بنی اسرائیل کے لیے قومی اور ملکی سطح کا اجتماعی نظام

وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ واحِدٍ فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذي هُوَ أَدنىٰ بِالَّذي هُوَ خَيرٌ ۚ اهبِطوا مِصرًا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم ۗ
(اور جب کہا تم نے: اے موسیٰ! ہم ہرگز صبر نہ کریں گے ایک ہی طرح کے کھانے پر، سو دعا مانگ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے کہ نکال دے ہمارے واسطے جو اُگتا ہے زمین سے ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز۔ کہا موسیٰ نے: کیا لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے، اُس کے بدلے میں جو بہتر ہے۔ اُترو کسی شہر میں تو تم کو ملے جو مانگتے ہو۔ البقرہ:61)
گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت کے لیے کیے گئے انعامات کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں شخصی تربیت سے لے کر صحرائی اجتماعیت پر مبنی ابتدائی تربیت سے متعلق اُمور بیان کیے گئے تھے۔ نیز معاشی اُمور کی منصفانہ تقسیم سے متعلق احکامات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس آیت ِمبارکہ کے اس حصے میں اس سے اگلی قومی شہری اجتماعیت سے متعلق اُمور بیان کیے جا رہے ہیں۔
وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ واحِدٍ:صحرائی زندگی میں مَنّ و سلویٰ کی صورت میں عمدہ غذا اور متعین شدہ چشموں سے منصفانہ طور پر پانی کی تقسیم کی ایک درجے میں تربیت حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل میں اس یکسانیت سے اُکتاہٹ پیدا ہوگئی۔ چناںچہ انھوں نے اگلے مرحلے کی قومی اجتماعیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ابتدائی صحرائی اور بستی کی یکساں زندگی سے نکل کر ایک نئی اور متنوع اجتماعیت کی ضرورت ہے، جس میں کھانے پینے کی چیزوں میں تنوع ہو۔ غذاحاصل کرنے کے اَور بھی طریقے ہونے چاہئیں۔ پانی کے حصول کے لیے بھی نئے وسائل سے استفادے کی صورت ہونی چاہیے۔ اب ہم یکسانیت پر زیادہ دیر تک صبر نہیں کرسکتے۔ ہماری اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ قومی سطح کا مصری اور شہری نظام قائم کریں۔
فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ:انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے لیے اپنے ربّ سے دعا کریں کہ زمین سے اُگنے والی قدرتی غذائیں ہمیں حاصل ہوں۔ بغیر کام کاج کیے ہوئے محض مَنّ و سلویٰ کھاتے رہنا اور بغیر کسی محنت و مشقت کے چشموں سے پانی حاصل کرلینے پر ہم قناعت نہیں کرسکتے، بلکہ کاشت کاری کے لیے زمین تیار کرنا، زمین کی آباد کاری اور آب پاشی کے لیے پانی کے وسائل کا مہیا ہونا، اور اُس سے اُگنے والی فصلات کے حاصل کرنے کا طریقہ ہمیں سکھایا جائے۔ ان وسائل کے حصول سے ہی قومی ترقی حاصل ہوگی۔
مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ:بنی اسرائیل نے زمین سے اُگنے والی پانچ چیزوں کا مطالبہ کیا۔ سب سے پہلے ’’بَقْل‘‘ یعنی سبزی اور ساگ وغیرہ کا مطالبہ کیا۔ اس سے مراد وہ تمام تر نباتاتی سبزیاں ہیں، جنھیں براہِ راست پکا کر انسان غذا حاصل کرتا ہے۔ پھر ’’قِثَّاء‘‘ کا مطالبہ کیا، یعنی سبز بیلوں پر لگنے والی پھلیاں اور سبزیاں، مثلاً ککڑی، کدو، ٹینڈے وغیرہ ہیں۔ تیسرے ’’فُوْم‘‘ کا مطالبہ کیا، اس سے مراد اَناج؛ گندم اور جَو وغیرہ ہیں، جن سے روٹی تیار کی جاتی ہے۔ حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں کہ: ’’فُوْم سے مراد ہر وہ دانے دار جنس ہے، جس سے روٹی بنائی جاتی ہے‘‘ (تفسیر ابن کثیر)۔ چوتھے ’’عَدَس‘‘ کا مطالبہ کیا، اس سے مراد مسور وغیرہ تمام دالیں ہیں۔ چوتھے ’’بَصَل‘‘ کا مطالبہ کیا، اس سے مراد پیاز اور لہسن وغیرہ زمین کے اندر اُگنے والی سبزیاں ہیں۔ ان پانچوں غذاؤں میں ایک خاص تنوع، ذائقہ اور فوائدوثمرات ہوتے ہیں۔ ساگ اور سبزیاں ایک محدود مدت تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں، جب کہ اناج، دالیں اور پیاز وغیرہ زیادہ مدت تک ذخیرہ کیے جاسکتے ہیں۔ ان تمام غذاؤں کی کاشت کاری کے لیے خاصی محنت و مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے شہری زندگی کے دیگر لوازمات بھی پورا کرنے پڑتے ہیں، جو کاشت کاری کے آلات کے حوالے سے صنعت کاری کو وجود میں لانے کا باعث ہوتے ہیں۔ اور ذخیرہ شدہ اناج کی خرید و فروخت کے لیے تجارتی سرگرمیوں اور ان کے لیے منڈیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس طرح قومی سطح کا ایک شہری نظام قائم کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔
قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذي هُوَ أَدنىٰ بِالَّذي هُوَ خَيرٌ ۚ:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم عجیب لوگ ہو، بغیر کام کاج کیے تمھیں مَنّ و سلویٰ مل رہا ہے۔ اور زراعت کے لیے آب پاشی کا نظام قائم کیے بغیر تمھیں اچھی بہترین زندگی حاصل ہے تو پھر اُسے کم تر درجے کی محنت اور مشقت کی زندگی سے کیوں بدلنا چاہتے ہو؟
اهبِطوا مِصرًا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم ۗ :حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا! اگر یہی تمھارا سوال ہے اور اگر تم اگلی زندگی کی ترقیات واقعی حاصل کرنا چاہتے ہو تو چلو جاؤ کسی شہر میں اُترو، تم جو مانگتے ہو، وہ تمھیں ملے گا۔ قومی اجتماعی زندگی کے لیے اُصول وہی ہے کہ معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے اور زمین میں فساد نہ مچایا جائے۔ عدل و انصاف کے ساتھ شہری نظام قائم کیا جائے۔ اس لیے کہ قومی اجتماعیت میں انسانوں کی ضروریات اور حاجات بڑی کثرت سے ہوتی ہیں۔ اُس میں اگر فائدے بہت ہیں تو بعض اوقات نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ قومی اجتماعیت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اگر اجتماعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کچھ انفرادی نقصانات اُٹھانا بھی پڑیں تو انھیں برداشت کیا جائے۔ اور جو اجتماعی منافع اور فوائد ہیں، اُن کو پوری توانائی اور صبر و استقامت کے ساتھ حاصل کرنے کی جدوجہد اور کوشش کی جائے۔ اپنی طبیعتوں کے انفرادی تقاضوں کو کنٹرول کیا جائے اور اجتماعی تقاضوں کے مطابق قومی سطح پر بہترین سیاسی اور معاشی نظام قائم کیا جائے۔
ظلم، بخل، حسد کا نقصان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہَﷺ قَالَ: ’’اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، حَمَلَھُمْ عَلٰی أنْ سَفَکُوا دِمَائَ ھُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَھُمْ‘‘۔
)حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ظلم سے بچو، کیوںکہ ظلم قیامت کے دن (دِلوں پر چھانے والی) ظلمتیں ہوں گی۔ بخل اور ہوس سے بچو، کیوںکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل و ہوس نے ہلاک کردیا۔ اسی نے ان کو اُکسایا تو انھوں نے اپنے (ایک دوسرے کے) خون بہائے اور اپنی حرمت والی چیزوں کو حلال کرلیا‘‘۔) (صحیح مسلم، حدیث: 6576(
نبی اکرمﷺ نے اپنے اس ارشادِ مبارک میں تین بُری عادتوں کے نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ وہ تین عادتیں ظلم، بخل، لالچ اور ہوس ہیں۔ ظلم کے بارے میں آپؐ فرمایا کہ ظلم قیامت کے روز تاریکیوں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ ظلم دوسرے انسانوں کے حقوق کی پامالی، ناانصافی اور ایسا ناروا طرز ِعمل ہے، جو لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دے، ان کی زندگی دوبھر کردے۔ سزا کا ضابطہ یہ ہے کہ جیسا جرم ہوتا ہے، ویسی سزا ہوتی ہے۔ چوں کہ مظلوم انسان کو بے بسی اور لاچاری کی بنا پر اپنی منزل کا راستہ سُجھائی نہیں دیتا، یوں وہ اندھیرے اور تاریکی میں گم ہوجاتا ہے۔ اس لیے ظلم ڈھانے والے کو سزا بھی ایسی ہی دی گئی ہے۔ ظلم قیامت کے روز تاریکیوں میں سے ایک تاریکی بن کر نمودار ہوگا۔ مؤمنین کے بارے میں ہے کہ روز ِقیامت ان کے آگے اور دائیں روشنی دوڑتی ہوگی۔ (سورۃ التحریم: 8) آج انسانوں پر ظلم کا غلبہ ہے۔ اس نے انسانوں کو پریشان کر دیا ہے۔ طبقات قائم کر دیے گئے ہیں۔ نظامِ ظلم کی وَجہ سے لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہوگئے ہیں۔ ظلم ڈھانے والوں کو رسول اللہﷺ ان کے اردگرد روز ِقیامت تاریکی کے چھا جانے کی وعید سنا رہے ہیں، جس سے ان کی منزل ان سے اوجھل ہوجائے گی۔
بخل اور ہوس ایسا انسانی رویہ ہے جو اسے مال خرچ کرنے میں تنگ دل بنا دیتا ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر اہلِ ثروت میں ہوتی ہے، لیکن جب سرمایہ پرستانہ نظام کا غلبہ ہو جائے تو پھر یہ مرض امیر اور غریب دونوں میں جڑ بنالیتا ہے۔ یہ مال جمع کرنے اور سمیٹ کر رکھنے کا جذبہ ہے۔ قرآن نے جا بہ جا اس کے مفاسد سے آگاہ کیا ہے۔ بخل اور ہوس کی وَجہ سے انسان دوسروں کے ساتھ مالی ناانصافی کرتا ہے۔ ان کے حقوق پامال کرتا ہے۔ قتل تک کردیتا ہے، جیسے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بُرا خُلق تمھیں دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے اور ان کو قتل کرنے تک آمادہ کرتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ سوچ بہت خطرناک اور انسانی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، جسے معاشرے سے ختم کرنا دینی اور انسانی تقاضا ہے۔
حضرت فاطمۃ الزہرا

خاتونِ جنت حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیوں میں سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔ آپؓ اعلانِ نبوت سے پہلے پیدا ہوئیں۔ آپؓ نے آغوشِ نبوت میں پرورش پائی، اُصولِ زندگی سیکھے اور ان پر بھرپور عمل کیا۔ آپؓ دینی و علمی اور اخلاقی کمالات کی حامل ، عقل و شعور سے آراستہ شخصیت تھیں۔ حضرت فاطمہؓ اَخلاق وعادات اور گفتگو میں رسول اللہؐ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتی تھیں۔ سخاوت کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی سائل کو اپنے در سے خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ دوسروں سے ہمیشہ مہربانی سے پیش آنا آپؓ کی عادت تھی۔ معرفتِ الٰہی، اطاعتِ رسولؐ، تقویٰ و پاکیزگی، عفت و پاک دامنی کا پیکر، توکل و َرضائے الٰہی، قناعت پسندی ایسے اَخلاق گویا آپؓ کی جبلت (فطرت) کا حصہ بن گئے تھے۔ آپ سے ذخیرہ ٔحدیث میں 18 روایات موجود ہیں۔
حضرت سیّدہ فاطمہؓ کا۲ہجری میں حضرت علی المرتضیٰؓ سے نکاح ہوا۔ 400 مثقال چاندی مہر مقرر ہوا۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ میرے والد ِمحترم ﷺ نے رخصتی کے وقت مجھے نصیحت کی تھی کہ میں اپنے خاوند کو کوئی سوال کرکے شرمندہ نہ کروں۔ خاتونِ جنتؓ اپنے گھر کا تمام کام خود کرتی تھیں۔ چکی سے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے پڑجاتے۔ گھر کی صفائی اور چولہا پھونکنے سے کپڑے میلے پڑ جاتے، لیکن آپ اس مشقت و خدمت سے کبھی نہ گھبراتیں۔ اس خدمت و مشقت کے باوجود کبھی آپؓ کی عبادتِ الٰہی میں کمی نہ آتی۔ آپؓ کے صاحبزادے حضرت حسنؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ محترمہ کو ہمیشہ صبح سے شام تک عبادت کرتے، خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے اور دعائیں مانگتے دیکھا ہے۔
ایک دفعہ حضوؐر کسی غزوہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہؓ نے بہ طور خیر مقدم اپنے گھر کے دروازے پر منقش پردے لگائے، حضرات حسنؓ و حسینؓ کو چاندی کے کنگن پہنائے۔ آپؐ حسبِ معمول حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے تو اس غیرضروری دُنیاوی ساز و سامان کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔ جب سیّدہ فاطمہؓ کو آپؐ کی ناپسندیدگی کا حال معلوم ہوا تو پردے پھاڑ دیے اور بچوں کے ہاتھ سے کنگن اُتار ڈالے۔ وہ روتے ہوئے خدمت اقدس میں آئے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ ان زخارف یعنی دنیاوی عارضی زیب و زینت سے آلودہ ہوں‘‘۔ اس کے بدلے حضرت فاطمہؓ کے لیے ایک عصیب (پتھر) کا ہار اور ہاتھی دانت کے کنگن خرید کرلائے۔
ایک بار سرکارِ دو عالمؐ نے حضرت فاطمہؓ سے پوچھا کہ مسلمان عورت کے اوصاف کیا ہیں؟ آپؓ نے عرض کیا: ’’ عورت کو چاہیے کہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔ اپنی اولاد پر شفقت کرے۔ اپنی نگاہ نیچی رکھے۔ اپنی زینت چھپائے۔ کسی غیر کو نہ خود دیکھے اور نہ کوئی غیر اس کو دیکھنے پائے‘‘۔ آپؐ اپنی بیٹی کی یہ بات سن کر بہت مسرور ہوئے۔
)اِزالۃ الخفاء، سیر الصّحابیات، انسائیکلو پیڈیا اصحابِ رسول(
افغان طالبان کی واپسی اور حقیقت پسندانہ سوچ کی ضرورت

اگست 2021ء کے دوسرے نصف میں ملکی اور عالمی اخبارات میں امریکا کی شکست کے تذکرے اور طالبان کی فتح کی خوش کُن خبروں نے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ زوال کے دور میں حقائق اور واقعات کو ان کے اصل تناظر میں دیکھنے اور جاننے کا ہمارا فہم‘ خوش فہمیوں کے ملبے تلے دب چکا ہے، جس کی وجہ سے ہم مسلمان‘ دُنیا کو اپنی خواہشات کے اسیر ہوکر دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی منظرِ عام پر واپسی اور امریکی فوج کا انخلا ہماری خواہشات کے علیٰ الرغم کچھ ٹھوس حقائق کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوا ہے، جسے افغانستان کے مقامی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ اس کے بغیر افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کا درست تجزیہ ممکن نہیں ہوگا۔ یہ بات ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ لگ بھگ چالیس سال پہلے سرد جنگ میں دوبڑی عالمی طاقتوں کا میدانِ جنگ بننے والا ملک افغانستان اس وقت آدھے درجن سے زائد ملکوں کی پراکسی وار کا میدانِ جنگ ہے۔
ایسی صورت میں امریکا اپنے حریف ملکوں کے لیے کسی صورت میں میدان خالی نہیں چھوڑ سکتا۔ لہٰذا اس نے دوحہ (قطر) میں مذاکرات کی میز سجائی اور طالبان کو افغانستان کا باقاعدہ سٹیک ہولڈر قرار دیا اور انھیں دوحہ میں سیاسی دفتر کھول کر دیا اور طالبان کو ایک معاہدے کے ذریعے کچھ مشروط پابندیوں کے ساتھ میدان میں اُترنے کی اجازت دی، جس کو ہمارے سادہ لوح خوش فہم مذہبی حلقے امریکا کی شکست اور طالبان کی فتح مبین سے تعبیر کررہے ہیں۔ اسے ’’فتح مکہ‘‘ قرار دینے والوں کے فہمِ سیرتِ رسول کا دیوالیہ پن نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ کاش یہ اربابِ مذہب دوحہ کے ’’طالبان امریکا امن معاہدہ‘‘ کے مندرجہ ذیل الفاظ پر ہی غور کرلیں، جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’طالبان کسی فرد، گروہ کو القاعدہ سمیت افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طالبان ایسی تمام قوتوں کو واضح پیغام دیں گے کہ امریکا مخالف کسی قوت کے لیے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ طالبان اپنے کارکنوں کو ہدایات جاری کریں گے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کسی قوت کو نہ اپنی فورسز میں بھرتی کریں، نہ تربیت دیں، نہ چندہ جمع کرنے دیں، نہ اپنے ہاں ٹھہرنے دیں۔ طالبان امریکا اور اس کے اتحادیوں کی کسی مخالف قوت کو ویزا، پاسپورٹ، سفری اجازت اور قانونی دستاویزات جاری نہیں کریں گے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ یہ بلا شرکتِ غیرے طالبان کی فتح مبین ہے یا مفادات کے تحفظ کا ایک مشترکہ منصوبہ؟ پا بہ زنجیر معاہدوں میں جکڑی ہوئی طالبان کی کابل آمد اور عہد ِنبویؐ کے فتح مکہ کے مابین کون سا نکتہ مشترک ہے؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔
کیا سادگی بیان ہے کہ ’’طالبان نے امریکا اور اس کے اداروں؛ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، وائٹ ہائوس، سی آئی اے اور پینٹاگان کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی اور کابل پر قبضہ کرکے دنیا کو حیران کردیا‘‘۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکا نے طالبان کے بعض رہنماؤں کو نہ صرف گوانتاناموبے میں ایک عرصہ رکھا، بلکہ ’’گاجر اور لاٹھی‘‘ کی پالیسی کے ذریعے معاملات کو بھی آگے بڑھایا، حتیٰ کہ ملا برادر کو بھی پاکستانی جیل سے رہا کروایا۔ پھر طالبان رہنماؤں سے سفری پابندیاں ہٹوائیں۔ قطر جیسے امریکی اڈے میں انھیں اپنا دفتر قائم کرواکر قطر حکومت سے وی آئی پی پروٹوکول لے کے دیا۔ اشرف غنی کی اپنی ساختہ ’’منتخب‘‘ حکومت کو بھی بائی پاس کرکے طالبان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ اس کے نتیجے میں اشرف غنی حکومت سے جیلوں میں قید پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہائی دلوائی۔ طالبان کے تازہ جنگی معرکوں میں طالبان فورسز نے امریکیوں پر اور امریکیوں نے طالبان پر کوئی گولی نہیں چلائی، حتیٰ کہ امریکی فوج کے پاس تباہ کن اسلحے کے ذخائر تک طالبان کو منتقل کر دیے گئے۔ افغان فوج چوں کہ اشرف غنی انتظامیہ سے زیادہ امریکی فوجی جنرلوں کے ماتحت تھی، اس لیے اسے اپنے گیم پلان کے تحت سرنڈر کروا دیا گیا۔
طالبان جو کبھی چیچن مجاہدین اور اسلامک موومنٹ آف اُزبکستان کے عسکریت پسندوں کو اپنے ہاں پناہ دینے پر ڈٹے ہوئے تھے، حتیٰ کہ اُسامہ بن لادن کی میزبانی پر اصرار کے سبب انھوں نے اس خطے میں امریکا بہادر کی براہِ راست آمد کی راہ ہموار کی اور اب القاعدہ، داعش وغیرہ سے نہ صرف تعلق نہ رکھنے کی امریکا کو یاد دہانی کروا رہے ہیں، بلکہ ان سے امریکی مفادات کو نقصان نہ پہنچنے کی ضمانت بھی دے رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ خطے کے اس ناقابلِ تلافی نقصان کے بعد امریکا کے ساتھ اس کی اپنی شرائط پر کیے گئے معاہدے کو غیر معمولی حکمت اور دانش مندی کا نام دیا جارہا ہے۔
اس امر کے خوش آئند ہونے میں تو کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ امریکا کی فوج بالآخر اپنے جانی اور مالی نقصانات اٹھاکر افغانستان سے نکل رہی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں امریکا کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ افغانستان کے نظمِ مملکت کو چلانے کے لیے پیسہ اب بھی امریکا اور اس کے تابع عالمی ادارے ہی دیں گے۔ اس کا انخلا سوویت یونین جیسا انخلا نظر نہیں آتا کہ وہ یہاں سے بالکل لاتعلق ہوجائے، نہ صرف وہ یہاں اپنی پالیسیوں کی صورت میں رہنے پر مُصِر رہے گا، بلکہ اس کے اتحادی بھی اس کا ہاتھ بٹاتے رہیں گے۔ مثلاً ابھی سے افغانستان کے دس ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور آئی ایم ایف اور یورپی یونین نے افغانستان کے لیے امدادی پروگرام معطل کر دیے ہیں۔ یہ اقدامات اسی لیے بروئے کار لائے جارہے ہیں کہ کابل میں نئی حکومت کی کوئی باضابطہ شکل بنتے ہی انھیں معاشی ناکہ بندی کا احساس دلا کر اپنا رہینِ منت رکھا جا سکے۔ امریکا ’سٹیٹس کو‘ کی تمام قوتوں میں باہم صلح کرواکے افغانستان میں اپنے سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینا چاہتا ہے، تاکہ مستقبل میں افغانستان کے ان دھڑوں کو روس اور چین کے خلاف استعمال کرسکے۔
بد قسمتی سے افغانستان میں آج وہ حلقہ موجود نہیں یا منظم نہیں، جو قومی اور جمہوری فکر کے ساتھ ساتھ استعمار کے عزائم کو بھی سمجھتا ہو، اس لیے حالیہ اُکھاڑ بچھاڑ میں کسی انقلابی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ یہاں زیادہ سے زیادہ صرف ایک حکومت بدلی ہے، جب کہ نظام کی تبدیلی کی اپنی مسلمہ حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ دنیا میں آئے دن حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ان سے پالیسیوں میں کوئی جوہری فرق نہیں پڑتا۔ لہٰذا افغانستان سے متعلق خوش فہمی میں مگن رہنے سے کہیں زیادہ شعوری تجزیہ اور بصیرت پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔ (مدیر)
تلاوت، ذکر اور دُعا کی روح

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
(تلاوتِ قرآن حکیم کی روح) ’’قرآن حکیم کی تلاوت کی روح یہ ہے کہ:
بڑی عظمت اور شوق کے ساتھ اپنی توجہ اللہ کی طرف رکھے۔ اُس کی نصیحت اور مواعظ پر خوب غور و فکر کرے۔ اس میں بیان کردہ احکامات کے لیے فرماں برداری کے جذبات پیدا کرے۔ قرآن حکیم میں بیان کردہ مثالوں اور (انبیا علیہم السلام کے) قصوں سے عبرت حاصل کرے۔ جب بھی اللہ کی صفات اور نشانیوں کی کوئی آیت پڑھے تو ’’سبحان اللہ‘‘ کہے۔ جب بھی جنت اور رحمت سے متعلق کوئی آیت پڑھے تو اللہ سے اُس کے فضل و کرم کا سوال کرے۔ جہنم اور غضبِ الٰہی سے متعلق کوئی آیت پڑھے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگے۔ یہ وہ باتیں ہیں، جو رسول اللہ ﷺ نے نفس کی تہذیب و تمرین اور مشق کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے بیان کی ہیں۔
(ذکرُ اللہ کی روح): ذکرُ اللہ کی روح یہ ہے کہ اللہ کا نام لیتے ہوئے: اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی کیفیت پیدا کرے۔ اللہ کی صفات اور عالمِ جبروت کی طرف متوجہ ہونے میں غرق ہوجائے۔ اس کی مشق کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے زبان سے کہے: ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، و اللّٰہ أکبر‘‘ (اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے)۔ پھر اپنے کانوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سنے کہ: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، و أنا أکبر‘‘ (میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور میں بہت بڑا ہوں)۔ پھر اپنی زبان سے کہے: ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں، وہ ایک ہے، کوئی اُس کا شریک نہیں)۔ پھر اللہ کی طرف سے اپنے کانوں سے سنے: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، وحدی لا شریک لی‘‘ (میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، میں اکیلا ہوں، کوئی میرا شریک نہیں)۔ اسی طرح ذکر کرتا رہے، یہاں تک کہ اُس سے حجابات اور پردے اُٹھ جائیں اور اللہ کی طرف اُس کا استغراق پورے طور پر حقیقت بن جائے۔ بے شک نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی طرف اس حدیث میں اشارہ کیا ہے۔
)یہ حدیث امام ترمذیؒ نے ’’کتاب الدَّعَوات‘‘ میں اور امام نسائیؒ اور امام ابن ماجہؒ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت ابوہریرہؓ نے گواہی دی ہے کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو آدمی ’’لا إلٰہ إلّا اللّٰہ، و اللّٰہ أکبر‘‘ پڑھتا ہے، تو اُس کا ربّ اُس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: ’’لا إلٰہ إلّا أنا، و أنا أکبر‘‘ الخ۔ رواہ الترمذی، حدیث: 3430(
(دُعا مانگنے کی روح): دعا مانگنے کی روح یہ ہے کہ: انسان یہ دیکھے کہ تمام طاقت اور قوت صرف اللہ کی ہے۔ اور اللہ کے سامنے ایسے ہوجائے جیسے نہلانے والے کے ہاتھ میں مردہ ہوتا ہے۔ یا ایسی تصویر جو تصویر بنانے والے کے ہاتھ کے سامنے ہوتی ہے۔ دعا مانگتے ہوئے اللہ سے سرگوشی کی لذت محسوس کرے۔
رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ: آپؐ تہجد کی نماز کے بعد خوب دعا مانگتے تھے۔ خاص طور پر دو رکعتوں کے درمیان بڑی لمبی دعا مانگتے تھے۔ اپنے دونوں ہاتھ بڑی عجز و انکساری سے اللہ کے سامنے اُٹھاتے اور فرماتے تھے: ’’یا ربِّ یا ربِّ!‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کرتے تھے۔ مصیبتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے سامنے خوب گڑگڑاتے تھے۔ اللہ کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری سے لپٹ کر دعا مانگتے تھے۔
دُعا کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ:انسان کا دل باقی ہر چیز سے فارغ ہو۔ کھیل کود اور غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ بیت الخلا جانے، پیشاب اور پاخانے کا تقاضا نہ ہو۔ بھوکا پیاسا بھی نہ ہو۔ غصے اور طیش کی حالت میں بھی نہ ہو۔
(حضوری کی اس کیفیت کو برقرار رکھنے کا علاج): پس جب انسان اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حضوری کی کیفیت حاصل کرلے۔ پھر اس کے بعد اگر یہ کیفیت باقی نہ رہے تو اس حالت کے ختم ہونے کے اسباب کی تحقیق و تفتیش کرے:
(الف) اگر طبیعت کے جوش اور طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے تو اُس پر لازم ہے کہ روزے رکھے۔ اس لیے کہ روزہ طبیعت کے جوش کو ٹھنڈا اور شہوت کو ختم کرتا ہے۔ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ دو مہینوں کے روزے مسلسل رکھے جاسکتے ہیں، اس سے زیادہ مسلسل روزے رکھنا درست نہیں۔
(ب) اگر اُسے ضرورت اور حاجت ہے کہ وہ کھانے پینے کے حوالے سے اپنی اصلاح کرے اور منی کی خرابیوں سے فارغ ہو۔ یا (حضوری کی کیفیت میں) دل لگنے کی کیفیت ختم ہوجائے اور اُسے دوبارہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو تو شادی کرلے اور منی کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ لیکن کھانے پینے اور بیوی سے ملنے میں زیادہ اِنہماک نہ رکھے۔ اس کو صرف ایسی دوا کے طور پر استعمال کرے کہ جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور اُس کے فساد سے بچا جاتا ہے۔
(ج) اگر حضوری کی کیفیت ارتفاقات اور لوگوں کے میل جول میں مشغولیت کی وجہ سے ختم ہوئی ہو تو پھر ارتفاقات سے متعلق کام سرانجام دیتے ہوئے اللہ کے ذکر اور احکامات کو یاد رکھے۔
(د) اگر حضوری کی کیفیت غور و فکر کے برتن (یعنی دماغ) تشویش انگیز خیالات سے بھر جانے یا افکار میں خرابی اور گڑبڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ لوگوں سے علاحدگی اختیار کرے۔ گھر میں یا مسجد میں بیٹھ جائے اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے علاوہ ہر چیز سے روک لے۔ اور اپنے قلب کو اللہ کی جانب تفکر و تدبر کے سوا تمام چیزوں سے روک لے۔ جب نیند سے بیدار ہو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اپنے نفس کی نگرانی کرے، تاکہ اُس کے دل میں سب سے پہلی چیز ذکر اللہ کی صورت میں داخل ہو۔ اور جب سونے کا ارادہ کرے تو اپنے دل کو ان تمام لایعنی افکار اور تشویش انگیز خیالات سے پاک کرکے لیٹے‘‘۔
(من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان)
اندلُس کے علما و سائنس دان

اَندلُس میں مسلمانوں کی عادلانہ حکومت کا آغاز۹۲ھ / 711ء میں ہوا۔ علم و ادب کی ترقی و ترویج اگرچہ قدرے تاخیر سے ہوئی، لیکن حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی کی وجہ سے اَندلُس علم و ادب کا گہوارہ بن گیا۔ ایک وقت آیا کہ اَندلُس کا ہر آدمی لکھنا پڑھنا جانتا تھا، جب کہ مسیحی یورپ علم کی مبادیات ہی جانتا تھا اور وہ بھی چند اراکینِ کلیسا ہی۔ اس دور میں صرف قرطبہ میں آٹھ سو کے قریب تعلیمی ادارے تھے، جہاں ثانوی و اعلیٰ تعلیم کا انتظام تھا۔ جامعہ قرطبہ دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی، جہاں طبیعیات، ریاضیات، فلکیات، کیمیا، طب اور فلسفے سمیت تمام علوم پڑھائے جاتے تھے۔ جہاں سے ایسے عالی قدر علما و سائنس دان پیدا ہوئے، جنھوں نے مختلف علوم و فنون کی نئی جہتیں دریافت کیں۔ اور ان علوم و فنون کے مُوجِد کہلائے اور آج تک ان کے علوم سے انسانیت مستفید ہو رہی ہے۔
اس دور میں فلسفے کے جو مکاتبِ فکر وجود میں آئے، ان میں سے ایک ارسطاطالیسی (ارسطوی) مدرسۂ فکر جس کے نمائندہ فلسفی ابنِ طفیل اور ابنِ رُشد تھے۔ دوسرا افلاطونی مدرسۂ فکر جس کے نمائندہ محی الدین ابنِ عربی تھے۔ اسلام کے زرّیں عہد میں اسلامی فلسفے کی تعلیم کا پوری دنیا میں آغاز ہوا اور بے شمار ماہرین پیدا ہوئے۔ یہ فلاسفہ لا یعنی مسائل پر بحث نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی بحث اس اساسِ صداقت پر ہوتی تھی، جس پر نظمِ کائنات قائم ہے، مثلاً اسلامی فلسفے کے چند موضوعات یہ تھے: باری تعالیٰ اور کائنات، صفاتِ الٰہیہ کی حقیقت، خیر و شر کی تشریح، تلاشِ مسرت، لذت و اَلم کی حقیقت، اقوام کی بقا و فنا، وحدتِ انسانیت وغیرہ۔
اَندلُس کے چند فلاسفہ: اس دور کے مشہور فلسفی ابنِ طفیل کی کنیت سے معروف ہیں، ان کا پورا نام ابوبکر محمد بن عبدالملک بن محمد بن طفیل (1110 - 1185ء) ہے۔ یہ غرناطہ کے رہنے والے تھے۔ یہ بہ یک وقت طبیب، فلسفی، ادیب، ماہرِ الٰہیات و فلکیات اور ناول نگار تھے۔ یہ طنجہ کے حکمران ابویعقوب بن یوسف کے طبیبِ خاص تھے۔ بعد ازاں قاضی کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر وزیر بنائے گئے۔ ابنِ رُشد کے مربی و استاد تھے۔ انھیں کی سفارش پر ابنِ رُشد کو دربار تک رسائی ہوئی۔ انھوں نے بے شمار کتابیں لکھیں۔ تاریخ فلسفہ کے دیباچے کے آخر میں ابنِ طفیل نے امام غزالی، ابنِ سینا اور ابنِ باجہ (ابوبکر محمد بن یحییٰ) کی بہت تعریف کی ہے۔ ان کی تمام تصانیف کو پادریوں نے جلا دیا تھا۔ صرف ایک فلسفیانہ ناول باقی رہ گیا تھا، جو ’’حی بن یقظان‘‘ کے نام سے معروف ہے، جس کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اس میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ انسانی فکر کی انتہا ذاتِ خداوندی ہے اور حیات کی آخری منزل اللہ سے ملاقات ہے۔
افغانستان اور پاکستان کا معاشی مستقبل

افغانستان‘ تاریخ کے اَن مِٹ نقوش کا حامل خطہ ہے، جو صدیوں پرانے طاقت ور خاندانوں اور ان کی بادشاہتوں کا مرکز رہا ہے۔ یہ بدیسی طالع آزماؤں کا تختۂ مشق بھی رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں آزادی کی تحریکات کا سرخیل بھی رہا اور عالمی قوتوں کا میدان جنگ بھی رہا ہے۔ آج پھر ایسی تبدیلی کا شکار ہے جو خطے کی قوتوں کی نہ ختم ہونے والی مخاصمت کا نتیجہ ہے۔ اس چپقلش کی روحِ رواں عصرِ حاضر کی عالمی طاقتیں اب اس خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ جانتی ہیں۔ یہاں کے اب تک معلوم معدنی وسائل __ جو ایک اندازے کے مطابق دس کھرب ڈالر کی مالیت کے ہیں __ دراصل یہاں اس سیاسی اور معاشی کھینچا تانی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ان معدنی وسائل میں ریئرارتھ میٹل(Rare Earth Metals)اور لیتھیم(Lithium)جیسی دولت دراصل مستقبل کی سب سے بڑی دولت ہے، جو روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے موبائل فون، میڈیکل تشخیص کے آلات، ہوائی صنعت سے لے کر خلائی دریافتوںاور دیگر سیّاروں پر کمند ڈالنے کی ٹیکنالوجی والے آلات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ ستر سالوں میں پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے خلاف خوب استعمال ہوئے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سکندر مرزا ہو یا سردار داؤد، ضیاء الحق ہو یا حامد کرزئی، سب نے پاکستان اور افغانستان کی کنفیڈریشن کے خواب دیکھے ہیں۔ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے امریکی آقا بھی تیار تھے۔ چناں چہ صدر اوباما ایڈمنسٹریشن میں پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کنٹرول کرنے کے لیےAfPakکا استعارہ تواتر سے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ ممکن نہیں کہ ان دو خطوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ملکوں میں ڈیورنڈ لائن کو حتمی سرحد کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ چناں چہ اس پر پاکستانی حکومت کی جانب سے باڑ کی تعمیر کو سرحد کے دونوں طرف آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ اس 2640 کلومیٹر کی سرحد کو روزانہ اوسطاً پچاس ہزار افراد اور 400ٹرک لگ بھگ چھ مختلف مقامات سے کراس کرتے ہیں، جو طالبان کے انتظام سنبھالنے کے بعد تین گنا بڑھ چکے ہیں۔
افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت تمام تر نفرتوں اور کدورتوں کے باوجود جاری ہے، جو کُل افغان درآمدات کا 55 فی صد ہے، جب کہ پاکستان سالانہ بنیادوں پر قریباً ایک ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حتمی اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیوں کہ اربوں ڈالر پاکستان سے صرف کاغذی کارروائی میں درآمدات و برآمدات کی مد میں جاتے اور آتے ہیں، تاکہ اندرونی و بیرونی یار لوگوں کی کرپشن سے کمائی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ مل سکے۔
اگر پاکستان اور افغانستان کی سیاسی صورت حال کو متوازی رکھ کر دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ پاکستانی مقتدرہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں ایسے دخل اندازی کرتی ہے، جیسے یہ پاکستان کا کوئی صوبہ ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ افغانستان کی سیاسی صورتِ حال سے پاکستانی مقتدرہ صَرفِ نظر کرے۔ طالبان کی صورت نئی تشکیل میں ہماری مقتدرہ کا کلیدی کردار ہے۔ پاکستان کے لحاظ سے یہ بہ ظاہر ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تمام مقامی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے حوالے سے طالبان کے حالیہ بیان اور پاکستان سے روزمرہ استعمال کی درآمدی اشیا پر ٹیکس کی کمی کا اعلان دراصل ایک بہتر مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔ اگر پاکستان اور مقامی علاقائی قوتیں اس تبدیلی کو اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو ان دونوں ممالک کا معاشی مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔
ایشیائی طاقتیں اور مستقبل کا افغانستان

