جولائی ، 2022ء

ماہنامہ رحیمیہ

جولائی ، 2022ء

جولائی 14, 2022 10 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 10

احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

1۔       ہر ایسے مسلمان عاقل، بالغ مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، جو عیدالاضحی کے دن مقیم ہو اور صاحب ِنصاب‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ مال کی مقدار کا مالک ہو۔

2۔       صاحبِ نصاب وہ آدمی ہے، جس کے پاس شرعی نصاب: (الف) ساڑھے سات تولہ خالص سونا، یا اُس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد مال ہو۔ (ب) یا ساڑھے باون تولہ (52.5) خالص چاندی کا مالک ہو۔

3۔       اس مال کی ملکیت پر پورا سال گزرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر ۱۰؍ ذی الحج کی صبح صادق سے لے کر ۱۲؍ ذی الحج کے غروبِ آفتاب تک کے تین دنوں میں اتنے مال کا مالک بن گیا تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔

4۔       گھر میںموجود تمام افراد الگ الگ نصاب کے بقدر مالک ہوں تو ہر ایک پر علاحدہ سے قربانی کرنا واجب ہے۔ صرف گھر کے سربراہ کی طرف سے قربانی کر دینا سب کے لیے کافی نہ ہوگا۔

5۔       قربانی فقط اپنی طرف سے کرنا واجب ہے۔ بیوی اور اولاد کی طرف سے واجب نہیں، بلکہ اگر نابالغ اولاد مال دار بھی ہو، تب بھی اس کی طرف سے قربانی کی جائے تو وہ نفل ہوگی، لیکن اس کے مال میں سے قربانی کرنا ہر گز جائز نہیں۔

6۔        فقیر، محتاج اور مسافر پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے۔

7۔        ایسا قرض دار کہ اس کے پاس موجود مال کے عوض اس کا قرض ادا کیا جاسکتا ہو، اس پر بھی قربانی واجب نہیں ہے، لیکن اگر قربانی کر لے تو ہو جائے گی۔

8۔       جس نے قربانی کرنے کی نذر مانی پھر وہ کام ہوگیا جس کی نذر مانی تھی تو اب قربانی کرنا واجب ہے، خواہ وہ مال دار ہو یا نہ ہو۔

قربانی کے جانوروں سے متعلق مسائل

1۔        شرعی طور پر درجِ ذیل عمروں کے صرف یہی جانور قربانی کے لیے مقرر ہیں:

نمبرشمار

قربانی کے جانور

مقررہ عمر

۱

اونٹ۔ اونٹنی۔

کم از کم پانچ سال

۲

بیل۔ گائے۔

کم از کم دو سال

۳

بھینسا۔ بھینس۔

کم از کم دو سال

۴

بکرا۔ بکری۔

کم از کم ایک سال

۵

دُنبہ۔ بھیڑ۔

کم از کم ایک سال

          ان کے علاوہ کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں، البتہ اگر بھیڑ، یا دُنبہ چھ ماہ سے بڑا اور سال بھر سے کم کا ہو، لیکن موٹا تازہ اتنا ہو کہ سال والے جانوروں میں چھوڑ دیا جائے تو فرق محسوس نہ ہو، تو اس کی قربانی بھی ہوسکتی ہے۔

2۔       گائے، بھینس اور اونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہو کر قربانی کر لیں تو بھی درست ہے، لیکن شرط یہ کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو۔ اور اس کی نیت قربانی کرنے کی یاعقیقہ کی ہو۔ اگر کسی ایک حصے دار کی نیت صرف گوشت کھانے کی ہو یا تجارت کی ہو تو کسی حصے دار کی بھی قربانی درست نہ ہوگی۔

3۔       چھوٹے جانور؛ بھیڑ، بکری، وغیرہ میں کئی آدمی شریک نہیں ہوسکتے، بلکہ ایک شخص کی جانب سے صرف ایک ہی جانور قربان ہوسکتا ہے۔

4۔       اگر گائے، بھینس، اونٹ میں سات آدمیوں سے کم شریک ہوئے، مثلاً پانچ آدمی یا چھے آدمی شریک ہوئے اور کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہیں، تب سب کی قربانی درست ہے۔ اور اگر آٹھ آدمی شریک ہوگئے تو کسی کی قربانی صحیح نہیں ہوئی۔

5۔       اگر کسی آدمی پر قربانی واجب ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے نے اس کا حصہ گائے وغیرہ میں رکھ دیا تو کسی کی قربانی جائز نہ ہوگی، البتہ اگر نفلی ہو تو جائز ہوگی۔

6۔       سات آدمی گائے میں شریک ہوئے تو گوشت کے سات حصے بناتے وقت اندازے سے تقسیم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اچھی طرح ٹھیک تول کر تقسیم کرنا چاہیے۔ اگر کوئی حصہ زیادہ یاکم رہا تو سود ہوجائے گا اور گناہ ہوگا۔

7۔       قربانی کا جانور صحیح اور بغیر کسی جسمانی عیب کے ہونا چاہیے۔ لہٰذا ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، جن میں درج ذیل عیب یا خرابیاں ہوں:

          ۱۔اندھا  یا  کانا ہو۔

          ۲۔بہت بیمار، بہت دُبلا پتلا، جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔

          ۳۔       اتنا لنگڑا کہ صرف تین پائوں پر چلتا ہو، چوتھے پائوں سے چل نہ سکتا ہو۔

          ۴۔تمام یا اکثر دانت گر گئے ہوں یا سرے سے دانت ہی نہ ہوں۔

          ۵۔       پیدائشی کان ہی نہ ہوں یا کان تو ہوں، لیکن اکثر حصہ کٹا ہوا ہو (البتہ اُس جانور

                   جس کے کان تو ہیں، لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی

                   قربانی جائز ہے)

          ۶۔       مادہ جانور کے تھن بالکل نہ ہوں یا دوائی وغیرہ لگا کر خشک کر دیے گئے ہوں۔

                   بھیڑ، بکری کا صرف ایک تھن ہو۔ گائے، بھینس اور اونٹنی کے صرف دو تھن

                   ہوں۔

          ۷۔       جس جانور کا سینگ جڑ سے اُکھڑ گیاہو (البتہ جس جانور کے پیدائشی ہی سینگ

                   نہ تھے یا سینگ تھے اور ٹوٹ گئے تو اس کی قربانی جائز ہے)۔

          ۸۔       جانور خنثیٰ ہو، یعنی اُس کے نر یا مادہ ہونے کا پتہ نہ چلتاہو۔

 

قربانی کرنے کے ایام اور اوقات

1۔       ذوالحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر بارھویں تاریخ کے شام (غروب آفتاب) تک قربانی کرنے کا وقت ہے۔ جس دن چاہے قربانی کرے لیکن بہترین دن دسویں تاریخ کا دن ہے۔ پھر گیارھویں تاریخ اور پھر بارھویں تاریخ ہے۔

2۔       نماز ِعیدالاضحی ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے۔ جب لوگ نماز ِعید الاضحی پڑھ لیں، تب قربانی کرنی چاہیے۔

3۔       قربانی کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی سے فارغ ہونے تک حجامت نہ بنوائے تاکہ حاجیوں سے مشابہت ہوجائے۔

ذبح اور گوشت سے متعلق مسائل

1۔       اپنی قربانی کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے۔ اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو ذبح کے وقت سامنے کھڑ اہونا بہتر ہے۔ اگر خود ذبح نہ کرے یا ذبح کے وقت سامنے نہ کھڑا ہو تو قربانی کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ ہوگی۔

2۔       قربانی کا گوشت خود کھائے، اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کرے اور فقیروں اور محتاجوں کو خیرات کر دے سب جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کم ا زکم ایک تہائی حصہ خیرات کرے۔

3۔       قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا بھی جائز ہے۔

4۔       نذر کی وَجہ سے واجب ہونے والی قربانی کا سارا گوشت فقیروں اور محتاجوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے ، نہ خو د کھائے نہ امیروں کو دے۔

5۔       قربانی کی کھال یا اس کی قیمت یا گوشت چربی / چھیچھڑے وغیرہ قصاب کو ذبح کرنے اور کھال اُتارنے کے عوض دینا جائز نہیں ہے۔

6۔       قربانی کی کھال، جانور کے گلے کی رسّی وغیرہ سب چیزیں اللہ کے راستے میں خیرات کرنا چاہیے۔اگر یہ چیزیں فروخت کر دیں تو ان کی قیمت خیرات کرنا لازم ہے، البتہ قربانی کی کھال اگر خود استعمال کرے، مثلاًجائے نماز بنا لے تو جائز ہے۔

تکبیر تشریق کے احکام

1۔       عرفہ یعنی نو ذوالحجہ سے تیرہ ذوالحجہ تک پانچ دن ’’ایام تشریق‘‘ کہلاتے ہیں۔ ان ایام میں با جماعت اد اکی جانے والی ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ایک مرتبہ تکبیرِ تشریق کہنا واجب ہے۔ تکبیرِ تشریق یہ ہے:          

          ’’اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَرلَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر وَلِلّٰہِ الْحَمْد‘‘

          البتہ عورتیںیہ تکبیر آہستہ آواز سے پڑھیں۔

2۔       ۹؍ ذوالحجہ کی نماز فجر سے لے کر ۱۳ ذوالحجہ کی نماز ِعصر تک ہر فرض نماز کے بعد یہ تکبیرات کہی جائیں گی۔ یہ کل 23 نمازیں ہوئیں۔

3۔       نمار کے فوراً بعد تکبیرات کہنی چاہئیں۔ اگر امام تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدیوں کو چاہیے کہ فوراً تکبیر کہہ دیں۔ یہ انتظار نہ کریںکہ جب امام کہے، تب کہیں۔

4۔       نماز ِعید الاضحی کے لیے گھر سے نکلیں تو راستے میں بلند آواز سے تکبیرِ تشریق کہنی چاہیے۔

5۔       نماز ِعید الاضحی کے بعد بھی تکبیرِ تشریق کہنا بعض ائمہ کے نزدیک واجب ہے۔

عید الاضحی کے احکام و مسائل

1۔       ذوالحجہ کی دسویں تاریخ عید الاضحی ہے۔ جس مسلمان پر جمعۃ المبارک کی نماز پڑھنا واجب ہے، عید الاضحی کے دن اس پر جماعت کے ساتھ دو رکعت نمازِ عیدالاضحی بطورِ شکریہ کے پڑھنا واجب ہے۔

2۔       عید الاضحی کے دن درجِ ذیل اعمال مسنون اور مستحب ہیں:

۱۔ صبح کو بہت سویرے اٹھنا۔

۲۔ شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا۔

۳۔  غسل کرنا۔

۴۔ مسواک کرنا۔

۵۔  عمدہ سے عمدہ کپڑے، جو پاس موجود ہوں، پہننا۔

۶۔  خوشبو لگانا۔

۷۔  عید کی نماز سے پہلے کوئی چیز نہ کھانا۔

۸۔  عید گاہ میں عید کی نماز پڑھنا۔

۹۔  عید گاہ صبح سویرے جانا۔

۱۰۔  عید الاضحی کی نماز اوّل وقت پڑھنا۔

۱۱۔  عید گاہ جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر تشریق، یعنی:’’اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ

        اَکْبَرلَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر وَلِلّٰہِ الْحَمْد‘‘کہنا۔

۱۲۔  عیدگاہ کی طرف پیدل جانا۔

۱۳۔ دوسرے راستے سے واپس گھر آنا۔

3۔       جہاں نماز ِعید پڑھی جائے، وہاں اس دن اور کوئی نما زپڑھنا مکروہ ہے، نماز ِعید سے پہلے بھی اورنماز ِعید کے بعد بھی۔ ہاں نماز ِعید کے بعد گھر آکر نفل نماز پڑھنا مکروہ نہیں اور نماز ِعید سے پہلے گھر میں بھی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

4۔       عورتیں اور جو لوگ کسی وَجہ سے نماز عید نہ پڑھیں، ان کا نماز عید سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

5۔        ایک شہر میں عیدین کی نماز بالاتفاق متعدد جگہوں پر جائز ہے۔

 

نماز ِعید الاضحی کا طریقۂ کار اور اس سے متعلق مسائل

1۔       سب سے پہلے نیت کرے کہ: ’’دو رکعت واجب نماز عید الاضحی چھ واجب تکبیروں کے ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔‘‘ نماز کی ادائیگی کا طریقۂ کار یہ ہے:

          پہلی رکعت: تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ امام اور مقتدی سبحانک اللّٰھم آخر تک پڑھیں۔ اس کے بعدامام تین مرتبہ اللّٰہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور ہاتھ چھوڑ دے۔ آخری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے۔ مقتدی بھی اس کی اقتدا کریں۔ اس طرح تین تکبیرات ادا کی جائیں گی۔ہر دو تکبیروں کے درمیان اتنا وقفہ ضروری ہے کہ تین مرتبہ سبحان اللّٰہ کہہ لے۔

          اس کے بعد دیگر نمازوں کی طرح سورتِ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھی جائے اور رکوع و سجود کیے جائیں۔

          دوسری رکعت: امام پہلے قرأت کرے گا، اس کے بعد پہلی رکعت کی طرح تین تکبیراتِ زائدہ ادا کی جائیں۔ ہر دفعہ کانوں تک ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں۔ آخری تکبیر کے بعد ہاتھ چھوڑے ہوئے ہی رکوع کی تکبیر کہہ کر رکو ع میں جائیں اور سجدوں کے بعد حسب ِمعمول تشہد پڑھ کر نماز مکمل کریں۔

2۔       نماز عید الاضحی کے بعد امام دو خطبے پڑھے گا۔ خطبہ پڑھنا سنت ہے اور خطبہ سننا واجب ہے، یعنی اس وقت بولنا، چلنا پھرنا اور نماز پڑھنا وغیرہ سب ناجائز ہے۔

3۔       اگر کسی کو عید کی نماز نہ ملی ہو اور سب لوگ پڑ ھ چکے ہوں تو وہ شخص تنہا نماز ِعید نہیںپڑھ سکتا۔ اس لیے کہ نماز ِعید میں جماعت شرط ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز ِعید میں شریک ہوا، پھر کسی وَجہ سے اس کی نماز فاسد ہوگئی ہو تو وہ بھی اس کی قضا نہیں پڑھ سکتا، نہ اس پر قضا واجب ہے۔ البتہ اگر فاسد ہونے والی نماز میں کچھ اَور لوگ بھی شریک ہیں تو پھر اُن کے لیے جماعت سے پڑھنا واجب ہے۔

2 / 10

عید الاضحی کا دن منانے کے تصور کا پسِ منظر

عید الاضحی کا دن منانے کے تصور کا پسِ منظر

عید الاضحی کا دن منانے کے تصور کا پسِ منظر

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۲ھ / 21؍ جولائی 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! آج عید الاضحی کا مبارک دن ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کے لیے جو ایام مقرر کیے ہیں، ان میں یہ دو دن بہت اہمیت کے حامل ہیں: ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ دنیا میں ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید کے دن ہیں۔ عیدالاضحی کا دن ہمارے لیے خوشی اور اللہ کے شکر و اِمتنان کا دن ہے۔ اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا دن ہے۔

دنیا بھر میں ہر قوم اپنی عید کیوںمناتی ہے؟ اس کی بنیادی حقیقت یہی ہے کہ جو قوم جس فکر اور نظریے کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے، اس فکر و نظریے کی جو بنیادی شخصیت یا اُس قوم کا دنیا میں آغاز کرنے والا جو فرد ہوتا ہے، اُس کی یاد کے طور پر عید کا دن منایا جاتا ہے۔ یا کوئی قوم اپنی اجتماعی تشکیل کے لیے جو نظریہ اور فکر و آئین اختیار کرلیتی ہے، اس کے نفاذ کے دن کو اپنے لیے بہ طور عید کے مناتی ہے۔

ماضی کی آٹھ دس ہزار سال پرانی اقوام ہوں، یا آج کے جدید دور کی اقوام ہوں، ان کی تعمیر و تشکیل کے مراکز ہی اُن کی عید منانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانیت کے لیے معیار اور نمونے تین ہی ہوسکتے ہیں: (1) مقام، (2) زمان اور (3)افراد۔ انھیں کی بنیاد پر عید یا خوشی کا کوئی دن دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اس قوم کے کوئی افراد ہوں گے، جنھوں نے کوئی کردار ادا کیا ہوگااور اُنھوں نے وہ کردار کسی مقام پر اور کسی زمانے میں ادا کیا ہوگا ہے۔ تو وہ زمانہ، تاریخ، یا مقام کو لوگ یاد رکھتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر خاص دن مقرر کیے جاتے ہیں۔

یہ انسان کی فطرت ہے کہ تمام اجتماعیتوں اور معاشروں کی تشکیل میں یہ بنیادی اُمور رہے ہیں، لیکن تجزیہ‘ یہ کرنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کل انسانیت کی فلاح و بہبود کا جو پروگرام انسانیت کے سامنے رکھا گیا، اُس کے کچھ مشترکات ہیں، جن پر یہ عید الاضحی کا دن مشتمل ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُس عمل کی یاد میں منائی جاتی ہے، جو آپؑ نے دسویں ذوالحج کو اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تمام انسانیت کے جدِ امجد اور فکری رہنما ہیں۔ یہودی بھی انھیں اپنے نظریے اور فکر کا بانی مانتے ہیں اور عیسائی بھی انھیں تسلیم کرتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ ہندوؤں کے ہاں بھی برہما کا بنیادی تصور دراصل ابراہیم علیہ السلام ہی کے تصور کا ایک رُخ ہے، جس کو انھوں نے خدا کا درجہ دے دیا۔ مسلمان بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حنیفی تحریک کے بانی نبی کے طور پر مانتے ہیں۔ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسی شخصیت ہیں، جنھیں دنیا کے تقریباً تمام لوگ کسی نہ کسی انداز میں اپنا رہنما مانتے ہیں۔ اس طرح یہ عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے ایک بین الاقوامی عید ہے‘‘۔

کعبۃُ اللّٰہ کی مرکزیت اور حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کا عمل

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’پورے کرۂ ارض کا مرکز اور محور جس پر پوری کرۂ ارض کی گردش جاری ہے، وہ خانۂ کعبہ ہے۔ مشاہدات و تجربات اور سائنٹفک اسلوب پر بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس کرۂ ارض کا مرکزی اور محوری مقام خانۂ کعبہ اور حرمِ مقدس ہے۔ یہ کل انسانیت کا مرکز ہے۔ تمام انبیا علیہم السلام نے اس کا طواف کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ جب حج کے موقع پر مزدلفہ سے منیٰ تشریف لا رہے تھے اور منیٰ سے مکہ تو فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس وادی سے فلاں فلاں نبی گزر رہے ہیں۔ یعنی ماضی کی تاریخ کی تصویر نبی اکرم ﷺ کو دکھا دی گئی کہ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیا علیہم السلام کے تسلسل کا وہ مرکز رہا ہے۔ ہندوؤں کی اتنی بڑی اجتماعیت کے ہاں اور ان کی ویدوں میں بھی اس حرم کا تذکرہ ملتا ہے۔ حرمِ مقدس میں طواف کے لیے جانا، سات چکر کاٹنا، پھر ہندوؤں کے ہاں شادی کے موقع پر سات پھیروں کا ہونا دراصل خانۂ کعبہ کے طواف کا ہی تصور ہے، جو ہندوستانی وہاں سے لے کر آئے تھے۔

