علما اور اہلِ دانش کی علمی خیانت؛ زوال کا بڑا سبب

فَوَيلٌ لِلَّذينَ يَكتُبونَ الكِتابَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هٰذا مِن عِندِ اللَّهِ لِيَشتَروا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۖ فَوَيلٌ لَهُم مِمّا كَتَبَت أَيديهِم وَوَيلٌ لَهُم مِمّا يَكسِبونَ (-2البقرہ: 79)
(سو خرابی ہے اُن کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے، پھر کہہ دیتے ہیں: یہ خدا کی طرف سے ہے، تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول۔ سو خرابی ہے اُن کو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے۔ اور خرابی ہے اُن کو اپنی اس کمائی سے۔)
گزشتہ آیت میں یہودیوں کے زمانے کے زوال پذیر معاشرے کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ واضح کیا گیا تھا کہ اُن کے جاہل عوام جھوٹی تمناؤں، آرزوؤں اور وہم و گمانات کے اُلجھاؤ میں مبتلا تھے۔ اس آیت ِمبارکہ میں یہودیوں کے مفاد پرست علما اور اہلِ دانش کی علمی خیانت اور بددیانتی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کی خرابیاں بیان کرتے ہوئے اُن کے اَحبار و رُہبان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
فَوَيلٌ لِلَّذينَ يَكتُبونَ الكِتابَ بِأَيديهِم ثُمَّ يَقولونَ هٰذا مِن عِندِ اللَّهِ:انسانی معاشرے کی ترقی کا صحیح اور جامع ترین قانون وہ ہوتا ہے، جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے متعین کیا ہو اور اُسے اپنے سچے پیغمبر کے ذریعے سے کتاب کی صورت میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کیا ہو۔ خالقِ کائنات کے بنائے ہوئے قانون کا تعلق کل انسانیت کی فلاح و بہبود سے ہوتا ہے۔ وہ محض کسی خاص نسل اور قوم کی بالادستی کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اُس سے مجموعی طور پر انسانیت کی اجتماعی ترقی مطلوب ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی پہلی ’’کتاب‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ’’تورات‘‘ کی صورت میں بنی اسرائیل کے لیے نازل ہوئی تھی۔ یہ کتاب اپنے زمانے کا جامع ترین قانون، دستور اور ضابطہ حیات تھی۔ یہ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے بنیادی اُصول اور ضابطوں کا جامع قانونی نظام تھا۔ بنی اسرائیل کے لیے اس کی پابندی لازمی اور ضروری تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد مسخ شدہ یہودیت کے زوال پذیر علما نے اس کتاب میں لفظی اور معنوی تحریفات کیں۔ چناںچہ اپنے مالی مفادات اور حکومتی عہدوں کے حصول کے لیے یہودیوں کے علما اور حکمران اپنی طرف سے کوئی قانون لکھتے تھے اور عام عوام کے سامنے کہتے تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس طرح وہ اللہ کے حلال کو حرام اور اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حلال بنا دیتے تھے۔
لِيَشتَروا بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۖ : تاکہ اس ذریعے سے دُنیاوی مال و مفاد اور عہدہ اور مناصب حاصل کریں۔ تورات کی تشریح کے طور پر خودساختہ قوانین اور ضابطے بناتے اور پھر انھیں تورات میں شامل کرکے الٰہی حکم کے طور پر تحریف کے مرتکب ہوتے تھے، جب کہ جھوٹی آرزوؤں اور تمناؤں میں مبتلا عوام ان علما اور رُہبان کو ’’اَرباباً مِن دُون اللّٰہ‘‘ ( اللہ کو چھوڑ کر انھیں ربّ اور خدا) کی حیثیت دیے ہوئے تھے۔
ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کی تشریح فرمائی ہے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ جب وہ مسلمان ہونے کے لیے نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُن کے گلے میں سونے کی صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ آپؐنے انھیں کہا کہ اس بت کو گلے سے اُتار پھینکو۔ پھر آپؐ نے یہ آیت مبارکہ تلاو ت کی: ’’انھوں نے اپنے علما اور راہبوں کو اللہ کو چھوڑ کر خدا بنا لیا تھا‘‘۔ (-9 التوبہ: 31) اس پر حضرت عدی بن حاتمؓ نے عرض کیا کہ: عیسائی لوگ اپنے علما کی عبادت تو نہیں کرتے۔ آپؐ نے فرمایا کہ: ’’ہاں! جب وہ اُن کے لیے حلال کو حرام بنا دیتے ہیں اور حرام کو حلال کردیتے ہیں تو لوگ اُن کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی اُن کی عبادت کرنا ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’حلال و حرام کا فیصلہ عالم ملکوت میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں، جب کہ انبیا علیہم السلام اُس کو دنیا میں نافذ العمل کرتے ہیں۔ قانون سازی صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کا حق ہے۔ اس میں کسی اَور کو شریک کرنا شرک اور کفر ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، باب حقیقۃ الشرک ملخصا)
اس تناظر میں اللہ پاک نے ان لوگوں پر ہلاکت اور تباہی کا اعلان کیا ہے کہ جو خودساختہ خدائی اختیارات کے مالک بن کر انسانی معاشروں کے لیے ایسے قوانین اور ضابطے بناتے ہیں، جس سے اُن کا مقصد انسانی فلاح و بہبود نہیں ہوتا، بلکہ مال و دولت کمانا اور جاہ پرستی اور عہدے اور مناصب حاصل کرنا ہوتا ہے۔
فَوَيلٌ لَهُم مِمّا كَتَبَت أَيديهِم: اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے اہلِ علم و دانش کی مفاد پرستی پر مبنی کتاب اللہ کی خودساختہ تشریح کرنے پر دوبارہ ہلاکت اور تباہی کا اظہار فرمایا ہے کہ وہ جو قانون سازی کر رہے ہیں، وہ انتہائی تباہ کُن ہے۔ ایسے قوانین اور ضابطے معاشروں کے زوال اور خرابی اور ہلاکت خیزی کا سبب ہوتے ہیں۔
وَوَيلٌ لَهُم مِمّا يَكسِبونَ : تیسری دفعہ ’’ویل‘‘ (تباہی) کا لفظ استعمال فرما تے ہوئے یہ بھی واضح کردیا کہ مخصوص طبقے کے مفادات کے لیے کی گئی قانون سازی سے انھوں نے جو مالی فوائد اور عہدے حاصل کیے، وہ بھی تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔
کسی معاشرے کی ترقی میں اہلِ علم و دانش کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف معاشرے کو ترقی دینے کے لیے واضح راستہ متعین کرتے ہیں، بلکہ عوام کی صحیح خطوط پر رہنمائی کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہٗ کا قول ہے کہ: ’’صِنفان إذا صَلُحَا صَلُحَ النّاسُ، و إذا فَسَدَا فَسَدَ النّاسُ: الأُمَرَائُ و الفُقھاء‘‘۔ (عقد الفرید لابن عبد ربہ) (دو جماعتیں ایسی ہیں کہ جب وہ صحیح ہوں تو لوگ بھی درست ہوجاتے ہیں اور جب وہ خراب ہوجائیں تو لوگوں میں بھی خرابی آجاتی ہے: (1)حکمران (2) اور اہلِ علم و دانش)۔ اس لیے اہلِ علم و دانش کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ ذاتی اور طبقاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اللہ کے احکامات ایسے بیان کریں، جو انسانیت کی تباہی و بربادی کے بجائے انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی کا باعث ہو۔
نبویﷺ نظامِ حیات کی اہمیت

عَنْ ابن مسعودؓ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: ’’إِنّہ لیس مِن شیئٍ یُقرِّبُکم مِن الجَنّۃ، و یُبَاعِدُکم مِن النّار، إِلَّا قد أمرتُکم بہ، و لیس شیء یُقرِّبُکم مِن النّار، و یُبَاعِدُکم مِن الجنّۃ إِلَّا قد نَہیتُکم عنہ‘‘۔ (شعب الایمان: 10376)
(حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اے لوگو! تمھیں جنت کے قریب اور جہنم سے دور کوئی چیز نہیں کرسکتی، سوائے اس کے جس کا میں نے تمھیں حکم دیا۔ اور تمھیں جہنم کے قریب اور جنت سے دور کوئی چیز نہیں کرسکتی، سوائے اس کے جس سے میں نے تمھیں منع کیا۔)
دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے درست نظامِ حیات اختیار کرنا ضروری ہے۔ ایسا کامل نظامِ حیات صرف نبویؐ طریقے میں ہے، جو اُخروی نجات کے ساتھ دُنیوی فلاح و بہبود، امن و خوش حالی اور عدل و انصاف کے قیام کا یقینی راستہ ہے۔ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انسان دنیا میں اچھے فیصلے اور کامیابیاں تو حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس میں اُخروی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ کوئی نہ کوئی کمی اس وقت تک رہے گی، جب تک اسے نبویؐ ہدایات کے مطابق نہیں ڈھالا جاتا۔ یوں جنت کے حصول اور جہنم سے چھٹکارے کا یقینی طریقہ صرف رسول اللہﷺ کے دیے ہوئے نظامِ حیات میں ہے۔
آج سائنسی ترقیات اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے باوجود دُنیا اس وقت فکری بے راہ روی، عملی کوتاہی کا شکار اور سکون و اطمینان کی دولت سے محروم ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دُنیوی مسائل کو ان بنیادی اَخلاقیات کے معیارات پر اختیار نہیں کیا جاتا جو اللہ کی طرف سے انبیاعلیہم السلام اور خاص طور پر آخری نبی اکرمﷺ کے ذریعے سے انسانوں کو دیا گیا ہے۔ چوں کہ اس کائنات کا خالق اور مدبر‘ اللہ ہے، اس لیے اس کائنات کے لیے بہتر نظام اللہ کے علاوہ کوئی اَور نہیں دے سکتا۔ خدائی ہدایات تک رسائی کا واحد راستہ انبیاعلیہم السلام کی تعلیمات میں مضمر ہے۔ معاشی، سیاسی اور سماجی حوالوں سے درست طرزِ زندگی کی نشان دہی انبیاعلیہم السلام کی تعلیمات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
آج انسانیت پریشانی میں مبتلا ہے۔ دنیا جہنم کدہ بنی ہوئی ہے۔ خوف، دہشت، بداَمنی، بھوک کا غلبہ ہے۔ معاشی اور سماجی طبقات موجود ہیں۔ یہ سب کچھ خود انسانوں کے قائم کردہ ہیں۔ اس کے ردِعمل میں جو افکار یا نظام دنیا میں موجود ہیں، وہ بھی خالص مادی بنیادوں پر ہیں۔ اور محض مادی بنیاد کی وَجہ سے کئی اخلاقی معیارات نظرانداز ہوگئے ہیں۔ آج انسانیت کو دُنیوی جہنم اور اُخروی جہنم سے بچانا ضروری ہے۔ اس دنیا کو جنت اور آخرت کی جنت کے حصول کے لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس ہمہ گیر، آفاقی اور عالمگیر نظریے کی طرف آیا جائے کہ جس پر انسانیت نے ایک بار پہلے چل کر دنیا کو بھی جنت بنایا اور آخرت کی جنت کے بھی وہ وارث اور مالک بن گئے۔
حواریٔ رسولؐ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہٗ

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہٗ قریش کی شاخ اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ حضور اقدس ﷺکے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ اور ایک رشتے سے آپؐ حضرت زبیرؓ کے پھوپھا بھی تھے کہ اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہؓ حضرت زبیرؓ کی پھوپھی تھیں۔ زبیرؓ آپ ؐ کے ہم زلف بھی تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بڑی بہن اسما بنت ابی بکرؓ ان کی زوجہ تھیں ۔ اس طرح آپؓ ذاتِ نبویؐ سے کئی طرح کی رشتہ داریاں رکھتے تھے۔
حضرت زبیرؓ ہجرتِ نبویؐ سے 28 سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کی والدہ حضرت صفیہؓ بعثتِ نبویؐ کے آغاز میں ہی مسلمان ہو گئی تھیں۔ آپؓ بھی 8 یا 15 سال کی عمر میں عنفوانِ شباب میں ہی حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔ آپؐ سابقین اوّلین میں سے ہیں۔ آپؓ نے دینِ حق کو پورے شعور و اِدراک سے قبول کیا اور اس پر ابتلا و آزمائش سے گزرے، مگر صبر و استقامت سے راہِ حق پر ڈٹے رہے۔ آپؓ کے چچا جو آپؓ کے نگران تھے، سزا دیتے، مگر آپؓ نے دوٹوک جواب دیا کہ میں کفر کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا ۔
آپؓ نے پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ آپ عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرامؓ، جنھیں آپؐ نے جنت کی بشارت سنائی) میں سے بھی ہیں۔ آپؓ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ آپؓ سے 38 احادیثِ نبویؐ مروی ہیں۔ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے لیے خط و کتابت بھی کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ حضرت زبیرؓ کے متعلق فرمایا کہ: ’’زبیرؓ دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ حضرت عمرؓ کے منتخب اصحابِ شوریٰ برائے خلافت کے ممبر تھے۔
آپؓ بہادر، شہ سوار، سخاوت کے خوگر صحابہ کرامؓ میں سے ہیں۔ آپؓ کی جنگی صلاحیتوں کی پرورش میں آپؓ کی والدہ کی تربیت کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپؓ سخت جان شہ سواروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپؓ دراز قد تھے۔ گھوڑے پر سوار ہو تے تو پاؤں زمین پر لگتے تھے۔ مضبوط جسم اور بازوؤں کے مالک تھے۔ آپؓ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی معرکوں میں شریک ہوئے۔ آپؓ نے جنگِ یرموک اور فتح مصر میں بھی حصہ لیا ۔ فتح مصر کے لیے حضرت عمروبن العاصؓ نے کمک اور مدد مانگی تو حضرت عمرؓ نے 10 ہزار کا لشکر اور چار فوجی افسر بھیجے، اور خط لکھا کہ: ’’ان چاروں افسروں میں سے ہرایک‘ ایک ہزار سواروں کے برابر ہے‘‘۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیرؓ بن عوام بھی تھے۔ عہد ِعثمانی میں ایک بار حضرت عثمانؓ حج پر نہ جاسکے تو انھوں نے آپؓ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا ۔
آپؓ ایک بڑے عالم، حد سے زیادہ شجاع اور دلیر، مستقل مزاج اور مساوات پسند تھے۔آپؓ نے 60 سال سے زائد عمر پائی۔ تاجر ہونے کی وجہ سے کافی دولت مند تھے۔ آپؓ صاحب جائداد بھی تھے۔حضرت زبیر بن عوامؓ ۳۶ھ میں شہید ہوئے ۔ بصرہ کے قریب وادی السباع میں آپؓ کی قبر مبارک ہے۔ (اُسد الغابہ، طبقات ابنِ سعد، سیر الصحابہ)
سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذمہ دار کون ہے ؟

اس وقت پاکستان کو بدترین سیلاب کا سامنا ہے، جس نے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخواہ کے علاقوں سوات، مردان، نوشہرہ و دیگر، جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع، کشمیر، گلگت اور بلتستان میں انسانی آبادیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا ہے۔ لوگ بے خانماں سڑکوں پر بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ طوفانی سیلاب کی شدت نے سڑکوں، پُلوں اور راستوں کو شدید متأثر کیا ہے، جس سے لوگوں کی نقل و حمل بھی بُری طرح متأثر ہوئی ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف لوگوں کو اُن کے گھربار سے محروم کردیا ہے، بلکہ ان کے مال و مویشی تک بھی طوفانی ریلوں میں بہہ گئے ہیں اور لہلہاتی فصلیں بھی تباہ ہوچکی ہیں۔ اب تک کے تخمینوں کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ انسان زندگی سے محروم ہوچکے ہیں۔ کم و بیش پانچ لاکھ مویشی سیلابی ریلوں کی نظر ہوچکے اور تقریباً 30 ملین سے زیادہ آبادی بے گھرہوچکی ہے۔ ساری صورتِ حال میں ان کے ریلیف کا کوئی ڈھنگ کا پروگرام کسی سطح پر نظر نہیں آتا اور لوگ یہ عذاب اپنی جانوں پر جھیل رہے ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کا اپنے گھر بار، مال مویشی اور وسائل سے محروم ہوجانا معاشروں میں کئی ایک اَن دیکھے اَلمیوں کو جنم دیتا ہے، جس کی سزا معاشرے ایک لمبے عرصے تک جھیلتے ہیں۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا کے باعث ایسی ایسی کرب ناک ویڈیوز اور تصاویر نظر سے گزر رہی ہیں، جو روحِ احساس کو تڑپا دیتی ہیں۔ جب تک کیمرے کی آنکھ ریاست یا صحافت کے کنٹرول میں تھی، تب تو یہ دستور تھا کہ اربابِ اقتدار جتنا دکھانا چاہتے تھے، ملک کے ذرائع ابلاغ اتنا ہی دکھاتے تھے، لیکن اب کے تو ہربندے کے ہاتھ میں موبائل کی شکل میں کیمرہ ہے اور وہ آزادانہ رپورٹنگ کرتے ہیں، جس سے دل دوز مناظر سامنے آتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں قدرتی آفات _ جو کہ قوموں کی اجتماعی سرکشی و نافرمانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیات کی وجہ سے اس کرۂ ارض پر آتی رہی ہیں _ ہمیشہ سے انسانی آبادیوں کو متأثر کرتی چلی آئی ہیں، جیساکہ زلزلوں، طوفانوں، بارشوں، سیلابوں اور جنگوں کی تباہ کاریوں کی باقاعدہ ایک تاریخ رقم ہوچکی ہے۔ لیکن انسانیت کے اس ترقی یافتہ عہد میں کتنے ہی ملکوں اور قوموں نے ان غیر معمولی آفات سے بچنے کے لیے بہت سے حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں اور اس حوالے سے وہ خاطر خواہ نتائج بھی لے رہے ہیں۔ جن ملکوں میں عام دنوں میں پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، ان کے لیے یہ پانی سیال سونا ہے۔ اگر اسے محفوظ کرلیا جائے تو اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، بنجر زمینوں کو زرخیزی سے بدلا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی منصوبہ بندی نہ کی جائے تو یہ نہ صرف ضائع ہوجاتا ہے، بلکہ تباہی و بربادی کا سبب بھی بنتا ہے۔ پھر ایسے بے منصوبہ ملکوں میں کبھی خشک سالی آتی ہے اور کبھی سیلاب، یعنی کبھی وہ پیاس سے مرتے ہیں اور کبھی ڈوب کے۔
پاکستان میں یہ سیلاب کوئی پہلی بار نہیں آیا۔ ہمارے ہاں بار بار آنے والے سیلابوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی بھی ایک تاریخ ہے۔ ہمارے اربابِ اقتدار ہربار اسے غیر معمولی ریکارڈ توڑ بارشوں کی وجہ قرار دے کر اور معمولی ریلیف آٹے اور گھی کے چند ڈبے اور تھیلے تقسیم کرکے بات آئی گئی کردیتے ہیں، جب کہ اس تباہی کے آگے مستقل بندھ باندھنے اور پائیدار سائنسی بنیادوں پر کوئی سسٹم بنانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ اگر چہ ہمارے ہاں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) جیسے ادارے تو موجود ہیں، لیکن وہ اپنی ناقص کارکردگی کے باعث قوم کو کوئی نتیجہ خیز ریلیف نہیں دے سکتے۔ بنگلا دیش _جو کبھی ہمارے ہی ملک کا حصہ تھا _ اسے اپنے جغرافیائی محل وقوع کے سبب ہمیشہ خوف ناک سیلابی ریلوں کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی قوم اور ملک نے ناقابلِ برداشت نقصانات اٹھائے ہیں، لیکن اب انھوں نے بھی ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر سے کافی حد تک ان نقصانات پر قابو پالیا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، یہاں کے سسٹم کو مستقل بنیادوں پر ایک ایسا جدید سائنسی ماڈل پر مبنی انفراسٹرکچر قائم کرنا چاہیے، جو بھاری سیلابوں کی تباہ کاریوں پر قابو پاسکے۔
ایسے موقعوں پر ہماری حکومتیں بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں، مالیاتی اداروں اور ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مدد کی طلب گار ہوتی ہیں، لیکن ایسی قومی آزمائش کے وقت ہمارے غیر سنجیدہ اقدامات کے باعث بین الاقوامی برادری بھی ہمارے اوپر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، جیساکہ 2010ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد اقوامِ متحدہ کی ایک سفیر نے جب سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تو اس نے جگہ جگہ انسانی المیوں کا مشاہدہ کیا، لیکن اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی پیشانی پر اسے پریشانی کے پسینے کی ایک بوند نظر نہ آئی، جب کہ عام لوگ بھوک سے مر رہے تھے۔ اور حکومت اس سفیر کے لیے شان دار ظہرانوں اور عشائیوں کے اہتمام میں مصروف تھی، بلکہ اس وقت کے وزیر اعظم گیلانی اور اُن کا خاندان اس کے ساتھ فوٹو سیشن کے لیے بے تاب تھا۔
اس ملک کے سسٹم کی خرابی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ملکی و غیرملکی فنڈنگ کے ذریعے ہماری حکومتیں پہلے اس پیسے سے مصیبت میں گھرے لوگوں کے لیے اتھارٹیز قائم کرتی ہیں، جن پر بے دریغ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ نئے دفاتر کا قیام، نئی گاڑیوں کی خریداری اور افسروں کی مراعات، گویا مصیبت میں مرنے والوں کی ہڈیوں سے اپنے محلات تعمیر کیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محتاجوں کی مدد کے بجائے انتظامیہ اور بیوروکریسی کے اخرجات زیادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ سیلاب جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے تباہی کا باعث ہوتا ہے، وہاں ایک انتہائی محدود طبقے کی خوش حالی کا مژدہ لے کر آتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں آنے والے سیلابوں میں کسی بھی حکومت نے نہ تو کوئی مؤثر حکمتِ عملی تشکیل دی اور نہ ہی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے کبھی کو ئی منصوبہ بندی کی۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے ہر آنے والے سیلاب پر قابو پانے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے عوامی نقصانات کے ازالے کے لیے پاکستان کی جمہوریت کی دعوے دار ہر پارٹی کی حکومت مجرمانہ غفلت کا شکار رہی ہے۔ اب عوام اتنے باشعور ہوچکے ہیں کہ وہ حکومتوں کی سنگین بد انتظامی اور بدترین نااہلیوں کو نظر انداز کرکے ان سیلابوں کو محض عذابِ الٰہی قرار دے کر نا اہل قیادت کے جرائم پر پردہ نہیں ڈالنا چاہتے، بلکہ وہ ماضی اور حال کے مجرموں سے حساب مانگتے ہیں۔ (مدیر)
گھر بنانے کا خواب

پاکستان کی آبادی ہر سال چالیس لاکھ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ برصغیر کے تناظر میں یہ افغانستان کے بعد سب سے زیادہ شرح نمو ہے ۔ایسے ہی شہروں کی طرف نقل مکانی کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس آبادی کو مناسب چھت دینے کے لیے پاکستان میں سالانہ تین لاکھ پچاس ہزار گھروں کی ضرورت ہے، جب کہ اسے پوار کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ گھر تعمیر ہورہے ہیں۔ یہ مسئلہ اب اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اب ایک کروڑ گھر وں کی تعمیر ہی اس خلیج کو پاٹ سکتی ہے، جب کہ پاکستان میں دو کروڑ تیس لاکھ گھر موجود ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گھروں کی کمی کا شکار عوام الناس ان دنوں کہاں رہنے پر مجبور ہے؟ چناں چہ بڑے شہروں کے مضافات میں یا بیچ وبیچ کچی آبادیاں اور بے ہنگم رہائشی کالونیاں جہاں رہنے کی سہولیات نامی کوئی چیز نہیں، دراصل آمدنی کے مختلف مدارج کے لحاظ سے لوگوں کو جگہ دیے ہوئے ہیں۔
ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتیں پالیسیاں بنایا کرتی ہیں۔ ماشاء اللہ ہم ’’پالیسی‘‘ بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ کام ہم نے سال 2001ء میں کرلیا تھا اور اس کے اہداف بھی طے کرلیے گئے تھے، لیکن ہر شعبے کی طرح اسے کسی نے سنجیدہ نہیں لیا اور آج بیس سال بعد ہم ایک مثالی بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت لینڈ ریکارڈ کی تصحیح، نجی اور حکومتی اداروں کی مدد سے ہاؤسنگ فنانس، یعنی آسان قرضوں کا نظام، کچی آبادیوں کی تنظیمِ نو اور رہائشی اعتبار سے تعمیرِنو، نئی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے قیام کا نظام اور سب سے اہم اس شعبے سے منسلک ٹیکس کے نظام میں یکسوئی اور ایسی بہتری جو گھروں کی تعمیر کے عمل کی حوصلہ افزائی کرے۔
کاش اس پالیسی کے تحت نظام بھی بنا لیا جاتا، لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا آغاز کرلیا گیاہے۔ پہلے تحصیل دار، گرداور اور پٹواری کو انتقال ملکیت پر کمیشن دینا پڑتا تھا، اب اس میں کمپیوٹر والے کا اضافہ ہوچکا ہے اور کمپیوٹر کب بیٹھ جائے، کہا نہیں جاسکتا ۔ پنجاب میںاب تک 26 ہزار مواضعات کمپیوٹرائزڈ ہوچکے ہیں اور 3ہزار باقی ہیں، لیکن یہ سب درست جمع بندی اور بندوبستِ اراضی کے بغیر ہوا ہے۔ اس لیے اسے خانہ پُری کمپیوٹرائیزیشن کہا جائے تو بے جا نا ہوگا۔ یاد رہے آخری دفعہ بندوبستِ اراضی 1940ء میں کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک 80 سال گزرنے، زمینوں کی نوعیت بدلنے اور آبادی کی کثرت کے باوجود پاکستان کی اراضی کا کوئی بندوبست باقاعدہ طور پر نہیں کیا گیا۔
اس وقت پاکستان کے پرائیویٹ بینکوں نے کُل 300 کھرب روپے کا قرض حکومت اور دیگر شعبہ جات کو جاری کیا ہوا ہے، جس میں سے گھروں کی تعمیر پر 375ارب روپے دیے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عام شہری کے لیے بینک سے قرض لینا کتنا مشکل ہے۔
پاکستان میں خصوصاً معاشی سرگرمیوں سے متعلق قوانین کی اکثریت یورپ اور امریکی قوانین کی نقل ہی ہوتے ہیں، لیکن انتقالِ زمین کے قوانین ایک تسلسل کے ساتھ موجود ہیں، جو انگریز حکمرانوں نے برصغیر کی مخصوص سیاسی صورتِ حال، ریوینیو کی وصولی اور جاگیرداریت کو رواج دینے کے لیے بنائے۔ جدید دور میں ہماری مقتدرہ نے اس کے اندر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا تڑکا بھی لگا لیا ہے۔ چناں چہ قبضہ مافیا‘ ملکیّتی زمینوں کے علاوہ مشترکہ عوامی مفاد کی زمینوں جیسے ’’شاملات‘‘ پر ایسے حق جتلاتا ہے، جیسے وہ ان کی کوئی کھوئی ہوئی زمین ہو اور قتل و غارت گری کا ایک بازار ہے جو گرم ہے۔ جب کہ کارپوریٹ قوانین (Corporate Laws) کے تناظر میں دیکھا جائے تو عام عوام سے سرمایہ کاری کروانے کے لیے کسی بھی قسم کی پبلک لمیٹڈ کمپنی کو ایک طویل اور مشکل کاغذی کارروائی سے گزرنا ہوتا ہے۔ مالکان کو اس عمل میں بیسیوں گارنٹیاں بھی رکھوانی پڑتی ہیں۔ پھر جا کر کمپنی کو عام عوام سے سرمایہ وصول کرنے کی اجازت ملتی ہے، جب کہ پراپرٹی سے متعلق سرمایہ کاری کا کوئی واضح قانون موجود نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی بدنیت اُٹھتا ہے اور بغیر کسی کاغذی کارروائی اور گارنٹی کے لوگوں سے اربوں روپے بٹور لیتا ہے، اور اس کے بعد کی کہانی سے تو ہم سب واقف ہیں۔ یہ کام اتنا سہل ہے کہ ہمارے سرکاری ادارے بھی اب اس تباہی میں صفِ اوّل کے حصہ دار بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں ہاؤسنگ سے وابستہ پاکستان کے مشہور بزنس مین کا بیان کہ ’’سوسائٹیاں زمین پر نہیں، کاغذوں پر بنتی ہیں‘‘ مسئلے کو بالکل واضح کردیتا ہے۔
اس پالیسی کے بیس سال بعد پاکستان کی ہر ہاؤسنگ سوسائٹی لوٹ مار کا ایک منصوبہ ہی دکھائی دیتی ہے، جو دراصل ہماری مقتدرہ کا من پسند پیشہ ہے۔ چناں چہ آئے دن ہم میڈیا پر مختلف متأثرینِ سوسائٹی کی آہ و بُکا سنتے ہیں، لیکن ہمارے قوانین ایسے فرسودہ ہیں کہ ان پر کوئی کچھ نہیں کرسکتا، اور خصوصاً اس وقت جب مد مقابل کوئی طاقت ور مافیا ہو۔
عوام کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اُن کو رہنے کے لیے ایک چھت میسر آجائے۔ والدین خواہش کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی اولادوں کے مکان دیکھ لیں۔ یہ خواب حسرت بن کر رہ جاتے ہیں۔ کسی پیداواری صنعت کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ لینڈ مافیا کسی بھی ایسی پالیسی کو اوّل تو بننے ہی نہیں دیتا کہ جس سے زمین عام عوام کی دسترس میں آسکے اور دوسرا اگر کوئی ایسی پالیسی خدا نخواستہ بن بھی جائے تو اُسے چلنے نہیں دیا جاتا۔ جیسے حال ہی میں ’’خالی پلاٹ جس کی مالیت اڑھائی کروڑ روپے سے زیادہ ہے، اُس پر ایک فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا‘‘ کے فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے۔ پراپرٹی کا کاروبار اور سسٹم مقامی طور پر منی لانڈرنگ کا سب سے مؤثر اور بڑا ذریعہ ہے، جسے ملک کی سا لمیت کے لیے ختم کرنابہت ضروری ہے۔
عالمی معاہدات کی صریحاً خلاف ورزیاں

(نینسی پیلوسی کا دورۂ تائیوان)
چینی اخبار گلوبل ٹائم کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی رات کی تاریکی میں تائیوان کے دارلحکومت تائے پی شہر میں 2؍ اگست 2022ء کو چوروں کی طرح داخل ہوئی تھی۔ نینسی پیلوسی کا طیارہ ائیرپورٹ پر داخل ہونے سے قبل ہی ائیرپورٹ کی تمام لائٹس بند کردی گئیں اور فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔ تائیوان حکومت کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم تھا کہ طیارے کے لینڈ کرنے کے بعد بھی کافی دیر تک یہ لائٹس بند رہیں۔ دوسری طرف چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کو متنبہ کیا تھا کہ ’’وہ آگ سے کھیلنا بند کرے، ورنہ وہ جل کر راکھ ہوجائے گا‘‘۔ نینسی پیلوسی کے حالیہ دورے سے پہلے بھی امریکا نے اس کے دورے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد چین نے ایک خطرناک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں انتہائی تباہ کن میزائلوں کا استعمال کرکے دکھایا گیا تھا۔ اور امریکا کو دھمکی دی تھی کہ: ’’اگر تم نے تائیوان میں اُترنے کی کوشش کی تو تمھارے تمام بحری بیڑے تباہ کردیے جائیں گے‘‘۔ جس کے بعد نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ ملتوی کردیا تھا۔ آج ان تمام تر دھمکیوں کے باوجود نینسی پیلوسی تائیوان اُترنے کے بعد اعلان کرتی ہے کہ: ’’امریکا کبھی بھی تائیوان کو تنہا نہیں چھوڑے گا‘‘۔
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے 1969ء کے انتخابات سے قبل ایک مقالہ لکھ کر اخبارات میں شائع کروایاتھا، جس میں چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ صدر منتخب ہوا تو اس نے اس منصوبے پر انتہائی ڈرامائی انداز سے عمل درآمد شروع کیا۔ اس منصوبے میں پاکستان نے پُل کا کردارا دا کیا تھا۔ 70ء کی دہائی میں سوویت یونین اور چین کے درمیان پیدا ہونے والی نظریاتی اور تزویراتی خلیج کا فائدہ اُٹھانے کے لیے امریکا نے چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے عمل کی شروعات کیں۔ 1972ء میں صدر رچرڈ نکسن نے دورے کے دوران چین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے دو جنگی بحری جہاز آبنائے فارموسا (تائیوان کا پرانا نام) سے ہٹا رہا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی مصنوعات خریدنے کی پابندیاں ہٹانے سے لے کر دیگر سرگرمیوں کے آغاز کے بھی عندیے دیے گئے۔ اسے عملی شکل دینے کے لیے درجِ ذیل معاہدات وجود میں آئے: 1۔ ون چائنہ پالیسی، 2۔ تائیوان تعلقات ایکٹ، 3۔ امریکا چین تین ملاقاتیں، 4۔ امریکا کی تائیوان کو چھ یقین دہانیاں۔
’ایک چین پالیسی‘ یا ’ایک چین حکمتِ عملی‘: اس پالیسی کے تحت چین کو ایک واحد ملک تسلیم کیا گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ دو حکومتیں؛ ’عوامی جمہوریۂ چین‘ اور ’جمہوریۂ چین‘ یعنی تائیوان حکومت کا ذکر ہوگا تو ’جمہوریۂ چین‘ کہلائے گا۔ یہ دونوں چین کے سرکاری نام ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک ’ایک چین پالیسی‘ پر عمل پیرا ہیں۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے اور ’عوامی جمہوریۂ چین‘ واحد قانونی حکومت ہے۔ دوسری طرف امریکا ’ون چائنہ‘ اصول کو مانتا ضرور ہے، لیکن آج مکمل طور پر اسے تسلیم نہیں کررہا اور نہ ہی سرکاری طور پر تائیوان کے مسئلے پر اپنی حیثیت کبھی واضح کرتا ہے۔
امریکا میں صدر کے بعد دوسرا بڑا عہدہ نائب صدر اور اس کے بعد کانگریس کے سپیکر کا ہوتاہے۔ 1997ء کے بعد اس جزیرے کا سفر کرنے والی نینسی پیلوسی امریکا کی پہلی اعلیٰ ترین عہدے دار ہے۔ اس سے پہلے اس نے 1989ء کے قتلِ عام بیجنگ میں تیانن من سکوائر کے متأثرین کی یاد منانے کے لیے چینی شہری کے مجسمے واشنگٹن میں چینی منحرفین کے ہمراہ 2019ء میں تقریبِ رونمائی میں شرکت کی تھی۔ اس کا پروگرام تائیوان کے دورے کا تھا، جو کورونا کے باعث ملتوی کردیا گیا۔ وہ ماضی کے تمام معاہدات سے پہلو تہی اور رُوگردانی کرتا نظر آرہا ہے۔
