آئین و قانون شکنی؛ یہودیوں کی عادت

سورت البقرہ کی گزشتہ آیات (87 تا 90) میں بنی اسرائیل کی اس خرابی کا تذکرہ تھا کہ وہ اپنی خواہشات کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی جامع دینی تعلیمات کا بڑے تکبر سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اور دین میں تفریق اور تقسیم پیدا کرکے اپنی خواہشات کے پیروکار بنے ہوئے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ جامع احکاماتِ دین سے بغاوت کے سبب اُس کے غضب در غضب میں مبتلا ہوئے ہیں اور اس قانون شکنی کے سبب سیاسی اور معاشی ذلت کے عذاب کے مستحق قرار پائے ہیں۔
اب آیات 91-92 میں یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ یہودیوں کی طرف سے تورات و انجیل کی تعلیمات پر ایمان کا دعویٰ بھی قطعاً جھوٹا ہے۔ اگر یہ واقعی اُن کتبِ مقدسہ پر ایمان رکھتے تو اوّل اُن کی تصدیق شدہ کتاب قرآن حکیم پر ایمان لاتے، اور دوسرے یہ کہ انھوں نے تورات پر ایمان کے دعوے کے باوجود نہ صرف انبیائے بنی اسرائیل کو قتل کیا، بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے ہوئے عہد و میثاق کی بھی خلاف ورزی کی۔ اس طرح اُن کا تورات پر ایمان کا دعویٰ بھی سراسر جھوٹ ہے۔
وَإِذا قيلَ لَهُم آمِنوا بِما أَنزَلَ اللَّهُ قالوا نُؤمِنُ بِما أُنزِلَ عَلَينا وَيَكفُرونَ بِما وَراءَهُ وَهُوَ الحَقُّ مُصَدِّقًا لِما مَعَهُم ۗ (اور جب کہا جاتا ہے اُن سے: مانو اُس کو جو اللہ نے بھیجا ہے، تو کہتے ہیں: ہم مانتے ہیں جو اُترا ہے ہم پر، اور نہیں مانتے اُس کو جو سوا اُس کے ہے، حال آں کہ وہ کتاب سچی ہے، تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو اُن کے پاس ہے): بنی اسرائیل سے جب قرآن حکیم پر ایمان لانے کا کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم پر جو کتاب (تورات) نازل کی گئی تھی، ہم تو اس پر ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب کے علاوہ کسی اَور کتاب کو نہیں مانیں گے۔ حال آں کہ قرآن حکیم ایسی حق کتاب ہے، جو تورات کی تصدیق کرتی ہے۔ اس طرح یہود تورات پر دعوائے ایمان کا اظہار کرکے قرآنی تعلیمات سے جان چھڑاتے ہیں۔ اس پر ان کے تورات پر دعوائے ایمان کے حوالے سے یہ اہم سوال اُٹھایا گیا کہ:
قُل فَلِمَ تَقتُلونَ أَنبِياءَ اللَّهِ مِن قَبلُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ (کہہ دو: پھر کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے پیغمبروں کو پہلے سے؟ اگر تم ایمان رکھتے تھے) : یعنی اگر تم واقعی تورات پر ایمان لانے والے تھے تو تورات کی تعلیمات کو پھیلانے والے انبیا علیہم السلام مثلاً حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام وغیرہ کو کیوں قتل کرتے رہے؟ انبیا علیہم السلام کو قتل کرنا دعوائے ایمان کے قطعی منافی ہے۔
قرآن حکیم نے اُن پر مزید حجت قائم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہ صرف انبیاؑ کو قتل کیا، بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی تورات کی تعلیمات اور عہد و میثاق میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا۔ اصل میں یہ وہ لوگ ہیں، جو موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر بھی بہت کمزور ایمان رکھتے تھے۔ ہوتے ہوتے اُن کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ سِرے سے ہی ایمان والے نہیں رہے۔ اس حوالے سے اگلی آیات میں ہے کہ:
وَلَقَد جاءَكُم موسىٰ بِالبَيِّناتِ ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظالِمونَ (اور آچکا تمھارے پاس موسیٰ صریح معجزے لے کر، پھر بنا لیا تم نے بچھڑا اُس کے گئے پیچھے اور تم ظالم ہو): یعنی وہ واقعہ یاد کرو کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واضح دلائل لے کر تمھارے پاس آئے تھے تو تم نے اپنے پر ظلم کرتے ہوئے اُن کے طور پہاڑ پر جانے کے بعد بچھڑا بنا لیا تھا، اس وقت تمھارا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا کہاں چلا گیا تھا؟
وَإِذ أَخَذنا ميثاقَكُم وَرَفَعنا فَوقَكُمُ الطّورَ خُذوا ما آتَيناكُم بِقُوَّةٍ وَاسمَعوا ۖ قالوا سَمِعنا وَعَصَينا وَأُشرِبوا في قُلوبِهِمُ العِجلَ بِكُفرِهِم
(اور جب ہم نے لیا قرار تمھارا اور بلند کیا تمھارے اوپر کوہِ طور کو، پکڑو جو ہم نے تم کو دیا زور سے اور سنو، بولے: سنا ہم نے اور نہ مانا، اور پلائی گئی ان کے دلوں میں محبت اسی بچھڑے کی‘ بہ سبب ان کے کفر کے): تورات پر ایمان کے منافی دوسرا واقعہ بیان کرتے ہوئے قرآن نے اُن پر حجت تمام کی کہ جب ہم نے تم سے تورات کی جامع تعلیمات پر عمل کرنے کا عہد و میثاق لیا تھا، تو تم نے اس کے ماننے کے باوجود اس عہد کی نافرمانی کی تھی۔ کفر کے سبب سے تمھارے دلوں میں بچھڑے کی محبت گھسی ہوئی تھی۔ اب بتلاؤ اس واقعے کا تورات پر ایمان سے کیا تعلق ہے؟
قُل بِئسَما يَأمُرُكُم بِهِ إيمانُكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ (کہہ دے کہ بُری باتیں سکھاتا ہے تم کو ایمان تمھارا ،اگر تم ایمان والے ہو): نبی اکرمؐ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم تورات پر ایمان کے دعوے دار ہو تو تمھارا یہ دعوائے ایمان بہت ہی بُرا ہے، اس لیے کہ تمھارا عمل اس کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ تم انبیا علیہم السلام کو قتل کرتے رہے ہو۔ بچھڑا بنا کر اُسے پوجتے رہے ہو اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خدا پرستی اور انسان دوستی کے معاہدا ت کرکے اُن کی صریحاً خلاف ورزی کرتے رہے ہو۔ اگر یہی تمھارا ایمان ہے تو یہ بہت ہی بُرا ایمان ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ تم اپنی خواہشات کی گرداب میں مبتلا ہو کر اللہ کی نازل کردہ تمام ہی کتابوں کے منکر ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی قوم کا اجتماعی اور سیاسی مزاج بگڑ جاتا ہے تو وہ قانون، آئین اور شریعت کی پابندی نہیں کرتی۔ بہ ظاہر اُس پر ایمان رکھنے اور اُسے تسلیم کرنے کے دعوے کرتی ہے، لیکن خواہشات کے اسیر اہلِ علم و دانش اور حکمران طبقے اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی وجہ سے نہ تو قانون کا احترام کرتے ہیں، اور نہ شریعت کی پابندی کرتے ہیں۔ عدل و انصاف اور حق بات کی طرف اُنھیں توجہ دلائی جائے تو اُسے اپنے مفادات کے خلاف جانتے ہوئے رد کردیتے ہیں۔ اور اپنے تسلیم شدہ قانون اور شریعت کی بھی کھلم کھلا من مانی تشریح، تحریف اور تاویل کرکے اُسے پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں۔ قانون شکن قومیں غضبِ الٰہی سے دوچار ہو کر دنیا میں سیاسی ذلت اور معاشی بدحالی میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔
ذی الحجہ کے پہلے دس دن کی فضیلت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ، قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللّٰہﷺ: ’’مَا مِنْ أیَّامٍ، الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِیْھِنَّ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ الْأَیَّامِ الْعَشْرِ‘‘۔ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ولَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ’’وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ و مَالِہٖ، فَلَمْ یَرْجِعْ مِنْ ذٰلِکَ بِشَیْئٍ‘‘۔ (السُّنَن للتّرمذی، حدیث: 757)
(حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضوراقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: جن دنوں میں نیک عمل کیے گئے ہوں، ان میں سے کوئی دن اللہ تعالیٰ کو اتنا پسندیدہ نہیں ہے، جتنے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن اللہ کو محبوب ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا جہاد فی سبیل اللہ والے دن بھی اتنے پسندیدہ نہیں ہیں؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جہاد فی سبیل اللہ والے دن بھی ان دِنوں کے برابر نہیں ہیں، ہاں! البتہ اگر کوئی جہاد کرنے والا اپنی جان اور اپنا مال لے کر اللہ کے راستے میں نکلا اور انھیں واپس لے کر نہ لوٹا (یعنی جان قربان کردی اور شہید ہوگیا اور دین کے غلبے کے لیے مال خرچ کردیا‘‘۔)
انسانی قلب کے تزکیے کے لیے بعض دِنوں کو دینِ اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان دِنوں میں کیے گئے اعمال عام دِنوں کی نسبت زیادہ اَجر و ثواب والے اور نتائج آور ہوتے ہیں۔ ان ایام میں سے ذی الحجہ کے پہلے دس دِنوں کی نبی اکرمﷺ نے فضیلت بیان کی ہے۔ ان ایام کی فضیلت کے کئی اسباب ہیں۔ یہ عشرہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے اعمال و افعال کی یادگار ہے، جنھوں نے تحریکِ حنیفیت کے عادلانہ اصول متعین کیے اور ان کے غلبے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایام شعائر اللہ کی تعظیم اور حج کے اعمال کی یادگار ہیں۔ حاجی مقاماتِ مقدسہ میں اپنے ظاہر و باطن سے دلی وارفتگی اور قربانی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس عشرے میں مسلمان قربانی کا جانور ذبح کرکے اس عزم کا اِظہار کرتے ہیں کہ غلبۂ دین کے لیے اگر ہمیں اپنی جانیں بھی دینی پڑیں تو ہم ہر طرح کی قربانی کے لیے حاضر ہیں۔ انھی ایام میں مسلمان پوری دنیا میں عیدالاضحی اور حجاجِ کرام عرفات اور مزدلفہ میں اجتماع کرتے ہیں، جس سے اسلام کی شان و شوکت اور طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
نبی اکرمﷺ نے ان دِنوں کے اعمال کو جہاد کے عمل سے بھی زیادہ فضیلت والا اس لیے قرار دیا کہ جہاد کا مقصد غلبۂ دین ہے، جو اِن دس دِنوں میں دین کے بانیوں کی اتباع میں کیے گئے اعمال سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے جہاد کے مقابلے پر ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی عبادت کو زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے۔ بنا بریں ان دس ایام میں پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ معمول کی عبادات اور دیگر اعمالِ صالحہ کرنے چاہئیں، تاکہ وہ مقاصد حاصل ہوں جو ان دس دِنوں سے اللہ تعالیٰ کو مؤمن کے لیے مطلوب ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ ہجرتِ مدینہ سے 16 سال قبل پیدا ہوئے۔ آپؓ کے دادا عمرو بن حرام انصاری اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ بیعتِ عقبہ ثانیہ کے وقت آپؓ اپنے والد حضرت عبداللہ انصاریؓ کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ اس موقع پر آپؓ کے والد بنوحرام کے نقیب مقرر ہوئے۔
آپؓ کے والدؓ غزوۂ اُحد میں شہید ہوئے اور اُن کا مثلہ کیا گیا۔ اس پر حضور اقدس ﷺ نے حضرت جابرؓ سے فرمایا: ’’جابر! تیرے والد سے اللہ تعالیٰ نے بالمشافہ کلام کیا، جب کہ باقیوں سے پردے کے پیچھے سے کلام کرتا ہے‘‘۔ آپؓ کا گھر مسجدِ نبویؐ سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ آپؐ تمام نمازیں مسجدِ نبویؐ میں ادا کرتے تھے۔ آپؓ اپنے والد کی غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد میں شرکت کی وجہ سے خود ان غزوات میں شریک نہ ہوسکے تھے، لیکن اس کے بعد 19 کے قریب تمام بڑے غزوات میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ آپؓ نے بڑی عمر کی بیوہ سے شادی کی، تاکہ آپؓ کی 9 چھوٹی بہنوں کی تربیت و اُمورِ خانہ داری قائم رہ سکیں۔
حضرت جابرؓ نے غزوۂ خندق کے موقع پر آپ ﷺ کی دعوت کی۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے اعلان کرا دیا کہ جابر کے ہاں تمام اہلِ خندق کی دعوت ہے۔ چناں چہ اس موقع پر آپؐ کی برکت سے چند افراد کاکھانا 1400 صحابہ کرامؓ نے کھایا۔ ایک موقع پر آپؐ نے 25 بار حضرت جابرؓ کے لیے استغفار کی دعا پڑھی۔ آپؐ کو اگر قرض کی ضرورت پڑتی تو آپؐ حضرت جابرؓ سے قرض بھی لے لیتے تھے۔
حضرت جابرؓ سے سینکڑوں احادیث مروی ہیں، جن میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی، یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں‘‘۔ (صحیح مسلم) حضرت جابرؓ نے حضرت عبداللہ بن انیسؓ سے حدیث مبارک سیکھنے کے لیے شام اور حضرت مسلمہ بن مخلدؓ سے سننے کے لیے مصر کا طویل سفرکیا۔ حضرت جابرؓ نے طویل عمر پائی اور علومِ نبوت کا شوق تعلیم و تعلّم اور عملی میدانوں میں مسلسل جدو جہد کی صحبتِ نبویؐ کی فیض یابی کے ساتھ اجلہ صحابہ کرامؓ سے کسبِ فیض کیا اور مسجدِ نبویؐ میں اپنے حلقۂ درس سے ہزاروں طالبینِ علوم کو سیراب کیا۔ آپؓ تفسیر، حدیث اور فقہِ دین میں کمال درجے کی مہارت رکھتے تھے۔ آپؓ نے خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی مختلف سماجی ذمہ داریوں پر فائز رہ کر بھر پور کردار ادا کیا۔ تابعینؒ کے ہر طبقے نے آپؓ سے کسبِ فیض کیا ہے۔
۷۴ ہجری کے آخر میں آپؓ نے مدینہ طیبہ میں 94 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپؓ کی نماز جنازہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہٗ کے صاحبزادے نے پڑھائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
ہیجانی جذبات کے بجائے شعوری جدوجہد کی ضرورت

یہ بات ان صفحات پر پورے تسلسل کے ساتھ کہی جاتی رہی ہے کہ ہمارے موجودہ سیاسی نظام _ سمیت ریاستی نظام کے _ تمام کَل پُرزے اس قابل نہیں رہے کہ یہ ہمارے مسائل حل کرسکیں، بلکہ ہمارے بیش تر مسائل کی پیدائش اور افزائش کی واحد وجہ یہی فرسودہ نوآبادیاتی نظام ہے (جس کو جدید نو آبادیاتی نظام بھی کہہ دیا جاتا ہے)۔ اس نظام کے کرتا دھرتا اداروں کے ساتھ ساتھ سرگرم سیاسی جماعتیں (جن کو جتھے کہنا زیادہ مناسب ہوگا) عوام میں اس نظام کے ناکارہ ہونے کا شعور دینے سے نہ صرف سوچی سمجھی پہلو تہی کر رہی ہیں، بلکہ اپنے مفادات کے لیے ایسی سرگرم ہیں کہ اب نظام کے اندر کی جنگ اس سطح پر آگئی ہے کہ اب نظام کی تبدیلی یا اصلاحِ اَحوال کے بجائے ملک ہی ان کے ہوسِ اقتدار، طاقت کے مظاہرے اور طلبِ زر کے نشانے پر ہے۔
9؍ مئی کے واقعات اسی کا شاخسانہ ہیں۔ اس دوران جس طرح انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور اَملاک کے جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کے واقعات کو بھڑکایا گیا اور مکمل سازگار ماحول میں کئی اہم سرکاری قومی اَملاک و علامات کو جس طرح نقصان پہنچایا گیا، وہ بہرصورت سخت تشویش ناک اور تمام حلقوں میں ان کے ناقابلِ قبول اور لائقِ مذمت ہونے میں دوسری رائے نہیں ہے۔ ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں کہ ملک کے سیاسی جتھوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت سے کوئی سروکار نہیں، چہ جائے کہ وہ اس کا کوئی معقول نظام بنائیں، بلکہ اس کے برعکس وہ تو انھیں جذبات کی ناؤ پر بٹھاکر حالات کے منجدھار کے سپرد کرتے ہوئے اس کے خوف ناک نتائج سے بھی لاپرواہ ہوجاتی ہیں۔
