

علم و شعور کا چھپانا؛ انسانیت کی ترقی کی راہ میں بڑی رُکاوٹ
گزشتہ آیات (2 - البقرہ: 151 تا 158) میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اُن بنیادی اُمور کا تذکرہ تھا، جو تہذیبِ اَخلاق سے متعلق تھے۔ خاص طور پر تعظیمِ شعائر اللہ کی اَساس پر اَخلاقِ الٰہیہ اور ارتفاقاتِ اجتماعیہ کی تعلیم و تربیت کا اَخلاقی نظام واضح کیا گیا۔
درجِ ذیل آیات (2 - البقرہ: 159 تا 163) میں اللہ کی طرف سے نازل کردہ ان تربیتی اَخلاقی اُصولوں کو چھپانے، حقائق مسخ کرنے کے بد اَثرات‘ اللہ کی طرف سے اور مخلوقِ خدا کی طرف سے لعنت کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، جس سے معاشرے دُنیوی ذلت و رُسوائی میں مبتلا اور آخرت کے شدید عذاب کے مستحق بن جاتے ہیں۔
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدٰى﴾ (بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں): انسانی معاشروں کی درست تشکیل میں علمی حقائق اور عملی تقاضوں کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ کسی معاشرے میں انسانوں سے علم چھپانا اور اُنھیں عملی ہدایت سے محروم رکھنا‘ قوموں کے تنزل اور ترقی سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں بتلایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے نازل کردہ بنیادی علمی حقائق کو چھپاتے ہیں اور ہدایتِ الٰہیہ کے سوا خواہشات پر مبنی تحریفات کی صورت میں مصنوعی حقائق گھڑتے ہیں۔ وہ اللہ کی لعنت کے مستحق بنتے ہیں۔ اس لیے علم چھپانا بہت بڑا جرم ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا کہ: ’’جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی‘‘۔ (جامع ترمذی، حدیث: 2649)
علمی حقائق بیان کرنے کے لیے انسان کو اپنی زبان اور منہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور سوال کے باوجود لوگوں کے سامنے علم بیان نہ کرنے اور زبان نہ کھولنے کی سزا بھی اسی مناسبت سے انسان کے منہ کو دی جائے گی۔ اس لیے کہ ایسے انسان کی مشابہت اُس جانور کے ساتھ ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے لگام پہنائی جاتی ہے۔ جس انسان نے انبیا علیہم السلام پر نازل ہونے والے علوم کو جاننے کے باجود اپنی مَلَکیت کے باوجود صحیح بیان نہیں کیا، اُس پر حقیقت میں بہیمیت اور حیوانیت غالب ہے۔ گویا کہ وہ ایسا جانور ہے، جسے لگام پہنائی جانی چاہیے۔ علم بیان نہ کرنے سے انسانیت کو جو نقصان پہنچتا ہے، اس کی سزا آگ کی لگام کی صورت میں ہونی چاہیے۔ قرآن و حدیث کے بیان کردہ ان اُمور کی روشنی میں کتمانِ علم بہت بڑا جرم ہے۔ چوں کہ یہودیوں میں علم چھپانے کی یہ عادت بہت زیادہ تھی، اس لیے ملتِ ابراہیمیہ کے تہذیبِ اَخلاق سے متعلق اُمور بیان کرنے کے بعد ان امور کو چھپانے والے مُحرَّف مذاہب کے ماننے والوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ جو اِن علمی حقائق کو چھپائیں گے، وہ دنیا اور آخرت میں سزا کے مستحق ہوں گے۔
﴿الْبَيِّنَاتِ ﴾ : یعنی ایسے صاف احکاماتِ الٰہیہ جو روشن، بالکل بدیہی اور واضح ہیں، تہذیبِ اَخلاق سے متعلق ملتِ ابراہیمیہ میں انبیا علیہم السلام پر نازل کردہ وہ روشن احکامات؛ ذکر، شکر، صبر، نماز، جان کی قربانی کا جذبہ اور اللہ کی طرف رجوع اور تعظیمِ شعائر اللہ ایسے بدیہی اور روشن اُمور ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے متبعین پر نازل کردہ کتابوں؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن حکیم میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ اس ملت سے وابستہ تمام لوگ بشمول یہودی اور عیسائی ان روشن حقائق سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ان واضح اور روشن اُمور کو چھپانے والے مجرم ہیں۔
﴿الْهُدٰى﴾ : انسانی معاشروں کی بدیہیات اور روشن باتوں پر عملی نظام بنانے کے لیے رہنماؤں اور ہادیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چناں چہ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ میںبہ طورِ ہادی‘ انبیا علیہم السلام کا تسلسل ان بنیادی اُمور کی عملی شکل پر ہمیشہ رہنمائی کرتا رہا ہے۔ انھوں نے ذکرِ الٰہی کا طریقہ، شکر ادا کرنے کی عملی صورت، دین پر صبر و استقامت کا عملی کردار، اللہ کے راستے میں جان قربان کرنے کے جذبے کی نوعیت، اللہ سے تعلق اور اُس کی طرف رجوع کرنے کی عملی طریقت اور اپنے دور کے مطابق انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اللہ کے شعائر کی عظمت پر مبنی ہدایات کا نظام قائم کیا۔ اب اللہ کی طرف سے نازل کردہ روشن اور بدیہی احکامات اور انبیا علیہم السلام کی طرف سے دی گئی ہدایات کو چھپانا دراصل انسانیت کو قعرِ مذلت میں گرانا ہے۔