چین کے وزیرِ خارجہ نے نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کے سبب امریکی سفیر کو بہ طورِ احتجاج بیجنگ میں طلب کرکے اسے وارننگ جاری کی ہے۔ وزیرِ خارجہ نے اسے ’’شیطانی نوعیت کا دورہ‘‘ قرار دے کر اس کے سنگین نتائج سے خبر دا ر کیا ہے اور کہا کہ چین خاموش نہیں بیٹھے گا۔ روس نے بھی اس سلسلے میں چین کی حمایت کی ہے اور نینسی پیلوسی کے دورے کو واضح اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ روس نے مزید کہا ہے کہ چین کو اپنی خود مختاری کے تحفظ میں کاروائی کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ چین نے اپنے دفاعی نظام کے حوالے سے ایسے میزائل نصب کردیے ہیں، جن کی رینج 12 سے 15 ہزار کلو میٹرتک مار کر نے کی ہے۔ اس کے علاوہ چین نے روس کے ایس 400 میزائل سسٹم سے ملتا جلتا اپنا جدید اور طاقت ور دفا عی نظام بھی نصب کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ جنگی مشقیں 15؍ اگست تک جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایشیا پیسفک میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کے گرد اپنے جنگی بحری بیڑے نصب کردیے ہیں۔
امریکا کے غلبے کا سب سے بڑا پتھر یورپ کا فوجی اتحاد ’’نیٹو‘‘ ہے۔ روس نے یوکرین میں حالیہ اقدامات کے ذریعے امریکا کے غلبے کی حکمتِ عملی کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اس کے سارے اقدامات، جن میں فوجی اور اقتصادی پابندیاں شامل تھیں، بے اثر ہوتے جا رہے ہیں۔ روسی اقدامی حکمتِ عملی نے اس پتھر کو پہلے درجے میں سِرکنے پر مجبور کیا، پھر تباہ کن، کاری اور مؤثر ضربوں کے ذریعے پتھر کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے۔ ان حالات میں روس کا مقابلہ کرنا نہ صرف مشکل بلکہ دھیرے دھیرے ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ لہٰذا امریکا ایک ایسا نیا محاذ کھولنا چاہتا ہے، جہاں مقابلہ نہ صرف آسان ہو، بلکہ جیتنے کے امکانات بھی روشن ہوں۔ امریکا کی یہی خوش فہمی اسے دنیا بھر سے اپنی ساری تنصیبات لپیٹنے پر مجبور کردے گی۔ امریکی تاریخ سے واضح طور پر عیاں ہوتاہے کہ اس کے تمام معاہدات محض دفع الوقتی ہوتے ہیں۔ ان کی پاسداری کرنا امریکا کی سرشت میں ہی شامل نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ کیے ہوئے معاہدات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
مولانا لیاقت علی الٰہ آبادیؒ

بر عظیم ہندوستان کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا، جسے ولی اللّٰہی جماعت کے افراد نے متأثر نہ کیا ہو۔ یہ تحریک‘ ہندوستان کی آزادی کے حوالے سے وہ واحد تحریک تھی، جس نے نہ صرف یہ کہ دور کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق بروقت اور معروضیت سے ہم آہنگ رہنمائی فراہم کی، بلکہ وطنِ عزیز کے مستقبل کی ضروریات کے پیشِ نظر باشعور اجتماعیت بھی قائم کی۔ مولانا لیاقت علی الٰہ آبادیؒ بھی اسی گلشن کے خوشہ چیں ہیں، جنھوں نے تحریکِ بالا کوٹ کے دوران الٰہ آباد میں نہ صرف یہ کہ رائے عامہ کو ہموار کیا، بلکہ تحریکِ جہاد میں عملی طور پر سرگرم رہے۔
مولانا لیاقت علیؒ 5؍ اکتوبر 1817ء کو مہرگائوں (الٰہ آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ گرامی کا نام قاضی مہر علی تھا۔ ان کا شمار علاقے کے با اثر افراد میں ہوتا تھا۔ خاندانی پیشہ کاشت کاری تھا۔ مولانا لیاقت علیؒ کے چچا دائم علی فوج میں ملازم تھے۔ انھوں نے ہی مولانا موصوفؒ کی پرورش کی اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھائی۔ اپنی ذہانت اور قابلیت کی بنیاد پر جلد ہی اپنے علاقے میں معروف ہوگئے۔ اپنے چچا جان کی ایما پر ہی فوج میں ملازمت بھی اختیار کرلی تھی، لیکن جلد ہی چھوڑ دی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بالا کوٹ میں تحریکِ مجاہدین سرگرم تھی۔ تحریکِ مجاہدین نے ہندوستان بھر میں بدیسی حکمرانوں سے آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا۔ مولانا موصوف بھی حضرت سیّداحمد شہیدؒ سے بہت زیادہ متأثر تھے۔ اسی بنا پر ہی انھوں نے فوج سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ اس تحریک کے دوران جہاں حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ دہلی میں بیٹھ کر مجاہدین کی امداد میں منہمک تھے، وہیں ہندوستان کے دیگر علاقوں میں اس تحریک کے لیے رائے عامہ ہموار کی جارہی تھی۔ اس سلسلے میںمولانا خرم علی بلہوریؒ نے ایک جہادیہ نظم تحریر فرمائی، جسے مولانا لیاقت علیؒ کی کاوشوں سے شائع کیا گیا اور ہر خاص و عام کو اس کی ترسیل کا نظام بھی بنایا۔ اسی دوران مولانا موصوفؒ نے ایک ’’منشور اعلان‘‘ بھی چھپوایا، جس میں تحریکِ مجاہدینِ بالا کوٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس طرح اس خا ص تحریک کو عوامی بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔
تحریکِ مجاہدین کے بعد بھی اپنے وعظ و تقاریر کے ذریعے باشندگانِ بعید الوطن (انگریز) کے خلاف ضرور بات کرتے تھے اور انگریزوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرکے لوگوں میں آزادی کا شعور بیدار کرتے رہتے تھے۔ موصوف اپنے ارادت مندوں کو سلسلۂ قادریہ میں بیعت فرماتے تھے اور حریت کے جذبے سے سرشار فرماتے رہتے تھے۔
یہ ولی اللّٰہی تحریک کا ہی ایک خاص اثر تھا کہ مولانا لیاقت علیؒ نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں بھی بھر پور کردار ادا کیا۔ 9؍مئی1857ء کو میرٹھ کی چھائونی میں بغاوت کا اعلان ہو گیا تو یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ہی یہ خبر الٰہ آباد میں پہنچی تو ایسا محسوس ہوا جیسے دبی ہوئی چنگاری نے دوبارہ ہوا پکڑ لی ہو۔ 5؍ جون 1857ء کو الٰہ آباد میں بھی انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان ہوگیا۔ 6؍ جون کو مولانا موصوفؒ الٰہ آباد پہنچے اور مجاہدین کی قیادت کی۔ اس دوران تمام انتظامی اُمور کی سرانجام دہی کے لیے ضروری تھا کہ کسی ایک جگہ کو مرکز بنا کر کام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ’’خسرو باغــ‘‘ کو مرکز بنایا گیا۔ اسی مرکز کے تحت تمام باصلاحیت نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور ان میں انتظامی اُمور کو تقسیم کیا۔ یوں ایک عارضی حکومت کی بنیاد رکھی گئی، جس کا مقصد دہلی کی سلطنت کی آزادی کے لیے کام کرنا تھا۔ اس انقلابی حکومت کے قائم ہونے کا اثر یہ ہوا کہ انگریز فوج محض قلعے کے اندر محصور ہو کر رہ گئی تھی۔ مولانا موصوفؒ کے ساتھ نہ صرف مسلمانوں کی اکثریت جمع تھی، بلکہ رام چند نامی ایک ہندو کی سربراہی میں ہندوئوں کی کثیر تعداد بھی آپؒ کے ساتھ ہوگئی تھی۔
جہاد میں حصہ لینے کے لیے ایک اعلان ’’دعوتِ عام‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔ جہاد کی دعوت کا یہ پمفلٹ نہ صرف یہ کہ الٰہ آباد میں تقسیم ہوا، بلکہ حیدرآباد دکن، اَوَدھ، بمبئی اور دہلی کے گردو نواح میں بھی تقسیم کیا گیا۔ اس کتابچے میں انگریزوں کے مظالم کا بیان اور قومی و مذہبی ذمہ داریوں کوبڑی تفصیل سے بیان کیا گیا تھا۔ مولانا موصوفؒ اپنی تمام تر سرگرمیوں کی اطلاعات بہادر شاہ ظفر کو رپورٹس کی شکل میں دہلی روانہ کرتے رہتے تھے۔ اس تحریک کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ الٰہ آباد کے گردو نواح کے 40 سے زائد علاقے اس عارضی حکومت کے تحت آگئے تھے۔ 16؍ جون 1857ء کو انگریزی فوج اور ان مجاہدین کے درمیان ایک خون ریز معرکہ ہوا، لیکن باقی علاقوں کی طرح یہاں پر بھی غداروں نے اپنا کام دکھایا اور مجاہدین کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ صرف الٰہ آباد میں 6 ہزار حریت پسندوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور سینکڑوں افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔
الٰہ آباد میں انگریزی قبضہ ہونے کے بعد مولانا لیاقت علیؒ نانا رائو کے شانہ بہ شانہ انگریزوں کے خلاف کانپور میں لڑتے رہے۔ اسی دوران مولانا احمد اللہ مدراسیؒ سے ملاقات ہوئی تو ان کے ساتھ بھی سرگرمِ کارزار رہے۔ مولانا احمد اللہ مدراسیؒ کی شہادت کے بعد 1859ء کو پہلے گجرات اور پھر لاجپور میں قیام کیا۔ 1868ء میں جب ریاست میں ابراہیم محمد یاقوت برسرِ اقتدار آئے تو شرعی احکامات کے مطابق فیصلہ سازی میں مولانا لیاقت علیؒ اور صوفی عبدالاحد لاجپوری پیش پیش تھے۔
