کاملین کا علم اور اس کی تاثیر

زاہد محمود قاسمی
زاہد محمود قاسمی
جون 06, 2026 - اہم مضامین
کاملین کا علم اور اس کی تاثیر


کاملین کا علم اور اس کی تاثیر

کلکتہ شہر میں سلطان ٹیپو کے مکان میں حضرت سیّداحمد شہیدؒ کی دعوت تھی۔ سلطان کی نسل کا ایک نوجوان جو (کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج کے مدرّس، انگریزی، لاطینی و عربی وفارسی وغیرہ متعدد زبانوں کے ماہر، آزاد خیال و بہ زعمِ خود عقلِ کل،علامہ) ’’عبدالرحیم مغرور‘‘ (المعروف عبدالرحیم دہری) کا شاگرد تھا۔ نوجوان نے سیّدصاحبؒ کی مجلس میں اللہ تعالیٰ کے وجود، نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت کے انکار پر عربی زبان میں اپنے طور پر بڑی مدبرانہ گفتگو شروع کر دی۔حضرت سیّد احمد شہیدؒ نے فرمایا: ’’میں ہندی ہوں، کبھی عربی میں گفتگو نہیں کی۔ جو آپ کا مقصد ہے اور جس سے غرض ہے، وہ ہندی (اُردو) میں بیان فرما دیجیے، تاکہ میں، آپ اور حاضرین سبھی سمجھ سکیں‘‘۔ اس پر وہ ذرا ٹھہرا پھر فارسی میں بات کرنے لگا۔ سیّد صاحبؒ نے فرمایا کہ:’’اگرچہ مَیں فارسی جانتا ہوں اور اس میں بات بھی کر سکتا ہوں،مگر اب جب کہ دو زبانوں میں بات کر لینے سے آپ کا علمی مرتبہ حاضرین پر واضح ہو چکا ہے، تو اس تکلف کی ضرورت نہیں کہ ہم قابلیت کے اظہار کے لیے روزمرہ کی زبان چھوڑ کر کسی اَور زبان میں بات کریں‘‘۔

مجبوراً اس نوجوان نے اُردو میں منطقی قواعد و کلامی دلائل کے ساتھ اپنا مدعا پیش کیا۔آپؒ نے علمی قواعد و ضوابط پر بات کیے بغیر بڑی شفقت سے -جیسے چھوٹے بچے کو سمجھاتے ہیں - چند عارفانہ جملے ارشاد فرمائے اور ایک مثال سے سمجھایا کہ:

’’اس ملک میں کمپنی کی حکومت ہے، جسے نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ اس کے اوصاف سنے ہیں۔ اگر اس کا قاصد آپ کے پاس آئے اور کہے کہ کمپنی آپ کو ابھی کے ابھی پیادہ پا بلا رہی ہے، تو اس کے حکم کی تعمیل لازم ہو گی یا نہیں؟‘‘اس نے کہا: لازم ہو گی، کیوں کہ وہ حاکم ہے اور مَیں محکوم! آپؒ نے فرمایا: ’’آپ نے کمپنی کو دیکھا ہے؟ یا اس کے اوصاف سنے ہیں؟ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ اس کا قاصد ہے؟‘‘ اس نے کہا: کمپنی کا خاص نشاں دیکھ کر مجھے یقیں ہو جائے گا۔ حضرتؒ نے فرمایا: ’’مخلوق کے مالک و خالق نے اپنی مخلوق میں کمپنی کے نشان سے بہتر نشان رکھے ہیں اور کمپنی کے قاصد سے کہیں افضل قاصد بھیجا ہے۔اس کمپنی کا نشان دیکھ کر تمھیں ایسا یقیں آئے گا کہ پیادہ پا چل پڑو گے، تمھیں اپنی بے حرمتی کا خیال بھی نہیں آئے؟‘‘ اس نے کہا: اس لیے کہ وہ حاکم ہے اور مَیں محکوم!‘‘

حضرت نے فرمایا:’’موہوم کمپنی پر آپ کو اس درجہ ایماں ہے کہ اپنی عزت کا خیال نہیں، اسے حاکم اور خود کو محکوم کہتے ہو، اور یہ قرآن جو ایسا اعجاز رکھتا ہے کہ جن و اِنس سبھی مل کر اس جیسا کلام نہیں لا سکتے اور ایسے نبی جن کی مسلمہ معجزات سے تائید ہوئی، جن میں سے ایک معجزہ قرآن کریم ہے کہ سارا جہان قیامت تک اس کی مثل لانے سے عاجز و درماندہ رہے گا۔ اب تک ہزاروں شاعر اور آپ سے بہتر لاکھوں انشا پرداز ہو گزرے ہیں، جنھوں نے جزیہ، قتل، جلاوطنی، قید برداشت کی، مگران میں سے کوئی قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی آیت کے برابر آیت نہیں لا سکا‘‘۔

یہ گفتگو سن کر اس نوجوان کی زبان گنگ ہو گئی۔اس نے کہا کہ:جناب فرماتے ہیں کہ مَیں پڑھا ہوا نہیں ہوں، یہ علم آپ نے کہاں سے سیکھا ہے؟ حضرتؒ نے فرمایا:’’یہ علم اسی ’’مخفی و ظاہر کے عالِم‘‘ کا سکھایا ہوا ہے جس کے وجود کا آپ انکار کر رہے ہیں!‘‘ اسی مجلس میں اس نوجوان نے کلمہ اسلام پڑھا اور بیعت ہو کر شریعت کی فرماں برداری کا عہد کیا۔ چناں چہ مولانا عبدالحئی دہلویؒ فرمایا کرتے کہ: ’’لوگ مجھے اس لیے ’’مولوی عبدالحئی‘‘ اور ’’مولانا عبدالحئی‘‘کہتے ہیں کہ مَیں ان کے سامنے وعظ کہتا ہوں، مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ ’’مولویت‘‘ و ’’مولائیت‘‘ کہاں سے ملی ہے؟‘‘ پھر خود فرماتے کہ: ’’چند ماہ اس بابرکت سیّد کے سامنے دو زانو بیٹھا ہوں تو لامحالہ ’’مولوی‘‘ بھی ہوگیا ہوں اور ’’مولانا‘‘ بھی، یہ سب ان کے قدموں کی تاثیر ہے‘‘۔ (ماخوذ و ملخص از منظورۃ السعدا، مسلک اوّل)

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں