دسمبر،2020ء

ماہنامہ رحیمیہ

دسمبر،2020ء

دسمبر 15, 2020 11 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 11

انعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے

انعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے

يا بَني إِسرائيلَ اذكُروا نِعمَتِيَ الَّتي أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَنّي فَضَّلتُكُم عَلَى العالَمينَ   47:2

(اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کیے اور اس کو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر۔) 


گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کی اہم خرابیوںکا اجمالی تذکرہ تھا۔ اس رکوع کی اس آیت (47) سے آیت (121) تک بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان پر ہونے والے انعامات کا مفصل تذکرہ ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں ان کی طرف سے ان انعامات کی ناشکری اور کج روی کو بیان کیا گیا ہے۔ 
یا بَني إِسرائيلَ اذكُروا نِعمَتِيَ الَّتي: گزشتہ آیات میں صبر و استقامت اور نماز جیسی عظیم عبادت سے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا حصول عام طور پر بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہر حالت میں قلب کا جماؤ اور پوری توجہ اور دھیان کے ساتھ نماز جیسی عبادت ادا کرنا لوگوں کو بھاری لگتا ہے۔ اس لیے اس کی کمی کو دور کرنے کے لیے اس آیت میں نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بنی اسرائیل کو وہ تمام نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں، جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں عطا کی تھیں۔ 


الَّتي أَنعَمتُ عَلَيكُم: آیت (47) سے (121) تک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ ان انعامات اور خرابیوں کا تذکرہ کیا ہے، جو بنی اسرائیل پر کی گئیں اور انھوں نے وقتاً فوقتاً ان کی ناشکری کی۔ چناںچہ ان آیات میں انعامات کے ضمن میں بنی اسرائیل کی ناشکری پر مبنی تین بڑی خرابیاں خاص طور پر بیان کی گئی ہیں: 


(1)     فرعونوں کے غلام بننے کے زمانے سے بنی اسرائیل دینِ حق کے خلاف بغاوت اور سرکشی کے مرض میں مبتلا رہے ہیں۔ حال آںکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں غلامی سے نجات اور آزادی اور حریت کی نعمت دی تھی۔ اس سے متعلق ان کے حالات و واقعات ان آیات کے شروع حصے میں بیان کیے گئے ہیں۔ 


(2)     اس کے بعد ان آیات میں بنی اسرائیل کے ایسے حالات اور واقعات بیان کیے گئے ہیں کہ باوجود بڑی دینی اور دنیاوی ترقیات حاصل کرلینے کے‘ وہ سرکشی اور تکبر کے اس مرض سے شفا یاب نہیں ہوسکے۔ انھوں نے ان خرابیوں سے نجات حاصل نہیں کی۔ اس سے متعلق بنی اسرائیل کے چند واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ 


(3)     بنی اسرائیل کی یہ خرابیاں بیان کرکے مسلمانوں پر لازمی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ان کی ان بداَخلاقیوں سے اجتناب برتیں اور ان کے ساتھ میل جول ختم کریں۔ ان سے کسی خیر اور بھلائی کی اُمید نہ رکھیں۔ اپنے کاموں میں انھیں شریک نہ بنائیں۔ یہ اس قابل نہیں ہیں کہ انسانی معاشروں کے اُمور میں سے کسی کام میں ان کی اتباع اور پیروی کی جائے۔ 


اس طرح بنی اسرائیل پر معاشی حوالے سے نعمتوں کا تذکرہ اور اُن کی ناشکری کے واقعات بیان کرکے یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ اب دنیا کی رہنمائی کے قابل نہیں رہے۔ دنیا میں انسانی سماج دو بنیادی دائروں میں ترقیات کرتا ہے: ایک معاشی حوالے سے انسانی احتیاجات کی تکمیل کے بہترین ترقی یافتہ نظام کا وجود پذیر ہونا۔ اس حوالے سے ہر طرح کی نعمتوں کا حاصل ہونا۔ دوسرا سیاسی حوالے سے حکومت اور اقتدار کا حاصل ہونا۔ معاشی اور سیاسی طاقت سے ہی انسانی معاشرے ترقیات کی منازل طے کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت میں ان دونوں انعامات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ معاشی حوالے سے نعمتوں کا تذکرہ اس جملے میں کیا گیا ہے اور سیاسی حوالے سے اُن کی فضیلت کا بیان آیت کے آخری حصے میں کیا گیا ہے۔ چناںچہ ارشادِ ربانی ہے: 
وَأَنّي فَضَّلتُكُم عَلَى العالَمينَ : بنی اسرائیل کو اقوامِ عالم پر جاہ و مرتبت اور حکومت و سیاست کے حوالے سے برتری عطا کی گئی تھی۔ ’’عالمین‘‘ سے مراد تمام اُمتیں او راقوام ہیں۔ چناںچہ بنی اسرائیل کے وجود سے لے کر قرآن حکیم کے نزول تک دنیا میں ان کو فضیلت حاصل رہی۔ 
قومیں تبھی ترقی کرتیں ہیں جب وہ اپنی سیاسی اور معاشی تاریخ محفوظ کرلیتی ہیں۔ وہ تاریخی حوالے سے انسانی معاشروں میں موجود افکار و خیالات اور سیرت و کردار کو نکھارنے کا سلیقہ اور طریقہ اپناتی ہیں۔ بنی اسرائیل دنیا میں ایک ایسی منفرد قوم رہی ہے کہ جس کی تاریخ تورات اور انجیل کے ذریعے سے محفوظ کی گئی تھی۔ انبیائے بنی اسرائیل پر نازل ہونے والی کتابوں نے ان کی تاریخ کی حفاظت کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی زمانے میں زوال سے دوچار ہوئی تو انبیا علیہم السلام کی تعلیمات کے زیراثر انھوں نے دوبارہ اپنی سیاسی اور معاشی قوت پیدا کرلی اور اقوامِ عالم پر افضلیت حاصل کی۔ چناںچہ قرآن حکیم نے دوسری جگہ پر ارشاد فرمایا: ’’یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب پیدا کیے تم میں نبی اور کردیا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں‘‘۔ (القرآن 20:5) بنی اسرائیل کو اس حوالے سے فضیلت حاصل ہے کہ تقریباً چار ہزار انبیا علیہم السلام ان میں مبعوث ہوئے۔ ہر نبیؑ نے آ کر اُس قوم کی تاریخ کو دوبارہ یاد کرایا۔ اور انھیں اللہ سے جوڑکر دنیا میں ترقیات کا راستہ دکھایا۔ سیاسی حوالے سے ان میں بادشاہ اور حکمران پیدا کیے گئے، جنھوں نے اس قوم کی سیاسی طاقت کو چار چاند لگائے۔ 


الغرض! تقریباً نصف پارے کے قریب ان آیات (47 تا 121) میں بنی اسرائیل پر ہونے والے ہمہ جہتی انعامات اور دیگر اقوام پر فضیلت سے متعلق واقعات اور      بنی اسرائیل کی طرف سے وجود میں آنے والے تکبر، غرور اور باطنی امراض بیان کرکے یہ واضح کردیا گیا کہ اب اس دور میں وہ اس قابل نہیں رہے کہ وہ اقوامِ عالم کی قیادت کرسکیں اور انسانیت کی رہنمائی کے لیے کوئی مثبت کردار ادا کرسکیں۔ اس دور میں قرآن حکیم کی تعلیمات کی اساس پر ایک ایسی نئی جماعت بنانا ضروری ہے، جو دین حق کو تسلیم کرکے اُس کے غلبے کے لیے ہمہ جہتی کردار ادا کرے۔ 

2 / 11

والدین کی نافرمانی کی سزا

والدین کی نافرمانی کی سزا

عَنْ أُبَیِّ بْنِ مَالِک، عَنِ النَّبِیِّﷺ أَنّہٗ قَالَ: ’’مَنْ أَدْرَکَ وَالِدَیْہِ أَوْ أَحَدَھُمَا، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ، فَأَبْعَدَہُ اللَّہُ وَأَسْحَقَہُ‘‘۔ 
(حضرت اُبیٔ بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ: ’’جس نے اپنے والدین یا کسی ایک کو اپنی زندگی میں پایا، اس کے باوجود وہ جہنم میں جاپڑے تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے بہت دور کردیا‘‘۔)  (مسند احمد، 18928) 


مندرجہ بالا حدیث میں نبی اکرمﷺ جہنم سے نجات اور رحمتِ خداوندی کے حصول کا ایک اہم ترین ذریعہ ماں باپ کی خدمت بیان فرما رہے ہیں۔ اس خدمت کے ذریعے سے انسان اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرسکتا ہے۔ مؤمن کو والدین کا احترام کرنے اور اُن کے حقوق ادا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان کو اگر کسی جسمانی خدمت اور سہارے کی ضرورت ہے تو وہ بروئے کار لائے۔ مالی ضرورت کا لحاظ رکھے۔ ہر وہ کام کرے جو اُن کی راحت، سکون، خوشی اور آسانی کا باعث بنے۔ 
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد انسان پر سب سے زیادہ احسان ماں باپ کا ہوتا ہے۔ ماں باپ کی خدمت کا حکم دینے کی ایک حکمت یہ ہے کہ انسان کی عادت    احسان مندی کی بنے۔ اگر کوئی شخص اپنے اوّلین محسنین کا خیال نہیں رکھتا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کے اَخلاق بہت بُرے ہیں۔ جب وہ اپنے محسنین کا بدلہ چُکانا بھی نہیں جانتا تو اس سے کسی اَور کے لیے قربانی دینے اور ایثار کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ گویا ماں باپ کی خدمت اور ان کے احترام سے روگردانی کرنے والا اپنے عمل سے اپنے اَخلاقی بگاڑ کی نشان دہی خود کررہا ہوتا ہے، جب کہ ماں باپ کا اپنی اولاد کے ساتھ معاملہ تادمِ زیست رحم والا ہوتا ہے۔ اس لیے والدین سے بداَخلاقی کا مرتکب کسی رحم کا مستحق نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہؐ نے فرمایا کہ روز ِقیامت اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ (مسند احمد، نسائی) 
اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام انسانی رشتوں اور اپنے محسنین کا احترام سکھاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی تربیت اور عمدہ اَخلاق کی پرورش کی بنیادیں گھر کے ماحول سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی سے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے راستے کھلتے ہیں۔ جو اپنے گھر، قریبی رشتے داروں اور محسنین کا خیال رکھنے والا ہو، ایسے آدمی سے دیگر اچھے اور اعلیٰ اَخلاق کی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ اسی بنا پہ قرآن حکیم اور احادیثِ نبویہؐ میں ’’ذوی القربیٰ‘‘ (رشتہ داروں) کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس سے انسان کے عمدہ اخلاق کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ عصرِ حاضر میں اس مضمون کی مثال یہ ہے کہ مغربی یورپ نے خاندانی نظام کو ختم کیا تو اس سے انسانی مزاجوں میں سفاکیت اور اَخلاقی گراوٹ نے جنم لیا۔
 

3 / 11

حضرت حباب بن مُنذر خزرجی انصاری

حضرت حباب بن مُنذر خزرجی انصاری

حضرت حباب بن منذر خزرجی انصاری ؓ حضور اکرم ﷺ کے مدینہ ہجرت کرنے سے قبل ہی حلقہ بہ گوشِ اسلام ہوگئے تھے۔ آپؓ نے تمام غزوات اور معرکوں میں رسول اللہؐ کے ساتھ شرکت کی۔ جنگِ بدر میں قبیلہ خزرج کا عَلم (جھنڈا) آپؓ کے ہاتھ میں تھا۔ رسول اللہؐ جب بدر کے مقام پر اُترے تو حضرت حبابؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا یہ حکمِ الٰہی ہے یا آپؐ کی ذاتی رائے ہے؟ تو آپؐ نے فرمایاکہ ’’ذاتی رائے ہے‘‘ تو حضرت حبابؓ نے عرض کی کہ یہ جگہ درست نہیں ہے، ہمیں پانی کے پاس اُترنا چاہیے اور تمام کنوؤں پر قبضہ کرکے ایک حوض بنالینا چاہیے، تاکہ ہمارے لشکر میں پانی کی قلت نہ ہو اور دشمن تنگی سے پریشان ہوجائے۔ حضوؐر نے فرمایا: ’’حباب صحیح کہتے ہیں‘‘ اور تمام لشکر کو لے کر بدر کے کنوئیں پر ڈیرہ ڈال دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ حضرت حبابؓ اپنے علاقے کے زمینی وسائل، پانی اور دیگر اشیا کو سیاسی، معاشی، معاشرتی اور فوجی نقطہ نظرسے استعمال کا بھرپور شعور رکھتے تھے۔ نیز حضرت حبابؓ عرب کے جغرافیے اور اپنے علاقے و دھرتی کے استعمال کی پوری اہلیت رکھتے تھے۔ ہر دور میں جیو پولیٹکل نوعیتوں پر عبور اور دسترس رکھنے والے لوگ ہی اپنی توانائیوں کا درست استعمال کرکے ترقیات کی منازل طے کرسکتے ہیں۔ 
جنگ میں دشمن کی طاقت کو بغیر ہتھیار کمزور کرنے کی حضرت حبابؓ کی تدابیر اور تجاویز اُن کی بیدار مغزی کی علامات ہیں۔ آپؓ کی اس اجتہادی رائے میں وزن تھا۔ اس کی اہمیت کی خاطر ہی حضوؐر نے اپنی رائے کے بجائے اسے قبول کیا اور اسی پر فیصلہ فرمایا۔ علامہ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حبابؓ کی رائے کی تائید کی کہ ان کی رائے بڑی اچھی رائے ہے۔ 
اُحد کی جنگ میں قریش کا لشکر جب ذوالحلیفہ پہنچا تو آپؐ نے دو جاسوس بھیجے اور ان کے بعد حضرت حبابؓ کو روانہ کیا تو انھوں نے تمام لشکر میں گھوم کر درست معلومات اور مختلف خبریں بہم پہنچائیں اور دشمن کی تعداد اور قوت کا صحیح اندازہ کرکے آپؐ کو آگاہ کیا۔ اس جنگ میں بھی قبیلہ خزرج کا عَلم آپؓ کے پاس تھا۔ اس غزوہ میں جب مسلمان مشکلات سے دوچار ہوئے تو حضوؐر کے ساتھ پندرہ صحابہ کرام، 8 مہاجر اور 7 انصار ڈٹے رہے۔ ان میں سے ایک حضرت حباب بن منذؓر بھی تھے۔ 
آپؓ ایک بلند پایہ شاعر اور اچھے خطیب تھے۔ آپؓ کے خطبے میں فصاحت و بلاغت اور زورِ بیان کے پورے جوہر پائے جاتے تھے۔ حضرت حبابؓ اپنی جماعت میں قومی اور اجتماعی زندگی کے معاملات، دین حق کے شعور اور عقلی و فطری صلاحیتوں کے استعمال کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ حضرت حبابؓ نے حضرت  عمرفاروقؓ کے دورِ خلافت میں پچاس سال سے اوپر کی عمر میں وفات پائی۔

 

4 / 11

نومنتخب امریکی صدر سے وابستہ توقعات کی حقیقت!

نومنتخب امریکی صدر سے وابستہ توقعات کی حقیقت!

امریکا کے نئے منتخب ہونے والے صدر جوبائیڈن نئے سال کے آغاز 20؍ جنوری 2021ء کو نو منتخب صدر کی تقریبِ حلف برداری کے بعد امریکا کے نئے صدر کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں سابق صدر ٹرمپ کی جگہ براجمان ہورہے ہیں۔ امریکا کا صدر صرف امریکا کے لیے ہی اہم نہیں ہوتا، پوری دنیا کی پالیسیوں پر اثرانداز امریکی نظام کا نمائندہ اپنی اہمیت کے سبب دنیا بھر میں مختلف حوالوں سے زیرِبحث رہتا ہے۔
جب بھی امریکا میں نئے انتخابات کے نتیجے میں امریکی صدر کی تبدیلی ہوتی ہے تو دنیا بھر میں ایک بحث شروع ہوجاتی ہے کہ امریکا کے نئے صدر کی کیا پالیسیاں ہوں گی؟ وہ دنیا پر کتنے اثر انداز ہوں گے؟ خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک اپنے اپنے ملکوں اور خطوں کے حوالے سے اس کا جائزہ لینا شروع کردیتے ہیں کہ نئے امریکی صدر کے آنے سے ان کے خطے اور ملک میں کون کون سی نئی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
اس میں عموماً اس حقیقت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ امریکا کے سرمایہ داری نظام میں صدر کی حیثیت سرمایہ داروں کے ایک خدمت گزار کی ہوتی ہے۔ ہر اُمیدوار کے پیچھے سرمایہ داروں کے بڑے گروپ ہوتے ہیں، جو اپنے اپنے مفادات کے تحت اپنے پسندیدہ اُمیدوار پر سرمایہ کاری کررہے ہوتے ہیں۔ جس نظام کی بھی بنیاد انسانی احتیاجات و ضروریات کے علیٰ الرغم سرمائے کے مفادات کے تابع ہوتی ہیں، ان کی مشترکہ اساس انسانیت دشمنی ہے۔ 
سرمایہ دارانہ نظام اپنی قومی اور بین الاقوامی پالیسیاں اپنی بقا اور سرمائے کے مفادات کے تحفظ کی بنیاد پر بناتا اور قائم رکھتاہے۔ اسے انھیں پالیسیوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے۔ ایک صدر اس نظام میں سرمایہ داروں کا ایک ایجنٹ ہوتا ہے، جو اُن کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے اور بس!
تیسری دنیا کے لوگوں کی اُمیدیں خوش فہمی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ان ممالک میں معمولی تبدیلیاں بھی دراصل کروٹ بدلتے نئے حالات کے سرمایہ دارانہ نظام سے ہم آہنگ تقاضے ہوتے ہیں۔ جنھیں نظام اپنے تحفظ کے لیے پورا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ جنھیں خوش نما بناکر وقت کا تقاضا باور کروایا جاتا ہے۔ حقیقت میں اس کا وقت کے حقیقی تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
امریکی انتخابات کا نتیجہ آجانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا امریکا کے صدر کی تبدیلی سے امریکا کی خارجہ اور داخلہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے؟ اس بارے میں پاکستان کے باشعور حلقوں کی ہمیشہ سے یہی رائے رہی ہے کہ صدر ڈیموکریٹ کا آئے، یا ری پبلکن پارٹی کا، یا موجودہ صورتِ حال میں ٹرمپ کی جگہ جوبائیڈن آرہے ہیں۔ امریکا کی داخلہ اور خصوصاً خارجہ پالیسیوں میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آرہی۔ توقعات ہیں، وہ جتنی مرضی قائم کرلی جائیں۔ گزشتہ چار سالوں سے جو بہت زیادہ اُمیدیں قائم کی گئی تھیں، اس کے عملی مظاہر بھی سامنے ہیں۔ جو کچھ آئندہ ہوگا، وہ بھی سامنے آجائے گا۔ دراصل امریکا کا نظام اصل طاقت ہے، جس کی انتظامیہ، ایجنسیاں اور تھنک ٹینک مل کر اپنے سرمایہ داری نظام کے حق میں کم از کم پچاس برس آگے کی پالیسیاں اور منصوبہ بندی بنا چھوڑتے ہیں۔ جس پر ہر نئے آنے والے کو عمل درآمد کروانا ہوتا ہے۔ انتخابات میں صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں اور چہرے بدلنے سے سب کچھ تبدیل نہیں ہوسکتا۔
سرمایہ دار دُنیا کے ماتحت ہر سطح کے انتخاب کی طرح امریکی صدارتی انتخاب بھی ایک فریب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، جس میں اس نظام کے اَن داتا سرمایہ دار دُنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ اس نظام کے ہر سطح کے انتخابات کے جوے میں جُتے اُمیدوار بھی انتخابی مہم کے درمیان جذباتی نعروں سے عوام کو کھلا دھوکا دیتے ہیں۔ جیساکہ ہم اپنے ہاں اُمیدواروں کے پوسٹروں پر ’’نصرمن اللہ وفتح قریب‘‘، ’’عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا فرش والے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں‘‘ جیسے نعروں سے ان کے خون گرمانے کا سامان کیا جاتا ہے۔ حال آںکہ اس سارے کھیل سے انھیں سرمائے کے خداؤں کی چاکری کا بندوبست کیا جا رہا ہوتا ہے۔
دنیا پر برطانوی امپیریلزم کی گرفت ڈھیلی پڑنے کے بعد جب سے امریکی استعماری نظام نے اس کی جگہ سنبھالی ہے، تاریخ اس کی گواہ ہے کہ اس امریکی امپیریلزم نے دنیا کو تضادات، جنگوں اور بھوک کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس کے بعد بھی اس کے کامیاب امیدواروں سے دودھ اور شہد کی نہریں چلانے کے وعدوں پر اُمیدیں باندھنا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 
امریکا میں موجودہ تبدیلی سے وابستہ پاکستانی توقعات کے حوالے سے اصل اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ امریکا کے نظام کی ترجیحات کے تابع رہی ہے۔ جس پر ہمارے ملک کا ماضی گواہ ہے کہ جب انھیں سوویت یونین کے خلاف ہمارے کردار کی ضروت تھی تو مذہب کے نام پر ہم سے ’’جہاد‘‘ کروایا گیا اور جب ضرورت ختم ہوگئی تو ’’امن‘‘ کے نام پر ساری بساط لپیٹ دی گئی۔ اسی جہاد کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا۔ دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے وہی قومیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جو اپنے نظام میں خود مختار ہوتی ہیں۔ تابعِ محض قوموں کو تو کسی نہ کسی سے نتھی رہنا پڑتا ہے۔
اب پاکستان میں ضرورت اس امر پر سوچنے کی ہے کہ ہم کس طرح اپنا خودمختار قومی نظام قائم کرسکتے ہیں، تاکہ ہم دنیا میں آزاد قوموں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر آزادانہ قومی فیصلے کرسکیں اور بین الاقوامی حوالے سے کردار ادا کرسکیں۔        (مدیر)
 

