کیوں کہ یوکرینی صدر کایورپی ملکوں کو غیرت کے نام پر اُکسانا اور امداد کے نام پر بھیک مانگنا‘ ظاہر کر تا ہے کہ جنگ نہ روکنا براہِ راست سی آئی اے کی حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔ کیوں کہ یورپی اتحاد اس جنگ سے جان چھڑانا چاہتا ہے، لیکن امریکا سمجھتا ہے کہ اگر یورپ اس کے ہاتھ سے نکل گیا تو امریکا سیاسی طور پر دیوالیہ ہوجائے گا۔ یورپ کاامریکی اثر سے نکلنا اسے ہمسائیوں کے قریب کردے گا۔ مشرقی اور مغربی یورپ کے درمیان آہنی دیواریں(Iron curtains)ہٹائی جا چکی ہیں۔ پھر روس نے امریکا کے مقابلے میں مغربی یورپ کے معاشی مسائل حل کیے ہیں، جب کہ امریکا نے انھیں جنگوں میں دھکیل کر انھیں اپنے مفادات کا اسیر بنا رکھا ہے۔ جب روس نے امریکی اقدامات کے مقابلے میں احسا س دلایا تویورپ فوراً بھانپ گیا ہے کہ گز شتہ صدی میں اتحاد کے نام پر یورپ کا کیسے استحصال ہوتا رہا ہے؟! گویا دونوں یورپ ایک ہونا چاہتے ہیں، لیکن امریکا راستے کا پتھر ہے۔ روس کی حالیہ حکمتِ عملی کارگر ہوتی نظر آرہی ہے۔
اسلام؛ جامع اور مکمل نظامِ انسانیت

16؍ ستمبر 2022ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! دینِ اسلام جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہم پر پہنچا ہے، یہ وہ جامع، کامل اور مکمل نظامِ انسانیت ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ ہی انسانیت کی ترقی اور کامیابی کے لیے وضع کردیا تھا۔ یہی پیغام بنیادی طور پر حضرت آدم علیہ السلام کو دیا گیا، حضرت ادریس علیہ السلام کو دیا گیا، حضرت نوح علیہ السلام کو دیا گیا اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بنی اسرائیلی انبیاؑ سے ہوتا ہوا امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا۔
انسانیت کیسے کامیاب ہوتی ہے؟ اس کا طریقۂ کار کیا ہو؟ اس کے قوانین اور ضابطے کیا ہوں؟ اس کی حدود و قیود کیا ہوں؟ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام اور رسول اللہؐ کے ذریعے سے واضح کردیں۔ خاص طور پر ایسی تمام حدود و قیود جو انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، انھیں لازمی طور پر متعین کردیا گیا۔ جو ضرر پہنچانے والی چیزیں تھیں، انھیں قطعی طور پر ممنوع قرار دے دیا۔ اور جو انسانیت کی بقا کے لیے لازمی اور ضروری تھیں، انھیں فرض اور واجب قرار دے دیا۔
دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ جس کے لیے اُس کی ساخت کے اعتبار سے اچھائی یا بُرائی، اُس کے صحیح یا غلط استعمال کے حوالے سے بنیادی قواعد و ضوابط نہ ہوتے ہوں۔ ہر مخلوق ایک محدودیت رکھتی ہے۔ اور جب وہ محدودیت اور لمیٹڈ حالت میں ہے تو اُس کا استعمال بھی لمیٹڈ اور محدود ہے۔ اس حد بندی کی خلاف ورزی ہوگی تو وہ مخلوق اپنی ساخت میں بکھر جائے گی۔ اس کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ محدود چیز محدود نظام کے دائرے کے اندر ہی صحیح کام کرتی ہے۔ کائنات میں موجود ہر ایک مخلوق کے بارے میں یہ ایک فطری اور سادہ قانون اور ضابطہ ہے۔
انسانیت ان مخلوقات میں سے بہت اعلیٰ، افضل اور احسنِ تقویم مخلوق ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے انسانیت کی حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے ایک نظامِ زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نظامِ زندگی کو انسان کی تخلیق کے وقت ذاتِ باری تعالیٰ نے متعین کردیا تھا، جسے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصطلاح میں ’’ملتِ حقہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ زندگی بسر کرنے کا صحیح حق اور ثابت شدہ طریقۂ کار، نظامِ زندگی، اس کا علمی، فکری، عملی اور قانونی نظام۔ پھر اس ’’ملتِ حقہ‘‘ کے ظہور کے مختلف ادوار، مختلف انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے درجہ بہ درجہ اس دُنیاوی زندگی میں آئے۔ اس کی جامع ترین شکل ’’ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ‘‘ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اُسی ملت کی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے کہ اس کی جو حدود و قیود متعین ہوگئی ہیں، ان کی پابندی کرو‘‘۔
