جون-2026ء

ماہنامہ رحیمیہ

جون-2026ء

جون 02, 2026 8 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 8

علم و شعور کا چھپانا؛ انسانیت کی ترقی کی راہ میں بڑی رُکاوٹ

علم و شعور کا چھپانا؛ انسانیت کی ترقی کی راہ میں بڑی رُکاوٹ

​

علم و شعور کا چھپانا؛ انسانیت کی ترقی کی راہ میں بڑی رُکاوٹ

گزشتہ آیات (2 - البقرہ: 151 تا 158) میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اُن بنیادی اُمور کا تذکرہ تھا، جو تہذیبِ اَخلاق سے متعلق تھے۔ خاص طور پر تعظیمِ شعائر اللہ کی اَساس پر اَخلاقِ الٰہیہ اور ارتفاقاتِ اجتماعیہ کی تعلیم و تربیت کا اَخلاقی نظام واضح کیا گیا۔

درجِ ذیل آیات (2 - البقرہ: 159 تا 163) میں اللہ کی طرف سے نازل کردہ ان تربیتی اَخلاقی اُصولوں کو چھپانے، حقائق مسخ کرنے کے بد اَثرات‘ اللہ کی طرف سے اور مخلوقِ خدا کی طرف سے لعنت کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، جس سے معاشرے دُنیوی ذلت و رُسوائی میں مبتلا اور آخرت کے شدید عذاب کے مستحق بن جاتے ہیں۔

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدٰى﴾ (بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں): انسانی معاشروں کی درست تشکیل میں علمی حقائق اور عملی تقاضوں کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ کسی معاشرے میں انسانوں سے علم چھپانا اور اُنھیں عملی ہدایت سے محروم رکھنا‘ قوموں کے تنزل اور ترقی سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں بتلایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے نازل کردہ بنیادی علمی حقائق کو چھپاتے ہیں اور ہدایتِ الٰہیہ کے سوا خواہشات پر مبنی تحریفات کی صورت میں مصنوعی حقائق گھڑتے ہیں۔ وہ اللہ کی لعنت کے مستحق بنتے ہیں۔ اس لیے علم چھپانا بہت بڑا جرم ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا کہ: ’’جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی‘‘۔ (جامع ترمذی، حدیث: 2649)

علمی حقائق بیان کرنے کے لیے انسان کو اپنی زبان اور منہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور سوال کے باوجود لوگوں کے سامنے علم بیان نہ کرنے اور زبان نہ کھولنے کی سزا بھی اسی مناسبت سے انسان کے منہ کو دی جائے گی۔ اس لیے کہ ایسے انسان کی مشابہت اُس جانور کے ساتھ ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے لگام پہنائی جاتی ہے۔ جس انسان نے انبیا علیہم السلام پر نازل ہونے والے علوم کو جاننے کے باجود اپنی مَلَکیت کے باوجود صحیح بیان نہیں کیا، اُس پر حقیقت میں بہیمیت اور حیوانیت غالب ہے۔ گویا کہ وہ ایسا جانور ہے، جسے لگام پہنائی جانی چاہیے۔ علم بیان نہ کرنے سے انسانیت کو جو نقصان پہنچتا ہے، اس کی سزا آگ کی لگام کی صورت میں ہونی چاہیے۔ قرآن و حدیث کے بیان کردہ ان اُمور کی روشنی میں کتمانِ علم بہت بڑا جرم ہے۔ چوں کہ یہودیوں میں علم چھپانے کی یہ عادت بہت زیادہ تھی، اس لیے ملتِ ابراہیمیہ کے تہذیبِ اَخلاق سے متعلق اُمور بیان کرنے کے بعد ان امور کو چھپانے والے مُحرَّف مذاہب کے ماننے والوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ جو اِن علمی حقائق کو چھپائیں گے، وہ دنیا اور آخرت میں سزا کے مستحق ہوں گے۔

﴿الْبَيِّنَاتِ ﴾ : یعنی ایسے صاف احکاماتِ الٰہیہ جو روشن، بالکل بدیہی اور واضح ہیں، تہذیبِ اَخلاق سے متعلق ملتِ ابراہیمیہ میں انبیا علیہم السلام پر نازل کردہ وہ روشن احکامات؛ ذکر، شکر، صبر، نماز، جان کی قربانی کا جذبہ اور اللہ کی طرف رجوع اور تعظیمِ شعائر اللہ ایسے بدیہی اور روشن اُمور ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے متبعین پر نازل کردہ کتابوں؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن حکیم میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ اس ملت سے وابستہ تمام لوگ بشمول یہودی اور عیسائی ان روشن حقائق سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ان واضح اور روشن اُمور کو چھپانے والے مجرم ہیں۔

﴿الْهُدٰى﴾ : انسانی معاشروں کی بدیہیات اور روشن باتوں پر عملی نظام بنانے کے لیے رہنماؤں اور ہادیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چناں چہ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ میںبہ طورِ ہادی‘ انبیا علیہم السلام کا تسلسل ان بنیادی اُمور کی عملی شکل پر ہمیشہ رہنمائی کرتا رہا ہے۔ انھوں نے ذکرِ الٰہی کا طریقہ، شکر ادا کرنے کی عملی صورت، دین پر صبر و استقامت کا عملی کردار، اللہ کے راستے میں جان قربان کرنے کے جذبے کی نوعیت، اللہ سے تعلق اور اُس کی طرف رجوع کرنے کی عملی طریقت اور اپنے دور کے مطابق انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اللہ کے شعائر کی عظمت پر مبنی ہدایات کا نظام قائم کیا۔ اب اللہ کی طرف سے نازل کردہ روشن اور بدیہی احکامات اور انبیا علیہم السلام کی طرف سے دی گئی ہدایات کو چھپانا دراصل انسانیت کو قعرِ مذلت میں گرانا ہے۔

﴿مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ﴾ (بعد اس کے کہ ہم ان کو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں): ہر آدمی پر بھی اللہ کی کتاب میں انسانیت کے فائدے کے لیے بیان کردہ اُمور کو اچھی طرح علمی طور پر جان لینا، ان پر ایمان لانا، دوسروں کو ان کی تعلیم و تربیت دینا اور لوگوں کو سکھانا لازمی ہے۔ اب اگر کوئی ان گزشتہ بیان کردہ بدیہی امور کو چھپا لے اور لوگوں کے سامنے واضح طور پر بیان نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر کتاب اللہ کی ہدایت کو باطل قرار دے رہا ہے۔ ایسا آدمی اللہ کے راستے میں رُکاوٹ کھڑی کرنے والا ہے۔ اور جو آدمی انسانیت کو اللہ کے راستے سے روکے، وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے۔

دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جو اپنی قوم کے تمام افراد کو لازمی طور پر تعلیم و تربیت کے منازل سے گزارتی ہیں، اُن کی علمی استعداد کو بلند کرتی ہیں۔ علمی پختگی اور رسوخ‘ قوموں کی عملی زندگی کا درست منہج متعین کرتا ہے۔ علم و شعور ہی قوموں کی اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔ اُن میں عملی مہارت پیدا کرتا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ دورِ اوّل میں مسلمانوں نے کتاب اللہ کی تعلیم و تربیت کو جبری طور پر لازمی قرار دے دیا تھا۔ چناں چہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہٗ نے اپنے دورِ خلافت میں انھی آیات کی بنیاد پر علم کو لازمی طور پر سکھانے، بلکہ ہر ایک بچے کو لازمی دینی تعلیم کے مراحل سے گزارنے کا حکم دیا۔ اُن کے دورِ خلافت میں ہر آدمی کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ قرآن حکیم اور اس سے متعلقہ احکاماتِ شریعت اچھی طرح سمجھے اور اس کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی میں کردار ادا کرے۔ انھوں نے کئی صحابہؓ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ خلافت کے تمام علاقوں میں چل پھر کر زیادہ سے زیادہ نوجوان نسل میں قرآن حکیم کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ قرنِ اوّل کے مسلمانوں کی ترقی اور عروج کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما تھا۔ آج اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرنے کی سیاسی اور معاشی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔

﴿أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ﴾ (ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے): یہودی خصلت جو لوگ انسانیت سے علم چھپاتے اور انھیں علمی اور عملی ترقی سے محروم رکھتے ہیں، وہ اس سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن پر لعنت بھیجتا ہے اور دنیا میں وہ تمام لوگ - جو علمی ترقی سے محروم ہو کر مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں- بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں۔

