ادارہ رحیمیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس کا افتتاح

۲۱؍ ربیع الثانی ۱۴۴۰ھ / 7؍ دسمبر 2020ء بروز پیر وہ بابرکت دن تھا، جب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جناب ڈاکٹر محمدعنبر فرید اور اُن کے خاندان کی عطیہ کردہ جگہ پر ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس کا افتتاح ہوا۔ حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ العالی، مولانا مفتی عبدالمتین نعمانی اور مولانا مفتی محمدمختار حسن مدظلہم کے ساتھ بورے والا سے ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچے، جہاں پر مولانا محمدناصر کی سربراہی میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، فیصل آباد، گوجرہ، سمندری، پیرمحل کے احباب نے حضرت اقدس مدظلہٗ و دیگر احباب کا پرتپاک استقبال کیا۔
2 بجے دوپہر افتتاحی تقریب کا آغاز ہوا۔ حضرت اقدس مدظلہٗ العالی نے مفتی عبدالمتین نعمانی، مفتی محمدمختارحسن اور مولانا ڈاکٹر محمدناصر مدظلہم کے ہمراہ داخلی دروازے کا فیتہ کاٹا اور ہال میں افتتاحی تختی کی نقاب کشائی فرماتے ہوئے دعا فرمائی۔ حضرت اقدس آزاد رائے پوری مدظلہٗ العالی نے اس موقع پر خطاب ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’سب سے پہلے تو میں آپ تمام دوستوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ یہ عطیۂ خداوندی ہے، جو ہمیں حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ کی دعاؤں کے طفیل ملا ہے۔ پھر میں ڈاکٹر محمدعنبر فرید صاحب اور اُن کے خاندان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنھوں نے یہ جگہ ولی اللّٰہی فکر کے فروغ کے لیے عطیہ کی ہے‘‘۔ حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا کہ: ’’جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! اس گھر (خانۂ کعبہ) کو امن والا گھر بنا۔ عدل اور معاشی خوش حالی کا مرکز بنا۔ ایسے ہی ہمارے حضرت مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! پاکستان میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر کو مقبولیت عطا فرما اور اس کا فروغ نصیب فرما۔ الحمدللہ! حضرت اقدس رحمہ اللہ کی دعا کو اللہ نے شرفِ قبولیت بخشا اور 27؍ جون 2001ء کو ادارہ رحیمیہ لاہور کا مرکز بنا اور 14؍ ستمبر 2001ء کو اس مرکز میں پہلے درسِ قرآن کا آغاز ہوا۔ آج الحمدللہ! 20 سالوں میں ملک بھر میں رحیمیہ مراکز کا جال پھیلتا جا رہا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ اور مشائخ رائے پورؒ کی فکر کا مرکز بنائیں۔ یہاں پر درسِ قرآن کو شروع کریں۔ ذکر کی ترتیب قائم کریں۔ رحیمیہ کے مراکز غلبہ دین کے لیے ہیں۔ مغلوبیت کے لیے نہیں ہیں۔ آج ہمیں جذباتیت سے بچنے کی ضرورت ہے۔ جذباتیت سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس فکر کو اگلی نسل تک منتقل کریں۔ خود کو نفس کے دھوکے اور نفسانیت سے بچائیں۔ خود کو زیرتربیت سمجھتے ہوئے اِخلاص اور للہیت کے ساتھ کام کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت اقدسؒ کے مشن پر قبول فرمائے اور اس مرکز کو غلبہ دین کا مرکز بنائے۔ ڈاکٹر محمدعنبر فرید صاحب اور اُن کے خاندان کا یہ ایثار اُن کے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ (آمین!)‘‘
نماز ِعصر کی ادائیگی کے بعد حضرت اقدس مدظلہٗ العالی لاہور کے لیے روانہ ہوگئے۔
پاکستان کی تعلیم پر برطانوی راج کی پرچھائیں(2)

یہ سب کچھ منظم منصوبہ بندی و حکمتِ عملی کے تحت ہو رہا تھا۔ برطانیہ نے اس کے لیے پاکستان میں ایک اَور این جی او پیدا کی، جس کا نام ’’ادارہ تعلیم و آگہی‘‘ رکھا گیا۔ اس ادارے نے (Annual Status of Education Report ASER)کے عنوان کے تحت سالانہ رپورٹس کے اجرا کا آغاز کیا۔ برطانیہ نے ان رپورٹس کی اشاعت کے لیے 13 لاکھ پائونڈز خرچ کیے۔ محکمہ تعلیم و بیوروکریسی پر خصوصی نوازشات بھی کی جاتی رہیں، جن میں انھیں لندن کانفرنس کے نام پر مدعو کرنا اور انھیں وہاں کی مفت سیر کرانا شامل ہے۔
سابق وفاقی وزیر بلیغ الرحمن، پنجاب کے سابق وزیر سکولز رانا مشہود خاں بیوروکریسی کے ہمراہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں اور اب موجودہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، پنجاب کے وزیرِ سکولز مراد راس لندن یاترا کر کے آئے ہیں۔ برطانیہ نے اس تعلیمی مہم کا جائزہ لینے کے لیے ایک سروے کرایا، جس کے لیے ڈیفیڈ نے آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ کے ساتھ معاہدہ کیا، ٹی او آر طے ہوئے۔ نومبر 2017ء میں سروے کرانے کے لیے گیلپ کی خدمات حاصل کی گئیں اور پھر جنوری 2017ء میں اس سروے کو شائع کرکے میڈیا میں دوبارہ پروپیگنڈا کیا گیا۔
برطانیہ نے یہ سروے کرانے کے لیے بھی دس لاکھ پائونڈز خرچ کیے۔ ’’الف اعلان‘‘ آئے روز ڈیٹا جاری کرتا اور میڈیا میں خبریں شائع ہوتیں اور اس اشاعت کے لیے برطانیہ کو براہِ راست کوئی خرچہ بھی نہیں کرنا پڑتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے صوبائی و قومی اسمبلی کے 46 ایم پی ایز اور ایم این ایز کے انٹرویوز کیے گئے، جس میں ’’الف اعلان‘‘ کی اس مہم کو سراہا گیا۔’’الف اعلان‘‘ چند سالوں میں ہی تعلیمی شعبے میں سرایت کر گیا اور لاکھوں برطانوی پائونڈز کی چمک نے بہت سے اہلِ علم کو بھی ’’الف اعلان‘‘ کا گرویدہ بنا دیا۔ مجھے حیرانی ہے کہ حکومت نے سرکاری سطح پر آج تک اعداد و شمار کو کائونٹر چیک کرنے کی زحمت تک نہیں کی، بلکہ برطانیہ کے تیار کردہ اعداد و شمار پر ہی اکتفا کیا۔
تعلیم پر تزویراتی سرمایہ کاری کے تناظر میں برطانیہ کی طرف سے اس پراجیکٹ کے علاوہ ’’پنجاب ایجوکیشن سپورٹ پروگرام 2‘‘ کے لیے 38 کروڑ 42 لاکھ 8 ہزار 83 پائونڈز خرچ کیے گئے۔ یہ پراجیکٹ مارچ 2019ء میں مکمل ہوگیا۔ خیبرپختونخوا ایجوکیشن سیکٹر پروگرام پر 28 کروڑ 32 لاکھ پائونڈز خرچ کیے گئے۔ یہ پراجیکٹ سال 2020ء میں مکمل ہوا۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے ’’علم آئیڈیاز ایجوکیشن انوویشن پروگرام فیز2‘‘ پر 25 کروڑ 8 لاکھ پائونڈز خرچ کیے اور یہ پراجیکٹ بھی سال 2019ء مکمل ہوا۔یہ اعداد وشمار اُس سوال کے جواب کے تناظر میں پیش کیے ہیں، جس میں برطانیہ نے تعلیم پر سرمایہ کاری کو تزویراتی مفادات کے ساتھ جوڑا تھا۔
بنیادی طور پر پاکستان میں نصابِ تعلیم پر برطانیہ نے کافی حد تک کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ کنٹرول‘ پالیسی ساز اداروں کے ذریعے سے کیا گیا ہے، جس کا بنیادی ہدف جدید کالونیل عہد میں بھی نوآبادیاتی عہد کے تعلیمی ڈھانچے کو باقی رکھنا ہے۔ اس کالونیل تعلیمی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے مزید سرمایہ کاری کی جاتی رہے گی۔ یہ سرمایہ کاری سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نہیں ہوگی۔ کیوںکہ برطانوی استعمار نے اس خطے میں ہمیشہ سائنسی علوم کے مقابلے پر دیگر علوم کی سرپرستی کی ہے۔
میرے خیال میں برطانیہ کی یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی منڈی کو کنٹرول میں رکھنے کا بھی ایک خفیہ منصوبہ ہے، جس کے لیے پاکستان کی اشرافیہ یعنی سیاست دان اور بیوروکریٹس بہ طور آلۂ کار کردار نبھا رہے ہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے وفاقی وزیرِتعلیم اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے وزرائے تعلیم 18؍ جنوری 2019ء کو لندن پہنچے اور ایجوکیشن کانفرنس کے موقع پر ڈیفیڈ کے ساتھ خصوصی ملاقاتیں کیں۔ تعلیمی منصوبوں پر طویل گفتگو ہوئی، جس میں لا محالہ وزرائے تعلیم نے پاکستان میں برطانوی امداد کی خوب پذیرائی بھی کی ہوگی۔ ’’الف اعلان‘‘ کے ذریعے سے اس خطے کے مسلمان حکمرانوں کے خلاف چینلز پر اشتہارات چلائے گئے تھے، جس برعظیم پاک و ہند پر انگریز سامراج نے 200 سال تک قبضہ کیے رکھا اور معاشی لوٹ کھسوٹ کی اس کی تاریخ کے خلاف تعلیم کی آڑ میں اشتہارات چلائے گئے۔ ’’الف اعلان‘‘ نے یہ کیوں نہیں چلایا کہ برطانوی سامراج نے اس خطے کے تعلیمی نظام کو برباد کیا۔ انگریزی زبان کے ذریعے سے ہمیں محکوم کیا گیا۔ یہاں کے تعلیمی نظام کو غیرپیداواری فلسفے کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا اور پھر اسی تعلیمی نظام کی مضبوطی کے لیے 70 سال تک حکومت کی مدد کرتا رہا۔
آج یہی برطانیہ ڈیفیڈ کے ذریعے سے یہاں کے نصاب کو کنٹرول کر رہا ہے، تاکہ برطانوی سامراج کی سیاہ کاریوں پر پردہ پوشی برقرار رکھی جائے اور تعلیم کا مقصد صرف ملازمتیں پیدا کرنا ہے، تاکہ اور ورکنگ کلاس کو سماج کی اشرافیہ کلاس کے تابع داروں کی فوج تیار ہوتی رہے۔ برطانیہ یو کے ایڈ اور ڈیفیڈ کے پراجیکٹس کے تحت پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو فنانس کر رہا ہے اور یہ فاؤنڈیشن پرائیویٹ سکولوں کا نیٹ ورک چلانے والوں کو فنڈنگ کرتا ہے، یعنی برطانیہ پاکستان میں فنڈنگ پرائیویٹ اداروں اور ’’الف اعلان‘‘ جیسی این جی اوز کو کرتا ہے اور سوالات و اعتراضات اپنی اس طفیلی این جی او کے ذریعے سے سرکاری اداروں پر اٹھائے جاتے ہیں۔
پاکستان کا پورا تعلیمی ڈھانچہ دراصل بینکنگ ایجوکیشن سسٹم پر استوار ہے، جس کی بنیاد پر ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ یہی جدید نوآبادیاتی عہد کا ایجنڈا ہے۔ قوموں کے اذہان کو روشنی بخشنے میں یہاں کے نظامِ تعلیم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جاپان اور چین جیسے ایشیائی ممالک کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کمزور معیشت ہی اس خطے میں عالمی استعمار کی بقا کی ضمانت ہے اور معیشت کو کمزور رکھنے کے لیے انتشار کو ہمیشہ زندہ رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں نالج، نصاب اور ذہن کو ڈی کالونائزڈ کیسے کیا جائے؟ اس پر تفصیل آئندہ کالم میں لکھوں گا۔
حضرت مولانا شیخ بشیر احمد لدھیانویؒ

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگردوں میں ایک نمایاں نام مولانا بشیراحمد لدھیانویؒ کا بھی ہے، جو حضرت سندھیؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے بڑی ذمہ داری سے کام کرتے رہے۔ مولاناؒ پنجاب کے مشہور شہر لدھیانہ کے محلہ اقبال گنج میں ۵؍ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ /28؍جنوری 1899ء بروز جمعرات کو مولانا اللہ دینؒ کے ہاں پیدا ہوئے۔ مولانا اللہ دینؒ ’’انجمن حمایتِ اسلام لاہور‘‘ کے واعظوں میں سے تھے۔ جنھوں نے ہندوستان میں انگریزوں کی جانب سے عیسائیت کی فروغ کے مشن کی شدید مخالفت کی۔ ’’اصل انجیل‘‘ نامی اپنی کتاب میں اسلام مخالف الزامات کے جوابات بھی دیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کوبھی ثابت کیا۔
مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ نے اس دینی ماحول میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم لدھیانہ شہر میں حاصل کی۔ مدرسہ اسلامیہ لدھیانہ سے عربی، اردو اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ 1916ء میں اسلامیہ ہائی سکول لدھیانہ سے نہم جب کہ 1917ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔ 1919ء میں انٹرمیڈیٹ اور 1928ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔ انھیں عربی، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا۔ 1922ء میںروزنامہ ’’کیسری‘‘ لاہور سے منسلک ہوئے۔ 1924ء میں روزنامہ ’’سیاست‘‘ میں خدمات سرانجام دیں۔
1925ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے قائم کیے ہوئے اسلامیہ ہائی سکول میں تعلیم و تدریس کی خدمات سر انجام دینے لگے۔ اسی دوران ان کا تعلق مولانا احمد علی لاہوریؒ سے ہوا۔ حضرت لاہور یؒ سے انھوں نے دینی علوم کی تکمیل کی۔ مولانا لاہوریؒ کے ذریعے ہی ان کا تعارف امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے ہوا تھا۔1939ء میں جب امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ اپنی 24 سالہ جلا وطنی کے بعد ہندوستان واپس تشریف لائے تو کچھ عرصہ لاہور میں شیرانوالہ گیٹ کی مسجد میں قیام فرمایا تھا۔ امامِ انقلابؒ نے ولی اللّٰہی علوم و افکار کے فروغ کے لیے مولانا احمد علی لاہوریؒ سے ان کے دو سمجھ دار اور ذہین شاگرد طلب کیے تو حضرت لاہوریؒ نے اپنے دو شاگرد مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ اور مولانا غازی خدا بخشؒ حضرت سندھیؒ کی خدمت میں پیش کیے۔ مسلسل 4 سال 1940ء سے لے کر 1944ء تک حضرت سندھیؒ نے ان دونوں حضرات کو نہ صرف ولی اللّٰہی علوم و افکار سے متعارف کرایا، بلکہ دینی تعلیمات کا ایک جامع اسلوب بھی سکھایا۔ خاص طورپر مولانا لدھیانویؒ نے مولانا سندھیؒ کی بیان کردہ تقاریر اور ملفوظات کو قلم بند کیا۔ خود حضرت سندھیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم 939 ہندی میں وطن واپس پہنچے۔ اس کے بعد جب کبھی لاہور آئے اور اپنے عزیزوں کی خاطر وہاں رہے، مولوی بشیر احمد بی۔اے لدھیانویؒ ہم سے قرآن شریف سمجھنے کے لیے ملتے رہتے تھے۔ اس طرح انھوں نے کئی سو صفحات تیار کر لیے تھے۔‘‘ (قرآنی دستورِ انقلاب)
مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ کو حضرت سندھیؒ کے ساتھ محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ ہمہ وقت ان کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے، حتیٰ کہ حضرت سندھیؒ کی نا پسندیدگی جان کر انگریز کی ملازمت سے بھی علاحدگی اختیار کرلی تھی۔ انھوں نے حضرت سندھیؒ سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اکثر کتب براہِ راست پڑھیں اور ان کے تفصیلی نوٹس بھی قلم بند کیے۔ حضرت سندھیؒ کو ان کی قلم بند کی گئی تحریر پر بہت اعتماد تھا اور اپنے دوستوں اور شاگردوں کو بھی اس بات کی سفارش کی کہ وہ سب اپنی یاد داشتیں اس طرز ِتفکر کے مطابق بنالیں۔ چناںچہ حضرت سندھیؒ قرآنی دستورِ انقلاب پر لکھی ہوئی تقریظ میں فرماتے ہیں کہ:
’’ہماری تقریریں بہت سے لوگوں نے ضبط کرلی ہیں۔ ہم نے آج تک کسی کی تصحیح اپنے ذمہ نہیں لی۔ مولوی بشیر احمد اور مولوی خدابخش کی محنتوں کا ہم پر خاص اثر ہے۔ اس لیے اس رسالے پر نظرِ ثانی منظور کی۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ ان افکار کی ذمہ داری میں ہم ان کے ساتھ شریک ہیں۔‘‘
15؍ مارچ1944ء کو امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے ولی اللّٰہی علوم کے فروغ کے لیے لاہور میں ایک ادارہ ’’محمد قاسم ولی اللہ سوسائٹی‘‘ کے نام سے قائم کیا تو اس کے سیکرٹری کے طور پر مولانا بشیر احمد لدھیانویؒ کو مقرر فرمایا۔ مولانا موصوفؒ نے اس ذمہ داری کو پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رکھا اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتب اور رسائل کو بڑی محنت سے ایک جگہ جمع فرمایا۔ اسی دوران ان کی یہ کوشش رہی کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتب کی اشاعت کا بھی خاص اہتمام ہو تا رہے۔ شاہ صاحبؒ کی مایۂ ناز کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا اردو ترجمہ از مولانا محمد اسماعیل گودھرویؒ مولانا موصوفؒ کی کوششوں سے ہی ’’برہانِ الٰہی‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ حضرت سندھیؒ کے تفسیری افادات؛ قرآنی فکرِ انقلاب، قرآنی اصولِ انقلاب،قرآنی اساسِ انقلاب، قرآنی جنگِ انقلاب، حجۃ اللہ البالغہ کی اردو شرح، عبیدیہ (اردو ترجمہ محمودیہ)، امام شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ عمرانیات و معاشیات، شاہ ولی اللہ سوسائٹی اور بیت الحکمت لاہور کی جانب سے شائع کیں۔ پاکستان بننے کے بعد 1950ء میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر کو عام کرنے کے لیے لاہور سے ایک اُردو رسالہ ہفت روزہ ’’نیافکر‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی دان طبقے میں ولی اللّٰہی افکار کے فروغ کے لیے 1958ء میں ایک پندرہ روزہ انگریزی رسالہ ''New Thought'' کے نام سے جاری کیا۔ اس رسالے میںامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابوں، علوم و افکار اور حضرت سندھیؒ کی تشریحات کا انگریزی ترجمہ شائع کیا جاتا تھا اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میںان تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔
مولانا لدھیانویؒ تقریباً35 سال تک مسلسل ولی اللّٰہی افکار کے فروغ کی جدوجہد کے بعد 17؍ جنوری 1974ء بروز بدھ کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔قبرستان میانی صاحب لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان بے لوث مساعی کو قبول فرمائے اور ہمیںولی اللّٰہی افکار کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)
قرآن حکیم کی تعلیم و تربیت

18؍ دسمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ میں 17 روزہ دورۂ تفسیرِ قرآن کے افتتاح کے موقع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! کتابِ مقدس قرآن حکیم کی تعلیم و تربیت سے نصیحت حاصل کرنا، اپنے اندر صلاحیت و استعداد پیدا کرنا، جو اللہ کی یہ پاک کتاب انسانوں میں پیدا کرنا چاہتی ہے، یہ بہت اونچے درجے کی عبادت ہے۔ قرآن حکیم کا فہم و شعور، اس سے سچا تعلق پیدا ہونا، دلوں کو اس کے رنگ میں رنگنا، اس کے مطابق اپنی علمی، عملی اور عقلی، سماجی اور شعوری زندگی کو تیار کرنا بہت اعلیٰ درجے کا کام ہے۔
خاص طور پر اس غفلت کے زمانے میں جب کہ دنیا کے باطل افکار انسانی ذہنوں کو مسموم کر رہے ہیں۔ انسانیت کو انسانی ترقی کے راستے سے ہٹا کر شیطانی اور طاغوتی راستے پر ڈال رہے ہیں۔ ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ انسان اپنی انسانیت سے محروم ہو رہا ہے۔ شیطنت اور انسان دشمنی اس پر مسلط ہے۔ ایسے ماحول میں کتابِ مقدس قرآن حکیم کی تعلیم اور تربیت حاصل کرنا، اس حوالے سے اپنے اندر مہارت پیدا کرنا، یقینا دنیا اور آخرت کی کامیابی اسی میں مضمر ہے۔
آج کی ضرورت یہ ہے کہ ہم صحیح تناظر میں کتابِ مقدس قرآن حکیم کا درست فہم حاصل کریں، اس کے پیغام کو سمجھیں۔ یوں تو کتابِ مقدس قرآن حکیم کے حفظ کرنے، پڑھنے پڑھانے، دروسِ قرآن کے سلسلے قائم ہونے کا بہت غلغلہ ہے۔ قرآن حکیم کے دروس دیے جاتے ہیں۔ تفسیریں بیان کی جاتی ہیں۔ الفاظ اور معانی سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن اس پر جس تربیت کی ضرورت ہے، عملی طور پر جو کچھ اپنے دل و دماغ میں سمونے کی ضرورت ہے، اس کی طرف توجہ نہیں ہے۔ سب کچھ حلق سے اوپر ہے، چاہے وہ پڑھنا پڑھانا ہو یا درس و تدریس اور تفسیر وغیرہ کی کلاسز ہوں۔ اس کے نتیجے میں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنا، پھر اس تبدیلی کی اساس پر اپنی سوسائٹی کو بدلنا، اپنے اجتماع کو درست خطوط پر استوار کرنا، اپنے سیاسی، معاشی، سماجی اُمور کو قرآن حکیم کی تعلیمات کے مطابق آگے بڑھانا، یہ ذہن اور یہ سوچ، یہ تربیت اور مہارت آج عام طور پر ہمارے گردو پیش کے ماحول میں نہیں ہے۔
ہم آج جس دورۂ تفسیر کا آغاز کر رہے ہیں، اس میں ہم سب کی نیت یہ ہو کہ ہم اس پر عمل کرکے اپنے باطن کو روشن کرنے، اپنے فکر کو بلند کرنے، اپنے نظریے کو مستحکم بنانے، اپنی عملی مہارت کو قرآنی تعلیمات کے مطابق منتقل کرنے کے لیے جدوجہد اور کوشش کریں گے۔ اپنے آپ کو بدلیں گے۔ فرسودہ تصورات کو ذہن و فکر سے نکال پھینکیں گے۔ قرآنی افکار و خیالات کو دل و دماغ میں جذب کریں گے۔ انبیاؑ اور صحابہؓ، اولیاء اللہؒ اور علمائے ربانیّینؒ کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ تبھی پڑھنے پڑھانے کا پورا فائدہ ہے۔‘‘
قرآن حکیم کے علوم برہانی اور نورانی ہیں!
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (القرآن174:4) کہ اے لوگو! تم پر تمھارے ربّ کی طرف سے بُرہان، واضح دلائل اور شعور کے ساتھ پیغام آچکا ہے اور ہم نے تمھاری طرف واضح نور نازل کیا ہے۔ اس آیت میں دو باتیں فرمائی ہیں: ایک یہ کہ قرآن حکیم ’’برہان‘‘ ہے۔ برہان ہر اُس دلیل کو کہتے ہیں، جس کے مقدمات (صغریٰ و کبریٰ) حقائق اور سچائی پر مبنی ہوں۔ ظنی، وہمی اور شک پر مبنی نہ ہوں ۔ جیسے روز ِروشن کی طرح سورج نکلا ہوا ہے تو یہ ایک حقیقت ہے۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم وہ عقلی دلائل (Logics) اور شعور انسانیت میںمنتقل کرتا ہے، جو کائنات کی انتہائی سچائی پر مبنی ہے۔ دوسری بات یہ کہ قرآن حکیم ’’نورِ مبین‘‘ ہے۔ نور کا تعلق روح کی مَلَکی قوت کے ساتھ ہے اور روح کی حقیقت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ’’روح ایک ناقابل تقسیم حقیقت ہے۔ وہ ایک نورانی نقطہ ہے، جو روح الکل سے کٹ کر ماں کے پیٹ میں بچے کے جسم کے اندر آیا۔ وہ ایک نور ہے‘‘۔ اس نور کو اپنی طاقت اور قوت بڑھانے کے لیے ایک نور کی ضرورت ہے۔ اور نور بھی وہی ہو، جو آسمان سے نازل ہوا ہو۔ تو ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور یعنی قرآن حکیم نازل کیا ہے۔ اس طرح انسان کی روحِ ملکوتی کے نور کے ساتھ نورِ قرآنی ملا تو (القرآن 35:24) ہوگیا۔
حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ اللہ نے جب انسان بنایا، اس کی روحانی و نفسانی طاقت و قوت کو وجود بخشا۔ پھر اپنی تجلی کی روشنی انسانی روح پر ڈالی تو اس کے ذریعے سے انسان کا پورا وجود روشن ہوگیا۔ جس سے یہ پتہ چلا کہ اس انسان کے جسم اور روح کے لیے کون کون سی چیزیں مفید اور ضروری ہیں اور کون کون سی چیزیں مضر اور نقصان دہ ہیں۔ جو انسان کے لیے انتہائی لازمی اور ضروری تھیں، اللہ نے اُسے فرض اور واجب قرار دے دیا اور جو نقصان دہ تھیں، انھیں حرام قرار دے دیا۔ قرآن حکیم کے علوم برہانی بھی ہیں اور نورانی بھی ہیں۔ جب تک یہ دونوں جمع نہیں ہوں گے، اس وقت تک انبیا علیہم السلام کے علومِ نبوت پوری طرح سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ نہ قرآن حکیم سمجھ میں آئے گا اور نہ اُس کی تعلیمات پر تربیت ہوگی۔ آج کے اس زوال کے زمانے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ کتابِ مقدس قرآن حکیم کے برہانی علوم تو سب پڑھتے ہیں۔ مدرسے کھلے ہوئے ہیں، مسجدیں کھلی ہوئی ہیں، خانقاہیں بنی ہوئی ہیں، تبلیغ، اور پتہ نہیں کیا کیا۔ اسلامی جماعتیں ہیں، اسلام کے نام پر ملک ہیں، یونیورسٹیاں ہیں، کالجز ہیں، اس کا برہانی عمل ہے، لیکن اس کا جو نورانی عمل ہے کہ حلق سے نیچے روح کے اندر اس کے اثرات ہوں، دل اور دماغ کو وہ روشن کرے، نورانیت پیدا کرے۔ اس کی محنت بہت کم ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ تمام تر تعلیم و تعلّم حلق سے اوپر اوپر محض برہانی ہوتا ہے اور وہ بھی ناقص اور ادھورا۔ اس لیے کہ جب انسان دو چیزوں جسم اور روح سے مرکب ہے اور صرف جسم کے تقاضوں کے تناظر میں بات سمجھی جائے تو ادھوری بات سمجھ میں آئے گی۔ پوری بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔‘‘
دل؛ انسانی ارادوں کا مرکز اور منبع ہے!
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’انسانی جسم کا سب سے پاورفل ارادوں کا مرکز اور منبع دل ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’تمھارے جسم میں ایک ٹکڑا ہے، وہ ٹکڑا ٹھیک ہوجائے تو پورا جسم ٹھیک۔ وہ ٹکڑا خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب۔ اور وہ دل ہے‘‘۔ (صحیح بخاری) دل ٹھیک ہے، سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہی حال نورانیت کا ہے۔ جس دل میں روح کا نور پھیلا ہوا ہے، وہ نورانی عمل جو قلب نے محفوظ کیا ہوا ہے، وہی آگے پھیلے گا۔ ورنہ تو دل پتھر کا ٹکڑا ہے۔ قرآن حکیم نے کافروں کے بارے میں کہا کہ وہ سینے میں دل تو رکھتے ہیں، لیکن سمجھتے نہیں ہیں۔ کیوں کہ ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہیں، جن پر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔ وہ کہتے ہیں: ’’ہمارے دلوں پر تو غلاف چڑھا ہوا ہے‘‘۔ (القرآن: 88:2) اور جس قلب پر چاروں طرف غلاف چڑھا ہوا ہو تو نور اُس کے اندر جائے گا؟ نہیں! روشن دلوں سے ہی اگلے دلوں تک بات منتقل ہوتی ہے، جو کھلے دل کے ساتھ اُسے قبول کرتے ہیں۔
اسی لیے دین اسلام کی تعلیمات میں قرآنی علوم سمجھنے کے لیے تسلسل رکھنے والے علمائے ربانیّین کا ہونا بہت ضروری ہے کہ آپ کا سلسلۂ سند کیا ہے؟ آپ کے دل کا سلسلہ کسی مقفل اور مغفل دل سے تو نہیں جڑا ہوا ہے؟ اگر ایسے دل سے جڑا ہوا ہے تو اسلام کے جتنے مرضی نعرے لگاتے رہو، کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اگر وہ اُن دلوں سے جڑا ہوا ہے، جن کے دل روشن ہیں، جو روشن ضمیر اور روشن خیال ہیں، جن کے قلب اور عقلیں روشن ہوچکی ہیں، اُن کے نقش قدم پر چلو گے تو دل روشن ہوگا۔ روشن دل سے ہی روشنی حاصل ہوگی۔ تبھی یہ نورِ مبین سمجھ میں آئے گا۔ اندھے دل سے کوئی روشنی حاصل نہیں ہوگی۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ اس برعظیم پاک و ہند میں روشن خیال، روشن دل، روشن ضمیر اور روشن عقل والے لوگ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندیؒ، حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور اُن کے سلسلے کے تربیت یافتہ علما ہیں۔ کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جتنے بھی اس وقت مذہب کے نمائندہ فرقے ہیں، تمام کے ہاں یہ دونوں شخصیات متفق علیہ ہیں۔ تمام سلسلے، تمام تر بزرگوں کی روشن ضمیری اور اس کی روشنی اور نور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ میں آکر جمع ہوجاتا ہے۔ پھر انھیں کے قلب کے فیوض سے قرآن حکیم پڑھنے پڑھانے اور سمجھنے سمجھانے کا سلسلہ اس پورے برعظیم پاک و ہند میں، بلکہ دنیا بھر میں پھیلا۔ اس ولی اللّٰہی جماعت کے علوم انسانی قلوب میں منتقل ہوئے۔ یہ شخصیات نہ صرف امام الانبیا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلب ِاطہر اور مشکوٰۃِ نبوت سے فیض حاصل کرنے والی ہیں، بلکہ اُن کے تربیت یافتہ صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، اولیاء اللہؒ، علمائے ربانیینؒ اور پورے ایک ہزار سال کا تاریخی تسلسل لیے ہوئے ہیں۔ یہ ایسا فکر و عمل ہے کہ جس کے ذریعے سے قرآن حکیم کی برہان بھی سمجھ میں آتی ہے اور قرآن حکیم کا نور بھی واضح ہوتا ہے۔ اس کی تبیین بھی واضح ہوتی ہے۔ اس کا فہم و شعور بھی آتا ہے۔‘‘
اجتماعی زندگی میں ’’اَخلاق‘‘ کی اہمیت
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ہمارے ہاں فکر کو اہمیت دی جاتی ہے اور فکر و فلسفے کے نام پر بہت کچھ پڑھا پڑھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ اعمال کی درستگی کے پیچھے لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ اعمال صحیح ہونے چاہئیں، قرآن کے مطابق ہونے چاہئیں، لیکن ایک تیسری بڑی اہم چیز ہے، جس کی طرف عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی۔ وہ یہ ہے کہ یہ افکار و اعمال مسلسل کرنے کے نتیجے میں انسان میں ایک عادت، خُلق اور ویلیو پیدا ہوتی ہے، جسے اَخلاق کہتے ہیں۔ اصل میں ان اَخلاق کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل فکر کو درست کرنے کی بات ہے، اعمال کو درست کرنے کی بات ہے، لیکن غلط اعمال اور غلط افکار کے نتیجے میں جو بداَخلاقیاں پیدا ہوگئی ہیں، اس کا کیا علاج ہے؟ خُلق وہ ہوتا ہے، جو ماضی میں کسی عمل کو مسلسل کرنے کے نتیجے میں آپ کے دل، دماغ اور عقل کی جو حالت ہوچکی ہو، اس کی وجہ سے اُس کی جو ساخت بن چکی اور جس ڈھب پر وہ ڈھل گیا ہو۔ صوفیائے کرام اسی خُلق کو زیربحث لاتے ہیں۔