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے بہ قول ’’مغلوں کے دور میں ہندوستان پوری دنیا کی مجموعی پیدا وار کا 24 فی صد حصہ اکیلا پیدا کرتا تھا، لیکن برطانیہ نے اسے لوٹ کر صرف 2 فی صد پیدا کرنے والا ملک بنا دیا‘‘ (سوال جواب سیشن، 3 تا 5 بجے دوپہر، بروز اتوار یکم اگست 2021 ریڈیو، ٹیلی ویژن، ایف ایم چینلز)۔ یعنی استعمار کی تاریخ ما سوائے دنیا کی تباہی کے کچھ نہیں ہے۔ اس نے قوموں کے سماجی ڈھانچوں کو برباد کرنے کے علاوہ کچھ رقم نہیں کیا۔ اپنے چہرے کو اس کالک سے بچانے کے لیے دہشت گردتنظیمیں کھڑی کردیں۔ پھر اپنے آپ کو ان کے مد ِمقابل بنا کر پیش کیا۔ فرانسیسی ویت نام میں 13؍ مارچ تا 7؍ مئی 1954ء تک کیمونسٹ انقلاب کے خلاف جنگ لڑتے رہے۔ ان کی ذلت امیز شکست کے بعد امریکا اس جنگ میں کود پڑا۔ ویت نام کا یہ بحران دو دہائیوں تک جاری رہنے کے بعد 1975ء میں امریکا کی ذلت امیز شکست کے نتیجے میں اختتام پذیر ہوا اور ساتھ ہی خطے میں امن قائم ہوگیا۔ پھر اس نے اسی انقلاب کو روکنے کے لیے 1980ء میں دوسرا محاذ افغانستان میں کھول دیا۔ جنگ میں اُلجھنے کے نتیجے میں معاشی وسائل بھی ضائع ہوگئے۔ معاشی طور پر کمزور ہونے سے تحقیق اور ترقی کا عمل رُک گیا۔ دریں اثنا ایشیائی طاقتیں ٹیکنالوجی میں سبقت لے گئیں۔
افغانستان کا قضیہ آج ایک طرف بیٹھنے جارہا ہے۔ امریکی حکمران اس جنگ کو ناکامی سے تعبیر کررہے ہیں، جب کہ اس کا پروردہ صحافتی طبقہ اسے امریکی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ اسٹینڈ رڈ فورڈ یونیورسٹی امریکا کے ڈاکٹر اسفندیار میر نے جیو کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’امریکا افغانستان سے عجلت میں نہیں نکلا ہے۔ امریکا گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پیچھے ہٹنا چا ہ رہا تھا ‘‘۔ جب کہ افغان صدر اشرف غنی کے بہ قول: ’’جلدبازی میں انخلا سے سیکورٹی صورتِ حال بدتر ہوئی، ذمہ دار امریکا ‘‘۔ (اے ایف پی 2اگست 2021ء)
امریکا نے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے بھی یہ تبدیلی کی ہے۔ امریکا اور چین کا مقابلہ جنوبی ایشیا یا وسطی ایشیا میں نہیں، بلکہ ایسٹ ایشیا پیسفک اوشین ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ: ’’امریکا کو انڈیا کی صورت میں چین کی مخالف ایک بڑی طاقت مل گئی ہے۔ امریکا چین سے مقابلے کے لیے ملٹری ماڈرنائیزیشن کی طرف بھی جا رہا ہے‘‘۔ نیوزی لینڈ کے اخبار انڈیپنڈنٹ کی 15؍ نومبر 2020ء کی اشاعت کے مطابق 15؍ ایشیائی ممالک کے مابین دنیا کا سب سے بڑا آزادانہ تجارت کا معاہدہ وجود میں آگیا ہے، جس میں آسیان کے 10 ممالک بھی شامل ہیں، جب کہ پانچ بڑے ممالک؛ چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی شمولیت سے دنیا کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ بن گیا ہے: ریجنل کمپری ہینسو اِکنامک پارٹنر شپ (آر سی ای پی)۔ اس کے بعد امریکا نے کوشش کی کہ اس معاہدے کی اہمیت کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے 2007ء میں قائم ہونے والے ’’کوائڈ‘‘ (QUAD)کو نمایاں کرے۔ اس چار ملکی اتحاد میں آسٹریلیا، انڈیا، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔ جس کا مقصد انڈو پیسیفک ریجن میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رُسوخ کو کنٹرول کرنا تھا۔ دوسری طرف این این آئی نیوز ایجنسی کے حوالے سے روزنامہ جنگ نے اپنی 3؍ اگست 2021ء کی اشاعت میں چینی صدر کا ایک بیان نشر کیا ہے کہ: ’’فوجی صلاحیتیں مزید نکھاریں گے۔ دھونس جمانے والوں کا منہ توڑ دیا جائے گا۔ غیر ملکی طاقتوں کو دبانے یا غلام بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایسی طاقتوں کو چینیوں کی آ ہنی دیوار پاش پاش کردے گی‘‘۔ اس پسِ منظر میں 11؍ اگست 2021ء کو قطر کے دارلحکومت دوحہ میں چار ملکی روس، چین، امریکا اور پاکستان، افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کیے ہیں۔
افغان طالبان نے مستقبل کی پیش بندی کرتے ہوئے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے شروع کر رکھے ہیں۔ ان رابطوں میں انھوں نے حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے خطے کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ شیخ شہاب الدین دِلاور کی قیادت میں ایک وفد 9؍ جولائی کو ماسکو پہنچ تھا۔ دو روزہ مذاکرات کے لیے ضمیر کابلوف سے ملاقات کی اور یقین دہانی کروائی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیںہونے دی جائے گی۔ 28؍ جولائی 2021ء کو طالبان کا 9 رُکنی وفد ملا عبدالغنی کی قیادت میں چین پہنچا تھا، جس نے چینی وزیرِ خارجہ کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے ملاقات کی، جس میں انھوں نے افغان سرزمین کو چین کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی۔ اسی طرح کا ایک وفد دو روزہ دورے پر 3؍ اور 4؍ اگست کو ایران پہنچا۔ اسی دوران ہندوستانی وزیرِخارجہ جے ایس شنکر بھی ایران پہنچے۔ جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے، چوں کہ وہ کسی قسم کے ڈائیلاگ کا حصہ نہیں ہے، حال آںکہ اس نے بھی افغانستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے، اس حوالے سے دہلی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہا ر کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن دو روزہ دورے پر 30؍ اور 31؍ جولائی کو دہلی پہنچا۔ اس نے وہیں سے اشرف غنی کو فون کال کے ذریعے امریکی حما یت کا یقین دلایا ہے۔
افغانستان کا مسئلہ سلگ رہا ہے۔ ایشیا کی اُبھرتی ہوئی طاقتوں کو خطے کا سنگم حاصل ہے۔ ایک طرف روس ہے تو دوسری طرف چین کی سرحدیں ملتی ہیں، جب کہ پاکستان اور ایران اس کے قدرتی ہمسائے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے امریکی حمایت یافتہ حکومت مسلط ہے۔ اسے دبائو میں رکھنے کے لیے طالبان اور دیگر پریشر گروپ پروان چڑھا ئے گئے۔ ان کے علاوہ دہشت گرد تنظیمیں القاعدہ اور داعش جیسی عفریتیں پھیلائی گئیں۔
ساری حکمتِ عملی ایک دور کی تھی۔ جب امریکا دنیا کی یونی پولر پاور سمجھا جاتا تھا اور اس کی اس حیثیت کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔ آج دنیا کے حالات بدل چکے ہیں۔ ایشیائی طاقتیں عالمی اُفق پر اُبھرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ امریکا جنگ و جدل کا اسیر ہوکر شکست خوردہ ہوچکا ہے۔ اس کے منصوبے کاغذی نوعیت کے اور معاہدے ماضی کے قصے کہانیاں ہیں۔ کیوں کہ کوائڈ کا معاہدہ 2007ء کا ہے، جس کے اہم ارکان جاپان اور آسٹریلیا آج ’’آر سی ای پی‘‘ (Regional Comprehensive Economic Partnership)کے رُکن بن چکے ہیں۔ ہندوستان 2015ء میں(BRICS)برکس کا رُکن بن کر(New Development Bank)نیا ترقیاتی بینک کا چیئرمین بن گیا اور 2017میں ایس سی او(SCO)میں شمولیت اختیار کرلی۔
اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

20؍ اگست 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! ہمارے اس خطے کے حوالے سے اگست کا مہینہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم سب لوگ 14؍ اگست کو یومِ آزادی مناتے ہیں۔ ہندوستان والے 15؍ اگست کو مناتے ہیں۔ 19؍ اگست کو افغانستان والے یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس ریجن میں اگست کے مہینے میں آزادیوں کے نام پر بڑی گفتگو کی جاتی ہے۔ یومِ استقلالِ افغانستان ہو، یا یومِ استقلالِ پاکستان ہو، یا یومِ استقلالِ ہندوستان ہو، سمجھنا یہ ہے کہ قوموں کی آزادی کا معیار کیا ہے؟ اس حوالے سے بہ حیثیت مسلمان قرآن پر ایمان رکھنے والی جماعت کے ہمیں یہ غور و فکر کرنا ہے کہ آزادی اور حریت کا بنیادی مفہوم کیا ہے؟ قومیں بنتی کیسے ہیں؟ بگڑتی کیسے ہیں؟ قوموں کی بنیادی شناخت کیا ہونی چاہیے؟
قرآن حکیم نے اس حوالے سے ایک بڑا آفاقی اصول بیان کیا ہے کہ: دنیا کی ہر قوم اور ہر جماعت میں ہم نے رسول بھیجے ہیں۔ اُن پیغمبروںاور انسانیت کو درست راستے پر لانے والے رہنماؤں نے دو بنیادی باتوں کا پیغام انسانیت کے سامنے رکھا: ایک یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ غلامی صرف اُسی کی کرنی ہے۔
دوسری اہم ترین بات یہ کہ طاغوت سے اجتناب برتو۔ طاغوت سے اجتناب یہ ہے کہ انسانوں کی کوئی جماعت کسی دوسری جماعت کو غلام نہیں بنا سکتی۔ انسانوں کا باہمی رشتہ طاغوتی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم کے نزدیک طاغوت کی سب سے بڑی علامت ’’فرعون‘‘ ہے، جس نے طاغوتی نظام قائم کیا ہے۔ اس کی مزید وضاحت اللہ پاک نے سورت القصص کے شروع میں فرما دی کہ: فرعون نے بنی اسرائیل میں دو طاغوتی کام کیے: (1) علا فی الارض: زمین میں اُس نے سرکشی کی۔ جب کوئی قوم دوسری قوم کو غلام بناتی ہے، اُس پر چڑھ دوڑتی ہے، اُسے یرغمال بنا لیتی ہے، اُسے قرآن حکیم عُلوّ فی الارض سے تعبیر کرتا ہے۔ (2) یستضعف طائفۃ منہم: فرعون نے اُن مظلوم قوموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا تھا۔ گروپ بنائے ہوئے تھے۔ ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘۔ فرعوب نے جو زندہ رہے، انھیں کمزور بنا کر اُن کی سیاسی حیثیت اور معاشی طاقت اور قوت ختم کردی۔ جو مزاحمت کرتے، اُن کی نوجوان طاقت کو ذبح کرا دیا۔ قتل و غارت گری کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عورتوں کو زندہ رکھا۔ نسل کشی کی۔ نسلیں تباہ کیں۔ وہ بڑا ہی فسادی تھا۔ (القصص: 4)
ان دونوں دائروں __ اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب __ کا انسان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ قرآن حکیم نے بڑے واضح الفاظ میں یہ حقیقت بیان کردی کہ قومی ترقی کے لیے یہ دو نکاتی ایجنڈا ضروری ہے۔ کوئی قوم اگر طاغوت کے تسلط کو قبول کرلے اور صدقِ دل سے وحدانیت اور اللہ کی غلامی کا واضح اور دو ٹوک اقرار نہ کرے اور عملاً نظام نہ بنائے تو اُس کے لیے سوائے ذلیل ہونے کے اور کچھ نہیں‘‘۔
اس دور کے طاغوت کی سامراجی تاریخ
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’قرآنِ حکیم میں بیان کردہ فرعون کی طاغوتیت کے تناظر میں ذرا دیکھئے کہ ہمارا یہ خطہ پچھلے ڈھائی تین سو سال سے بین الاقوامی طاغوت (انگریز سامراج) کے زیرتسلط ہے۔ آزادی سلب ہوچکی۔ یہ جو یومِ آزادی کے اس مہینے میں، اس ریجن کے سارے ملکوں میں جشن منائے جاتے ہیں، یہ خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ آپ پہلے غلام رہے ہیں۔ تبھی تو ہم یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس موقع پر دو سو سالہ غلامی کی پوری تاریخ سامنے رہنی چاہیے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ڈھائی سو سال سے آپ جس طاقت کے غلام ہیں، اُس کی حقیقی نوعیت طاغوتی نظام کا مسلط کرنا رہا ہے۔ پورا قرآن حکیم پڑھ جائیے، احادیث کا ذخیرہ دیکھئے، کس طرح طاغوت کی تعریف ان یورپین بھیڑیوں پر پوری اُترتی ہے۔ ان سامراجی قوموں کی طاغوتیت کی ایک پوری تاریخ ہے۔ قرآن نے فرعون کا جو نقشہ کھینچا تھا، بالکل وہی بعینہٖ نقشہ اُن سامراجی طاغوتی قوتوں کا ہے، جو دنیا بھر کے ملکوں کو غلام بنانے کے لیے پوری انسانیت کے خلاف پِل پڑے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں ہوں، یا کسی فرانسیسی کمپنی کی صورت میں ہوں، یا کسی اٹالین یا سپینش سفاکوں کی صورت میں ہوں، اپنے اپنے علاقوں میں انھوں نے لوٹ مار کی بندربانٹ کی۔
بدقسمتی سے ہمارا یہ خطہ برطانوی سامراج کے زیرِتسلط رہا۔ افغانستان سے لے کر بنگال تک غلام بنا۔ اس خطے میں طاغوت نے ڈیوائڈ اینڈ رول کی سیاست کی۔ قتلِ عام کی ایک تاریخ رقم کی۔ 1757ء سے بنگالیوں کا قتلِ عام کیا، اسی صدی کے آخر میں بیس لاکھ بنگالی قحط سے مار دیے گئے۔ زرخیز سونا اُگلتی ہوئی زمین کی پیداوار سے گودام بھرے ہوئے تھے، لیکن عوام کو فاقے پر مجبور کردیا گیا۔ کاشت کاروں پر ظالمانہ ٹیکس لگا کر زمینیں چھین لی گئیں۔ جب تین صوبوں کی دیوانی انگریز سامراج کے قبضے میں آئی تو ہندوستان سے ظالمانہ ٹیکس لگا کر دولت نچوڑ لی گئی اور برطانیہ لے جا کر عیاشیاں کی گئیں۔ یہ تو بنگال کی حالت ہے، آگے جہاں جہاں انگریز بڑھتے چلے گئے؛ 1803ء میں دہلی پر، 1843ء اور 1839ء میں سندھ اور پنجاب پر، جہاں جہاں پہنچے، علاقے کنگال کردیے۔ غربت پیدا کردی، بھوک پیدا کردی، بدحالی اُتار دی۔ بعینہٖ فرعون والا کام کیا۔ کوئی اس تاریخ سے انکار کرسکتا ہے؟ 1857ء آیا تو 55 ہزار علما تو صرف دہلی میں شہید کیے۔ لاکھوں انسان قتل کیے۔ بنگال سے لے کر پشاور تک۔ سولیوں پر چڑھایا گیا۔ نسلوں کی نسلیں تباہ کردیں۔ غلام بنایا۔ معاشی وسائل لوٹے۔ انہ کان من المفسدین۔ ہر طرف، ہر ہر مرحلے پر فساد مچایا۔ نئے نئے طریقوں سے فساد مچایا اور تقسیم کیا۔
وہ نسلیں اور مذاہب جو پچھلے ہزار سال سے رواداری کے ساتھ ایک خطے میں رہ رہے تھے، جہاں اولیاء اللہ بھی تھے، اور اپنے اپنے ذہن کے مطابق عبادت کرنے والے رشی اور منو بھی تھے۔ کبھی جھگڑا نہیں ہوا، کبھی لڑائی نہیں ہوئی، انگریز سامراج نے ان میں افتراق و انتشار پیدا کیا۔ طاغوت کی تمام علامتیں جو قرآن حکیم اور احادیث میں بیان کی گئی ہیں، وہ مکمل اور کامل طو رپر اس انگریز سامراج پر فٹ آتی ہیں‘‘۔
افغانستان میں عالمی طاغوت کی سامراجی تاریخ
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’19؍ اگست 1919ء کو افغانستان میں آزادی کی دستاویز پر دستخط کرکے افغانستان کو ایک خود مختار حکومت کے طور پر برطانیہ کو تسلیم کرنا پڑا۔ اس موقع پر برطانیہ کا سفیر سر فرانسس ہمفرے تقریر کرتے ہوئے امان اللہ خاں کو مخاطب کرتا ہے کہ یہ تمھاری کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ عبیداللہ سندھی اور اس کے استاذ مولانا محمودحسن کی کامیابی ہے۔ اُن کی جدوجہد ہے، اُن کی تحریک ہے۔ تم تو خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ مال بناتے تھے، کھاتے پیتے تھے۔ آج افغانستان آزادی کی ایک 102 ویں سالگرہ مناتا ہے۔ اس آزادی کے پیچھے شیخ الہندؒ اور اُن کی جماعت جو انبیا کے سچے جانشین ہیں، جو اس آیت کے مطابق اللہ کی عبادت کرنے والے اور طاغوت کے دشمن تھے، اُن کی قربانیاں ہیں۔
افغانستان کی آزادی بہت بڑی کامیابی تھی، لیکن اب سامراج نے دیکھا کہ یہ تو گیم ہاتھ سے نکل رہی ہے، تو اُس نے بڑا مکارانہ چال چلی کہ مولانا سندھیؒ اور اُن کے ساتھیوں کا افغانستان میں رہنا مشکل بنا دیا۔ انگریز نے امان اللہ خان پر دباؤ ڈالا کہ ہم تمھیں وظیفہ اس شرط پر دیں گے کہ جو ہندوستانی آزادی پسند تمھارے پاس موجود ہیں، اُن کو ہمارے حوالے کرو۔ اگر ہمارے حوالے نہیں کرتے تو ان کو اپنے ملک سے نکال دو۔ حضرت سندھیؒ امیر امان اللہ خان کو سیاسی اقدامات کرنا سکھا رہے تھے، جس کی وجہ سے برطانیہ آزادی دینے پور مجبور ہوا۔ اس لیے مولانا سندھیؒ کو افغانستان سے نکالنے کی کوششیں تیز ہوئیں اور آپؒ کو وہاں سے روانہ ہونا پڑا۔ مولاناؒ نے روس کا راستہ اختیار کیا، وہاں کا انقلاب دیکھا، ترکی کا انقلاب دیکھا اور حرم مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
آپ دیکھئے کہ جب تک مولانا سندھیؒ کابل میں موجود رہے تو امیر امان اللہ خان وہ فیصلے کرتا رہا، جن سے طاغوت کی جڑ کٹتی ہے۔ جیسے ہی مولانا سندھیؒ وہاں سے تشریف لے جاتے ہیں تو امیر امان اللہ خان ایسے لایعنی فیصلے کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آخر کار 1928ء میں بچہ سقہ کے ذریعے برطانوی سامراج افغانستان پر قبضہ کرلیتا ہے۔ پھر اُس کے بعد نادر شاہ آگیا، پھر ظاہر شاہ، پھر داؤد شاہ آگیا، پوری تاریخ ہے۔ پھر پوری گیم کھیل کر روسی طاقتوں کا حملہ ہوا۔ اُن کو پھانس لیا گیا کہ آؤ یہاں کا کیک کاٹو۔ پھر اُن کو ختم کرنے کے لیے یہاں سے علما کو بھرتی کیا گیا۔ جہاد کا نام دے دیا گیا۔ اس طرح افغانستان میں تفریق، بدامنی، ناانصافی اور معاشی بھوک پیدا کی گئی۔
آج سو سال ہوگئے۔ ہر کچھ عرصے بعد کابل فتح ہوتا ہے۔ پھر کابل ڈھایا جاتا ہے۔ افغانستان تعمیر ہوتا ہے اور پھر توڑ دیا جاتا ہے۔ آج بھی عام افغان اُسی طرح بھوکا ننگا ہے، جیسے سو سال پہلے تھا۔ آج بھی افغانستان میں بداَمنی ہے، جیسے سو سال پہلے تھی۔ معاہدات ہوتے ہیں اور معاہدات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے ملکوں کی پراکسیز وہاں پر موجود ہیں، وہ اپنے اپنے گروپوں کو لڑاتی ہیں۔ قرآن نے کہا: ’’زمین میں سیر کرو‘‘ (العنکبوت: 20)۔ تین سو سال کی پوری تاریخ کا مطالعہ کرو۔ تمھیں معلوم ہوگا کہ یہ برطانوی سامراج کی گریٹ گیم ہے‘‘۔
حقیقی آزادی کے لیے قرآنی تعلیمات کی اتباع ضروری
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آزادی کے لیے شرط ہے کہ دو کام ہونے چاہئیں: اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب۔ اجتنابِ طاغوت کے لیے تین کام ہونے چاہئیں: عدل، امن اور معاشی خوش حالی۔ تب تو یومِ آزادی ہے، اور اگر یہ تین باتیں نہیں ہیں، بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب، عدل و انصاف نہیں ہے، فرقہ واریت اور تفرقہ ہے، انتشار اور بداَمنی ہے، معاشی بھوک و افلاس ہے، تو وہ حقیقی طور پر قومی آزادی نہیں ہے۔
قرآن حکیم نے بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ اگر حقیقی اور واقعی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں، رسولوں اور انبیا کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو طاغوت سے اجتناب کرو۔ طاغوت کے اجتناب کے لیے عدل، امن اور معاشی خوش حالی کو حقیقی معنوں میں قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ جب یہ قائم کریں گے تو طاغوتی سرمایہ داری نظام ہلے گا۔ سرمایہ داری نظام کو چوٹ پہنچے گی۔ جب چوٹ پہنچے گی تو کیا وہ آپ کو اپنے قطری سینٹرل کمانڈ کے مرکز العُدید ائیربیس (Al Udeid Air Base)کے پڑوس میں دفتر بنانے کی اجازت دے گا؟ وہ اپنے زیرتسلط افغانستان کے بنائے ہوئے صدارتی محل اور اپنے گورنروں کے بنائے ہوئے محلات پر قبضہ کرنے دے گا؟ وہ تبھی ایسا کرنے دے گا کہ جب اُن محلات کی سود کی قسط ادا کرنے کے لیے آپ پابند ہوں گے۔ دوحہ معاہدہ پڑھ لو کہ آپ تمام اثاثوں کی حفاظت کریں گے۔ تمام وسائل کی حفاظت کریں گے، اور تمام معاہدات کی پاسداری کریں گے، اس لیے حکومت تمھیں دی جارہی ہے۔ تو پھر رہ کیا گیا؟ تو کیا محض تمناؤں اور آرزوؤں اور حرص و لالچ سے مسئلے حل ہوتے ہیں؟
یہ عذاب اس خطے پر اس لیے ہے کہ شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ ایسے حریت پسند، مولانا عبیداللہ سندھیؒ ایسے دلیر، بہادر، عقیل و فہیم انقلابی انسان، مولانا حسین احمد مدنی ایسے اولوالعزم انسان، اس خطے کے سچے حریت پسند علما کی تکذیب کے نتیجے میں آج ان حالات کے شکار ہیں۔ ان جرائم سے توبہ کرنی پڑے گی۔ صرف سرسری طور پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت سندھیؒ کا نام لینے، یا تحریکِ شیخ الہند سے مصنوعی طور پر ناطہ جوڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان بزرگوں کی توہین سے توبہ کرو۔ انھوں نے جو عقل دی تھی، جو انبیا اور صحابہؓ کی تعلیمات بتلائی تھیں، ہم نے اُن کو پسِ پشت ڈالا ہے۔ یہ خطہ آج بھی بداَمنی، بھوک، افلاس اور غلامی کی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ جب تک توبہ نہیں کرتے، اور صحابہؓ کے بنائے ہوئے اور نبی اکرمؐ کے بنائے ہوئے اس طریقۂ کار کے مطابق حقیقی معنوں میں آزادی کی جدوجہد نہیں کرتے، اُس وقت کامیابی نہیں ہے۔ تبھی یومِ آزادی حقیقی طور پر منایا جاسکتا ہے۔ تبھی اُس آزادی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن حکیم کو سمجھنے، شعور کو بلند کرنے اور حقائق کا درست تناظر میں اِدراک کرنے، اصلاح اور فساد کے مناظر میں درست نقطہ نظر سے تفریق اور امتیاز پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک اور ہمارے خطے کو سامراجی طاغوتی اثرات سے پاک فرمائے۔ حقیقی آزادی منانے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ آمین!
دوحہ امن معاہدہ

امریکا اور طالبان کے درمیان ’’دوحہ امن معاہدہ‘‘ کا مکمل متن
مترجم: پروفیسر ڈاکٹر شاہ زیب خان، لاہور
(سال 2020ء کے آغاز میں مسئلۂ اَفغانستان کے حوالے سے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 29؍ فروری 2020ء بروز ہفتہ کو ایک مقامی ہوٹل میں طے پایا۔ امن معاہدے پر دستخط کی اس تقریب میں دنیا بھر کے 50 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ معاہدے پر افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر (جن کو 2018ء میں امریکی درخواست پر پاکستان نے جیل سے رہا کیا تھا) اور افغان نژاد امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے درمیان ہوا، جس پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بہ طورگواہ دستخط کیے۔
طالبان امریکا امن معاہدے کی اصل حقیقت، جسے سمجھنا ضروری ہے۔ اس میں پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ اس معاہدے میں مختلف جگہوں پر ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کے بارے میں 16 دفعہ یہ جملہ لکھا گیا ہے کہ ’’جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں‘‘۔ دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ اسی معاہدے میں دس مرتبہ یہ لکھا گیا ہے کہ: ’’امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات‘‘ کے خلاف اٹھنے والے ہر اقدام اور عمل کو روکنے کی طالبان نے مکمل یقین دہانی کرائی ہے اور ضمانت دی ہے۔ اسی طرح درجِ ذیل جملے ایک سے زیادہ مرتبہ اس معاہدے کا حصہ ہیں:
(1)معاہدے کی سب سے پہلی شق ہی یہ ہے کہ: ’’کسی فرد اور گروہ کو افغانستان کی سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔ (2)امریکا سے رہائی پانے والے طالبان قیدی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔ (3) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، افغانستان میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ (4) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہوں، طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی بالکل اجازت نہیں ہے۔ (5) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، انھیں طالبان نہ بھرتی کرسکتے ہیں، نہ ان کی تربیت کر سکتے ہیں، نہ ہی ان کو فنڈ اکٹھا کرنے اور سر زمینِ افغانستان میں رہنے کی اجازت ہے۔ (6) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، انھیں افغانستان میں کسی قسم کی کوئی پناہ اور رہائش گاہ نہیں دی جائیگی۔ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ کا باعث نہ بنیں۔(7) جو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں، ان کو ویزا، پاسپورٹ، سفری اجازت یا کوئی قانونی دستاویزات دینے کی بالکل اجازت نہیں ہے‘‘۔
گویہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ممکنہ جتنے اندرونی و بیرونی خطرات ہوسکتے ہیں، ان کی طالبان سے ضمانتیں لی گئی ہیں اور اگر ایسا کوئی خطرہ پیدا ہوتا ہے تو انھیں ان خطرات سے نمٹنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
تیسری اہم چیز اس معاہدے میں یہ ہے کہ جو بھی اقدامات کیے جائیں گے، وہ اپنے طے شدہ طریقۂ کار اور وقت پر ہوں گے۔ مثلاً ’’افغان اسلامی حکومت‘ افغانستان میں تمام شرکا کے اندرونی مذاکرات کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی‘‘ کہ لوٹ کھسوٹ کی ایک ایسی جامع حکومت قائم کی جائے، جس سے افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے کردار بھی ادا کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ تا حال نہ افغان حکومت کا باقاعدہ اعلان ہو سکا ہے اور نہ ہی یومِ آزادی حکومتی سطح پر منایا گیا ہے۔
دوحہ معاہدے کے اصل متن کے عنوانات اور ذیلی نمبرات کو مِن و عَن انگریزی سے نقل کیاگیا ہے۔ قارئین کے لیے اس کے انگریزی متن کا اُردو ترجمہ پیش ہے۔ ادارہ)
’’دوحہ امن معاہدہ‘‘
’’افغانستان میں امن لانے کے لیے ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے درمیان معاہدہ 29؍ فروری 2020ء __ بہ مطابق۵؍ رجب۱۴۴۱ہجری قمری تقویم اور 10؍ حوت 1398 ہجری شمسی تقویم __ کوہوا۔
یہ جامع امن معاہدہ چار حصوں پر مشتمل ہے:
1۔ ضمانتیں اور ان کو پورا کرنے کا طریقۂ کار، جن کے ذریعے سے کسی گروہ یا فرد کی طرف سے افغانستان کی سر زمین کو امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔
2۔ ضمانتیں اور ان کے نافذ کرنے کے طریقۂ کار اور ٹائم لائن، جس کے تحت افغانستان سے تمام بیرونی افواج کا انخلا ہوگا۔
3۔ بیرونی فورسز کے مکمل انخلا کی ضمانتوں اور ان کی ٹائم لائن کے اعلان کے بعد اور بین الاقوامی گواہان کی موجودگی میں اس اعلان کے بعد کہ افغانستان کی سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ افغانستان کے اندر افغانیوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز 10؍ مارچ 2020ء کو کریں گے۔ جو کہ ہجری قمری کیلنڈر کے مطابق۱۵؍ رجب۱۴۴۱ھ بنتا ہے اور ہجری شمسی کے مطابق 20؍ ہوت 1398 بنتا ہے۔
4۔ افغانستان کے اندرونی ڈائیلاگ اور مذاکرات کی لسٹ میں ایجنڈے کا ایک اہم نکتہ دائمی اور جامع جنگ بندی کا ہوگا۔ افغانستان کے اندرونی مذاکرات کے تمام شرکا دائمی اور جامع امن کے حوالے سے عمل درآمد کی تاریخوں کے تعین کو زیرِبحث لائیں اور مشترکہ طور پر اُن کے اطلاق کا طریقۂ کار بھی طے کریں، جس کا اعلان افغانستان کے سیاسی مستقبل کے روڈمیپ کی تکمیل اور اتفاق کے ساتھ ہی کیا جائے گا۔
درجِ بالا چار حصے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا اطلاق ان میں سے ہر ایک کی اپنی طے شدہ حالت اور ٹائم لائن کے مطابق ہوگا۔ پہلے دو حصوں پر اتفاق، دوسرے دو حصوں کی راہ ہموار کرنے کی شکل میں ہوگا۔
پہلا اور دوسرا حصہ
پہلے اور دوسرے حصے پر عمل درآمد کے طے شدہ اُمور یہ ہیں:
فریقین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دونوں حصے آپس میں مربوط ہیں۔
(فریقِ اوّل) امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ پر اس معاہدے کی رُو سے لازم ہے کہ جو علاقے ان کے دائرۂ اختیار میں ہیں، ان پر اس (معاہدے) پر عمل درآمد کروائیں، یہاں تک کہ نئے بندوبست کے بعد ’افغان اسلامی حکومت‘ __ جس کا تعین افغانستان کے اندر افغانیوں کے مذاکرات اور تبادلۂ خیال کے نتیجے میں ہوگا__ قائم ہوجائے۔
(فریقِ ثانی) متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اس بات پر پُرعزم ہے کہ وہ افغانستان سے متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادیوں اور شریک پارٹنرز کی تمام مسلح افواج سمیت غیر سفارتی عملے، پرائیویٹ سیکیورٹی کنٹریکٹر، تربیت کار، مشیران اور معاونت کاروں کا اِنخلا معاہدے کے اعلان کے چودہ (14) مہینوں میں کرے گا اور اس کے بارے میں درجِ ذیل اقدامات کرے گا:
A۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادیوں اور شریک پہلے 135 دنوں میں درجِ ذیل یہ اقدامات کریں گے:
1۔ وہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد گھٹا کر 8600کریں گے اور اسی تناسب کے ساتھ اپنے اتحادیوں اور شریکوں کی فورسز میں بھی کمی کریں گے۔
2۔ پانچ ملٹری بیسز (فوجی ہیڈ کوارٹرز) سے متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک پارٹنرز اپنی تمام فورسز ہٹا لیں گے۔
B۔ اس معاہدے کے دوسرے حصے میں درج فرائض پر، عزم اور عمل کے ساتھ، امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اور متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک درج ذیل پر عمل کریں گے:
1۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک افغانستان سے اپنی تمام بقیہ فورسز کا انخلا 5 سے 9 مہینوں میں کریں گے۔
2۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا)، اس کے اتحادی اور شریک اپنی تمام فورسز بقیہ تمام بیسز (فوجی مراکز) سے ہٹالیں گے۔
C۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) تمام متعلقہ اَطراف کے ساتھ ایسے منصوبے پر __ جس کے ذریعے حربی اور سیاسی قیدیوں کو تمام متعلقہ اَطراف کی ہم آہنگی اور اجازت کے بعد بحالیٔ اعتماد کی غرض سے رہا کیا جا سکے __ فوراً کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ کے 5000 قیدیوں اور دوسری طرف کے 1000 قیدیوں کو 10؍ مارچ 2020ء __ بہ مطابق ہجری قمری تقویم۱۵؍ رجب۱۴۴۱ء اور بہ مطابق ہجری شمسی تقویم 20؍ ہوت، 1398 __ جو کہ افغانستان کے داخلی مذاکرات کے آغاز کا پہلا دن ہے،دونوں متعلقہ اطراف کا ہدف یہ ہے کہ اس تاریخ سے اگلے تین ماہ میں تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) بھی اس ہدف کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اس بات کا عزم کرتی ہے کہ اس کے رہائی پانے والے قیدی اس معاہدے میں درج ذمہ داریوں پر عمل کریں گے، تاکہ وہ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔
D۔ افغانستان کے داخلی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __کے ممبران پر موجود امریکی پابندیوں اور اُن کی گرفتاری پر مقرر انعامات کی فہرست پر ایک انتظامی نظرِثانی کا آغاز کرے گا، تاکہ ان پابندیوں کو ختم کرنے کے ہدف کو 27؍ اگست 2020ء __بہ مطابق ہجری قمری تقویم کے۸؍ محرم۱۴۴۲ء اور ہجری شمسی تقویم کے 6؍ سنبلہ 1399 __تک حاصل کیا جاسکے۔
E۔ افغانستان کے داخلی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے دوسرے ممبران اور (حکومتِ) افغانستان کے مابین سفارتی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا، تاکہ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ کے ممبران کے نام پابندیوں والی فہرست سے 29؍ مئی 2020ء __بہ مطابق۶؍ شوال۱۴۴۱ء قمری ہجری تقویم اور 9؍ جوزا 1399 بہ مطابق ہجری شمسی تقویم __ تک نکلوائے جاسکیں۔
F۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادی افغانستان کی علاقائی سا لمیت اور سیاسی خودمختاری اور اس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کے خلاف طاقت کے استعمال اور اس کی دھمکیاں دینے سے گریز کریں گے۔
تیسرا حصہ
اس معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی، امارتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ درجِ ذیل اقدامات کریں گے، تاکہ کوئی فرد یا گروہ، القاعدہ سمیت، افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال نہ کریں:
1۔ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اپنے کسی بھی ممبر، فرد یا گروہ، القاعدہ سمیت کو افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
2۔ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ ان تمام افراد اور گروہوں کو ایک واضح پیغام دیں گے کہ جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، ان کے لیے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ کے ممبران کو ہدایت دیں گے کہ وہ ایسے گروہوں سے تعاون نہ کریں، جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں۔
3۔ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ افغانستان میں کسی ایسے فرد یا گروہ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرہ پہنچانے سے روکیں گے۔ اور ان کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور پیسہ اکٹھا کرنے سے منع کریں گے۔ ان کو اس معاہدے کی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے ہاں رہنے بھی نہیں دیں گے۔
4۔ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ اس بات پر پُرعزم ہیں کہ جو افغانستان میں بین الاقوامی قوانینِ ہجرت اور اس معاہدے کے عزائم کے مطابق پناہ یا رہائش چاہتے ہوںگے، ان کے ساتھ اس طرح معاملات کریں گے کہ وہ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث نہ بنیں۔
5۔ امارتِ اسلامی افغانستان __جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ ایسے لوگوں کو ویزا، پاسپورٹ، سفری اجازت، یا اور قانونی دستاویزات جاری نہیں کریں گے، جو متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ہوں۔
چوتھا حصہ
1۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا کہ وہ اس معاہدے کو تسلیم کرے اور اس کی تائید کرے۔
2۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) اور اماراتِ اسلامی افغانستان __ جس کو امریکا ایک ریاست کے طور پرتسلیم نہیں کرتا اور وہ طالبان کے نام سے جانے جاتے ہیں __ ایک دوسرے سے مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اور اُمید کرتے ہیں کہ متحدہ ہائے ریاست اور نئے بندوبست کے بعد ’افغان اسلامی حکومت‘ __ جس کا تعین افغانستان کے داخلی ڈائیلاگ کے بعد ہوگا __ کے مذاکرات کامیاب ہوں گے۔
3۔ متحدہ ہائے ریاست (امریکا) نئے بندوبست کے بعد ’افغان اسلامی حکومت‘ __ جو کہ افغانستان کے داخلی ڈائیلاگ اور مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئے گی __ کے ساتھ تعمیرِنو کے حوالے سے معاشی تعاون چاہے گا اور اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دے گا۔
دوحہ میں 29؍ فروری 2020ء __ بہ مطابق۵؍ رجب۱۴۴۱ھ ہجری قمری تقویم اور 10؍ ہوت 1398 ہجری شمسی تقویم __ کو دستخط ہوئے، جس کی نقل پشتو، درّی اور انگریزی زبانوں میں بھی تیار کی گئی ہیں اورجن کا متن مساوی طور پر مستند ہے‘‘۔
شمارہ ختم
واپس
