یہودی علما کی دوسری خرابی؛ عوام سے علم چھپانا

درسِ قرآن                                                                   تفسیر: شیخ التفسیر مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

 

یہودی علما کی دوسری خرابی؛ عوام سے علم چھپانا

ﵟوَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ قَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ، أَوَلَا يَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَﵞ 

    (-2 البقرہ: 76-77)

(اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے، کہتے ہیں: ’ہم مسلمان ہوئے‘، اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں: ’تم کیوں کہہ دیتے ہو اُن سے جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر، تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمھارے ربّ کے آگے، کیا تم نہیں سمجھتے؟‘ کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔)

گزشتہ آیات میں واضح کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کے اعلیٰ علم کے انکار کے سبب یہودیوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوچکے تھے۔ اس کے نتیجے میں اُن کے اہلِ علم میں کئی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ گزشتہ آیت میں اُن کی پہلی خرابی اللہ کی کتاب میں تحریف کرنے کی صورت میں بیان کی گئی۔ اس آیت میں اُن کی دوسری خرابی‘ انسانیت کے نفع کا علم چھپانے سے متعلق ہے۔

ﵟوَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖﵞ   مدینہ منورہ میں یہودیوں کی بستیاں تھیں۔ وہاں سے یہ لوگ صبح کو مدینہ شہر میں آتے تھے۔ حضور ﷺ کی مجلس میں منافقت سے شریک ہوتے اور بہ ظاہر ایمان کا دعویٰ بھی کرتے تھے۔ اس موقع پر خوشامد کے طور پر اپنی کتابوں میں موجود رسول اللہؐ کی آمد کی نشانیاں اور علامات بیان کردیا کرتے تھے۔ شام کو جب اپنی بستیوں میں واپس جاتے تو اُن کے علما انھیں اس بات سے باز رکھنے اور علم چھپانے کا حکم دیتے تھے، تاکہ مسلمان اُن کے خلاف دلیل اور حجت قائم نہ کریں۔ اسی پسِ منظر میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

ﵟقَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ ﵞ یہودی علما حضور ﷺ کی مجلس میں شریک ہونے والے یہودیوں سے کہتے کہ کیا تم مسلمانوں کے سامنے وہ علم کھول کر بیان کردیتے ہو، جو خاص علم اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولا تھا؟ اس سوال کے ضمن میں وہ انھیں روکتے تھے کہ اپنا مخصوص علم کسی کو نہیں دینا چاہیے۔ اس طرح اپنی علمی اجارہ داری قائم کرنے کی روِش اختیار کرنے کا انھیں حکم دیا جاتا تھا۔ نیز اس لیے بھی روکتے تھے، تاکہ مسلمان تم پر حجت قائم نہ کرسکیں۔

ﵟلِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَﵞ : چوں کہ خود یہودی تورات کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے تھے، اُس میں لکھا ہوا تھا کہ آخری نبی ﷺ کی یہ علامات ہیں اور جب وہ دنیا میں تشریف لائیں تو تم اُن پر ایمان لانا اور اُن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا۔ اس لیے یہودی علما کا خیال تھا کہ ہمارے رسول اللہؐ پر ایمان نہ لانے کے خلاف  بہ طورِ حجت کے ہماری ہی کتاب پیش کی جائے گی اور مسلمان ربّ تبارک و تعالیٰ کے سامنے یہ دلیل پکڑیں گے کہ یہودی اپنی کتاب میں حکم کے باوجود ایمان نہیں لائے۔ یہودی علما اتنے مسخ ہوچکے تھے کہ علمِ الٰہی کو چھپانے کو عقل مندی سے تعبیر کرتے اور اپنے عام لوگوں کو عقل کے نام پر بے عقلی کی دعوت دیتے تھے۔

ﵟأَوَلَا يَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَﵞ : اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی اس بد رَوِش اور خرابی کو بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا کہ اگر یہ لوگ علمِ الٰہی کو چھپائیں گے تو کیا انھیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہر خفیہ اور اعلانیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ تورات میں بیان کردہ ان علوم اور حقائق کو اپنے نبی ﷺ کے سامنے بیان کردے گا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’یعنی اللہ کو تو ان کے سب امور _ ظاہر ہوں یا مخفی _بالکل معلوم ہیں۔ ان کی کتاب کی سب حجتوں کی خبر مسلمانوں کو دے سکتا ہے۔ اور جا بہ جا مطلع فرما بھی دیا۔ آیتِ رجم کو انھوں نے چھپایا، مگر اللہ نے (اُسے) ظاہر فرما کر ان کو فضیحت (رُسوا) کیا۔ یہ تو ان کے علما کا حال ہوا، جو عقل مندی اور کتاب دانی کے مدعی تھے‘‘۔

حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’یہودی علما کتاب اللہ کی آیات کو چھپاتے تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض شرعی احکام اور آیات کو یہودی علما اس لیے چھپاتے تھے کہ اُس سے اُن کے جاہ و مرتبت اور اُن کی ریاست اور حکومت میں کمی آئے گی اور لوگوں کی ان سے عقیدت کمزور پڑ جائے گی۔ لوگ انھیں کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مجبور کرنے لگیں گے، جس سے ان کی ذلت اور رُسوائی ہوگی۔  چناں چہ وہ ہر عام و خاص کے لیے دین کی تعلیمات کو ظاہر کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے‘‘۔

شاہ صاحبؒ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے یہی آیت تحریر فرماتے ہیں اور پھر یہودی علما کی اس حرکت کو واضح کرنے کے لیے فرماتے ہیں کہ: ’’خلاصہ یہ کہ اگر یہودی علما کا تم نمونہ دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے زمانے کے علمائے سُو کو دیکھ لو، جو دُنیا کے طلب گار ہیں اور انھوں نے اندھی تقلید کا راستہ اختیار کیا ہے اور کتاب و سنت کے احکامات اور نصوص کی تشریح میں انتہا پسندی اور تشدد سے حیلہ سازی کو فروغ دیا ہے۔ ’’تماشا کُن کأنّھُم ہُم‘‘ (تم یہ تماشا دیکھو! گویا کہ یہ وہی یہودی علما ہی ہیں)‘‘۔ (الفوز الکبیر)

علم کا بنیادی مقصدانسانیت کے فائدے اور نفع کے لیے بہتر نظام بنانا ہوتا ہے۔ خاص طور پر علمِ الٰہی‘ جو انبیا علیہم السلام پر اس لیے نازل ہوتا ہے، تاکہ انسانیت عدل و انصاف پر قائم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لیقوم الناس بالقسط‘‘ (-57 الحدید:25) ایسے علم کو چھپانا انسانیت کی ترقی کے راستے میں رُکاوٹ کھڑا کرنا ہے۔ اس لیے احادیثِ نبویہؐ میں کتمانِ علم پر بڑی سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ علم چھپانا بہت بڑا جرم ہے۔ یہ انسانیت کی ترقی میں مجرمانہ کردار کا حامل ہے۔ اس لیے قرآن حکیم نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان آیات میں علم اور عقل کے نام پر وجود میں آنے والی جاہلیت کا پردہ چاک کیا ہے۔ علم کے فروغ اور پھیلاؤ کے ذریعے عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین

سزا و جزا کے نظام سے کوئی نہیں بچ سکتا

وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزي نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيئًا وَلا يُقبَلُ مِنها شَفاعَةٌ وَلا يُؤخَذُ مِنها عَدلٌ وَلا هُم يُنصَرونَ (48:2) (اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی، اور قبول نہ ہو…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جنوری 09, 2021

بنی اسرائیل کی اجتماعی تربیت کے اُمور

وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ وَأَنزَلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ ۖ كُلوا مِن طَيِّباتِ ما رَزَقناكُم ۖ وَما ظَلَمونا وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ (اور سایہ کیا ہم نے تم پر اَبر کا اور اُتارا تم پر مَن…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جون 19, 2021

انعاماتِ الٰہیہ اور غلطیوں کی معافی ؛ تربیت کا درست طریقہ

وَإِذ فَرَقنا بِكُمُ البَحرَ فَأَنجَيناكُم وَأَغرَقنا آلَ فِرعَونَ وَأَنتُم تَنظُرونَ. وَإِذ واعَدنا موسىٰ أَربَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مارچ 14, 2021

عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021