اس دوران 1869ء میںانگریز مولانا موصوفؒ کو تلاش کرتے ہوئے لاجپور آئے، لیکن وہ بمبئی روانہ ہو چکے تھے۔ انگریز کی جانب سے 5000 روپے انعام کا لالچ دیا گیا، تاکہ گرفتاری جلد ممکن ہوسکے۔ بالآخر بمبئی میں گرفتاری عمل میں آئی۔ چوں کہ مولاناؒ کی وجہ سے انگریزی فوج کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس لیے واجبی پیشیوں کے بعد مولانا کو جزیرہ انڈیمان بھیج دیا گیا۔ 23 سال تک انڈیمان میں قید رہے۔ قید کے دوران بھی وہاں موجود حریت پسندوں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے۔ اسی قید کے دوران 17؍ مئی 1892ء کو خالقِ حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اکابرین کے جذبۂ حریت کو سمجھنے اور شعوری طور پر آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)
حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے مجاز
حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ کا سانحۂ ارتحال
حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے مجاز حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ مؤرخہ: ۲۵؍ محرم الحرام ۱۴۴۴ھ / 24؍ اگست 2022ء بروز بدھ بوقت 2 بجے دوپہر لاہور میں انتقال کرگئے۔ إنّا لِلّٰہ و إنّا الیہ راجعون۔
آپؒ کی پیدائش ۱۳۶۴ھ/ 1945ء میں بٹالہ ضلع گورداس پور، پنجاب (ہندوستان) میں ہوئی۔ آپؒ کے والد ماجد کا نام ماسٹر محمد دین تھا، جو کہ انگریزی کے استاد تھے اور پاکستان بننے سے پہلے شعبۂ تعلیم سے منسلک تھے۔ تقسیم کے بعد اہلِ خانہ سمیت بٹالہ سے پاکستان تشریف لے آئے اور یہاں پہلے منڈی بہائو الدین اور بعد میں لائل پور (فیصل آباد) میں پڑھاتے رہے اور مستقل قیام پیپلز کالونی فیصل آباد میں رہا۔ انھوں نے اپنے تمام بیٹے بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کا انتقال ۱۴۰۱ھ/ 1981ء میں ہوا۔
صوفی صاحبؒ کا بچپن میں ٹائیفائیڈ کے بگڑنے سے دائیاں حصہ مفلوج ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے محنت سے تعلیم حاصل کی۔ چناں چہ میٹرک اور آئی کام کی تعلیم لائل پو (فیصل آباد) سے اپنے والد کی نگرانی میں مکمل کی۔ اور پھر انھوں نے ہیلے کالج لاہور سے بی آنرز کام کیا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ لاہور میں ملازمت کی۔ اور پھر سوشل سیکیورٹی پنجاب میں اسسٹنٹ اکائونٹس آفیسر کے طور پر سرگودھا میں کام کیا۔ ۱۴۲۵ھ/ 2005ء میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے لاہور سے ریٹائر ہوئے۔
حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری قدس سرہٗ کا ایک جنازہ فیصل آباد میں ہوا تھا۔ انھوں نے اس میں شرکت کی تھی۔ حضرتؒ کے حالات سن کر آپؒ سے بہت محبت رکھتے تھے۔ حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ کے وصال 1962ء کے بعد ان کے جانشین حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کی خدمت میں پہلی مرتبہ ۱۳۹۲ھ/ 1973ء میں فیصل آباد میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا تبادلہ سرگودھا ہوا تو اس دوران روزانہ شام کو حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کی مجلس میں حاضری دیتے اور ذکر اذکار میں مشغول رہتے تھے۔ آپؒ کا قیام اکثر حضرتؒ کے کمرے میں ہوتا تھا۔ معذوری کے باوجود خانقاہ کے معمولات پوری پابندی سے کرتے تھے۔
حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کے وصال 1992ء کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ سے تجدید ِبیعت کی اور مختلف جگہوں پر ملازمت کے دوران بھی اپنے معمولات کی پابندی جاری رکھی۔ رمضان المبارک کے قیام میں ہر جگہ حاضری دیتے رہے اور حضرتؒ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے، یہاں تک کہ رمضان المبارک ۱۴۱۷ھ/ 1997ء میں حضرتؒ نے آپؒ کو سلسلے کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کی صحبت کے لیے ادارہ رحیمیہ لاہور میں تادمِ مرگ قیام پذیر ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے اور مشائخ رائے پور کی معیت نصیب فرمائے۔ (آمین!)
اَحبار و رُہبان کی دین فروشی اور فاسد کردار

12؍ اگست 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! جب قوموں پر زوال آتا ہے تو اس میں دو طرح کے طبقے پیدا ہو جاتے ہیں: (1) ایک ’’اُمِّیّین‘‘ یعنی ان پڑھ، جو صرف خواہشات پالتے ہیں تمنائیں اور آرزوئیں رکھتے ہیں، گمانات اور خیالات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان سے مراد وہ جاہل اور بے وقوف لوگ ہیں جو خواہش تو رکھتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، لیکن اس کے لیے کوئی عملی کردار ادا نہیں کرتے۔ (2) دوسرا وہ پڑھا لکھا مفاد پرست طبقہ ہوتا ہے، جو اپنے علم و عقل کا غلط استعمال کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے کوئی قانون یا کوئی تحریر بناتا ہے اور اسے اللہ کا حکم قرار دے کر مالی مفادات اور حکومتی عہدے بٹورتا ہے۔
پہلے طبقے سے متعلق اللہ تبارک و تعالی نے عیسائیوں اور یہودیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کی خرابیوں میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنے اَحبارو رُھبان (اہل علم و دانش) کو اپنا رب بنا لیتے ہیں۔ اور دوسرے طبقے (احبار و رُہبان) کے متعلق فرمایا کہ وہ خود ساختہ رہنمائی کے منصب پر فائز ہو کر حرام و حلال کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔
مشہور زمانہ سخی حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدی ابن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ قبل از اسلام عیسائیت سے تعلق رکھتے تھے۔ جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے تو اُن کے گلے میں سونے کی بنی ہوئی صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے پہلے آپؓ کو اسلام کی دعوت دی اور آپؓ کے بہت سارے سوالوں کے جوابات دیے۔ جب حضرت عدیؓ مسلمان ہوگئے تو آپؐ نے انھیں فرمایا کہ یہ جو گلے میں تم نے بت لٹکا رکھا ہے اس کو اتار کر پھینک دو۔ اس موقع پر آپؐ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی کہ: ’’عیسائیوں نے اپنے اَحبار اور راہبوں کو اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے‘‘۔ (9- التوبہ: 34) تو عدیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! میں تو پوری عیسائیت میں گھوم پھر آیا ہوں تو وہاں جو بڑے بڑے علما اور راہبین ہیں، لوگ ان کو سجدہ تو نہیں کرتے نہ عبادت کرتے ہیں، نہ وہ ان کو ربّ مانتے ہیں ۔ کیوں کہ ربّ تو وہ ہوتا ہے جسے پوجا جائے۔ تو قرآن حکیم کی آیت:ﵟأَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِﵞ سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب ہونے کا جو تونے مطلب سمجھا ہے یہ نہیں ہے، بلکہ رب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ احبار و رُھبان جس چیز کو حلال قرار دے دیں تو کیا تم عیسائی لوگ اس کو حلال نہیں سمجھتے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! پھر فرمایا کہ: اور جس چیز کو یہ احبار ورھبان حرام قرار دے دیں تو کیا تم اس سے رک نہیں جاتے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں! ایسا تو ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’یہی اُن کی عبادت کرنا (اور انھیں ربّ بنانا) ہے‘‘۔
دنیا پر سفید فام نسل پرست طاقتوں کے لیگل سسٹم کا تسلط