عربوں میں خاندان کُش قانون کی اِصلاح
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملتِ حنیفیت کے بنیادی اُصول اور ضابطے اور نظامِ زندگی متعین کیا۔ اس لیے وہ امامِ انسانیت ہیں۔ اور پھر اُن کے متعین کردہ اُن اُصولوں پر عملی نظام بنانے کے حوالے سے تورات، انجیل اور زبور نازل ہوئیں۔ انھیں اصولوں کا عالمی نظام، عالمی قانون سازی، پوری انسانیت کے لیے ترقی کا عالم گیر ضابطۂ حیات حضرت محمد مصطفی ﷺ پر آکر مکمل ہوجاتا ہے۔ انسانیت اگر اس ضابطے اور دائرے میں رہے گی تو کامیاب ہوگی۔ اس کے مقابلے میں اگر کوئی اَور سیاسی معاشی اور قانونی نظام وضع کیا جائے گا، یا کسی اَور چیز کو مرکز اور محور بنا کر کوئی ملت وجود میں آئے گی تو انسانیت ذلیل اور رُسوا ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا: ’’تلک حدود اللہ‘‘ (یہ اللہ کی حدود ہیں)(-58 المجادلہ: 4)۔ یہ آیتِ مبارکہ ایک خاص پسِ منظر میں نازل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے انسانی زندگی کا ایک سماجی واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک اُدھیڑ عمر خاتون حضرت خولہؓ بنت ثعلبہ جو حضرت اوس بن صامتؓ کی بیوی تھیں، حاضر ہوئیں۔ ان کے شوہر نے عربوں کے پرانے سماجی دستور کے مطابق اپنی بیوی کو ماں کی طرح کہہ دیا تھا۔ اس کے مطابق عرب معاشرے میں اس عورت کو طلاق واقع ہوجاتی تھی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ عورت ماں تصور کی جاتی تھی۔ اسے ’’ظِہار‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ انتہائی غیرمعقول اور غلط قانون اور ضابطہ تھا۔ حضرت خولہؓ نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! میرا خاوند میرا مال کھا چکا۔ میری جوانی فنا کردی۔ اب یہ بڑھاپے میں، جب میں بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوں، تو مجھے کہتا ہے کہ تُو میری ماں ہے۔ یہ عجیب ظالمانہ قانون ہے۔ نہ میرا کوئی گھر بار، نہ ماں باپ۔ بڑھاپے میں کہاں جاؤں گی؟ آپؐ نے فرمایا کہ: دستور تو یہی ہے۔ میں اسے نہیں بدل سکتا۔ قانون بنانا، یا قانون سازی کرنا اللہ کا اختیار ہے۔ اللہ اگر مجھے کوئی حکم دے گا تو میں بتا دوں گا۔ تو وہ خاتون اللہ سے دعا مانگتی ہے کہ ’’میں اپنا غم، اپنی تکلیف، اپنی مشکل اللہ کے سامنے پیش کرتی ہوں اور شکایت کرتی ہوں‘‘۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اتنے میں حضرت جبرائیلؑ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر پہنچ گئے: ’’اللہ نے اُس خاتون کی بات سن لی، جو اے محمدؐ! آپ سے اپنے شوہر سے متعلق جھگڑا کر رہی تھی‘‘۔ (-58 المجادلہ: 1) اللہ نے حکم نازل کردیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کریں، وہ اُن کی مائیں بن جائیں۔ ماں تو صرف وہی ہوتی ہے، جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ پاک نے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کفارۂ ظِہار واجب کیا، اور وہ بھی بہت سخت ترین۔ یہ قانون بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ: ’’تلک حدود اللہ‘ ‘ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں۔ جو اس حدبندی کا انکار کرتے ہیں، اس کے مقابلے پر اپنی حدبندی، اپنی قانون سازی، اپنے مزعومہ خیالات رکھتے ہیں، وہ کافر ہیں‘‘۔
قانونِ الٰہی کے مقابلے میں کسی دوسرے نظام کو قبول کرنے کے نقصانات
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’یہ بات بڑی اہم اور سمجھنے والی ہے کہ اللہ نے جو حدود و قیود مقرر کی ہیں، وہ کیا ہیں؟ اور اس کے مقابلے میں حدود و قیود بنانا یا نیا دوسرا نظام بنانا، وہ کیا ہے؟ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا فکر اس کی وضاحت کرتا ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ انسان دو قوتوں کا مرکب ہے: بہیمیت کا اور مَلَکیت کا۔ اس کے جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے ’’ارتفاقات‘‘ کا نظام وضع کیا ہے۔ ارتفاقِ اوّل سے لے کر ارتفاقِ رابع تک سہولتوں کا، رفاقتوں کا، انسانی محبتوں کا، معاشرت کا، سماج کی تشکیل کا، ایک نظام تشکیل دیا ہے: نظامِ ارتفاقات۔ جو اس کی بہیمیت یا اس کی جسمانی صلاحیتوں کو نشو و نما دیتا ہے، ارتقا دیتا ہے۔ اُس کو اس کرۂ ارض پر سہولت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور دوسرا اس کی مَلَکیت ہے اور اس مَلَکیت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت، اس کی عبادت، اس کے سامنے سر بہ سجود ہونے اور اس کے احکامات کے مطابق چار اَخلاق طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت کا خوگر ہو، یہ اَخلاق اُس کی روح کی ضرورت ہے۔ اور ارتفاقاتِ اربعہ اُس کے جسم کی ضرورت ہیں۔
یہ وہ بین الاقوامی نظام ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے وضع فرمایا۔ اور جتنے بھی قانون بنائے، ذیلی اور ضمنی، وہ انسانیت ِجامعہ کو سامنے رکھ کر بنائے۔ اس کو کہا: ’’تلک حدود اللہ‘‘ ان حد بندیوں کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ اب جو اس نظام کو توڑ کر ان سے مُحادّہ (دشمنی اور جھگڑا) کرے، یعنی اس انسانیتِ جامعہ کی حدود و قیود کو توڑ کر اپنا قانونی نظام، اپنا سیاسی نظام، اپنا معاشی نظام بنائے تو وہ گویا اللہ اور اُس کے رسولؐ کے خلاف محاذِ جنگ کھول رہا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو خاندانی نظام، قومی اور بین الاقوامی نظام میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے انسانیت دوست اُصول اور ان کی حدود کو توڑ کر صرف طبیعاتی خواہشات، محض عقلی خیالات، ستاروں اور علم نجوم کے تاثرات کی بنیاد پر نظام بنائے، یا ان تینوں کے ملغوبے سے کوئی نظام بنائے، وہ اللہ اور اُس کے رسول کا دشمن ہے۔ وہ مکہ کے مشرک ہوں، مدینے کے یہودی، یا مدینے کے منافقین ہوں۔ مسلمان کلمہ گو ہوں یا قیصر و کسریٰ ہوں۔ ان تمام کو اللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ان حدود کا انکار کرنے والے اور ان سے دشمنی رکھنے اور جنگ لڑنے والے ذلیل اور رُسوا ہوں گے۔
پھر اللہ پاک نے کہا کہ: ’’ایک دن آئے گا کہ میں ان تمام کو جمع کروں گا۔ انھوں نے جو عمل کیے ہوئے ہوں گے، اُن کی ہم ان کو اطلاع دیں گے‘‘۔ (-58 المجادلہ: 6) یہ سارا ڈیٹا اس لیے محفوظ ہے کہ اللہ پاک ہر چیز پر شہید اور نگران ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کے اس قانونی نظام اور انسانیت کے عدل و انصاف کے ان ارتفاقات و اقترابات کو نظرانداز کرکے اپنا نظام بنائے اور ہمارے پاس ڈیٹا میں محفوظ نہ ہو۔ ایک ایک عمل ریکارڈ میں محفوظ ہے اور اسی کی بنیاد پر ان کی جزا و سزا کا عمل ہوگا‘‘۔
حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی اہمیت و ناگزیریت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’قرآن حکیم نے انسانی سماج سے متعلق ایک جامع قانون و ضابطہ اور ہر طرح کی حدود و قیود بتلائی ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب حدود اللہ کی بات آتی ہے تو ہمارا مذہبی طبقہ مخصوص قسم کی عبادات تک محدود رہتا ہے۔ انسانی سماج کے سماجی مسائل پر کوئی گفتگو نہیں ہوتی۔ حال آںکہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمام ابراہیمی انبیاؑ کا مقصد معاشرتی ارتفاقِ ثانی کا نظام اور قومی ریاستی ڈھانچہ اور بین الاقوامی نظام قائم کرنا تھا۔ لیکن آج ہمارے وعظوں میں، ہماری گفتگو میں، ہمارے دین کی تبلیغ اور پھیلاؤ میں نہ اَخلاقِ اربعہ (طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت) پر گفتگو ہے نہ ارتفاقِ اربعہ پر۔ اُن چیلنجز کا تذکرہ ہی نہیں، جن کو بنیاد بنا کر قرآن حکیم گفتگو کرتا ہے۔ یہ قرآن کی تعلیمات سے بے شعوری اور غفلت ہے۔ اور یہ وہی انتہا پسندی ہے، جو کسی زمانے میں یہود و نصاریٰ نے رہبانیت اختیار کرکے اپنے علما اور احبار کو اپنا خدا بنانے کے تناظر میں پیدا کر رکھی تھی۔ یہ وہی جرم ہے۔ آج ہمارا منبر و محراب نہ ریاست کو بنیاد بنا کر گفتگو کرتا ہے اور نہ معاشرے اور سماج کی بنیاد پر رہنمائی کرتا ہے۔ نہ انسانی پیشوں اور معاشی سرگرمیوں کو زیربحث لاتا ہے۔ نہ انسانی مسائل کو پیش نظر رکھتا ہے۔
قرآن حکیم میں بیان کردہ واقعہ ظِہار سے متعلق سورت المجادلہ کی یہ آیاتِ مبارکہ اپنے سیاق و سباق میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں کہ اپنی سوسائٹی کے انسانی مسائل اور ان کے شعبوں سے متعلق عقلی سوال اُٹھائے جائیں۔ غلط قوانین پر مبنی نظام سے مجادلہ کریں۔ اگر ایک خاتون حضوؐر _ جو ریاست کے سربراہ ہیں _ سے ایک غلط قانونِ ظِہار کی بنیاد پر ’’مجادلہ‘‘ (جھگڑا) کرتی ہے، تو یہاں کے حکمرانوں سے سوال کیوں نہیں کیا جاسکتا کہ تمھاری پارلیمنٹ نے غلط قانون کیوں بنایا ہے؟ یہ مینجمنٹ غلط کیوں کی ہے؟ جس سے انسان ڈوب گئے؟ ایسا معاشی نظام غلط کیوں بنایا ہے، جس کے نتیجے میں غربت پھیل رہی ہے، مہنگائی پھیل رہی ہے، انسانیت سسک رہی ہے!؟۔
سوال اُٹھانا ایک مسلمان کے شعور کا تقاضا ہے، جو قرآن حکیم پر ایمان رکھتا ہے۔ سورت المجادلہ کی یہ آیات دعوت دیتی ہیں کہ اپنے سسٹم پر سوال اُٹھاؤ، اپنے اس ماحول پر سوال اُٹھاؤ، اس نظام کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس میں جو خرابیاں ہیں، انھیں جاننے کی کوشش کرو۔ تبھی صحیح قانون اور نظام بن پائے گا۔ پھر یہ سورت بڑی اہم بات سکھاتی ہے کہ اکیلا فرد ہی نہیں، بلکہ ان کو قائم کرنے والی ایک پارٹی (حزب اللہ) پیدا کرنا ضروری ہے۔ باشعور لوگ مل کر ایک حزب اور مجلسِ مشاورت بنائیں اور اس حزب اور منظم جماعت کا ایک سربراہ ہو اور وہ جماعت مستحکم نظام قائم کرنے کی جدوجہد اور کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سورت کو جامعیت کے ساتھ سمجھنے اور اس کی اساس پر ہم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اُس ذمہ داری کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)‘‘
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ

برِعظیم پاک و ہند کی تحریکِ آزادی میں دار العلوم دیوبند کا قیام ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ ان حضرات کے رُفقائے کار میں ایک اہم نام مولانا فضل الرحمن عثمانیؒ کا بھی ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ انھیں کے فرزند ہیں۔
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ۱۰؍ محرم الحرام۱۳۰۵ھ / 1885ء کو ’یو۔پی‘ کے شہر بجنور میں پیدا ہوئے۔اصل نام ’’فضل اللہ‘‘ تھا لیکن ’’شبیر احمد‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ شجرۂ نسب حضرت عثمان غنیؓ سے ملنے کی وجہ سے ’’عثمانی‘‘ کہلاتے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 1901ء میں مزید تعلیم کے حصول کے لیے دیوبند تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ مولانا عثمانیؒ کے اساتذہ میں سے تھے۔ تعلیم میں ذہین طلبا میں شمار کیے جاتے تھے۔ فراغت کے بعد دیوبند ہی میں مدرّس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1909ء تا 1911ء مدرسہ فتح پوری دہلی میں بھی صدر مدرّس کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ 1911ء میں جب دیوبند میں جلسہ دستار بندی ہوا تو واپس تشریف لے آئے اور حضرت شیخ الہندؒ کی سرپرستی میں تدریس کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ’’جمعیت الانصار‘‘ کے نظامِ تعلیم اور نصاب سے متعلق جو خاص مجلس قائم ہوئی، اس میں مولانا موصوفؒ نے ممبر اور معتمدکے طور پر بھر پور کردار ادا کیا۔ مرادآباد میں ہونے والے ’’جمعیت الانصار‘‘ کے اجلاس میں ’’ اسلام‘‘ کے عنوان سے آپؒ نے ایک اہم خطبہ بھی ارشاد فرمایا، جس کی تفصیلات امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے رپورٹ میں درج کی ہیں۔ مرادآباد کی طرح ’’جمعیت الانصار‘‘ کے میرٹھ اور شملہ میں ہونے والے اجلاسات میں بھی آپؒ نے مقالات پیش کیے۔ الغرض! آپؒ نے حضرت شیخ الہندؒ ہی کی سرپرستی میں علمی اور عملی سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ملکی علمی اور سیاسی میدان میں مولانا موصوف کو ملنے والی پذیرائی دراصل حضرت شیخ الہندؒ کی رہنمائی اور جمعیت الانصار میں علمی کردار کے مرہونِ منت ہے۔ جنگِ بلقان کے دنوں میں ہلالِ احمر میں کی گئی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں دورہ جات کیے اور تُرکوں کی حمایت میں عوام کے شعور کو بیدار کیا۔
1919ء میں مسمانانِ ہند کی متفقہ جماعت ’’جمعیت علمائے ہند‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مولانا عثمانیؒ اس جماعت کی مجلسِ عاملہ کے اہم رُکن تھے۔ 1919ء تا 1945ء آپؒ اس کے سرگرم رکن رہے۔ جمعیت کے اہم اجلاسات کے ساتھ ساتھ خلافت کمیٹیوں اور ’’ترکِ موالات‘‘ کے جلسوں میں بھی بھرپور شرکت کی۔ 1920ء میں جب حضرت شیخ الہندؒ اسارتِ مالٹا کے بعد ہندوستان تشریف لائے تو اس وقت ترکِ موالات کی تحریک کے حوالے سے سوال کیا گیا تو حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ:’’ اس سلسلے میں جوابات حضرت مولانا حسین احمد مدنی، مولانا مفتی کفات اللہ دہلوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی تحریر کریں گے‘‘۔ سب کے جوابات پڑھ کر حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ:’’ اگر میں اس کا جواب لکھتا تو اس کے قریب تر ہوتا جو مولانا شبیر احمد نے لکھا ہے‘‘۔ مولانا موصوفؒ نے ترکِ موالات کی تحریک میں بھی دیگر رہنمائوں کے ہمراہ قائدانہ کردار ادا کیا۔
تحریکِ ترکِ موالات اور تحریکِ خلافت کے دور میں مسلمانانِ ہند‘ خاص طور پر حریت پسند رہنمائوں کی کوشش تھی کہ ایک آزاد یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے علی گڑھ میں حضرت شیخ الہندؒ کو مدعو کیا گیا، تاکہ وہ نوجوانوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار فرما سکیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے افتتاح کے سلسلے میں علی گڑھ میں 29؍ اکتوبر 1920ء کو ہونے والے اس جلسے میں حضرت شیخ الہندؒ کا خطبۂ صدارت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے ہی پڑھ کر سنایا تھا۔ اس کے بعد 19، 20، 21؍ نومبر 1920ء کو جمعیت علمائے ہند کے ہونے والے ایک اہم اجلاس میں حضرت شیخ الہندؒ کی جانب سے تقریر بھی مولانا موصوفؒ نے پڑھ کر سنائی، جو کہ ترکِ موالات کے موضوع پر تھی۔
1922ء میں جب ’’انجمن خدام الدین لاہور‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا تو مولانا احمد علی لاہوریؒ کی حمایت کے لیے آپؒ لاہور تشریف لائے اور ان کے کیے ہوئے کاموں کو سراہا۔ 1927ء میں جمعیت علمائے ہندکی جانب سے مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ اور مولانا سیّد سلیمان ندویؒ کے ہمراہ نمائندے کی حیثیت سے شاہِ حجاز کی دعوت پر حرمین شریفین تشریف لے گئے تھے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے ترجمۂ قرآنِ حکیم ’’موضح فرقان‘‘ کی تکمیل کے بعد اس پر فوائد بھی تحریر فرمائے، جو ’’سورت النساء‘‘ تک ہی مکمل ہوسکے۔ اس کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے فوائد کی تحریر کا کام مکمل کیا اور ’’ فوائدِ تفسیریہ‘‘ کے ساتھ حضرت شیخ الہندؒ کے ترجمۂ قرآن کا پہلا ایڈیشن اگست 1936ء میں شائع ہوا۔ حضرت شیخ الہندؒ کا ترجمۂ قرآن اور یہ تفسیری فوائد آج ’’تفسیرِ عثمانی‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔
جون 1945ء میں جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا عثمانیؒ نے اس کی صدارت کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ آپؒ 6؍ اگست 1947ء کو کراچی تشریف لے آئے اور پھر یہیں قیام کیا۔ یقینا تحریکِ پاکستان میں بھی آپؒ کا کردار بہت اہم ہے، جو کہ مستقبل میں کسی بہتری کہ اُمید پر ہی تھا، لیکن آپؒ کو یہاں جب سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور آلۂ کار برسرِ اقتدار طبقات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو آپؒ اس قیادت سے بہت مایوس ہوئے۔ان کا مؤقف یہی تھا کہ پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے تو یہاں اسلام کے قوانین رائج ہونے چاہئیں، جب کہ ایسا نہیں ہورہا۔ آپؒ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اسی میں متفکر رہتے تھے، یہاں تک کہ اسی سلسلے میں انھوں نے پیرانہ سالی کے باوجود بہاولپور کا سفر کیا، جہاں اسی سلسلے میں علمائے کرام کو جمع کیا گیا تھا۔ بہاولپور کے قیام کے دوران سینے میں تکلیف کی وجہ سے علیل ہوئے اور 13؍ دسمبر 1949ء /۲۱؍ صفر المظفر۱۳۶۹ھ کو بہاولپور میں ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ آپؒ کی تدفین اسلامیہ کالج کے عقب میں کراچی میں کی گئی۔
حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادررائے پوریؒ ؛ یادیں اور باتیں

از حضرت میاں جی محمدفاروق خان میواتی مجاز حضرت مولانا سید اسعد مدنی (میوات)
ہم اہلِ میوات نسل درنسل اپنے ہادی و مربی، مخدوم و محسن حضرت جی مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ (بانی تبلیغی جماعت) پردل و جان سے فدا تھے، ہیں اور ہمیشہ فدارہیں گے۔ میوات کے ہر ہر فرد کی زبان پر اُن کاچرچا رہتا تھا اور آج بھی ہے۔ ہمارے حضرت جیؒ اپنے معاصراکابر میں دو بزرگوں کو بہت چاہتے تھے۔ ان کابہت اکرام و احترام کرتے اور ان کا بے حد محبت سے ذکرِ خیرکرتے تھے۔ انھوں نے ان بزرگوں کی یہ محبت اہلِ میوات کے دلوں میں بھی جاگزیں کردی تھی۔ یہ دوبزرگ:
1۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدمدنیؒ
2۔ اور قطب الارشاد حضرت مولاناشاہ عبدالقاد ر رائے پوریؒ تھے۔
اس لیے اہلِ میوات حضرت جیؒ کی طرح ان دونوں اہل اللہ کو دل وجان سے چاہتے تھے۔ دونوں بزرگوں نے بارہا میوات کے دورے کیے۔ کئی کئی روز میوات میں قیام فرمایا۔ ان بزرگوں کے آستانوں پر میواتیوں کاانفرادی اور قافلوں کی صورت میں بہت کثرت سے آناجانا تھا۔ دونوں بزرگوں نے میوات کے پانچ سالکینِ تصوف کو خلافتوں سے بھی مشرف فرمایا تھا، جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: (1) حضرت مولانا عبدالمنان دہلوی(دہلی)، (2) حضرت مولانا فتح محمد خان میواتی (دہلی)، (3) حضرت مولانا رحیم شاہ میواتی (دہلی)، (4) حضرت مولانا محمد عبد الرشید نعمانی (کراچی) اور (5) حضرت مولانا پیرجمیل احمد میواتی دہلوی(رائیونڈ) ۔
جیساکہ اوپرعرض کیا کہ ہمارے میوات میں حضرت جیؒ، حضرت مدنیؒ اورحضرت رائے پوریؒ کا بہت چرچا تھا، مجھے مجاہدِمیوات مولانامحمد ابراہیم خان الوری (سابق ایم ایل اے و بانی صدر جمعیت علمائے ہند، میوات) کے آخری ایامِ حیات میں ان کے ساتھ وقت گزارنے اوران کی خدمت کرنے کا بہت موقع ملا۔ وہ ان تینوں بزرگوں کا بہت والہانہ انداز سے بہ کثرت تذکرہ کیا کرتے تھے۔ اس لیے مجھے جیسے حضرت جی مولانا محمد الیاسؒ اورحضرت مدنیؒ سے محبت تھی، ایسے ہی حضرت رائے پوریؒ سے بھی بہت اُنس ہوگیا تھا۔ یہی اُنس و محبت حضرتؒ سے بیعت کی خواہش میں بدل گیا۔ چناں چہ میں حضرت رائے پوریؒ سے ان کے میوات کے ایک سفر میں بیعت ہوگیاتھا۔
