حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے مجاز

حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے مجاز حضرت حاجی صوفی محمدسرور جمیلؒ مؤرخہ: ۲۵؍ محرم الحرام ۱۴۴۴ھ / 24؍ اگست 2022ء بروز بدھ بوقت 2 بجے دوپہر لاہور میں انتقال کرگئے۔ إنّا لِلّٰہ و إنّا الیہ راجعون۔

آپؒ کی پیدائش ۱۳۶۴ھ/ 1945ء میں بٹالہ ضلع گورداس پور، پنجاب (ہندوستان) میں ہوئی۔ آپؒ کے والد ماجد کا نام ماسٹر محمد دین تھا، جو کہ انگریزی کے استاد تھے اور پاکستان بننے سے پہلے شعبۂ تعلیم سے منسلک تھے۔ تقسیم کے بعد اہلِ خانہ سمیت بٹالہ سے پاکستان تشریف لے آئے اور یہاں پہلے منڈی بہائو الدین اور بعد میں لائل پور (فیصل آباد) میں پڑھاتے رہے اور مستقل قیام پیپلز کالونی فیصل آباد میں رہا۔ انھوں نے اپنے تمام بیٹے بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کا انتقال ۱۴۰۱ھ/ 1981ء میں ہوا۔

صوفی صاحبؒ کا بچپن میں ٹائیفائیڈ کے بگڑنے سے دائیاں حصہ مفلوج ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے محنت سے تعلیم حاصل کی۔ چناں چہ میٹرک اور آئی کام کی تعلیم لائل پو (فیصل آباد) سے اپنے والد کی نگرانی میں مکمل کی۔ اور پھر انھوں نے ہیلے کالج لاہور سے بی آنرز کام کیا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ لاہور میں ملازمت کی۔ اور پھر سوشل سیکیورٹی پنجاب میں اسسٹنٹ اکائونٹس آفیسر کے طور پر سرگودھا میں کام کیا۔ ۱۴۲۵ھ/ 2005ء میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے لاہور سے ریٹائر ہوئے۔

حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری قدس سرہٗ کا ایک جنازہ فیصل آباد میں ہوا تھا۔ انھوں نے اس میں شرکت کی تھی۔ حضرتؒ کے حالات سن کر آپؒ سے بہت محبت رکھتے تھے۔ حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ کے وصال 1962ء کے بعد ان کے جانشین حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کی خدمت میں پہلی مرتبہ ۱۳۹۲ھ/ 1973ء میں فیصل آباد میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا تبادلہ سرگودھا ہوا تو اس دوران روزانہ شام کو حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کی مجلس میں حاضری دیتے اور ذکر اذکار میں مشغول رہتے تھے۔ آپؒ کا قیام اکثر حضرتؒ کے کمرے میں ہوتا تھا۔ معذوری کے باوجود خانقاہ کے معمولات پوری پابندی سے کرتے تھے۔

حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کے وصال 1992ء کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ سے تجدید ِبیعت کی اور مختلف جگہوں پر ملازمت کے دوران بھی اپنے معمولات کی پابندی جاری رکھی۔ رمضان المبارک کے قیام میں ہر جگہ حاضری دیتے رہے اور حضرتؒ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے، یہاں تک کہ رمضان المبارک ۱۴۱۷ھ/ 1997ء میں حضرتؒ نے آپؒ کو سلسلے کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کی صحبت کے لیے ادارہ رحیمیہ لاہور میں تادمِ مرگ قیام پذیر ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے اور مشائخ رائے پور کی معیت نصیب فرمائے۔ (آمین!)

ٹیگز
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین

ہماری والدۂ مرحومہ  رحمہا اللّٰہ تعالٰی

ہماری والدۂ محترمہ نعیمہ خاتون مؤرخہ ۲۴؍ شوال المکرم ۱۴۴۲ھ / 5؍ جون 2021ء بروز ہفتہ کو مختصر علالت کے بعد اپنے ربّ سے جا ملیں۔ إنّا لِلّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔ آپؒ کے والد ِگر…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اگست 13, 2021

حضرت مولانا مفتی عبدالسلام چاٹگامیؒ کا سانحۂ ارتحال

خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے تیسرے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری قدس سرہٗ کے متوسلِ خاص، خانقاہِ دین پور بہاولنگر کے تیسرے مسند نشین حضرت مولانا محم…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری نومبر 20, 2021

حضرت مولانا محمداختر قاسمیؒ کا سانحۂ ارتحال

حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے چوتھے مسند نشین حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز اور جامعہ ا…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری فروری 11, 2022