5 / 11

اَخلاقِ اربعہ کے حصول کا عملی طریقۂ کار  (2)

اَخلاقِ اربعہ کے حصول کا عملی طریقۂ کار  (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جہاں تک (اَخلاقِ اربعہ کے حصول کی) عملی تدبیر کا تعلق ہے تو اس بارے میں عمدہ ترین بات یہ ہے کہ انسان ایسے افعال، اعمال اور چیزیں اختیار کرے کہ جن سے انسانی نفس میں مطلوبہ خُلق پیدا ہوجائے، جو اُس خُلق پر متنبہ کریں، اس پر برانگیختہ کریں اور اُبھاریں۔ وہ ایسے اعمال و افعال اور اشیا ہوں کہ اُس خُلق اور اُن کے درمیان عادتاً لازم و ملزوم کا تعلق ہو، یا یہ کہ جبلی مناسبت کے طور پر ایسے اعمال و افعال کرنے سے اُس خُلق کو حاصل کرنے کا غالب گمان ہو۔ (اس کی چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:) 
(1)     مثلاً انسان جب اپنے نفس میں غصہ اور غضب پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور غضب کی حالت کو اپنے اوپر طاری کرنا چاہتا ہے تو جس پر غصہ اُتارنا ہے، اُس کے منہ سے نکلی ہوئی کسی گالی کو یاد کرتا ہے اور انسان اُس خیال کے آنے پر اُسے پیش آنے والی غیرت اور شرم کو بھی ساتھ ملا لیتا ہے تو اُس پر غیظ و غضب طاری ہوجاتا ہے۔ 
(2)    اسی طرح مثلاً میت پر رونے والی عورت جب غم سے نڈھال ہو کر رونا چاہتی ہے تو اپنے دل میں میت کی عمدہ باتوں کو یاد کرتی اور اُس کا خیال ذہن میں باندھتی ہے۔ اس موقع پر وہ میت کے بارے میں اپنے خیالات کے گھوڑے دوڑاتی ہے تو اُس پر رونے کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ 
(3)    ایسے ہی وہ آدمی جو اپنی بیوی سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے ساتھ اس سے متعلق جنسی جذبات اور حرکات و سکنات کا اظہار کرتا ہے۔ 
اس حوالے سے بہت ساری ایسی مثالیں اور نظائر ہیں کہ جو ایسے آدمی پر مخفی نہیں ہیں، جو اس بات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا چاہتا ہے۔ 
بالکل اسی طرح ان چاروں اَخلاق (طہارت، اخبات، سماحت، عدالت) میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کے بھی اسباب اور دواعی ہیں۔ اس سلسلے میں اَخلاقِ اربعہ سے متعلق اُمور کی پہچان میں ذوقِ سلیم رکھنے والے لوگوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ 
حدث (عدمِ طہارت) کے اسباب
حدث کے اسباب یہ ہیں: 
دل کا پست خیالات اور سفلی حالت سے بھرا ہوا ہونا، مثلاً: 
(1)     شہوت پورا کرنے کے لیے عورتوں سے جماع اور مباشرت کی حالت یاد رکھنا۔ 
(2)     خفیہ طور پر دل میں حق تبارک و تعالیٰ اور دینِ حق کی مخالفت کا موجود ہونا۔ 
(3)     اس طرح ملائِ اعلیٰ کی لعنت کا اُس انسان کا احاطہ کیے رکھنا۔ 
(4)     معدے میں تینوں فضلات (پیشاب، پاخانہ اور ریح وغیرہ) کے تقاضے کا ہونا۔ 
(5)    بدن پر میل کچیل، بغلوں کی بدبو، ناک میں فضلات کا جمع ہونا۔ 
(6)    بغلوں اور زیرناف کے بالوں کا بڑھا ہوا ہونا۔ 
(7)    کپڑوں اور بدن کا نجاستوں سے لتھڑا ہوا ہونا۔ 
(8)    انسانی حواس (آنکھ، کان وغیرہ) کا سفلی حالات سے بھرا ہوا ہونا، جیسا کہ گندی چیزوں کو دیکھنا، شرم گاہ کی طرف نظر کرنا، جانوروں کے جنسی ملاپ کو دیکھنا، مرد اور عورت کے جنسی تعلق پر گہری نظر رکھنا۔ 
(9)    فرشتوں اور نیک لوگوں پر لعن طعن کرنا۔ 
(10)لوگوں کو ایذا اور تکلیف پہنچانے کے لیے ہمیشہ سرگرمِ عمل رہنا۔ 
1۔ طہارت کے اسباب
(1)    حدث کے اسباب کی تمام بُری باتوں کو ختم کرنا اور اُن کا ازالہ کرنا۔ 
(2)    ان بُری عادتوں کی مخالفت پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا۔ 
(3)    اچھی عادات میں ایسی پختگی کو استعمال میں لانا کہ جس سے انتہائی درجے کی صفائی ستھرائی حاصل ہو، مثلاً: 
    (i)غسل کرنا، (ii) وضو کرنا، (iii) اچھا اور عمدہ لباس پہننا، (iv) خوشبو استعمال کرنا۔ 
    اس لیے کہ ان اشیا کا استعمال انسانی نفس میں طہارت کی صفت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ 
2۔ اِخبات کے اسباب
(1)    اپنے نفس کا ایسا مواخذہ کرنا کہ جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے تعظیم کی اعلیٰ ترین حالت پیدا ہو۔ 
    (i)    اللہ کے سامنے سر جھکا کر قیام کرنا اور سجدہ کرنا۔ 
    (ii)    اس حالت میں ایسے الفاظ زبان سے ادا کرنا، جو اللہ کی مناجات پر دلالت 
        کریں اور اُس کے سامنے عجز و انکساری پیدا کرنے کا باعث بنیں۔ 
(2)    اپنی تمام حاجات کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار میں پیش کرنا۔ 
یہ تمام اُمور انسانی نفس میں خشوع و خضوع اور اخبات کی صفت پر بہت قوت سے متنبہ کرتے ہیں۔ 
3۔ سماحت کے اسباب
(1)    سخاوت کے ساتھ مال خرچ کرنے کی عادت ڈالنا۔ 
(2)    اپنے پر ظلم اور زیادتی کرنے والے کو معاف کردینا۔ 
(3)    پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرنا اور اُس پر اپنے نفس کا مواخذہ کرنا وغیرہ۔ 
4۔ عدالت کے اسباب
(1)    عدل و انصاف کے قیام کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت ِراشدہ کی اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ حفاظت کرنا (اور اس کے مطابق عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا)۔ و اللہ اعلم 
(باب طریق اکتساب ہذہ الخصال و تکمیل ناقصہا و رد فاعلہا

