اگست،2021ء

ماہنامہ رحیمیہ

اگست،2021ء

اگست 14, 2021 11 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 11

مشترکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ؛ شہری زندگی کا ایک اہم قانون

مشترکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ؛ شہری زندگی کا ایک اہم قانون

وَإِذِ استَسقىٰ موسىٰ لِقَومِهِ فَقُلنَا اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۖ كُلوا وَاشرَبوا مِن رِزقِ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِي الأَرضِ مُفسِدينَ(  -2البقرہ: 60)

(اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے واسطے تو ہم نے کہا: مار اپنے عصا کو پتھر پر۔ سو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے۔ پہچان لیا ہر قوم نے اپنا گھاٹ۔ کھاؤ اور پیو اللہ کی روزی او رنہ پھرو ملک میں فساد مچاتے)۔

گزشتہ آیات سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے بیان کا سلسلہ جاری ہے۔ چناںچہ پہلے فرعون کی غلامی سے آزادی، تورات کا نزول، شخصی تربیت کے اُمور، صحرائی زندگی میں مَن و سلویٰ ایسے انعامات کا ظہور، صحرا سے نکل کر مکمل شہری زندگی سے پہلے بستی اور قریہ میں نزول اور شہری زندگی کے ابتدائی درجے سے متعلق اُمور بیان کیے گئے تھے۔ نیز ہر مرحلے پر بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں کی طرف سے ان قوانین کی خلاف ورزی اور مکمل طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرماں برداری سے انکار کی نوعیت واضح کی گئی۔

اس آیت سے ’’قریہ‘‘ اور بستی کی اجتماعی زندگی کا ایک بنیادی اور اہم قانون بیان کیا جا رہا ہے۔ اس قانون میں یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ مشترکہ چیزوں، خاص طور پر کھانے پینے کی اشیا میں منصفانہ تقسیم کا نظام بنانا ضروری ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنا، سوسائٹی میں فساد مچانا ہے۔ پانی کی تقسیم کے حوالے سے یہ بنیادی ضابطہ بیان کیا گیا کہ:

وَإِذِ استَسقىٰ موسىٰ لِقَومِهِ:جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ’’قریہ‘‘ یعنی بستی کی اجتماعیت سے نکال کر ’’مصر‘‘ یعنی شہری زندگی کی اجتماعیت کی طرف لے جا رہے تھے تو اُن کا ایک صحرا اور جنگل سے گزر ہوا۔ اس موقع پر انھیں پانی کی ضرورت اور حاجت پیش آتی ہے۔ اس پر انھوں نے مشترکہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا۔

فَقُلنَا اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ:اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ: ’’اپنی لاٹھی پتھر پر ماریں!‘‘ اس پر انھوں نے اللہ کے حکم سے ایک بڑے پتھر پر لاٹھی ماری۔ اس طرح اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے مطابق بارہ چشمے پھوٹے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ تحریر فرماتے ہیں: ’’پتھر سے بارہ چشموں کا نکلنا‘ یہ قصہ بھی اُسی جنگل کا ہے، پانی نہ ملا تو ایک پتھر پر عصا مارنے سے بارہ چشمے نکلے اور بنی اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ ۔۔۔ جو کوتاہ نظر (انبیا علیہم السلام کے) ان معجزات کا انکار کرتے ہیں: ’’نیستند آدم، غلافِ آدم اند‘‘ (وہ آدمی نہیں ہیں، بلکہ اُن پر آدمیت کا غلاف چڑھا ہے) دیکھو! مقناطیس تو لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس پتھر نے پانی کھینچ لیا تو انکار کی کیا وجہ ہے؟‘‘

قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۖ:پانی کے چشمے پھوٹے، ہر ایک قبیلے اور قوم نے اپنے پانی کے چشمے کو پہچان لیا اور اپنی ضرورت کے مطابق استعمال شروع کردیا۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’(بنی اسرائیل کی) کسی قوم میں آدمی زیادہ، کسی میں کم، ہر قوم (کی تعداد) کے موافق ایک چشمہ تھا۔ اور (ہر قبیلے کے لیے) وجہِ شناخت بھی یہی (قوم کے افراد کی تعداد اور چشمے کی ساخت میں) موافقت (مطابقت ہونا) تھی۔ یا یہ مقرر کر رکھا تھا کہ پتھر کی فلاں جہت (کی) فلاں جانب سے جو چشمہ نکلے گا، فلاں قوم کا ہوگا‘‘۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’قبیلوں کے افراد کی تعداد کے مطابق کوئی چشمہ بڑا تھا، کوئی چھوٹا اور کوئی درمیانے درجے کا۔ ہر ایک قبیلے نے بغیر کسی جھگڑے کے اپنے افراد کی تعداد کے مطابق ان چشموں میں سے ایک ایک چشمہ لے لیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مشترکہ پانی کی تقسیم کا عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کردیا‘‘۔ اس سے بنی اسرائیل کو یہ تعلیم دی گئی کہ وہ اجتماعیت کے مشترکہ اُمور میں عدل و انصاف کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں۔ اسی تناظر میں انھیں کہا گیا:

كُلوا وَاشرَبوا مِن رِزقِ اللَّهِ:ہر وہ چیز جو زمین میں صاف ستھری اور پاکیزہ صورت میں موجود ہے، اور انسان خوش دلی کے ساتھ انھیں استعمال کرتا ہے تو اُسے اللہ کی طرف سے دیا ہوا ’’رزق‘‘ کہا جاتا ہے۔ اُس کا کھانا اور پینا حلال ہے۔ اس رزق کے صحیح استعمال کی صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ یہ کہ ان چیزوں کا استعمال عدل و انصاف کی بنیاد پر ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا رزق تمام انسانیت کے لیے عام کیا ہے۔ تو ایسی مشترکہ چیزوں میں عدل و انصاف کی بنیاد پر تقسیم ضروری ہے۔

وَلا تَعثَوا فِي الأَرضِ مُفسِدينَ:کسی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق اور ملکی قومی وسائل اُس قوم کے تمام افراد کے لیے ہیں۔ کسی ضرورت مند کو اُس رزق سے استفادہ کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کھانے پینے کی اشیا ہر ایک محتاج تک پہنچنی چاہئیں۔ مشترکہ قومی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہونا ضروری ہے۔ چناںچہ اجتماعی نظام قائم کرتے ہوئے ایسی مشترکہ چیزوں کی تقسیم میں ناانصافی برتنا اور ظلم کرنا ’’فساد‘‘ کہلاتا ہے۔ کسی اجتماعی نظام میں اس سے بڑھ کر اَور فساد نہیں ہوسکتا۔ ہر سطح کی اجتماعیت تقاضا کرتی ہے کہ اُس میں بسنے والے ہر محتاج کی ضرورت کو پورا کیا جائے اور اُن کے لیے وسائل کو روک کر زمین میں فساد نہ مچایا جائے۔

اس آیت میں شہری زندگی کی اجتماعیت کو درست خطوط پر استوار رکھنے کے لیے مشترکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا بڑا بنیادی قانون واضح کیا جا رہا ہے۔ یہ بنی اسرائیل پر ایک بہت بڑا اِنعام تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیشِ نظر ’’مصر‘‘ یعنی قومی سطح کے شہری نظام میں داخل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کی ان بنیادی قوانین پر تعلیم و تربیت کرنا تھی۔ اتنے بڑے انعام کے باوجود بنی اسرائیل کے لوگ ان قوانین کی پابندی نہ کرکے اور فساد مچا کر عذابِ الٰہی کے مستحق ہوئے۔ مسلمانوں کے لیے یہ عبرت ہے۔

2 / 11

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔(صحیح البخاری: 6133)

(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا‘‘۔)

مؤمن کو عقل مند اور دانا ہونا چاہیے اور کسی بھی اِنفرادی، اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی امر کا فیصلہ حالات و واقعات کے پسِ منظر اور پیشِ منظر کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔ کسی سے باربار دھوکہ کھانے کی عادت مؤمنانہ فراست کے خلاف ہے۔ کسی کو باربار ظلم اور استحصال کرنے کا موقع دینا مؤمن کی خوبی نہیں ہوسکتی۔ مؤمن عدل و انصاف کو قائم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور جو عیاری سے اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو مؤمن اسے یہ عمل باربار نہیں کرنے دیتا۔

