

حضرت سلیط بن عمرو عامری قرشی رضی اللہ عنہ
حضرت سلیط بن عمرو عامری قرشی رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے اس خاندان سے تھا، جو فصاحت، دانش مندی، سرداری اور خطابت میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔ عرب معاشرے میں یہ خاندان‘ حسب و نسب کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا تھا۔ اسی پس منظر نے آپؓ کو ایک ایسی شخصیت بنایا جو دین و دنیا دونوں میدانوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
جب اسلام کی روشنی مکہ مکرمہ میں پھیلی اور حضور اقدس ﷺ ابھی دارِ ارقم میں تشریف نہیں لائے تھے، اسی ابتدائی دور میں حضرت سلیطؓ نے حضرت عمرؓ سے بھی پہلے اسلام قبول کیا۔ اس طرح وہ السابقون الاولون میں شامل ہوئے۔ ان سے پہلے صرف اکیس افراد حلقۂ اِسلام میں داخل ہوئے تھے۔ حضرت سلیطؓ کا اسلام قبول کرنا محض ایک جذباتی فیصلہ نہ تھا، بلکہ اس دور میں جب اسلام قبول کرنے کا مطلب سماجی بائیکاٹ اور ہر قسم کی تکلیف کو گلے لگانا تھا، یہ ایک انتہائی جرأت مندانہ مؤقف تھا۔ اسی دور میں ان کے بھائی سکران بن عمروؓ نے بھی اسلام قبول کیا۔
جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کی مشکلات بڑھ گئیں تو آپﷺ نے حضرت سلیطؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا۔ آپؓ نے اپنی اہلیہ فاطمہؓ بنت علقمہ کے ساتھ اسلام کی پہلی ہجرت میں حصہ لیا۔ ہجرتِ حبشہ کے دوران ان کے ہاں بیٹے سلیط بن سلیط پیدا ہوئے، جنھوں نے اپنے والد کے ساتھ ہجرت کی۔ ان کے بھائی سکرانؓ کی اہلیہ سودہؓ بنت زمعہ نے بھی حبشہ ہجرت کی اور سکرانؓ کی وفات کے بعد آپﷺ نے انھیں اپنے عقد میں لیا اور وہ ’’ام المومنین‘‘ کے مرتبے پر فائز ہوئیں۔
آپﷺ کے مدینہ ہجرت کے دو سال بعد حضرت سلیطؓ بھی مدینہ منورہ آ گئے۔ حبشہ میں ہونے کے سبب غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے، لیکن غزوۂ اُحد سمیت بدر کے علاوہ تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کے شانہ بہ شانہ شریک رہے۔ میدانِ جنگ سے دینی و اجتماعی سرگرمیوں تک ہر محاذ پر ان کی حاضری ان کے عزم کی گواہ تھی۔
انھی دنوں حضرت سلیطؓ نے حضور اقدس ﷺ کو ایک دور اندیشانہ مشورہ دیا۔ جب آپﷺ نے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپؓ نے عرض کیا کہ: ’بادشاہ مہر شدہ خط پڑھتے ہیں، اس لیے ’’مہربند‘‘ کر کے بھیجا جائے‘‘۔ آپﷺ نے یہ رائے قبول فرمائی اور اپنی مہر بنوائی۔ یہ مشورہ اس بات کی دلیل تھا کہ آپؓ دنیا کے سیاسی اور سماجی آداب سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔اسی اہلیت کی بنیاد پر آپﷺ نے انھیں۶ہجری میں یمامہ کے سردار ہوذہ بن علی حنفی اور ثمامہ بن اثال کی طرف سفیر بنا کر بھیجا۔ آپؓ وہی مہر بند خط لے کر گئے جو انھی کے مشورے پر مہربند ہوا تھا۔ آپﷺ کے وصال کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تو آپؓ اس فتنے کے خلاف اٹھنے والے لشکر میں شامل ہوئے اور معرکہ یمامہ میں۱۱ہجری کو شہید ہوئے۔
ٹیگز
متعلقہ مضامین
اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …
خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت
وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات …
حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ
حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗحضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗخاندانِ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوضحاک‘‘ تھی۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو ’’ابو…
حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘
حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس …
