جامع علاقائی معاشی شراکت داری

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان
دسمبر 12, 2020 - عالمی
جامع علاقائی معاشی شراکت داری


فرانس کی عالمی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی 15؍ نومبر 2020ء کی رپورٹ کے مطابق ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میںجنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ایک ورچوئل اجلاس کے بعد بحرالکاہل کے پندرہ ایشیائی ممالک نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد انہ تجارتی معاہدے پر دستخط کردیے۔ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے یہ معاہدہ طے پانے میں آٹھ سال لگے ہیں۔ چین کی قیادت میں اس معاہدے سے دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک قائم ہوگیا۔ دنیا کی 2 ارب 20 کروڑ کی آبادی اس معاہدے سے فائدہ اٹھائے گی۔ 
جامع علاقائی معاشی شراکت داری(Regional Comprehensive Economic Partnership) نامی معاہدے سے رکن ملکوں کے مابین درآمدات اور برآمدات پر عائد ٹیکسوں میں کمی لائی جائے گی۔ تجارتی ضوابط نرم کیے جائیں گے۔ کورونا کی وبا سے متأثرہ سپلائی چین (رسد کی ترسیل) میں بہتری پیدا ہوگی۔ چین کی قیادت میں قائم ہونے والے اس تجارتی بلاک میں چین کے ساتھ ایشیا پیسفک، آسیان کے دس ممالک کے علاوہ جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔ چین کی حریف دنیاکی دو معیشتیں امریکا اور بھارت آزاد تجارت کے اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ 


بھارت میں مقامی انڈسٹری کو اس آزاد تجارتی بلاک کا حصہ بننے پر سخت تحفظات رہے ہیں، جس کے باعث حکومت نے خود کو اس معاہدے سے الگ کرلیا تھا۔ بھارت کی زرعی لابی، دودھ اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر بھارتی منڈی کوایشیا پیسفک ممالک کے لیے کھول دیا گیا تو نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور چین جیسے ممالک کی سستی اور بہتر مصنوعات سے ان کے کاروبار ٹھپ ہوجائیں گے۔ 


تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب امریکا عالمی تعاون کے بجائے یک طرفہ فیصلوں کو ترجیح دے رہا ہے، ایشیا میں تجارتی تعاون کے معاہدے فروغ پارہے ہیں۔ یہ چین کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیوںکہ امریکا کے برعکس اب بیجنگ عالمی سطح پر آزادانہ تجارت اور باہمی تعاون کی مثال بن کر اُبھر رہا ہے۔ جاپان سمیت دیگر ممالک کو اُمید ہے کہ آگے چل کر بھارت بھی اس تجارتی بلاک کا حصہ بن جائے گا۔ یہ اتحاد دنیا کی کل پیداوار کا 50 فی صدحصہ اکیلا پیداکر رہا ہے۔ 2012ء میں بھی یہ منصوبہ پیش کیا گیا تھا، لیکن اس وقت اسے پذیرائی نہ حاصل ہوسکی، لیکن چینی قیادت مصمم ارادے کے ساتھ مسلسل آٹھ سال تک اس معاہدے کوعملی شکل دینے کے لیے جدوجہد کرتی رہی۔ 
ویت نام کو اشتراکیت کا نظریہ اختیار کرنے کی سزا دینے کے لیے امریکا نے 1959میں اس پر جنگ مسلط کردی۔ امریکا اور اس کے اتحادی 30؍ اپریل 1975ء تک ویت نام کے خلاف جنگ کرتے رہے۔ اشتراکی حلقے اسے مریکا کے خلاف ’جنگِ مزاحمت‘ بھی کہتے ہیں۔ اس جنگ میں شمالی ویت نام کے اتحادی سوویت اتحاد اور عوامی جمہوریہ چین تھے، جب کہ اشتراکیت کے مخالف اتحادی جنوبی ویت نام کے ساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکا، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور نیوزی لینڈ تھے۔ 15 سالہ طویل اور تھکا دینے والی جنگ میںذلت آمیز شکست کے بعد امریکا کو خطے سے بے دخل ہونا پڑا۔ ویت نام کے خلاف جنگ میں ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے امریکا نے ساتھ ہی سیاسی محاذ پر کام کرنا شروع کردیا۔ 