میں نے بعد میں فروری 1962ء میں حضرتؒ کی زیارت اور روحانی استفادے کے لیے رائے پور کا سفر کیاتھا۔ وہاں بارہ دن گزارے۔ خانقاہِ رائے پور کا ماحول بہت الگ تھا کہ وہاں شب و روز سالکین و ذاکرین‘ ذِکْرُ اللّٰہ میں مصروف ہوتے تھے، لیکن قدرے آہستہ آوازمیں۔ نمازوں کے اوقات کے سوا ہروقت ذاکرین‘ اللہ کی یادمیں محو، مست و سرشار نظرآتے تھے۔ ماحول اور فضا پر اَنوارات کی بارش برستی محسوس ہوتی تھی۔ حضرتؒ کی مجلس میں شریعت و طریقت کے ساتھ سیاسیات کی گتھیاں بھی سلجھائی جاتی تھیں۔ جب خانقاہ میں حضرت رائے پوریؒ قیام فرماہوتے تو سالکینِ تصوف کا بہت ہجوم ہوتا تھا۔ حضرتؒ کاچوں کہ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان بھی جانا ہوتا اور کئی کئی ماہ وہاں قیام فرماتے تھے، اس لیے جب خانقاہ میں ہوتے توسالکین کے علاوہ ملک کی بڑی شخصیات بھی حضرتؒ کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے آ تی جاتی تھیں۔ جب ہم وہاں پر مقیم تھے تو خانقاہ میں حضرت رائے پوریؒ سے ملنے کے لیے شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلویؒ، حضرت جی ثانی مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ اورمیواتی حضرات: مولانا عبدالمنان دہلویؒ، مولانا عبداللہ مالپوریؒ اورتبلیغی بزرگ میاں جی رحیم بخش خاںؒ بھی وہاں قیام فرما تھے۔
ایک روز کا ذکر ہے کہ خانقاہ کے کنوئیں میں چمڑے کا بڑا ساڈول گِر گیا۔ کنوواں بہت زیادہ گہراتھا۔ بڑی کوشش کے بعد بھی اسے نکالا نہ جاسکا، میں نے کہا کے میں اس ڈول کو نکال کر باہر لاسکتا ہوں۔ کیوں کہ میں تیراکی اورغوطہ خوری میں ماہرتھا۔ مجھے بتایاگیا کہ اس کنوئیں کی مُنڈیر پر جنات کاڈیرا ہے۔ کبھی کبھی کنوئیں سے ذکر کرنے کی اور کبھی عجیب و غریب خوف زدہ کردینے والی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ میں نے کہا: مجھے اللہ کے سوا کسی جن بھوت سے کوئی خوف و ہراس نہیں۔ میں کنوئیں میں اُترنے کے لیے تیارہوں۔ کسی نے حضرت رائے پوریؒ سے اوپر مذکور مہمانوں کی موجودگی میں میری طرف اشارہ کرکے کہا کہ: یہ میواتی نوجوان ڈول کے لیے کنوئیں میں اُترنے کے لیے تیار ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں ڈول کونکال لاؤں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ: ’’نہیں! ہرگز نہیں! رہنے دو۔ کنواں بہت قدیم ہے اور گہرا بھی ہے‘‘۔ پھرشیخ الحدیثؒ اورحضرت جی ثانیؒ کی طرف مسکراکر فرمایا کہ: ’’اس میواتی کوکچھ ہوگیا تواہلِ میوات اِدہر دھاوا بھی بول سکتے ہیں۔ پھر بھلا کون ان کے مقابل آئے گا؟ کون ان سے بچائے گا؟‘‘ اس پرحضرت شیخ الحدیثؒ نے فرمایا کہ: ’’حضرت! یہ توایک میواتی ہے، مولانا الیاسؒ نے ان میواتیوں کی ایسی تربیت کی ہے کہ ان کے دلوں میں حضرت مدنیؒ اورآپؒ کی محبت وعقیدت اس قدر راسخ کردی ہے کہ یہ توسبھی ہروقت آپ حضرات پر دل جان سے فداہونے کے لیے تیار رہتے ہیں‘‘۔
جس روز میں نے وہاں سے اپنے ایام پورے کر کے گھر لوٹنا تھا، میں حضرتؒ کو ایک کھڑکی سے بار بار دیکھتا اور دل میں آتاکہ اب آج کے بعد آپ کی زیارت شاید نصیب نہ ہو۔ میں بارباراس خیال کو جھٹکتا، لیکن اس خیال سے دل بھر بھرآتا اور آنکھیں باربارنم ہو جاتی تھیں۔ بعد میں ایسا ہی ہوا۔ حضرت رائے پوریؒ پاکستان کے سفر پر گئے۔ وہاں لاہور میں 16؍ اگست 1962ء کو آپؒ کا انتقال ہوا۔ ان کی رائے پور میں اپنے مرشد و مربی حضرت مولاناشاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کے قدموں میں دفن ہونے کی خواہش کے برخلاف ان کے عزیزوں نے آبائی قصبہ ڈھڈیاں (ضلع سرگودھا) میں تدفین کی تھی۔ حضرت رائے پوریؒ کے انتقالِ پُرملال کو میوات میں بہت محسوس کیاگیا۔ پورے میوات میں تعزیتی جلسے ہوئے اور سبھی مساجد و مدارس میں قرآن خوانی اورایصالِ ثواب کا اہتمام کیا گیا۔
