August,2020

ماہنامہ رحیمیہ

August,2020

اگست 01, 2020 15 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 15

کسی مالی مفاد کے بغیر قرآن حکیم پر ایمان لاؤ

کسی مالی مفاد کے بغیر قرآن حکیم پر ایمان لاؤ

وَآمِنوا بِما أَنزَلتُ مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم وَلا تَكونوا أَوَّلَ كافِرٍ بِهِ ۖ وَلا تَشتَروا بِآياتي ثَمَنًا قَليلًا وَإِيّايَ فَاتَّقونِ (41:2) 
(اور مان لو اس کتاب کو جومیں نے اُتاری ہے۔ سچ بتانے والی ہے اس کتاب کو جو تمھارے پاس ہے۔ اور مت ہو سب میں اوّل منکر اس کے۔ اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا۔ اور مجھ ہی سے بچتے رہو۔) 
گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کی اصولی خرابیوں اور گمراہیوں کا سبب نعمتوں کی ناشکری اور معاہدات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ اس آیت میں واضح کیا جا رہا ہے کہ تمام تر نعمتوں کا تقاضا ہے کہ قرآن حکیم پر صدقِ دل سے ایمان لائیں۔ اللہ سے کیے ہوئے معاہدات کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے اوّلین منکر نہ بنیں اور اللہ کی آیات کو چند دنیاوی مفادات کے بدلے میں فروخت نہ کریں۔ 
وَآمِنوا بِما أَنزَلتُ مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم: اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے سب سے پہلے (1) اپنی نعمتوں کو یاد کرنے اور پھر (2) معاہدات کی پاسداری کرنے کے بعد (3) تیسرا حکم یہ دیا کہ جو کتابِ مقدس؛ قرآن حکیم کی صورت میں نازل کی گئی ہے، اس پر صدقِ دل سے ایمان لاؤ۔ اس لیے کہ یہ کتاب تمھارے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرتی ہے۔ اس طرح یہ اُصولی حقیقت واضح کی ہے کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ کتابیں بنیادی عقائد اور اُصولوں میں وحدتِ فکر و عمل رکھتی ہیں۔ تمام انبیا علیہم السلام اپنی اُصولی تعلیمات کے سبب گویا کہ ایک نبی کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ چناںچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ خوش خبری دی تھی کہ ’’میں ایک رسول کی خوش خبری دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا اور اُس کا نام احمد ہوگا‘‘۔ (القرآن 6:61) اس طرح قرآن حکیم پر ایمان لانا دراصل تمام کتابوں پر ایمان لانا ہے اور اس کا انکار کرنا تمام کتابوں کے انکار اور کفر کے مترادف ہے۔ 
حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ اس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: ’’جاننا چاہیے کہ احکامِ قرآنی دربارہ اعتقادات، اور اَخبارِ انبیاؑ،و احوالِ آخرت، و اَوامر و نواہی (احکامات و ممنوعات میں) تورات وغیرہ کتبِ سابقہ کے موافق ہیں۔ ہاں ! بعض اوامر و نواہی میں نسخ (تغیر و تبدل) بھی کیا گیا ہے، مگر وہ تصدیق کے مخالف نہیں ہیں۔ تصدیق کے مخالف تکذیب (جھٹلانا) ہے اور ’’تکذیب‘‘ کسی کتابِ الٰہی کی ہو، بالکل کفر ہے۔‘‘ 
وَلا تَكونوا أَوَّلَ كافِرٍ بِهِ ۖ : یہ مدینہ منورہ میں موجود یہودیوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم قرآن حکیم کا انکار کر کے اس کتابِ مقدس کے پہلے کافر مت بنو۔ حضرت شیخ الہندؒ تحریر فرماتے ہیں: ’’قرآن کی دیدہ دانستہ تکذیب کرنے والوں میں اوّل مت ہو کہ قیامت تک کے منکرین کا وبال تمھاری گردن پر ہو۔ مشرکینِ مکہ نے جو (قرآن حکیم کا) انکار کیا ہے، وہ جہل اور بے خبری کے سبب کیا ہے، دیدہ دانستہ ہرگز نہ تھا (اس لیے کہ ان پر اس سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ کتب ِالٰہی کے علم کے باوجود ) اس میں تواوّل تم ہی ہوگے اور یہ کفر پہلے کفر سے سخت تر ہے۔‘‘ 
بنی اسرائیل پر تسلسل سے کتابیں نازل ہوتی رہیں۔ اس لیے ان کی جانب سے قرآن حکیم کے انکار سے یہ ہوگا کہ بنی اسماعیل اور دیگر اقوام __ جن پر پہلے کبھی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی __ تمھیں دیکھ کر اس کتاب کا انکار کریں گے۔ اس طرح تم اوّلین کافر بن کر اُن کے کفر کا باعث بنوگے، جو عذابِ شدید کا سبب بنے گا۔ 
وَلا تَشتَروا بِآياتي ثَمَنًا قَليلًا: اس آیت میں دوسری جس بات سے منع کیا جا رہا ہے، وہ اللہ کی آیات کے بدلے میں دنیاوی مال و مفادات اُٹھانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اہل علم اپنے علمی تقاضوں سے انحراف کرتے ہیں اور دنیاوی زندگی کی لذتوں اور مالی مفادات کے حصول کے چکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ کے احکامات کو عملی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح گویا کہ وہ اللہ کی آیات کو ’’ثمنِ قلیل‘‘ یعنی معمولی قیمت کے عوض فروخت کردیتے ہیں۔ دنیا کی ساری دولت آیاتِ الٰہی کے عوض میں جمع کرلی جائے، تب بھی وہ ’’ثمنِ قلیل‘‘ ہی شمار ہوگی۔ اس لیے کہ وہ احکاماتِ الٰہی، جن پر دنیا اور آخرت کے انعامات حاصل ہوتے ہیں، کے بدلے میں ساری دنیا کی دولت بھی ہیچ ہے، کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ ان احکاماتِ الٰہیہ کا بہت معمولی معاوضہ اور قیمت ہے۔ 
اس آیتِ مبارکہ میں بنی اسرائیل کے علما کی اَخلاقی حالت کی خرابی اور نقص واضح کیا گیا ہے۔ علمائے یہود کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنی طرف سے احکامات بیان کرکے اللہ کی طرف منسوب کردیتے تھے اور اس کے بدلے میں مال و دولت حاصل کرتے تھے۔ چناںچہ ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’سو افسوس ہے اُن لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اُس سے کچھ روپیہ کمائیں۔‘‘ (72:2) اسی طرح حضور اقدس ﷺ نے مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ’’جو آدمی ایسا علم __ جس سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے __ دنیا کے ساز و سامان اور مفادات کے لیے حاصل کرتا ہے، وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک بھی نہیں سونگھے گا۔‘‘ (سنن ابوداؤد) اسی لیے نبی اکرمؐ نے مسلمان اہل علم کو علمائے یہود کی اتباع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ 
وَإِيّايَ فَاتَّقونِ: بنی اسرائیل کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد اُنھیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ قرآن حکیم کا انکار اور آیاتِ الٰہی کی فروخت کے بجائے اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ تقویٰ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ کتابِ مقدس قرآن حکیم پر صدقِ دل سے ایمان لائیں اور جو احکامات نبی اکرمؐ بیان فرما رہے ہیں، اُن کی پوری اتباع کریں۔ اُس متقی جماعت کا حصہ بنیں، جو دین کو غالب کرنے اور خلافت ِالٰہیہ کا نظام قائم کرنے کے لیے نبی اکرمؐ تیار کر رہے ہیں۔ احکاماتِ الٰہیہ کا عملی نظام قائم کرنے سے ہی خلافت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوا جاسکتا ہے۔ چند مالی مفادات اور مال و دولت کی محبت اور اس کے حصول کے لیے کفر و نفاق اختیار کرنا درست نہیں۔ 

2 / 15

ظالم کا انجام

ظالم کا انجام

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِأَخِیْہِ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْھَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ ثَمَّ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُؤْخَذَ لِأَخِیْہِ مِنْ حَسَنَاتِہٖ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَخِیْہِ، فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ۔‘‘ (الصّحیح البُخاری: 6534) 
(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: 
’’جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کرالے۔ کیوںکہ وہاں (روز ِمحشر) درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ قبل اس کے کہ اس کے بھائی کا بدلہ چکانے کے لیے اس کی نیکیوں سے کچھ لیا جائے۔ اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔‘‘) 
اس حدیث میں نبی اکرمﷺ باہمی معاملات میں ایک دوسرے پر ظلم و ستم اور ناانصافی کرنے کے بھیانک نتائج سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ اگر آپ سے کوئی ظلم ہوجائے تو اپنی موت سے پہلے پہلے اس کا ازالہ کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ روز ِقیامت ان معاملات کی صفائی اور اس کے بوجھ سے انسان کو نجات دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو اس مظلوم کے حق میں لکھ دیں گے۔ اگر پھر بھی ناانصافی باقی ہوگی تو اس مظلوم کی برائیاں ظالم کے نام لکھ دی جائیں گی۔ امکان ہے کہ یہ بوجھ اتنا زیادہ ہوکہ انسان جہنم میں ڈال دیا جائے۔ ایک دوسری حدیث میں ایسے شخص کو اُمت کا مفلس کہاگیا کہ وہ تمام عبادات پر کاربند ہونے کے ساتھ انسانوں کو اذیت دینے اور حق تلفی میں دانستہ ملوث رہا ہو۔ اس کا انجام بھی حضورؐ نے یہی بتایا ہے۔ (رواہ مسلم) 
باہمی معاملات کے دو دائرے ہیں: ایک اِنفرادی اور دوسرا اجتماعی۔ اِنفرادی امور میں بعض اوقات ایک انسان سے دوسرے کی حق تلفی ہوجاتی ہے۔ اس کا ازالہ ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات انسان کی اَنا‘ معافی تلافی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یہ زیادہ خطرناک بات ہے۔ یہ رویہ معاملے کی خرابی کو برقرار رکھنے کے ساتھ کبر و غرور کا تأثر بھی دیتا ہے۔ نبی اکرمؐ کا معمول مبارک اِنفرادی اور ذاتی معاملات میں عفو و درگزر کا رہا ہے۔ 
اجتماعی حوالے سے اس حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ جب آپ کے زیرِکفالت چند لوگ ہوں، یا آپ کے پاس کوئی عہدہ، منصب ہو۔ بالخصوص حکمرانوں کا معاملہ اس بابت بہت حساس ہے کہ ایک فرد کے بجائے بہت سے لوگوں کے حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس میں ظلم و ناانصافی کا شکار ہیں تو یہ روِش انسان کو بہت دور لے جاتی ہے کہ ایک دو کے نہیں، بہت سے لوگوں کے حقوق آپ پر ہیں۔ یہ حدیث اِنفرادی اور اجتماعی دونوں دائروں میں حقوق کی ادائیگی کو لازم قرار دے رہی ہے۔ بہ صورتِ دیگر انسان کا مقدر دوزخ بن جاتا ہے۔ 
 