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’پچھلے دو ڈھائی سو سال سے ’’کتب مقدسہ‘‘ اور ’’نوامیسِ کلیہ‘‘ یعنی انسانوں کے مجموعی عمومی تقاضوں کو پورا کرنے والے قوانین اور احکامات کو نظر انداز کر کے کچھ ’’احبار و رُہبان‘‘ نے ایک نیا سسٹم دنیا میں متعارف کرایا ہے، جس کی بنیاد ’’زر‘‘ اور ’’سرمایہ‘‘ ہے۔ اسے قانونی نظام اور لیگل سسٹم کے تشخصات دیے گئے ہیں اور اسے مقدس بنا دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سرمائے کے مفادات کے متعلق قوانین و ضوابط کو حلال قرار دے دیا گیا اور جو انسانیت کے فائدے کا ’’ناموسِ کلی‘‘ تھا اسے حرام قرار دے دیا۔ چناں چہ اس قانون کے شکنجے میں عوام کو کسا جاتا ہے، جو در اصل اقوام کو غلام بنانے، ظلم و ستم کو فروغ دینے، معاشروں پر گرفت حاصل کرنے، ان کی منڈیوں پر قبضہ کرنے، ان پر ظلم و ستم ڈھانے کا ایک نیا طریقۂ کار وضع ہوا ہے۔ اس میں وہ ’’نوامیسِ کلیہ‘‘ بھی نظر انداز ہوگئے جو کل انسانیت کے مشترکات تھے اور شرائع الٰہیہ بھی نظر انداز ہو گئیں، خواہ وہ عیسائیت تھی یا یہودیت، تورات تھی یا انجیل، قرآن حکیم تھا یا دیگر مقدس کتابیں۔
خاص طور پر خلافت عثمانیہ کے خاتمے 1920-22ء کے بعد دنیا میں جو ریاستیں وجود میں آئیں، وہ ایک ایسے قانونی نظام کے تحت ہیں کہ جس میں ہر سوسائٹی میں سرمایہ پرستی کی بنیاد پر ایک خود ساختہ آئین ،دستور، ایک لیگل سسٹم ، ایک قانونی نظام وضع کر لیا گیا ہے۔ اور یہ وضع کرنے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے جنگ عظیم اوّل میں دنیائے انسانیت فتح کرکے اس پر قبضہ کیا تھا؛ برطانیہ اور فرانس۔ انھوں نے عام انسانوں کے عوامی حقوق پامال کیے، انسانیت کو جنگ میں دھکیل کر کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا۔ جنگِ عظیم دوم بھی انھیں انسانیت کو لوٹنے والے لوگوں کے درمیان ہوئی اور اس کے لیے طریقہ کار کیا وضع کیا کہ: ’’يَكۡتُبُونَ ٱلۡكِتَٰبَ بِأَيۡدِيهِمۡ‘‘ (-2البقرہ: 79) انھوں نے اپنے ہاتھوں سے خود ساختہ قانون بنایا کہ یہ کام حلال ہے اور یہ حرام ہے۔
آپ دیکھئے کہ ’’انجیل‘‘ پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانے والا امریکی صدر بھی، برطانوی اور فرانسیسی وزیر اعظم اور حکمران بھی اور ’’قرآن حکیم‘‘ پر حلف اٹھانے والے مسلمان ملکوں کے حکمران بھی ان کتابوں کے نام پر صرف ’حلف‘ اٹھاتے ہیں، ان کتابوں میں درج قوانین اور ضابطوں کے پابند نہیں بنتے۔ چاروں کتابوں؛ تورات، انجیل، زبور اور قرآن حکیم میں سود حرام کیا گیا ہے ، لیکن اس کے علی الرغم سود کو حلال قرار دینے کا عالمی نظام وضع کر دیا گیا۔ قرضوں کی معیشت کو ممالک پر مسلط کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کیے گئے چارٹر اور اس کے آئین و دستور (کتاب) کو پوری دنیا پر نافذ کردیا گیا، جس نے اللہ کے حلال کیے ہوئے کو حرام بنا دیا اور اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حلال قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ’’يَكۡتُبُونَ ٱلۡكِتَٰبَ بِأَيۡدِيهِمۡ‘‘ اور ’’أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ‘‘ کا یہی تو مفہوم ہے۔ یہی تو اللہ کے علاوہ کو ربّ بنانا ہے‘‘۔
موجودہ دور میں ارباباً من دون اللہ کے کردار کی حامل قوتیں
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج کوئی یہودی ہو، یا عیسائی، ہندو ہو یا مسلمان اور سکھ ہو، کوئی روسی ہو یا چینی ہو، کل انسانیت کے ضمیر کی آواز ہے کہ اس کے جمہوری حقوق پورے کیے جائیں۔ اس کے لیے عدل کا نظام بنایا جائے۔ اس کے لیے امن کا نظام بنایا جائے۔ وہ معاشی خوش حالی کے طور پر مطمئن زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن عالمی طاقتوں نے ان تمام حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام بنا دیا کہ معاشرے میں بدامنی، خوف، ’’ڈیوائڈ اینڈ رول‘‘ کی سیاست اور معاشی بدحالی رہے، تاکہ ان کی منڈیوں پر ہمارا ظالمانہ قبضہ برقرار رہے۔ گویا انسانیت کے لیے جتنی حلال چیزیں تھیں، انھیں حرام کردیا۔ ذرا تمام الٰہی کتابیں اور ان تمام کا جامع خلاصہ کتاب مقدس قرآن حکیم اٹھا کر دیکھو کہ اللہ نے عدل، امن، انصاف اور معاشی خوش حالی کو حلال اور لازمی قرار دیا ہے اور ظلم، نا انصافی، جھوٹ، بد امنی وغیرہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر آج کے سامراجی نظاموں کا مطالعہ کرو جو پچھلے تین سو سال سے برعظیم پاک و ہند پر اور سو سال سے دنیا پر مسلط ہے، اس نے تمام کتبِ مقدسہ، شرائع الٰہیہ اور نوامیس کلیہ میں جو چیزیں حلال تھیں‘ وہ حرام بنا دیں۔
دور جانے کی بات کیا ہے! دُنیا بھر کے ملکوں کے آئین اور دستور کھنگالنا تو بعد کی بات ہے، آپ اپنے ملک کے آئین اور قانون کا ہی جائزہ لے لیں۔ آپ کا سٹیٹ بینک اور آپ کا مالیاتی ڈھانچہ ان اصولِ کلیہ پر استوار ہے، جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بنائے ہیں، جنھیں ظالمانہ اقوام نے دنیا پر مسلط کیا ہے۔ اس میں حلال چیزیں حرام اور حرام چیزیں حلال بنا دی ہیں۔ آپ کا سٹیٹ بینک اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ ان علما پر رحم آتا ہے جو اسی عالمی مالیاتی سسٹم کے ایک ذیلی شعبے بینکنگ سیکٹر کو ’اسلامی‘ بنانے کے لیے مُصِر ہیں۔ اس عالمی مالیاتی سسٹم کو _جو شریعت اور قرآن حکیم کے علی الرغم ہے _ شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کو سوائے دیوانگی کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کیا آپ نے انھیں’’أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ‘‘مان لیا؟
اسی طرح عالمی سیاسی ڈھانچہ، اس کا بنیادی آئین اور قانون جمہور کے مفادات کی حفاظت اور نگہبانی نہیں کرتا، وہ امن نہیں دیتا، تو اس کے ذیل میں کسی ملک کا نظامِ حکومت، کوئی انتظامی یا عدالتی ڈھانچہ انصاف کیسے فراہم کرسکتا ہے؟ وہ انسانیت کے مفاد کی قانون سازی کیسے کرے گا؟ جب اس کی بنیاد ہی اس عالم گیر قانون کے مطابق ہے کہ جس میں سرمایہ پرست اور جاگیردار ہی طاقت ور ہوگا، ایک کروڑ پتی ہی ممبر اسمبلی ہو گا۔ کیا ایسی مقننہ کو تحفظ دینے والی ’’کتاب‘‘ جو اِن اَحبار و رُہبان نے بنائی ہے ، شریعت کے علی الرغم نہیں؟ آج اسی کتاب کو سارے مانتے ہیں، بلکہ ’اسلامی‘ کہتے ہیں۔ علما کہتے ہیں کہ یہ ’اسلامی آئین‘ ہے (هَٰذَا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ)۔ اب جب بنیادی ڈھانچہ ہی سیاسیات کا حرام پر استوار ہے، اللہ نے جس کو حرام قرار دیا تھا اور اس کو حلال بنا دیا گیا۔ تو کیا یہ ارباب من دون اللہ نہیں؟‘‘
پاکستان میں گروہی مفادات کے لیے قانون میں ردّ و بدل
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ ہم لوگوں نے آئین لکھا ہے، ہندوستان کا آئین فلاں آئینی کمیٹی نے بنایا ہے، بنگلا دیش کا آئین فلاں مقدس پارلیمنٹ نے بنایا ہے، پاکستان کا آئین فلاں مقدس لوگوں نے بنایا ہے۔ سعودی عرب، ایران، فرانس، امریکا، برطانیہ، روس اور چین کا آئین و قانون ان کی پارلیمنٹ نے بنایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کی پارلیمنٹ عوامی مفاد کے لیے قانون سازی کرنے کی جرأت رکھتی ہے؟ اس سسٹم کی بنائی ہوئی عدالت کیا واقعی حقیقی انصاف فراہم کر سکتی ہے؟ کیا اس آئین اور قانون اور ضابطے کے مطابق انتظامی ڈھانچہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ نہیں! بلکہ قانون کا مرکز و محور صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ اور اُس کے نبی ﷺ ہیں۔
پھر عجیب تماشا ہے کہ آئین اور قانون خود بناتے ہیں، لیکن اپنے مفادات پر زد پڑے تو خود ہی اس آئین کی تشریحات کے نام پر ایسی تبدیلی کر لی جاتی ہے کہ جس سے دوسرا مفاد حاصل ہو جائے۔ آپ ذرا اپنی پارلیمنٹ کے جتنے بھی ضابطے، ترمیمات اور جتنی بھی اس کے اندر بحثیں اور قانون سازی ہوئی ہے، اس کا جائزہ لے لیں کہ جب ایک دور میں مفاد بدلا تو پہلے والا قانون پہلی والی ترمیم خود ہی بدل دی، دوسری قسم کی ترمیم آ گئی۔ یہی کام تو یہودیوں کے علما اور احبار و رُھبان کرتے تھے۔ قانون موم کی ناک بن گیا تھا، جب جی چاہے جو مرضی سے مفاد اُٹھانا ہو، اُسے بدل لو۔