’’لعنت‘‘ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں: ’’انسانیت کا ایسے مزمن اور پیچیدہ امراض(chronic diseases)میں مبتلا ہوجانا، جو اُسے مصیبتوں کی شدت اور آزمائشوں کے ایسے بحران میں مبتلا کردے کہ نوعِ انسانیت کا اصل معیار باطل ہو کر رہ جائے اور اُس معاشرے کا اصل انسانیت سے تعلق منقطع ہوجائے، اس کو ’’لعنت‘‘ کہتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں قوم پر لعنت بھیجی، یعنی: وہ ہلاکت کے کنارے پہنچ چکی ہے‘‘۔ (البدور البازغہ، ج: 2، ص: 141 - 142)

﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾ (مگر جنھوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کام کو اور بیان کردیا حق بات کو تو ان کو معاف کرتا ہوں اور مَیں ہوں بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان): جو لوگ ہدایت پر مبنی علم چھپانے کے مرض سے توبہ کرلیتے ہیں اور عملی طور پر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، اور علم کا کھلا اظہار کرنا شروع کردیتے ہیں، تو ان لوگوں کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرلیتا ہے۔

توبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں: ’’جب ایمان کا نور‘ انسانی ’’عقل‘‘ کو سچے اور حق عقائد سے منور کردیتا ہے اور وہ ’’عقل‘‘ سے قلب میں اُتر کر ’’قلب‘‘ کی جبلی ساخت کے ساتھ باہم مل جاتا ہے تو نورِ ایمانی، ’’نفس‘‘ کو اپنے تابع کرکے تنبیہ کرنے والا جذبہ پیدا کرتا ہے جو نفس کو نورِ ایمانی کی مخالف باتوں پر ڈانٹتا رہتا ہے، اس سے اُن میں ندامت اور شرمساری کی حالت پیدا ہوتی ہے، جو ’’نفس‘‘ کو مغلوب کرکے اپنے تمام لوازمات کے ساتھ گھیر لیتی ہے، تب نفس اور قلب کے درمیان آئندہ زمانے میں گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ پیدا ہوتا ہے، پھر وہ قلبی ارادہ ’’نفس‘‘ پر حاوی ہوکر اُسے شریعت کے احکامات پر عمل کرنے اور شریعت کی جانب سے منع کی گئی باتوں سے اپنے آپ کو روکنے پر مطمئن کردیتا ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ابواب الاحسان)

اب جو لوگ کتمانِ علم کے اس جرم سے، موت سے پہلے، اپنی زندگی میں توبہ کرلیتے ہیں اور نورِ ایمانی سے اُن کے نفس میں ندامت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ استغفار کرکے توبہ تائب ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، ماضی کی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے اور آئندہ اس علم کو پوری دیانت داری سے لوگوں تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں۔

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ ﴾ (بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے کافر ہی ): لیکن اگر ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے ان احکامات اور اُمور کا انکار کرنے والے لوگ اسی حالت میں مر گئے، انھوں نے دل سے توبہ نہیں کی، مرتے دم تک وہ علمی حقائق سے روگردانی کرتے رہے، انھیں چھپانے کے لیے پوری کوشش کی۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو نوعِ انسانیت کے دائرے سے باہر نکل چکے ہیں۔ وہ ایسی بہیمی خصلت کے عادی ہوچکے ہیں کہ انسانیت کو ترقی کے مواقع سے روکنے کے لیے مرتے دم تک کردار ادا کرتے رہے ہیں، تو اُن کے لیے ہمیشہ کے لیے ہمہ جہتی سزا ہے۔

﴿أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ (انھیں پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی): کفر کی حالت میں یہ مرنے والے لوگ چوں کہ بہیمیت کی حالت میں پہنچ چکے ہیں، درحقیقت وہ جانور ہیں۔ قرآن حکیم نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’اور ہم نے پیدا کیے دوزخ کے واسطے بہت سے جن اور آدمی، ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں، اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں، اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں، وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ، وہی لوگ ہیں غافل‘‘۔ (7 - الاعراف: 179) یہ علم چھپانے والے لوگ ایسے ہیں کہ دل ہونے کے باوجود نہیں سمجھتے، آنکھیں ہونے کے باوجود دیکھتے نہیں، کان ہونے کے باوجود سنتے نہیں۔ یہ جانور اس قدر لعنت کے مستحق ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بھی ان پر لعنت بھیجتا ہے، کائنات کا عالمی نظام چلانے والے تمام فرشتے بھی لعنت بھیجتے ہیں اور ان کی وجہ سے مصیبتوں میں مبتلا تمام انسانیت بھی لعنت بھیجتی ہے۔

﴿خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ﴾ (ہمیشہ رہیں گے اسی لعنت میں نہ ہلکا ہوگا ان پر سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی): ان کی سزا کا حال یہ ہے کہ وہ اس مصیبت میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اس لیے کہ انھوں نے انسانی معاشروں کی ترقی کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کیں اور انھیں مصیبتوں میں مبتلا کیا۔ انسانیت کو اذیت میں مبتلا کرنے والوں پر عذاب کی کسی طرح کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کی پھٹکار میں مبتلا رہیں گے اور دنیا اور آخرت میں ذلت اور رُسوائی اُن کا مقدر رہے گی۔ وہ اگر مہلت بھی مانگیں گے تو انھیں مہلت نہیں دی جائے گی۔ اس لیے کہ موت کے بعد مہلت کا کوئی موقع نہیں، چوں کہ علم چھپانے کے جرم کی سزا ہر دور کے انسان بھگت رہے ہیں، جو وقت چلا گیا، وہ ہاتھ نہیں آئے گا، زندگی کے قیمتی لمحات انھوں نے ضائع کردیے، اس لیے وہ ہمیشہ کے لیے بدترین سزا کے مستحق ہیں۔

ان آیات میں ملتِ ابراہیمیہ کے علوم کو بغیر کسی تحریف اور تغیر و تبدل کے انسانیت تک منتقل کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ قرآن حکیم پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کو دینی علم و شعور حاصل کرنا اور چھپائے بغیر کل انسانیت تک منتقل کرنا فرض ہے۔

2 / 8

نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابق

نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابق

​

نیک اعمال کا اَجر عقل کے مطابق

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضی اللّٰہ عنہما - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷺ: ’’إِنَّ الرَّجُلَ لَیَکُوْنُ مِنْ أَہْلِ الصَّلٰوۃِ، وَالصَّومِ، وَالزَّکٰوۃِ، وَالْحَجِّ، وَالْعُمْرَۃِ‘‘۔ حَتّٰی ذَکَرَ سِہَاَم الْخَیْرِ کُلَّہَا، ’’وَمَا یُجْزٰی یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ إلِاَّ بِقَدْرِ عَقْلِہٖ‘‘۔

(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما -سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: ’’آدمی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، عمرہ کرنے والوں میں سے ہوتا ہے۔‘‘ یہاں تک کہ حضورؐ نے بھلائی کے تمام کاموں کا تذکرہ کیا۔ پھر فرمایا: ’’قیامت کے دن اُسے اُس کی عقل کے بہ قدر ہی بدلہ دیا جائے گا‘‘۔)(مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5065)

زیرِنظر حدیث کی روشنی میں نماز، روزہ، حج اور عمرہ کی ادائیگی کا اجر انسان کو اس اصول پر ملے گا کہ اس نے اس عمل کو کتنی سمجھ کے ساتھ کیا ہے۔ نماز کے مقاصد و اہداف اور اس کے سماجی اَثرات کو اس نے کتنا سمجھا ہے۔ روزے کے شخصی تربیت اور معاشرے پر کیا اَثرات مرتب ہونے چاہئیں۔ حج اور عمرہ دونوں میں انسان شعائراللہ اور حمت وبرکات کی جگہوں پر جاتا ہے۔ اس کا فہم پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ان عبادات اور ان کے علاوہ دیگر نیکیوں کے بارے میں فرمایا کہ انسان جب ان اعمال کو جتنی عقل و فہم کے ساتھ کرتا ہے، اس نے جتنا اس کو سمجھا ہوتا ہے، روزِقیامت اس کو اس کے مطابق اجر ملے گا۔ ہر عمل سے پہلے نیت کا حکم بھی دراصل اس عمل کو سمجھ کر اور اخلاص کے ساتھ کرنے کے لیے ہے، جتنی اونچی نیت اتنا زیادہ اس کا اجر۔

سورت فرقان میں قرآن مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مؤمنوں کا مزاج یہ ہے کہ: ’’ان کو جب اللہ کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو یہ اندھے بہرے ہو کر نہیں چل پڑتے‘‘، بلکہ اس نصیحت میں غور و فکر کرتے ہیں۔ عقل و شعور استعمال کر کے دینی فہم پیدا کرتے ہیں اور عمل کے لیے اس کو بنیاد اور اساس بناتے ہیں۔ پہلی اُمتوں میں بھی انبیاعلیہم السلام اس طرف توجہ دلاتے رہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو کہتے ہیں کہ: ’’اے ابا جان! آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ کوئی نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘۔ ابراہیم علیہ السلام نے جب ان کے بت توڑے تو ان سے کہا کہ ان سے پوچھو کہ ان کے ساتھ یہ رویہ کس نے اپنایا ہے؟ تو ان کے اس جواب پر کہ: ’’آپ کو تو پتہ ہے، یہ بولتے نہیں ہیں‘‘، اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ: عقل کرو! جو بولتے نہیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بھی بیان نہیں کر سکتے تو آپ ان سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟ ان کی عبادت کیسے کرتے ہیں؟ اس لیے شریعتوں سے ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ دینی فہم عقل و شعور کی روشنی میں حاصل کرنا چاہیے۔ ہمارے حضرت مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ ہمیشہ اس طرف متوجہ کرتے رہے کہ شعور حاصل کرو، عقل پیدا کرو، گردوپیش کے حالات کو سمجھو۔

3 / 8

حضرت سلیط بن عمرو عامری قرشی رضی اللہ عنہ

حضرت سلیط بن عمرو عامری قرشی رضی اللہ عنہ

​

حضرت سلیط بن عمرو عامری قرشی رضی اللہ عنہ

حضرت سلیط بن عمرو عامری قرشی رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے اس خاندان سے تھا، جو فصاحت، دانش مندی، سرداری اور خطابت میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔ عرب معاشرے میں یہ خاندان‘ حسب و نسب کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا تھا۔ اسی پس منظر نے آپؓ کو ایک ایسی شخصیت بنایا جو دین و دنیا دونوں میدانوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

جب اسلام کی روشنی مکہ مکرمہ میں پھیلی اور حضور اقدس ﷺ ابھی دارِ ارقم میں تشریف نہیں لائے تھے، اسی ابتدائی دور میں حضرت سلیطؓ نے حضرت عمرؓ سے بھی پہلے اسلام قبول کیا۔ اس طرح وہ السابقون الاولون میں شامل ہوئے۔ ان سے پہلے صرف اکیس افراد حلقۂ اِسلام میں داخل ہوئے تھے۔ حضرت سلیطؓ کا اسلام قبول کرنا محض ایک جذباتی فیصلہ نہ تھا، بلکہ اس دور میں جب اسلام قبول کرنے کا مطلب سماجی بائیکاٹ اور ہر قسم کی تکلیف کو گلے لگانا تھا، یہ ایک انتہائی جرأت مندانہ مؤقف تھا۔ اسی دور میں ان کے بھائی سکران بن عمروؓ نے بھی اسلام قبول کیا۔

جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کی مشکلات بڑھ گئیں تو آپﷺ نے حضرت سلیطؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا۔ آپؓ نے اپنی اہلیہ فاطمہؓ بنت علقمہ کے ساتھ اسلام کی پہلی ہجرت میں حصہ لیا۔ ہجرتِ حبشہ کے دوران ان کے ہاں بیٹے سلیط بن سلیط پیدا ہوئے، جنھوں نے اپنے والد کے ساتھ ہجرت کی۔ ان کے بھائی سکرانؓ کی اہلیہ سودہؓ بنت زمعہ نے بھی حبشہ ہجرت کی اور سکرانؓ کی وفات کے بعد آپﷺ نے انھیں اپنے عقد میں لیا اور وہ ’’ام المومنین‘‘ کے مرتبے پر فائز ہوئیں۔

آپﷺ کے مدینہ ہجرت کے دو سال بعد حضرت سلیطؓ بھی مدینہ منورہ آ گئے۔ حبشہ میں ہونے کے سبب غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے، لیکن غزوۂ اُحد سمیت بدر کے علاوہ تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کے شانہ بہ شانہ شریک رہے۔ میدانِ جنگ سے دینی و اجتماعی سرگرمیوں تک ہر محاذ پر ان کی حاضری ان کے عزم کی گواہ تھی۔

انھی دنوں حضرت سلیطؓ نے حضور اقدس ﷺ کو ایک دور اندیشانہ مشورہ دیا۔ جب آپﷺ نے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپؓ نے عرض کیا کہ: ’بادشاہ مہر شدہ خط پڑھتے ہیں، اس لیے ’’مہربند‘‘ کر کے بھیجا جائے‘‘۔ آپﷺ نے یہ رائے قبول فرمائی اور اپنی مہر بنوائی۔ یہ مشورہ اس بات کی دلیل تھا کہ آپؓ دنیا کے سیاسی اور سماجی آداب سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔اسی اہلیت کی بنیاد پر آپﷺ نے انھیں۶ہجری میں یمامہ کے سردار ہوذہ بن علی حنفی اور ثمامہ بن اثال کی طرف سفیر بنا کر بھیجا۔ آپؓ وہی مہر بند خط لے کر گئے جو انھی کے مشورے پر مہربند ہوا تھا۔ آپﷺ کے وصال کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تو آپؓ اس فتنے کے خلاف اٹھنے والے لشکر میں شامل ہوئے اور معرکہ یمامہ میں۱۱ہجری کو شہید ہوئے۔

4 / 8

دنیا کی سامراجی میراث اور آج کی دنیا

دنیا کی سامراجی میراث اور آج کی دنیا

​

دنیا کی سامراجی میراث اور آج کی دنیا

حالیہ دنوں امریکی کانگریس میں شاہ چارلس سوم کے خطاب کو مغربی میڈیا نے ایک بڑی سفارتی اور تہذیبی مثال کے طور پر پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں آئینی روایت، اجتماعی مشاورت اور ادارہ جاتی توازن کا ذکر نمایاں تھا، لیکن تاریخ کا دوسرا رُخ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جس برطانیہ کو آج جمہوریت، پارلیمان اور آئینی ارتقا کی علامت بنایا جاتا ہے، اُسی برطانیہ نے صدیوں تک دنیا بھر میں استعمار، لوٹ مار اور سیاسی تباہی کا ایک ایسا نظام قائم رکھا، جس کے اثرات سے آج بھی دنیا پوری طرح آزاد نہیں ہو سکی۔

برِعظیم ہندوستان اس ظلم کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کے نام پر آئی، مگر جلد ہی پورے ہندوستان پر قابض ہو گئی۔ ہندوستان کی معیشت، صنعت اور تجارت کو دانستہ تباہ کیا گیا، تاکہ برطانوی مصنوعات فروخت ہوسکیں۔ بنگال کا قحط - جس میں لاکھوں لوگ مر گئے -سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ تھا، جسے متعدد مؤرخین ایک عظیم انسانی المیہ قرار دیتے ہیں۔ برطانیہ نے ہندوستان کے وسائل لوٹے، مقامی صنعت کو کمزور کیا اور ایک خوش حال خطے کو غربت اور پس ماندگی میں دھکیل دیا۔

پھر تقسیمِ ہند کا سانحہ‘ برطانوی استعمار کی ایک اور الم ناک میراث بن گیا۔ جاتے جاتے ایسی سرحدیں کھینچی گئیں، جنھوں نے لاکھوں انسانوں کے لیے ایک وسیع انسانی المیے کو جنم دیا۔ کشمیر کا تنازع، پاک بھارت کشیدگی اور جنوبی ایشیا کی مستقل بے چینی اسی غیر ذمہ دارانہ تقسیم کے اثرات ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بھی برطانیہ نے اپنے مفادات کے لیے ایسی پالیسیاں اختیار کیں، جنھوں نے پورے خطے کو عدمِ استحکام میں مبتلا کر دیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سائیکس پیکو معاہدے کے تحت مصنوعی سرحدیں بنائی گئیں۔ فلسطین کے مسئلے میں بالفور اعلامیہ(Balfour Declaration)، جو 2؍ نومبر 1917ء کو برطانوی وزیرِ خارجہArthur James Balfourنے جاری کیا تھا۔ اس اعلامیے میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ’’قومی وطن‘‘(National Home)کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یہ خط برطانوی حکومت کی جانب سےLord Rothschildکو لکھا گیا تھا اور اسی کی بنیاد پر بعد میں 14؍ مئی 1948ء کو اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس اعلامیے نے ایک ایسی آگ بھڑکائی جس کی لپیٹ میں آج تک پورا خطہ جل رہا ہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور خطہ مسلسل جنگوں، بداعتمادی اور نفرتوں کا شکار ہو گیا۔افریقا میں ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت نسلی اور قبائلی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ غلام تجارت کے ذریعے افریقی انسانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر منڈیوں میں فروخت کیا گیا۔ نوآبادیاتی نظام نے انسان کو صرف منافع کا ذریعہ سمجھا، بلکہ آج بھی افریقا کے کئی سیاسی اور معاشی بحران اُسی سامراجی دور کی باقیات ہیں۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ نے دنیا کو ریلوے، عدالتیں اور جدید ادارے دیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے زیادہ تر سامراجی اقتدار کے تحفظ اور وسائل کی منتقلی کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ ریلوے خام مال بندرگاہوں تک پہنچانے کے لیے تھی، تعلیم ایسے افراد تیار کرنے کے لیے تھی جو سامراجی مشینری چلا سکیں اور قانون مقامی آبادی کو قابو میں رکھنے کا ذریعہ تھا۔آج دنیا جن بڑے تنازعات، سرحدی جھگڑوں اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے، اُن میں برطانوی سامراجی پالیسیوں کا عکس واضح دکھائی دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی بداَمنی، جنوبی ایشیا کی دشمنیاں اور افریقا کی سیاسی کمزوری‘ سب اُس استعماری سیاست کے نتائج ہیں، جس نے طاقت اور مفاد کو انصاف اور انسانیت پر ترجیح دی۔

اس تاریخ کا مقصد صرف ماضی پر نوحہ کرنا نہیں، بلکہ سبق حاصل کرنا ہے۔ قومیں اُس وقت محفوظ رہتی ہیں، جب اُن کے پاس مضبوط ادارے، سیاسی بصیرت، علمی خودمختاری اور معاشی استقلال موجود ہو۔ ورنہ طاقت ور قوتیں ہمیشہ کمزور معاشروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی رہتی ہیں۔ برطانیہ کی سامراجی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت اگر اَخلاق، انصاف اور انسانیت سے خالی ہو جائے تو وہ تہذیب کے نام پر بھی تباہی ہی لاتی ہے۔

کتاب کا قتلِ عام اور ایک قوم کی خاموش خودکشی

پاکستان میں کتاب سے دوری اب محض ایک ثقافتی یا تعلیمی مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک گہرے قومی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایک ایسا بحران جو خاموشی سے ہماری فکری بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آہستہ آہستہ کتاب، مطالعے اور فکر کے اس پورے کلچر کو ختم کر دیا ہے، جو کسی بھی زندہ اور باشعور معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم ایک قوم کے طور پر کتاب کا قتلِ عام کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنی فکری خودکشی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام نے علم کو شعور، تحقیق اور فکری تربیت کے بجائے صرف امتحان، نمبروں اور ملازمت تک محدود کر دیا ہے۔ طالب علم کی کامیابی کا معیار‘ اب اس کی سوچ، مطالعے یا تخلیقی صلاحیت نہیں، بلکہ اس کے گریڈز اور ڈگریاں بن چکے ہیں۔ نتیجتاً کتاب ایک زندہ فکری رفیق کے بجائے محض نصابی ضرورت بن کر رہ گئی ہے۔ غیر نصابی مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ لائبریریاں ویران ہیں اور نوجوان نسل کا تعلق سنجیدہ علمی روایت سے ٹوٹتا جا رہا ہے۔

سمسٹر سسٹم کے نام پر جو تعلیمی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے، اس نے علم کو گہرائی کے بجائے رفتار کا اسیر بنا دیا ہے۔ آج کا طالب علم ایک ایسے مسلسل امتحانی دباؤ میں زندگی گزار رہا ہے، جہاں اس کے پاس سوچنے، رُکنے اور کتاب کے ساتھ وقت گزارنے کی مہلت ہی نہیں۔ یہ نظام دراصل ’’فکری جنک فوڈ‘‘ پیدا کر رہا ہے۔جس طرح جنک فوڈ کھانے میں لذیذ ہوتا ہے، مگر جسم کو کوئی غذائیت نہیں دیتا، بلکہ نقصان پہنچاتا ہے، بالکل اسی طرح فکری جنک فوڈ ذہن کو لمحاتی مزہ تو دیتا ہے، لیکن سوچنے کی صلاحیت، توجہ اور وقت سب کو برباد کر دیتا ہے۔

اس کی سب سے بڑی مثالیں سوشل میڈیا پر بے مقصد سکرولنگ، بے فائدہ وائرل ویڈیوز، گپ شپ اور افواہیں اور سطحی بحثیں ہیں، جن سے نہ علم بڑھتا ہے نہ کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان مصروف تو رہتا ہے، لیکن اس مصروفیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور آہستہ آہستہ گہری سوچ اور توجہ کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

اسی ماحول نے طالبِ علم کو ایک ایسے دوڑتے ہوئے گھوڑے میں تبدیل کر دیا ہے، جسے ہر وقت دوڑایا تو جا رہا ہے، مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ منزل کہاں ہے۔ اس کے ہاتھ میں ڈگری ہے مگر ذہن میں سوال نہیں، حافظے میں معلومات ہیں، مگر شخصیت میں فکر نہیں۔ تعلیم ایک شعوری سفر کے بجائے محض ملازمت کے حصول کی دوڑ بن چکی ہے۔

یہ بحران صرف اداروں تک محدود نہیں، بلکہ معاشرتی ترجیحات بھی اس میں برابر کی شریک ہیں۔ والدین بچوں کو کتاب سے زیادہ کیریئر کی طرف دھکیلتے ہیں۔ ایک نوجوان اگر اعلیٰ ملازمت حاصل کر لے تو اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کا ذہنی و فکری اُفق کتنا ہی محدود کیوں نہ ہو۔ سوشل میڈیا اور مختصر معلوماتی مواد نے بھی سنجیدہ مطالعے کی روایت کو شدید متاثر کیا ہے۔ نئی نسل معلومات کے ہجوم میں رہتے ہوئے بھی فکری گہرائی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو قومیں کتاب سے اپنا رشتہ توڑ دیتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ سوچنے، سوال کرنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہیں۔ کتاب‘ انسان کے اندر شعور، تحمل، بصیرت اور فکری آزادی پیدا کرتی ہے۔ جب معاشرے میں مطالعہ ختم ہو جائے تو وہاں سطحیت، جذباتیت اور ذہنی جمود جنم لیتا ہے۔

اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے محض رسمی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی۔ ہمیں کتاب اور مطالعے کو دوبارہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں لائبریری کلچر کو زندہ کرنا، غیر نصابی مطالعے کی حوصلہ افزائی کرنا اور امتحانی نظام کو رٹے سے نکال کر فکری وتجزیاتی بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ اساتذہ، والدین، تعلیمی اداروں اور ریاست‘ سب کو اس فکری بحران کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا۔کیوں کہ کتاب صرف کاغذ پر لکھی ہوئی سطریں نہیں، بلکہ قوموں کی فکری زندگی کی بنیاد ہوتی ہے اور جب کتاب مرنے لگے تو قومیں بھی اندر سے مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔

5 / 8

’’نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات‘‘ (1)

’’نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات‘‘ (1)

​

’’نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات‘‘ (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’نورِ ایمان جب انسانی نفس پر اپنا تسلط حاصل کرلیتا ہے اور اُس کو اپنے تابع کرلیتا ہے اور اُس کی گندی اور خسیس صفات کو اچھی اور عمدہ صفات میں بدل دیتا ہے تو انسانی نفس میں درجِ ذیل مقامات پیدا ہوتے ہیں:

(1۔ توبہ)

نفس کے مقامات میں سے پہلا مقام ’’توبہ‘‘ ہے ۔

(توبہ کی حقیقت)ـ: جب ایمان کا نور‘ انسانی ’’عقل‘‘ کو سچے اور حق عقائد سے منور کردیتا ہے اور وہ ’’عقل‘‘ سے قلب میں اُتر کر ’’قلب‘‘ کی جبلی ساخت کے ساتھ باہم مل جاتا ہے تو نورِ ایمانی، ’’نفس‘‘ کو اپنے تابع کرکے تنبیہ کرنے والا جذبہ پیدا کرتی ہے جو نفس کو نورِ ایمانی کی مخالف باتوں پر ڈانٹتا رہتا ہے، اس سے اُن میں ندامت اور شرمساری کی حالت پیدا ہوتی ہے، جو ’’نفس‘‘ کو مغلوب کرکے اپنے تمام لوازمات کے ساتھ گھیر لیتی ہے، تب نفس اور قلب کے درمیان آئندہ زمانے میں گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ پیدا ہوتا ہے، پھر وہ قلبی ارادہ ’’نفس‘‘ پر حاوی ہوکر اُسے شریعت کے احکامات پر عمل کرنے اور شریعت کی جانب سے منع کی گئی باتوں سے اپنے آپ کو روکنے پر مطمئن کردیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوٰى ﴾ (79 - النازعات: 41-40) (اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اس نے اپنے جی کو خواہش سے، سو بہشت ہی ہے اس کا ٹھکانا)۔

(نورِ ایمانی کا ’’عقل‘‘ پر اُترنا): میں کہتا ہوں کہ: اللہ تعالیٰ کے اس قول﴿مَنْ خَافَ﴾ میں عقل کا نورِ ایمانی سے منور ہوجانے اور پھر اس نور کا عقل سے دل پر اُترنے کا بیان ہے۔ اس لیے کہ خوف کی ایک ابتدا اور ایک انتہا ہوتی ہے:

٭خوف کی ابتدا یہ ہے کہ جس ذات (رب تعالیٰ کے بلند مقام) سے ڈرایا جا رہا ہے، اُس کی اور اُس کی سطوت اور شوکت کی معرفت کا پیدا ہونا، اس کا محل ’’عقل‘‘ ہے۔

٭خوف کی انتہا؛ گھبراہٹ، بے چینی اور وحشت کا ہونا اور اس کا محل ’’قلب‘‘ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس قول:﴿وَنَهَى النَّفْسَ ﴾ میں اس کا بیان ہے کہ نورِ ایمانی -جو قلب کی جبلت اور سختی کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے - کا ’’نفس‘‘ پر نزول کرنا اور اس کو اپنے تابع کرکے اُس کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور اُسے مغلوب کرنا اور اپنے حکم کے تابع کرنا۔

(نورِ ایمانی کا ’’عقل‘‘ سے ’’قلب‘‘ پر آنا): پھر ’’عقل‘‘ سے دوسری مرتبہ نورِ ایمان ’’قلب‘‘ پر نازل ہوتا ہے اور اُس کی جبلت کے ساتھ باہم مل جاتا ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان اللہ کی پناہ حاصل کرنے اور اُس سے التجا کرنے کی حالت پیدا ہوتی ہے۔ یہ چیز انسان کو استغفار کرنے اور اللہ کی جانب رجوع کی طرف لے جاتی ہے۔ استغفار؛ ’’نفس‘‘ کو صاف ستھرا بنا دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جب مؤمن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے اور مغفرت طلب کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ گناہ میں بڑھتا چلا جائے تو وہ سیاہ نکتے بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اس کے دل پر غالب آ جاتے ہیں، یہی وہ ’’رَانَ‘‘ (زنگ) ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے: ’’ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ ہے‘‘ (-83 التّطفیف: 14)۔ (مشکوٰۃ:2342)

مَیں یہ کہتا ہوں کہ: سیاہ نکتے کا مطلب دراصل بہیمیت کی ظلمتوں میں سے ایک ظلمت کا ظاہر ہونا ہے اور مَلَکیت کے انوار میں سے ایک نور کا چھپ جانا ہے۔ ’’قلب‘‘ کے صاف ستھرا ہونے کا مطلب وہ روشنی ہے، جس کا فیضان نورِ ایمانی سے ’’نفس‘‘ پر ہوتا ہے۔ اور ’’زنگ‘‘ سے مراد؛ بہیمیت کا غلبہ اور مَلَکیت کا بالکل چھپ جانا ہے۔

(نورِ ایمانی کا ’’نفس‘‘ کو گناہوں سے روکنا):پھر نورِ ایمان کا ’’نفس‘‘ پر بار بار نزول ہوتا ہے اور وہ نفسانی خیالات کو دفع کرتا رہتا ہے۔ پس جب بھی نفس میں گناہ کا خیال پیدا ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں یہ نور نفس پر نازل ہوتا ہے اور اُس باطل کا سر کچل دیتا ہے اور اسے مٹا دیتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ نے صراطِ مستقیم کی مثال بیان فرمائی کہ راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک داعی ہے، وہ کہہ رہا ہے: سیدھے چلتے جاؤ، ٹیڑھے مت ہونا۔ اور اس کے اوپر ایک اَور داعی ہے۔ جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: ’’تم پر افسوس ہے! اسے مت کھولو، کیوں کہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہو جاؤ گے‘‘۔ پھر آپؐ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’صراطِ مستقیم‘‘ سے مراد اسلام ہے۔ کھلے ہوئے دروازے‘ اللہ کی حرام کردہ اشیا ہیں۔ لٹکے ہوئے پردے‘ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں۔ راستے کے سِرے پر داعی‘ قرآن ہے اور اس کے اوپر جو داعی ہے، وہ ہر مؤمن کے دل میں اللہ کا واعظ ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ: 191)

مَیں یہ کہتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہاں دو داعیوں کا بیان فرمایا ہے: ایک داعی راستے کے سِرے پر کھڑا ہوا قرآن اور شریعت ہے۔ یہ انسان کو سیدھے راستے کی طرف ایک ترتیب کے ساتھ دعوت دیتے ہیں۔ دوسرا داعی سالک (سفر طے کرنے والے) کے سر کے اوپر موجود ہوتا ہے، جو ہر دم اُس کی نگرانی کرتا ہے جب بھی وہ کوئی گناہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیخ کر اُسے اس سے روکتا ہے۔

یہ وہ خیال ہے، جو ’’قلب‘‘ کی جبلت اور اُس ’’قلب‘‘ پر قرآن کے نور سے منور ’’عقل‘‘ کے نور کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ اُس شرارے کے مشابہ ہے، جو (آگ والے) پتھر سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد پھوٹتا ہے۔

بسا اوقات اللہ کی اپنے بعض بندوں پر خاص مہربانی ہوتی ہے کہ کوئی ’’غیبی لطیفہ‘‘ اُس کے اور گناہوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ ’’برہان‘‘ اور لطیفہ ہے، جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ کیا گیا ہے: ’’اور البتہ عورت (زلیخا) نے فکر کیا اس (یوسفؑ) کا، اور اس نے فکر کیا عورت کا،اگر نہ ہوا ہوتا یہ کہ دیکھے قدرت (برہان) اپنے رب کی‘‘۔ (-12 یوسف: 24) یہ تمام پہلو توبہ کے ’’مقام‘‘ میں سے ہیں‘‘۔

(حُجّۃ اللّٰہ البالغہ، أبواب الإحسان، باب: 4، المقامات والأحوال)

6 / 8

سلطان محمد فاتح: ایک مثالی حکمران

سلطان محمد فاتح: ایک مثالی حکمران

​

سلطان محمد فاتح: ایک مثالی حکمران

سلطان محمد فاتح کی قابلیت کے جوہر‘ رزم و بزم دونوں میدانوں میں نمایاں تھے۔ وہ نہ صرف عظیم فاتح تھے، بلکہ علم و ادب کے بھی رمز شناس وسرپرست تھے۔ انھوں نے اپنے دور کے بہترین اساتذہ سے انتہائی سرعت کے ساتھ علم حاصل کیا۔ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی، فارسی، عبرانی، لاطینی اور یونانی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ تاریخ و جغرافیے سے بھی پوری واقفیت تھی۔ وہ خود شاعر تھے اور شعر و سخن کے سرپرست تھے۔ ان کے دربار سے وابستہ شعرا کو گراں قدر وظائف ملتے تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے صوفی شاعر خواجہ جہاں اور ایران کے مولانا جامی کی خدمت میں بھی گراں قدر وظائف و تحائف بھجوائے جاتے تھے۔

سلطان محمد فاتح چوں کہ خود بھی علوم میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ ایک بڑی سلطنت کے قیام اور استحکام کے لیے جہاں عزم و ہمت، حکمت و دانائی اور فوجی قابلیت کی ضرورت ہے، وہاں تعلیم و تعلم کی اس سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ چناں چہ انھوں نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مدارس و مکاتب قائم کیے۔ ان کے اجداد میں ’’اَدَرخان‘‘ کو اسکولوں اور کالجوں کے قائم کرنے کا بڑا شوق تھا، لیکن سلطان محمد فاتح اس معاملے میں ان سب سے بڑھ گئے۔ انھوں نے اس کام کے لیے ایک شعبہ ’’سلسلۂ علما‘‘ کے نام سے قائم کیا، جس میں سلطنت کے مفتیوں اور قاضیوں (ججوں) کی تعلیم و تربیت کا نہایت عمدگی کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ عدالتوں کا نظم و نسق درست رکھنے کے لیے اور قاضیوں اور مفتیوں کی عزت و احترام کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم و دیانت سے آراستہ ہوں اور معاشی پریشانیوں اور وسوسوں سے محفوظ کر دیے جائیں۔