احادیث کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذوالحج کی آٹھ تاریخ کو یہ خواب آتا ہے، یہ الہام ہوتا ہے کہ اپنے بیٹے کو ذبح کیجیے۔ اس دن کو ’’یوم الترویہ‘‘ کہتے ہیں۔ ترویہ رویے سے ہے۔ رویہ انسان کے اند رجو سب سے پہلے خیال آتا ہے، تخیل پیدا ہوتا ہے، اُس تخیل کو عربی میں رویہ کہتے ہیں۔ یوم الترویہ اس لیے کہ اس قربانی کرنے کا خیال، خواب یا الہام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس دن آیا۔ اور یہ عجیب خواب تھا کہ انسان‘ انسان کو ذبح کرے؟ ابراہیم علیہ السلام کا دل کہتا ہے کہ پتہ نہیں یہ خدشہ ہے یا دھوکا ہے۔ کیسا خواب ہے۔ ابراہیم علیہ السلام یہاں سے نکل کر جب عرفات میں پہنچتے ہیں، اور عرفات کے میدان میں تشریف فرما ہیں، تو عرفہ کی رات نوویں ذی الحج دوسری مرتبہ یہی خواب دیکھتے ہیں۔ اور یہی خواب جو پہلے ’’رویہ‘‘ کی شکل میں تھا، دُھندلا خیال تھا، عرفہ کے میدان میں یہ پوری معرفت کے ساتھ الہام ہوتا ہے، جس میں انسان کو عرفان حاصل ہوتا ہے۔ پورا وجود اس کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور اس خیال کے بارے میںکسی قسم کا بہ ظاہر شک و شبہ نہیں رہتا۔ اس لیے اس کو یومِ عرفہ کہا جاتا ہے کہ وہ تصور اور تخیل جو آٹھ تاریخ کو بہ طور ایک رویے اور خیال کے آیا تھا، وہ نو ذوالحج کے دن میں بڑی وضاحت کے ساتھ اور پوری معرفت اور عرفان کے ساتھ ان کے سامنے آتا ہے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض شیطانی خیال نہیں ہے۔ یہ نفس کا محض دھوکا نہیں ہے۔ محض ایسا تخیل نہیں ہے کہ جو ناقابلِ عمل ہو، یہ قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔ اب وہاں سے پختہ عزم کرکے چلتے ہیں اور اگلے تیسرے دن دس ذوالحج کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا اور اُن پر چھری پھیری، جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھا عطا فرمایا۔ اس طرح یہ پورا کا پورا قربانی کا عمل وجود میں آگیا، اس لیے اس دن کو ’’یوم النّحر‘‘ کہتے ہیں‘‘۔

حقیقی قربانی کے اَہداف

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ عید الاضحی کے موقع پر اپنی نفسانی حیوانیت ذبح کرنے کے نقطہ نظر سے جانور قربان کرے۔ نمود و نمائش کے لیے نہیں۔ اور نہ اس لیے کہ یہ گوشت کھائیں گے۔ ورنہ تو ویسے ہی ذبح کرکے گوشت کھایا جاسکتا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر جانور ذبح کرنا اس دن کا سب سے افضل ترین عمل ہے۔ یہ دراصل اپنے وجود پر چھری پھیرنا ہے۔ کون سا وجود؟ یہ بات سمجھنے کے قابل ہے۔ اس سے وہ وجود مراد ہے، جس میں خواہشات بھری ہوئی ہوں۔ سرمایہ پرستی، ظلم، تکبر، غرور، حسد، کینہ، بغض، عداوت اور حیوانیت کے اثرات ہوں، جیسے دوسرے انسانوں کو حقیر سمجھنا ہے وغیرہ وغیرہ تمام بداَخلاقیوں پر چھری پھیرنا ہے۔ چھری پھیرتے وقت یہ نیت اور عزم ہو تو پھر تو قربانی واقعتا قربانی ہے۔ اور محض رسم ہو، محض روایت ہو، محض کھانے پینے کا معاملہ ہو، تو یہ کوئی قربانی نہیں ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے قرآن حکیم میں واضح طور پر کہہ دیا کہ ’’اللہ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا‘‘۔ کیوں کہ اللہ کو نہ بھوک لگتی ہے، نہ پیاس لگتی ہے، اُس نے گوشت کا کیا کرنا ہے؟ ’’بلکہ اس قربانی سے تمھارے دلوں کا تقویٰ اللہ تعالیٰ کو مقصود ہے کہ تم متقی بنو‘‘ (-22 الحج: 37) حسد، کینہ، بغض، عداوت، ظلم، انسانیت دشمنی کے رویے اپنے اندر سے نکالو اور اللہ کے ساتھ سچا تعلق قائم کرو۔ اللہ نے جو انسانیت کی خدمت کا، عدل کا، انصاف کا، سخاوت کا، خیرخواہی کا جذبہ تمھارے لیے لازمی قرار دیا ہے، اُسے اپنی زندگی کا حصہ بناؤ۔ دلوں کا ادب پیدا کرو۔ دلوں کو مہذب بناؤ۔ سوسائٹی کے مہذب فرد بنو۔ حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ: ’’دلوں کا ادب اللہ کو پہنچتا ہے‘‘۔ ادب کا مطلب وہ آداب اور ایس او پیز ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اُس کی مخلوق انسانیت خوش ہوتی ہے۔

وہ لوگ جو جانور کے ذبیحے کے خلاف محض روپے پیسے کے بانٹنے کی بات کرتے ہیں، وہ انسان نہیں ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے اندر کے جانور کو ذبح نہیں کرنے دینا چاہتے۔ اُن کی روحِ ملکوتی تو چھپ گئی۔ انھوں نے اس کی توانائی اور طاقت کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اپنی حیوانیت کو غالب کرلیا۔ ان کا انسانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

اور یاد رکھو! مال داروں کے لیے جانور ذبح کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جب صاحبِ استطاعت اور مال دار ہوتا ہے تو اُس کی حیوانیت، اُس کا جانور ہونا زیادہ غالب آتا ہے۔ بے چارہ غریب آدمی جس کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہے، کبھی گوشت نہیں کھایا، اُس کے اندر حیوانیت کیسے آئے گی؟ وہ حسد کرکے کیا کرے گا؟ اُس کے پاس تو ضرورت کی چیزیں نہیں ہیں تو وہ بے چارہ کسی انسان کو کیا نقصان پہنچائے گا؟ جس کے اندر یہ استطاعت ہے کہ سرمایہ رکھتا ہے، دولت رکھتا ہے، جس کے اندر حسد، کینہ اور بغض و عداوت پنپنے کے مواقع ہیں، اُس کی حیوانیت کے اُبھرنے کے، اُس کے ڈنگ مارنے کے اثرات ہیں، اُسی کو تو کاٹ کر پھینکنا ہے۔ اس لیے ہر صاحبِ استطاعت پر قربانی کرنا واجب قرار دیا گیا، ہر غریب آدمی پر لازمی نہیں‘‘۔

قربانی میں جانور ذبح کرنا ضروری ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’جو صاحبِ حیثیت اور مال دار عید الاضحی کے موقع پر جانور قربان نہیں کرتا اور اُس کے لیے طرح طرح کے وسوسے، خیالات اور دلائل دیتا ہے، یہ اس کا حیوانی پن ہے کہ ابھی اس کی بہیمیت نہیں گئی۔ جہاں جہاں مسلمان ملک ہیں، وہاں وہاں یہ سامراجی سرمایہ دار اور نام نہاد دانش ور پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ’جی حکومت کو پیسے دے دو اور حکومت چاہے تو صرف ایک قربانی کردے، جو ساری قوم کی طرف سے قربانی ہوجائے گی‘‘۔ یہ تو وہ حکمران ہیں جو ملک اور قوم کا پیسہ کھا جاتے ہیں۔ قربانی کا پیسہ بچے گا ان کے پاس؟ انھوں نے تو ملک پر خوب قرضے چڑھا کر اپنی اپنی جیبیں بھری ہیں۔ اپنے اپنے مفادات کا سرمایہ پرستی کا نظام بنایا ہے۔ یہ تو سرمایہ داری کا نقطہ عروج ہے۔ سرمایہ داری کی نمائندگی ہے۔ اس کا اسلام اور دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق تو انسانیت سے ہے کہ انسان اپنے اپنے جانور کو خود ذبح کرے۔ اپنے ہاتھوں سے کرے اور ہاتھوں سے نہیں کرسکتا تو اپنی نظروں کے سامنے کروائے، تاکہ اُس کا وہ عزم، وہ ارادہ، اُس کے وجود کا حصہ بنے۔ یہ بنیادی تعلیم ہے جو دینِ اسلام نے آج کے دن کے لیے دی ہے۔

یہ لوگ خود ساختہ دلائل کی بنیاد پر اُس بنیادی حقیقت کا انکار کر رہے ہیں، جو چودہ سو سال سے نبی اکرم ﷺ کے بعد سے اور سات آٹھ ہزار سال سے ابراہیم علیہ السلام کے بعد سے انسانیت کی تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ اُس کے خلاف یہ لوگ بے سر و پا باتیں کرتے ہیں۔ ان سے اچھا تو وہ رُوس کا صدر ہے، جس نے عید الاضحی کے دن کی تعریف کرتے ہوئے تمھاری اس قربانی کے عمل کے لیے تمھیں مبارک باد دی ہے۔

دوسری بڑی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ عید کی نماز ادا کرنا، اللہ کے سامنے سر بہ سجود ہونا اور اُس کے نام کی بڑائی کا اعلان کرنا انسانی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ وہ جانور جسے تم نے اللہ کے نام پر ذبح کیا ہے، اُس کا گوشت اس نیت سے کھانا چاہیے کہ اس کی حیوانیت اللہ کے نام پر ذبح ہوئی ہے۔ اس میں ہماری خالص نیت کے اثرات آگئے ہیں۔ اور اُن اثرات کے نتیجے میں اس بابرکت گوشت کا استعمال ہم کر رہے ہیں۔ یہ انبیا علیہم السلام کی سچی تعلیمات ہیں اور نبی اکرم ﷺ کا یہی معمول تھا۔

