ہیجانی جذبات کے بجائے شعوری جدوجہد کی ضرورت

مولانا محمد عباس شاد
مولانا محمد عباس شاد
جون 15, 2023 - شذرات
ہیجانی جذبات کے بجائے شعوری جدوجہد کی ضرورت

یہ بات ان صفحات پر پورے تسلسل کے ساتھ کہی جاتی رہی ہے کہ ہمارے موجودہ سیاسی نظام _ سمیت ریاستی نظام کے _  تمام کَل پُرزے اس قابل نہیں رہے کہ یہ ہمارے مسائل حل کرسکیں، بلکہ ہمارے بیش تر مسائل کی پیدائش اور افزائش کی واحد وجہ یہی فرسودہ نوآبادیاتی نظام ہے (جس کو جدید نو آبادیاتی نظام بھی کہہ دیا جاتا ہے)۔ اس نظام کے کرتا دھرتا اداروں کے ساتھ ساتھ سرگرم سیاسی جماعتیں (جن کو جتھے کہنا زیادہ مناسب ہوگا) عوام میں اس نظام کے ناکارہ ہونے کا شعور دینے سے نہ صرف سوچی سمجھی پہلو تہی کر رہی ہیں، بلکہ اپنے مفادات کے لیے ایسی سرگرم ہیں کہ اب نظام کے اندر کی جنگ اس سطح پر آگئی ہے کہ اب نظام کی تبدیلی یا اصلاحِ اَحوال کے بجائے ملک ہی ان کے ہوسِ اقتدار، طاقت کے مظاہرے اور طلبِ زر کے نشانے پر ہے۔

9؍ مئی کے واقعات اسی کا شاخسانہ ہیں۔ اس دوران جس طرح انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور اَملاک کے جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کے واقعات کو بھڑکایا گیا اور مکمل سازگار ماحول میں کئی اہم سرکاری قومی اَملاک و علامات کو جس طرح نقصان پہنچایا گیا، وہ بہرصورت سخت تشویش ناک اور تمام حلقوں میں ان کے ناقابلِ قبول اور لائقِ مذمت ہونے میں دوسری رائے نہیں ہے۔ ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں کہ ملک کے سیاسی جتھوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت سے کوئی سروکار نہیں، چہ جائے کہ وہ اس کا کوئی معقول نظام بنائیں، بلکہ اس کے برعکس وہ تو انھیں جذبات کی ناؤ پر بٹھاکر حالات کے منجدھار کے سپرد کرتے ہوئے اس کے خوف ناک نتائج سے بھی لاپرواہ ہوجاتی ہیں۔

ایک غیر منظم گروہ زیادہ سے زیادہ ایک ہجوم ہوتا ہے، جس میں ہر قماش کے آدمی کا اپنا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے اور اس کی کوئی اَخلاقیات نہیں ہوتیں۔ ہجوم سے کوئی بھی سماج دشمن گروہ اپنا مفاد کشید کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے اور وہ ہجوم سے جلتی پر تیل کا کام لے کر رفو چکر ہو جاتا ہے اور ہجوم میں شامل استعمال ہونے والے افراد کو جب دھرلیا جاتا ہے تو وہ لاعلمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ آج کی جدید ٹیکنالوجی ہر شخص کے ہر عمل کا حساب رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کو اگر بلاتفریق بروئے کار لایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکتا ہے اور اگر اس سے فائدہ اُٹھانے والا نظام اپنے مفادات کے تحفظ کے نقطہ نظر سے اسے استعمال کرتا ہے تو مخصوص بلکہ منفی نتائج کا ہی حصول ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرگرم سیاسی شخصیات بلا استثنا اپنے پاس ہجوم اور جتھے رکھتی ہیں، جنھیں حسبِ موقع جلاؤ گھیراؤ اور پریشر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہی بات آج نوجوان نسل کو سمجھنا ہوگی کہ کیا اسے مہمل قیادتوں کے پیچھے چل کر اپنے آپ کو ان ہجوموں (Crowds) اور جتھوں کا حصہ بننے کی اجازت دینی چاہیے؟ یقینا ایسی اجازت نہیں دینی چاہیے! قوم کے نوجوانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور انھیں نظام کے اندر و باہر کے عناصر کا ایندھن بننے اور اپنی توانائیوں کی رائیگانی کا سامان اپنے ہاتھوں سے کرنے کے بجائے اپنے اندر کے جوہرِ قیادت کو پانے اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کے نوجوان کو اپنے ملک کی سیاسی تاریخ کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس ملک کی تاریخ میں بارہا ایسے مواقع آئے، جب نظام کے محافظ سیاسی اور غیرسیاسی طاقت ور گروہوں نے معصوم نوجوانوں کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھایا۔ ایسے مواقع پر طاقت و سیاست کے پنڈتوں کی طرف سے یہی باور کروایا جاتا ہے کہ منزل قریب آچکی ہے، بس اب سب کچھ جھونک دیا جائے اور جان کی بازی لگادی جائے کہ آگے کامیابی ان کے استقبال کے لیے تیار کھڑی ہے، حال آں کہ وہ یہ سب کچھ اپنے اقتدار کے حریفوں کو دباؤ میں لانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔ اور اس حصولِ اقتدار کی وقتی جنگ میں وہ نوجوانوں کا جذباتی استحصال کرکے انھیں بہ طورِ ایندھن استعمال کررہے ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک کا نظامِ طاقت و سیاست‘ شہریوں کی ایسی تربیت کی صلاحیت کا قاتل ہے کہ جس کے نتیجے میں وہ سماجی جدوجہد کے لیے کسی ضابطے کی پابندی کا مظاہرہ کرسکیں اور اجتماعی مقاصد کی حکمت سے بہرہ مند ہوکر انسانی احساسات اور قومی غیرت کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمت کے جذبے سے معمور ہوں۔ ہمارے ہاں کی سیاسی قوتیں خواہ ایوانوں اور اداروں میں ہوں یا سڑکوں پر‘ یا تو سِرے سے قوم کو درپیش حقیقی مسائل کے شعور سے محروم ہونے کی وجہ سے اس پر بات ہی نہیں کرتیں، یا پھر اپنے سفلی ایجنڈے کے لیے قومی ایشوز پر نوجوانوں کو اس طرح مشتعل کرتی ہیں کہ اس سے وہ مسائل کے حقیقی حل کے بجائے اَنارکی اور جلاؤ گھیراؤ کی نفسیات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

انحطاط کی طرف گامزن زوال پذیر معاشرے میں درست سمت اور اس کے متعلقہ تقاضوں کی شعوری آگہی کے بغیر مسائل کے گرداب سے نکلنے اور آگے بڑھنے کی راہ تلاش نہیں کی جاسکتی اور اس کے بعد نوجوانوں کی اس پر شعوری و عملی تربیت کے نظام کا بروئے کار آنا ضروری ہے۔ ان بنیادی عناصر کو نظر انداز کرکے محض مسائل کی گردان پڑھتے رہنا اور نظام کی حقیقی تبدیلی کے تقاضوں کو سمجھے اور سمجھائے بغیر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دے کر ایک خیالی جنت نظیر معاشرے کے خواب دکھانے کو کسی بھی سیاسی قیادت کی بے شعوری یا حالات کے درست ادراک سے لا علمی پر ہی محمول کیا جاسکتا ہے۔ جس سے کوئی مثبت نتیجہ ظاہر ہونے کے بجائے طاقت ور عناصر کے پیدا کردہ مسائل و مصائب کے سبب معاشرے میں بے چینی اور اضطراب کا الاؤ دہکنے لگتا ہے، جو نوجوانوں کو انارکی کا راستہ اپنانے کی طرف راغب کرتا ہے اور نوجوانوں کی اسی مایوسی، محرومی اور نا اُمیدی (frustration) کو سیڑھی بناکر ایک طرف تخریبی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کا جال بچھادیتی ہیں اور دوسری طرف موجود استحصالی نظام کو آکسیجن مل جاتی ہے۔

آج کے اس دور میں استعمار کا ایک کارگر ہتھیار ملکوں میں موجود مسائل سے پیدا شدہ اضطراب کو خانہ جنگی میں تبدیل کرنا ہے، جن میں وہ اپنے جنگی وسائل استعمال کیے بغیر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا ہے۔ ماضی قریب کی وہ خانہ جنگیاں جن میں کئی ملکوں کے قومی عسکری اداروں اور نوجوانوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا گیا، یا قومی دفاع کے ذمہ دار اِداروں کی قیادت میں اختلافات پیدا کرکے ملکوں کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا گیا، یہ وہ خطرناک حربہ ہے جس کے تباہ کن نتائج آج ان ملکوں میں مشاہدہ کیے جاسکتے ہیں کہ جہاں ان ملکوں کے باسی اپنے ہی زخموں کو کُریدنے اور ان پر نمک چھڑکنے کی سی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔اس خطے کی حقیقی قومی تحریکاتِ آزادی نے جو سبق دنیا بھر کی نئی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا ہے، وہ یہی ہے کہ سب سے پہلے نظامِ عدل و احسان کے فہم   و بصیرت کو عملی تقاضوں کے شعور سے ہم آہنگ کرنے کی فکری و علمی تربیت کا نظام استوار کیا جائے اور اس کے لیے پُر امن قومی، جمہوری اور سیاسی و سماجی جدوجہد کی راہ اپنانا از بس ضروری ہے۔   (مدیر)

ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
مولانا محمد عباس شاد
مولانا محمد عباس شاد

مولانا محمد عباس شاد پنجاب یونیورسٹی لاہور اور جامعہ اشرفیہ کے فاضل اور ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ سے وابستہ ہیں۔ ماہنامہ "رحیمیہ" اور سہ ماہی "شعور و آگہی" (لاہور) کے مدیر اور دارالشعور پبلشرز لاہور کے چیئرپرسن ہیں۔ ماہنامہ الصدق کے مدیر کے طور پر بھی فرائض انجام دیتے رہے۔
قومی اور سماجی مسائل کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے حالاتِ حاضرہ ان کی خصوصی دلچسپی کا میدان ہے۔ ماہ رحیمیہ میں گزشتہ کئی سالوں سے "شذرات" کے نام سے اداریہ لکھ رہے ہیں ۔