نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی(4) ( مسئلہ یو کرین کا پسِ منظر)

جولائی 21, 2022

 

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (4)

( مسئلہ یو کرین کا پسِ منظر)

آج جب یہ کالم لکھا جارہا ہے، 9؍ جون 2022ء کی شروعات ہوچکی ہیں اور جنگ کا 106 واں دن ہے۔ دنیا کا کہنا ہے کہ جنگ طویل ہوچکی ہے۔ پیوٹن کی جنگی حکمتِ عملی پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ جنگ روس کے منصوبے کے عین مطابق چل رہی ہے۔ کیوں کہ روس اس جنگ کی تیاری گزشتہ 30 سالوں سے کررہا ہے۔ افغانستان کے محاذ پر پسپائی اختیار کرنے کے بعد اپنی جگ ہنسائی کا انتقام لینے کے لیے پیوٹن نے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کردی تھی۔ ریاست کے مختلف شعبوں کو متعلقہ اُمور سونپے گئے۔ انھیں کے نتائج کے ساتھ آج نیٹو اتحاد کا مقابلہ کیا جارہا ہے۔ روس اس جنگ میں دو طرح کا اسلحہ استعمال کررہا ہے۔ اسلحے کی ایک شکل توپ تفنگ تو دوسری نوعیت ایندھن کی ہے۔ موجودہ حا لات میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس دونوں کا ہی متبادل نہیں ہے۔ جدید اسلحے میں روس آج بھی دنیائے جنگ کا بادشاہ سمجھا جاتاہے۔ اس کی اِقدامی اور دِفاعی جنگ کے ہتھیار ناقابلِ تسخیر ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ آئندہ دس سال تک یہ کیفیت برقرار رہے گی۔ روس نے اس جنگ میں نیٹو،یورپی یونین بہ شمول امریکا کی جنگی استعداد کو خوب آشکارا کردیا ہے۔

مغربی نظریۂ جنگ کے مطابق دُشمن پر اس وقت وار کرنا چاہیے جب وہ کمزور ہو، غفلت میں مبتلا ہو، یا انجانے میںکسی اَور مہم میں مصروف ہو، تاکہ وہ اچانک حملے کی صورت میں سنبھل نہ سکے۔ پیوٹن کا اِقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ ایک طرف جب کور ونا وائرس نے مغرب کی معاشی طاقت کا بھانڈا بیچ عالمی چوک پھوڑ دیا تھا۔ اس کے نظامِ صحت کے بارے میں دنیا میں جو تأثر پھیلایا گیا تھا کہ ایسا مضبوط اور بہترین ہے کہ موت کی دستک تک موڑ دیتا ہے۔ ایشیا تو اس کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہمارے صحافی تو اس سلسلے میں مزید سبقت لے جاتے ہیں اور نوجوان مغرب کی سیاحت کرکے ایسا مرعوب ہو تا ہے کہ ملک میں واپس لوٹ کر ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا نا شروع کردیتا ہے۔ آج یہ سب کچھ ریت کا گھروندا ثابت ہوا ہے۔ دوسری طرف کاروباری دُنیا کے مفلوج ہونے کے باعث ان کی معیشتیں بحران کا شکار ہوچکی ہیں۔ اگرچہ اس کا آغاز 2008ء کے مارگیج بحران سے ہوا تھا، لیکن ابھی تک یورپ کساد بازاری کے مہلک اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔ ان کے سماج کی چولیں ہلنا شروع ہوچکی ہیں۔ ہر ملک علاقائی اتحاد بچانے کے بجائے اپنے عوام کی بنیادی ضرورتیں پورا کرنے میں اُلجھ چکا ہے۔ دُنیا کا دستور ہے؛ پہلے زندگی‘ پھر اَخلاق و اتحاد۔ امریکا نے 1945ء میں جاپان پر ایٹمی حملہ کرکے پوری دُنیا میں اپنی دہشت گردی کی بنیاد رکھی تھی۔ جب کہ آج روس نے یورپ پر ایٹمی حملہ کیے بغیر اپنے جنگی تحقیقاتی اداروں کی تخلیقات کی ایک ہلکی سی جھلک کا مظاہرہ کرکے امریکا اور رُوس کے نیٹو اتحادیوں کو پریشان کردیا ہے۔ نیٹو اتحاد نے امریکی سربراہی میں اقوامِ عالم پر ظلم اور ناانصافی کے جو پہاڑ توڑے تھے، آج ان کی تلافی کا وقت آگیا ہے۔ ہر کسی کو اپنے حصے کے ظلم کے لیے جواب دینا ہوگا۔ یہی مکافاتِ عمل ہے۔