عید الاضحی کا دن کسی ایک قوم، کسی ایک نسل، کسی ایک علاقے کے لیے نہیں ہے۔ ہندوستان ہو، پاکستان ہو، حرمین شریفین ہو، امریکا ہو، برطانیہ ہو، روس ہو، چین ہو، جہاں بھی دنیا بھر کا مسلمان ہے، وہ یہ سنت ادا کرکے اس کے ذریعے سے اپنی حیوانیت کو ذبح کرے، اپنے اَخلاق درست کرے، امنِ عالم کا نمائندہ بنے اور انسانیت کی ترقی اور فلاح و بہبود کی سوچ کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے‘‘۔

3 / 10

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی(4) ( مسئلہ یو کرین کا پسِ منظر)

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی(4)  ( مسئلہ یو کرین کا پسِ منظر)

 

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (4)

( مسئلہ یو کرین کا پسِ منظر)

آج جب یہ کالم لکھا جارہا ہے، 9؍ جون 2022ء کی شروعات ہوچکی ہیں اور جنگ کا 106 واں دن ہے۔ دنیا کا کہنا ہے کہ جنگ طویل ہوچکی ہے۔ پیوٹن کی جنگی حکمتِ عملی پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ جنگ روس کے منصوبے کے عین مطابق چل رہی ہے۔ کیوں کہ روس اس جنگ کی تیاری گزشتہ 30 سالوں سے کررہا ہے۔ افغانستان کے محاذ پر پسپائی اختیار کرنے کے بعد اپنی جگ ہنسائی کا انتقام لینے کے لیے پیوٹن نے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کردی تھی۔ ریاست کے مختلف شعبوں کو متعلقہ اُمور سونپے گئے۔ انھیں کے نتائج کے ساتھ آج نیٹو اتحاد کا مقابلہ کیا جارہا ہے۔ روس اس جنگ میں دو طرح کا اسلحہ استعمال کررہا ہے۔ اسلحے کی ایک شکل توپ تفنگ تو دوسری نوعیت ایندھن کی ہے۔ موجودہ حا لات میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس دونوں کا ہی متبادل نہیں ہے۔ جدید اسلحے میں روس آج بھی دنیائے جنگ کا بادشاہ سمجھا جاتاہے۔ اس کی اِقدامی اور دِفاعی جنگ کے ہتھیار ناقابلِ تسخیر ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ آئندہ دس سال تک یہ کیفیت برقرار رہے گی۔ روس نے اس جنگ میں نیٹو،یورپی یونین بہ شمول امریکا کی جنگی استعداد کو خوب آشکارا کردیا ہے۔

مغربی نظریۂ جنگ کے مطابق دُشمن پر اس وقت وار کرنا چاہیے جب وہ کمزور ہو، غفلت میں مبتلا ہو، یا انجانے میںکسی اَور مہم میں مصروف ہو، تاکہ وہ اچانک حملے کی صورت میں سنبھل نہ سکے۔ پیوٹن کا اِقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ ایک طرف جب کور ونا وائرس نے مغرب کی معاشی طاقت کا بھانڈا بیچ عالمی چوک پھوڑ دیا تھا۔ اس کے نظامِ صحت کے بارے میں دنیا میں جو تأثر پھیلایا گیا تھا کہ ایسا مضبوط اور بہترین ہے کہ موت کی دستک تک موڑ دیتا ہے۔ ایشیا تو اس کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہمارے صحافی تو اس سلسلے میں مزید سبقت لے جاتے ہیں اور نوجوان مغرب کی سیاحت کرکے ایسا مرعوب ہو تا ہے کہ ملک میں واپس لوٹ کر ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا نا شروع کردیتا ہے۔ آج یہ سب کچھ ریت کا گھروندا ثابت ہوا ہے۔ دوسری طرف کاروباری دُنیا کے مفلوج ہونے کے باعث ان کی معیشتیں بحران کا شکار ہوچکی ہیں۔ اگرچہ اس کا آغاز 2008ء کے مارگیج بحران سے ہوا تھا، لیکن ابھی تک یورپ کساد بازاری کے مہلک اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔ ان کے سماج کی چولیں ہلنا شروع ہوچکی ہیں۔ ہر ملک علاقائی اتحاد بچانے کے بجائے اپنے عوام کی بنیادی ضرورتیں پورا کرنے میں اُلجھ چکا ہے۔ دُنیا کا دستور ہے؛ پہلے زندگی‘ پھر اَخلاق و اتحاد۔ امریکا نے 1945ء میں جاپان پر ایٹمی حملہ کرکے پوری دُنیا میں اپنی دہشت گردی کی بنیاد رکھی تھی۔ جب کہ آج روس نے یورپ پر ایٹمی حملہ کیے بغیر اپنے جنگی تحقیقاتی اداروں کی تخلیقات کی ایک ہلکی سی جھلک کا مظاہرہ کرکے امریکا اور رُوس کے نیٹو اتحادیوں کو پریشان کردیا ہے۔ نیٹو اتحاد نے امریکی سربراہی میں اقوامِ عالم پر ظلم اور ناانصافی کے جو پہاڑ توڑے تھے، آج ان کی تلافی کا وقت آگیا ہے۔ ہر کسی کو اپنے حصے کے ظلم کے لیے جواب دینا ہوگا۔ یہی مکافاتِ عمل ہے۔

جہاں تک دوسرے ہتھیار کا تعلق ہے، وہ ایندھن ہے۔ روس نے مغربی یورپ پر کوئی ایٹم بم نہیں گرایا۔ بس ہلکی سی گیس اور تیل کی فراہمی بند کی ہے۔ یورپی حکومتیں جو فلاحی ریاستیں ہونے کی نام نہاد دعوے دار تھیں، ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ روس نے گزشتہ کئی برسوں میں یورپ کو اپنی گیس اور تیل کا عادی بنایا ہو اہے۔ روس کی آمدنی کا 70 فی صد انھی دونوں ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ آج دنیا کی آبادی کا 60 فی صد صرف ایشیا میں آباد ہے۔ ایشیا کے صرف دو ممالک چین اور بھارت لگ بھگ 3 ارب کی آبادی پر مشتمل ہیں۔ گویا روس نے امریکا کے ساتھ جنگ میں اُترنے سے قبل اپنے وسائل کو محفوظ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کرلی تھی۔ اپنی آمدنی کو برقرار رکھنے کے لیے روس نے کچے تیل اور گیس کے معاہدے چین اور بھارت کے ساتھ کرکے یورپین ممالک کی سپلائی میں ہونے والی کمی پورا کرنے کا بندوبست کررکھا ہے۔ روس 2014ء میں بھی امریکا کے اس قسم کے حملے کا سامنا کرچکا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 147 ڈالر فی بیرل سے گرا کر صرف 47 ڈالر پر لے آیا تھا۔ آج یہی ہتھیار رُوس ان کے خلاف استعمال کرنے جارہا ہے۔ امریکی اتحاد کے پاس دونوں ذرائع کا کوئی نعم البدل فوری طور پر دست یاب نہیں ہے۔ اس ہتھیار کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ روس نے یکم؍ مئی 2022ء سے دو ملکوں بلغاریہ اور پولینڈ کی تیل اور گیس کی فراہمی یعنی سپلائی بند کردی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکا نے روس پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں ممالک جب تک گیس اور تیل کی قیمت ’روبل‘ میں ادا نہیںکرتے اور مزید یوکرین سے جنگ میں کسی بھی قسم کا تعاون ختم نہیں کرتے، اس وقت تک انھیں گیس اور تیل کی سپلائی معطل رہے گی۔ یورپ کی چار تیل کمپنیوں نے قیمت کی ادائیگی ’روبل‘ میں کرنا شروع کردی ہے۔ مزید دس کمپنیوں نے روس کے بینکوں میں اکاونٹ کھولنے کے لیے معاہدے کرلیے ہیں۔

4 / 10

خانہ پُری بجٹ

خانہ پُری بجٹ

حکومت آمدہ سال 136 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق تقریباً 90 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے اور باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرضوںاور امداد پر مشتمل ہوگی۔ گزشتہ سالوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی 39.5 کھرب روپے ہوگی، جس میں 34.4 کھرب ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں کا ہے۔ اس کے علاوہ 41 کھرب صوبوں کو دے دیا جائے گا۔ 15.2 کھرب روپے دفاع کو دے دیا جائے تو ملکی آمدنی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کا خرچ 46 کھرب روپے قرض لے کر کیا جائے گا، جس میں قابلِ ذکر اخراجات میں انتظامیہ 19.5 کھرب، ترقیاتی اخراجات 8 کھرب، پنشن5.3 کھرب، سبسڈی 7 کھرب، مقامی امن و امان 2 کھرب، کرونا ویکسین 0.1 کھرب، تعلیم 0.9 کھرب اور صحت 0.19 کھرب شامل ہے۔

بجٹ کی دستاویز کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ ایک خانہ پُری دستاویز ہے۔ ابتدائیے کو دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ملکی ترقی اور غریب کے غم میں گھلے جارہے ہیں اور اس حوالے سے کچھ خاص کرنے جارہے ہیں، لیکن اعداد و شمار پر جائیں تو وہی پرانی تباہی۔