3 / 15

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ

ترجمان القرآن، حِبرُ الاُمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہٗ شعبِ ابی طالب کے زمانۂ قید میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ فتح مکہ پر ہجرت کرکے مدینہ آئے تو گیارہ سال عمر تھی۔ اکثر اوقات خدمتِ نبویؐ میں حاضر رہتے۔ آپؓ اپنی خالہ اُم المؤمنین حضرت میمونہؓ کے ہاں اکثر رہتے۔ وہاں آپؓ کو حضوؐر کی خدمت کا موقع ملتا اورمعمولاتِ نبوت سے آگہی نصیب ہوتی۔ علومِ نبویؐ کی تلاش و جستجو کی محنت و مشقت نے آپؓ کو اقوال و اعمالِ نبویؐ کا سب سے بڑا حافظ بنادیا۔ آپؓ کی مرویات کی مجموعی تعداد 2660 ہے۔ ان میں 75 احادیث بخاری و مسلم دونوں میں متفق علیہ ہیں۔ ان کے علاوہ 18 روایات میں امام بخاریؒ منفرد ہیں اور 49 روایات میں امام مسلمؒ منفرد ہیں۔ 
آپؓ علومِ قرآنیہ کے ماہر تھے اور تعلیمِ قرآن دینے میں بخل نہ کرتے تھے۔ تفسیرِ قرآن اور فہمِ قرآن حکیم کے فطری مَلکہ کے ساتھ ساتھ شانِ نزول اور ناسخ و منسوخ کے بارے میں اس قدر وافر معلومات رکھتے تھے کہ کوئی آیت ایسی نہیں کہ جس کی تمام جزئیات سے پوری واقفیت نہ رکھتے ہوں۔ آپؓ تفسیرِ قرآن میں ہمیشہ عام، جامع اور قرینِ عقل پہلو کو اختیار کرتے تھے۔ آپؓ ’’کوثر‘‘ کا معنی ’’خیرِ کثیر‘‘ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس تفسیر سے قرآن حکیم کی وسعت اور عظمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ 
آپؓ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا۔ آپؓ نے خلافتِ راشدہ کے دور میں ہر قسم کی قومی، ملّی اور دینی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ آپؓ حضرت عثمانؓ کے آخری سال ان کے نائب کی حیثیت سے امیرِ حج بن کر مکہ مکرمہ گئے۔ اس کے علاوہ بھی کئی بار امیرِ حج مقرر ہوئے۔ حضرت شقیق تابعیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ حج کے موسم میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے خطبہ دیا اور سورت نور کی تفسیر بیان کی۔ کیا خوب علومِ قرآنی کا بیان تھا کہ میں کیا بتاؤں! اس سے پہلے نہ میرے کانوں نے سنا اور نہ آنکھوں نے دیکھا۔ اگر اس تفسیر کو فارس وروم والے سن لیتے تو پھر اسلام قبول کرنے سے کوئی چیز ان کو نہ روک سکتی تھی۔‘‘ 
ایک مرتبہ ایک شخص نے تنگ کرنے کے لیے قبیلہ قریش کے تمام سرداروں کو کہا کہ کل صبح ابن عباسؓ کے گھر آپ سب کی دعوت ہے ۔ اگلے روز صبح کھانے کے وقت سب لوگ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے گھر پہنچ گئے۔ مجمع اتنا زیادہ تھا کہ سارا گھر بھر گیا۔ تحقیق کرنے پر جب معلوم ہوا تو آپؓ نے سب کو بٹھایا۔ بازار سے پھلوں کے ٹوکرے منگوائے۔ سب کے سامنے رکھ دیے اور مختلف امور پر بات چیت شروع کردی۔ اُدھر دوسری طرف بہت سے باورچیوں کو کھانا پکانے پر لگادیا۔ لوگ پھلوں سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ کھانا تیار کرکے دسترخوان لگا دیا گیا۔ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ پھر آپؓ نے اپنے خزانچیوں سے پوچھا کہ اتنی گنجائش ہے کہ اگر ہم روزانہ یہ دعوت جاری  رکھیں؟ مثبت جواب ملنے پر آپؓ نے یہ اعلان کردیا کہ: ’’اس مجمع کی روزانہ ہمارے ہاں دعوت ہے۔ روزانہ آجایا کریں۔‘‘ 

4 / 15

اسلام کے حقیقی خدوخال اور ہمارے سلگتے مسائل

اسلام کے حقیقی خدوخال اور ہمارے سلگتے مسائل

ایک چیلنج جو پاکستانی سوسائٹی کو ہمیشہ سے درپیش رہا ہے، وہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک میں اسلام کے حقیقی چہرے، مہرے اور حُلیے کی پہچان ہے۔ اس نئے ملک کی خالق سیاسی قوتوں نے اگست 1947ء میں قوم کو اسلام کے نام پر اس راستے پر ڈالا کہ ہمیں اسلام کے لیے ایک الگ وطن چاہیے، لیکن وہ اس عالَم گیر مذہب کی وسعتوں اور جامعیت کے مطابق قوم کے ذہن کو تیار نہ کرسکے، بلکہ اس کے برعکس افکار و خیالات پر قوم کی ذہن سازی کرتے رہے، جس کے نتائج آج ملکِ عزیز میں ہر چار سُو پھیل چکے ہیں۔ اگر آج بھی ہم اس حوالے سے سنجیدہ ہو جائیں تواس کا صرف ایک ہی آسان حل ہے کہ ہم اسلام کو نعروں، وقتی جذبات اور اپنی خواہشات کے بجائے اس کی ابدی سچائیوں اور لازوال حقائق کی بنیاد پرسمجھنے کی شعوری کوشش کریں۔ 
ہمارے ہاں چیزوں کو ان کے اصل روٹس کے بجائے جذباتی پیمانوں سے ناپا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہمارا ملک ’’پاکستان‘‘ سے زیادہ ’’مسائلستان‘‘ کا نقشہ پیش کررہا ہے۔ کوئی ایک بھی ایسا مسئلہ نہیں، جسے ہم نے عقل و دانش کی بنیاد پر بغیر کسی تنازعے اور اُلجھاؤ کے حل کرلیا ہو۔ ہم مسائل کو حل کرتے کرتے نئے مسائل کا شکارہوتے رہے ہیں۔ ملک بناتے وقت ہم نے ہندو مسلم نفرت کا پارا اتنا اوپر چڑھایا، جسے واپس لانا ممکن نہ رہا۔ جس نے بعد ازاں ہمارے خطے کے لیے باقاعدہ ایک خطرے کی شکل اختیار کرلی اور ہم اپنی پس ماندگی دور کرنے کے بجائے فوجی ساز و سامان جمع کرنے میں لگے رہے اور ہمارا پورا معاشرتی ڈھانچہ جنگی نفسیات کا شکار ہوکر رہ گیا۔ اب ہم ایک ایٹمی قوت تو ہیں، لیکن اپنی بجلی کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے۔ ایسے ہی مختلف سمتوں میں بٹے پاکستان میں تہذیبی ہم آہنگی پیدا کرتے کرتے ہم دونوں حصوں کوالگ الگ کربیٹھے اور اس پر ہماری نام نہاد سیاسی لیڈرشپ کی ڈھٹائی قابلِ دید تھی، جو کہہ رہے تھے کہ ہم نے ملک کوتباہ ہونے سے بچالیا ہے۔
الغرض! کشمیر ایشو ہو یا عبادت گاہوں کی آبادکاری یا ان پر کسی کا حق تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ ہو،ہم نے سب ہی عارضی ایشوز کو مستقل ایشوز میں بدل دیا۔ حتیٰ کہ فلسفۂ ختم نبوت جیسے حکمت آموز، انسانیت گیر اور تاریخ ساز مسئلے کو بھی ہم نے جذبات کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ملک کے اندر مذہب کے نام پر قانون سازی میں بھی ہم جذباتی اور فرقہ وارانہ فضا سے اوپر اٹھ کر سوچنے کے اہل نہیں رہے۔ اسلام کے ہر عظیم نظریے کے ابلاغ اور اظہار میں جذباتیت اور علمی بے شعوری ہماری راہ کی سد ِسکندری بن کررہ گئی ہے اور ہم ہر مسئلے کو مذہبی رنگ دے کر فرقہ وارانہ نوعیتوں میں تبدیل کردیتے ہیں۔
اسلام کی عظمت و رفعت کے ہزار امتیازات میں سے سب سے نمایاں پہلو اس کی امن پسندی، رواداری، فتنہ و فساد کا خاتمہ، انسانیت نوازی اور عقل و خرد کو استعمال میں لانا ہے، جس سے بدقسمتی سے ہم دن بہ دن محروم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اسلامی فکر و نظریے کا دوسرا اہم امتیاز معاشرے سے طبقاتی تقسیم کا خاتمہ، معاشی خوش حالی کا نظریہ اور بلاامتیاز مذہب، رنگ و نسل‘ عدل و انصاف کا قیام ہے۔ اسے ہماری سوسائٹی کا المیہ کہیے یا حادثہ، یا پھر سازش کہہ لیجیے کہ ہمارے قومی و مذہبی پیشواؤں کے ہاں یہ دونوں چیزیں ڈھونڈے سے نہیں ملتیں۔ ان کی زبانوں کے ترکش اپنے مخالفوں کے لیے آتش کے پرکالے چھوڑتے ہیں۔ نفرت، فرقہ واریت، ہمہ قسم گروہیت ان کے ’’نصب العین‘‘ کا جزلاینفک ہے۔ ان نفرتوں کے الاؤ جلانے کے لیے جذبات کا بے جا استعمال بڑا وافر ہے۔ ملکِ عزیز کی مختصر سی قومی تاریخ میں پیش آنے والے مسائل کو ہمارے   اَن داتاؤں نے گہری بصیرت کے بجائے جذبات کی ناؤ پر بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذہبی فرقوں کے درمیان تناؤ، مسئلۂ کشمیر، جہاد پالیسی اور بین الاقوامی تناظر میں کسی مربوط قومی پالیسی کا نہ ہونا ہمارے طرز ِفکرکی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے جس گہرے قومی اور انسانی شعور کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے ہمارے نام نہاد لیڈر ہمیشہ تہی دست رہے ہیں۔ ملک میں مختلف مسائل کی موجودگی میں اسلام کے انسان دوست اور امن پسند نظریے سے انھیں حل کرنے کے بجائے مذہبی جذبات بھڑکا کر پورے ملک کو سلگتے ہوئے الاؤ میں تبدیل کردینا مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟
ملک میں ایک بار پھر اُبھرتی ہوئی شدت پسندی کی نئی لہر کسی نئے خطرے کا الارم ہوسکتی ہے۔ کیوںکہ اب شدت پسندی اور اس سے جڑے جذباتی مسائل کو دنیا میں جنگی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ روایتی جنگ سے زیادہ ان غیرروایتی جنگی ہتھکنڈوں کو تیسری دنیا کے ملکوں میں استعمال کرکے عدمِ استحکام پیدا کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مذہب و سیاست کے نام پرمقامی قوتوں کا استعمال روز افزوں ہے۔ اس حوالے سے ہمارے ملک کی تاریخ بہت ہی دردناک تاریخی حقائق کی حامل ہے۔
اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں ایسے تاریخی، قومی اور ملّی مسائل کے حل نہ ہونے کے سبب دنیا بھر میں یہ تأثر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ اس دور میں مذہب کی اساس پر قائم ممالک سوائے فرقہ واریت اور رجعت پسندی کو فروغ دینے کے اَور کوئی کام نہیں کر رہے۔ وہ دین اسلام جو بین الاقوامی مسائل حل کرنے کے لیے آیا ہے، ہماری نااہلی اور غلط کاریوں کے سبب اگر اس کے بارے میں یہ تأثر پیدا ہو تو یہ بہت خطرناک ہے۔ 
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نازک موقع پر نسلِ نو میں اسلام کے حقیقی شعور کو اُجاگر کیا جائے، جس کی بدولت ہم اپنی حقیقی آزادی اور خودمختاری کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود اُلجھے ہوئے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرسکیں اور بہ طور مسلمان جماعت اپنے ملک کو امن و سکون اور خوش حالی کا گہوارہ بناکر پوری دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت کو ثابت کرسکیں۔     (مدیر)