اَخلاق کے ذریعے سے فکر کا بھی پتہ چلتا ہے کہ فکر صحیح تھا یا نہیں؟ اَخلاق کے ذریعے سے عمل کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں جو عمل کیے تھے، وہ کیسے تھے؟ نماز پڑھی تھی، اس کے پیچھے جو سوچ کارفرما تھی، نیت تھی، وہ کیسی تھی؟ اگر اس نماز پڑھنے کے نتیجے میں فکر صحیح ہوتا، عمل صحیح ہوتا، تو ضرور یتیم و مسکین کے کھانے کا بندوبست کرتا۔ ضرور انصاف پسند ہوتا۔ اور اگر نہیں ہے تو (القرآن 4:107)؛ ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ انسان وہ ہے، جو ؛ (1:107)انصاف کا منکر ہے۔ اس نے نمازیں بڑی پڑھیں، روزے بہت رکھے، بڑے حج اور عمرے کیے اور افکار و خیالات بھی بڑے اچھے تھے۔ زبان اور حلق سے بڑے اعلان کرتا تھا۔ اس کی پارلیمنٹ کے ماتھے پر بھی لکھا ہوا تھا لا الٰہ الا اللہ۔ لیکن کیا اس کے مطابق اس کے اَخلاق بھی تھے؟
قرآن حکیم ہمیں اس طرح سیکھنا ہے کہ ہمارا فکر بھی صحیح ہو، عمل بھی صحیح ہو اور اس کے نتیجے میں ہمارا خُلق بھی صحیح ہو۔ اور ان تینوں کے مجموعے کا اثر سوسائٹی پر ظاہر ہو تو پھر تو نتیجہ درست ہے۔ اور اگر سوسائٹی میں اثر نہیں ہے، حقائق کے تناظر میں اَخلاق و اَقدار نہیں ہیں تو یہ حلق سے اوپر اوپر قرآن پڑھنا ہے۔ حلق سے اوپر اوپر حدیث پڑھنا ہے۔ حلق سے اوپر اوپر اسلام ہے۔ ان تینوں کا درست ہونا، قرآن حکیم کے نزول کا مقصودِ اصلی ہے۔
ہمیں ادارہ رحیمیہ کے اس دورۂ تفسیر میں قرآن حکیم کو اولیاء اللہ کے علوم و افکار کے تناظر میں سمجھنا ہے کہ ہمارا فکر بھی صحیح ہوجائے، ہمارا عمل بھی صحیح ہوجائے اور ہمارا خُلق اور اقدار بھی درست ہوجائیں۔ نہ صرف قومی دائرے میں، بلکہ پوری انسانیت کے دائرے میں ہمارے اَخلاق درست ہوں۔ اور اَخلاق و اقدار تبھی درست ہوں گے کہ جب ہماری گفتگو صحیح ہو، فکر صحیح، عمل صحیح اور اس کے نتیجے میں ہمارے اعمال اور اَخلاق بدلیں۔‘‘
عالمی اجارہ دار کمپنیوں کے خلاف بھارتی کسانوں کا احتجاج

انڈین پارلیمان نے ستمبر 2020ء کے تیسرے ہفتے میں زراعت کے متعلق یکے بعد دیگرے تین بل متعارف کروائے، جنھیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔ انھیں ’’بازار کو سہولت فراہم کرنے والے‘‘ قوانین کہا گیا ہے۔ پہلا قانون ’’زرعی پیداوار، تجارت اور کامرس قانون 2020ئ‘‘ ہے۔ دوسرا ’’کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی سروس قانون 2020‘‘ ہے، جس میں قیمت کی یقین دہانی اور معاہدے شامل ہیں۔ تیسرا ’’ضروری اشیا (ترمیمی) قانون‘‘ہے۔
پہلے قانون میں ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے ایک شق شامل کی گئی ہے، جہاں کسانوں اور تاجروں کو مارکیٹ کے باہر فصلیں فروخت کرنے کی آزادی ہوگی۔ ان دفعات میں ریاست کے اندر اور دو ریاستوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹنگ اور نقل و حمل کے اخراجات کوکم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی قانون 2020ء میں زرعی معاہدوں پر قومی فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔
اس بل سے کاشت کاروں کو زرعی مصنوعات، فارم خدمات، زرعی کاروباری کمپنیوں، پروسیسرز، تھوک فروشوں، بڑے خوردہ فروشوں اور برآمد کنندگان کی فروخت میں شامل ہونے کا اختیار دیا گیا ہے۔ معیاری بیج کی فراہمی کو یقینی بنانا، تکنیکی معاونت اور فصلوں کی صحت کی نگرانی کے ساتھ ساتھ معاہدہ کرنے والے کسانوں کو قرض کی سہولیات اور فصلوں کی انشورنس فراہم کی جائے گی۔ ضروری اشیا (ترمیمی) قانون 2020ء کے تحت اناج، دالیں، خوردنی تیل، آلو، پیاز کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی ان اصلاحات کے خلاف 8؍ ستمبر 2020ء سے ملک گیر ہڑتال ’بھارت بند‘ کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ زراعت کے شعبے میں ’’بازار کو سہولت فراہم کرنے والے‘‘ قوانین کے نفاذ سے نجی کردار کے باعث کسانوں کی آمدنی متأثر ہوگی۔ کسانوں کے مطالبات کو درست ٹھہراتے ہوئے حزبِ اختلاف کی اہم پارٹی کانگرس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے علاقائی سطح پر مضبوط پارٹی ڈی ایم کے، ٹی آر ایس، ایس پی، بی ایس آر، آرجے ڈی، شیو سینا، این سی پی، اکالی دل، عام آدمی پارٹی، جے ایم ایم اور گپکر اتحاد نے ’’بھارت بند‘‘ کی حمایت کی ہے۔
یہ متنازع اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، قیمت اور ذخیرہ کرنے کے حوالے سے موجودہ قواعد کونرم کردیں گی۔ انڈیا کے کسان ان قواعد کی وجہ سے دہائیوں تک آزادانہ مارکیٹ کی قوتوں سے محفوظ رہے ہیں۔ ان نئے قوانین کے نفاذ سے نجی خریدار بھی مستقبل میں فروخت کے لیے ضروری اجناس ذخیرہ کرسکیں گے، جوکہ اس سے پہلے صرف حکومت سے منظور شدہ ایجنٹ ہی کرسکتے تھے۔ اس کے علاوہ ان میں ٹھیکے پر زراعت کے قواعد بھی بنائے گئے ہیں، جن میں کسان کسی مخصوص خریدار کی طلب کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی پیداوار میں بھی تبدیلی کرسکتے ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ کسان اپنی پیداوار براہِ راست نجی شعبے (زرعی کاروبار، سپر مارکیٹس اور آن لائن سودا سلف کی ویب سائٹس) کو مارکیٹ قیمتوں پر فروخت کرسکیں گے۔
حالیہ صورتِ حا ل میں بھارتی کسان اس وقت اپنی پیداوار کا زیادہ تر حصہ حکومت کے زیرِانتظام تھوک منڈیوں میں امدادی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ یہ منڈیاں مارکیٹ کمیٹیاں چلاتی ہیں۔ کسان، بڑے زمین دار اور تاجر، یا کمیشن ایجنٹ بھی ان میں شامل ہوتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کا کام اجناس کی فروخت کے لیے آڑھتی کا کردار ادا کرنا، ذخیرہ کرنا، نقل و حمل کا انتظام کرنا اور سودے بازی کے عمل میں شریک رہنا ہے۔ کم از کم کاغذات کی حد تک تو یہ اصلاحات کسانوں کی پیداوار منڈیوں کے اس نظام سے باہر فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ کسانوں کو تشویش ہے کہ ان اصلاحات سے بالآخر تھوک منڈیاں اور امدادی قیمتیں ختم ہوجائیں گی۔ ان کے پاس کوئی سہارا نہیں بچے گا۔ اگر وہ کسی نجی خریدار کی پیش کش کردہ قیمت سے مطمئن نہ ہو ں تو وہ منڈ ی میں جاکر اسے فروخت نہیں کرسکیں گے، نہ ہی منڈی کی قیمت کو بنیاد بناکر خریدار سے بھائو تائو کرسکیں گے۔
موجودہ قوانین کا مقصد بڑے کاروباریوں کے لیے ملک کے زرعی شعبے میں عمل دخل پیدا کرنا ہے۔ زرعی شعبے میں بڑی کارپوریشنوں کا عمل دخل بڑھانے سے منفی اثرات پیدا ہوسکتے ہیں، جس سے چھوٹے کسانوں کی زرعی آمدنی مزید کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ انھیں بے رحم نجی کاروباری جتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ایسا ہی ہے، جیسے کسی بکریوں کے ریوڑ کو بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا جائے۔ مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمتوں کے تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقۂ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہیں۔ نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہِ راست چھوٹے کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کرلیں۔ کسی کسان تنظیم کی طرف سے ان اصلاحات کا کبھی تقاضا نہیں کیا گیا۔ مودی حکومت کو پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کا اس قدر درد کیوں محسوس ہونے لگا؟ اصل وجہ یہ ہے کہ گز شتہ صدی میں 60 کی دہائی کے دوران انڈیا میں زرعی اصلاحات کے نتیجے میں زراعت کے شعبے میں جو گراں قدر ترقی ہوئی تھی، دیوہیکل کاروباری کارپوریشنیں ان ثمرات پرللچائی ہوئی نظریں جمائے ہوئے تھیں۔ وہ موجودہ حکومت کے ذریعے ان ریاستوں کی عوام سے انھیں چھیننا چاہتی ہیں۔ کسان دوستی کی بنیاد پر گزشتہ قومی حکومتوں نے جو زرعی نظام بنایا تھا، آج دنیا کی فوڈ چینز اُسے ختم کرکے اپنے سامراجی مقاصد پورا کرنے کے لیے وہاں کے زرعی نظام کو بدلنا چاہتی ہیں۔ یہ وہاں عام کسان کے لیے تباہی کا راستہ ہے۔ اسی لیے اُن کی ہڑتال کامیاب جا رہی ہے۔
دُنیا کے ساتھ ساتھ