ان مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انھوں نے جو تعلیمی نظام مرتب کیا، وہ معقولات ومنقولات کے علاوہ سیاسی اہمیت کا حامل بھی تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اپنی کتاب ’’مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:’’سلطان محمد فاتح نے جو تعلیمی نظام بنایا، وہ پولیٹیکل حیثیت رکھتا تھا۔ وہ سلطنت کے لیے لائق و فائق رجالِ کار تیار کرتا‘‘۔ چناں چہ سلطان محمد فاتح نے ہر قصبے اور دیہات میں حسبِ ضرورت مکاتب قائم کیے۔ اس کے علاوہ شہروں میں اونچے درجے کے مدارس (کالج) بھی قائم کیے اور ان کے ساتھ جائیدادیں بھی وقف کیں، تاکہ اخراجات میں وہ خود کفیل ہوں۔ ان مدارس میں تقریباً دس مضامین کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی۔ ان میں صرف، نحو، منطق، مابعد الطبیعیات (سائنس)، لسانیات، بلاغت، طرزِ تحریر (ہینڈ رائٹنگ)، اقلیدس (ریاضی و جیومیٹری) اور فلکیات‘ یہ سب مضامین پڑھائے جاتے۔ طلبا اِن علوم میں پوری مہارت حاصل کرتے، جو موجودہ دور کی یونیورسٹی کی ایم اے کے برابر ہوتی، لیکن علما کی جماعت کا رُکن بننے کے لیے ان علوم کے علاوہ قرآن و حدیث اور خصوصاً فقہ اور اصولِ فقہ کا نصاب مکمل کرنا ہوتا تھا۔ ان علوم کو حاصل کرنے والے ماہرین کو سلطنت کے اہم مناصب پر فائز کیا جاتا۔ مدارس اور کالجز کے مدرسین و اساتذہ بھی انھی ماہرین میں سے لیے جاتے۔

’’تاریخ ترکانِ عثمانی‘‘ کا برطانوی مصنف ایڈورڈ کریسی - جس کی تحقیق‘ قدیم تاریخی ماخذوں پر مبنی ہے - لکھتا ہے کہ: ’’عثمانیوں کے شرف و افتخار کا یہ واقعہ بھی ضبطِ تحریر میں لانا چاہیے کہ ان میں مدرسین اور ان تمام اشخاص کا احترام -جو خود علمی فضیلت میں ممتاز ہوں، یا اس کے حاصل کرنے والوں کی رہنمائی کا خاص ملکہ رکھتے ہوں -ہر عیسائی قوم سے زیادہ کیا جاتا ہے‘‘۔ (جلد اول، ص:172)

اس کے علاوہ اس کا ایک اہم ترین کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے سلطنت کا آئین مرتب کیا۔ اس کا‘ آئین کا خالق ہونا بھی اس کو دوسرے عثمانی سلاطین سے ممتاز کرتا ہے۔ اس آئین میں اس نے سلطنت کو ایک خیمے سے تشبیہ دی ہے، جو چار ستونوں پر قائم ہے اور وہ چار ستون یہ ہیں؛ انتظامیہ: یعنی وزیراعظم اور وزرائے سلطنت۔ سلطان کے زمانے میں وزرا کی تعداد صرف چار تھی۔ حکومت کی مہر بھی اس کے پاس ہوتی تھی۔ دوسرا ستون فوج کا محکمہ: اس شعبے کے بھی قواعد وضوابط مرتب کیے گئے۔ تیسرا ستون تعلیم: اسی کے ضمن میں عدل و انصاف کا محکمہ بھی تھا۔ اور چوتھا ستون: شعبۂ مالیات تھا۔ ان تمام شعبوں کی سلطان خود نگرانی کرتا۔ جہاں کہیں کوئی کمی بیشی ہوتی تو سلطان خود مواخذہ کرتا اور سزا دینے میں کوئی تامل نہ ہوتا، لیکن سلطنت کے باشندوں کا بلا تفریق مذہب و ملت اور رنگ و نسل ہر طرح سے خیال رکھا جاتا۔ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی۔ آپ کا دَور رواداری اور برداشت کا دَور سمجھا جاتا تھا۔ بازنطینی -جو شکست کھا چکے تھے - کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ اسی طرح عثمانی سلطنت میں آباد مسیحی اور یہودی برادری کے ساتھ بھی مثالی سلوک کیا، جس کا یورپی مؤرخین بھی اعتراف کرتے ہیں۔ الغرض! سلطان محمد فاتح میں وہ تمام اوصاف اور خوبیاں موجود تھیں، جو ایک مثالی حکمران میں ہونی چاہئیں۔ع

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

7 / 8

خاتم النبیین ﷺ اور حق کی ابدی جدوجہد

خاتم النبیین ﷺ اور حق کی ابدی جدوجہد

​

خاتم النبیین ﷺ اور حق کی ابدی جدوجہد

27؍ مارچ 2026ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! دینِ اسلام‘ انسانیت کی ہدایت، فلاح اور بقا کا مکمل نظام پیش کرتا ہے، جس کا اصل سرچشمہ قرآن حکیم، فرامینِ نبوی ﷺ اور اسلامی خلافت و معاشرتی نظام ہے۔ جب تک اسلامی خلافتیں اور مسلم حکومتیں قائم رہیں، انسانیت کے بنیادی اصول؛ عدل، اخلاق اور اجتماعی بھلائی کا نظام بھی دنیا میں قائم رہا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے 23 سالہ دورِ نبوت میں اور خلفائے راشدین نے اپنے دورِ خلافت میں اسلام کے عملی نظام کو نافذ کرکے انسانیت کے لیے ایک مثالی معاشرہ قائم کیا، جسے بعد کے ادوار میں بھی مختلف اسلامی خلافتوں نے برقرار رکھا۔

انسانی معاشرے ہمیشہ کمزوریوں اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ جیسے انسان جسمانی بیماریوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا، اسی طرح معاشروں میں بھی اخلاقی اور سماجی خرابیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن جب یہ خرابیاں حد سے بڑھ کر مستقل اور خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انسانیت کی اصلاح کے لیے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا ہے۔ تاریخ انسانیت میں انبیاء علیہم السلام نے ایسے ہی ادوار میں انسانیت کی رہنمائی کی، جب ظلم، فساد اور گمراہی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔

سابقہ انبیا مخصوص قوموں کی طرف بھیجے گئے تھے، لیکن نبی اکرم ﷺ پوری انسانیت کے لیے مبعوث ہوئے۔ آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن انسانیت کی اصلاح اور حق کی حفاظت کا عمل ختم نہیں ہوا۔ خاتم النبیین کا مطلب بھی یہی ہے کہنبی اکرم ﷺ کی اتباع میں ایک سچی جماعت، طائفہ منصورہ، حق پر قائم ایک جماعت، جو انبیاء کے طرز پر انسانیت کی بقا کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی۔ حدیثِ نبوی ﷺ ’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ (علما‘ انبیا کے وارث ہیں) کا مفہوم بھی یہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے متبع علمائے ربانیین، اہل اللہ، انبیاء علیہم السلام کی وراثت کے حامل، جامع شریعت و طریقت و سیاست اولیاء اللہ‘ اپنی اپنی اقوام میں انسانیت کی بقا کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ہر فرعون کے مقابلے میں ایک موسیٰ پیدا ہوتا رہے گا، ایک جالوت کے مقابلے میں داؤد اور سلیمان پیدا ہوتے رہیں گے، نمرود کے مقابلے پر ابراہیم پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس طرح انبیا علیہم السلام کی وراثت -علمائے ربانیین- کا سلسلہ قیامت تک برقرار رہے گا۔ دنیا میں مزاحمت، جدوجہد اور حق و باطل کا مقابلہ انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ اگر ظالم قوتوں کے مقابلے میں مزاحمتی قوتیں موجود نہ ہوں تو عبادت گاہیں، انسانی اقدار اور دینی تعلیمات سب مٹ جائیں۔ اس لیے جو جماعت یا قوم ظلم و فساد کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، وہ درحقیقت انبیا علیہم السلام کی جدوجہد کی نمائندہ ہوتی ہے‘‘۔