5 / 15

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (1)

انسانی کامیابی اور ترقی کے چار بنیادی اَخلاق  (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جاننا چاہیے کہ ترقی اور کامیابی کے اس طریقے کے حصول کے اگرچہ بہت سے راستے ہیں، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے سمجھایا ہے کہ ان تمام راستوں اور طریقوں کا مرکز و منبع انسانیت کے چار بنیادی اَخلاق ہیں۔ ان چار اَخلاق پر عمل کی صورت میں انسان کا نفسِ ناطقہ (روحِ ملکوتی) اس کی بہیمیت پر اثرانداز ہوتا ہے اور اسے ملکوتی تقاضوں سے مناسبت پیدا کرنے کی طرف کھینچتا ہے۔ ان چار اَخلاق پر عمل کے نتیجے میں انسان میں ایسی حالت پیدا ہوتی ہے، جو ملائِ اعلیٰ کی صفات سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ اس طرح اُس میں اعلیٰ مقام تک پہنچنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور اُسے ملائِ اعلیٰ کے فرشتوں کی لڑی میں پرونے کا باعث بنتی ہے۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ: 
الف:     انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد لوگوں کو انھی چار اَخلاق کی دعوت دینا ہے۔ 
ب:    انسانیت کو ان اَخلاق کے حصول کے لیے اُبھارنا ہے۔ 
ج:     تمام شریعتیں انھی چار اَخلاق کی تفصیل ہیں۔ 
د:    شریعتوں کے تمام احکامات کا مرکز اور منبع یہی چار اَخلاق ہیں۔ 
پہلا بنیادی خُلق؛ طہارت 
ان اَخلاق میں سے ایک طہارت ہے۔ اس کی حقیقت اس طرح سمجھئے کہ جب انسان کی فطرت صحیح سلامت ہو اور اُس کا طبعی مزاج صحت مند ہو، اس کا دل غور و فکر اور تدبر سے روکنے والے پست حالات مثلاً بھوک، پیاس اور شہوت وغیرہ سے بالکل فارغ ہو۔ ایسے انسان پر درجِ ذیل دو حالتیں طاری ہوتی ہیں: 
الف: ایسے انسان کے جسم پر اگر کوئی نجاست یا گندگی لگ جائے، یا پیشاب یا پاخانے کا تقاضا ہو، یا جنسی شہوت کا غلبہ ہوجائے تو وہ اپنے نفس اور روح میں انقباض اور گھٹن محسوس کرتا ہے۔ اُسے تنگی اور غم لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی روح اور قلب پر ایک طرح کا بوجھ اور حجاب محسوس کرتا ہے۔ 
ب:     ایسا فرد جب پیشاب پاخانے سے فارغ ہوجاتا ہے، اپنے جسم کو دھوتا ہے اور غسل کرتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا اور خوشبو لگاتا ہے تو اس کی دلی تنگی اور انقباض دور ہوجاتا ہے۔ اس کی طبیعت میں خوشی اور سرور پیدا ہوجاتا ہے اور اُس کا سینہ کھل جاتا ہے۔ ایسا وہ محض لوگوں کو دکھانے، یا عام لوگوں کی نقل کی غرض سے نہیں کرتا، بلکہ خالص اپنے نفسِ ناطقہ اور دل کے تقاضے سے کرتا ہے۔ 
پہلی حالت کو ’’حَدَث‘‘ کہتے ہیں اور دوسری حالت کو ’’طہارت‘‘ کہا جاتا ہے۔ 
دو طرح کے انسان 
لوگوں میں سے جو انسان ذہین ہوں اور ان میں نوعِ انسانیت کے (عقلی) اَحکام پورے طور پر ظاہر ہوں اور انسانی صورتِ نوعیہ کے مادی اور طبعی احکام بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ پائے جاتے ہوں تو ایسے انسان ان دونوں حالتوں کو اچھی طرح ایک دوسرے سے ممتاز طور پر پہچان لیتے ہیں اور ہر ایک حالت کی دوسرے سے الگ نوعیت کو سمجھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ طبعی طور پر اُن میں سے ایک (یعنی طہارت) سے محبت رکھتے ہے اور دوسری (حدث) سے بغض اور نفرت رکھتے ہیں۔ 
لوگوں میں سے جو آدمی غبی اور کمزور ذہن ہوتا ہے، وہ بھی اگر اپنی بہیمیت کو کچھ کمزور کرلے اور طہارت حاصل کرنے کی خوب جدوجہد کرے اور طہارت اور حدث کی دونوں حالتوں کی پہچان پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہوجائے تو ضرور اُسے بھی ان کے درمیان واضح طور پر فرق محسوس ہوجاتا ہے۔ 
طہارت کے فوائد اور ثمرات
طہارت کا خُلق انسانی روح میں ایسی صفات پیدا کرتا ہے کہ جس سے اُس میں  ملائِ اعلیٰ کے حالات سے بہت زیادہ مشابہت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ ملائِ اعلیٰ کے حالات بہیمیت کی گندگیوں سے بہت دور ہیں۔ ایسی صورت میں انسانی روح    ملائِ اعلیٰ کے نور سے خوشی اور لذت محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طہارت انسانی نفس میں قوتِ عملیہ کے اعتبار سے بڑا کمال پیدا کرتی ہے۔ 
حدث کے بد اَثرات
حدث کی حالت جب کسی انسان میں پیدا ہوجائے اور اسے ہر طرف سے گھیر لے تو وہ انسان میں شیطانی وسوسوں کو قبول کرنے کی بُری استعداد پیدا کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ حدث کی حالت زیادہ دیر تک رہے تو انسان کی حسِ مشترک (باطنی قوت) شیطانوں کو دیکھنے لگ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اُسے وحشت ناک خواب نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے نفس ناطقہ (روح) پر ظلمت اور اندھیروں کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ بدبخت اور ملعون قسم کے جانوروں کی شکلیں اور صورتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ 
طہارت کے بہترین اثرات
جب کسی انسان پر طہارت کی حالت پختہ طور پر پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اُسے گھیر لیتی ہے، ہر وقت اُسے طہارت یاد رہتی ہے اور دلی میلان، پاکیزگی اور طہارت کی طرف ہوجاتا ہے تو ایسے انسان میں فرشتوں کو دیکھنے اور اُن کے الہامات کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔ اُسے اچھے اور عمدہ خواب نظر آنے لگتے ہیں۔ اُس پر انوارات ظاہر ہوتے ہیں۔ پاکیزہ اور عمدہ چیزوں کی شکلیں اور صورتیں سامنے آتی ہیں اور اس پر انتہائی عظمت والی اور مبارک اشیا اور چیزوں کا ظہور ہوتا ہے۔ 
(باب الاصول التی یرجع الیہا تحصیل الطریقۃ الثّانیۃ) 
 

6 / 15

بیٹا اپنے باپ کے نقش قدم پر

بیٹا اپنے باپ کے نقش قدم پر

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ابھی بستر پر لیٹے ہی تھے کہ ان کا بیٹا عبدالملک جس کی عمر ابھی سترہ سال کی تھی، کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے کہا: امیرالمؤمنین! آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا: بیٹا! میں تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔ بہت تھک گیا ہوں۔ بیٹے نے کہا: امیرالمؤمنین! کیا آپ مظلوم لوگوں کی فریاد سنے بغیر ہی سو جانا چاہتے ہیں؟ مظلوموں کو بدلہ کون دلوائے گا؟ فرمایا: بیٹا! چوںکہ میں تمھارے چچا خلیفہ سلیمان کی وفات کی وجہ سے گزشتہ ساری رات جاگتا رہا، تھکاوٹ کی وجہ سے میرے جسم میں طاقت نہیں۔ انشاء اللہ تھوڑا آرام کرنے کے بعد ظہر کی نماز لوگوں کے ساتھ پڑھوں گا اور پھر یقینا مظلوموں کی فریاد رسی ہوگی اور ہر ایک کو اس کا حق دیا جائے گا۔ کوئی محروم نہیں رہے گا۔ 
بیٹے نے کہا: امیرالمؤمنین! اس کی کون ضمانت دیتا ہے کہ آپ ظہر تک زندہ رہیں گے؟ بیٹے کی یہ بات سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ تڑپ اُٹھے۔ آنکھوں میں نیند جاتی رہی۔ تھکے ہوئے جسم میں دوبارہ توانائی آگئی اور ایک دم اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ فرمایا: بیٹا ذرا میرے قریب آؤ۔ بیٹا قریب ہوا تو اسے گلے لگا کر پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، جس نے مجھے ایسا نیک فرزند عطا کیا، جو دینی معاملے میں میری مدد کرتا ہے۔ پھر آپؒ اٹھے۔ حکم دیا کہ اعلان کردیا جائے کہ جس پر کوئی ظلم ہوا ہے، وہ اپنا مقدمہ خلیفہ کے سامنے آکر پیش کرے۔ 
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے بارہ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ سب میں عبدالملک ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے۔ یوں تو وہ نوجوان تھے، لیکن عقل و خرد میں منفرد تھے۔ ان میں حضرت عمرفاروقؓ کے خاندان کے اوصاف پائے جاتے تھے۔ خاص طور پر تقویٰ، پاکیزگی اور خشیت ِالٰہی میں ان پر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزاج غالب تھا۔ 
اس نوجوان نے اکابر علما و محدثین سے قرآن و حدیث کا علم حاصل کیا اور اس میں اتنی مہارت پیدا کی کہ وہ شام کے علما و فقہا کی مجلس میں بیٹھ کر ان سے مختلف علمی موضوعات پر بڑی مؤثر گفتگو کرتے۔ اس نوجوان کی گفتگو سن کر اہل علم ان کی ذہانت اور خوش بیانی کی تعریف کرتے۔ خاندانِ فاروقی اُموی کے اس عظیم سعادت مند بیٹے نے دمشق کے پُررونق بازار میں لہلہاتے ہوئے، ترو تازہ باغات اور بل کھاتی رواں دواں ندیوں کے دل فریب مناظر چھوڑ کر پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا، تاکہ ہر دم ہر گھڑی حالت ِجہاد میں رہنے کی سعادتیں حاصل ہوں اور تکبر و غرور جیسی مہلک بیماری سے حفاظت رہے۔ ایک دفعہ کسی صاحب نے پوچھا کہ تمھارے معاشی اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے یہاں آتے ہی زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ اس زمین سے مجھے اتنا کچھ مل جاتا ہے، جو میرے گزارے کے لیے کافی ہے اور مجھے بے نیاز کردیتا ہے۔ 
یہ مقولہ بالکل سچ ہے کہ الوَلَدُ سِرٌّ لأبیہِ (بیٹا اپنے باپ کا راز ہوتا ہے)۔ 
 

7 / 15

معیشت کو بجلی کے جھٹکے

معیشت کو بجلی کے جھٹکے

نوے کی دہائی میں صرف پی ٹی وی کی نشریات ہی ہم تک پہنچتی تھیں اور اُس میں حکومتی کارکردگی خوب بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی تھی۔ معلومات کا بہاؤآج کی نسبت کم تھا، اس لیے لوگوں کے پاس انھیں مانے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ چناںچہ ہمیشہ کی طرح انسانی بنیادی ضرورتوں کو بنیاد بناتے ہوئے اُس وقت کی حکومتوں نے تیل سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگانے شروع کیے اور اس تمام اسکیم کے پیچھے ’’میرے گاؤںمیں بجلی آئی ہے‘‘ کا سلوگن تھا۔ پہلے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے لالٹین کی روشنی استعمال کرتے تھے، اب وہاں برقی بلب کا استعمال ہوگا اور یوں ہماری نوجوان نسل پہلے سے زیادہ پڑھ لکھ کر ملک کی خدمت کرے گی۔ چناںچہ ان نعروں کی پاداش میں اس غریب المعیشت ملک کی پہلے سے جھکی ہوئی کمر پر بجلی کی پیداوار کے ایسے منصوبے لادے گئے، جنھیں رواں رکھنے کے لیے سالانہ بنیادوں پر ہمیں اربوں روپے خرچ کرنے پڑے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یہ ایسے معاہدے تھے، جن کے تحت ایسے کارخانے جو بند پڑے ہوں، انھیں بھی حکومتِ پاکستان ان کی طے شدہ صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگی کی پابند تھی۔ پھر ہوا یوں کہ ڈالر کی قیمت، کارخانے کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت، بجلی کی ترسیل میں نقصان، سرکار کی جانب سے بجلی کی قیمت کی عدمِ ادائیگی اور ان تمام عناصر کی وجہ سے اکٹھی ہونے والی ادائیگیوں کو بینکوں سے قرض حاصل کرکے پورا کرنا اور یہ وہ قرض تھا جو حکومت پر ہوتا تھا، یعنی عوام پر بوجھ ہوتا تھا۔ یہی وہ بدنامِ زمانہ قر ض ہے، جسے سرکلر ڈیٹ Circular Debt کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس پر لوٹ مار کو اتنا آسان کردیا کہ سب نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور اس سلسلے کو یوں ہی لے کر چلتے رہے۔ 
آج حال یہ ہے کہ پاکستان کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 33 ہزار میگا واٹ ہے، جب کہ جون 2019ء میں ملک کی زیادہ سے زیادہ ضرورت 21 ہزار میگا واٹ رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس پیداوار میں سے 65 فی صد بجلی تیل کے کارخانوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اگر یہ بند بھی رہیں تو حکومت کو انھیں بند رہنے کا طے شدہ کرایہ بھی دینا پڑتا ہے۔ ایک اَور اہم حقیقت یہ ہے کہ اس سے پیدا شدہ بجلی ترسیل کے دوران ضائع ہوجاتی ہے، جو ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2014ء میں عالمی سطح پر کُل پیداوار کا 8.25 فی صد تھا، لیکن پاکستان میں یہی شرح 21 فی صد پر ہے۔ یہ فرق صرف چوری اور نااہلی کا ہے، لیکن ہمارے پالیسی ساز اداروں میں جو بڑے بڑے دماغ بیٹھے ہیں، ان کے پاس اس کا حل صرف یہ ہے کہ ان صارفین کے بلوں میں آن لائن لاسز کو ڈال دیا جائے، جو امانت داری سے بجلی کے بل ادا کررہے ہیں۔ گویا چوری کا نقصان ان سے پورا کیا جارہا ہے، جو چور نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت نے شروع میں کافی شور مچایا کہ وہ جلد ہی اس نظام کو ٹھیک کرلیں گے، لیکن ماہانہ بنیادوں پر یہ حکومت بھی آن لائن لاسز کو صرف ایک فی صد کم کرسکی ہے۔ چناںچہ آج کی تاریخ میں یہ سرکلر ڈیٹ 20 کھرب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں 200 ارب روپے کا قرض لیا گیا ہے، جس کے لیے محکمہ بجلی کے 70 اثاثہ جات کو رہن رکھ دیا گیا ہے۔ دراصل ان لوگوں کے پاس قرض کے علاوہ کوئی دوسرا حل موجود نہیں ہے۔ کیوںکہ دوسرے حل کے لیے کام کرنا پڑتا ہے، جو ہم نے کب کا چھوڑ رکھا ہے۔

8 / 15

چین بھارت تنازعہ ؛ لداخ

چین بھارت تنازعہ ؛ لداخ

لداخ اپنی قدرتی خوب صورتی اور پیچیدہ زمینی خدوخال کی وجہ سے مشہور ہے۔ پُراسرار اور دیو مالائی کہانیوں کا دیس کہلاتا ہے۔ اسے ’’سفید پتھروںکا صحرا‘‘ بھی کہتے ہیں۔ دنیا کے بلند ترین اور دُشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں تبت، لداخ اور سنکیانگ کی سرحدیں ملتی ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان مشترکہ سرحد 3,488 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اُتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش کے علاقے شامل ہیں۔ یہ سرحدیں بنیادی طور پر تین سیکٹرز میں منقسم ہیں۔ جموں و کشمیر سے ملحق مغربی سیکٹر، ہماچل پردیش اور اُتراکھنڈ سے منسلک مڈل سیکٹر اور مشرقی سیکٹر میں ارونا چل پردیش اور سکم شامل ہیں۔ 
مؤ رّخین نے لکھا ہے کہ: ’’لداخ کی گزشتہ 1500 سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس ویران علاقے میں موجودہ تنازعہ ایک پرانے سلسلے کی کڑی ہے۔‘‘ 1962ء میں انڈیا اور چین کی جنگ کے ایک سال بعد شائع ہونے والی ایک انگریزی کتاب "Himalayan Battle Ground: Saino India Rivalry in Ladakh" (ہمالیائی میدانِ جنگ: لداخ میں انڈیا چین دشمنی) مصنّفین کے ایک گروپ نے مرتب کی تھی، جن میں مارگریٹ ڈبلیوفشر، لیو ای روز، رابرٹ اے اور ہیٹن بیک شامل تھے۔ یہ سرد جنگ کا دور تھا۔ اس وقت دونوں ممالک عالمی سیاست میں امریکی بلاک کا حصہ نہ تھے، البتہ جس ادارے نے مصنّفین کا بورڈ تشکیل دے کر کتاب لکھوائی تھی، یقینا اس کے پسِ پردہ کچھ نہ کچھ مستقبل کی پیش بندی تھی، جو آج نظر آرہی ہے۔ مصنّفین لکھتے ہیں کہ: ’’یہ معاملہ انڈیا اور چین کی قومی سلامتی اور وسیع تر اقتصادی اور سیاسی مفادات کا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ علاوہ ازیں اس علاقے کی معدنی دولت (سنکیانگ میں تیل کے ذخائر اور تبت میں سونے اور یورینیم کی موجودگی) کا بھی ذکر موجود ہے۔ 
ایک اَور مؤرخ سکھ دیوسنگھ اپنی کتاب ’’جرنیل زور آور سنگھ‘‘ میں لکھتا ہے کہ: ’’گلگت بلتستان اور لداخ ساتویں اور آٹھویں صدیوں میں چین، تبت اور عباسی عہد ِحکومت کے خلیفہ ہارون الرشید کے درمیان بھی سیاسی کش مکش کا مرکز رہے ہیں۔‘‘ ایک اَور مؤرخ پرتھوی ناتھ کول بامزئی اپنی کتا ب ’’اے ہسٹری آف کشمیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ’’1586ء میں اکبر بادشاہ کے دور میں بھی لداخ ہندوستان کے زیرِ اثر تھا۔ کیوںکہ انھوں نے اپنے کشمیر کے دورے کے دوران لداخ کے اس وقت کے حکمران اجو رائے کو ہٹا کر اس کی جگہ علی رائے کو وہاں تعینات کیا تھا۔ اسی طرح 1665ء میں اورنگ زیب کے دور میں بھی لداخ مغلیہ سلطنت کا مطیع و فرماں بردار تھا۔‘‘ سکھ دیو سنگھ مزید لکھتا ہے کہ: ’’1752ء میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں بھی لداخی کشمیر کا حصہ ہونے کے ناطے اس کی سلطنت کے تابع تھے۔‘‘ (رپورٹ: 24؍ جون 2020ء بی بی سی اُردو لندن)  اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب شائع کرنے والا ادارہ آج بھی اپنی پرانی روش پر قائم ہے، یعنی دنیا کے اندر سیاسی کش مکش کو ہوا دے کر بداَمنی پیدا کرتا ہے۔ لداخ کو بھارت کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چوںکہ چین برطانوی اور امریکی اداروں کا سیاسی حریف ہے، اس لیے وہ چین کے مقابلے میں بھارتی مؤقف کو تقویت پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ورنہ یہی چین جب 1970ء کی دہائی میں عالمی سیاست میں روس کے مقابلے میں آیا تھا تو پورے مغربی یورپ کی آنکھ کا تارا تھا۔ جہاں تک سرحدوں کا تعلق ہے تو یہ سرحدیں 1945ء میں بننے والے عالمی ادارے کی طے کردہ ہیں۔ اس کے باوجود چین اور انڈیا کے درمیان 1500 کلومیٹر کا علاقہ آج بھی تصفیہ طلب ہے۔ اقصائے چین میں موجود وادیٔ گلوان کے سبب دونوں ممالک کے مابین تنائو کی ابتدا ہوئی۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ وادیٔ گلوان میں چینی فوج کے خیمے دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے بھی فوج کی تعداد میں اضافہ کردیا۔ 9؍ مئی کو شمالی سکم میں بھارتی اور چینی فوجوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ بی بی سی کی 19؍ جون کی رپورٹ کے مطابق 15؍ اور 16؍ جون کی شب لداخ میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے، جن میں ایک کرنل بھی شامل تھا۔ جب کہ چین کی جانب سے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژائو لیبیان کے مطابق ’’چین مزید تنازعات نہیں چاہتا۔ صورتِ حال اب مستحکم اور قابو میں ہے۔ ‘‘ چین کے سرکا ری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق انڈیا نے اس علاقے میں دفاع سے متعلقہ غیر قانونی تعمیرات کی ہیں، جس کے باعث چین کو وہاں فوجی تعیناتی میں اضافہ کرنا پڑا۔ اَخبار مزید لکھتا ہے کہ: ’’انڈیا کووِڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی پریشانیوں کا شکار ہے اور اس نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے گلوان میں تنائو پیدا کیا ہے۔‘‘ یہاں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LINE OF ACTUAL CONTROL) یعنی LAC چین کو انڈیا سے الگ کرتی ہے۔ انڈیا اور چین دونوں اقصائے چین پر اپنی اپنی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔ دوسری جانب بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اس تنازعے کا سفارتی حل نکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی حوالے سے ان تینوںکے درمیان روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات ہوئے ہیں۔ "The diplomat" اخبار کی 22؍ جون کی رپورٹ کے مطابق ’’ماسکو کا خواب ہے کہ دنیا کی تین بڑی طاقتوں یعنی روس، چین او ر انڈیا کو ایک ہو کر عالمی اور علاقائی مسائل کو حل کرنا چاہیے۔‘‘ 
وادیٔ گلوان میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکتیں اندرونِ ملک وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے 3؍ جولائی بروز جمعہ کو چین اور بھارت کے درمیان تنازعہ بننے والے علاقے لداخ کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ حقیقت میں بیجنگ اور دہلی دونوں میںسے کوئی بھی تصادم کے حق میں نہیں ہے۔ ماسکو میں مذاکرات کا منعقد ہونا ہی امن کی علامت ہے۔ حال آںکہ امریکی صدر کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ ثالثی کے لیے تیار ہے، جسے دونوں نے ہتک آمیز حدتک نظر اندازکیا ہے۔ دوسری طرف خود ٹرمپ بھارتی وزیراعظم کو متنبہ بھی کررہا ہے کہ: ’’ چین کے ساتھ جنگ میں مت اُلجھنا، کیوںکہ وہ اپنی پسند کا محاذ کھول سکتا ہے۔‘‘

9 / 15

مقدس اور محترم زمان و مکان

مقدس اور محترم زمان و مکان

رپورٹ؛ سید نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

۷؍ ذوالحجہ ۱۴۴۰ھ / 9؍ اگست 2019ء کو حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اس پوری کائنات کا احکم الحاکمین، مطلق حکمران اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس حکمرانی کے کچھ حرمات اور شعائر ہیں۔ انھیں پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہمارے لیے زمان و مکان (Time & Space) بڑی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارا وجود اور اس کے تمام اعمال و افعال زمانے کے بھی محتاج ہیں اور مکان کے بھی محتاج ہیں۔ اس زمان و مکان کے بغیر نہ ہم خود زندہ رہ سکتے ہیں اور نہ ہمارے اعمال وجود میں آسکتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کچھ زمانے اور مقامات ایسے مختص فرمائے ہیں، جو خالصتاً اللہ کے ہیں۔ ان کی حرمت و عظمت ہمارے دلوں میں پیدا ہونا ضروری ہے۔ 
زمانے (time) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سال میں چار مہینے (رجب، ذوقعدہ، ذوالحجہ، محرم) محترم قرار دیے ہیں۔ محترم مہینوں میں سے ایک اہم ترین مہینہ ذوالحجہ ہے۔ یکم؍ شوال سے لے کر ذوالحجہ تک ’’اشہرِ حج‘‘ یعنی حج کے مہینے کہلاتے ہیں۔ ان مہینوںمیں اجتماعی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے بنیادی حکم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی عظمت اور حرمت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ مکان (Space) کے حوالے سے دیکھا جائے تو زمین پر سب سے اعلیٰ ترین مقام بیت اللہ الحرام ہے، جو انسانیت کا سب سے پہلا گھر ہے۔ اس سے انسانوں نے آباد ہونا سیکھا۔ یہیں سے گھریلو زندگی کا آغاز ہوا۔ یہ گھر جہاں واقع ہے، وہ مکہ مکرمہ ہے، جہاں سے حضرت آدم علیہ السلام کی پوری اولاد دنیا بھر میں پھیلی۔ اس طرح یہ شہر انسانی اجتماعیت کا مرکز ہے۔ اس لیے ان مہینوں اور بیت اللہ کی حرمت اپنے دلوں میں پیدا کرنا لازمی ہے۔ 
یہ حرمت اللہ تعالیٰ کو صرف اپنے لیے مطلوب نہیں ہے۔ اللہ تو ان تمام چیزوں (time & space) سے وراء الوراء ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی توحید کا انکار کردے، اس کی عظمت اور حرمات کو قبول نہ کرے، اس کی خدائی میں کوئی کمی نہیں آنے والی۔ اور ساری مخلوق اللہ کی عبادت کرے، اس کی بات مانے تو اس کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہونے والا۔ انسانیت کے لیے اہم ترین بات خود انسان ہے۔ یہ جو زمان و مکان محترم قرار دیے گئے ہیں، انسانی عظمت کی بنیاد پر ہیں۔ دنیا میں دستور ہے کہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے بنائی گئی بستی یا گھروں کو یاد رکھتے ہیں۔ اسے تاریخی مقام کا درجہ دیتے ہیں۔ اور اس تاریخی دن کو یاد رکھتے ہیں، جس دن وہ بستی بسائی گئی ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے فرمایا کہ جو اللہ کے ان شعائر کی عظمت اپنے دل میں رکھتا ہے، تو دراصل یہ دلوں کا ادب ہے۔ (القرآن 32:22)‘‘ 
 

10 / 15

غور و فکر اور معرفت؛ سنت ِابراہیمی ہے

غور و فکر اور معرفت؛ سنت ِابراہیمی ہے

رپورٹ؛ سید نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

۷؍ ذوالحجہ ۱۴۴۰ھ / 9؍ اگست 2019ء کو حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 