کسی بھی سوسائٹی میں ایسا معاملہ ہو تو یہ زوال پذیر سوسائٹی ہے۔ اور یہ پیشین گوئی خود نبی اکرم ﷺ نے کی۔ خاص طور پر مسلمانوں سے کہا کہ دیکھو کہ تم اپنے سے پہلی قوموں کے زوال کی حالت سے گزرو گے اور ویسی ہی عادتیں اپناؤ گے کہ تم ضرور بالضرور اتباع کرو گے اپنے سے پہلی قوموں کی۔ انھیں تو حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنی ہے۔ قانون سازی کا مرکز صرف ایک اللہ کو ماننا ہے، جب کہ اللہ کے مقابلے میں انھوں نے بہت سارے رب بنا لیے۔ ماشاء اللہ! ہمارے ملک کے تو بہت سارے رب ہیں؛ انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور پتہ نہیں کون کون سے مذہبی ربّ بھی ہیں، اَحبار و رُہبان بھی ہیں۔ پھر ہمارے ملک کا ایک ’’ربُّ الارباب‘‘ ملک بھی ہے۔ آپ دیکھئے کہ جو نقشہ اللہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں کھینچا ہے۔ جو قرآن حقائق کی نشان دہی کرتا ہے کیا وہ تمام باتیں ہمارے گرد و پیش میں نہیں ہیں؟!۔
جب تک ہم اس زوال کو نہیں سمجھیں گے اس خرابی کو نہیں سمجھیں گے، اس حلال کو حرام بنانے والے نظام اور حرام کو حلال بنانے والے نظام کو نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک دین کا شعور نہیں پیدا ہو سکتا۔ پہلے شعور اور نظریہ ہونا ضروری ہے۔ اس لیے آج قرآن حکیم اور کتب مقدسہ کی تعلیمات کو درست تناظر میں شعوری بنیادوں پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس کی اساس پر صحیح لائحہ عمل اختیار کرنے اور اجتماعیت پیدا کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ منظم طاقت اور قوت پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے‘‘۔
اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اذکار (5)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
(6۔ خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے گڑگڑانا )
’’(اَخلاق کی درستگی کے دس اذکار میں سے چھٹا) خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے گڑگڑانا ہے۔ مثلاً نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں یہ دُعا مانگتے تھے:
’’سَجَدَ وَجْھِیْ لِلّذِیْ شَقَّ سَمْعَہٗ و بَصَرَہٗ بِحَوْلِہٖ و قُوَّتِہٖ‘‘۔
(میرا چہرہ اُس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے، جس نے اپنی طاقت اور قوت سے اس میں کان اور آنکھیں بنائیں ۔) (رواہ التّرمذی، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 1035)
جاننا چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں جو دعائیں سکھائیں، ان کی دو قسمیں ہیں:
(1) ان میں سے ایک وہ دعائیں ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ ہماری فکری قوتیں:
(الف) اللہ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے پوری طرح بھر جائیں،
(ب) یا اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع کی حالت پیدا ہوجائے۔
اس لیے کہ انسان جب اس کیفیت سے مناسبت رکھنے والی حالت کو زبان سے بیان کرتا ہے تو ان الفاظ کا انسانی نفس پر بہت خوب اثر ہوتا ہے۔ اس صور ت میں انسانی روح اُس کی طرف بہت زیادہ متوجہ ہوتی ہے۔
(2) دوسری وہ دعائیں ہیں کہ جن میں دنیا اور آخرت میں خیر طلب کرنے کی ترغیب ہے اور دونوں جہانوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اس لیے کہ انسانی نفس کی ہمت اور اس کا پختہ عزم جب کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے تو اس طرح بندہ اللہ کی سخاوت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ کسی دلیل کے مقدمات تیار کرنے سے اُس کا لازمی نتیجہ ضرور ظاہر ہوجاتا ہے۔
پھر یہ بھی ہے کہ جب انسان کے دل پر کوئی تکلیف اور حاجت آن پڑتی ہے تو وہ :
(الف) اُسے اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑانے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
(ب) اور اُس کی آنکھوں کے سامنے اللہ کی بزرگی اور جلال کو حاضر بنا دیتی ہے۔
(ج) اور اس کی ہمت کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف پھیر دیتی ہے۔
ایسی کیفیت اور حالت کا ہونا صفت ِاحسان رکھنے والوں کے لیے بڑی غنیمت ہے۔
(دعاؤں سے متعلق احادیث ِنبویہ ﷺ کی تشریح)
(1) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الدُّعائُ ہو العبادۃ‘‘ ۔
(دعا مانگنا ہی اصل عبادت ہے)۔(رواہ سنن اربعہ، مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2230)
(تشریح:) میں کہتا ہوں کہ: یہ اس لیے کہ عبادت کی اصل بنیاد انسان کا اللہ تعالیٰ کے حضور میں پوری عظمت اور تعظیم کے ساتھ مستغرق ہوجانا ہے۔ اور دعا کی دونوں قسمیں مکمل طور پر ایسی دعا میں موجود ہوتی ہیں۔
(2) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ سے اُس کا فضل تلاش کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ سوال کرنے کو پسند کرتا ہے۔ مصیبت کے دور ہونے کا صبر کے ساتھ انتظار کرنا سب سے بہترین عبادت ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2237)
(تشریح:) میں کہتا ہوں کہ: یہ اس لیے ہے کہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے میں انسان کی زور دار ہمت‘ عبادت کی تاثیر سے بھی زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
(3) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ سے دعا مانگنے والا کوئی بندہ ایسا نہیں، مگر یہ کہ یا تو اللہ تعالیٰ اُسے مانگی گئی چیز عطا کردیتا ہے، یا اُس کی دعا کی وجہ سے اُس جیسی کوئی تکلیف اُس سے دور کردیتا ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 2236)
(تشریح:) میں کہتا ہوں کہ: عالم مثال سے زمین کی طرف کسی چیز کے ظاہر ہونے کے دو طریقے ہیں:
(الف) ایک طبیعی طریقہ ہے۔ چناںچہ اگر خارج اور باہر سے کوئی رُکاوٹ نہ ہو تو جاری شدہ طریقۂ کار کے مطابق اُس شئے کا زمین پر ظہور ہوجاتا ہے۔
(ب) دوسرا غیر طبیعی طریقۂ کار ہے۔ یہ تب ہوتا ہے، جب زمینی اسباب میں مزاحمت پائی جاتی ہو۔
غیر طبیعی طریقۂ کار کے مطابق اللہ کی رحمت کسی مصیبت کو دور کرنے میں، یا کسی وحشت کو دور کرنے اور دل میں خوشی کے الہام کی صورت میں، یا پیش آنے والا حادثہ اُس کے بدن کے بجائے مال کے نقصان کی صورت میں ،یا اسی طرح کی کسی اَور صورت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
(4) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی آدمی دعا مانگے تو یہ مت کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے، اور اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کرے، اور اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا کردے۔ اُسے چاہیے کہ وہ بغیر کسی تردُّد کے پختہ عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے۔ اس لیے کہ وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ اس کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ (رواہ البخاری، مشکوۃ المصابیح، حدیث: 2225)
(تشریح:) میں کہتا ہوں کہ: دعا کی اصل روح اور اُس کا راز یہ ہے کہ انسانی نفس کا کسی شئے میں پوری طرح اپنی رغبت ظاہر کرنا۔ اسی کے ساتھ انسانی نفس کا ملائکہ سے مشابہت اختیار کرنا اورعالم جبروت کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ شک کے ساتھ اللہ سے سوال کرنا انسان کے عزم کو منتشر کردیتا ہے۔ اور اُس کی ہمت کو توڑ دیتا ہے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کائنات کی کلی مصلحت کے مطابق ہی چیز ملتی ہے، تو وہ بھی اللہ کے مقرر کردہ اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ اُس کی رعایت کو کبھی نظرانداز نہیں کرتا۔ اسی کو رسول اللہ ﷺ نے یہ کہہ کر بیان فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ اس کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے‘‘۔
(باب الاذکارِ و ما یتعلّق بھا)
شمارہ ختم
واپس