6 / 11

بنواُمیہ یورپ میں(1)

بنواُمیہ یورپ میں(1)

تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ملک جس کو آج کل سپین کہتے ہیں اور عرب اس کو اندلس کہتے ہیں، اس ملک پر گاتھ بادشاہی کے عہد میں راڈرک کی حکومت تھی۔ اس عہد میں وہاں کی اقتصادی اور انتظامی حالت بہت خراب تھی۔ یہ لوگ عیسائی تھے۔ پادریوں کو بڑا عروج حاصل ہوگیا تھا۔ ان کے پاس بڑی بڑی جاگیریں تھیں۔ وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے، جب کہ عام لوگ بہت خستہ حال اور بنیادی ضروریات سے بھی محروم تھے۔ 


ادھر بنواُمیہ کے ولید بن عبدالملک کے عہد ِحکومت میں موسیٰ بن نُصَیر کو افریقا کا گورنر بنا دیا گیا۔ جس میں طرابلس، تیونس، مراکش اور الجزائر کے علاقے آتے تھے۔ قیروان اس کا مرکز تھا۔ موسیٰ بن نُصَیر کے پاس آئے دن التجائیں آئیں کہ اندلس کے باشندوں کو گاتھ بادشاہوں کے ظلم سے نجات دلاؤ۔ ان درخواستوں کے پیچھے شمالی افریقا کے ایک علاقے کا عیسائی گورنر پیش پیش تھا۔ کہتے ہیں کہ اسے راڈرک سے سخت دشمنی تھی۔ اس لیے کہ راڈرک نے اس کی بیٹی کی عزت و آبرو پر حملہ کیا تھا۔ چناںچہ ان کی درخواست پر موسیٰ بن نُصَیر نے پہلے اپنے ایک بہادر جرنیل طُریف کو ایک فوجی دستے کے ساتھ اندلس بھیجا۔ اس نے کامیاب کارروائی کی۔ اندلس کے جنوب مشرق کی طرف ایک مقام ہے، جس کا نام ’’طریفہ‘‘ ہے، یہ اسی جرنیل کے نام سے منسوب مقام ہے، جو اس کی سرگرمیوں کا زندہ گواہ ہے۔ اس کارروائی کے بعد اندلس کے عمومی حالات کا اندازہ ہوا تو موسیٰ بن نُصَیر نے تقریباً پانچ ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ طارق بن زیاد کی سپہ سالاری میں اندلس بھیجا۔711ء کا واقعہ ہے کہ طارق نے جس جگہ سے سمندر پار کیا، وہاں سے سمندر کا پاٹ کم تھا۔ اس جگہ کو آج بھی ’’جبل الطارق‘‘ یا جبرالٹر کہتے ہیں۔ اس نے دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی کشتیاں جلا دیں۔ یہ اس لیے کیا، تاکہ مجاہدین پر واضح ہوجائے کہ اندلس کو فتح کیے بغیر واپس جانا ناممکن ہے۔ مزید دو ہزار کی کمک پہنچ گئی۔ 19؍ جولائی 711ء کو دریائے برباط کے کنارے راڈرک کی فوج سے مقابلہ ہوا۔ 


طارق بن زیادہ نے اس موقع پر اپنی فوج سے خطاب کیا اور اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عربوں کے مقابلے میں راڈرک کی فوج بہت زیادہ تھی۔ اس جنگ میں راڈرک کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کو اللہ نے فتح یاب کیا۔ اس جنگ نے یورپ بالخصوص اندلس (سپین) کی فتح کا دروازہ کھول دیا۔ اس جنگ کے بعد طارق بن زیادہ نے طیطلہ کا رُخ کیا، جو اندلس کا دارالحکومت تھا۔ وہاں کے مقامی لوگوں نے مسلمان سپہ سالار اور اس کے سپاہیوں کو خوش آمدید کہا، اسلامی فوج کا خیر مقدم کیا، جو گاتھ بادشاہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ طارق بن زیاد کی فتوحات جاری تھیں کہ موسیٰ بن نُصَیر بھی دس ہزار غازیوں کے ساتھ 712ء میں اندلس پہنچ گیا۔ اس طرح تھوڑی مدت میں اندلس کے چھوٹے بڑے شہر فتح ہوگئے۔

7 / 11

غذائی پیداوار اور منصوبہ بندی

غذائی پیداوار اور منصوبہ بندی

کہا جاتا ہے پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ گزشتہ اَدوار میں صوبہ پنجاب سے پورے برصغیر کی غذائی ضروریات پوری کی جاتی تھیں اور پاکستان کا نہری نظام دنیا کا سب سے بڑا  آب پاشی کا نظام ہے وغیرہ۔ یقینا یہ سب فخر کی باتیں ہیں، لیکن فخر کو قائم اور لوگوں کے لیے مفید رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے زیادہ کام کیا جائے۔ کہنے کو تو ہم ایک زرعی ملک ہیں، لیکن لگتا ہے کہ مذہبی کے ساتھ اب زرعی بھی ایک رسمی استعارہ بن چکا ہے۔ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 45کروڑ نفوس پر مشتمل ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں پہلے سے غذائی قلت کی شکار آبادی آمدہ تیس سال میں بہ تدریج اَبتر صورتِ حال سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہوجائے۔ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متأثر ہورہے ہیں۔ چناںچہ 2025ء تک پاکستان میں روزگار کے علاوہ پانی کی قلت بھی انسانی نقل مکانی کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہوگی۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 1990ء سے پاکستان میں ہر سال موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب آنے والی آفات قریباً دوگنی ہوچکی ہیں۔


پاکستان کے42 فی صد محنت کشوں کا تعلق زراعت سے ہے، جو سالانہ 5 کروڑ 78 لاکھ ایکڑ رقبے پر کام کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس رقبے میں سے 52 فی صد زمین مصنوعی آب پاشی کے طریقوں سے سیراب ہوتی ہے، جو کُل زرعی پیداوار کا 90 فی صد فراہم کرتی ہے۔ ان اعداد و شمار سے معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ سال 2019ء میں پڑنے والی شدید گرمی اور اس کے نتیجے میں زیادہ بارشوں نے پاکستان کے تمام زرعی اعداد و شمار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس پر طُرّہ یہ کہ ہماری افسر شاہی کا رویہ، جو غذائی قلت کے بحران کو مزید گہرا کرنے میں معاونت کا کردار ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔


ہمارے رویے تو ایسے ہیں کہ جیسے ہم سے زیادہ سمجھ دار اور مستعد کوئی نہیں اور زرعی پیداوار میں گراوٹ کے سوال پر موسمیاتی تبدیلیوں اور گزشتہ حکومتوں پر بارِ ناکامی ڈالنا ایک روایت سی بنتی چلی جارہی ہے۔ دوسری جانب دنیا میں اعلیٰ منصوبہ بندی اور انتھک محنت سے زرعی پیداوار میں ناقابلِ یقین حد تک بہتری لانے کی کئی مثالیں ہیں، لیکن پاکستان سے رقبے اور آبادی میں کہیں چھوٹے ملک نیدر لینڈ نے تو کمال ہی کردیا۔ گلگت بلتستان کے برابر رقبے کا یہ ملک زرعی اجناس میں امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ اس کی یہ ترقی انتھک محنت، اعلیٰ ترین منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہوئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس ملک کا 17 فی صد رقبہ سطح سمندر سے بھی نیچے ہے، جسے اُن لوگوں نے سمندر کے ساتھ بند باندھ کر قابلِ استعمال بنایا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبہ بندی پر توجہ دینی چاہیے۔ نیدرلینڈ جیسے ممالک سے معاونت حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کرنا چاہیے، تاکہ من حیث القوم بڑھتی آبادی اور سُکڑتے وسائل کے چیلنج سے نبرد آزما ہوسکیں۔

8 / 11

جامع علاقائی معاشی شراکت داری

جامع علاقائی معاشی شراکت داری


فرانس کی عالمی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی 15؍ نومبر 2020ء کی رپورٹ کے مطابق ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میںجنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ایک ورچوئل اجلاس کے بعد بحرالکاہل کے پندرہ ایشیائی ممالک نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد انہ تجارتی معاہدے پر دستخط کردیے۔ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے یہ معاہدہ طے پانے میں آٹھ سال لگے ہیں۔ چین کی قیادت میں اس معاہدے سے دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک قائم ہوگیا۔ دنیا کی 2 ارب 20 کروڑ کی آبادی اس معاہدے سے فائدہ اٹھائے گی۔ 
جامع علاقائی معاشی شراکت داری(Regional Comprehensive Economic Partnership) نامی معاہدے سے رکن ملکوں کے مابین درآمدات اور برآمدات پر عائد ٹیکسوں میں کمی لائی جائے گی۔ تجارتی ضوابط نرم کیے جائیں گے۔ کورونا کی وبا سے متأثرہ سپلائی چین (رسد کی ترسیل) میں بہتری پیدا ہوگی۔ چین کی قیادت میں قائم ہونے والے اس تجارتی بلاک میں چین کے ساتھ ایشیا پیسفک، آسیان کے دس ممالک کے علاوہ جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔ چین کی حریف دنیاکی دو معیشتیں امریکا اور بھارت آزاد تجارت کے اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ 


بھارت میں مقامی انڈسٹری کو اس آزاد تجارتی بلاک کا حصہ بننے پر سخت تحفظات رہے ہیں، جس کے باعث حکومت نے خود کو اس معاہدے سے الگ کرلیا تھا۔ بھارت کی زرعی لابی، دودھ اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر بھارتی منڈی کوایشیا پیسفک ممالک کے لیے کھول دیا گیا تو نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور چین جیسے ممالک کی سستی اور بہتر مصنوعات سے ان کے کاروبار ٹھپ ہوجائیں گے۔ 


تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب امریکا عالمی تعاون کے بجائے یک طرفہ فیصلوں کو ترجیح دے رہا ہے، ایشیا میں تجارتی تعاون کے معاہدے فروغ پارہے ہیں۔ یہ چین کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیوںکہ امریکا کے برعکس اب بیجنگ عالمی سطح پر آزادانہ تجارت اور باہمی تعاون کی مثال بن کر اُبھر رہا ہے۔ جاپان سمیت دیگر ممالک کو اُمید ہے کہ آگے چل کر بھارت بھی اس تجارتی بلاک کا حصہ بن جائے گا۔ یہ اتحاد دنیا کی کل پیداوار کا 50 فی صدحصہ اکیلا پیداکر رہا ہے۔ 2012ء میں بھی یہ منصوبہ پیش کیا گیا تھا، لیکن اس وقت اسے پذیرائی نہ حاصل ہوسکی، لیکن چینی قیادت مصمم ارادے کے ساتھ مسلسل آٹھ سال تک اس معاہدے کوعملی شکل دینے کے لیے جدوجہد کرتی رہی۔ 
ویت نام کو اشتراکیت کا نظریہ اختیار کرنے کی سزا دینے کے لیے امریکا نے 1959میں اس پر جنگ مسلط کردی۔ امریکا اور اس کے اتحادی 30؍ اپریل 1975ء تک ویت نام کے خلاف جنگ کرتے رہے۔ اشتراکی حلقے اسے مریکا کے خلاف ’جنگِ مزاحمت‘ بھی کہتے ہیں۔ اس جنگ میں شمالی ویت نام کے اتحادی سوویت اتحاد اور عوامی جمہوریہ چین تھے، جب کہ اشتراکیت کے مخالف اتحادی جنوبی ویت نام کے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکا، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور نیوزی لینڈ تھے۔ 15 سالہ طویل اور تھکا دینے والی جنگ میںذلت آمیز شکست کے بعد امریکا کو خطے سے بے دخل ہونا پڑا۔ ویت نام کے خلاف جنگ میں ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے امریکا نے ساتھ ہی سیاسی محاذ پر کام کرنا شروع کردیا۔ 


چناںچہ 8؍ اگست 1967ء کو آ سیان نامی تنظیم ’’تنظیم برائے جنوب مشرقی ایشیائی اقوام‘‘ (The Association for South East Asian Nations)  کھڑی کر دی۔ اس کا مقصد ویت نام کے گرد سیاسی دائرہ تنگ کرنا تھا، تاکہ اشتراکی نظریات کو خطے میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ابتدائی طور پر اس تنظیم میں پانچ ممالک شامل تھے: انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں برونائی، کمبوڈیا، جنوبی ویت نام، لاؤس اور میانمار بھی اس تنظیم کا حصہ بنتے گئے۔ مشرقی تیمور نے آزاد ہوتے ہی شمولیت کے درخواست دائر کر دی۔ پاپوانیوگنی بہ طور مبصر شریک ہوتا رہا۔ 


شیطان اپنی شیطنت سے باز نہیں آتا۔ اس نے یہاں سے شکست کھانے کے بعد افغانستان میں جنگ کا محاذ کھول دیا۔ امریکا کو اندیشہ تھا کہ افغانستان میں اشتراکیت کے کامیاب ہونے کی صورت میں اگلا میدان مشرقِ وسطیٰ ہوگا، جہاں امریکی مفادات کے لیے یہ نظریہ بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ چناںچہ اس کے آگے بند باندھنے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں ہی اسے روکا جاسکے۔ 1979ء سے 1991ء اور 2001ء کی افغان جنگ میں امریکا پھر ناکام ہوا۔ 


آج امریکا افغانستان کو تباہ و برباد کرکے اس کی نوجوان نسل کو مذہب کے نام پر ہلاک کرواکر افغانستان کو ترقی کے عمل سے صدیوں پیچھے دھکیل چکا ہے، لیکن جس مقصد کے لیے یہاں اُترا تھا، پھر ادھورے کا ادھورا رہ گیا۔ اس نے اشتراکیت کا راستہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کیں، مگر منہ کے بل گرا۔ اس نے بند باندھنے کے لیے جو دیواریں کھڑی کی تھیں، آج وہی اس نظریے کے دفاع کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ کمزور اور تنگ نظر سوچ کا طاقت ور اور اجتماعیت پر مبنی سوچ کے مقابلے میں شکست کھانا لازمی امر ہے۔ وہی ’’آسیان‘‘ جسے ویت نام کے خلاف تشکیل دیا گیا، آج چین کی قیادت میں ایشیائی قومیں اپنے قومی تجارتی تقاضوں کی تکمیل اور باہمی اشتراکیت کے فروغ کا ذریعہ بننے جارہی ہیں۔ سرمایہ داروں کی وضع کردہ حکمتِ عملی آج انھیں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

9 / 11

انبیا ؑکا مشن انسانیت کو عدل و انصاف پر قائم کرنا ہے

انبیا ؑکا مشن انسانیت کو عدل و انصاف پر قائم کرنا ہے

6؍ نومبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’معزز دوستو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانیت کی کامیابی کے لیے انبیا علیہم السلام کی دنیا میں بعثت کا سلسلہ شروع کیا ہے اور انسانی ہدایت کے لیے ان پر کتابیں نازل کی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد اور ہدف یہ قرار دیا کہ کل انسانیت کو عدل و انصاف پر قائم کیا جائے۔ انسانیت دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرلے۔ ظلم، ناانصافی، غرور، تکبر اور انسان دشمنی کے رویوں سے انسانیت آزادی حاصل کرلے۔ آج ہم مسلمانوں کے سامنے انبیا علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد دھندلا گئے ہیں۔ اس حوالے سے ہم بہت ہی غفلت کا شکار ہیں۔ اعمال کی کثرت پر تو زور ہے اور اعمال بھی ہم عام طور پر اپنی خواہشات کے مطابق کرتے ہیں، لیکن جو ٹوٹے پھوٹے اعمال کرتے بھی ہیں، یعنی نماز جیسا عمل ہم عام طور پر کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں یا دیگر اسلامی رسومات و معاملات طے کرتے ہیں اور ان کی اہمیت کو اپنے سامنے رکھتے ہیں، لیکن ان تمام اعمال و افعال کے پیچھے جو مرکزی اور محوری بنیادی فکر اور نظریہ، مقصد اور ہدف ہے، وہ ہماری نظروں سے عام طور پر اوجھل رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اعمال کثرت سے کرنے کے باوجود ہم ان مقاصد اور اہداف کے حصول میں ناکام ہیں، جو انبیا علیہم السلام کی بعثت کے لیے متعین کیے گئے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انبیاؑ کی بعثت کا مقصد بھی سامنے ہو اور خاص طور پر امام الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد اور آپؐ کی بعثت کے مقاصد اور اہداف بھی واضح ہوں۔ 
آج جدید سائنٹفک دور میں مختلف علوم کے حوالے سے انسانی زندگی میں کیے جانے والے اعمال، ان کے ذہنوں میں پنپنے والے افکار، ان کے جسموں سے صادر ہونے والے افعال کا جب ہم علمی طور پر مطالعہ کرتے ہیں تو ہر علم اور اس سے متعلق اعمال و افکار اور افعال و کردار کے پیچھے بنیادی نظریے اور ہدف کو تلاش کرتے ہیں۔ ہر فکر و عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی مصلحت، کوئی نہ کوئی فلسفہ، کوئی نہ کوئی ہدف اور مقصد ِزندگی ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنسز ہوں، انجینئرنگ ہو، فزکس اور کیمسٹری ہو، حتیٰ کہ تاریخ بھی جو ماضی میں گزر چکی ہے، اس کو بھی ہم فلسفے کے تناظر میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں نے فلاں عمل کیا تو اس کے پیچھے کیا فلسفہ کارفرما تھا؟ فلاں نے فلاں افعال اور افکار پیش کیے ہیں، تو ان افکار کا بنیادی مطمح نظر کیا ہے؟ لیکن جب دین اسلام کی بات آتی ہے تو وہاں ہمارے بڑے بڑے مفکرین، فلاسفرز، دانش ور، واعظین، مقررین، لیکچررز کی زبانیں کیوں گنگ ہوجاتی ہیں کہ وہ دین کے مقصد ِزندگی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ وہاں ہم کہتے ہیں کہ بس فلاں اعمال کیے جاؤ، کسی پر کسی ایک عمل کا غلبہ ہوجائے تو اس کے مطابق وہ عمل سرانجام دیتا رہے، لیکن مقاصد و اہداف کے حصول پر توجہ نہیں ہے۔‘‘ 


جامع دینی نظریہ اور وحدتِ فکر کی اہمیت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’خلفائے راشدینؓ کے زمانے سے لے کر مسلمانوں کے غلبے کے زمانے تک بڑے بڑے محققین علمائے ربانیین، محدثین، مفسرین، فقہا، مؤرخین، سیاست دان اور دین کے جتنے بھی اہلِ علم رہے ہیں، ان کی پوری گفتگو مربوط ہوتی تھی۔ وہ ایک فکر اور فلسفے کے تحت اور گرد گھومتی تھی۔ آج غلامی کے اس زمانے میں ایسا کیا ہوگیا کہ دینی علم پڑھنے والوں کی گفتگو میں انتشار ہے، ان کے افکار بکھرے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ انتشار دین کے نام پر اپنا تعارف کرانے والے علما اور مفکرین میں ہے۔ اگر سیاست کے حوالے سے سوال کیا جائے کہ دین اسلام کا سیاسی نظام کیا ہے؟ تو جتنے منہ اُتنی باتیں۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ آمریت ہے، کہیں کہا جاتا ہے کہ ڈکٹیٹر شپ اور وَن مین شو ہے اور کہیں کہا جاتا ہے کہ خلافت کا مطلب ایک فرد کی حکمرانی ہے۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں جی جمہوریت ہے۔ پھر جمہوریت بھی مخصوص طبقے کی ہے۔ معیشت کے میدان میں آئیں تو جتنے علما اور جتنے فقہ سے مناسبت رکھنے والے ہیں، ہر ایک کا اپنا معاشی نظام ہے، اسی تناظر میں معاشیات پر ان کی گفتگو ہوتی ہے۔ یہ تو دو بڑے اہم شعبے وہ ہیں، جن کے بغیر کوئی انسانی سماج تشکیل پذیر نہیں ہوتا۔ اور اگر افکار کی دنیا کی بات کی جائے تو فلسفہ بھی ہر کسی کا اپنا ہے۔ فلسفۂ نماز بھی ہر عالم یا ہر فرقے کا الگ، فلسفہ روزہ بھی الگ، فلسفہ حج بھی الگ، فلسفہ دین بھی الگ۔ یہ انتشار کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انبیاؑ اور بالخصوص امام الانبیا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے جو بنیادی مقاصد اور اہداف ہیں اور اس کا بنیادی نقطہ ہے، اس کو نہ سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ سمجھا ہے۔ نہ اس کو سامنے رکھ کر اپنے اعمال و افکار اور خیالات کا جائزہ لیا ہے۔ جب کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا علیہم السلام کی تمام مذہبی تعلیمات کا ایک بنیادی فلسفہ اور فکر ہے۔ ایک بنیادی نظریۂ زندگی ہے۔ 
اسے واضح کرتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ ہم نے اپنے انبیا اور رسول بھیجے ہیں اور اُن پر ہم نے کتابیں نازل کی ہیں۔ حق و باطل میں فرق اور تمیز کے لیے ہم نے میزان اور ترازو بھی اُتاری ہے۔ اس کائنات کا ایک توازن بھی قائم کیا ہے، جس کے نتیجے میں عدل قائم ہونا ہے۔ یہ چیزیں ہم نے متعین طور پر نازل کی ہیں۔ انبیاؑ مبعوث کیے ہیں۔ ان تمام کا ایک بنیادی ہدف اور مقصد خود اللہ نے واضح کردیا کہ ’’تمام انسانیت عدل اور انصاف پر قائم ہوجائے‘‘ (القرآن 25:57)۔ عدل بنیادی ہدف ہے۔ اس عدل کا اظہار خالق و مخلوق کے رشتے میں بھی ہو اور انسانوں کے درمیان وقوع پذیر ہونے والے تمام معاملات، معاہدات، لین دین، سیاسی تعلقات، معاشی اقدامات، فکری خیالات میں بھی عدل و توازن کا بنیادی ہدف پیش نظر رہے۔ اس سے انحراف نہ ہو۔ تمام انبیا علیہم السلام نے اسی عدل کو قائم کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔‘‘ 


رسول اللہؐ کی اتھارٹی کا انکار بغاوت ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’انبیا ؑکی اتھارٹی انسانوں پر ایسی حکمرانی ہے کہ جن کی حکومت کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ رسالت کا بنیادی ہدف حکومت قائم کرنا اور سسٹم بنانا ہے۔ ایسی اتھارٹی کے طور پر کام کرنا ہے کہ جس کی خلاف ورزی قابل گرفت اور سزا کی مستوجب ہے۔ دنیا کا دستور ہے کہ دنیا میں جتنی بھی حکومتیں ہوتی ہیں، ان کی اتھارٹی کو، ریاستی رِٹ کو چیلنج کیا جائے تو ریاست ایسے باغیوں کے خلاف اقدامات کا حق رکھتی ہے۔ اپنے زمانے کا ہر رسول اپنے دور کے انسانوں پر اتھارٹی اور حکومت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی خلاف ورزی دنیا میں سزا کی مستوجب ہے۔ باقی انبیا ؑکے بارے میں تو حضوؐر نے فرمایا کہ اُن کی رسالت اور اتھارٹی ایک قوم کی طرف تھی، جس قوم میں وہ آئے۔ اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث کیے گئے۔ لہٰذا اپنی اپنی قوموں کی مخالفت کے نتیجے میں صرف انھی قوموں کو سزا دی گئی۔ لیکن نبی اکرمؐ جو اقوامِ عالم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں، ان کی اتھارٹی ہر انسان پر قائم ہے۔ کوئی کالا، کوئی گورا، کوئی مشرقی، کوئی مغربی، کوئی یورپی، کوئی امریکی، کوئی ایشیائی، کوئی افریقی اس سے ماورا نہیں ہے۔ 
رسول اللہؐ کی یہ اتھارٹی کیسے قائم ہوگی؟ جو تو اس دین کو قبول کرلیں اور ایمان لے آئیں، وہ اُمت ِاجابت ہے کہ اُس نے حضوؐر کی دعوت قبول کرکے کلمہ پڑھ لیا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ اُسے اپنے آئین، قانون، سیاست، معیشت، سماج، عقیدے اور ہر شعبۂ زندگی میں رسول اللہؐ کی اتھارٹی قائم کرنی ہے۔ آپؐ کے قائم کیے ہوئے نظامِ حکمرانی کو اپنے اپنے معاشروں میں قائم کرنا‘ رسالت اور نبوت کو ماننے کا بنیادی ہدف ہے۔ جو انسان اُمت ِدعوت ہیں، یعنی جن کو اسلام کی دعوت دی گئی اور انھوں نے دعوت قبول نہیں کی۔ عقیدے میں وہ مسلمان نہیں ہیں تو اُن کے لیے حضوؐر کی اتھارٹی یہ ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام میں عدل و انصاف کا نظام برقرار رکھیں گے۔ اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے بھی اُن کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ ظلم، ناانصافی، بددیانتی، بداَخلاقی، انسانیت دشمنی کا نظام برقرار رکھیں۔ ہاں! اگر وہ عدل قائم نہیں کرتے تو ایسے ظالموں کے خلاف سچی جماعت کو اقدامات کرنے ہیں۔ انسانی حقوق کی اساس پر، انسانیت کے لیے عدل، امن اور معاشی خوش حالی کا نظام قائم کرنا اُن کی ذمہ داری ہے۔ اللہ نے انسانیت مکرم اور معظم بنائی ہے۔ کسی مزدور کا استحصال نہیں کیا جاسکتا۔ کسی کسان اور غریب کے حقوق توڑے نہیں جاسکتے۔ سوسائٹی میں انسانیت کو بداَمنی کے جہنم میں دھکیلا نہیں جاسکتا۔ تشدد اور قتل و غارت گری مسلط نہیں کی جاسکتی۔ انسانی حقوق پورا کرنا اُن غیرمسلموں پر بھی لازمی ہے۔ اگر وہ یہ حقوق پورے نہیں کرتے تو پھر اُن سے قتال ہے، جہاد ہے، لڑائی ہے، مقابلہ ہے، مزاحمت ہے۔ رسول اللہؐ کی اتھارٹی کم از کم اس دائرے کے اندر تو ضرور ہے کہ اپنے ہی عقیدے کے مطابق، اپنے ہی نظریے کے مطابق انسانی حقوق کو پورا کرو۔ اسی کو قرآن نے کہا: ’’لیقوم الناس بالقسط‘‘ تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں۔‘‘ 


قرآن کا نظریۂ عدل اور انبیا ؑکی سیرتِ مبارکہ
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا: 
’’بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب تمام انسانوں کے لیے عدل قائم کرنے کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے رسول اللہؐ دنیا میں تشریف لائے اور آپؐ کے تمام خلفا نے اس نظریے کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کے تمام اعمال کیے۔ نماز پڑھی پڑھائی تو اس ہدف کو سامنے رکھ کر، روزہ رکھا کر تو عدل کے نظریے پر۔ کیا آج نماز کے نتیجے میں ہمارے اندر وہ خلق اور عادت پیدا ہوئی، جس سے انسانی معاشرے میں عدل قائم کیا جاسکے؟ کیا ہمارے روزہ رکھنے کے نتیجے میں عدل کا مقصد حاصل ہوتا ہے؟ ہم نے حج کا اتنا بڑا اجتماع کیا، کیا اس اجتماع سے انسانیت میں عدل قائم کرنے میں کوئی مدد ملی؟ جمعہ کا بڑا اجتماع قائم کیا، تو کیا اس اجتماع سے عدل قائم کرنے میں کوئی مدد ملی؟ کوئی نظریۂ عدل سامنے آیا؟ پانچ وقت ہم نے مسجد میں جماعت قائم کی تو اس جماعت کا نتیجہ عدل کی صورت میں کوئی ظاہر ہوا؟ جب کہ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہؐ کی اس رسالت کے مقصد کو سمجھا اور صدقِ دل کے ساتھ اس پر عمل کیا۔ 
عدل و انصاف کے نظریے سے تمام اجتماعی اعمال دین نے متعین کیے۔ آج یہ عدل کا نظریۂ زندگی نہیں ہے تو نہ محلے کی مسجد کی جماعت میں وہ رونق ہے اور نہ شہر کی جامع مسجد میں جمعہ کی رونق ہے۔ نماز باجماعت کی ادائیگی رسمی بن گئی۔ نبی اکرمؐ کی سیرت کے حوالے سے سیمینار منعقد کیے، جلسے جلوس نکالے، اس میں مقصد ِزندگی جو قرآن بیان کر رہا ہے، اس پر گفتگو نہیں ہے۔ تو ہدف کیسے حاصل ہوگا؟ 
آج بڑی ضرورت ہے کہ انبیا علیہم السلام کی سیرت کی جو قرار واقعی حیثیت ہے، اسے سمجھا جائے اور اس کی اساس پر وہ نظریۂ عدل جو قرآن حکیم بیان کر رہا ہے، اس کے مطابق کردار ادا کیا جائے۔ قرآن حکیم کی سینکڑوں آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عدل کے جس نظریے، مقصد ِزندگی اور جس ہدف کو بیان کیا ہے، آج مجموعی طور پر ہم اس سے منحرف ہیں۔ اس پر بات چیت نہیں، گفتگو نہیں، اپنے اعمال کا جائزہ نہیں۔ 
یہی وہ سب سے بڑی غفلت ہے کہ کثرتِ اعمال کے باوجود نتیجہ ظاہر نہیں ہو رہا اور اس نتیجے کے حصول کے لیے اجتماعیت قائم کرنا، نظم و ضبط قائم کرنا، تنظیم بنانا، سیاسی شعور پیدا کرنا، معاشی اقدامات کرنا، افکار و خیالات کو منظم کرنا، دین کی افہام و تفہیم اس نقطہ نظر سے کرنا ہماری سوسائٹی سے نکل گیا۔ اس غفلت کے ماحول کا نتیجہ ہے کہ ہم ذلت اور رسوائی میں ہیں۔ دوسروں کے تابع ہیں۔ سیاسی اور معاشی حوالے سے دریوزہ گری کرتے ہیں۔ کوئی اجتماعی طاقت نہیں بناتے کہ رسول اللہؐ کی اتھارٹی قائم کرکے خود بھی چین اور امن سے رہیں اور انسانیت کے لیے بھی چین اور امن کا راستہ متعین کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسالت اور نبوت کا صحیح مقصد سمجھنے اور اس کے مطابق کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)‘‘ 

10 / 11

قاضی القضاۃ مولانا عبدالرزاق خاں افغانی  ؒ

قاضی القضاۃ مولانا عبدالرزاق خاں افغانی  ؒ

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے نام ور شاگرد اور تحریکِ ریشمی رومال کے سلسلے میں ایک اَور نمایاں نام قاضی القضاۃ مولانا عبدالرزاق خاںؒ کا بھی ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے غزنی‘ افغانستان میںحاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جامعہ مظاہرالعلوم سہارن پور میں داخلہ لیا۔ ان کے اساتذہ میںمولانا احمد حسنؒ، مولانا محمد مظہرؒ اور مولانا احمد علی محدث سہارن پوریؒ شامل ہیں۔  جامعہ مظاہرالعلوم سے تحصیلِ علم کے بعد اپنے ہم سبق مولانا احمدالدین چکوالیؒ کے ہمراہ گنگوہ تشریف لے گئے، جہاں دونوں حضرات نے مل کر امامِ ربانی حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ سے احادیث کی کتب دوبارہ پڑھیں۔ 


مولانا افغانیؒ‘ مولانا احمدالدین چکوالیؒ کے ہم سبق ہونے کی وجہ سے تحریکِ ریشمی رومال میں شامل ہوئے اور حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ محبت اور عقیدت کا تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ مولانا احمدالدینؒ کی مسجد ’’صوفی مسجد‘‘ کشمیری بازار لاہور میں قیام پذیر حریت پسندوں کو کابل بھیجنے کے لیے مولانا موصوفؒ سے ہی تعاون لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مالی معاونت اور افرادی قوت کی فراہمی میں دونوں حریت پسندوں کا باہمی تعلق تحریک کے لیے بہت مؤثر ثابت ہو رہا تھا۔ ٹیم ورک کی صورت میں کام کرنے کے اسلوب کو اختیار کیا گیا، تاکہ منظم انداز میں تحریکِ ریشمی رومال کی معاونت کو جاری رکھا جائے۔ مولانا ممدوح کابل میں بیٹھ کر ساری سرگرمیوں میں برابر کے شریک رہے۔ 


کابل تشریف لے جانے کے بعد مولانا موصوف کابل یونیورسٹی سے منسلک ہوگئے۔ ریاضی، ہیئت اور حدیث کے علاوہ انھیں اسلامی تاریخ اور جغرافیے میں بھی کمال حاصل تھا۔ کابل یونیورسٹی میں فلکیات کے موضوع پر لیکچرز دیا کرتے تھے۔ افغانستان میں ان دنوں شرعی فیصلوں کے لیے ایک محکمہ ’’میزان التحقیقات الشرعیہ‘‘ قائم تھا۔ مولانا موصوفؒ کو ان کی قائدانہ صلاحیت اور علمی قابلیت کی بنیاد پر اس محکمے کا رئیس (چیف جسٹس) مقرر کیا گیا تھا۔ اعلیٰ حضرت امیر حبیب اللہ خان نے اپنے بیٹے سردار عنایت اللہ کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امیر حبیب اللہ خان کے بھائی سردار نصراللہ خان کے ساتھ بھی مولاناؒکا اعتماد کا تعلق تھا۔ 


قاضی عبد الرزاق خاںؒ کا شمار افغانستان کی انقلابی پارٹی کے سر کردہ رہنمائوں میں کیا جاسکتا ہے۔ تحریکِ شیخ الہندؒ کے موصوف پر اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ، حضرت شیخ الہندؒ کے حکم سے کابل تشریف لے گئے تو اس وقت حضرت سندھیؒ کی اوّلین کوشش یہی تھی کہ کسی مؤثر طریقے سے   امیرِ افغانستان کے دربار میں رسائی حاصل کر کے تحریکِ شیخ الہندؒ کا تعارف ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ اسی دوران حضرت سندھیؒ کی ملاقات قاضی عبدالرزاق خاںؒ سے  ہوئی۔ حضرت سندھیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’قاضی عبدالرزاق سے ملاقات کے دوران پرانے علمی دوستوں کی یاد تازہ ہوتی رہی۔ ہمارے اس سفرِ کابل سے متعلق ان کے پاس اطلاعات پہلے سے موجود تھیں۔ انھیں جب اچھی طرح اطمینان ہو گیا کہ میرا نام ہی عبیداللہ ہے تو بہت مسرور ہوئے‘‘۔ (ذاتی ڈائری)


افغانستان کے نائب السلطنت سردار عنایت اللہ خاں سے حضرت سندھیؒ کی پہلی ملاقات کا اہتمام مولانا قاضی عبدالرزاقؒ کے ذریعے سے ہی ممکن ہو سکا تھا۔ دو گھنٹے کی اس خصوصی ملاقات میں ان تین افراد کے علاوہ کوئی شریک نہ تھا۔ اسی ملاقات کے دوران نائب السلطنت کا حضرت سندھیؒ پر اعتماد بیٹھ گیا اور انھوں نے حضرت سندھیؒ اور ان کی تحریک کے حق میں ایک خط بھی دیا، جس سے کابل میں موجود انقلابی پارٹی کو کام کرنے میں بہت سہولت حاصل ہوگئی۔ یہی خط بعد میں نائب السلطنت کے واسطے سے اعلیٰ حضرت امیر حبیب اللہ خان شہید کے ساتھ ملاقات کا سبب بنا۔ 


مولانا موصوفؒ نے برطانوی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنے شاگردوں کی ذہن سازی بھی کی اور ان میں حریت و آزادی کی روح پھونکی۔ تعلیم و تعلّم کے دوران انھیں اس بات پر بھی تیار کیا کہ وہ انگریزوں کے خلاف عملی جدوجہد میں شریک ہوں۔  اس جدوجہد کے دوران 150 قابل اعتماد دوستوں کی ایک جماعت بھی تیار کرلی تھی جو حریت و آزادی کے جذبے سے سرشار تھی۔ برطانیہ کی جانب سے جاری سی آئی ڈی کی رپورٹ کے مطابق: ’’مولانا قاضی عبدالرزاقؒ سردار نصر اللہ خاں کا معتمد خاص ہے۔  سردار اسی کے ذریعے سے سرحد کے دوسرے ممتاز ملائوں سے خط و کتابت کرتا ہے۔ تمام بڑے ملائوں کا خاص دوست ہے۔ اطلاع ملی تھی کہ 1908ء میں 150 پیروئوں کے ہمراہ برطانیہ کے خلاف غزوہ (جنگ) میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہو اتھا، لیکن امیر نے کسی وجہ سے اسے روک دیا تھا۔ کابل میں ہندوستانی انقلابی پارٹی کا پشت پناہ ہے۔ سرحد پار جتنی بھی (برطانیہ کے خلاف) متعصبانہ کارروائیاں ہوتی ہیں، ان سب کی ڈور یہی شخص ہلاتا ہے۔ حالیہ قبائلی شورشوں سے اس کا گہرا تعلق ہے‘‘۔ (ریشمی خطوط کی ڈائریکٹری)مولانا قاضی عبدالرزاقؒ کابل میں تقریباً 40 سال تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ افغانستان میں تمام علما ان کے براہِ راست یا بالواسطہ شاگرد تھے۔ علمی اور حکومتی طبقہ انھیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ افغانستان میں جدید دور کی تعلیم کو عام کرنے کے حق میں پیش پیش رہے۔ امیر امان اللہ خان کے دور میں ضعف کے باعث سرکاری ملازمت ترک کرکے درس و تدریس کو زیادہ وقت دینے لگے۔ 


 آخری ایام میں زکام و بخار کی کیفیت اس قدر بڑھ گئی کہ نمونیہ کی مہلک صورت پیدا ہوگئی۔ ۱۶؍ رمضان المبارک ۱۳۴۳ھ / 11؍ اپریل1925ء کو اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی جانب کوچ کر گئے۔ نماز ِجنازہ میں اکابر علما، اعلیٰ عہدے داران اور وزرا شریک تھے۔  تدفین مولانا موصوفؒ کے آبائی علاقے غزنی میں کی گئی۔ (ماہنامہ معارف) اللہ تعالیٰ ان اکابرین کی مساعی کے مطابق ہمیں بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

11 / 11

پاکستان کی تعلیم پر برطانوی راج کی پرچھائیں(1)

پاکستان کی تعلیم پر برطانوی راج کی پرچھائیں(1)

نوآبادیاتی (کالونیل) عہد میں حکمران تاریخ اور زمان سے غافل نہیں ہوتے۔ معاشی و ثقافتی ایجنڈا تاریخ پر دسترس حاصل کرنے اور اس کی تشکیلِ نو کرنے سے پورا ہوتا ہے۔ اس کے لیے نوآبادکار یعنی کالونیل طاقت مخصوص بیانیہ رائج کرتی ہے۔ کالونیل عہد میں ہندستان کی ثقافت، علم و ادب کو گھٹیا ثابت کرنے کے لیے یورپی ثقافت کی کہانی کا متن پیش کیا گیا، جس کے لیے میکالے نے مؤثر کردار ادا کیا۔


میکالے کے یہ جملے ’’یورپ کی کسی اچھی لائبریری کی الماری میں ایک تختے پر رکھی ہوئی کتابیں‘ ہندوستان اور عرب کے مجموعی سرمایۂ علمی پر بھاری ہیں‘‘ اور یقین جانیے مجھے کوئی بھی ایسا مستشرق نہیں ملا، جس نے یہ دعویٰ کرنے کی جسارت کی ہو کہ عربی اور سنسکرت کے شعری سرمائے کا عظیم یورپین اقوام کی تخلیقاتِ شعری سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔برطانوی انگریزی ادب، تاریخ و ثقافت کو بہ طور کبیری بیانیہ یہاں رائج کیا گیا۔ کیوںکہ برطانوی انگریزی ادب کے اس قصیدے کے بغیر یورپی ثقافتی بیانیے کا پلاٹ بالکل ادھورا تھا۔ اس لیے انگریزی زبان کو بذریعہ نصاب رائج کیا گیا، جس کے اثرات کی ایک طویل داستان ہے۔ اس تاریخ کو ریاستی سطح پر کُریدنے سے کیسے بچایا جائے؟ برطانیہ نے اس کے لیے ٹھوس اور پائیدار حکمتِ عملی بنا کر پاکستان میں نافذ کر رکھی ہے۔


اسی پالیسی کو پائولو فریرے کے بینکنگ ایجوکیشن سسٹم کے فلسفے کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے، یعنی علم کو بہ طور کموڈیٹی شاگردوں کے ذہنوں میں اُنڈیلا جاتا ہے، جن کے پاس پہلے سے علم موجود نہیں ہوتا۔ یہ کام وہ اساتذہ کرتے ہیں جن کے پاس مخصوص علم ہوتا ہے۔ اساتذہ اس علم کو طلبا میں یوں منتقل کرتے ہیں کہ اُن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو۔پاکستان تقسیمِ ہند کے نتیجے میں وجود پذیر ہوا ہے۔ یہ تقسیم خود دوسری عالمی جنگ کی شکست خوردہ برطانیہ نے کی۔ پاکستان کے قیام کے دیگر محرکات میں کیا کیا تھا؟ یہ بحث ہمارے موضوع سے خارج ہے، لیکن پاکستان پر برطانوی استعمار نے اپنا کنٹرول رکھنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی کی۔


میں اپنے کالم میں اس پورے دور کا احاطہ کروں گا، لیکن ذرا یاد دہانی کے لیے چند سال پہلے کی تعلیمی مہم پر نظر دوڑاتے ہیں، جو پاکستان کے مخصوص میڈیا گروپ پر چلائی گئی۔ Transforming Education in Pakistan کے عنوان کے تحت برطانیہ ڈیفیڈ (Department for International Development) کے ذریعے سے پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کو کنٹرول کیے ہوئے ہے، جس کے مقاصد میں واضح طور پر لکھا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی شعبے میں فنڈنگ برطانیہ کی تزویراتی (سٹرٹیجک) سرمایہ کاری ہے۔ اب یہ تعلیم میں تزویراتی سرمایہ کاری کیا ہے؟ تزویراتی سرمایہ کاری میں مخفی مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ اس پر ذی شعور پاکستانی کو ضرور سوچنا چاہیے۔ 


یہ ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن اِن پاکستان پراجیکٹ 25؍ اگست 2011ء سے شروع ہوا، جس پر برطانیہ نے 25 کروڑ 39 لاکھ 9 ہزار 985 پائونڈز خرچ کیے۔ یہ فنڈز برطانیہ نے اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے سے پاکستان میں خرچ کیے، جس میں آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ، ڈویلپمنٹ آلٹرنیٹوز اِن کارپوریٹیڈ، کرائون ایجنٹس لمیٹڈ، ایرنسٹ اینڈ ینگ پاکستان، میر خلیل الرحمن فائونڈیشن اور ادارہ تعلیم و آگہی شامل ہیں۔


برطانیہ نے پنجاب اور پختونخوا میں اس فنڈ کا 39 فی صد ایجوکیشن پالیسی کو کنٹرول کرنے کے لیے خرچ کیا ہے۔ ایجوکیشن پالیسی کو برطانوی مفادات کے تابع کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ بیانیہ پیش کیا گیا کہ اس خطے کے حکمران عیاشیاں کر رہے تھے، تب برطانیہ میں آکسفورڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس خطے کا ادب، ثقافت سب پس ماندہ اور گھٹیا ہے۔ ہمیں برطانوی استعمار نے مہذب بنایا وغیرہ وغیرہ۔


پاکستان کے مخصوص میڈیا گروپ میں یہ مہم ’’ذرا سوچئے‘‘ کے عنوان کے تحت چلائی گئی، جس کے لیے برطانیہ نے میر خلیل الرحمن فائونڈیشن کو 69 لاکھ پائونڈز ادا کیے اور حکومت پر دبائو ڈالا گیا کہ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے، لیکن اس مخصوص میڈیا گروپ نے ’’آگے بڑھنا ہے تو ا، ب، پ پر یقین‘‘ رکھنے کی مہم برطانوی ایما پر چلائی اور تاریخ کو بہ طور یورپین کبیری بیانیہ ہم پر مسلط کیا، جس کے عوض اس میڈیا گروپ نے برطانیہ سے یہ رقم وصول کی۔حتیٰ کہ اس نجی ٹی وی چینل نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر بھی حملہ کر دیا اور یہ سوال اُٹھا دیا کہ پڑھنے لکھے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا؟ برطانیہ نے خود نظریہ پاکستان پر ہی پاکستان کے ادارے سے حملہ کرایا، جس کے لیے پائونڈز ادا کیے گئے۔ 


جدید نوآبادیاتی عہد میں استعماری مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ’’الف اعلان‘‘ بنائی گئی اور اسلام آباد میں قائم ہونے والے اس کے مرکزی دفتر کو چلانے کے لیے برطانیہ نے ایک کروڑ 81 لاکھ پائونڈز خرچ کیے، جس کو یہ ہدف دیا گیا کہ وہ اس تعلیمی مہم کو بھرپور انداز میں پاکستان میں پھیلانے کا ٹاسک پورا کرے گا اور ’’الف اعلان‘‘ نے پورے ملک میں اچانک ہنگامہ برپا کر دیا۔ 


پائونڈز کی طاقت نے اُس وقت تزویراتی مقاصد حاصل کرنے شروع کر دیے، جب ’’الف اعلان‘‘ نے رپورٹ جاری کر دی، جس کا عنوان "25Millions Broken Promises" تھا، یعنی پاکستان میں 2 کروڑ 25 لاکھ بچے آئوٹ آف سکولز ہیں۔ یہ دوسرا تعلیمی حملہ تھا۔ یہ اعداد و شمار کیسے جمع ہوئے؟ اس کا آج تک پتہ نہیں لگ سکا۔ ہاں! البتہ یہ ضرور ہوا کہ اب ہر سیاست دان، تجزیہ نگار، دانش ور برطانوی فنڈز سے تیار کردہ اس رپورٹ کے یہ اعداد و شمار ذہن نشین کراتا ہے، لیکن اس ڈیٹا کی چھان بین کی آج تک کوشش نہیں کی گئی۔

شمارہ ختم

واپس