﴿مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ﴾ (بعد اس کے کہ ہم ان کو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں): ہر آدمی پر بھی اللہ کی کتاب میں انسانیت کے فائدے کے لیے بیان کردہ اُمور کو اچھی طرح علمی طور پر جان لینا، ان پر ایمان لانا، دوسروں کو ان کی تعلیم و تربیت دینا اور لوگوں کو سکھانا لازمی ہے۔ اب اگر کوئی ان گزشتہ بیان کردہ بدیہی امور کو چھپا لے اور لوگوں کے سامنے واضح طور پر بیان نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر کتاب اللہ کی ہدایت کو باطل قرار دے رہا ہے۔ ایسا آدمی اللہ کے راستے میں رُکاوٹ کھڑی کرنے والا ہے۔ اور جو آدمی انسانیت کو اللہ کے راستے سے روکے، وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے۔
دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جو اپنی قوم کے تمام افراد کو لازمی طور پر تعلیم و تربیت کے منازل سے گزارتی ہیں، اُن کی علمی استعداد کو بلند کرتی ہیں۔ علمی پختگی اور رسوخ‘ قوموں کی عملی زندگی کا درست منہج متعین کرتا ہے۔ علم و شعور ہی قوموں کی اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔ اُن میں عملی مہارت پیدا کرتا ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ دورِ اوّل میں مسلمانوں نے کتاب اللہ کی تعلیم و تربیت کو جبری طور پر لازمی قرار دے دیا تھا۔ چناں چہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہٗ نے اپنے دورِ خلافت میں انھی آیات کی بنیاد پر علم کو لازمی طور پر سکھانے، بلکہ ہر ایک بچے کو لازمی دینی تعلیم کے مراحل سے گزارنے کا حکم دیا۔ اُن کے دورِ خلافت میں ہر آدمی کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ قرآن حکیم اور اس سے متعلقہ احکاماتِ شریعت اچھی طرح سمجھے اور اس کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی میں کردار ادا کرے۔ انھوں نے کئی صحابہؓ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ خلافت کے تمام علاقوں میں چل پھر کر زیادہ سے زیادہ نوجوان نسل میں قرآن حکیم کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ قرنِ اوّل کے مسلمانوں کی ترقی اور عروج کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما تھا۔ آج اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرنے کی سیاسی اور معاشی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔
﴿أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ﴾ (ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے): یہودی خصلت جو لوگ انسانیت سے علم چھپاتے اور انھیں علمی اور عملی ترقی سے محروم رکھتے ہیں، وہ اس سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن پر لعنت بھیجتا ہے اور دنیا میں وہ تمام لوگ - جو علمی ترقی سے محروم ہو کر مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں- بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں۔
’’لعنت‘‘ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں: ’’انسانیت کا ایسے مزمن اور پیچیدہ امراض(chronic diseases)میں مبتلا ہوجانا، جو اُسے مصیبتوں کی شدت اور آزمائشوں کے ایسے بحران میں مبتلا کردے کہ نوعِ انسانیت کا اصل معیار باطل ہو کر رہ جائے اور اُس معاشرے کا اصل انسانیت سے تعلق منقطع ہوجائے، اس کو ’’لعنت‘‘ کہتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں قوم پر لعنت بھیجی، یعنی: وہ ہلاکت کے کنارے پہنچ چکی ہے‘‘۔ (البدور البازغہ، ج: 2، ص: 141 - 142)
﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾ (مگر جنھوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کام کو اور بیان کردیا حق بات کو تو ان کو معاف کرتا ہوں اور مَیں ہوں بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان): جو لوگ ہدایت پر مبنی علم چھپانے کے مرض سے توبہ کرلیتے ہیں اور عملی طور پر اپنی اصلاح کرلیتے ہیں، اور علم کا کھلا اظہار کرنا شروع کردیتے ہیں، تو ان لوگوں کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرلیتا ہے۔
توبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں: ’’جب ایمان کا نور‘ انسانی ’’عقل‘‘ کو سچے اور حق عقائد سے منور کردیتا ہے اور وہ ’’عقل‘‘ سے قلب میں اُتر کر ’’قلب‘‘ کی جبلی ساخت کے ساتھ باہم مل جاتا ہے تو نورِ ایمانی، ’’نفس‘‘ کو اپنے تابع کرکے تنبیہ کرنے والا جذبہ پیدا کرتا ہے جو نفس کو نورِ ایمانی کی مخالف باتوں پر ڈانٹتا رہتا ہے، اس سے اُن میں ندامت اور شرمساری کی حالت پیدا ہوتی ہے، جو ’’نفس‘‘ کو مغلوب کرکے اپنے تمام لوازمات کے ساتھ گھیر لیتی ہے، تب نفس اور قلب کے درمیان آئندہ زمانے میں گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ پیدا ہوتا ہے، پھر وہ قلبی ارادہ ’’نفس‘‘ پر حاوی ہوکر اُسے شریعت کے احکامات پر عمل کرنے اور شریعت کی جانب سے منع کی گئی باتوں سے اپنے آپ کو روکنے پر مطمئن کردیتا ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ابواب الاحسان)