چناںچہ 8؍ اگست 1967ء کو آ سیان نامی تنظیم ’’تنظیم برائے جنوب مشرقی ایشیائی اقوام‘‘ (The Association for South East Asian Nations)  کھڑی کر دی۔ اس کا مقصد ویت نام کے گرد سیاسی دائرہ تنگ کرنا تھا، تاکہ اشتراکی نظریات کو خطے میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ابتدائی طور پر اس تنظیم میں پانچ ممالک شامل تھے: انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں برونائی، کمبوڈیا، جنوبی ویت نام، لاؤس اور میانمار بھی اس تنظیم کا حصہ بنتے گئے۔ مشرقی تیمور نے آزاد ہوتے ہی شمولیت کے درخواست دائر کر دی۔ پاپوانیوگنی بہ طور مبصر شریک ہوتا رہا۔ 


شیطان اپنی شیطنت سے باز نہیں آتا۔ اس نے یہاں سے شکست کھانے کے بعد افغانستان میں جنگ کا محاذ کھول دیا۔ امریکا کو اندیشہ تھا کہ افغانستان میں اشتراکیت کے کامیاب ہونے کی صورت میں اگلا میدان مشرقِ وسطیٰ ہوگا، جہاں امریکی مفادات کے لیے یہ نظریہ بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ چناںچہ اس کے آگے بند باندھنے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں ہی اسے روکا جاسکے۔ 1979ء سے 1991ء اور 2001ء کی افغان جنگ میں امریکا پھر ناکام ہوا۔ 


آج امریکا افغانستان کو تباہ و برباد کرکے اس کی نوجوان نسل کو مذہب کے نام پر ہلاک کرواکر افغانستان کو ترقی کے عمل سے صدیوں پیچھے دھکیل چکا ہے، لیکن جس مقصد کے لیے یہاں اُترا تھا، پھر ادھورے کا ادھورا رہ گیا۔ اس نے اشتراکیت کا راستہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کیں، مگر منہ کے بل گرا۔ اس نے بند باندھنے کے لیے جو دیواریں کھڑی کی تھیں، آج وہی اس نظریے کے دفاع کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ کمزور اور تنگ نظر سوچ کا طاقت ور اور اجتماعیت پر مبنی سوچ کے مقابلے میں شکست کھانا لازمی امر ہے۔ وہی ’’آسیان‘‘ جسے ویت نام کے خلاف تشکیل دیا گیا، آج چین کی قیادت میں ایشیائی قومیں اپنے قومی تجارتی تقاضوں کی تکمیل اور باہمی اشتراکیت کے فروغ کا ذریعہ بننے جارہی ہیں۔ سرمایہ داروں کی وضع کردہ حکمتِ عملی آج انھیں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان

مرزا محمد رمضان نے ساہیوال میں 1980 کی دہائی کے آغاز میں حضرت مولانا منظور احسن دہلویؒ کی مجالس سے دینی شعور کے سفر کا آغاز کیا اور پھر حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ سے ان کی رحلت تک تعلیم و تربیت کا تعلق استقامت کے ساتھ استوار رکھا۔ اب حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ سے وابستہ ہیں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے معاشیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور 33 سال تک پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ادارہ آئی بی پی میں پانج سال تک معاشیات، اکاونٹس اور بینکنگ لاز میں تعلیم دیتے رہے۔ معیشت کے ساتھ ساتھ آپ قومی و بین الاقوامی امور و حالات حاضرہ پر مجلہ رحیمیہ میں گزشتہ کئی سالوں سے "عالمی منظر نامہ"کے سلسلہ کے تحت بین الاقوامی حالات  حاضرہ پر  مضامین لکھ رہے ہیں۔