ظالم کا انجام

ظالم کا انجام

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِأَخِیْہِ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْھَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ ثَمَّ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ یُؤْخَذَ لِأَخِیْہِ مِنْ حَسَنَاتِہٖ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَخِیْہِ، فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ۔‘‘ (الصّحیح البُخاری: 6534) 
(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: 
’’جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کرالے۔ کیوںکہ وہاں (روز ِمحشر) درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ قبل اس کے کہ اس کے بھائی کا بدلہ چکانے کے لیے اس کی نیکیوں سے کچھ لیا جائے۔ اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔‘‘) 
اس حدیث میں نبی اکرمﷺ باہمی معاملات میں ایک دوسرے پر ظلم و ستم اور ناانصافی کرنے کے بھیانک نتائج سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ اگر آپ سے کوئی ظلم ہوجائے تو اپنی موت سے پہلے پہلے اس کا ازالہ کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ روز ِقیامت ان معاملات کی صفائی اور اس کے بوجھ سے انسان کو نجات دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو اس مظلوم کے حق میں لکھ دیں گے۔ اگر پھر بھی ناانصافی باقی ہوگی تو اس مظلوم کی برائیاں ظالم کے نام لکھ دی جائیں گی۔ امکان ہے کہ یہ بوجھ اتنا زیادہ ہوکہ انسان جہنم میں ڈال دیا جائے۔ ایک دوسری حدیث میں ایسے شخص کو اُمت کا مفلس کہاگیا کہ وہ تمام عبادات پر کاربند ہونے کے ساتھ انسانوں کو اذیت دینے اور حق تلفی میں دانستہ ملوث رہا ہو۔ اس کا انجام بھی حضورؐ نے یہی بتایا ہے۔ (رواہ مسلم) 
باہمی معاملات کے دو دائرے ہیں: ایک اِنفرادی اور دوسرا اجتماعی۔ اِنفرادی امور میں بعض اوقات ایک انسان سے دوسرے کی حق تلفی ہوجاتی ہے۔ اس کا ازالہ ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات انسان کی اَنا‘ معافی تلافی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ یہ زیادہ خطرناک بات ہے۔ یہ رویہ معاملے کی خرابی کو برقرار رکھنے کے ساتھ کبر و غرور کا تأثر بھی دیتا ہے۔ نبی اکرمؐ کا معمول مبارک اِنفرادی اور ذاتی معاملات میں عفو و درگزر کا رہا ہے۔ 
اجتماعی حوالے سے اس حدیث سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ جب آپ کے زیرِکفالت چند لوگ ہوں، یا آپ کے پاس کوئی عہدہ، منصب ہو۔ بالخصوص حکمرانوں کا معاملہ اس بابت بہت حساس ہے کہ ایک فرد کے بجائے بہت سے لوگوں کے حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس میں ظلم و ناانصافی کا شکار ہیں تو یہ روِش انسان کو بہت دور لے جاتی ہے کہ ایک دو کے نہیں، بہت سے لوگوں کے حقوق آپ پر ہیں۔ یہ حدیث اِنفرادی اور اجتماعی دونوں دائروں میں حقوق کی ادائیگی کو لازم قرار دے رہی ہے۔ بہ صورتِ دیگر انسان کا مقدر دوزخ بن جاتا ہے۔ 
 

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں