اَحبار و رُہبان کی دین فروشی اور فاسد کردار

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
ستمبر 12, 2022 - خطباتِ جمعتہ المبارک
اَحبار و رُہبان کی دین فروشی اور فاسد کردار

12؍ اگست 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:

’’معزز دوستو! جب قوموں پر زوال آتا ہے تو اس میں دو طرح کے طبقے پیدا ہو جاتے ہیں: (1) ایک ’’اُمِّیّین‘‘ یعنی ان پڑھ، جو صرف خواہشات پالتے ہیں تمنائیں اور آرزوئیں رکھتے ہیں، گمانات اور خیالات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان سے مراد وہ جاہل اور بے وقوف لوگ ہیں جو خواہش تو رکھتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، لیکن اس کے لیے کوئی عملی کردار ادا نہیں کرتے۔ (2) دوسرا وہ پڑھا لکھا مفاد پرست طبقہ ہوتا ہے، جو اپنے علم و عقل کا غلط استعمال کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے کوئی قانون یا کوئی تحریر بناتا ہے اور اسے اللہ کا حکم قرار دے کر مالی مفادات اور حکومتی عہدے بٹورتا ہے۔

پہلے طبقے سے متعلق اللہ تبارک و تعالی نے عیسائیوں اور یہودیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کی خرابیوں میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنے اَحبارو رُھبان (اہل علم و دانش) کو اپنا رب بنا لیتے ہیں۔ اور دوسرے طبقے (احبار و رُہبان) کے متعلق فرمایا کہ وہ خود ساختہ رہنمائی کے منصب پر فائز ہو کر حرام و حلال کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔

مشہور زمانہ سخی حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدی ابن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ قبل از اسلام عیسائیت سے تعلق رکھتے تھے۔ جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے تو اُن کے گلے میں سونے کی بنی ہوئی صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے پہلے آپؓ کو اسلام کی دعوت دی اور آپؓ کے بہت سارے سوالوں کے جوابات دیے۔ جب حضرت عدیؓ مسلمان ہوگئے تو آپؐ نے انھیں فرمایا کہ یہ جو گلے میں تم نے بت لٹکا رکھا ہے اس کو اتار کر پھینک دو۔ اس موقع پر آپؐ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی کہ: ’’عیسائیوں نے اپنے اَحبار اور راہبوں کو اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے‘‘۔ (9- التوبہ: 34) تو عدیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! میں تو پوری عیسائیت میں گھوم پھر آیا ہوں تو وہاں جو بڑے بڑے علما اور راہبین ہیں، لوگ ان کو سجدہ تو نہیں کرتے نہ عبادت کرتے ہیں، نہ وہ ان کو ربّ مانتے ہیں ۔ کیوں کہ ربّ تو وہ ہوتا ہے جسے پوجا جائے۔ تو قرآن حکیم کی آیت:ﵟ‌أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِﵞ سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب ہونے کا جو تونے مطلب سمجھا ہے یہ نہیں ہے، بلکہ رب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ احبار و رُھبان جس چیز کو حلال قرار دے دیں تو کیا تم عیسائی لوگ اس کو حلال نہیں سمجھتے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! پھر فرمایا کہ: اور جس چیز کو یہ احبار ورھبان حرام قرار دے دیں تو کیا تم اس سے رک نہیں جاتے؟ انھوں نے کہا کہ ہاں! ایسا تو ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’یہی اُن کی عبادت کرنا (اور انھیں ربّ بنانا) ہے‘‘۔

دنیا پر سفید فام نسل پرست طاقتوں کے لیگل سسٹم کا تسلط

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’پچھلے دو ڈھائی سو سال سے ’’کتب مقدسہ‘‘ اور ’’نوامیسِ کلیہ‘‘ یعنی انسانوں کے مجموعی عمومی تقاضوں کو پورا کرنے والے قوانین اور احکامات کو نظر انداز کر کے کچھ ’’احبار و رُہبان‘‘ نے ایک نیا سسٹم دنیا میں متعارف کرایا ہے، جس کی بنیاد ’’زر‘‘ اور ’’سرمایہ‘‘ ہے۔ اسے قانونی نظام اور لیگل سسٹم کے تشخصات دیے گئے ہیں اور اسے مقدس بنا دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سرمائے کے مفادات کے متعلق قوانین و ضوابط کو حلال قرار دے دیا گیا اور جو انسانیت کے فائدے کا ’’ناموسِ کلی‘‘ تھا اسے حرام قرار دے دیا۔ چناں چہ اس قانون کے شکنجے میں عوام کو کسا جاتا ہے، جو در اصل اقوام کو غلام بنانے، ظلم و ستم کو فروغ دینے، معاشروں پر گرفت حاصل کرنے، ان کی منڈیوں پر قبضہ کرنے، ان پر ظلم و ستم ڈھانے کا ایک نیا طریقۂ کار وضع ہوا ہے۔ اس میں وہ ’’نوامیسِ کلیہ‘‘ بھی نظر انداز ہوگئے جو کل انسانیت کے مشترکات تھے اور شرائع الٰہیہ بھی نظر انداز ہو گئیں، خواہ وہ عیسائیت تھی یا یہودیت، تورات تھی یا انجیل، قرآن حکیم تھا یا دیگر مقدس کتابیں۔

خاص طور پر خلافت عثمانیہ کے خاتمے 1920-22ء کے بعد دنیا میں جو ریاستیں وجود میں آئیں، وہ ایک ایسے قانونی نظام کے تحت ہیں کہ جس میں ہر سوسائٹی میں سرمایہ پرستی کی بنیاد پر ایک خود ساختہ آئین ،دستور، ایک لیگل سسٹم ، ایک قانونی نظام وضع کر لیا گیا ہے۔ اور یہ وضع کرنے والے لوگ وہ ہیں جنھوں نے جنگ عظیم اوّل میں دنیائے انسانیت فتح کرکے اس پر قبضہ کیا تھا؛ برطانیہ اور فرانس۔ انھوں نے عام انسانوں کے عوامی حقوق پامال کیے، انسانیت کو جنگ میں دھکیل کر کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا۔ جنگِ عظیم دوم بھی انھیں انسانیت کو لوٹنے والے لوگوں کے درمیان ہوئی اور اس کے لیے طریقہ کار کیا وضع کیا کہ:  ’’يَكۡتُبُونَ ٱلۡكِتَٰبَ بِأَيۡدِيهِمۡ‘‘  (-2البقرہ: 79) انھوں نے اپنے ہاتھوں سے خود ساختہ قانون بنایا کہ یہ کام حلال ہے اور یہ حرام ہے۔

آپ دیکھئے کہ ’’انجیل‘‘ پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانے والا امریکی صدر بھی، برطانوی اور فرانسیسی وزیر اعظم اور حکمران بھی اور ’’قرآن حکیم‘‘ پر حلف اٹھانے والے مسلمان ملکوں کے حکمران بھی ان کتابوں کے نام پر صرف ’حلف‘ اٹھاتے ہیں، ان کتابوں میں درج قوانین اور ضابطوں کے پابند نہیں بنتے۔ چاروں کتابوں؛ تورات، انجیل، زبور اور قرآن حکیم میں سود حرام کیا گیا ہے ، لیکن اس کے علی الرغم سود کو حلال قرار دینے کا عالمی نظام وضع کر دیا گیا۔ قرضوں کی معیشت کو ممالک پر مسلط کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کیے گئے چارٹر اور اس کے آئین و دستور (کتاب) کو پوری دنیا پر نافذ کردیا گیا، جس نے اللہ کے حلال کیے ہوئے کو حرام بنا دیا اور اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حلال قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان:  ’’يَكۡتُبُونَ ٱلۡكِتَٰبَ بِأَيۡدِيهِمۡ‘‘  اور ’’‌أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ‘‘  کا یہی تو مفہوم ہے۔ یہی تو اللہ کے علاوہ کو ربّ بنانا ہے‘‘۔