IMFاور حکومت کی آنکھ مچولی گزشتہ دو سالوں سے جاری تھی۔ بالآخر اس کا خاتمہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس خطرناک ماحول میں جب کہ ملک پاکستان کا ڈیفالٹ قریب ہی نظر آرہا ہے‘ عوام دُشمن فیصلوں کے باوجود ہماری مقتدرہ کا اعتماد اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ انھوں نےIMFکو ہی اوڑھنابچھونا بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہIMFبہادر نے بجٹ تقریر کے بعد ہی اپنے تحفظات کا اظہار کردیا تھا۔ چناں چہ بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور ان میں مزید اضافے کے حوالے سے بجٹ میں پیش بندی، جیسے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی جو ایک قسم کا ٹیکس ہے، اس کی مد میں 750 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گویا پیٹرول کو 300 روپے لیٹر سے زیادہ لے کر جانے کا ارادہ ہے۔ اس سب کا نتیجہ مہنگائی، بے روزگاری اور معیشت میں سست روی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ لیکن اس ماحول میں بھی بھائی لوگوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے ہاتھوں کی خارش کا سامان کرلیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہوگا یا ٹوٹے گا، تو نئے انتظام میں بھی تو انھوں نے ہی کام کرنا ہے، تب کی تب دیکھ لیں گے۔ لیکن عوام کا کیا بنے گا؟ اس کا خیال کسے؟ 700 ارب روپے کی سبسڈی میں 21 ارب روپے کھاد کے شعبے کو اور 570 ارب روپے بجلی کے شعبے کو دیے جارہے ہیں اور عوام کو یہ اَصناف پہلے سے زیادہ مہنگے داموں بیچنے کی تیاری ہے۔ معلوم نہیں یہ سبسڈی کس مرض کی دوا ہے۔ یوں ہی 46 کھرب روپے گرانٹس میں مختص کیے گئے ہیں، جس کا عموماً 20 فی صد ہی عوام تک پہنچتا ہے۔

5 / 10

ولید بن عبدالملک؛ ان کے کارہائے نمایاں

ولید بن عبدالملک؛ ان کے کارہائے نمایاں

بعض اہلِ تاریخ نے کذب و افترا سے کام لیتے ہوئے تاریخ نویسی کی ہے۔ ان کو نہ روایت سے بحث ہے، نہ درایت سے۔ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں ہر ممکن خلا پیدا کیا جائے اور قرونِ اولیٰ کے مسلمان خلفا کے روشن چہرے کو داغ دار بنا کر پیش کیا جائے۔ بعض نے تو دانستہ یہ کوشش کی اور بعض سادگی اور عدمِ تحقیق کی وجہ سے اس مقصد کے لیے استعمال ہوئے۔ گھڑی ہوئی روایات کی بنیاد پر ہر طرح کا ظلم و جبر اِن خلفا کی طرف منسوب کیا گیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک ہزار سالہ دور ترقی و عروج کا دور ہے۔ خصوصاً بنواُمیہ کا سو سالہ دور تو اسلام کی شان و شوکت اور اشاعت و پھیلاؤ کا دور ہے۔ اسلامی فتوحات، انسانی بھلائی، سماجی انصاف، معاشی خوش حالی، علمی ترقی اور سائنسی ایجادات کا دور ہے، لیکن بعض عاقبت نااندیش ان خلفا کے ان سنہری کارناموں کو گھڑی ہوئی روایات کی بنیاد پر دُھندلانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

ہم نے گزشتہ شمارے میں ذکر کیا تھا کہ ایک سیاسی دعائیہ تقریب میں ایک ’’واعظ‘‘ نے بنواُمیہ کے خلاف خصوصاً عبدالملک بن مروان اور ولید بن عبدالملک کے بارے میں یہ ’’گل افشانی‘‘ کی کہ ’’مرنے کے بعد ان کے چہرے قبلے سے منحرف ہوگئے تھے‘‘۔ ان کو تاریخ سے ان کے کارناموں والی روایات نظر نہیں آتیں۔ صرف ان گھڑی ہوئی روایات کو لے کر ان خلفا کی کردار کشی کی گئی۔ عبدالملک بن مروان کے کارناموں کا تو ہم نے مختصر تذکرہ ’’رحیمیہ‘‘ کے پچھلے شمارے میں کیا تھا، اب ہم ان کے جانشین ولید بن عبدالملک کے کارناموں کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔

ولید بن عبدالملک کے دور کو اسلامی فتوحات کے حوالے سے حضرت عمرؓ بن خطاب کے دور کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ انھیں کے دور میں طارق بن زیاد نے سپین کو فتح کیا۔ شمالی افریقا کے بہت سے ممالک موسیٰ بن نصیر کی قیادت میں اسلامی خلافت کا حصہ بنے۔ انھیں کے دور میں محمد بن قاسم نے سندھ کو اسلامی خلافت میں شامل کیا۔ قُتَیبہ بن مسلم اسلامی فتوحات ترکستان اور چین تک بڑھانے والے ہیں۔

ولید کے بھائی مسلمہ بن عبدالملک نے ولید کے حکم پر بلادِ رُوم کے بہت سے علاقوں کو فتح کیا۔ گویا اسلامی فتوحات اس کثرت سے ہوئیں کہ حضرت عمرفاروقؓ کا دور یاد آگیا۔ انسانی خدمت کے حوالے سے دیکھا جائے تو آپ نے بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے بہت سے اقدامات کیے۔ مثلاً ہسپتال قائم کیے۔ سڑکیں بنوائیں۔ راستوں کو پُرامن بنایا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی تو اس بنیادی ضرورت کی فراہمی کے لیے مدینہ تک نہر کھدوائی، جس سے پانی کی قلت ختم ہوئی۔ نابینا اور اپاہج افراد کی خدمت و سہولت کے لیے حکومت کی طرف سے خادم فراہم کیے گئے۔ (البدایہ و النہایہ، 9/171) ہاں! اس انسانی فلاح کے صالح نظام کو فیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کی سرکوبی بھی کی۔ خوارج اور ان کے حمایتیوں کا قلع قمع بھی کیا۔

ایک طرف ان کے یہ کارنامے ہیں اور دوسری طرف ان کے روشن کارناموں کو گہنانے کے لیے وضعی داستانیں، جن کو مجمع عام میں بیان کرکے ہماری نوجوان نسل کو یہ باور کرانے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہمارے وہ خلفا و حکمران‘ آج کل کے حکمرانوں کی طرح ہی تھے۔ جیسے آج کے حکمران اقتدار کے حصول کے لیے جھوٹ، فریب، اصولوں سے انحراف، مخالفین کی کردار کشی اور ہر طرح کا جائز و ناجائز اِقدام کرکے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے ہی ہمارے اَسلاف بھی تھے (نعوذ باللہ)۔ حال آںکہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ وہ تو قرآن و سنت اور خلافت ِراشدہ کے وضع کردہ اُصولوں پر مبنی نظام پر عمل پیرا تھے۔ جن خلفا کے نامہ اعمال میں انسانی بھلائی کے اس قدر کارہائے نمایاں ہوں، وہ دنیا میں بھی کامیاب اور اگلی منازل میں اللہ اپنی رحمت و کرم نوازی کا ان کے ساتھ معاملہ فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ!

6 / 10

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار - حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار - حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ

 

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار  (3)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

(5۔ اللہ سے دعا کرنا اور اُس کی پناہ مانگنا)

’’وہ اذکار جن سے انسان کا نفس غفلت سے نکلتا ہے اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، ان میں سے دعائیں اور اس کی پناہ مانگنا بھی ہیں۔ اس حوالے سے:

(1)     اللہ سے اُن چیزوں کا سوال کرنا، جو:

          الف: انسان کے جسم اور بدن کو نفع دینے والی ہیں۔

          ب:  یا اُس کے نفس اور اُس کی روح کو اَخلاقی اعتبار سے ٹھیک کرتی ہیں۔

          ج:   یا اُس کے دل کے لیے اطمینان و سکون کے اعتبار سے نفع مند ہیں۔

          د:       یا اُس کے گھر، مال و اولاد اور مرتبے اور عزت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

(2)     اور اُن تمام چیزوں کے بارے میں اللہ کی پناہ مانگنا، جو اِن درجِ بالا چاروں پہلوؤں کے حوالے سے نقصان دینے والی ہیں۔

ان دُعاؤں کے نتیجے میں جو فوائد حاصل ہوتے ہیں اور انسان اُن کے سبب نقصانات سے بچتا ہے، اُس کا راز یہ ہے کہ ان دعاؤں کے نتیجے میں انسان اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ حق تبارک و تعالیٰ کا اَثر و رُسوخ پوری کائنات میں جاری و ساری ہے اور اس بات کی نفی کرنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اَور اُس سے ضرر و نقصان دور کرنے اور اچھا کام کرنے کی طاقت اور قوت دینے والا ہے۔

(اللہ سے سوال کرنے والی مسنون دعائیں)

اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے مروی جامع ترین دعائیںیہ ہیں:

(1)     اللّٰہُمّ ! أصلح لی دینی الّذی ہو عِصمۃ أمری، و أصلح لی دُنیایَ الّتی فیہا معاشی، و أصلح لی آخِرتی الّتی فیہا مَعادِی، و اجعل الحیاۃَ زیادۃً لی فی کُلّ خیرٍ، و اجعل الموتَ راحۃً لی مِن کُلّ شرٍّ۔

          (اے اللہ! میرے لیے میرا دین ٹھیک کردے، جس سے میرے معاملات کا تحفظ ہوتا ہے۔ اور میرے لیے میری دُنیا ٹھیک کردے، جس سے میری معاشی زندگی وابستہ ہے۔ میرے لیے میری آخرت کو درست کردے، جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے۔ میری زندگی ہر خیر کے معاملے میں زیادہ کردے اور میری موت ہر قسم کے شر سے بچنے کا اور راحت حاصل کرنے کا باعث بنا دے۔)  (مشکوٰۃ: 2483)

(2)     اللّٰہُمّ ! إنّی اسألک الہُدیٰ، و التُّقٰی، و العَفاف، و الغِنٰی۔(اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور تقویٰ اور پاکدامنی اور مال داری کاسوال کرتا ہوں) (مشکوٰۃ: 2484) 

(3)     رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا تھا کہ: ’’یہ دعا پڑھا کرو: ’’اللّٰہُمّ ! اہدِنی و سَدِّدنی‘‘۔ (اے اللہ! مجھے ہدایت دے دے اور مجھے بالکل سیدھا کردے)۔ پھر اُن سے فرمایا کہ: ’’اہدنی‘‘ کہتے وقت سیدھے راستے کی ہدایت کا اپنے دل میں خیال پیدا کرو اور ’’سدِّدنی‘‘ کہتے وقت تِیر کی طرح بالکل سیدھا ہونے کو ذہن میں رکھو‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2485)

