خانہ پُری بجٹ

محمد کاشف شریف
محمد کاشف شریف
جولائی 21, 2022 -

حکومت آمدہ سال 136 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق تقریباً 90 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے اور باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرضوںاور امداد پر مشتمل ہوگی۔ گزشتہ سالوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی 39.5 کھرب روپے ہوگی، جس میں 34.4 کھرب ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں کا ہے۔ اس کے علاوہ 41 کھرب صوبوں کو دے دیا جائے گا۔ 15.2 کھرب روپے دفاع کو دے دیا جائے تو ملکی آمدنی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کا خرچ 46 کھرب روپے قرض لے کر کیا جائے گا، جس میں قابلِ ذکر اخراجات میں انتظامیہ 19.5 کھرب، ترقیاتی اخراجات 8 کھرب، پنشن5.3 کھرب، سبسڈی 7 کھرب، مقامی امن و امان 2 کھرب، کرونا ویکسین 0.1 کھرب، تعلیم 0.9 کھرب اور صحت 0.19 کھرب شامل ہے۔

بجٹ کی دستاویز کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ ایک خانہ پُری دستاویز ہے۔ ابتدائیے کو دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ملکی ترقی اور غریب کے غم میں گھلے جارہے ہیں اور اس حوالے سے کچھ خاص کرنے جارہے ہیں، لیکن اعداد و شمار پر جائیں تو وہی پرانی تباہی۔

IMFاور حکومت کی آنکھ مچولی گزشتہ دو سالوں سے جاری تھی۔ بالآخر اس کا خاتمہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس خطرناک ماحول میں جب کہ ملک پاکستان کا ڈیفالٹ قریب ہی نظر آرہا ہے‘ عوام دُشمن فیصلوں کے باوجود ہماری مقتدرہ کا اعتماد اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ انھوں نےIMFکو ہی اوڑھنابچھونا بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہIMFبہادر نے بجٹ تقریر کے بعد ہی اپنے تحفظات کا اظہار کردیا تھا۔ چناں چہ بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور ان میں مزید اضافے کے حوالے سے بجٹ میں پیش بندی، جیسے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی جو ایک قسم کا ٹیکس ہے، اس کی مد میں 750 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گویا پیٹرول کو 300 روپے لیٹر سے زیادہ لے کر جانے کا ارادہ ہے۔ اس سب کا نتیجہ مہنگائی، بے روزگاری اور معیشت میں سست روی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ لیکن اس ماحول میں بھی بھائی لوگوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے ہاتھوں کی خارش کا سامان کرلیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ملک دیوالیہ ہوگا یا ٹوٹے گا، تو نئے انتظام میں بھی تو انھوں نے ہی کام کرنا ہے، تب کی تب دیکھ لیں گے۔ لیکن عوام کا کیا بنے گا؟ اس کا خیال کسے؟ 700 ارب روپے کی سبسڈی میں 21 ارب روپے کھاد کے شعبے کو اور 570 ارب روپے بجلی کے شعبے کو دیے جارہے ہیں اور عوام کو یہ اَصناف پہلے سے زیادہ مہنگے داموں بیچنے کی تیاری ہے۔ معلوم نہیں یہ سبسڈی کس مرض کی دوا ہے۔ یوں ہی 46 کھرب روپے گرانٹس میں مختص کیے گئے ہیں، جس کا عموماً 20 فی صد ہی عوام تک پہنچتا ہے۔

متعلقہ مضامین

معاشی پھیلاؤ کا بجٹ

آمدہ سال حکومت 131 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق قریباً 79 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرض…

محمد کاشف شریف جولائی 08, 2021

وسط مدتی رپورٹ  (2)

4۔ سالانہ پیداوار: پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ مقامی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ مقامی سطح پر ہی استعمال ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل کو مستحکم ہونے ک…

محمد کاشف شریف مئی 16, 2021

خودمختار مرکزی بینک؟

غلامی کے بھی کئی ڈھنگ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی کو قید ہی کرلیا جائے تو وہ غلام قرار پائے گا۔ گزشتہ اڑھائی سو سال میں جہاں ہمارے آقاؤں نے اجارہ داری اور آدابِ حکمران…

محمد کاشف شریف جون 14, 2021

وسط مدتی رپورٹ

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معاشی ڈھانچے میں بہتری اور اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بیانیے میں کتنی حقیقت ہے؟ اس بات کا اندازہ …

محمد کاشف شریف اپریل 27, 2021