موجودہ دور میں ارباباً من دون اللہ کے کردار کی حامل قوتیں

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آج کوئی یہودی ہو، یا عیسائی، ہندو ہو یا مسلمان اور سکھ ہو، کوئی روسی ہو یا چینی ہو، کل انسانیت کے ضمیر کی آواز ہے کہ اس کے جمہوری حقوق پورے کیے جائیں۔ اس کے لیے عدل کا نظام بنایا جائے۔ اس کے لیے امن کا نظام بنایا جائے۔ وہ معاشی خوش حالی کے طور پر مطمئن زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن عالمی طاقتوں نے ان تمام حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام بنا دیا کہ معاشرے میں بدامنی، خوف، ’’ڈیوائڈ اینڈ رول‘‘ کی سیاست اور معاشی بدحالی رہے، تاکہ ان کی منڈیوں پر ہمارا ظالمانہ قبضہ برقرار رہے۔ گویا انسانیت کے لیے جتنی حلال چیزیں تھیں، انھیں حرام کردیا۔ ذرا تمام الٰہی کتابیں اور ان تمام کا جامع خلاصہ کتاب مقدس قرآن حکیم اٹھا کر دیکھو کہ اللہ نے عدل، امن، انصاف اور معاشی خوش حالی کو حلال اور لازمی قرار دیا ہے اور ظلم، نا انصافی، جھوٹ، بد امنی وغیرہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر آج کے سامراجی نظاموں کا مطالعہ کرو جو پچھلے تین سو سال سے برعظیم پاک و ہند پر اور سو سال سے دنیا پر مسلط ہے، اس نے تمام کتبِ مقدسہ، شرائع الٰہیہ اور نوامیس کلیہ میں جو چیزیں حلال تھیں‘ وہ حرام بنا دیں۔

دور جانے کی بات کیا ہے! دُنیا بھر کے ملکوں کے آئین اور دستور کھنگالنا تو بعد کی بات ہے، آپ اپنے ملک کے آئین اور قانون کا ہی جائزہ لے لیں۔ آپ کا سٹیٹ بینک اور آپ کا مالیاتی ڈھانچہ ان اصولِ کلیہ پر استوار ہے، جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بنائے ہیں، جنھیں ظالمانہ اقوام نے دنیا پر مسلط کیا ہے۔ اس میں حلال چیزیں حرام اور حرام چیزیں حلال بنا دی ہیں۔ آپ کا سٹیٹ بینک اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ ان علما پر رحم آتا ہے جو اسی عالمی مالیاتی سسٹم کے ایک ذیلی شعبے بینکنگ سیکٹر کو ’اسلامی‘ بنانے کے لیے مُصِر ہیں۔ اس عالمی مالیاتی سسٹم کو _جو شریعت اور قرآن حکیم کے علی الرغم ہے _ شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کو سوائے دیوانگی کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کیا آپ نے انھیں’’أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ‘‘مان لیا؟

اسی طرح عالمی سیاسی ڈھانچہ، اس کا بنیادی آئین اور قانون جمہور کے مفادات کی حفاظت اور نگہبانی نہیں کرتا، وہ امن نہیں دیتا، تو اس کے ذیل میں کسی ملک کا نظامِ حکومت، کوئی انتظامی یا عدالتی ڈھانچہ انصاف کیسے فراہم کرسکتا ہے؟ وہ انسانیت کے مفاد کی قانون سازی کیسے کرے گا؟ جب اس کی بنیاد ہی اس عالم گیر قانون کے مطابق ہے کہ جس میں سرمایہ پرست اور جاگیردار ہی طاقت ور ہوگا، ایک کروڑ پتی ہی ممبر اسمبلی ہو گا۔ کیا ایسی مقننہ کو تحفظ دینے والی ’’کتاب‘‘ جو اِن اَحبار و رُہبان نے بنائی ہے ، شریعت کے علی الرغم نہیں؟ آج اسی کتاب کو سارے مانتے ہیں، بلکہ ’اسلامی‘ کہتے ہیں۔ علما کہتے ہیں کہ یہ ’اسلامی آئین‘ ہے (هَٰذَا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ)۔ اب جب بنیادی ڈھانچہ ہی سیاسیات کا حرام پر استوار ہے، اللہ نے جس کو حرام قرار دیا تھا اور اس کو حلال بنا دیا گیا۔ تو کیا یہ ارباب من دون اللہ نہیں؟‘‘

پاکستان میں گروہی مفادات کے لیے قانون میں ردّ و بدل

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آج بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ ہم لوگوں نے آئین لکھا ہے، ہندوستان کا آئین فلاں آئینی کمیٹی نے بنایا ہے، بنگلا دیش کا آئین فلاں مقدس پارلیمنٹ نے بنایا ہے، پاکستان کا آئین فلاں مقدس لوگوں نے بنایا ہے۔ سعودی عرب، ایران، فرانس، امریکا، برطانیہ، روس اور چین کا آئین و قانون ان کی پارلیمنٹ نے بنایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کی پارلیمنٹ عوامی مفاد کے لیے قانون سازی کرنے کی جرأت رکھتی ہے؟ اس سسٹم کی بنائی ہوئی عدالت کیا واقعی حقیقی انصاف فراہم کر سکتی ہے؟ کیا اس آئین اور قانون اور ضابطے کے مطابق انتظامی ڈھانچہ صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ نہیں! بلکہ قانون کا مرکز و محور صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ اور اُس کے نبی ﷺ ہیں۔

پھر عجیب تماشا ہے کہ آئین اور قانون خود بناتے ہیں، لیکن اپنے مفادات پر زد پڑے تو خود ہی اس آئین کی تشریحات کے نام پر ایسی تبدیلی کر لی جاتی ہے کہ جس سے دوسرا مفاد حاصل ہو جائے۔ آپ ذرا اپنی پارلیمنٹ کے جتنے بھی ضابطے، ترمیمات اور جتنی بھی اس کے اندر بحثیں اور قانون سازی ہوئی ہے، اس کا جائزہ لے لیں کہ جب ایک دور میں مفاد بدلا تو پہلے والا قانون پہلی والی ترمیم خود ہی بدل دی، دوسری قسم کی ترمیم آ گئی۔ یہی کام تو یہودیوں کے علما اور احبار و رُھبان کرتے تھے۔ قانون موم کی ناک بن گیا تھا، جب جی چاہے جو مرضی سے مفاد اُٹھانا ہو، اُسے بدل لو۔

کسی بھی سوسائٹی میں ایسا معاملہ ہو تو یہ زوال پذیر سوسائٹی ہے۔ اور یہ پیشین گوئی خود نبی اکرم ﷺ نے کی۔ خاص طور پر مسلمانوں سے کہا کہ دیکھو کہ تم اپنے سے پہلی قوموں کے زوال کی حالت سے گزرو گے اور ویسی ہی عادتیں اپناؤ گے کہ تم ضرور بالضرور اتباع کرو گے اپنے سے پہلی قوموں کی۔ انھیں تو حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنی ہے۔ قانون سازی کا مرکز صرف ایک اللہ کو ماننا ہے، جب کہ اللہ کے مقابلے میں انھوں نے بہت سارے رب بنا لیے۔ ماشاء اللہ! ہمارے ملک کے تو بہت سارے رب ہیں؛ انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور پتہ نہیں کون کون سے مذہبی ربّ بھی ہیں، اَحبار و رُہبان بھی ہیں۔ پھر ہمارے ملک کا ایک ’’ربُّ الارباب‘‘ ملک بھی ہے۔ آپ دیکھئے کہ جو نقشہ اللہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں کھینچا ہے۔ جو قرآن حقائق کی نشان دہی کرتا ہے کیا وہ تمام باتیں ہمارے گرد و پیش میں نہیں ہیں؟!۔

جب تک ہم اس زوال کو نہیں سمجھیں گے اس خرابی کو نہیں سمجھیں گے، اس حلال کو حرام بنانے والے نظام اور حرام کو حلال بنانے والے نظام کو نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک دین کا شعور نہیں پیدا ہو سکتا۔ پہلے شعور اور نظریہ ہونا ضروری ہے۔ اس لیے آج قرآن حکیم اور کتب مقدسہ کی تعلیمات کو درست تناظر میں شعوری بنیادوں پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس کی اساس پر صحیح لائحہ عمل اختیار کرنے اور اجتماعیت پیدا کرنے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ منظم طاقت اور قوت پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے‘‘۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ قادریہ عزیزیہ رائے پور

ناظمِ اعلیٰ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ

متعلقہ مضامین

انبیا علیہم السلام کے مشن کے دو کام

۲۶؍ رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ / 22؍ جون 2017ء کی شب حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں ’’تکمیل قرآن حکیم‘‘ کے سلسل…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مئی 18, 2021

احکام ومسائل قربانی و عیدالاضحی

1۔ ہر ایسے مسلمان عاقل، بالغ مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، جو عیدالاضحی کے دن مقیم ہو اور صاحب ِنصاب‘ یعنی شریعت کی مقرر کردہ مال کی مقدار کا مالک ہو۔ …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021

عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت

۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری جولائی 07, 2021

دینِ اسلام ایک نظام ہے

12؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری اپریل 27, 2021