پاکستان کی آبادی 22 کروڑ نفوس کے لگ بھگ ہے، جو اسے آبادی کی بنیاد پردنیا کا ساتواں بڑا ملک بنادیتی ہے۔ آج کے دور میںمعیشتوں کے استحکام کی بنیادیہ ہے کہ اس معیشت کی مقامی کھپت کیسی ہے؟ اس بنیاد پر پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پیداوار کی کھپت کو ہر لحظہ بڑھانے کے لیے نت نئی مصنوعات متعارف کروائی جاتی ہیں۔ میڈیا کی طاقت سے انھیں انسانی زندگیوں کا لازمی حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ کسی جنس (commodity) کی کامیاب پذیرائی پر اسے بیرونِ ملک بھی متعارف کروایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے برآمدات میں اضافے کی دوڑکا آغاز ہوجاتا ہے۔ یہ وہی معاشی ماڈل ہے، جس کی پیروی میں یورپی طاقتیں عالمی سامراج کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ اُن طاقتوں نے اپنی اپنی اجارہ داری کو مضبوط کرنے کے لیے منڈیوں پر قبضہ کیا۔ بڑی بڑی فوجیں بنائیں۔ اس مقصد کے لیے قرضوں کا سہارا لیا گیا۔ ان خساروں کو پورا کرنے کے لیے ایشیا اور افریقا کا رُخ کیا گیا۔ لیکن اکیسویں صدی میں چین اور بھارت جیسی تازہ دم معاشی قوتوں نے مذکورہ ماڈل میں کئی جوہری تبدیلیاں کردی ہیں، جس میں اوّل درجے پر اپنی مقامی آبادیوں کی قوتِ خرید میں بہ تدریج اضافہ اور اس سے پیدا ہونے والی طلب کو مقامی پیداوار سے پورا کیا جائے۔ اس عمل میں ان ملکوں کی آبادی ہی ان کا سب سے بڑا سرمایہ بن چکی ہیں۔ چناںچہ متنوع اشیائے صَرف اور ان میں پیچیدہ ربط دراصل معاشی سرگرمیوں کو روز افزوں ترقی دیتا جارہا ہے۔ دنیا میں متعارف ہونے والی اجناس ان معیشتوں کا رخ کرتی ہیں، جہاں ان کی کھپت مؤثر انداز میں ہو سکے۔
ایک بڑی آبادی کا ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان بھی اس عالمی رسد کے نیٹ ورک کا حصہ ہے، لیکن بد قسمتی سے یہ ابھی تک پرانے معاشی ماڈل پر ہی چلنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ہمارا دہائیوں پر محیط تجارتی خسارہ اور بے پناہ قرضے اس کا ثبوت ہیں، جس میں عموماً اضافہ ہی دیکھا گیاہے۔ قرضے اتارنے کے لیے پاکستانی عوام ہی ہے۔ ہمیں یورپی قوتوں کی طرح نوآبادیات کی سہولت میسر نہیں۔ معاشی بقا کے لیے حکومت نے تدریجاً اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، جیسے کپڑے اورتعمیراتی شعبوں سے متعلق صنعتیں اب کروٹ لیتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں۔ دوسری طرف الیکٹرک گاڑیوں اور موبائل فون کی مقامی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے حال ہی میں ٹیکس میں مراعات کا پیکج دیا گیا ہے، جس پر مکمل عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کو قریباً دو ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ تیل کی درآمد میں بھی بہ تدریج کمی آئے گی۔ لیکن یہ سب کاوشیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتیں، جب تک پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہے گا۔ کیوںکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی ملکی معیشت کو پھر سے صفر پر لے جاتی ہے۔ ہمارے اوپر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا جال سالانہ بنیادوں پر ہماری آمدن کا 40 فی صد ہڑپ کرجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا گھن چکر ہے کہ ساری محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ یہ کام مشکل ہے، لیکن اپنے خطے کی اُبھرتی معاشی قوتوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنے کے لیے ان قرضوں کے بوجھ میں تدریجاً کمی ناگزیر ہے۔
یورپ میں بنواُمیہ کی فتوحات اور علوم و فنون کی ترقی

تاریخ میں بنواُمیہ کا دورِ حکومت سیاسی اور دینی وحدت کے اعتبار سے سنہری اور فتوحات کا دور تھا۔ اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نُصَیرافریقا کے گورنر تھے۔ طارق بن زیاد (م 720ئ) جن کا بربر نسل سے تعلق تھا، موسیٰ بن نُصَیر نے ان کی ذہانت اور جرأت کے پیش نظر ان کی سرپرستی اور تربیت کی۔ وہ پیدائشی جرنیل تھے۔ سپہ گری اُن کے خون میں شامل تھی۔ وہ بلاکے ذہین تھے۔ جوان ہوئے تو اُن کو موسیٰ بن نُصَیر نے طنجہ کا گورنر بنا دیا۔ یہ شہر آج کل مراکش کا حصہ ہے۔ طنجہ سے سپین کا فاصلہ صرف چودہ کلومیٹر ہے۔ طارق نے موسیٰ بن نُصَیر کے حکم سے 711ء میں سپین کے مظلوموں کی داد رسی کرتے ہوئے حملہ کیا اور سپین کے تمام چھوٹے بڑے شہر فتح کرلیے۔
اس طرح خلافت ِبنواُمیہ نے خلافت ِراشدہ کی فتوحات کو آگے بڑھایا اور مشرق و مغرب میں دور دور تک پھیلایا؛ مشرق میں چین اور مغرب میں بحرِ ظلمات تک۔ گویا اپنے زمانے کی تمام متمدن دنیا کو فتح کرڈالا۔ دورِ بنواُمیہ میں ہی سمندروں کے دور دراز جزیروں، براعظم افریقا کے ریگستانوں اور ہندوستان کے میدانوں تک اسلام کی دعوت پہنچائی۔ دورِ بنواُمیہ میں عربوں کی حیثیت ایک فاتح قوم کی رہی۔ عربی اَخلاق، عربی زبان، عربی تمدن، عربی مراسم سب پر غالب رہے۔ چناںچہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اندلس (سپین) خلافت ِاُمویہ کا ایک صوبہ تھا۔ 756ء میں قرطبہ کی امارت کے قیام پر عبدالرحمن الداخل یہاں کے امیر بنے۔ اس طرح خلافت کے دو مرکز وجود میں آئے؛ ایک بغداد اور دوسرا اندلس (سپین)۔
929ء میں عبدالرحمن الناصر جب خلیفہ بنے تو اُن کے دور میں سائنسی و دینی علوم کی وسیع پیمانے پر ترقی ہوئی۔ عبدالرحمن الناصر کی خلافت سے پہلے اندلس (سپین) کی خلافت کے ابتدائی دو سو سالہ دور میں مختلف حکمرانوں نے اپنے اپنے زمانے میں علمی و فکری مجالس منعقد کیں۔ تمام علوم و فنون کی کتابیں دنیا بھر سے جمع کرنے کے کام کا آغاز ہوا۔ تاہم عبدالرحمن الناصر کا دور جہاں تمدنی حوالے سے قابل تعریف ہے، وہاں سیاسی استحکام کی بدولت علوم و فنون کی ترقی و ترویج میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دور ہے، جس میں مسلمانوں نے علومِ عقلیہ پر تجربات کیے۔ اندلس (سپین) کے سائنس دانوں نے سائنسی طریقۂ کار کو فروغ دیا اور علمِ ہیئت، علمِ ریاضی، علمِ کیمیا، علمِ طب، علمِ نجوم، علمِ نباتات اور علمِ جغرافیا اور دیگر بے شمار صنعتی علوم و فنون کو اندلس (سپین) کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا۔ تعلیم اس قدر عام ہوئی کہ شرح خواندگی سو فی صد تک جا پہنچی، جب کہ براعظم یورپ کے دیگر تمام صلیبی ممالک جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے۔
اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے راستے کی رُکاوٹیں

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جاننا چاہیے کہ (اَخلاقِ اربعہ کو حاصل کرنے میں) تین بڑے حِجابات ہیں:
(1) حِجابُ الطّبع (انسان کی طبیعت کے تقاضوں سے پیدا ہونے والا حجاب)
(2) حِجابُ الرّسم (انسان کے ماحول میں موجود رسم و رواج کا حجاب)
(3) حِجابُ سُوئِ المعرفہ (حقائقِ کائنات کو سمجھنے میں بدفہمی کا حجاب)
(1) حِجابُ الطّبع:اس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان میں کھانے پینے اور نکاح کے تقاضے پائے جاتے ہیں اور اس کا دل طبعی تقاضوں کے احوال و کیفیات کی سواری بنا رہتا ہے۔ مثلاً حزن و غم، خوشی اور نشاط، غضب اور خوف وغیرہ وغیرہ۔ انسان ہر وقت ان میں مشغول رہتا ہے۔ جب بھی ان تقاضوں کے مطابق کوئی حالت اس پر طاری ہوتی ہے تو وہ اس کے حصول کے اسباب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اُس کی علمی قوتیں ان تقاضوں کی مناسبت سے اس حالت کے تابع ہوجاتی ہیں۔ انسانی نفس اُسی میں غرق ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس طرح وہ باقی تمام چیزوںکو بھلا بیٹھتا ہے۔ جب وہ نفسانی تقاضے کی اس حالت سے فارغ ہوتا ہے تو اس کا اثر اور رنگ اس کے نفس پر باقی رہ جاتا ہے۔ اسی طرح دن رات گزرتے رہتے ہیں اور وہ انھیں تقاضوں کے پورا کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اَور کمال کے حصول کے لیے اپنے آپ کو فارغ نہیں کر پاتا۔
کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے قدم نفس کے ان طبعی تقاضوں کی دلدل میں کچھ اس طرح دھنس جاتے ہیں کہ طویل عمر کے باوجود بھی وہ اُس سے نکل نہیں پاتے۔ بہت سے انسان ایسے ہوتے ہیں کہ اُن پر اُن کے طبیعی تقاضوں کے اثرات بہت غالب ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اُس کی گردن سوسائٹی کی اجتماعی رسومات اور عقل کے تقاضوں کے دائرے سے بھی آزاد ہوجاتی ہے۔ کسی ملامت کرنے والے کی ڈانٹ ڈپٹ کا بھی اُس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس حجابِ طبع کو ’’حجابِ نفسانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
(2) حِجابُ الرّسم: لیکن وہ آدمی جس کی عقل بہتر ہو، اُس کی غفلت دور ہوچکی ہو، وہ کسی وقت یہ فرصت حاصل کرلیتا ہے کہ اُس کے طبعی تقاضے اور حالات کم ہوجائیں۔ وہ ان طبعی تقاضوں کے ساتھ ساتھ دیگر احوال کی گنجائش پیدا کرلیتا ہے۔ وہ اپنے طبعی تقاضوں کو کنٹرول کرکے دیگر علوم کے فیضان کا مستحق بن جاتا ہے۔ وہ اپنی عقلی اور عملی قوتوں کے اعتبار سے نوعِ انسانی کے کمال کے حصول کا شوق اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔ جب اُس کی اس مقصد کے لیے آنکھ کھلتی ہے تو سب سے پہلے وہ اپنی قوم کو دیکھتا ہے، اپنی قوم کے ارتفاقات، عادات و اَطوار، فخر و مباہات، فصاحت اور بلاغت سے متعلق فضائل اور پیشوں کو پہلی مرتبہ دیکھتا ہے تو اُس کے دل میں اپنی قوم کی ان عادات و رسومات کی عظمت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ پورے عزم اور کامل ارادے سے انھیں قبول کرتا ہے اور اپنی ہمت اُن کے حصول میں لگا دیتا ہے۔ اس حجاب الرسم کو ’’دنیاوی حجاب‘‘ کہا جاتا ہے۔
(3) حِجابُ سُوئِ المعرفہ:لوگوں میں سے کچھ انسان ہمیشہ اس حجابِ دنیا میں مستغرق رہتے ہیں، یہاں تک کہ انھیں موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کے تمام دنیاوی فضائل سِرے سے ختم ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے کہ دنیاوی رسومات اور فضائل بدن اور دنیاوی ساز و سامان کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ مرنے کے بعد انسانی نفس بدن اور دنیاوی عادات سے فارغ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہوتی ہے، جیسا کہ (قرآن حکیم میں) ایک باغ والے کی مثال دی گئی ہے کہ اُسے آگ کے بگولے نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ (القرآن 266:2) یا ایسی راکھ بنا دیا کہ آندھی کے طوفان کی تیز ہواؤں نے اُسے اُڑا کر رکھ دیا ہو۔ (القرآن 18:14)
اگر کوئی انسان بہت زیادہ چاک و چوبند اور بڑا ذہین ہو اور کسی منطقی دلیل، یا کسی عوامی خطاب اور بیانیے، یا شریعت کی اتباع سے اُسے اس بات کا یقین ہوجائے کہ بے شک اُس کا ایک ربّ ہے۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ اُن کے تمام اُمور کا انتظام کرنے والا ہے۔ وہ ان پر اپنی تمام نعمتوں کا انعام کرنے والا ہے۔ پھر اُس کے دل میں اپنے ربّ تبارک و تعالیٰ کی طرف جھکاؤ اور میلان پیدا ہوجائے، اُس سے محبت رکھنے لگے اور اُس کا تقرب حاصل کرنے کا پختہ ارادہ کرلے، اپنی تمام ضرورتوں اور حاجتوں کو اُسی کے سامنے پھیلائے، اپنے آپ کو اُسی کے سپرد کردے۔ ایسے انسانوں کی دو قسم ہیں:
(1) ایک وہ جو اللہ کی معرفت کے حوالے سے بالکل صحیح ہوتے ہیں۔
(2) دوسرے وہ جو اس سلسلے میں معرفت کی خرابی اور بدفہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے تعلق کے حوالے سے دو بڑی غلطیاں ہیں:
(1) اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں مخلوق کی صفات کا اعتقاد رکھے (تشبیہ)۔
(2) مخلوقِ خدا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اعتقاد رکھے (شرک)۔
پہلی غلطی ’’تشبیہ‘‘ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غائب (اللہ تبارک و تعالیٰ) کو حاضر (مخلوقِ خدا) پر قیاس کرنا۔ دوسری غلطی ’’شرک‘‘ ہے۔ اس کا سبب مخلوق میں سے کسی میں خلافِ عادت کسی معجزے کے آثار دیکھنا۔ پھر یہ گمان کرنا کہ اس معجزے کو اس مخلوق نے ہی پیدا کیا ہے اور یہ اُس کا ذاتی کمال ہے۔
مناسب یہ ہے کہ تم تمام انسانوں کے احوال و خواص کے اعداد و شمار جمع کرو۔ پھر جائزہ لو کہ میں نے جو کچھ تمھیں حجابات کے حوالے سے مذکورہ بالا خبر دی ہے ، کیا اس میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ میرا تمھارے بارے میں یہ گمان ہے کہ تمھیں ایسا کوئی فرق نہیں ملے گا، بلکہ ہر انسان __ وہ کسی شریعت کا ہی پابند کیوں نہ ہو __
(1) کسی نہ کسی وقت ’’حجابِ طبع‘‘ میں ضرور مستغرق رہتا ہے، کم ہو یا زیادہ ہو۔ اگرچہ وہ رسمی طور پر صحیح اعمال ہی کیوں نہ کرتا ہو۔
(2) وہ کسی نہ کسی وقت ’’حجابِ رسم‘‘ میں بھی مستغرق رہتا ہے۔ اس کے نزدیک اُس وقت اہم بات اپنی قوم کے عقل مندوں کی طرح گفتگو، رہن سہن، اَخلاق اور معاشرت میں مشابہت اختیار کرنا ہوتا ہے۔
(3) وہ (’’حجابِ سوئِ معرفت‘‘ کی وجہ سے) بعض اوقات اپنے آباؤ اجداد سے سنی سنائی بدفہمی کی باتوں کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ اور کائنات میں اُس کی تدبیرِ غیبی کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ و اللہ اعلم
(باب الحُجُبِ المانعہ عن ظہورِ الفطرۃ)
تیاری کے بغیر حکومت میں آنا ،اور کرنے کا اصل کام!

گزشتہ دنوں تبدیلی کی دعوے دار جماعت کے لیڈر اور موجودہ حکومت کے وزیراعظم نے وزارتوں کی کارکردگی کے معاہدوں پر دستخط اور وفاقی وزارتوں کو کارکردگی سے متعلق اہداف سونپنے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ: ’’کسی بھی سیاسی جماعت کو تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چاہیے۔ حکومت میں آئے تو تین ماہ صرف معاملات کو سمجھنے میں لگ گئے ۔۔۔۔۔ اب ہمیں سسٹم کو بدلنا چاہیے‘‘۔
حال آںکہ حکومت میں آنے سے قبل ان کا دعویٰ اس کے بر عکس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بڑے ماہر اور تجر کار لوگ ہیں، حال آںکہ یہ تجربہ کار لوگ بھی اسی نظام کے تحفظ اور مفاد ہی کا تجربہ رکھتے تھے، جنھوں نے وزیراعظم کو اپنے اعلانات اور دعوؤں کے برعکس چلا کر ان کے لیے یوٹرن اور جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا۔ اس سے قبل وہ پاکستانی معیشت کو جب اپنے جلسوں میں موضوعِ بحث بناتے اور سبز باغ دکھاتے تھے کہ: ’’ہم کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے‘‘، لیکن بعد ازاں انھیں ’’تجربہ کار‘‘ لوگوں نے کہا کہ اس چوکھٹ پر سجدہ کیے بغیر تو حضوری قبول نہیں ہوگی۔ تو ہمارے وزیراعظم اپنی پوری جماعت کے ساتھ عالمی ادارے کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے تھے اور قوم زبانِ حال سے کہہ رہی تھی ؎
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں ، جب وقتِ قیام آیا
وزیر اعظم کا بعض ہمدرد میڈیا اسے اعترافِ حقیقت سے تعبیر کررہا ہے کہ وزیر اعظم نے حقیقت کا اعتراف کرکے قوم کے سامنے رکھ دیا ہے، حال آںکہ اسے اعترافِ شکست کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں حکمرانوں کی طرف سے کوئی پہلا اعترافِ شکست نہیں ہے۔ چند سال قبل ایک چیف جسٹس آف پاکستان بھی انصاف نہ دلواسکنے کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ’’ہم بہ حیثیت ادارہ قوم کو عدل و انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں‘‘۔ ایک سابق وزیراعظم نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان دے کر اعترافِ شکست کیا تھا کہ’’یہاں پانچ سال کے لیے ہم لوگ آتے ہیں، ہمیں کچھ خود نہیں سمجھ آتی اور وقت گزر جاتا ہے، لیکن تھوڑی تھوڑی سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے‘‘۔
موجودہ وزیراعظم کو کئی خصائص کی بنا پر بانیٔ پاکستان کا مماثل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے اس بغیر تیاری کے حکومت میں آنے کی خصوصیت نے انھیں بانیٔ پاکستان کے اَور زیادہ قریب کردیا ہے۔ کیوںکہ انھوں نے بھی تو ’’اعترافِ حقیقت‘‘ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’میری جیب میں کھوٹے سکے تھے‘‘!