اب جو لوگ کتمانِ علم کے اس جرم سے، موت سے پہلے، اپنی زندگی میں توبہ کرلیتے ہیں اور نورِ ایمانی سے اُن کے نفس میں ندامت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ استغفار کرکے توبہ تائب ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، ماضی کی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے اور آئندہ اس علم کو پوری دیانت داری سے لوگوں تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں۔
﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ ﴾ (بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور مرگئے کافر ہی ): لیکن اگر ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے ان احکامات اور اُمور کا انکار کرنے والے لوگ اسی حالت میں مر گئے، انھوں نے دل سے توبہ نہیں کی، مرتے دم تک وہ علمی حقائق سے روگردانی کرتے رہے، انھیں چھپانے کے لیے پوری کوشش کی۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو نوعِ انسانیت کے دائرے سے باہر نکل چکے ہیں۔ وہ ایسی بہیمی خصلت کے عادی ہوچکے ہیں کہ انسانیت کو ترقی کے مواقع سے روکنے کے لیے مرتے دم تک کردار ادا کرتے رہے ہیں، تو اُن کے لیے ہمیشہ کے لیے ہمہ جہتی سزا ہے۔
﴿أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ (انھیں پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی): کفر کی حالت میں یہ مرنے والے لوگ چوں کہ بہیمیت کی حالت میں پہنچ چکے ہیں، درحقیقت وہ جانور ہیں۔ قرآن حکیم نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’اور ہم نے پیدا کیے دوزخ کے واسطے بہت سے جن اور آدمی، ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں، اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں، اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں، وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ، وہی لوگ ہیں غافل‘‘۔ (7 - الاعراف: 179) یہ علم چھپانے والے لوگ ایسے ہیں کہ دل ہونے کے باوجود نہیں سمجھتے، آنکھیں ہونے کے باوجود دیکھتے نہیں، کان ہونے کے باوجود سنتے نہیں۔ یہ جانور اس قدر لعنت کے مستحق ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بھی ان پر لعنت بھیجتا ہے، کائنات کا عالمی نظام چلانے والے تمام فرشتے بھی لعنت بھیجتے ہیں اور ان کی وجہ سے مصیبتوں میں مبتلا تمام انسانیت بھی لعنت بھیجتی ہے۔
﴿خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ﴾ (ہمیشہ رہیں گے اسی لعنت میں نہ ہلکا ہوگا ان پر سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی): ان کی سزا کا حال یہ ہے کہ وہ اس مصیبت میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ اس لیے کہ انھوں نے انسانی معاشروں کی ترقی کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کیں اور انھیں مصیبتوں میں مبتلا کیا۔ انسانیت کو اذیت میں مبتلا کرنے والوں پر عذاب کی کسی طرح کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کی پھٹکار میں مبتلا رہیں گے اور دنیا اور آخرت میں ذلت اور رُسوائی اُن کا مقدر رہے گی۔ وہ اگر مہلت بھی مانگیں گے تو انھیں مہلت نہیں دی جائے گی۔ اس لیے کہ موت کے بعد مہلت کا کوئی موقع نہیں، چوں کہ علم چھپانے کے جرم کی سزا ہر دور کے انسان بھگت رہے ہیں، جو وقت چلا گیا، وہ ہاتھ نہیں آئے گا، زندگی کے قیمتی لمحات انھوں نے ضائع کردیے، اس لیے وہ ہمیشہ کے لیے بدترین سزا کے مستحق ہیں۔
ان آیات میں ملتِ ابراہیمیہ کے علوم کو بغیر کسی تحریف اور تغیر و تبدل کے انسانیت تک منتقل کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ قرآن حکیم پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کو دینی علم و شعور حاصل کرنا اور چھپائے بغیر کل انسانیت تک منتقل کرنا فرض ہے۔
ٹیگز

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم
حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ
سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔
1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...
متعلقہ مضامین
قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی
قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی11؍ جولائی 2025ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں دورۂ تفسیر کی تکمیل کے موقع …
جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال
(اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘ سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور ان کے پاس کچھ نہیں، مگرخیالات۔) (-2البقرہ: 78) گزشتہ آیات میں یہودی علما کی …
عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت
۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…
پاکستان کی تعلیم پر برطانوی راج کی پرچھائیں(2)
یہ سب کچھ منظم منصوبہ بندی و حکمتِ عملی کے تحت ہو رہا تھا۔ برطانیہ نے اس کے لیے پاکستان میں ایک اَور این جی او پیدا کی، جس کا نام ’’ادارہ تعلیم و آگہی‘&l…