’’ذوالحجہ کی آٹھویں، نوویں اور دسویں تاریخ کو بالترتیب ’’یوم التّرویہ‘‘، ’’یومِ عرفہ‘‘ اور ’’یوم النحر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تینوں وہ تاریخی دن ہیں کہ جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے امتحان لیا گیا کہ کیا تم اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیلؑ __ جو بڑی تمناؤں اور آرزوؤں کے بعد بڑھاپے میں پیدا ہوئے __ کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ ساتویں اور آٹھویں کی درمیانی رات حضرت ابراہیمؑ کو خواب آتا ہے کہ اپنے اس لختِ جگر کو ذبح کرو۔ اب حضرت ابراہیمؑ کا اگلا سارا دن اس غور و فکر میں گزرتا ہے کہ یہ خواب شیطانی ہے یا رحمانی ہے؟ انسانیت کا قتل اور وہ بھی اپنی اولاد کا قتل!! کیا یہ اللہ کا حکم ہوسکتا ہے یا شیطان نے وسوسہ ڈالا ہے؟ یہ غور و فکر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔ اس لیے اس دن کو یوم الترویہ کہا جاتا ہے۔ ’’ترویہ‘‘ رویہ سے ہے یعنی اللہ کے احکامات پر غور و فکر کرنا۔ اس لیے حضرت ابراہیم کی سنت ادا کرتے ہوئے سب لوگ ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ کو منیٰ کے میدان میں پہنچتے ہیں۔ ایک حاجی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بھی منیٰ میں ترویہ اور انسانیت کے لیے غور و فکر کرے کہ میرے اعمال، میرے افکار و خیالات، میرے جذبات اور رویے کیسے ہیں؟ کیا یہ بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب انسانیت کے فائدے کے ہیں، یا انھیں نقصان پہنچانے کے ہیں۔ 
ذوالحجہ کی آٹھویں اور نوویں تاریخ کی درمیانی رات کو حضرت ابراہیمؑ کو پھر خواب آیا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنا ہے۔ یوم الترویہ کے غور و فکر اور دوسرے دن کے خواب کے بعد زوال کے بعد آپؑ کو معرفت اور عرفان حاصل ہوتا ہے کہ یہ بچے کا ذبح کرنا خواہشاتِ نفسانی، جدال اور جھگڑے اور فسق و فجور کے خاتمے کے لیے ہے۔ کیوںکہ اولاد کی بے جا محبت انسان کو جھگڑوںپر اُکساتی ہے۔ فسق و فجور پیدا کرتی ہے۔ زیادہ اولاد پیدا کرنے کی خواہش اور جنسی تعلق اس لیے قائم کرنا کہ زیادہ بیٹے پیدا ہوں اور میری طاقت اور رُعب میں اضافہ ہو اور میں دوسروں پر چڑھائی کرسکوں۔ اس لیے دوسری جگہ پر کہا گیا کہ ’’تمھاری اولاد اور تمھارا مال تمھارے لیے آزمائش ہے۔‘‘ (القرآن 15:64) اس لیے یہاں بیٹے کو ذبح کرنے کا مقصد انسانیت کا قتل نہیں، بلکہ دوسرے انسانوں کی بقا کے لیے اپنی اولاد کی جو حد سے بڑھی ہوئی خواہش ہے، اُسے ذبح کرنا ہے۔ یہی تمھارا امتحان ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو معرفت کے حصول کی وجہ سے اس نوویں تاریخ کو یومِ عرفہ کہا گیا۔ اس لیے عرفات کے میدان میں پہنچ کر ایک حاجی کا نظریہ بھی درست ہونا چاہیے کہ وہ انسانوں میں بداَمنی پیدا نہیں کرے گا۔ جنسی خواہشات کی بنیاد پر مفادات نہیں اٹھائے گا۔لڑائی اور جھگڑے کا سبب؛ زن، زر، زمین کسی بھی بنیاد پر کوئی جھگڑا نہیں کرے گا۔ اگر ایک حاجی کو یومِ عرفہ میں یہ عرفان حاصل ہوگیا تو سمجھو صحیح حج ہوگیا۔ اسی کو حجِ مبرور کہتے ہیں۔ یہی حج درست حج ہے۔ اگر عرفان حاصل نہیں ہوا، بس ایک حج کی رسم پوری کی اور گزر آئے تو وہ صحیح طور پر حج ادا نہ ہوا۔‘‘ 

11 / 15

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے ارادے اور عزم کی تکمیل

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے ارادے اور عزم کی تکمیل

رپورٹ؛ سید نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

۷؍ ذوالحجہ ۱۴۴۰ھ / 9؍ اگست 2019ء کو حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 

’’عرفہ اور اُس سے اگلے دن کے درمیان مزدلفہ میں حضرت ابراہیمؑ کو پھر خواب آتا ہے، جس سے اُن کا عزم پختہ ہوگیاکہ بیٹے کو قربان کرنا ہے۔ اس لیے اس دن کو ’’یوم النحر‘‘ (قربانی کا دن) کہا گیا۔ چناںچہ یوم النحر کو جب حضرت ابراہیمؑ بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے مکہ سے چلتے ہیں اور جیسے ہی مکہ سے نکل کر منیٰ کی حدود میں داخل ہوا چاہتے ہیں تو ایک بہت بڑا شیطان حضرت ابراہیمؑ کو آکر اس کام سے روکتا اور بڑے دلائل دیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو وسوسہ ڈالتا ہے کہ اتنے دنوں کے بعد بیٹا پیدا ہوا ہے، بیٹے کو مار رہے ہو؟ انسانیت کا قتل کر رہے ہو؟ کتنا بڑا جرم کر رہے ہو! حضرت ابراہیمؑ نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور اُس کے منہ پر دے ماریں کہ ذلیل و رُسوا ہو کر یہاں سے بھاگو۔ تمھاری بات نہیں مانی جائے گی۔ جھگڑے کا بیج تو تم سے شروع ہوا ہے۔ 
اب جیسے ہی حضرت ابراہیم اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو لے کر آگے چلے، تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تو دوبارہ وہ شیطان سامنے آن کھڑا ہوا اور وسوسہ ڈالنے کی کوشش کی۔ دوسری دفعہ آتا ہے تو بہت چھوٹا سا حجم تھا، جسے آج جمرۃ الوسطیٰ کہتے ہیں، درمیانہ شیطان۔ پھر حضرت ابراہیمؑ نے سات کنکریاں لگائیں اور اُس کے وسوسے کو بھگایا۔ تیسرے مقام پر حضرت ابراہیمؑ پہنچتے ہیں تو وہاں پھر شیطان آگیا۔ پھر حضرت ابراہیمؑ نے اُسے سات کنکریاں ماریں۔ اب اس کو جرأت اور ہمت نہ ہوئی۔ نہ بیٹے کے دماغ کو پھیر سکا، نہ ہی حضرت ابراہیم کا خیال بدل سکا۔ حضرت ابراہیمؑ نے بیٹے کو جب زمین پر لٹایا اور بیٹے نے بھی اپنی مکمل سپردگی کا اعلان کیا تو فوراً چھری پھیر دی تو اللہ پاک نے بیٹے کی جگہ ایک جانور وہاں بھیج دیا، جو ذبح ہوگیا۔ اللہ پاک نے کہا: ’’اے ابراہیم! تو نے خواب سچا کر دکھایا۔‘‘ (القرآن 103:37) تیرے ارادے اور عزم کا امتحان مکمل ہوگیا۔ اب تیری اتباع کرنے والے اور تیرے نقش قدم پر چلنے والے تمام لوگ اگر یہ عمل دہرائیں گے تو اُن کے لیے بیٹے کی قربانی کے بجائے جانور کی قربانی ہے۔ کیوںکہ اصل مقصد انسان کی داخلی بہیمیت اور حیوانیت ذبح کرنا تھا، مکمل انسان کی قربانی مقصود نہیں تھی۔ 
ایک قربانی کرنے والا جب جانور قربان کرتا ہے تو دل میں جو جانور بنا ہوا ہے، اصل مقصد اس پر چھری چلانا ہوتا ہے۔ دل میں جو حیوانیت اور بہیمیت مسلط ہے، اس کو ذبح کرنا ہے۔ یوم النحر قربانی کا پہلا دن ہے۔ اس کے لیے تین دن مقرر کردیے گئے۔ کیوںکہ دنیا بھر کے انسانوں نے حج کے موقع پر بھی اور اپنے اپنے علاقے میں بھی حضرت ابراہیمؑ کی یہ سنت ادا کرنی ہے۔ تو وقت زیادہ ہونا چاہیے۔ اس لیے حضرت ابراہیمؑ نے تینوں دن قربانی کرکے وہ طریقۂ کار واضح کردیا کہ رہتی دنیا تک اُمتِ مسلمہ اور انسانیت کے لیے ترقی کا کام کرنے والوں کے لیے سنت بن گئی۔ حضوؐر سے صحابہؓ نے پوچھا: یہ قربانی کیا ہے؟ تو حضوؐر نے فرمایا: ’’یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127) اپنے آباؤ اجداد کا دن منانا چاہتے ہو تو یہ دن مناؤ۔ جس میں اپنے نفس کے اوپر چھری پھیرو۔ اپنی حیوانیت کو ذبح کرو، اپنی انسانیت کو اُبھارو اور اپنی انسانیت بحال کرو۔‘‘

12 / 15

حجّ کمال درجے کی عبادت ہے!

حجّ کمال درجے کی عبادت ہے!

رپورٹ؛ سید نفیس مبارک ہمدانی، لاہور

۷؍ ذوالحجہ ۱۴۴۰ھ / 9؍ اگست 2019ء کو حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 

’’ایک عاشق کا حج اپنے خدا کے گھر سے عشق کا ایسا عمل ہے کہ جس سے اُس کی تربیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ صوفیا نے لکھا ہے کہ حج کرنے سے پہلے پہلے جو شخص نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے ذریعے سے جب تک اپنے افکار و خیالات کو درست نہیں کرلیتا، اُس وقت تک اُس کا حج عاشقانہ نہیں بنتا۔ کیوںکہ حج کمال درجے کی عبادت ہے، جہاں انسانی تربیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ حضور اکرمؐ نے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں بیس سال تک دیگر عبادات ادا کرنے اور مدینے کی ریاست میں عدل و انصاف قائم کرنے کے بعد دس ذوالحجہ کو آخری عبادت ’’حج‘‘ کی صورت میں ادا فرمائی۔ اگر کسی آدمی نے نہ پرائمری پاس کی، نہ میٹرک پاس کیا، نہ ایف اے بی اے کیا، ڈائریکٹ پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش کرے تو کیا اس طرح پی ایچ ڈی ہوجائے گی؟ اسی طرح حج بھی دین اسلام میں پی ایچ ڈی درجے کی اعلیٰ ڈگری ہے۔ اس کے حصول کے لیے اس سے پہلے کی ساری ڈگریاں ہونی ضروری ہیں۔ 
دنیا کے آٹھ (G8) ممالک اجتماع کرتے ہیں، یا G-20 کی میٹنگ ہوتی ہے تو ان کے فیصلوں سے دنیا ہل جاتی ہے۔ اور حج کے موقع پر بیس تیس لاکھ مسلمان اور ان مسلمان ملکوں کے بہت سے حکمران بھی پہنچتے ہیں۔ تو کیا کبھی اس حج کے نتیجے میں دنیا پر اُن کے فیصلوں کا کوئی رعب پیدا ہوا؟ اُن کے رویے درست ہوئے؟ کیا وہاں کے امام کے خطبے سے دنیا کو کوئی نیا سبق ملتا ہے؟ آج کے امامِ حرم کا خطبہ جمعہ سن لیجیے، سوائے چند رسمی باتوں کے اَور کچھ نہیں ہوگا۔ ہم نے تو دو تین حجوں میں جتنے بھی خطبے سنے، سوائے چند وظیفوں کے بیان کے اَور کچھ نہیں ہوتا۔ اگر امامِ حرم نے لاکھوں انسانوں کے مجمع میں یہ طریقے ہی بتلانے ہیں تو یہ اُن کے اپنے علاقوں کے مولویوں اور پیروں نے وظیفے اور حج کے فضائل بتا بتا کر ہی تمھارے پاس بھیجا ہے۔ کیا یہ بین الاقوامی اجتماع سے مذاق نہیں؟ انسانوں کو کوئی نظریہ دو، کوئی سوچ اور فکر دو، عالمی مسائل پر اپنا کوئی بیانیہ پیش کرو، اس کے لیے دلائل بیان کرو۔ انسانیت کی ترقی کا کوئی پروگرام دو، تاکہ اسلام کی صحیح اور سچی تصویر تو کل انسانیت کے سامنے آئے۔ 
ذوالحجہ کے یہ دن اور دین کے تمام اعمال مسلمانوں کی تربیت کے لیے ہیں۔ اُن کے افکار و خیالات کو بلند کرنے، اُن کے اعمال کو مہذب بنانے، اُن کو پُرامن بنانے، عدل و انصاف کے قائم کرنے کا شعور لیے ہوئے ہیں۔ ذوالحجہ کا مہینہ غور و فکر کا مہینہ ہے۔ ’’یوم التّرویہ‘‘، ’’یومِ عرفہ‘‘ اور ’’یوم النّحر‘‘ تین دن سوچو، اپنے گرد و پیش کے افکار و خیالات پر غور و فکر کرو۔ پھر اُس جانور (سرمایہ دارانہ نظام) پر چھری پھیرو جو تمھیں ستر سال سے بے وقوف بنائے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین سیکھنے اور دین کا عقل و شعور اپنے اندر پیدا کرنے اور اس کے مطابق اپنے افکار و خیالات اور اعمال کو درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)‘‘

13 / 15

فخر العلما سیّد شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ

فخر العلما سیّد شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ

بر عظیم پاک و ہند کی تحریکِ آزادی ایسے کئی اَبطالِ حریت کی جدو جہد سے بھری ہوئی ہے، جنھوں نے جرأت و بہادری کے ساتھ ظلم کے استبدادی نظام کا مقابلہ کیا اور انگریز سامراج کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوئے۔ بیسویں صدی کی ابتدا ایسے حریت پسندوں کے تذکروں سے بھری ہوئی ہے۔ انھیں میں ایک نام مولانا سیّد محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کا بھی ہے۔ 
مولانا سیّد محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کا تعلق دائرۂ شاہ اجمل‘ الٰہ آباد (یو۔پی، انڈیا) سے ہے۔ شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کے والد ِماجد حضرت سیّد محمد زاہد الٰہ آبادیؒ کے دادا حضرت شاہ محمد جانؒ حضرت شاہ محمد اجمل الٰہ آبادیؒ کے نواسے تھے۔ شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کی پیدائش ۱۲۹۲ھ / 1875ء میں اسی خانوادے میں ہوئی۔ انھوں نے علم و معرفت کے ا سی ماحول میں نشوونما پائی۔ ابتدائی تعلیم الٰہ آباد ہی میں حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میںشاہ محمد چشتی صابری الٰہ آبادیؒ، حافظ عبدالکافی نقشبندیؒ (بانی جامعہ سبحانیہ الٰہ آباد)، مولانا منیر الدین ناروی الٰہ آبادیؒ، مولانا شاہ عبید اللہ کان پوریؒ اور مولانا شاہ احمد حسن کان پوریؒ شامل ہیں۔ 
۱۳۰۹ھ / 1892ء میں مدرسہ فیضِ عام کان پور سے فراغت کی سند حاصل کی۔ 1912ء میں اپنے والد ِگرامی سے سلسلۂ چشتیہ میں مرید ہوئے۔ مولانا شاہ محمد بشیر اجملیؒ اور مولانا شاہ محمد عبدالعلیم قادری رشیدیؒ نے انھیں شرفِ خلافت سے نوازا۔ 
شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ اسلامی ہند کے ممتاز علما و مشائخ کی صفِ اوّل میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ علومِ اسلامیہ میں کامل دست گاہ رکھتے تھے۔ شمشیر زنی میں اپنی مثال آپ اور بے باکی و جرأت میں ضرب المثل تھے۔ حریت و آزادی کے تصورات سے لبریز اِن کی تقاریر میں ایک خاص شان ہوا کرتی تھی۔ پورا ملک ان کے مواعظ ِحسنہ سے فیض یاب تھا۔ قومی و ملّی خدمات ان کے عظیم ترین کارنامے ہیں۔ 
جب انگریزی جارحیت کے خلاف تحریکِ خلافت کی بنیاد پڑی تو محمدفاخر الٰہ آبادیؒ اس وقت بننے والی خلافت کمیٹی کے اراکین میں سے تھے۔ نومبر 1919ء میں خلافت کانفرنس کے بعد مولانا عبدالباریؒ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میںجو علما شریک تھے، ان میں ان کا نام بھی نمایاں ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے بانی اراکین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند کی سب سے پہلی مجلسِ منتظمہ میں شامل تھے۔ انھوں نے تحریکِ خلافت کے مقاصد کی ترویج کے لیے پورے ملک میں طوفانی دورے کیے اور تحریکِ خلافت کو ہندوستان بھر میں مضبوط کیا۔ 
شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدم تعاون میں پہلے ہندوستانی مسلمانوں میں سے تھے، جنھیں حصولِ آزادی کی جدوجہد کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی دینی و ملّی خدمات کا اعتراف نواب محمد اسماعیل خاں وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی نے 19؍ مارچ 1920ء کو ہونے والی یومِ خلافت کی تقریب میں اپنے خطبۂ اِستقبالیہ میں بھی کیا۔ شاہ محمد فاخرؒ کا شمار ان 500 علمائے کرام میں بھی ہوتا ہے، جنھوں نے ترکِ موالات (تحریکِ عدمِ تعاون) کے حق میں متفقہ فتویٰ دیا تھا۔ تحریکِ خلافت کے سلسلے میں جب گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو 21؍ جولائی 1920ء کو ان کے خلاف ایک مقدمے کا فیصلہ ہوا اور انھیں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ساتھ 5 سیر مونجھ بانٹے کی سزا ہوئی۔ اس وقت انھوں نے برجستہ یہ شعر کہے    ؎


آنکھ ہے محوِ تجلی ، وصل سے دل شاد  ہے
قید میں بھی طبع بے خود ، ہر طرح آزاد ہے
بیڑیاں  مجھ  کو  پہننے  میں  ذرا  ذلت  نہیں
باپ  دادا  کا   طریقہ  ،  سنتِ   سجاد   ہے


شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس وقت انھیں گرفتار کیا گیا، اس وقت تقریباً 10 ہزار افراد کا مجمع جیل کے دروازے پر موجود تھا۔ اس مجمع میں جمعیت علمائے ہند کے ذمہ داران، خلافت کمیٹی کے سربراہان کے ساتھ ساتھ غیرمسلموں کی بھی کثیر تعداد شامل تھی۔ 
تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کے خطبہ صدارت نومبر 1920ء میں سیّد شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کی گرفتاری کی پُرزور الفاظ میں مذمت فرمائی تھی اور دیگر فرزندانِ ہند کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو مسلمانوں پر ظلم قرار دیا تھا۔ ہندوستان بھر میںمولانا شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ کو ان کی خدمات اور علمی مرتبے کی وجہ سے ’’فخرُ العلما‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ قریبی حلقوں میں ’’راشد میاں‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، جب کہ شعرو شاعری سے شغف کی وجہ سے ان کا قلمی نام ’’بے خود الٰہ آبادی‘‘ تھا۔ 
تحریکاتِ آزادی میں نہ صرف یہ کہ شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ نے خود حصہ لیا، بلکہ اپنے قریبی لوگوں اور عزیزوں کو بھی ان تحریکات میں شامل کروایا۔ ان میں نمایاں نام شاہ  حفیظ عالم جنیدی (خلافت کمیٹی کے سرگرم رکن) اور موصوفؒ کے فرزند شاہ محمد شاہد فاخریؒ بھی تھے۔ شاہ محمد شاہد فاخریؒ بھی ملک کی نامور شخصیت تھے۔ تحریکِ آزادی کے سر گرم کارکن تھے۔ تحریکِ خلافت کے سلسلے میں انھوں نے بھی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تین بار گرفتار کیے گئے تھے۔ جمعیت علمائے ہند یو۔پی کے صدر تھے اور تقسیمِ ہند کے بعد کانگریس کے پلیٹ فارم پر یو۔پی اسمبلی کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 
شاہ محمد فاخر الٰہ آبادیؒ زندگی کے آخری ایام میں کمزوری کے باعث عملی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت نہ کر سکتے تھے۔ اَن تھک جدوجہد اور امور کی شبانہ روز انجام دہی نے انھیں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا کردیا تھا۔ ان کا وصال ۷؍ صفر المظفر ۱۳۴۹ھ / 5؍ جولائی 1930ء کو ہوا اور شیخ محمد افضل الٰہ آبادیؒ کے روضۂ منورہ الٰہ آباد میں تدفین عمل میں لائی گئی۔ 

14 / 15

انسانیت کی تباہی کے لیے  حیاتیاتی و کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تاریخ

انسانیت کی تباہی کے لیے  حیاتیاتی و کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تاریخ