اہلِ میوات کابزرگانِ رائے پورسے محبت کایہ عالم ہے کہ چندسال پہلے اَلور میں جمعیت کا ایک اجلاس تھا، جس میں میوات کے علما اور چودہریان اوردینی مزاج کے لوگ موجودتھے۔ کسی نے اطلاع دی کہ پاکستان سے سلسلۂ رحیمیہ رائے پور کے سجادہ نشین مولانا شاہ سعید احمدرائے پوری بھارت آئے ہوئے ہیں۔ اس اطلاع کا شرکائے اجلاس پر اس قدر اثر ہوا کہ سبھی فرطِ عقیدت و محبت و جذبات میں آبدیدہ ہوگئے تھے۔ اہلِ میوات کے دلوں میں نسل در نسل جن چار بزرگوں کی فدویانہ عقیدت و محبت ہے، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:(1) حضرت میاں راج شاہ میواتی، (2) حضرت جی مولانا محمدالیاس کاندھلویؒ، (3) حضرت مولانا سیّدحسین احمد مدنی، (4)حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان بزرگوں کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، ان کی قبروں کوجنت کاباغ بنائے اوران کے فیوضاتِ علمیہ و رُوحانیہ سے اہلِ میوات کوہمیشہ متمتع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
شائقینِ علومِ ولی اللّٰہی کے لیے عظیم خوش خبری

رحیمیہ مطبوعات لاہور کی طرف سے
شائقینِ علومِ ولی اللّٰہی کے لیے عظیم خوش خبری
تصنیفاتِ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تحقیق و شرح کے ساتھ عمدہ اشاعت
حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ مسند نشین رابع خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے ایما پر حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی درجِ ذیل تصنیفات اور تالیفات کے مخطوطات اور مطبوعات کو سامنے رکھ کر تحقیقی عربی اور فارسی متن اور اُن کی شروحات اور تعلیقات مرتب کی ہیں:
(1) المقدّمۃ فی قوانین التّرجمۃ و مقدّمہ فتح الرّحمٰن (قرآنی ترجمہ نگاری کی اہمیت اور اُصول و قوانین): امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن حکیم کے فارسی زبان میں ترجمے کے بنیادی اُصول اور قوانین پر یہ اہم ترین کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا اصل فارسی متن اور اس کا مکمل اُردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔ اس کے شروع میں مرتب نے حضرت شیخ الہندؒ کے ولی اللّٰہی اُسلوبِ تفسیر پر ایک مبسوط مقدمہ بھی لکھا ہے۔
(2) تاویلُ الأحادیث مع شرحہ التّعلیق الأثیث: امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآنی علوم میں سے ایک اہم علم ’’علم تاویل الأحادیث‘‘ یعنی قرآن حکیم میں بیان کردہ قصص کی صحیح تعبیر و تشریح کے حوالے سے یہ عظیم کتاب تحریر فرمائی ہے۔ اسے ایک بہترین شرح ’’التّعلیق الأثیث‘‘ اور مبسوط مقدمے کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
(3) اللّمحات مع النّفحات شرح اللّمحات: دین اسلام کے بنیادی فلسفے کی وضاحت اور یونانی فلسفیانہ خیالات کے ردّ میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ایک عظیم کتاب۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ بہترین شرح ’’النّفحات شرح اللّمحات‘‘ اور ایک مبسوط مقدمے کے ساتھ تحقیقی انداز میں شائع کی گئی ہے۔
(4) الخیر الکثیر مع الفیض الکبیر شرح الخیر الکثیر: حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی وہ عظیم کتاب، جو ذاتِ باری تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ کی منفرد تعبیر، کمالاتِ انبیا علیہم السلام، بالخصوص نبی الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کے کمالات کی لاجواب تشریح اور شریعتِ محمدؐیہ کی جامعیت پر مبنی توضیح پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے بارے میں حضرت علامہ محمدانور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’دینی حقائق بیان کرنے میں اس کتاب کا درجہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی دیگر تالیفات ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ وغیرہ سے بھی بلند تر ہے‘‘۔ مختلف مخطوطات کو سامنے رکھ کر تصحیفات سے پاک اس کا صاف شفاف متن تیار کیا گیا ہے اور پھر ایک جامع شرح ’’الفیض الکبیر شرح الخیر الکثیر‘‘ اور ایک وقیع مقدمے کے ساتھ اس کی اشاعت کی گئی ہے۔ یہ تمام کتابیں 80 گرام اِمپورٹڈ آفسیٹ پیپر پر خوب صورت ریگزین جلد میں دیدہ زیب طبع ہوئی ہیں۔
ملنے کا پتہ: رحیمیہ بک شاپ، 33/Aکوئینز روڈ، شارع فاطمہ جناح، لاہور
رابطہ نمبرز:
0092-42-36307714, 36309089, 0321-6455369
شمارہ ختم
واپس