ہر طرح کے فساد کا آغاز‘ معاہدات شکنی سے ہوتا ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’ریاستیں اور انسانی معاشرے ہمیشہ معاہدات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ ان معاہدات کو نقصان پہنچانے والے ہمیشہ پستی اور ذلت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ’’جو عہد اللّٰہ(اللہ کے عہد) کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں، اور ملک میں فساد کرتے ہیں، وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘ (-2 البقرہ: 27)۔ مدینہ منورہ میں نبی اکرم کی آمد سے پہلے بھی ایک سماجی و ریاستی ڈھانچہ موجود تھا، جس میں یہودی قبائل، اوس و خزرج اور قریش اپنی خاندانی و سماجی روایات کے مطابق ریاستی معاملات چلاتے تھے۔ ’’عہد اللّٰہ‘‘ دراصل وہ معاہدات ہیں جو انسان‘ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کرتے ہیں۔ تاریخ میں معاہدات ہمیشہ خدا کے نام پر کیے جاتے رہے، جیسے ’’حِلْفُ الفُضول‘‘ اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘۔ میثاقِ مدینہ میں انسانی جان، مال، عزت اور اجتماعی دفاع کے اصول طے کیے گئے تھے۔ قرآن کہتا ہے کہ جو لوگ ان معاہدات کی توثیق کے بعد انہیں توڑتے ہیں، وہ دراصل انسانیت کے اجتماعی نظام کو تباہ کرتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا کہ وہ ان رشتوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس آیت کے ذیل میں خاندانی، قومی، ریاستی اور بین الاقوامی تعلقات سب شامل ہیں۔

ہر طرح کے فساد کا آغاز معاہدات توڑنے اور انسانی رشتے ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ قرآن نے فساد کی دو بنیادی شکلیں بیان کی ہیں: قومی وسائل کو تباہ کرنا اور نسل انسانی کو ہلاک کرنا۔ (2 - البقرہ: 205) جو لوگ ظلم، تکبر اور طاقت کے نشے میں معاہدات کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہی فرعونیت، نمرودیت اور منافقت کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا: ’’یہی لوگ حقیقی خسارے میں ہیں‘‘، کیوں کہ انسانیت کا زندہ ضمیر‘ ظلم اور فساد کو کبھی قبول نہیں کرتا۔

جب بھی دنیا میں فساد پھیلتا ہے تو اس کے مقابلے میں مزاحمتی قوتیں ضرور پیدا ہوتی ہیں۔ اگر پوری انسانیت ظلم کے سامنے خاموش ہو جائے تو دنیا کی تباہی یقینی ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ انسانیت کی بقا کا انتظام فرماتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی طاقتیں، جو اپنے آپ کو ناقابل شکست سمجھتی تھیں، وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوگئیں، جب کہ اسلام کی اجتماعی قوت ایک ہزار سال تک انسانیت کی بقا کی جدوجہد کرتی رہی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانی حقوق، ریاستوں کی حدود اور عالمی معاہدات طے کیے گئے۔ لیکن انہی معاہدات کی خلاف ورزی بڑی طاقتوں نے کی، جنہوں نے فلسطین، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک کے حقوق پامال کیے۔ یہ ’’نقضِ عہد‘‘ (عہد توڑنا) اور ’’فساد فی الأرض‘‘ (زمیں میں فساد) کی جدید شکل ہے، جہاں طاقت ور ممالک عالمی معاہدات کی توثیق کے باوجود کمزور قوموں کے حقوق سلب کرتے ہیں‘‘۔

رافضیت کا اصل مفہوم اور عالمی طاقتوں کا فساد فی الارض

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

سورۃ البقرہ کی آیت ’’ینقضون إلخ‘‘ میں ’’نقض‘‘ سے مراد بنیادی قانون، معاہدے اور ضابطے کی ضد ہے۔ جیسے انسان اور لاانسان ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ جب کہ ’’رِفض‘‘ یہ ہے کہ معاہدہ موجود ہو، اس کو مانا بھی جائے، لیکن پھر کسی حیلے بہانے سے اس کو چھوڑ دیا جائے اور اپنی من مانی تشریح اور توجیہ کی جائے۔ انسانی سوسائٹی میں جب نقضِ عہد یا رفضِ عہد پیدا ہوتا ہے تو یہی فساد کی سب سے بڑی جڑ بنتا ہے۔ اجتماعیت کو بظاہر تسلیم کرنا مگر اس کے بنیادی اصولوں کو توڑ دینا ہی رفض ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ کی اجتماعیت، جماعتِ صحابہ اور خلافت کی شکل میں قائم اجتماعی نظام کو بہ ظاہر مانا جائے، مگر من پسند بنیادوں پر کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا جائے اور کچھ کو اختیار کیا جائے تو یہ ’’رفض‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت امام زید بن علی زین العابدینؒ نے ’’رِفْض‘‘ کا لفظ سب سے پہلے ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جو جماعتِ صحابہ کی اجتماعیت کو توڑتے تھے، اور اسی سے ’’رافضی‘‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافضیت صرف مذہبی مسئلہ ہی نہیں، بلکہ اس کا اصل تعلق سیاسیات سے ہے۔ جو کسی معاہدے، نظام یا اجتماعیت کو مان کر پھر اس کے خلاف کام کرے، وہ سیاسی رافضی ہے۔ اسی تناظر میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے ان تحریکوں کو’’رافضی‘‘ کہا جو خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سامراجی مفادات کے لیے کام کر رہی تھیں۔ یمن، نجد اور خلیج فارس میں برطانوی مفادات کے لیے چلنے والی تحریکوں کو اس لیے مولانا سندھیؒ نے ’’چھوٹا رافضی‘‘ فرمایا، کیوں کہ وہ بہ ظاہر خلافت کا انکار نہیں کرتی تھیں، مگر اندر سے اس کے خلاف سازشوں میں شریک تھیں۔ برطانیہ کے نمائندوں؛ مصر میں میکموہن، بصرہ میں کرنل لارنس اور کویت میں پرسی کاکس کے ذریعے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑا گیا۔

آج اقوام متحدہ کے معاہدات پر 193 ممالک کے دستخط موجود ہیں اور ہر ملک کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے، مگر ان معاہدات کی خلاف ورزی کرنے والے اصل رافضی امریکا، اسرائیل اور ان کے حامی ہیں، جنھوں نے اقوامِ متحدہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے بہت سے معاہدات کو روند ڈالا ہے۔ جب کہ ایران نے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اپنی قومی آزادی کی جنگ لڑی۔ اسرائیل یا امریکی بیسز پر حملوں میں بھی پہلے اطلاع دی جاتی ہے تاکہ انسانیت کا نقصان نہ ہو۔ اس کے برعکس امریکا اور اسرائیل ایسے بے شرم رافضی ہیں، جو معاہدات توڑتے، قوموں کے منتخب نمائندوں کو حراست میں لیتے اور ملکوں کو سپریم لیڈروں کو قتل کرتے ہیں اور دنیا بھر میں فساد فی الارض پھیلاتے ہیں۔ جب کہ ایران نے آئینی اور دستوری حقوق کے تحفظ کے ذریعے اپنی قوت پیدا کی اور امریکا کی بدمعاشی کا چالیس سال سے مقابلہ کیا اور آج بھی کر رہا ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں اصل میں ’بڑا رافضی‘ کون ہے۔

مزاحمت، اجتماعیت اور دجالی فتنوں کا شعور

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے مظلوم اقوام اور افراد کو ظلم کے خلاف مزاحمت، مقابلہ اور جدوجہد کا حق عطا کیا ہے۔ (42 - الشوریٰ: 41) مؤمن اپنی جان اور مال کے بدلے جنت کا سودا کرتا ہے، جب کہ کچھ لوگ دین اور اصولوں کو بیچ کر دنیاوی مفادات حاصل کرتے ہیں، جو دراصل خسارے کا سودا ہے۔ اس کی مثال آج کی دنیا میں وہ طاقتیں ہیں، جو اپنے تحفظ کے لیے بڑی عالمی قوتوں پر انحصار کرتی تھیں، ان کی کمزوری آشکار ہو چکی ہے اور ان کے مقابل مزاحمت کی نئی تحریکیں اجتماعیت کی بنیاد پر ابھر رہی ہیں۔

آج مسلمانوں کو انفرادیت، بزدلی اور محض زبانی مخالفت کے بجائے اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ انبیاء علیہم السلام کے وارثین کا کام یہ ہے کہ وہ حق و باطل کی پہچان کرائیں اور انسانیت کی بنیاد پر مزاحمت کی تاریخ کو زندہ رکھیں۔ اسی اصول کے تحت یہ دیکھا جائے گا کہ عہد شکنی، ظلم اور زمین میں فساد کون پھیلا رہا ہے۔ طاقت ور ممالک کمزور اقوام کے حقوق کس سفاکیت کے ساتھ پامال کرتے ہیں، جب کہ اپنے مفادات کے لیے الگ اصول اختیار کرتے ہیں۔

آج ہمیں سوچنا ہے کہ ہماری رائے، ہمارا شعور، ہمارے گرد و پیش کے بنیادی حقائق کا فہم، دین کی تعلیمات کے اساس پر ہیں یا دجل و فریب سے آلودہ ہو چکے ہیں۔ دجالی آرا کی آلودگی سے اپنے آپ کو بچانا اور دین کے بنیادی اساسی اصولوں کو انسانیت کی بنیاد پر اپنے سینے سے لگانا، یہ ایک مسلمان کی سچی علامت ہے۔ کوئی شیطان، کوئی دجال اس کو ختم نہیں کر سکتا اور یہ بات بالکل درست ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی دجال کا آخری کام ہوتا ہے مؤمن کو شہید کر دینا۔ شہید مؤمن وہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں تھا تو اس کا لباس دنیاوی تھا، شہادت کے بعد اس پر عالم برزخ کا لباس ہوتا ہے، جنت کا لباس ہوتا ہے۔ اس کا لباس بدلتا ہے، روح تو وہی ہے۔ یہی آخرت پر یقین کی پختگی ہے۔ دجال یہ تمھارے جسم کو فنا کر سکتا ہے، اس کی بنیاد پر بزدلی اور آلہ کاری کا پیدا ہونا، درست بات نہیں ہے۔

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ استقامت کے ساتھ قرآن کی تعلیمات کے ساتھ وابستہ ہو، نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو حرزِ جان بنائے، آپؐ کے لائے ہوئے نظام کو آخری، حتمی، یقینی تسلیم کرے، اور دنیا کے سرمایہ دار نظام، دنیا کے انسانیت دشمن، فسادی نظام سے برأت کا اعلان کرے۔ ہمارے دلوں پر بزدلی اور خوف پیدا کر کے سرمایہ دار نظام کا رعب پیدا کیا جاتا ہے، ایک مؤمن اس رعب کو اپنے دل سے نکال دے۔ گویا شعور اور استقامت کے ساتھ دین کے سسٹم پر قائم رہنا، یہ مسلمان کی شان ہے، اس کی شناخت ہے، اس کی عزت ہے، اس کا وقار ہے، اس کی ترقی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

8 / 8

کاملین کا علم اور اس کی تاثیر

کاملین کا علم اور اس کی تاثیر

​

کاملین کا علم اور اس کی تاثیر

کلکتہ شہر میں سلطان ٹیپو کے مکان میں حضرت سیّداحمد شہیدؒ کی دعوت تھی۔ سلطان کی نسل کا ایک نوجوان جو (کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج کے مدرّس، انگریزی، لاطینی و عربی وفارسی وغیرہ متعدد زبانوں کے ماہر، آزاد خیال و بہ زعمِ خود عقلِ کل،علامہ) ’’عبدالرحیم مغرور‘‘ (المعروف عبدالرحیم دہری) کا شاگرد تھا۔ نوجوان نے سیّدصاحبؒ کی مجلس میں اللہ تعالیٰ کے وجود، نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت کے انکار پر عربی زبان میں اپنے طور پر بڑی مدبرانہ گفتگو شروع کر دی۔حضرت سیّد احمد شہیدؒ نے فرمایا: ’’میں ہندی ہوں، کبھی عربی میں گفتگو نہیں کی۔ جو آپ کا مقصد ہے اور جس سے غرض ہے، وہ ہندی (اُردو) میں بیان فرما دیجیے، تاکہ میں، آپ اور حاضرین سبھی سمجھ سکیں‘‘۔ اس پر وہ ذرا ٹھہرا پھر فارسی میں بات کرنے لگا۔ سیّد صاحبؒ نے فرمایا کہ:’’اگرچہ مَیں فارسی جانتا ہوں اور اس میں بات بھی کر سکتا ہوں،مگر اب جب کہ دو زبانوں میں بات کر لینے سے آپ کا علمی مرتبہ حاضرین پر واضح ہو چکا ہے، تو اس تکلف کی ضرورت نہیں کہ ہم قابلیت کے اظہار کے لیے روزمرہ کی زبان چھوڑ کر کسی اَور زبان میں بات کریں‘‘۔

مجبوراً اس نوجوان نے اُردو میں منطقی قواعد و کلامی دلائل کے ساتھ اپنا مدعا پیش کیا۔آپؒ نے علمی قواعد و ضوابط پر بات کیے بغیر بڑی شفقت سے -جیسے چھوٹے بچے کو سمجھاتے ہیں - چند عارفانہ جملے ارشاد فرمائے اور ایک مثال سے سمجھایا کہ:

’’اس ملک میں کمپنی کی حکومت ہے، جسے نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ اس کے اوصاف سنے ہیں۔ اگر اس کا قاصد آپ کے پاس آئے اور کہے کہ کمپنی آپ کو ابھی کے ابھی پیادہ پا بلا رہی ہے، تو اس کے حکم کی تعمیل لازم ہو گی یا نہیں؟‘‘اس نے کہا: لازم ہو گی، کیوں کہ وہ حاکم ہے اور مَیں محکوم! آپؒ نے فرمایا: ’’آپ نے کمپنی کو دیکھا ہے؟ یا اس کے اوصاف سنے ہیں؟ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ اس کا قاصد ہے؟‘‘ اس نے کہا: کمپنی کا خاص نشاں دیکھ کر مجھے یقیں ہو جائے گا۔ حضرتؒ نے فرمایا: ’’مخلوق کے مالک و خالق نے اپنی مخلوق میں کمپنی کے نشان سے بہتر نشان رکھے ہیں اور کمپنی کے قاصد سے کہیں افضل قاصد بھیجا ہے۔اس کمپنی کا نشان دیکھ کر تمھیں ایسا یقیں آئے گا کہ پیادہ پا چل پڑو گے، تمھیں اپنی بے حرمتی کا خیال بھی نہیں آئے؟‘‘ اس نے کہا: اس لیے کہ وہ حاکم ہے اور مَیں محکوم!‘‘

حضرت نے فرمایا:’’موہوم کمپنی پر آپ کو اس درجہ ایماں ہے کہ اپنی عزت کا خیال نہیں، اسے حاکم اور خود کو محکوم کہتے ہو، اور یہ قرآن جو ایسا اعجاز رکھتا ہے کہ جن و اِنس سبھی مل کر اس جیسا کلام نہیں لا سکتے اور ایسے نبی جن کی مسلمہ معجزات سے تائید ہوئی، جن میں سے ایک معجزہ قرآن کریم ہے کہ سارا جہان قیامت تک اس کی مثل لانے سے عاجز و درماندہ رہے گا۔ اب تک ہزاروں شاعر اور آپ سے بہتر لاکھوں انشا پرداز ہو گزرے ہیں، جنھوں نے جزیہ، قتل، جلاوطنی، قید برداشت کی، مگران میں سے کوئی قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی آیت کے برابر آیت نہیں لا سکا‘‘۔

یہ گفتگو سن کر اس نوجوان کی زبان گنگ ہو گئی۔اس نے کہا کہ:جناب فرماتے ہیں کہ مَیں پڑھا ہوا نہیں ہوں، یہ علم آپ نے کہاں سے سیکھا ہے؟ حضرتؒ نے فرمایا:’’یہ علم اسی ’’مخفی و ظاہر کے عالِم‘‘ کا سکھایا ہوا ہے جس کے وجود کا آپ انکار کر رہے ہیں!‘‘ اسی مجلس میں اس نوجوان نے کلمہ اسلام پڑھا اور بیعت ہو کر شریعت کی فرماں برداری کا عہد کیا۔ چناں چہ مولانا عبدالحئی دہلویؒ فرمایا کرتے کہ: ’’لوگ مجھے اس لیے ’’مولوی عبدالحئی‘‘ اور ’’مولانا عبدالحئی‘‘کہتے ہیں کہ مَیں ان کے سامنے وعظ کہتا ہوں، مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ ’’مولویت‘‘ و ’’مولائیت‘‘ کہاں سے ملی ہے؟‘‘ پھر خود فرماتے کہ: ’’چند ماہ اس بابرکت سیّد کے سامنے دو زانو بیٹھا ہوں تو لامحالہ ’’مولوی‘‘ بھی ہوگیا ہوں اور ’’مولانا‘‘ بھی، یہ سب ان کے قدموں کی تاثیر ہے‘‘۔ (ماخوذ و ملخص از منظورۃ السعدا، مسلک اوّل)

شمارہ ختم

واپس