دورِ حاضر میں سرمایہ داری اور سامراجی نظام کا سب سے بڑا نمائندہ ملک امریکا ہے۔ وہاں ایک مخصوص ذہنیت کی حامل کچھ قوتیں ہیں، جو کہ اپنے مفادات کی خاطر انسانیت کے ساتھ گھناؤنے کھیل کھیلتی رہتی ہیں۔ پچھلے تین سو سال سے سرمایہ داری نظام کی طرف سے جو کچھ انسانیت کے ساتھ کیا گیا، اس کا مقصد صرف اور صرف ایک مخصوص گروہ اور مافیا کو فائدہ پہنچانا اور مضبوط کرنا ہے۔ اس کام کے لیے انھوںنے مختلف طریقے اور ہتھکنڈے استعمال کیے۔ امریکا نے پوری دنیا پر اپنا تسلط و رعب قائم کرنے کے لیے، اپنے مخالفین کو شکست دینے اور اُن کو سیاسی و معاشی و سماجی طور پر کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور اس کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے۔ انھیں حربوں میں سے ایک بہت بڑا حربہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال ہے۔ زہریلی گیسوں اور جراثیمی ہتھیاروں کے ذریعے مخالف ممالک میں بیماریاں اور وبائیں پھیلانے، فصلیں تباہ کرنے اور انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا مکروہ عمل کیا گیا۔ چناںچہ امریکا نے پچھلی آٹھ دہائیوں میں ان زہریلی گیسوں اور ہتھیاروں کے ذریعے فصلوں، پھلوں، درختوں، جانوروں اور انسانیت کو تباہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا نے 1940ء کی دہائی کے آخر میں بہاما (Bahama Islands) میں خطرناک بیکٹیریا اور 1954ء میں کینیڈا میں خطرناک زِنک کیڈمیئم سلفائیڈ (zinc cadmium sulfide) کا چھڑکاؤ کیا۔ 1952ء میں کوریا پر نپلیم (napalm) اور ایجنٹ اورینج (agent orange)گرایا گیا، جس سے تئیس ہزار ایکڑ رقبے کے نباتات متأثر ہوئے۔ اور اس طرح 1960ء میں ویت نام پر لاکھوں ٹن ہربیسائیڈ (herbicides) اور ڈائیکسن (dioxin) کا چھڑکاؤ کیا، جس نے فصلوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ انسانوں میں بھی مہلک امراض پھیلائے۔ جیسے اندرونی معذوریاں، متعدی امراض، پیدائشی نقائص اور ذہنی و نفسیاتی بیماریاں۔ امریکا نے اپنی حیاتیاتی جارحیت کے ذریعے کیوبا پر بھی بہت سی زہریلی گیسوں اور ہتھیاروں سے حملے کیے۔ 1962ء سے 1997ء تک مختلف طریقوں سے اُن کو زیر کرنے کے لیے زہریلا مواد استعمال کیا گیا۔ 
1971ء میں ’’سی آئی اے‘‘ نے کیوبا میں ایسے خطرناک جراثیم چھوڑے کہ جس سے جریانِ خون، لال بخار اور جوڑوں میں درد جیسی مہلک بیماریاں وجود میں آئیں۔ شدید نزلہ زکام اور ہڈیوں میں ناقابل برداشت درد اس کی علامات تھیں۔ 1987ء میں صرف چھ ماہ میں تیس ہزار افراد اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔ یہ مرض اُن خطرناک مچھروں سے پھیلا، جو امریکا نے 1956-58ء میں جارجیا اور فلوریڈا پر حملے کے لیے پالے تھے۔ اس سے آپ بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے حامل طاقت ور اور مسلط حکمران طبقے انسانیت کو تباہ کرنے کے لیے کس حد تک جاسکتے ہیں۔ 
سرمایہ پرست ذہنیت کا یہ مخصوص ٹولہ اتنا گِرا ہوا ہے کہ وہ صرف اپنے مخالفین کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ اپنے ملک کی عوام اور فوج کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ چناںچہ ان کیمیائی و حیاتیاتی و زہریلی گیسوں اور مواد کا تجربہ وہ پہلے اپنے شہروں میں اور اپنے فوجیوں میں بھی کرچکے ہیں اور اپنے فوجیوں کے ذریعے سے ہی یہ مہلک امراض و وبائیں دوسرے ممالک میں منتقل کرتے ہیں۔ 1950ء میں نیویارک کے علاقے میں جہازوں اور پالتو کبوتروں کے ذریعے زنگ زدہ غلے پر آلودہ مرغیوں کے پَر گرائے گئے، تاکہ یہ اندازہ ہو کہ زنگ زدہ غلے کی وبا حیاتیاتی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوسکتی ہے یا نہیں۔ 1969ء میں امریکی فوج نے ’’میری لینڈ‘‘ کیمبرج کے نزدیک کھلی فضا میں زنک کیڈمیئم سلفیٹ (zinc cadmium sulfate) کے 115 تجربات کیے اور واشنگٹن نیشنل ائیرپورٹ پر بڑی تعداد میں بیکٹیریا کی تخم ریزی کی، تاکہ مسافروں کو جراثیم زدہ کرکے دشمن ممالک میں چیچک کا مرض اور دیگر بیماریاں پھیلائی جاسکیں۔ امریکی حکومت نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی سالوں تک عام انسانوں اور فوجیوں پر تجربات کیے ہیں۔ جن کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ کیمیائی و حیاتیاتی مواد، ایٹمی تابکاری، خطرناک دوائیں، اعصابی گیس اور دیگر زہریلا مواد اپنے مخالفین کو شکست دینے کے لیے کس حد تک اثرانداز ہوتا ہے اور کس طرح اسے دشمن کے لیے ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ( Rogue state, By William Blum، اردو ترجمہ ’’بدمعاش امریکا‘‘، ص: 146-161) 
اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سرمایہ پرست ذہنیت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح کام کرتی ہے۔ ان کے نزدیک انسانیت مقدم نہیں، بلکہ اپنی بالادستی اور اپنے مفادات اہم ہیں۔ جو لوگ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل اتنی زہریلی بیماریاں و خطرناک وبائیں پیدا کرسکتے ہیں تو ان کے لیے آج کے جدید دور میں اُس سے زیادہ مہلک بیماریاں پیدا کرنا اور وبائیں پھیلانا کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ آج مقامِ افسوس ہے کہ اس سے پوری دنیا متأثر ہورہی ہے۔ کمزور ممالک کی معیشت بُری طرح تباہ ہورہی ہے۔ غربت و بھوک سے شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 
سامراج نے ہمیشہ وباؤں کے ذریعے پوری دنیا میں خوف اور دہشت پھیلا کر انسانیت کو نشانہ بنایا۔ اس میں میڈیا کے پروپیگنڈے اور پریس نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ سرمایہ پرست ذہنیت ہمیشہ اپنے مفادات حاصل کرنے کی سفاکانہ حکمت ِعملی کا جال بُنتی رہتی ہے اور مخصوص افراد اور کمپنیز کی پروڈکٹ کی فروخت کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ اس سے وابستہ مخصوص مافیاز کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے ذریعے وہ کئی طرح کے مفادات و مقاصد پورے کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا اب انسانیت کو زیادہ ذمہ دارانہ اور باشعور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ احساس پیدا کرنے اور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک انسانیت ان درندہ صفت انسانوں کے ہاتھوں یرغمال بنتی رہے گی۔

15 / 15

رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ / 2020ء

رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ / 2020ء

ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے قیام کا مقصد قرآن حکیم کی تعلیمات اور نبی اکرمؐ کی تربیت سے صحابہ کرامؓ نے جو مثالی معاشرہ قائم کیا تھا، اُس کا تعارف اور اپنے معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے قرآن حکیم آج ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے، پر علمی، فکری اور تحقیقی بنیادوں پر کام کرنا ہے۔ قرآن حکیم کی تعلیمات اور نبی اکرمؐ کی تربیت سے صحابہ کرامؓ نے جو مثالی سماج قائم کیا، اُس کی اَخلاقی و روحانی توانائی کا نتیجہ تھا کہ ایک ہزار برس تک مسلم سماج سیاسی اور معاشی طور پر غالب رہا۔ پھر یہ ہوا کہ ہر شعبے کے بالادست طبقات کی علم و تحقیق کے میدان میں غفلت اور اَخلاقی و روحانی تربیت کے فقدان اور سیاسی بے شعوری کے سبب رسمیت کا شکار ہو کر مسلمان مغلوب ہو گئے۔ ان حالات میں سیاسی انتشار، مذہبی فرقہ واریت اور سطحی روحانیت کے نتائج کو محسوس کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں شریعت، طریقت اور اجتماعیات میں مجددانہ کام کیا۔ ہر شعبۂ دین و سیاست و معیشت میں خرابیوں کا تحلیل و تجزیہ کرتے ہوئے گروہی اور فرقہ وارانہ سطح سے بلند ہوکر قرآن و سنت اور تاریخِ انسانی کی روشنی میں نئے دور کے لیے سماج کی تشکیلِ جدید کے اصول وضع کیے۔ آپؒ کے پیشِ نظر کل انسانیت اور بالخصوص ملتِ حنیفی ابراہیمی کا کینوس تھا، جس کی رہنمائی پیغمبرِ آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپؐ کی تیار کردہ جماعتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اُسوۂ حسنہ سے ملتی ہے۔ 
رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ میں ادارہ رحیمیہ میں موجودہ ملکی صورتِ حال کی بنا پر لاک ڈاؤن اور دیگر مشکلات کی بنا پر عملاً متوسلین خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کی شرکت ممکن نہ تھی۔ اس موقع پر خانقاہِ رائے پور اپنی متحرک اور تخلیقی سوچ کی بنا پر جدید ذرائع کو بروئے کار لائی۔ چناںچہ موجودہ مسند نشین (پنجم) خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ (جانشین حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ) نے تیس ’’خطباتِ تربیت‘‘ دیے۔ اسی طرح ولی اللّٰہی اُسلوبِ تفسیر، حضرت شیخ الہند مولانامحمودحسنؒ کے تفسیری نکات اور امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے طرز پر حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے اجل خلیفہ پروفیسر ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن مدظلہٗ روزانہ تراویح میں پڑھے جانے ولے پارے کے تفسیری مضامین کا خلاصہ بیان کرتے رہے۔ یہ ’خلاصۂ تفسیر‘ اور ’خطباتِ تربیت‘ پورے ماہِ رمضان روزانہ کی بنیاد پر ادارہ کی آفیشل ویب سائٹ www.rahimia.org، یوٹیوب چینل "Rahimia Institute of Quranic Sciences" اور فیس بک پیج "Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official" پر آن لائن نشر ہوتے رہے ہیں، جس سے خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور سے منسلک احباب اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے مستفید ہوتے رہے۔ 
۲۸؍ رمضان / 22؍ مئی کو ادارہ کی جدید خطوط پر استوار ویب سائٹ کا افتتاح حضرت اقدس مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری، ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن اور مولانا مفتی محمدمختار حسن مدظلہم نے اپنے دست ِمبارک سے فرمایا۔ 
 

شمارہ ختم

واپس