درسِ حدیث - مقروض ہونے سے بچیں

درسِ حدیث                    

مقروض ہونے سے بچیں!

عَنْ أَبِيْ ہُرِیْرَۃؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: ’’نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ بِدَیْنِہٖ، حَتّٰی یُقْضٰی عَنْہُ‘‘۔ (الجامع للتّرمذی، حدیث: 1078)

(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مؤمن کی روح اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے، حتیٰ کہ اس کی طرف سے (قرض) ادا کردیا جائے‘‘۔) 

اس حدیث کی روشنی میں اِنفرادی اور اجتماعی اقتصادی نظام کے حوالے سے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ ایک بار نبی اکرمﷺ کے پاس ایک جنازہ آیا۔ آپؐ نے پوچھا کہ: ’’میت پر کوئی قرض ہے؟‘‘ آپﷺ کو بتایا گیا کہ یہ مقروض ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ: ’’اس کا جنازہ تم پڑھو، میں جنازہ نہیں پڑھائوں گا‘‘۔ تو صحابہؓ کو اس پر بہت صدمہ ہوا کہ نبی ﷺ کے ہوتے ہوئے ہمارا یہ ساتھی آپؐ کے جنازہ پڑھانے سے محروم رہ جائے۔ تو حضرت ابوقتادہؓ نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولؐ! ان کی طرف سے میں قرض ادا کرتا ہوں۔ تو آپؐ نے ان کا جنازہ پڑھا دیا۔ (صحیح بخاری) گویا آپؐ نے اپنے عمل سے مقروض ہوکر مرنے کو ناپسند کیا کہ اس سے آپ کے ورثا اور جنھوں نے آپ کا تعاون کیا ہوا ہو، وہ تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

قومی اور اجتماعی نقطۂ نگاہ سے بھی ہماری صورتِ حال دگرگوں ہے۔ شروع دن سے قومی معاشی نظام قرضوں کے سہارے چل رہا ہے۔ حکمران اس امر پر مقابلہ کرتے ہیں کہ کون باہر سے زیادہ قرض سمیٹ کر لاتا ہے۔ اگر کوئی دریوزہ گری میں ناکام ہوجاتا ہے تو اس کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ جب کوئی سخت شرائط کے ساتھ عالمی گماشتہ اداروں سے قرض منظور کرا لیتا ہے تو وہ اس کو اپنا بڑا کارنامہ شمار کرتا ہے۔ حال آں کہ قرض کے نام پر کسی ملک کے معاشی نظام کو جکڑنے اور قوموں کو غلام بنانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف، ورلڈبینک وغیرہ) کا یہ ایک حیلہ ہے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے کوئی چالاک مالک اپنے ملازمین کو خاص موقعوں پر چار چھ لاکھ روپے قرض دے دیتے ہیں، پھر اس قرض کے بدلے ان کی نسلیں بھی غلام بنا لی جاتی ہیں، جب کہ مالکان اس عمل سے سخی ہونے کی داد بھی سمیٹتے  ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرض دینے کی حکمتِ عملی اس سے مختلف نہیں ہے۔ اقوام کی معیشت، سیاست اور ان کی تمام پالیسیز کو قرض کے بدلے گِروی رکھ لیا جاتا ہے۔ اس قابلِ نفرت صورت کو حکمران اقتصادی نظام کی ضرورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قوم کو اس طرف آنے ہی نہیں دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا سوچ سکے۔ زیرِغور حدیث میں نبی اکرمؐ ایک مقروض شخص کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ: ’’اس کی روح معلق ہوجاتی ہے‘‘۔ یہاں تو ساری قوم مقروض ہے اور اس قرض کے بدلے ان کی آزادی، عزت اور قومی وقار ختم ہوچکا ہے۔ اس صورتِ حال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

   مولانا ڈاکٹر محمد ناصر، جھنگ

متعلقہ مضامین

خوشامد سے بچو

عَنْ مُعَاوِیَۃَ رضی اللّٰہ عنہٗ قَالَ سَمعتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ: یَقُوْلُ: ’’إِیَّاکُمْ وَ التَّمَادُحَ، فَإِنَّہُ الذَّبْحُ‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 3743) (حضرت امیرمعاویہؓ سے روایت ہے۔فر…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصر فروری 17, 2021

معاہدۂ  حِلفُ الفُضول کی اہمیت

عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بنِ عَوْفٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: ’’شَھِدْتُ غُلَاماً مَعَ عُمُومَتِی حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ فَمَا اُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَالنَّعَمِ وَ انّی أَنْکُثُہُ‘‘۔ (حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے م…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصر مارچ 14, 2021

تقریب ِتکمیل صحیح بخاری شریف

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں ہرسال دورۂ حدیث شریف کی کلاس ہوتی ہے۔ اس کلاس میں صحیح بخاری شریف کا درس ہوتا ہے۔ امسال حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزا…

ایڈمن مارچ 14, 2021

صاحب ِحکمت و شعور کی پہچان

عَنْ أَبِي خَلَّادٍ،ؓ وکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ: ’’إذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ أُعْطِيَ زُھْدًا فِي الدُّنْیَا، وَقِلَّۃَ مَنْطِقٍ، فَاقْتَرِبُوا مِنْہُ، فَإِنَّہُ یُلْقي الْحِکْمَۃَ‘‘۔ (سُنن ابن …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصر جنوری 09, 2021