ایک غیر منظم گروہ زیادہ سے زیادہ ایک ہجوم ہوتا ہے، جس میں ہر قماش کے آدمی کا اپنا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے اور اس کی کوئی اَخلاقیات نہیں ہوتیں۔ ہجوم سے کوئی بھی سماج دشمن گروہ اپنا مفاد کشید کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے اور وہ ہجوم سے جلتی پر تیل کا کام لے کر رفو چکر ہو جاتا ہے اور ہجوم میں شامل استعمال ہونے والے افراد کو جب دھرلیا جاتا ہے تو وہ لاعلمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ آج کی جدید ٹیکنالوجی ہر شخص کے ہر عمل کا حساب رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کو اگر بلاتفریق بروئے کار لایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکتا ہے اور اگر اس سے فائدہ اُٹھانے والا نظام اپنے مفادات کے تحفظ کے نقطہ نظر سے اسے استعمال کرتا ہے تو مخصوص بلکہ منفی نتائج کا ہی حصول ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرگرم سیاسی شخصیات بلا استثنا اپنے پاس ہجوم اور جتھے رکھتی ہیں، جنھیں حسبِ موقع جلاؤ گھیراؤ اور پریشر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہی بات آج نوجوان نسل کو سمجھنا ہوگی کہ کیا اسے مہمل قیادتوں کے پیچھے چل کر اپنے آپ کو ان ہجوموں (Crowds) اور جتھوں کا حصہ بننے کی اجازت دینی چاہیے؟ یقینا ایسی اجازت نہیں دینی چاہیے! قوم کے نوجوانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور انھیں نظام کے اندر و باہر کے عناصر کا ایندھن بننے اور اپنی توانائیوں کی رائیگانی کا سامان اپنے ہاتھوں سے کرنے کے بجائے اپنے اندر کے جوہرِ قیادت کو پانے اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
آج کے نوجوان کو اپنے ملک کی سیاسی تاریخ کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس ملک کی تاریخ میں بارہا ایسے مواقع آئے، جب نظام کے محافظ سیاسی اور غیرسیاسی طاقت ور گروہوں نے معصوم نوجوانوں کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھایا۔ ایسے مواقع پر طاقت و سیاست کے پنڈتوں کی طرف سے یہی باور کروایا جاتا ہے کہ منزل قریب آچکی ہے، بس اب سب کچھ جھونک دیا جائے اور جان کی بازی لگادی جائے کہ آگے کامیابی ان کے استقبال کے لیے تیار کھڑی ہے، حال آں کہ وہ یہ سب کچھ اپنے اقتدار کے حریفوں کو دباؤ میں لانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔ اور اس حصولِ اقتدار کی وقتی جنگ میں وہ نوجوانوں کا جذباتی استحصال کرکے انھیں بہ طورِ ایندھن استعمال کررہے ہوتے ہیں۔
ہمارے ملک کا نظامِ طاقت و سیاست‘ شہریوں کی ایسی تربیت کی صلاحیت کا قاتل ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ سماجی جدوجہد کے لیے کسی ضابطے کی پابندی کا مظاہرہ کرسکیں اور اجتماعی مقاصد کی حکمت سے بہرہ مند ہوکر انسانی احساسات اور قومی غیرت کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمت کے جذبے سے معمور ہوں۔ ہمارے ہاں کی سیاسی قوتیں خواہ ایوانوں اور اداروں میں ہوں یا سڑکوں پر‘ یا تو سِرے سے قوم کو درپیش حقیقی مسائل کے شعور سے محروم ہونے کی وجہ سے اس پر بات ہی نہیں کرتیں، یا پھر اپنے سفلی ایجنڈے کے لیے قومی ایشوز پر نوجوانوں کو اس طرح مشتعل کرتی ہیں کہ اس سے وہ مسائل کے حقیقی حل کے بجائے اَنارکی اور جلاؤ گھیراؤ کی نفسیات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
انحطاط کی طرف گامزن زوال پذیر معاشرے میں درست سمت اور اس کے متعلقہ تقاضوں کی شعوری آگہی کے بغیر مسائل کے گرداب سے نکلنے اور آگے بڑھنے کی راہ تلاش نہیں کی جاسکتی اور اس کے بعد نوجوانوں کی اس پر شعوری و عملی تربیت کے نظام کا بروئے کار آنا ضروری ہے۔ ان بنیادی عناصر کو نظر انداز کرکے محض مسائل کی گردان پڑھتے رہنا اور نظام کی حقیقی تبدیلی کے تقاضوں کو سمجھے اور سمجھائے بغیر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دے کر ایک خیالی جنت نظیر معاشرے کے خواب دکھانے کو کسی بھی سیاسی قیادت کی بے شعوری یا حالات کے درست ادراک سے لا علمی پر ہی محمول کیا جاسکتا ہے۔ جس سے کوئی مثبت نتیجہ ظاہر ہونے کے بجائے طاقت ور عناصر کے پیدا کردہ مسائل و مصائب کے سبب معاشرے میں بے چینی اور اضطراب کا الاؤ دہکنے لگتا ہے، جو نوجوانوں کو انارکی کا راستہ اپنانے کی طرف راغب کرتا ہے اور نوجوانوں کی اسی مایوسی، محرومی اور نا اُمیدی (frustration) کو سیڑھی بناکر ایک طرف تخریبی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کا جال بچھادیتی ہیں اور دوسری طرف موجود استحصالی نظام کو آکسیجن مل جاتی ہے۔
آج کے اس دور میں استعمار کا ایک کارگر ہتھیار ملکوں میں موجود مسائل سے پیدا شدہ اضطراب کو خانہ جنگی میں تبدیل کرنا ہے، جن میں وہ اپنے جنگی وسائل استعمال کیے بغیر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا ہے۔ ماضی قریب کی وہ خانہ جنگیاں جن میں کئی ملکوں کے قومی عسکری اداروں اور نوجوانوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا گیا، یا قومی دفاع کے ذمہ دار اِداروں کی قیادت میں اختلافات پیدا کرکے ملکوں کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا گیا، یہ وہ خطرناک حربہ ہے جس کے تباہ کن نتائج آج ان ملکوں میں مشاہدہ کیے جاسکتے ہیں کہ جہاں ان ملکوں کے باسی اپنے ہی زخموں کو کُریدنے اور ان پر نمک چھڑکنے کی سی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔اس خطے کی حقیقی قومی تحریکاتِ آزادی نے جو سبق دنیا بھر کی نئی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا ہے، وہ یہی ہے کہ سب سے پہلے نظامِ عدل و احسان کے فہم و بصیرت کو عملی تقاضوں کے شعور سے ہم آہنگ کرنے کی فکری و علمی تربیت کا نظام استوار کیا جائے اور اس کے لیے پُر امن قومی، جمہوری اور سیاسی و سماجی جدوجہد کی راہ اپنانا از بس ضروری ہے۔ (مدیر)
مختلف اوقات اور حالات کی دعائیں

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
(بیوی اور خادم کے لیے دعا)
’’رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے کہ جو آدمی کسی عورت سے شادی کرے، یا کوئی خادم رکھے، تو یہ دعا پڑھے:
’’اللّٰھُمَّ إنِّیْ أسْألُکَ خَیْرَہَا، وَ خَیْرَ مَا جَبَلْتَھَا عَلَیْہِ، وَ أعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَ شَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہ‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2446) (اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس میں موجود بھلائی کا، اور اُس فائدے کا، جو اس کی فطرت میں تُو نے رکھی ہے۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور جو تُو نے اس کی فطرت میں شر رکھا ہے۔)
(شادی کے موقع پر برکت کی دعا)
کسی کو شادی کے موقع پر یہ دعا دی جائے:
’’بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ، وَ بَارَکَ عَلَیْکُمَا، وَ جَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ‘‘ ۔ (مشکوٰۃ: 2445) (اللہ تعالیٰ تمھارے لیے اسے برکت والا بنائے، اور تم دونوں کے لیے برکت ہو، اور بھلائی کے کاموں میں تمھیں جمع کرے۔)
(بیوی کے پاس آنے کی دعا)
جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے:
’’بِاسْمِ اللّٰہِ ! اللّٰہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَ جَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا‘‘۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ: 2416) (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! ہمیں شیطان سے محفوظ رکھنا اور ہماری پیدا ہونے والی اولاد کو بھی شیطان سے محفوظ رکھنا۔)
(بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا)
جس آدمی کا بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ ہو تو یہ دعا پڑھے:
’’أعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَ الْخَبَائِثِ‘‘۔ (مشکوٰۃ: 357) (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر طرح کی گندگی اور خبیث چیزوں سے۔) اور جب بیت الخلا سے نکلے تو ’’غُفْرَانَکَ‘‘ (تیری طرف سے ہی مغفرت ہے) پڑھے۔ (مشکوٰۃ: 359)
(کرب اور تکلیف کے وقت کی دعا)
کرب اور تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھے:
’’لا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحلِیْمُ، لا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، لا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ، و رَبُّ الأرْضِ، وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2417)
(اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں، جو بہت بڑا بُردبار ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں، جو بڑے عرش کا ربّ ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں، جو آسمانوں کا ربّ ہے اور زمین کا ربّ ہے اور عزت والے عرش کا ربّ ہے۔)
(درجِ ذیل حالات میں یہ دعائیں پڑھے)
1۔ غصے کے وقت یہ پڑھے: ’’أعُوْذُ بِاللّّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2418) (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔)
2۔ مرغ کی بانگ دیتے وقت اللہ سے اُس کے فضل کا سوال کرے۔ (مشکوٰۃ: 2619)
3۔ گدھے کی آواز کے وقت ’’أعُوْذُ بِاللّّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھے۔ (ایضاً)
(سواری پر سوار ہونے کی دعا )
جب کسی سواری پر سوار ہو تو تین دفعہ ’’اللّٰہُ أکْبَر‘‘ کہے اور پھر یہ دعا پڑھے:
’’سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْن، وَ إِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْن‘‘ (پاک ہے وہ ذات، جس نے اس (سواری) کو ہمارے بس میں کردیا، اور ہم اس کو قابو میں نہ لاسکتے، اور ہم کو اپنے ربّ کی طرف پِھر جانا ہے)۔
پھر تین دفعہ ’’الْحَمْدُ لِلّٰہ‘‘ کہے۔ پھر تین دفعہ ’’اللّٰہُ أکْبَر‘‘ کہے۔ پھر یہ دعا پڑھے: ’’سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ ! ظَلَمْتُ نَفْسِیْ، فَاغْفِرْ لِیْ، إِنَّہ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتََ‘‘۔ (مشکوٰۃ: 2434) (اے اللہ! تُو پاک ہے، میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا)۔
(سفر کی دعا )
جب سفر شروع کرے تو یہ دعا پڑھے:
’’اللّٰہُمَّ ! إِنَّا نَسْأَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی، وَ مِن الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اللّٰہُمَّ ! ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہٰذَا و أطْوِ لَنَا بُعْدَہٗ، اللّٰہُمَّ ! أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ و الْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَہْلِ، اللّٰہُمَّ ! إِنِّی أعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَ کَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَ سُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَ الأہْلِ‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2420)
(اے اللہ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی و تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں، جسے تُو پسند فرمائے۔ اے اللہ! یہ سفر ہم پر آسان کردے اور اس کی دوری (لمبی مسافت) کو ہمارے لیے لپیٹ کر قریب کردے۔ اے اللہ! سفر میں تُو ہمارا ساتھی اور گھر والوں کا تُو ہی حفاظت کرنے والا ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی شدت و مشقت، تکلیف دہ واپسی اور اہل و عیال اور مال میں بُرے منظر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)
(باب الأذکار و ما یتعلق بھا)
چینی صدر کا دورۂ رُوس(2)

20، 21 اور 22؍ مارچ کو چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ روس کے بارہ نکاتی ایجنڈے (نکات 8 تا 12) کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
8۔ اسٹریٹجک خطرات کو کم کرنا: جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہونا چاہیے اور جوہری جنگیں نہیں لڑنی چاہئیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی دھمکی یا استعمال کی مخالفت کی جانی چاہیے۔ ایٹمی پھیلاؤ کو روکنا ہوگا اور ایٹمی بحران سے گریز کرنا ہوگا۔ چین کسی بھی ملک کی طرف سے کسی بھی حالت میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق، ترقی اور استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔
9۔ اَناج کی برآمدات کو آسان بنانا: تمام فریقین کو روس، ترکی، یوکرین اور اقوامِ متحدہ کے دستخط شدہ بحیرۂ اسود کے اناج کے اقدام کو مکمل طور پر اور مؤثر طریقے سے متوازن انداز میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے میں اقوامِ متحدہ کی حمایت کرنی چاہیے۔ چین کی طرف سے تجویز کردہ عالمی غذائی تحفظ پر تعاون کا اقدام عالمی غذائی بحران کا ایک قابلِ عمل حل فراہم کرتا ہے۔
10۔ یک طرفہ پابندیوں کو روکنا: یک طرفہ پابندیاں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ وہ صرف نئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ چین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے غیر مجاز یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ متعلقہ ممالک کو دوسرے ممالک کے خلاف یک طرفہ پابندیوں اور ’’طویل بازو کے دائرۂ اختیار‘‘ کا غلط استعمال بند کرنا چاہیے، تاکہ یوکرین کے بحران کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جا سکیں کہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دے سکیں اور اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں۔
11۔ صنعتی اور سپلائی چَین کو مستحکم رکھنا: تمام فریقوں کو دل جمعی سے موجودہ عالمی اقتصادی نظام کو برقرار رکھنا چاہیے اور عالمی معیشت کو سیاسی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ بحران کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور اسے توانائی، مالیات، خوراک کی تجارت اور نقل و حمل میں بین الاقوامی تعاون میں خلل ڈالنے اور عالمی اقتصادی بحالی کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
12۔ تنازعات کے بعد کی تعمیرِنو کو فروغ دینا: بین الاقوامی برادری کو تنازعات والے علاقوں میں تنازعات کے بعد تعمیرِ نو کی حمایت کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ چین اس کوشش میں مدد فراہم کرنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی صدر نے دورۂ یوکرین جنگ کے دوران روسی اقداما ت پر تنقید کرنے کے بجائے انھیں مکمل تعاون اوروسائل کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔ جنگ کے ماحول میں یہ دورہ ایک اَخلاقی سپورٹ فراہم کرتاہے۔
ان نکات کا جائزہ لینے سے درج ذیل پہلو سامنے آتے ہیں؛ مغربی اقوام کے اقدامات؛ پیدا شدہ مسائل اور مستقبل کی پیش بندی۔ چین نے محسوس کیا کہ جنگ کی وجہ سے یورپ کی حالت خاصی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے۔ انھیں اور ان کے اتحادیوں کومدد کی ضرورت ہوگی، جس کا چند ایک ممالک کی طرف سے عندیہ ظاہر ہوا تھا۔ مغربی اقوام کے اقدامات؛ خود مختاری کا خاتمہ، سرد جنگ کی ذہنیت، دشمنی کا خاتمہ، اور یک طرفہ پابندیوں کا خاتمہ۔ نکات میں تمام عالمی اور علاقائی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثلاً خود مختاری کی بات کو لیں تو یورپ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں جس بے دریغ طریقے سے چھوٹے چھوٹے ممالک کی خو د مختاری کو تباہ و برباد کرکے ان کے وسائل کو جس بے باکی، ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے لوٹا ہے۔ ان تما م جر ائم کی ذمہ دار ی بھی مغربی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ ا س سارے عمل میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ سرد جنگ کی ذہنیت کا تعلق بھی یورپی جتھے کے ساتھ ہے۔ کیوں کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعدجب مغرب معاشی مسائل کے شکنجے میں جکڑا گیا تو انھوں نے دنیا میں جنگ کا ماحول پید اکیا۔ چھوٹے چھوٹے ممالک کو باہم لڑوانے کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔ ٹکرانے والے ممالک کو اسلحہ فراہم کیا گیا۔ مغربی طاقتوں کے اسلحہ ساز کارخانوں کو کاروبار ملنا شروع ہوگیا، جس سے معاشی بحران تھمنا شروع ہوگیا۔ عالمی سطح پر دشمنی کی ذہنیت کو پھیلانے والا بھی مغرب ہی تھا۔ کیوں کہ سوویت یونین کے تحلیل ہو نے کے بعد نیٹو کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں تھا۔ جہاں تک اقتصادی پابندیوں کے اطلاق کی بات ہے، اس کی ذمہ داری بھی یورپی طاقتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے دنیا میں چودھراہٹ اور پتھر کے عہد کے احیا کی طرف لوٹنا شروع کردیا۔
مغرب کے پیدا شدہ مسائل؛انسانی بحران، جنگی قیدیوں کا تحفظ۔ مستقبل کی پیش بندی؛امن مذاکرات کا احیا، اناج کی ترسیل کا یقینی بنانا، جوہری پاور پلانٹس کی حفاظت، اسٹریٹجک خطرات کو کم کرنا، عالمی اقتصادی نظام کا تحفظ، تنازعات کے بعد تعمیرنو۔
بادی النظر میں تمام نکات مغربی طاقتوں کے اقدمات سے متعلق ہیں، اس لیے وہی اس کے ذمہ دار ہیں، انھیں ہی اس پر عمل درآمد کرنا پڑے گا۔ آج دنیا میں طاقت کا توازن قائم ہونے جارہا ہے۔ جس سے امن کی طرف پیش رفت ہوگی۔ دنیا میں قتل و غارت اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا گیا، جس کی وجہ سے نسل انسانی کو پناہ گاہیں ڈھونڈ نے میں نقل مکانی کرنی پڑی۔ اس سے انسانی بحران پید ا ہوگیا۔ قوموں پر جنگیں مسلط کرنے سے جنگی قیدیوںکا مسئلہ پیدا ہوتاہے۔ جنگ ختم ہوجانے سے جنگی قیدیوں کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوگا۔ اناج انسانی بقا کا ضامن ہے، اس کی ترسیل کو یقینی بنانا بھی اقوام کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ دوسری اقوام پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے انھیں غلام بنانے کی سازش ہے، جس کا تدارُک ضروری ہے۔ موجودہ عالمی اقتصادی نظام کا قیام نہ صرف ضروری ہے، بلکہ اس میں بہتری اور صالحیت پیدا کرنا اس سے بھی زیادہ عصری تقاضا ہے، تاکہ معاشی ثمرات بلا امتیاز نسل انسانی تک پہنچ کر طبقاتیت کا خاتمہ ہوسکے۔
علامہ ابنِ خلدوؒن کا نظریۂ نبوت

انسانی تاریخ میں معاشروں کو تبدیل کرنے والا سب سے مؤثر عامل‘ جس نے اقوام و ممالک کی جغرافیائی اور نسلی عصبیتوں کو ختم کر کے نوعِ انسانی کے ایک ہی اعصابی نظام میں ڈھالا، وہ دین اور مذہب ہے۔ دین کا تعلق نبوت سے ہے، جس کی نمائندہ شخصیت نبی ہوتے ہیں۔ گویا نبوت کے بغیر نہ تو اَخلاقی اقدار کو پہچانا جا سکتا ہے اور نہ ہی اقتصادیات، سماجیات اور سیاسیات کی زلفِ گرہ گیر کو کھولا جا سکتا ہے۔ نبوی تعلیمات کے بغیر یہ سب اُمور کامل و احسن طریقے سے واضح نہیں ہو پائیں گے۔
نبوت و الہام کے مسائل اس انداز کے ہیں کہ ان کا تعلق اللہ کی خاص بخشش و عنایت سے ہے۔ علامہ ابنِ خلدونؒ کہتے ہیں کہ نبوت کا تعلق انسانی فکر سے ہے، بلکہ انسانی فکر کی ترقی کی ایک کڑی ہے، بلکہ یوں کہیے کہ انسانیت کا اُفقِ اعلیٰ ہے۔ اس عالمِ عناصر میں ایک طرح کی ترتیب ہے اور ہر طبقہ دوسرے سے متصل ہے۔ نظر ڈالیں کہ اس میں کس قدر استواری ہے! ایک طبقہ دوسرے طبقے کے ساتھ مربوط ہے۔ اس ارتقا و تغیر و تبدل کو یوں سمجھئے کہ معدنیات کا ارتقا وآ خری نقطہ‘ نباتات کے ابتدائی اُفق کے ساتھ متصل ہے، نباتات کا آخری اُفق حیوانات کی اوّلیں سرحدوں سے متصل ہے اور ہر نوع کا اُفقِ آخر اگلی نوع کے اُفقِ اوّل میں تحلیل ہونے کی پوری استعداد رکھتا ہے۔ ارتقا و تغیر کا یہ قانون تقاضا کرتا ہے کہ یہ سلسلہ یہیں نہ رُکے، بلکہ آگے بڑھے۔ اس لیے یہاں ایک اَور عالَم ماننا پڑے گا، جس میں ادراکِ محض اور تعقل ہے اور یہ عالمِ ملائکہ ہے۔ اس کا ایک پہلو نفسِ انسانی سے ملا ہوا ہے اور ایک اس سے جدا ہے۔ پھر نفسِ بشری کبھی کبھی ایک ہی جست میں بشریت سے الگ ہو کر ملائکہ کی صف میں پہنچ جاتا ہے، لیکن یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ نفسِ بشری ایسا ہو کہ اس میں اتصال کی دونوں جہتیں پائی جائیں: ایک جہت کا تعلق جسم کے ساتھ ہو اور دوسری جہت کا تعلق اُفقِ ملائکہ سے ہو۔ یہ فرشتوں کے ساتھ اتصال اور بشریت کا غائب ہونا ہی وہ عنایتِ الٰہی ہے جسے نبوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
علامہ ابنِ خلدونؒ نے جب گرد و پیش میں ایسی اقوام کا مشاہدہ کیا جو لا مذہبیت کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن وہ ایک وسیع ملک اور خاص نظام رکھتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس وہ اقوام جو اَدیانِ سماوی کے پیروی کرنے والی ہیں، وہ اقلیت میں ہیں، اس سے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ممالک اور حکومتوں کی تاسیس میں نبوت کی کوئی ضرورت نہیں۔ابنِ خلدونؒ نے اس رائے کے اختیار کرنے میں اکابر فلاسفہ اور اسلامی مؤرخین کی رائے کی مخالفت کی۔ ان کے اس مؤقف پر امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے بھی تنقید کی ہے۔ ایک مصری ادیب و فلسفی محمد لطفی جمعہ لکھتے ہیں کہ ابنِ خلدونؒ نے بعد میں اپنی رائے تبدیل کر لی اور لکھا کہ نبوت اگرچہ عام ممالک کی تاسیس کے لیے ضروری نہیں، لیکن ترقی یافتہ اور با کمال حکومتوں کے لیے نبوت نا گزیر ہے۔ کیوں کہ وہ مملکت جس کی بنیاد نبوت پر ہو، دینِ و دنیا کے منافع کا مجموعہ ہوتی ہے۔ (تاریخ فلاسفۃ الاسلام، صفحہ 230)
ایران پاکستان معاشی تعلقات

دس سال پہلے IPI Gas Pipeline کے منصوبے کا ایران پاکستان بارڈر پر سنگِ بنیاد رکھا گیا، جس کے تحت 2777 کلومیٹر لمبی گیس پائپ لائن کے پاکستانی حصے پر کام شروع ہونا تھا اور اس کی تکمیل پر 40ارب مکعب میٹر گیس کی سالانہ بنیادوں پر ترسیل ہونا تھی۔ اس ترسیل سے پاکستان نے بھی فائدہ اٹھانا تھا، جس کے مقامی گیس کے ذخائر تیزی سے ختم ہوتے چلے جارہے تھے۔ یہ ایک اچھی منصوبہ بندی تھی، جو بالآخر پاک بھارت تعلقات میں خرابی کے راستے میں ایک مؤثر دیوار بھی ثابت ہوسکتی تھی، لیکن ان دس سالوں میں سب کچھ ہوا، لیکن اس گیس پائپ لائن پر کام نہ ہوا۔ اس مدت کے دوران بلوچستان میں علاحدگی پسندی نے زور پکڑا اور BLA پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی چلی گئی۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ حکومتی اداروں کے لیے سیکیورٹی فورسز کی رکھوالی کے بغیر بلوچستان کے بیش تر حصوں میں کام کرنا مشکل ہوگیا۔ دوسری طرف ایران سعودی عرب مخاصمت اور ایران پر امریکی پابندیوں نے مل کر اس منصوبے پر عمل درآمد کو کھٹائی میں ڈال دیا۔ اس دوران پاک بھارت تعلقات گراوٹ کا شکار رہے اور بالآخر 2019ء میں بالاکوٹ پر حملے اور کشمیر کی مخصوص حیثیت ختم کرنے کے بعد ان میں مکمل تعطل پیدا ہوچکا ہے۔
راقم الحروف 2016ء کے اکتوبر میں کراچی سے مکران کوسٹل ہائی وے پر گوادر اور ایران بارڈر تک سفر کرچکا ہے، جس کا ذکر دسمبر 2016ء کے کالم میں کیا جاچکا ہے۔ گوادر میں بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے ضروریاتِ زندگی کی تمام اشیا ایران سے آتی ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ پورے بلوچستان، سندھ کے بیش تر حصے اور جنوبی پنجاب تک ایرانی مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کی جارہی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کا کاروبار عروج پر ہے۔ ایف بی آر کے مطابق سالانہ دو ارب ڈالر سے زائد قیمت کا ایندھن ایران سے سمگل کیا جاتا ہے۔ اس سب میں ایرانی ایندھن کے سستے ہونے کا فائدہ سمگلروں اور سرکاری اہل کاروں کو ہوتا ہے۔ جب بھی ایران پاکستان کے درمیان تجارت کی آواز اٹھائی جاتی ہے تو امریکی پابندیوں کا ڈھول پیٹا جاتا ہے، لیکن ترکی، عراق اور بھارت نے تو اِن پابندیوں کے باوجود اپنی سفارتی کاوشوں کی بہ دولت ایران سے مخصوص تجارتی روابط برقرار رکھے ہیں اور امریکا کے اعتراضات کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا تو پاکستان جو ایران سے تجارت میں سب سے بڑا مفاد حاصل کرسکتا ہے، کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن دوسری جانب اسی پاکستان کی مقتدرہ اس تجارت کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے اندرونی اور بیرونی پابندیوں کے باوجود رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔ اب خبر آئی ہے کہ ایران اور پاکستان سرحدی علاقوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے مارکیٹیں بنائیں گے۔ یہ بارہ سالہ پُرانا منصوبہ ہے، جو گیس پائپ لائن کی طرح بیانوں اور عزم و ارادے سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ اس کی وجہ پاکستان میں ایرانی ایندھن کی غیر قانونی تجارت ہے، جس کے بل بوتے پر کئی مافیا کالا دھن کمارہے ہیں اور افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغان خام مال کی تجارت کی بہ دولت اسے سفید دھن میں تبدیل کررہے ہیں۔
جھوٹی خبر اور افواہ کی بنیاد پر اقدام تباہ کن ہے

19؍ مئی 2023ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’دینِ اسلام مسلمان جماعت کی تعلیم و تربیت، عقل و شعور اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ایک ایسا تربیتی نظام بیان کرتا ہے، جس پر عمل کرکے مسلمان جماعت دنیا اور آخرت میں کامیابی کے مراحل طے کرسکے۔ ایمان والی جماعت کے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟ معاشروں میں رہنے کا طریقۂ کار اور آداب کیا ہیں؟ انسانی معاشروں کی تشکیل کے لیے کن بنیادی اَخلاقیات کی پابندی کرنا ضروری ہے؟ قرآن حکیم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حوالے سے بڑی جامع اور نپی تُلی ہدایات جاری کی ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ کی ظالمانہ طاقت کو ختم کرکے مدینہ منورہ میں ایک انسان دوست ریاست تشکیل دی، مدینے کے معاشرے، سماج، سیاست، معیشت اور سوسائٹی کی دیگر ذمہ داریوںکو منظم کرنا شروع کیا تو اُن تمام عادات اور اجتماعی اَخلاق، جو کسی بھی انسانی معاشرے کو ترقی اور کامیابی کی منازل طے کرواتے ہیں، رسول اللہؐ نے اُس پر ہدایات جاری کیں۔ ایسے موقع پرقرآن حکیم کی جو آیات نازل ہوئیں، انھوں نے بھی جامع ہدایات دیں۔ ان میں سے یہ ایک بڑی ہدایت اللہ نے ارشاد فرمائی: ’’اے ایمان والو! اگر تمھارے پاس کوئی گناہ گار خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلو، کہیں جا نہ پڑو کسی قوم پر نادانی سے، پھر کل کو اپنے کیے پر پچھتانے لگو‘‘۔ (49: الحجرات: 6، ترجمہ شیخ الہندؒ)
اگر کوئی فاسق و فاجر کسی واقعے اور ایونٹ کے بارے میں، کسی معاملے کے متعلق، کسی جماعت، پارٹی اور قوم کے سلسلے میں کوئی خبر تمھارے تک پہنچائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ بغیر کسی تحقیق کے آمدہ خبر پر اقدام کرنا درست نہیں ہے۔ کہیں یہ نہ ہو کہ تم اس خبر کی بنیاد پر کسی قوم اور پارٹی پر حملہ آور ہوجاؤ، اور پھر اس کے بعد تم شرمندہ ہو کہ ہم نے ایک جھوٹی خبر پر ایکشن لیا، ایک جھوٹی بات پر ہم نے یہ اقدام کیا ہے اور ندامت کے آنسو بہاؤ، معذرتیں کرو کہ غلطی ہوگئی۔ اس لیے اقدام سے پہلے لازمی اور ضروری ہے کہ اس کی تحقیق و تفتیش کرو کہ وہ خبر اور بات صحیح اور درست ہے، یا کسی فاسق اور جھوٹے آدمی نے جھوٹ گھڑ کے تمھیں کسی دوسری قوم کے خلاف اُکسایا ہے ۔
یہ بڑا اہم ادب ہے۔ انسانی معاشروں میں سوسائٹی کی ٹوٹ پھوٹ کے لیے یہ طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے کہ جماعتیں اور گروہ اپنا من پسند طریقۂ کار اختیار کرکے کسی دوسرے کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتی ہیں، جو بددیانتی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ فرعون، نمرود، شداد، ہامان، جتنے بھی ظالموں کے واقعات قرآن حکیم نے بیان کیے ہیں، ان تمام میں ہمیشہ فرعونی حکومتوں خاص طور پر ان کی آلۂ کار قوتوں نے ہمیشہ اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں‘‘۔
سیاسی قوت ’’اَحرار‘‘ کو مسجد شہید گنج کی سازش سے کمزور کیا گیا
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ہمیشہ فرعونی اور سامراجی نظاموں کا یہ طریقۂ کار رہا ہے کہ باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ جھوٹ گھڑا جاتا ہے۔ اُسے پھیلایا جاتا ہے۔ اُس کو بنیاد بنا کر ایکشن لیا جاتا ہے۔ آزادی کی تحریکات کو دبایا جاتا ہے۔ رہنماؤں کی جدوجہد اور کوشش کو ناپاک عزائم کے ذریعے سے ناکام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آپ دیکھئے کہ 1920ء کے بعد جب برعظیم ہندو پاک کے حریت پسندوں نے یہاں کی اس ظالمانہ برطانوی حکومت کے خلاف عدمِ تشدد کے اُصول پر اپنی تحریک منظم کی تو 15 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد 1935ء میں حکومت مجبور ہوئی کہ وہ اس خطہ برعظیم پاک و ہند میں لوگوں سے ووٹ لے کر ان کی نمائندہ حکومتیں بنائی جائیں۔ پنجاب مسلمانوں کا اکثریتی صوبہ تھا اور یہ بات کنفرم تھی کہ اگر فیئر الیکشن ہوں گے تو پنجاب کی حکومت اکثریتی جماعت ’’اَحرار‘‘ بنائے گی۔
اب انگریزوں نے دیکھا کہ انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت الیکشن کا اعلان ہوگیا ہے اور اَحرار کے حکومت بنانے کے چانسز زیادہ ہیں، تو اسے ناکام بنانے کے لیے پلاننگ کی گئی، جس کا پورا نقشہ اور خاکہ شملہ کے سرکاری ایوانوں میں تیار کیا گیا، جس کے مطابق فوج میں شامل سکھوں کی طرف سے راتوں رات لاہور میں قائم مسجد عبداللہ خاں کو گرا کر سکھوں پر اِلزام لگایا گیا اور پورے لاہور میں اس وقت کے میڈیا کے ذریعے یہ پھیلا دیا گیا کہ سکھوں نے مسجد شہید کردی ہے۔ اس کے نتیجے میں فسادات کروائے گئے۔
احرار کے رہنما چوں کہ قومی سیاست میں کام کر رہے تھے اور فرقہ وارانہ لڑائیوں میں نہیں پڑتے تھے تو ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع ہوگیا کہ دیکھو جی! مسجد گر گئی اور کیسے مسلمان رہنما ہیں کہ مسجد گرانے والوں کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کر رہے؟ یہ بھی پلاننگ کا حصہ تھا کہ اگر تو وہ حصہ لیں تو سکھوں سے کہا جائے کہ بھئی! تم جس جماعت کو پُر امن سمجھ رہے تھے، وہ تو تمھارے دشمن ہیں اور اگر وہ حصہ نہ لیں تو مسلمانوں سے کہا جائے کہ دیکھو جی! یہ تمھارے مسلمانوں کے لیڈر ایسے ہیں، ہمارا تو فلاں فلاں لیڈر آیا ہے، گورنر ہاؤس میں آکر اُس نے صلح صفائی کرائی ہے، مصالحتی بورڈ بنوایا ہے، تو اصل تو مسلمانوں کا لیڈر وہ ہوا، نہ کہ یہ اَحرار والے۔ اس طرح پنجاب کی سب سے بڑی جماعت اَحرار کو بدنام کرکے ناکام کردیا گیا اور پوری پلاننگ کے ساتھ ہرایا گیا۔
اس طرح جھوٹی خبریں پھیلا کر، غلط پروپیگنڈا کرکے پورے کے پورے منظرنامے کو اپنے من پسند الیکشن کے نتائج حاصل کرنے کے لیے پنجاب میں 1936ء کے الیکشن میں دھاندلی کا طریقۂ کار اپنایا گیا۔ یہ اس خطے میں ہونے والے سب سے پہلے الیکشن کی روداد ہے۔ اس کے بعد سے آج تک کون سا الیکشن ہے جو فیئر ہوا ہو؟ من پسند نتائج چاہئیں ہوتے ہیں، وہ نکلیں تو الیکشن ہوتا ہے، ورنہ الیکشن نہیں ہوتا‘‘۔
گزشتہ سو سال سے ہماری سیاست کا انداز نہیں بدلا
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’رسول اللہ ﷺ نے سورت الحجرات کی مذکورہ آیت کی تشریح میں فرمایا: ’’استقامت اور تحقیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے‘‘۔(تفسیر طبری) یعنی کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق اور تفتیش کرو۔ جلد بازی نہ کرو۔ ثابت قدمی سے کام لو۔ اشتعال انگیزی سے بچو، تو ٹھنڈے دل سے سوچو کہ اس خبر کے پیچھے ہے کون ہے؟ اصل مقصد سوسائٹی کی اجتماعیت برقرار رکھنا ہے۔ ہمیشہ سے جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کے لیے پورے پلان بنائے جاتے ہیں۔ اس کو پھیلایا جاتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا آلۂ کار میڈیا ہوتا ہے۔ اور میڈیا پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ جو اصل صحیح بات ہو، جو پیار محبت والی ہو، وہ نہیں کرنی۔ لڑائی والی بات کرنی ہے، جلتی پر تیل ڈالنا ہے۔ سلگتی ہوئی خبر، ’’بریکنگ نیوز‘‘ پھیلانی ہے۔ آپ بتلائیے کہ جو نوآبادیاتی دور میں انگریز سامراج نے نظام قائم کیا تھا، کیا وہ ختم ہوگیا؟ کیا وہی المیے آج نہیں دُہرائے جا رہے کہ جھوٹے بت کھڑے کیے جاتے ہیں، ان کی بنیاد پر اپنی ہی قوم کے وسائل کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ آگ لگائی جاتی ہے۔ اپنے ہی بندے داخل کرکے انتشار پھیلایا جاتا ہے۔ ڈیوائیڈ اینڈ رول کی سیاست کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اپنی من پسند پارٹیوں کا تسلط کروایا جاتا ہے۔ وہ پارٹیاں جو کسی زمانے میں من پسند تھیں، ان کو اگر ختم کرنا ہو تو اس کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہی تو سسٹم کی خرابی ہے۔
آج ہمیں سوچنا چاہیے کہ 1936ء کے الیکشن میں اس پنجاب کی حقیقی قیادت کو پیچھے دھکیل کر جن لوگوں نے خوشیاں منائی تھیں، آج انھیں کی ذیلی پارٹیاں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف وہی کام کر رہی ہیں، جو اس پنجاب کی اس حقیقی پارٹی کے خلاف کیا تھا۔ یہ بھی سسٹم ہی کی پارٹیاں ہیں۔ یہ کون سی آزادی اور حریت کی پارٹیاں ہیں۔ یہ عبرت نہیں تو اَور کیا ہے؟ کم از کم آج پنجاب میں جو آگ بھڑک رہی ہے، اس کے لوگوں کو تو عقل سے کام لینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے سو سال سے اب تک ہماری سیاسی بے شعوری کا سفر ہی چل رہا ہے، انتشار پھیلایا جا رہا ہے، اجتماعیت کو توڑنے اور اپنے ہی ملکی وسائل کو تباہ و برباد کرنے کا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔
یاد رکھیے! جب تک یہاں کا مسلمان انگریزوں کے زمانے کی دو سو سالہ نوآبادیاتی تاریخ کی حقیقت نہیں سمجھے گا، اور اس تاریخ کو صحیح تناظر میں نہیں دیکھے گا، اس کے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ یہاں کی جتنی بھی انقلابی پارٹیاں ہوں، آزادی کے نعرے لگانے والی ہوں، تبدیلی اور انصاف کی دعوے دار ہوں، وہ پہلے دو سو سالہ انگریز سامراج کے تسلط کی تاریخ کے ظالمانہ حقائق تسلیم کریں۔ جو اپنی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتے اور حقیقت کی اَساس پر آگے نہیں بڑھتے، وہ کس بات کے انقلاب کے دعوے دار ہیں، وہ کس آزادی اور تبدیلی کی بات کرتے ہیں؟‘‘
تبدیلی کا حقیقی مفہوم اور اُس کی حکمت ِعملی
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ بنیاد کو سب سے پہلے ٹھیک کیا جائے، یہ نہیں کہ خستہ حال عمارت کے اوپر مزید نئی اور خوش نما عمارت بنانے کی کوشش کی جائے۔ آج جس سسٹم کی بنیاد جھوٹ، بددیانتی پر اور انگریز سامراج کے تسلط اور اُس کے مفادات کی اَساس پر ہے، اُس سے برأت کرنے کا اعلان کرنا ضروری ہے۔ آج ہم اس دھرتی پر انگریز دور سے پہلے کے اسلامی سسٹم اور رَواداری کے نظام کی بنیاد پر اپنی بنیاد قائم کریں اور جائزہ لیں کہ اس وقت کے اولیاء اللہ نے کیا کام کیا تھا؟ حضرت داتا گنج بخشؒ، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ وغیرہ وغیرہ حریت پسندوں کی کیا تعلیمات تھیں؟ جو تاریخ کے اندر اس خطے کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے والے ہیں۔ آج ہم انگریز کے بنائے ہوئے دو سو سالہ نوآبادیاتی دور کی بنیاد کو اُکھیڑ کر نہ پھینکیں اور اپنے ڈانڈے تاریخ کے اس سے پہلے کے دور کی رواداری، برداشت، انسان دوستی، آزادی اور حریت کی اَساس پر جب تک اپنا رشتہ وہاں تک نہ جوڑیں، پھر کہیں گے جی کہ تبدیلی آجائے، آزادی حاصل ہوجائے، معاشرہ بن جائے، ایسا نہیں ہوسکتا، کیوں کہ بنیاد ہی غلط ہے۔
بڑی بنیادی سی بات ہے کہ جب تک انگریز کے اُس دو سو سالہ دور کی غلامی کے اَثرات اور اُس سامراج سے برأت کا اعلان نہیں کرتے، اور جو آزادی اور حریت کا اسلام کا ہزار سالہ دور اس برعظیم پر حکمرانی کا ہے، اور خاص طور پر ریاستِ مدینہ میں جو رسول اللہ ﷺ انسانیت کے لیے رہنمائی اور ہدایت دے رہے ہیں، ان کو سامنے نہیں رکھتے، نہ آزادی ہے، نہ انقلاب ہے، نہ انصاف ہے، نہ تبدیلی ہے، نہ اسلام۔ قرآن کے خلاف کوئی بات کرکے اسلام کیسے آجاتا ہے؟ حضوؐر کے فرمان کے خلاف بات کرکے اسلام کیسے آجاتا ہے؟
مسلمان سمجھ دار ہوتا ہے، تبیُّن، تحقُّق اور تثبُّت کے ساتھ حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کرتا ہے کہ اس خبر کے پیچھے یہ ڈوری کس نے ہلائی ہے؟ کہاں سے یہ بات آئی ہے؟ کیوں یہ بات یہاں پیدا ہوئی ہے؟ اور جو اس کو نہیں کرتا اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتا ہے، یہ اللہ کی بات نہیں ہے، ضرور کسی شیطان کی ہے، اور شیطان دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک شیاطین الانس اور دوسرے شیاطین الجن۔
اس لیے آج سیاسی شعور کی ضرورت ہے۔ ظالمانہ نظام کے ہاتھوں استعمال ہونے اور اس سسٹم کے آلہ کار ہونے سے بچنا بہت ضروری ہے۔ قرآن نے کہا ہے کہ اچھی طرح تحقیق و تفتیش کرو، کھوج لگاؤ۔ تحقیقی ذہن ہونا چاہیے۔ جستجو کا ذہن ہونا چاہیے۔ شعور کا ذہن ہونا چاہیے۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے ثابت قدمی کے ساتھ غور و فکرکرو۔ جلد بازی سے بچو۔ یہ نہیں کہ ایک دم خبر آئی اور بھڑک اُٹھے۔ خبر آئی کہ ہنگامہ ہوا، ڈنڈے لے کر نکل آؤ، توڑ پھوڑ کرو، آگ لگاؤ، کیا اس سے انقلاب آتا ہے؟ عقل سے کام لینا چاہیے‘‘۔
حضرت مولانا ذوالفقار علی دیوبندیؒ

ولی اللّٰہی تحریک میں ایک اور اہم نام حضرت مولانا ذوالفقارعلی دیوبندیؒ کا ہے۔ آپؒ۱۲۲۸ھ / 1813ء کو دیوبند میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد گرامی کا نام شیخ فتح علی تھا۔ وہ اپنے علاقے کی معروف شخصیت تھے۔ آپؒ کا سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنیؓ سے ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد دہلی میں حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ کے نام ور شاگرد صدر الصدور مفتی صدر الدین آزُردہؒ سے تعلیم حاصل کی۔ اس زمانے میں تعلیمی حوالے سے مدرسہ غازی الدین حیدر _ جسے 1825ء میں دہلی کالج کا درجہ دیا گیا _ بہت زیادہ معروف تھا۔ مولانا موصوفؒ دہلی کالج میںتعلیم کے حصول کے لیے داخل ہوئے اور مولانا مملوک علی دہلویؒ سے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد بریلی کالج میں استاذ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ تعلیمی قابلیت اور اعلیٰ انتظامی صلاحیت کی بنا پر ڈپٹی انسپکٹر مدارس و تعلیم کے طور پر تقرر ہوا۔
محکمہ تعلیم سے فراغت کے بعد دیوبند میں اعزازی مجسٹریٹ کے طور پر فائز ہوئے۔ آپؒ کو اُردو، فارسی اور خاص طور پر عربی زبان و ادب پر زبردست دسترس حاصل تھی۔ موصوفؒ کی اس صلاحیت کی بنیاد پر عربی ادب کا خاصا حصہ سہل اورآسان ہوگیا۔ دارالعلوم دیوبند میں تعلیمی حوالے سے یہ مسئلہ بھی درپیش تھا کہ کس طرح سے دینِ اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اس سے متعلقہ کتب کو طلبا کے لیے آسان انداز میں پیش کیا جائے۔ اس مسئلے کے حل میں مولانا موصوفؒ نے اہم کردار ادا کیا۔
عربی زبان وادب میں آپؒ کے مقام کا تعارف کراتے ہوئے ’’تاریخ دارالعلوم دیوبند‘‘ میں لکھا گیا ہے: ’’عربی زبان وادب پر بڑی دسترس تھی، (بیش تر عربی کتابیں ترجمہ کرکے) اُردو میں تحریر فرمائیں۔ ۔۔۔ عربی کے غریب اور مشکل الفاظ اور محاورات کا ایسا سلیس و بامحاورہ ترجمہ اور ایسی د ل نشیں تشریح کی ہے،جس کی بہ دولت عربی ادبیات کی یہ سنگلاخ کتابیں طلبا کے لیے نہایت سہل اور آسان ہو گئی ہیں۔ معانی وبیان میں تذکرۃ البلاغت اور ریاضی میں تسہیل الحساب ان کی یاد گارہیں‘‘۔ (ج: 1، ص: 421)
میاں سیّداصغر حسینؒ مولانا ممدوح کی علمی قابلیت اور ذہانت پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ’’حیاتِ شیخ الہند‘‘ میں تحریرفرماتے ہیں: ’’اور فنِ معانی وبیان کو نہایت خوبی سے اُردو زبان میں دکھلا کر کمال کیا ہے؛ بلکہ زبانِ اُردو میں سب سے پہلے مولانا ممدوح نے اس فن کو جاری کرکے دکھلایا ہے۔ ایسے باکمال حضرات اب کہاں پیدا ہوتے ہیں‘‘۔
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب ایک تعلیمی و تربیتی ادارے کے قیام کا فیصلہ ہوا تو اس ادارے کے بانیان میں دیگر اکابرین کے ساتھ ساتھ مولانا ذوالفقار علی دیوبندیؒ اور ان کے بڑے بھائی مولانا مہتاب علی دیوبندیؒ بھی شامل تھے۔ ان دونوں بھائیوں کا شمار دارالعلوم دیوبند کے انتظام و انصرام اور اس کی ترقی میں مولانا سیّد عابد حسینؒ کے مشیروں کے طور پر ہوتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کو اپنے ابتدائی دنوں میں بہت مشکل حالات کا سامنا تھا۔ خاص طور پر مالی مسائل بہت زیادہ تھے۔ ان حالات میں آپؒ نے نہ صرف یہ کہ علمی و تربیتی خدمات پیش کیں، بلکہ مالی حوالے سے بھی اس ولی اللّٰہی مرکز کے ساتھ تعاون فرمایا۔
مولانا موصوفؒ کے صاحب زادگان میں مولانا محمود حسن (حضرت شیخ الہندؒ)، مولانا حامد حسنؒ، حکیم محمد حسنؒ اور حافظ محمد محسنؒ تھے۔ یوں تو تمام بیٹے علم و دانش میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں، لیکن آپؒ کے سب سے بڑے صاحب زادے حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ نے فکرو عمل میں بے مثال مقام حاصل کیا۔ مولانا موصوفؒ کے علم و ادب کے ساتھ شغف کا ہی یہ اثر تھا کہ وہ حضرت شیخ الہندؒ کی تربیت کا بھی حصہ بنا۔ حضرت شیخ الہندؒ کا تعلیم و تربیت کے حوالے سے کردار اور علم و ادب پر دسترس میں بنیادی کردار حضرتؒ کے والد گرامی مولانا موصوفؒ کا ہی تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ حضرت شیخ الہندؒ کا عملی میدان میں حریت و آزادی کے افکار و نظریات کا نمایاں ہونا بھی مولانا موصوفؒ کی تربیت کا ہی خاصہ ہے۔ مولانا موصوفؒ نے ترکی کے سلطان عبدالحمید خان کے لیے جو قصائدتحریر فرمائے، ان کو پڑھنے سے آپؒ کی علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ حالات پر گہری نظر کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے تحریکِ ریشمی رومال کا جو خاکہ ترتیب دیا تھا، اس کا ابتدائی نقشہ بھی ان قصائد میں ملتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقشہ ومنصوبہ انھیں اکابرؒ سے حضرت شیخ الہندؒ تک منتقل ہوا، جسے انھوں نے عملی جامہ پہنانے کی اپنی پوری سعی کی۔ اس قصیدے میں آپؒ انگریزوں کو خطاب کرتے ہوئے سلطان ترکی سے امداد وتعاون اور بیرونی یلغارکا پُر شوکت انداز اختیار کرتے ہیں۔ (ماہنامہ دارالعلوم)مولانا ممدوح نے دارالعلوم دیوبند میں آنے کے بعد اپنی پوری زندگی طلبا کی رہنمائی میں بسر فرمائی۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی تمام مساعی کا دارومدار بھی انھیں کی تربیت اور تعلیم کا نتیجہ ہے۔۱۳۲۲ھ / 1904ء میں آپؒ کا دیوبند میں وصال ہوا۔ آپؒ کی تدفین قبرستانِ قاسمی دیوبند میں حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے مزار کی مشرق سمت میں کی گئی۔
شمارہ ختم
واپس