جہاں تک دوسرے ہتھیار کا تعلق ہے، وہ ایندھن ہے۔ روس نے مغربی یورپ پر کوئی ایٹم بم نہیں گرایا۔ بس ہلکی سی گیس اور تیل کی فراہمی بند کی ہے۔ یورپی حکومتیں جو فلاحی ریاستیں ہونے کی نام نہاد دعوے دار تھیں، ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ روس نے گزشتہ کئی برسوں میں یورپ کو اپنی گیس اور تیل کا عادی بنایا ہو اہے۔ روس کی آمدنی کا 70 فی صد انھی دونوں ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ آج دنیا کی آبادی کا 60 فی صد صرف ایشیا میں آباد ہے۔ ایشیا کے صرف دو ممالک چین اور بھارت لگ بھگ 3 ارب کی آبادی پر مشتمل ہیں۔ گویا روس نے امریکا کے ساتھ جنگ میں اُترنے سے قبل اپنے وسائل کو محفوظ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کرلی تھی۔ اپنی آمدنی کو برقرار رکھنے کے لیے روس نے کچے تیل اور گیس کے معاہدے چین اور بھارت کے ساتھ کرکے یورپین ممالک کی سپلائی میں ہونے والی کمی پورا کرنے کا بندوبست کررکھا ہے۔ روس 2014ء میں بھی امریکا کے اس قسم کے حملے کا سامنا کرچکا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 147 ڈالر فی بیرل سے گرا کر صرف 47 ڈالر پر لے آیا تھا۔ آج یہی ہتھیار رُوس ان کے خلاف استعمال کرنے جارہا ہے۔ امریکی اتحاد کے پاس دونوں ذرائع کا کوئی نعم البدل فوری طور پر دست یاب نہیں ہے۔ اس ہتھیار کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ روس نے یکم؍ مئی 2022ء سے دو ملکوں بلغاریہ اور پولینڈ کی تیل اور گیس کی فراہمی یعنی سپلائی بند کردی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکا نے روس پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں ممالک جب تک گیس اور تیل کی قیمت ’روبل‘ میں ادا نہیںکرتے اور مزید یوکرین سے جنگ میں کسی بھی قسم کا تعاون ختم نہیں کرتے، اس وقت تک انھیں گیس اور تیل کی سپلائی معطل رہے گی۔ یورپ کی چار تیل کمپنیوں نے قیمت کی ادائیگی ’روبل‘ میں کرنا شروع کردی ہے۔ مزید دس کمپنیوں نے روس کے بینکوں میں اکاونٹ کھولنے کے لیے معاہدے کرلیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

تاریخ میں بنواُمیہ کا دورِ حکومت سیاسی اور دینی وحدت کے اعتبار سے سنہری اور فتوحات کا دور تھا۔ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نُصَیرافریقا کے گورنر تھے۔ طارق…

مفتی محمد اشرف عاطف جنوری 09, 2021

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا ک…

مفتی محمد اشرف عاطف فروری 17, 2021

امریکی صدر کا پُر ملا ل ا نتقالِ اقتدار

چینی نیوز ایجنسی کی 7؍ جنوری2021ء کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’کیپٹل ہل‘ میں ہونے والے تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’’…

مرزا محمد رمضان فروری 17, 2021

عالمی اجارہ دار کمپنیوں کے خلاف بھارتی کسانوں کا احتجاج

انڈین پارلیمان نے ستمبر 2020ء کے تیسرے ہفتے میں زراعت کے متعلق یکے بعد دیگرے تین بل متعارف کروائے، جنھیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔ انھیں ’’بازار کو سہولت …

مرزا محمد رمضان جنوری 09, 2021