(4)     اللّٰہُمّ ! اغفر لی، و ارحمنی، و اہدِنی، و عافِنی، و ارزُقنی۔

          (اے اللہ! مجھے معاف کردے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے ہدایت دے، اور مجھے عافیت عطا فرما اور مجھے رزق نصیب فرما۔) (مشکوٰۃ : 2486)

(5)     اللّٰہُمّ ! ربّنا آتنا فی الدّنیا حسنۃ، و فی الآخرۃ حسنۃ، و قِنا عذاب النّار۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی کامیابی نصیب فرما اور آخرت میں بھی کامیابی نصیب فرما اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا۔)  (مشکوٰۃ: 2487)

(6)     ربّ أعِنِّی ولا تُعِنْ علیّ، و انصُرنی و لا  تنصُر علیّ، و امکُر لی و لا تمکُر علیّ، و اہدنی و یسِّر الہُدیٰ لی، و انصُرنی علٰی مَن بغٰی علیّ، ربّ اجعلنی لک شاکِرًا، لک ذاکِرًا، لک راہِبًا، لک مِطْوَاعًا، لک مُخبِتًا، إلیک أوّاہًا مُنیبًا، ربّ تقبّل توبتی، و اغسِل حَوبتی، و أجِب دعوتی، و ثبّت حُجّتی، و سدِّدْ لِسانی، و اہدی  قلبی، و اسلُل سخیمۃ صدری۔           (اے میرے پروردگار! میری مدد فرما اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما۔ اور میری نصرت فرما اور میرے خلاف نصرت نہ فرما۔ میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کا مکر و فریب نہ چلے۔ مجھے ہدایت فرما اور میرے لیے ہدایت پر چلنا آسان بنا۔ جو میری بغاوت کرے، اُس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے پروردگار! مجھے اپنا شکر کرنے والا بنا۔ اپنا ذکر کرنے والا بنا۔ اپنے سے ڈرنے والابنا۔ اپنا فرماں بردار بنا۔ اپنے سامنے خشوع و خضوع اختیار کرنے والا بنا۔ اپنے سامنے گناہوں کی وجہ سے رونے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔ اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول فرما۔ میرے گناہوں کو دھو دے۔ میری دعاؤں کو قبول فرما۔ میری حجت اور دلیل کو مضبوط بنا۔ میری زبان کو درست فرما۔ میرے دل کو ہدایت فرما۔ اور میرے سینے کا حسد و کینہ اور تکلیف دور فرما۔) (مشکوٰۃ: 2488)

(7)     اللّٰہُمّ ! ارزُقْنِی حُبّک، و حُبّ مَن ینفعُنی حُبُّہ عندک، اللّٰہُمّ ! ما رزقتَنی مِمّا أُحِبُّ، فاجعلہ قوّۃً لی فیما تُحِبُّ، اللّٰہُمّ ! ما زوَیتَ عنّی مِمّا أحِبُّ، فاجعلہ فراغًا لی فیما تُحِبُّ۔ (اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا فرما اور اُن لوگوں کی محبت عطا فرما، جن کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے۔ اے اللہ! جو بھی تُو میرے پسندیدہ رزق میں سے مجھے عطا کرے، اُس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کرنے کی قوت و طاقت کا ذریعہ بنا۔ اے اللہ! جو میری پسندیدہ چیزیں تُو مجھ سے دور کرے تو اس فراغت کو اپنے پسندیدہ کاموں میں استعمال کرنے کا باعث بنا۔) (مشکوٰۃ: 2491) (8)     اللّٰہُمّ ! أقسِمْ لنا مِن خشیتِک ما تحول بہ بیننا و بین معاصیک، و مِن طاعتِک ما تُبلِّغُنا بہ جنّتَک، و مِن الیقین ما تُہَوِّن بہ علینا مصیبات الدُّنیا، و متِّعنا بأسماعنا، و أبصارنا، وقوّتنا ما أحییتَنا، و اجعلہ الوارث مِنّا، و اجعل ثأرنا علٰی مَن ظَلمَنا، و انصُرنا علٰی من عادانا، و لا تجعل مصیبتَنا فی دینِنا، و لا تجعلِ الدُّنیا أکبر ہَمِّنا، و لا مبلَغ عِلمِنا، و لا  تُسلِّط علینا من لا یرحمنا‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2492)

          (اے اللہ! تو ہمیں اپنا ایسا ڈر عطا فرما، جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہوجائے۔ اپنی ایسی فرماں برداری عطا فرما، جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے۔ ایسا یقین عطا فرما، جس سے دنیا کی مصیبتیں ہم پر آسان ہوجائیں۔ ہم جب تک زندہ رہیں، تو اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور اپنی طاقت و قوت سے فائدہ اُٹھاتے رہیں۔ اور جب تک ہماری زندگی ہے، یہ سب باقی رہیں۔ اے اللہ! جو ہم پر ظلم کرے، صرف اُس پر ہمیں غضب ناک فرما۔ جو ہمارا دُشمن ہو، اُس کے خلاف ہماری مدد فرما۔ ہماری مصیبت کو ہمارے دین میں رُکاوٹ کا باعث نہ بنا۔ اور دُنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد مت بنا۔ اور نہ ہی اُسے ہمارے علم کا منتہا بنا۔ اے اللہ! ہم پر ایسے لوگوں کو مسلط نہ فرما، جو ہم پر رحم نہیں کھاتے۔)

(حُجّۃ اللّٰہ البالغۃ، باب الاذکارِ و ما یتعلّق بھا)

7 / 10

تبدیلیٔ حکومت آپریشن نے ملکی نظام اور اس کے عناصر کا نقاب اتار دیا

تبدیلیٔ حکومت آپریشن نے ملکی نظام  اور اس کے عناصر کا نقاب اتار دیا

تبدیلیٔ حکومت آپریشن نے ملکی نظام

اور اس کے عناصر کا نقاب اتار دیا

آج کل ہمارے ہاں سیاسی حالات کی بے یقینی کی وجہ سے ایک طوفانی ہیجان برپا ہے۔ جب کبھی کسی ذمہ دار معاشرے میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو لوگ احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں کرکے اپنے غم و غصے کو راستہ دیتے ہیں۔ حکومتیں ایسے میں طاقت کے استعمال سے بچتی ہیں اور تشدد سے گریز کرتے ہوئے عوام سے انصاف و تدبر کے ساتھ نبٹتی ہیں کہ کہیں عوام کا غصہ شورش و ہنگامے کی صورت اختیار نہ کرلے، لیکن سابق حکمران پارٹی نے نام نہاد آئینی تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت کے خلاف جب 25؍ مئی کو ’’حقیقی آزادی مارچ‘‘ کے نام سے اسلام آباد میں واقع ڈی چوک کی طرف بڑھنے کا اعلان کیا تو حکومت نے ملک بھر کے گلی کوچوں سے لے کر اسلام آباد کے ڈی چوک تک، حکومت مخالف پارٹی کے عام کارکنوں سے لے کر بچوں اور خواتین تک پر تشدد کرکے جس فسطائیت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ انتہائی شرم ناک ہے۔ بعد ازاں اس پُرتشدد عمل کی تفصیلات اور منصوبہ بندی سے متعلق جو کچھ سامنے آیا، وہ ہوش رُبا ہے۔ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے ہم عہد ِظلمات کے پُرتشدد دَور میں جی رہے ہیں۔

ویسے تو ہمارے ملک کی ساری سیاسی تاریخ یہاں کسی حقیقی جمہوری عمل کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔ جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے اداریے میں یہاں کے نام نہادجمہوری اقتدار کے پیچھے عالمی سامراج کے بچھے ہوئے سازشوں کے جال کی نشان دہی کی تھی، لیکن اس بار کا ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) جس طرح وقوع پذیر ہوا ہے، اس نے جمہوری قبا میں چھپے دیو ِاِستبداد کے چہرے سے نقاب نوچ لیا ہے۔ اس تبدیلی میں جمہوریت اور اسلام کے تاجروں کے ساتھ ساتھ اس ملک کی بقا کے   دعوے داروں نے ایسے گل کھلائے ہیں کہ مفاد پرستی کے اس ہجوم میں معاشرے میں قومی احساس کی بچی کھچی قوتیں فنا کے گھاٹ اُترتی محسوس ہوتی ہیں۔

’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) کے اس گھناؤنے کھیل میں جس طرح ایک پارٹی کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاکر منتخب ہونے والے اسمبلی ممبران راتوں رات دوسرے کیمپ میں شامل ہوئے،ایک ادارے کے ساتھ سیاسی چپقلش کو جس طرح گزشتہ چند سالوں سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خلائی مخلوق، محکمہ زراعت کا نام دے کر سول بالادستی کا ڈھول پیٹا گیا اور پھر اس ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) کے بعد اس ادارے کی توقیر کا جس طرح درس دیا جانے لگا، سابقہ حکومت کے بارہ روپے پیٹرول بڑھانے پر اپوزیشن لیڈروں کا واویلا اور پھر موجودہ حکومت کے 84 روپے کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے باوجود سیاست دانوں کا اپنی اتحادی حکومت کے خلاف نہ بولنا‘ یہاں اسلامی نظام کی دُہائی دینے والوں کا اپنی وزارت کے زیرِ سایہ غریب کی جمع پونجی سے ہونے والے اس کے حج کو مہنگا کرنا اور وفاقی حکومت کے فلم انڈسٹری کے فروغ اور ترقی کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ کے عمل پر سیاسی جماعتوں کے مذہبی اتحادیوں کا دم سادھنا، اور زر خرید میڈیا کا سابقہ حکومت کے بارہ ہزار روپے ماہانہ دینے کے اقدام پر کڑی تنقید اور موجودہ حکومت کے دوہزار روپے دیے جانے کو مستحسن قرار دیتے ہوئے ستائشی انداز اختیار کرنا‘ یہ سب رویے ہمارے ہاں کے سیاسی بندوبست کے بودے پن کو ظاہر کررہے ہیں۔