اصل سوال تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں جو اصل کام انھیں کرنا چاہیے، وہ کیوں نہیں کرتیں؟ صرف اقتدار کے پیچھے ہی کیوں دوڑتی ہیں؟ اور طاقت کے مراکز سے اقتدار لینے کے لیے اپنی طاقت کے غلط اَعداد و شمار کیوں پیش کرتی ہیں؟ جس کا اندازہ انھیں بعد میں ہوتا ہے اور پھر انھیں اعترافِ شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
جن پارٹیوں کو ابھی تک کبھی پاکستان میں مکمل اقتدار نہیں ملا اور وہ آج تک عوام کے سامنے دودھ شہد کی نہریں بہانے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہیں، وہ بھی جانتی ہیں کہ وہ کتنے پانی میں ہیں، لیکن وہ بھی اعترافِ شکست اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد کرنے کا پروگرام رکھتی ہیں۔ یہ وہ روِش ہے، جس نے ہمیشہ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ اب عوام کو ان سیاسی پارٹیوں کے اصل عزائم سے واقف ہو جانا چاہیے کہ در اصل جمہوریت سے لے کر انقلاب اور تبدیلی تک ان پارٹیوں کے دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ محض سراب ہیں، جنھیں عوام اپنے خوابوں کی سچی تعبیر سمجھ بیٹھتی ہیں۔
اصل کام تویہ تھا کہ اپوزیشن پارٹیاں عوام کے سامنے جن محرومیوں کا راگ الاپتی ہیں، ان کے مداوے کا بندوبست کریں۔ اپنی جماعتوں کو قومی اور انقلابی طرز ِجدوجہد کا عادی بنائیں۔ آنے والے وقت کے لیے حقیقی قیادت پیدا کریں، جو نظام کے چیلنج کو سمجھ سکے۔ بڑے بڑے جلسوں اور اجتماعات سے زیادہ پارٹی ورکروں کی سیاسی تربیت پر اعتماد کریں۔ پوری قوم کو مخاطب کرنے کے بجائے پہلے حقیقی بنیادوں پر پارٹی تشکیل دیں، جو خود ایک نمونہ ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری موجودہ سیاسی پارٹیاں اس قبیل کی پارٹیاں نہیں، جنھیں تبدیلی اور انقلاب کے حقیقی تقاضوں کا اِدراک ہو۔ یہ اسی نظام کے ہرکارے ہیں، جو اپنی اپنی باریوں کے انتظار میں اپنے اپنے کام کرتی ہیں۔ ایک پارٹی ایک وقت میں حکومت کرتی ہے تو دوسری قوم کو سبز باغ دکھا کر وقت ضائع کرتی ہے۔ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے، جو کوسوں دور خطرات سے قوم کو آگاہ کردے اور حقیقی تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے قوم کو پوری اور سچی بات بتادے۔
یہ بات کوئی نئی نہیں کہ تیاری کے بغیر کسی پارٹی کو اقتدار کی خلعت نہیں پہننی چاہیے، بلکہ اس امر کا اظہار باشعور دانش ور ہمیشہ سے کرتے رہے ہیں۔ جیساکہ ہمارے خطے کی قومی شخصیت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے کئی دہائیاں پہلے فرمادیا تھا کہ:
’’جب تک حکومت کو چلانے کی استعداد پیدا نہ ہو، کوئی شخص لڑ کر نیا نظامِ حکومت قائم نہیں کر سکتا۔ بے شک وہ لڑائی کے ذریعے پچھلی حکومت کو تباہ تو کر سکتا ہے، لیکن جب تک تربیت یافتہ آدمی اسے میسر نہ آئیں، وہ نئی حکومت چلا نہیں سکتا‘‘۔ (شعوروآگہی)
مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا تعلق اس خطے کے اس باشعور قبیلے سے تھا، جو نہ صرف وقت کے تقاضوں سے واقف تھے، بلکہ انھوں نے قومی آزادی کے لیے قربانیاں بھی دی تھیں۔ وہ سامراج کے عزائم سے واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کے مستقبل کے بارے میں اپنا ایک واضح مؤقف بھی رکھتے تھے۔ جس کے باعث بعض قوتوں کی نظر میں وہ ہمیشہ کھٹکتے رہے۔ جس کی سزا نام نہاد ٹوڈی مؤرخین نے یہ تجویز کی کہ نئی نسل کو ان کے نام اور کام سے واقف نہ ہونے دیا جائے۔ کہیں قوم ان کے چراغِ فکر سے روشنی لے کر صحیح سمت سفر نہ شروع کردے۔ (مدیر)
حضرت عبادہ بن صامت بن قیس خزرجی انصاری رضی اللہ عنہٗ

حضرت عبادہ بن صامتؓ کا تعلق قبیلہ خزرج کے خاندان سالم سے ہے۔ بنوسالم کے مکانات مدینہ کے غربی سنگستان کے کنارے قبا سے متصل واقع تھے۔ یہاں ان کے کئی قلعے بھی تھے، جو ’’اُطمِ قوافل‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس بنا پر آپؓ کا مکان مدینہ سے باہر تھا۔ آپ اسلام کے آغاز سے ہی دین قبول کر چکے تھے۔ اَنصار کے جو وفد حج کے موقع پر 3 سال تک مدینہ سے مکہ آئے تھے، آپؓ ان سب میں شامل تھے۔ پہلا وفد جو دس آدمیوں پر مشتمل تھا، آپؓ اس میں شامل تھے اور چھ آدمیوں کے ساتھ آں حضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اربابِ علم کی ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔ (فتح الباری) اگرچہ کثرتِ رائے ان کے اسلام کو دوسری بیعت تک موقوف سمجھتی ہے، جس میں بارہ آدمیوں نے دینِ اسلام قبول کیا تھا۔ (مسند احمد) تیسری بیعت جس میں 72 اشخاص شامل تھے، حضرت عبادہؓ کی اس میں بھی شرکت تھی۔ (مسنداحمد) اخیر بیعت میں ان کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آں حضرتؐ نے ان کو خاندانِ قوافل کا نقیب (سردار) تجویز فرمایا۔
حضرت عبادہؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضوؐر سے ان شرائط پر بیعت کی تھی کہ چستی اور کاہلی ہر حالت میں آپؐ کا کہنا مانیں گے۔ فراخی اور تنگی میں مالی امداد دیں گے۔ اچھی باتیں آگے پہنچائیں گے۔ بُری باتوں سے روکیں گے۔ سچ کہنے میں کسی سے نہ ڈریں گے۔ حضوؐر یثرب تشریف لائیں گے تو مدد کریں گے اور جان ومال اور اولاد کی طرح آپؐ کی نگہبانی کریں گے۔ ان سب باتوں کا صلہ جنت کی صورت میں دیا جائے گا۔ پس ان باتوں پر پورے طور سے عمل کرنا چاہیے اور جو نہ کرے، وہ اپنا خود ذمہ دار ہے۔ (مسنداحمد)
حضرت عبادہ بن صامتؓ کی زندگی شروع ہی سے ولولہ انگیز ہے۔ مکہ سے مسلمان ہوکر واپس مدینہ آئے تو اپنے گھر پہنچتے ہی اپنی والدہ کو مشرف بہ اسلام کیا۔ (زرقانی) حضرت کعب بن عجرہ آپؓ کے ایک دوست تھے، جو آپؓ کی دعوت اور محنت سے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ آں حضرتؐ نے مدینہ پہنچ کر انصار و مہاجرین میں باہمی بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت ابو مرثد غنویؓ کو حضرت عبادہؓ کا بھائی تجویز فرمایا۔ غزوۂ بدر اور حدیبیہ میں بیعت الرضوان میں بھی آپؓ شریک تھے۔ خلافت ِصدیقی میں شام کی بعض لڑائیوں میں شریک رہے۔ مصر کی فتح میں آپؓ کا گراں قدر حصہ تھا ۔ (مسنداحمد)
حضرت عبادہؓ تادمِ مرگ شام میں سکونت پذیر رہے۔ 34 ہجری میں آپؓ کی وفات ہوئی، اس وقت آپؓ کی عمر 72 سال تھی۔ وفات سے پہلے بیمار رہے۔ لوگ عیادت کو آتے تھے۔ فرمایا کہ جتنی حدیثیں ضروری تھیں، تم لوگوں تک پہنچا چکا، البتہ ایک حدیث باقی تھی، اس کو اب بیان کیے دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’مَن شَہِد أن لاَّ إلٰہ إلاَّ اللّٰہ، و أنّ محمّداً رسولُ اللّٰہ، حرّمَ اللّٰہُ علیہِ النّار‘‘(مسلم: 29) (جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اس پر اللہ نے جہنم کی آگ حرام فرمادی)۔ حضرت عبادہؓ حدیث بیان کرچکے تو روح جسم کو الوداع کہہ کر جوارِ رحمت میں پرواز کر گئی۔
صاحب ِحکمت و شعور کی پہچان

عَنْ أَبِي خَلَّادٍ،ؓ وکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ: ’’إذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ أُعْطِيَ زُھْدًا فِي الدُّنْیَا، وَقِلَّۃَ مَنْطِقٍ، فَاقْتَرِبُوا مِنْہُ، فَإِنَّہُ یُلْقي الْحِکْمَۃَ‘‘۔ (سُنن ابن ماجہ: 4101)
(حضرت ابوخلاد (عبدالرحمن بن زہیرؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ اسے دنیا سے بے رغبتی اور کم گوئی دی گئی ہے تو اس کے قریب ہوا کرو۔ کیوں کہ وہ حکمت کی باتیں کرتا ہے‘‘۔)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق دنیا میں بے جا انہماک سے اجتناب اور بلاوَجہ لمبی گفتگو سے گریز انسان میں حکمت و شعور کا وصف پیدا کر دیتا ہے۔ حضوؐر نے اس نعمت کے حصول کی دو شرائط بیان فرمائیں: ایک زُہد اور دوسری گفتگو میں غیرضروری طوالت سے پرہیز۔ دنیا سے اس حدتک تعلق کہ دین فراموشی نہ ہو، زہد ہے۔ گویا زُہد کا معنی دنیا کی حرص اور لالچ سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔
قارون نے جب کبر و غرور اور دولت پر اِترانا شروع کیا تو اہلِ تقویٰ نے اسے کہا: دنیا سے جو تمھارا حصہ بنتا ہے، وہ لے لو، لیکن آخرت کو نہ بھولو۔ اور اللہ نے جیسے تم پر احسان کیا ہے، اسی طرح تم بھی مخلوقِ خدا سے احسان والا معاملہ کرو۔ (القرآن 77:28)
زُہد کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ دنیا سے ایسے لاتعلق ہوجائیں کہ محتاجی اور درماندگی پیدا ہوجائے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت آجائے۔ نبی اکرمؐ کے پاس ایک شخص آتے ہیں اور سوال کرتے ہیں۔ آپؐ نے انھیں دے دیا۔ پھر اَور دے دیا۔ پھر تیسری بار انھوں نے سوال کیا تو آپؐ نے منع فرما دیا۔ گویا دنیا سے اپنے آپ کو پہلے بالکل لاتعلق کرلینا، پھر ہاتھ پھیلا دینا، یا پہلے دنیا کی نفی کردینا، پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے پریشان ہونا، اس کو زُہد نہیں کہتے۔
اسی طرح نبی اکرمؐ نے بعض روایات میںایسے لوگوں سے بچنے کا حکم دیا، جو کہانی بازی کرتے ہیں۔ بصیرت اور شعور سے خالی بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ لوگوں کو متأثر اور متوجہ کرنے کے لیے بلاضرورت بات کو طویل کرتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے علمائے حق اور علمائے سو کے درمیان یہ فرق بیان کیا ہے کہ علمائے سو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بات کرتے ہیں، جب کہ اہلِ حق اپنی گفتگو میں اس امر کو پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ اس دور کی گمراہی کیا ہے۔ لوگوں کو کیا بات سمجھانے کی ضرورت ہے۔ وہ لوگوں کی پسند ناپسند سے مستغنی ہوکر روحِ عصر کی روشنی میں بات کرتے ہیں۔ (القول الجمیل)
زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے اس معیار کے لوگوں کو حکمت کا حامل قرار دیا ہے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ایسے اہلِ بصیرت کے ساتھ تعلق قائم رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے سے مذکورہ نعمت کے حصول کی توقع کی جاسکتی ہے۔ قرآنِ حکیم نے اس نعمت (حکمت) کو ’’خیرِکثیر‘‘ کہا ہے۔ (القرآن 269:2)
سزا و جزا کے نظام سے کوئی نہیں بچ سکتا

وَاتَّقوا يَومًا لا تَجزي نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيئًا وَلا يُقبَلُ مِنها شَفاعَةٌ وَلا يُؤخَذُ مِنها عَدلٌ وَلا هُم يُنصَرونَ (48:2)
(اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی، اور قبول نہ ہو اُس کی طرف سے کوئی سفارش، اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلہ اور نہ ان کو مدد پہنچے۔)
گزشتہ آیت سے بنی اسرائیل کی خرابیوں کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ ایک اہم ترین خرابی اس آیت ِمبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں کہ: ’’بنی اسرائیل کہتے تھے کہ ہم کیسے ہی گناہ کریں، ہم پر عذاب نہ ہوگا۔ ہمارے باپ دادا جو پیغمبر ہیں، ہمیں بخشوا لیں گے۔ سو (اس آیت میں) خدائے تعالیٰ فرماتا ہے؛ یہ خیال تمھارا غلط ہے‘‘۔ قومیں جب زوال پذیر ہوتی ہیں تو اپنے افکار و اعمال کو درست کرنے کے بجائے گناہوں اور جرائم کی دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہیں۔ ان کی پستی اس حد تک بڑھتی ہے کہ جرائم کی سزا سے بچنے کے لیے مقربینِ بارگاہِ الٰہی سے اپنے نسبی تعلق کو کافی سمجھتی ہیں۔ جو نہ صرف اُن کی قومی ترقی کے لیے انتہائی بُرا ہوتا ہے، بلکہ وہ کسی بین الاقوامی کردار کے بھی قابل نہیں رہتیں۔ اس آیت ِمبارکہ میں اُس دن سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جس میں اللہ کے عذاب سے بچنے کی ممکنہ کوئی صورت کامیاب نہ ہوگی۔
وَاتَّقوا يَومًا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم ہے۔ تقویٰ سے مراد اللہ کا ایسا ڈر اور خوف کہ اُس کے نتیجے میں انسانیت کے لیے عدل، احسان اور رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی کا نظام قائم کیا جائے، جیسا کہ دوسری جگہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔ (القرآن 90:16) انسانوں کی فضیلت کا مدار تقویٰ پر ہے۔
لا تَجزي نَفسٌ عَن نَفسٍ شَيئًا: مجرموں کو جب سزا دی جاتی ہے تو اُس سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر چار صورتیں ہی ہوسکتی ہیں۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ کسی مجرم کو ان ممکنہ چار صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی نجات نہیں مل سکتی۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’جب کوئی کسی بلا (مصیبت) میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اُس کے رفیق اکثر یہی کیا کرتے ہیں کہ
(1) اوّل تو اس کے ادائے حق کے لازم میں کوشش کرتے ہیں۔
(2) یہ نہیں ہوسکتا تو سعیٔ سفارش سے بچانے کی تدبیر کرتے ہیں۔
(3) یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر تاوان اور فدیہ دے کر چھڑاتے ہیں۔
(4) اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو بالآخر اپنے مددگاروں کو جمع کرکے بزورِ پرخاش (مخالفانہ طاقت سے) اُس کی نجات کی فکر کرتے ہیں۔
(اس آیت میں) حق تعالیٰ نے اسی ترتیب کے موافق ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص گو کیسا ہی مقربِ خداوندی ہو، مگر کسی نافرمان ’’عدوُّ اللّٰہ‘‘ (اللہ کے دشمن) کافر کو من جملہ چاروں صورتوں کے کسی صورت سے نفع نہیں پہنچا سکتا‘‘۔
مجرم کو بچانے کی پہلی صورت یہ ہے کہ سزا بھگتنے میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان (مجرم) کے کام آئے۔ مجرم کے بجائے کسی دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔ بنی اسرائیل کا یہ خیال کہ ہمارے گناہوں کے بدلے میں کوئی مقربِ بارگاہِ الٰہی پیغمبر ہمارے کسی کام آئے گا، قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہر انسان شخصی اور ذاتی طور پر اللہ کے سامنے خود جواب دہ ہے۔ کوئی دوسرا فرد اُس کی جگہ جواب دہ نہیں ہوسکتا۔
وَلا يُقبَلُ مِنها شَفاعَةٌ: دوسری صورت یہ ہے کہ اُس کے لیے کوئی طاقت ور آدمی مجرم کو چھوڑ دینے کی سفارش کرے۔ یہ بھی نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اُس کے دربار میں سفارش نہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئی ذاتی طور پر سفارش کرے بھی تو اللہ کے ہاں قطعی طور پر قبول نہیں۔ قوموں کی تباہی اور بربادی میں سفارشی کلچر بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شخصی ذمہ داریوں کی مسئولیت اور جواب دہی سے بچنے کے لیے سفارشوں کا سہارا لیا جاتا ہے، جو کسی قوم کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ہر آدمی کو اپنے اعمال، افعال، افکار اور اَخلاق کا خود ذمہ دار ہونا ہے۔ جب وہ ذمہ داری سے راہِ فرار اختیارکرتا ہے تو معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں۔ نااہل اور غیرذمہ دار حکمران ملک اور قوم کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتے۔
احادیث میں اللہ کی اجازت سے کسی کے لیے جس شفاعت کا تذکرہ آیا ہے، اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ سفارش اُسی بندے کے کسی عمل کا نتیجہ ہوگی۔ اس عمل کو سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اَور کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے یہ قانون بڑی وضاحت کے ساتھ اس آیت ِمبارکہ میں بیان کردیا گیا ہے کہ بغیر کسی عمل کے کسی طرح کی بھی کوئی سفارش اور شفاعت قیامت کے دن قبول نہیں کی جائے گی۔
وَلا يُؤخَذُ مِنها عَدلٌ: تیسری صورت یہ ہے کہ مجرم کو چھڑانے کے لیے کوئی فدیہ اور تاوان بھر دیا جائے اور مجرم کو سزا سے بچا لیا جائے۔ جزا و سزا کے اُس دن میں مجرم کی طرف سے کوئی فدیہ اور تاوان بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جو لوگ کافر ہوئے اور مر گئے کافر ہی، تو ہرگز قبول نہ ہوگا کسی ایسے (مجرم) سے زمین بھر کو سونا اور اگرچہ بدلہ دیوے اس قدر سونا‘‘۔ (القرآن 91:3) مال و دولت دے کر شخصی ذمہ داریوں سے بچنا بہت بڑی خرابی ہے۔
وَلا هُم يُنصَرونَ: چوتھی صورت یہ ہے کہ لوگوں کا ہجوم آپس میں جمع ہو کر طاقت کا استعمال کرے اور زبردستی مجرم کو چھڑا لے جائے۔ اُس دن میں ایسا ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ وہاں ہر آدمی اپنی اپنی فکر میں ہوگا۔ چناںچہ لوگ کسی طرح بھی کسی دوسرے کو چھڑانے کے لیے اُس کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔
اس آیت ِمبارکہ میں تقویٰ کا نتیجہ شخصی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ جو لوگ اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈال کر کام سے جان چراتے ہیں، وہ اپنی قوم کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتے، چہ جائے کہ وہ کل انسانیت کے لیے رہنمائی کا کوئی کردار ادا کرپائیں۔ بنی اسرائیل اپنی ان خرابیوں کے سبب رہنمائی کے منصب کے قابل نہیں رہے۔ چناںچہ مسلمانوں پر مشتمل ایک متقی جماعت کا پیدا کرنا ضروری ہے۔
شمارہ ختم
واپس