اور پھر ایسے ہی اس ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) کے بعد کی حکومت میں جیسے اقربا پروری کرکے میرٹ کی دھجیاں اُڑائی گئیں، اس نے انسانیت کے قبائلی عہد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈروں نے اس جمہوری دورمیں اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی بنایا کہ ایک نے اپنے بیٹے کو سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنوایا، دوسرے نے وزارتِ خارجہ ناتجربہ کار بیٹے کی جھولی میں ڈالی اور تیسرے نے وزارتِ مواصلات جیسی کمیشن بخش وزارت پر بیٹے کے ذریعے ہاتھ صاف کیا۔ شاہی اَدوار میں باپ کے بعد بیٹے کی حکمرانی پر اُنگلیاں اُٹھانے والے اس جدید جمہوری عہد میں اپنے سیاست دانوں کے طرزِ عمل کو بھی ملاحظہ فرمائیں کہ یہ کس عہد کی مخلوق ہے۔

ایسے ہی اس ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) کے بعد جیسے آئین، دستور اور اداروں کی بے توقیری کی گئی، آج کی مہذب دنیا میں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی کہ یہاں کہیں تو وزیر اعلیٰ کا انتخاب اسمبلی ضابطوں کو پسِ پُشت ڈال کر بھونڈے طریقے سے عمل میں لایا جاتا ہے۔ کہیں گورنر کو غیر آئینی طریقے سے فارغ کیا جاتا ہے۔ کہیں سیٹنگ سپیکر کے بغیر صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسمبلی بلڈنگ کے باہر ایوانِ اقبال میں بُلاکر رسمی بجٹ پاس کروایا جارہا ہے۔ کہیں قومی اسمبلی میں منحرف اراکین کو اپوزیشن بنچوں پر بٹھاکر جعلی اپوزیشن تشکیل دے کر من مانی قانون سازی کی جارہی ہے۔ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے الیکشن ایکٹ اور نیب آرڈیننس کی بخیہ دری کی جاتی ہے۔

اداروں کی بات میں وزن نہیں رہا۔ کوئی کہتا ہے مداخلت نہیں ہوئی۔ کوئی کہتا ہے مداخلت ہوئی ہے، سازش نہیں ہوئی۔ کوئی کہتا ہے سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ نے مداخلت تسلیم کرلی ہے۔ کوئی کہتا ہے سیکورٹی چیفس کے خیال میں سازش کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔اس طرح قومی سلامتی ادارہ کی سلامتی پر سوالات اُٹھا دیے۔

کل تک اس ملک میں امریکی اثرورسوخ اور سیاسی وسماجی اُمور میں مداخلت ثابت کرکے عوامی مجمعوں میں داد وصول کرنے والے موجودہ ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) میں نہ صرف امریکی مداخلت کا انکار کررہے ہیں بلکہ بعض مذہبی رہنما امریکی صدر جو بائیڈن کے سیاسی تجربے کی تعریف اور دنیا میں انھیں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔

مذکورہ بالا اقدامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی عمل میں موجود افراد‘ ملک وقوم سے زیادہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے محافظ ہیں۔ انھیں ملک و قوم سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہمارا ملکی اور سیاسی نظام ایک متعفن لاش کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اب اسے دفنائے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔

موجودہ "رجیم ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (regime change operation) کے بعد کے پیش کردہ مذکورہ بالا فیصلے کیا کسی جمہورے معاشرے کے ہوسکتے ہیں؟ ہماری سیاسی جماعتوں کے جو طور طریقے اور لچھن ہیں، اس سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے یا فسطائیت کی راہ ہموار ہوتی ہے؟ سب سے بڑا اَلمیہ یہ ہے کہ اس فضا نے جو جماعتی تعصب اور گروہ پسندی پیدا کردی ہے، اس نے ان جماعتوں کے کارکنوں کا مزاج اور سوچ و فکر تک تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ جس سے نہ صرف کارکنوں کے دل و دماغ سے سیاسی اَقدار و اَخلاقیات رُخصت ہوگئی ہیں، بلکہ فکر و عمل کی سچائی کے سوتے پھوٹنا بند ہو کرعقل و شعور ماؤف ہوگئے ہیں۔

اس ساری فضا میں مختلف جماعتوں کے کارکن غور و فکر سے زیادہ جانب داری سے سوچنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ جو کل تک سیاست میں ایک ادارے کی مداخلت کو ملک و قوم کی تباہی سے تعبیر کررہے تھے، آج وہ اسی ادارے کو جمہوریت کا محافظ قرار دینے پر تُلے ہیں اور موجودہ حکومت کے مہنگائی اور تشدد سمیت ہر نامعقول اور غیرپسندیدہ اقدام کے دفاع پر کمربستہ ہیں۔ الغرض! ہر معاملے میں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے، جو غور و فکر اور سوچنے کے عمل کی قاتل ہے۔ حتیٰ کہ ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ (rajim change operation)  میں امریکی کردار تک سے منکر ہوئے جاتے ہیں، حال آں کہ اس امر میں اب بہ قولِ شاعر    ؎

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے ، باغ تو سارا جانے ہے

8 / 10

یہودی علما کی دوسری خرابی؛ عوام سے علم چھپانا

یہودی علما کی دوسری خرابی؛ عوام سے علم چھپانا

درسِ قرآن                                                                   تفسیر: شیخ التفسیر مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

 

یہودی علما کی دوسری خرابی؛ عوام سے علم چھپانا

ﵟوَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ قَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ، أَوَلَا يَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَﵞ 

    (-2 البقرہ: 76-77)

(اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے، کہتے ہیں: ’ہم مسلمان ہوئے‘، اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں: ’تم کیوں کہہ دیتے ہو اُن سے جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر، تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمھارے ربّ کے آگے، کیا تم نہیں سمجھتے؟‘ کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔)

گزشتہ آیات میں واضح کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کے اعلیٰ علم کے انکار کے سبب یہودیوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوچکے تھے۔ اس کے نتیجے میں اُن کے اہلِ علم میں کئی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ گزشتہ آیت میں اُن کی پہلی خرابی اللہ کی کتاب میں تحریف کرنے کی صورت میں بیان کی گئی۔ اس آیت میں اُن کی دوسری خرابی‘ انسانیت کے نفع کا علم چھپانے سے متعلق ہے۔

ﵟوَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖﵞ   مدینہ منورہ میں یہودیوں کی بستیاں تھیں۔ وہاں سے یہ لوگ صبح کو مدینہ شہر میں آتے تھے۔ حضور ﷺ کی مجلس میں منافقت سے شریک ہوتے اور بہ ظاہر ایمان کا دعویٰ بھی کرتے تھے۔ اس موقع پر خوشامد کے طور پر اپنی کتابوں میں موجود رسول اللہؐ کی آمد کی نشانیاں اور علامات بیان کردیا کرتے تھے۔ شام کو جب اپنی بستیوں میں واپس جاتے تو اُن کے علما انھیں اس بات سے باز رکھنے اور علم چھپانے کا حکم دیتے تھے، تاکہ مسلمان اُن کے خلاف دلیل اور حجت قائم نہ کریں۔ اسی پسِ منظر میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

ﵟقَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ ﵞ یہودی علما حضور ﷺ کی مجلس میں شریک ہونے والے یہودیوں سے کہتے کہ کیا تم مسلمانوں کے سامنے وہ علم کھول کر بیان کردیتے ہو، جو خاص علم اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولا تھا؟ اس سوال کے ضمن میں وہ انھیں روکتے تھے کہ اپنا مخصوص علم کسی کو نہیں دینا چاہیے۔ اس طرح اپنی علمی اجارہ داری قائم کرنے کی روِش اختیار کرنے کا انھیں حکم دیا جاتا تھا۔ نیز اس لیے بھی روکتے تھے، تاکہ مسلمان تم پر حجت قائم نہ کرسکیں۔

ﵟلِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَﵞ : چوں کہ خود یہودی تورات کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے تھے، اُس میں لکھا ہوا تھا کہ آخری نبی ﷺ کی یہ علامات ہیں اور جب وہ دنیا میں تشریف لائیں تو تم اُن پر ایمان لانا اور اُن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا۔ اس لیے یہودی علما کا خیال تھا کہ ہمارے رسول اللہؐ پر ایمان نہ لانے کے خلاف  بہ طورِ حجت کے ہماری ہی کتاب پیش کی جائے گی اور مسلمان ربّ تبارک و تعالیٰ کے سامنے یہ دلیل پکڑیں گے کہ یہودی اپنی کتاب میں حکم کے باوجود ایمان نہیں لائے۔ یہودی علما اتنے مسخ ہوچکے تھے کہ علمِ الٰہی کو چھپانے کو عقل مندی سے تعبیر کرتے اور اپنے عام لوگوں کو عقل کے نام پر بے عقلی کی دعوت دیتے تھے۔

ﵟأَوَلَا يَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَﵞ : اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی اس بد رَوِش اور خرابی کو بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ اگر یہ لوگ علمِ الٰہی کو چھپائیں گے تو کیا انھیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر خفیہ اور اعلانیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ تورات میں بیان کردہ ان علوم اور حقائق کو اپنے نبی ﷺ کے سامنے بیان کردے گا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’یعنی اللہ کو تو ان کے سب امور _ ظاہر ہوں یا مخفی _بالکل معلوم ہیں۔ ان کی کتاب کی سب حجتوں کی خبر مسلمانوں کو دے سکتا ہے۔ اور جا بہ جا مطلع فرما بھی دیا۔ آیتِ رجم کو انھوں نے چھپایا، مگر اللہ نے (اُسے) ظاہر فرما کر ان کو فضیحت (رُسوا) کیا۔ یہ تو ان کے علما کا حال ہوا، جو عقل مندی اور کتاب دانی کے مدعی تھے‘‘۔

حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’یہودی علما کتاب اللہ کی آیات کو چھپاتے تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض شرعی احکام اور آیات کو یہودی علما اس لیے چھپاتے تھے کہ اُس سے اُن کے جاہ و مرتبت اور اُن کی ریاست اور حکومت میں کمی آئے گی اور لوگوں کی ان سے عقیدت کمزور پڑ جائے گی۔ لوگ انھیں کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مجبور کرنے لگیں گے، جس سے ان کی ذلت اور رُسوائی ہوگی۔  چناں چہ وہ ہر عام و خاص کے لیے دین کی تعلیمات کو ظاہر کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے‘‘۔

شاہ صاحبؒ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے یہی آیت تحریر فرماتے ہیں اور پھر یہودی علما کی اس حرکت کو واضح کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ: ’’خلاصہ یہ کہ اگر یہودی علما کا تم نمونہ دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے زمانے کے علمائے سُو کو دیکھ لو، جو دُنیا کے طلب گار ہیں اور انھوں نے اندھی تقلید کا راستہ اختیار کیا ہے اور کتاب و سنت کے احکامات اور نصوص کی تشریح میں انتہا پسندی اور تشدد سے حیلہ سازی کو فروغ دیا ہے۔ ’’تماشا کُن کأنّھُم ہُم‘‘ (تم یہ تماشا دیکھو! گویا کہ یہ وہی یہودی علما ہی ہیں)‘‘۔ (الفوز الکبیر)

علم کا بنیادی مقصدانسانیت کے فائدے اور نفع کے لیے بہتر نظام بنانا ہوتا ہے۔ خاص طور پر علمِ الٰہی‘ جو انبیا علیہم السلام پر اس لیے نازل ہوتا ہے، تاکہ انسانیت عدل و انصاف پر قائم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لیقوم الناس بالقسط‘‘ (-57 الحدید:25) ایسے علم کو چھپانا انسانیت کی ترقی کے راستے میں رُکاوٹ کھڑا کرنا ہے۔ اس لیے احادیثِ نبویہؐ میں کتمانِ علم پر بڑی سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ علم چھپانا بہت بڑا جرم ہے۔ یہ انسانیت کی ترقی میں مجرمانہ کردار کا حامل ہے۔ اس لیے قرآن حکیم نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان آیات میں علم اور عقل کے نام پر وجود میں آنے والی جاہلیت کا پردہ چاک کیا ہے۔ علم کے فروغ اور پھیلاؤ کے ذریعے عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

9 / 10

درسِ حدیث - مقروض ہونے سے بچیں

درسِ حدیث - مقروض ہونے سے بچیں

درسِ حدیث                    

مقروض ہونے سے بچیں!

عَنْ أَبِيْ ہُرِیْرَۃؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: ’’نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ بِدَیْنِہٖ، حَتّٰی یُقْضٰی عَنْہُ‘‘۔ (الجامع للتّرمذی، حدیث: 1078)

(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مؤمن کی روح اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے، حتیٰ کہ اس کی طرف سے (قرض) ادا کردیا جائے‘‘۔) 

اس حدیث کی روشنی میں اِنفرادی اور اجتماعی اقتصادی نظام کے حوالے سے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ ایک بار نبی اکرمﷺ کے پاس ایک جنازہ آیا۔ آپؐ نے پوچھا کہ: ’’میت پر کوئی قرض ہے؟‘‘ آپﷺ کو بتایا گیا کہ یہ مقروض ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ: ’’اس کا جنازہ تم پڑھو، میں جنازہ نہیں پڑھائوں گا‘‘۔ تو صحابہؓ کو اس پر بہت صدمہ ہوا کہ نبی ﷺ کے ہوتے ہوئے ہمارا یہ ساتھی آپؐ کے جنازہ پڑھانے سے محروم رہ جائے۔ تو حضرت ابوقتادہؓ نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولؐ! ان کی طرف سے میں قرض ادا کرتا ہوں۔ تو آپؐ نے ان کا جنازہ پڑھا دیا۔ (صحیح بخاری) گویا آپؐ نے اپنے عمل سے مقروض ہوکر مرنے کو ناپسند کیا کہ اس سے آپ کے ورثا اور جنھوں نے آپ کا تعاون کیا ہوا ہو، وہ تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

قومی اور اجتماعی نقطۂ نگاہ سے بھی ہماری صورتِ حال دگرگوں ہے۔ شروع دن سے قومی معاشی نظام قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔ حکمران اس امر پر مقابلہ کرتے ہیں کہ کون باہر سے زیادہ قرض سمیٹ کر لاتا ہے۔ اگر کوئی دریوزہ گری میں ناکام ہوجاتا ہے تو اس کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ جب کوئی سخت شرائط کے ساتھ عالمی گماشتہ اداروں سے قرض منظور کرا لیتا ہے تو وہ اس کو اپنا بڑا کارنامہ شمار کرتا ہے۔ حال آں کہ قرض کے نام پر کسی ملک کے معاشی نظام کو جکڑنے اور قوموں کو غلام بنانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف، ورلڈبینک وغیرہ) کا یہ ایک حیلہ ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے کوئی چالاک مالک اپنے ملازمین کو خاص موقعوں پر چار چھ لاکھ روپے قرض دے دیتے ہیں، پھر اس قرض کے بدلے ان کی نسلیں بھی غلام بنا لی جاتی ہیں، جب کہ مالکان اس عمل سے سخی ہونے کی داد بھی سمیٹتے  ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرض دینے کی حکمتِ عملی اس سے مختلف نہیں ہے۔ اقوام کی معیشت، سیاست اور ان کی تمام پالیسیز کو قرض کے بدلے گِروی رکھ لیا جاتا ہے۔ اس قابلِ نفرت صورت کو حکمران اقتصادی نظام کی ضرورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قوم کو اس طرف آنے ہی نہیں دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا سوچ سکے۔ زیرِغور حدیث میں نبی اکرمؐ ایک مقروض شخص کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ: ’’اس کی روح معلق ہوجاتی ہے‘‘۔ یہاں تو ساری قوم مقروض ہے اور اس قرض کے بدلے ان کی آزادی، عزت اور قومی وقار ختم ہوچکا ہے۔ اس صورتِ حال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

   مولانا ڈاکٹر محمد ناصر، جھنگ

10 / 10

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ - صحابہؓ کا ایمان افروز کردار

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ  - صحابہؓ کا ایمان افروز کردار

صحابہؓ کا ایمان افروز کردار                   

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ غزوۂ خیبر کے سال (۷ھ / 628ء) مسلمان ہوئے۔ آپؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں۔ آپؓ عقل مند فضلا اور فقہا صحابہ کرامؓ میں شمار ہوتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے آپؓ کو فقہ و دین کی تعلیم کے لیے بصرہ روانہ فرمایا۔ آپؓ نے پوری زندگی وہیں بسر کردی۔

حضرت عمران بن حصینؓ باغ و بہار مزاج کے مالک تھے، مگر شریعت اور دائرۂ حق کا ہمیشہ دھیان رکھتے تھے۔ ۵۲ھ / 672ء میں آپؓ کی وفات ہوئی۔آپ اپنے شاگردوں کا امتحان‘ سوالات کے ذریعہ لیتے تھے۔

آپؓ سے حضرت حسن بصریؒ، امام محمد بن سیرینؒ، علامہ شعبیؒ ایسے اکابر تابعین نے روایت کی ہے۔ معروف محدث و مؤرخ حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ: ’’احادیث کی کتب میں حضرت عمران بن حصینؓ کی روایاتِ حدیث موجود ہیں‘‘۔ آپؓ کی ایک روایت کو امام حاکمؒ نے اپنی ’’مستدرک علی الصّحیحین‘‘ میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے فاطمہ! اپنی قربانی کی خدمت کرو اور اسے ذبح ہوتے ہوئے دیکھو۔ تیرا ہر گناہ قربانی کے پہلے قطرے کے زمین پر گرتے ہی بخش دیا جاتاہے اور ذبح کے وقت یہ پڑھو: ’’بے شک میری نماز، اور میری قربانی، اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں حکم برداروں میں سے ہوں‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عمل بڑی اہمیت کا حامل ہے اور قربانی کے جانور کی دیکھ بھال اور خدمت کرنی چاہیے، جس طرح آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو نصیحت کی۔ اسی طرح قربانی کے جانور کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھنا بھی چاہیے، تاکہ انسان کی ذہنی، عقلی اور نفسیاتی وابستگی ذاتِ حق کے ساتھ مخلصانہ طور پر پیدا ہو۔ قربانی سے نفس کا علاج ہو۔ انفرادیت کامرض دور ہو اور مال کی محبت کا علاج ہو۔قربانی کرتے وقت دینِ حق کے عظیم مقاصد اور ملتِ حنیفیت کے عملی مظاہر سے وابستگی اور مناسبت پیدا ہو۔ توحید ِالٰہی کے بلند نصب العین سے شعوری ربط پیدا ہو۔ ہر غیر حق کی غلامی سے آزادی کا عزمِ مصمم وجود میں آئے۔ انسان ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے دل کو پاک کرکے مغفرت و بخشش کی گراں قدر گھٹاؤں میں روحانی تازگی اور شرحِ قلب کے ساتھ زندگی کے میدانوں میں قدم رکھ سکے۔

اس حدیث سے یہ رہنمائی بھی حاصل ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی نسلِ نو کو ہر عمل سے شعوری وابستگی کا پیغام دیا۔ ذہنی وعقلی قوتیں اور عملی صلاحیتیں ایک ہی نظریے اور ایمان سے جڑی ہوئی ہوں تو نتائج پیدا ہوتے ہیں۔

مولانا قاضی محمدیوسف، حسن ابدال

شمارہ ختم

واپس