ابوعزہ شاعر جو حضرت مصعب ؓبن عمیر کا بھائی تھا، وہ نبی ﷺ کے مخالف ان سرکردہ لوگوں میں سے تھا، جو حضورﷺ کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے۔ ابوعزہ توہینِ رسول ﷺ پر مبنی اشعار کہہ کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے لیے تکلیف کا باعث بنتا تھا۔ یہ غزوۂ بدر میں گرفتار کرلیا گیا تو اس نے معافی طلب کی اور یہ کہا کہ مَیں آئندہ آپ کو نہیں ستائوں گا۔ لیکن رہائی پاتے ہی اس نے پھر حضور ﷺ کے بارے میں توہین آمیز اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اشعار کہنے شروع کردیے۔ غزوۂ اُحد میں یہ دوبارہ پکڑا گیا۔ یہ پھر کہنے لگا کہ آپؐ تو بڑے مہربان اور بڑے بردبار ہیں، آپؐ مجھے چھوڑ دیں ۔ مَیں آپؐ کو پھر نہیں ستائوں گا۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے یہ گراں قدر جملہ ارشاد فرمایا کہ: ’’مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا‘‘۔

ہمارے خطے کو انگریز سے آزاد ہوئے 74 سال ہوگئے ہیں۔ آزادی کے لیے ہمارے بزرگوں نے اپنا خون دیا۔ انگریز کے خلاف جدوجہد کا مقصد آزادی کا حصول تھا اور کسی قوم کی آزادی کا مطلب اس کی معاشی ترقی، سیاسی وحدت، سماجی استحکام، امن و امان کا قیام اور قومی خودمختاری و سا  لمیت کا قیام ہوتا ہے۔ مگریہ خواب تاحال شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ہماری مقتدرہ اور لیڈرشپ پون صدی سے قوم کو حقیقی آزادی کے حوالے سے دھوکہ دیتی چلی آرہی ہے۔ اور ہم قومی مسائل کو شعوری بنیادوں پر تاحال سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔

یہ حدیث مبارکہ اس امر پر غور کرنے کی ضرورت کا احساس دِلاتی ہے کہ ہم مقتدرہ کے جھوٹے دعوئوں اور نعروں کی گونج کے سحر سے باہر نکلیں۔ اور اس بات کی رہنمائی دیتی ہے کہ ہم آزادی کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں اور باربار دھوکہ دینے والوں اور عہدشکن لوگوں کو پہچانیں۔ اور وطنِ عزیز میں آزادی کی حقیقی روح کو قائم کرنے کے لیے دھوکہ بازوں سے بچنے کی راہ اپنائیں۔

3 / 11

حضرت ابن عمرؓ اور جماعتی زندگی میں باہم تعاون کے رویے

حضرت ابن عمرؓ اور جماعتی زندگی میں باہم تعاون کے رویے

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا۔ ایک بار ایک بکری ذبح کی۔ گھر والوں سے پوچھا کہ تم نے ہمارے یہودی ہمسایہ کے پاس گوشت ہدیہ بھیجا یا نہیں؟ رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ: ’’مجھ کو جبرئیل نے ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی اس شدت سے وصیت کی کہ میں نے سمجھا کہ اس کو شریکِ وراثت بنادیں گے‘‘۔ (سنن ابوداؤد)

حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ: جب ہم لوگ حضوؐر سے ہر بات سننے اور ماننے پر بیعت کرتے تھے تو آپؐ یہ فرمادیا کرتے کہ: ’’یوں کہو کہ جو بات میرے بس میں ہوگی‘‘ یعنی باہم وسعت کا معاملہ رکھنا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت ابنِ عمرؓ کے ساتھ تھا۔ جب میں سواری پر سوار ہونے لگتا تو وہ میرے پاس آکر میری رِکاب پکڑ لیتے، اور جب میں سوار ہوجاتا تو وہ میرے کپڑے ٹھیک کر دیتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ وہ میرے پاس (اسی کام کے لیے) آئے تو میں نے کچھ ناگواری کا اظہار کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’اے مجاہد! تم بڑے تنگ اَخلاق ہو‘‘۔

حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ: میں جنگِ یمامہ کے دن عبد اللہ بن مخرمہؓ کے پاس آیا۔ وہ زخموں سے نڈھال ہوکر زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ میں اُن کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تو انھوں نے کہا: ’’اے عبد اللہ بن عمر! کیا روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں! انھوں نے کہا: ’’لکڑی کی اس ڈھال میں پانی لے آئو، تاکہ میں اس سے روزہ کھول لوں۔ ابنِ عمر فرماتے ہیں کہ میں (پانی لینے) حوض پر گیا۔ حوض پانی سے بھرا ہوا تھا۔ میرے پاس چمڑے کی ایک ڈھال تھی۔ میں نے اسے نکالا اور اس کے ذریعے حوض میں سے پانی لے کر (ابنِ مخرمہ کی) لکڑی والی ڈھال میں ڈالا۔ پھر وہ پانی لے کر میں حضرت ابنِ مخرمہؓ کے پاس آیا۔ آکر دیکھا تو اُن کا انتقال ہوچکا تھا۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ: حضوؐر نے لڑنے کے لیے ایک جماعت بھیجی، میں بھی اس میں تھا۔ کچھ لوگ میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹے۔ میں بھی اُن ہٹنے والوں میں تھا۔ (واپسی پر) ہم نے کہا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہم تو دشمن کے مقابلے سے بھاگے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ پھر ہم نے کہا کہ ہم لوگ مدینہ جاکر رات گزار لیں گے (پھر اس کے بعد حضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوں گے)۔ پھر ہم نے کہا: (نہیں!) ہم سیدھے جا کر حضوؐر کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کر دیں گے۔ اگر ہماری توبہ قبول ہوگئی تو ٹھیک ہے ورنہ ہم (مدینہ چھوڑ کر کہیں اَور) چلے جائیں گے۔ ہم فجر کی نماز سے پہلے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (ہماری خبر ملنے پر) آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ’’یہ لوگ کون ہیں؟‘‘ ہم نے کہا کہ: ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں! بلکہ تم تو پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والوں میں سے ہو‘‘۔ میں تمھارا اور مسلمانوں کا مرکز ہوں (یعنی تم میرے پاس آگئے ہو، اس لیے تم بھگوڑے نہیں ہو)۔ پھر ہم نے آگے بڑھ کر حضوؐر کے دستِ مبارک کو چوما۔

4 / 11

افغانستان سے امریکی انخلا اور پاکستان کو درپیش چیلنج!

افغانستان سے امریکی انخلا اور پاکستان کو درپیش چیلنج!

2021ء کے اگست کا آغاز ہوچکا ہے۔ 14؍ اگست کو ہمارے ملک میں قیامِ پاکستان کے حوالے سے مختلف النوع تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں ماضی کی تاریخ سمیت پاکستان کو حال میں درپیش چیلنجز بھی زیرِبحث آتے رہتے ہیں۔ خصوصاً دوچیلنج یعنی مسئلۂ کشمیر اور افغانستان کے حالات وقفے وقفے سے اپنی مختلف نوعیتوں کے سبب زیرِبحث رہتے ہیں۔ کشمیر کا حالیہ انتخابی معرکہ تو حکمران جماعت سر کرچکی ہے۔ یہ انتخاب بھی ہماری سیاسی روایت کے عین مطابق تھے۔ ساری سیاسی پارٹیوں نے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو الزامات دیے۔ اور دُشنام طرازی کے ساتھ ساتھ عوام کو سبز باغ دکھا کر اپنا اپنا حصہ وصول کرلیا ہے۔ اب ممبران کو ان کی مجوزہ مراعات ملتی رہیں گی اور ان کا راوی حسب روایت چَین لکھتا رہے گا۔

لیکن ایک دوسرا چیلنج جو پڑوسی ملک افغانستان سے امریکی فوجی اتحاد کے انخلا کے بعد سامنے آرہا ہے، اس سے ہوش مندی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اب کی بار یہ چیلنج ایک نئے زاویے سے سامنے آرہا ہے۔ شکست خوردہ استعمار بدلتی ہوئی جیوپالیٹکس میں پسپائی سے دوچار ہوتا ہوا اپنے لیے کسی نئی پوزیشن کی تلاش میں ہے۔ ایک طرف تو وہ دوحہ (قطر) مذاکرات میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھ کر اپنے آپ کو امن کا سفیر ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے اور ادھر افغانستان میں موجود اپنی کٹھ پتلی حکومت کی دامے، درمے، سخنے مدد بھی پوری طرح جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے اندر گزشتہ دو دہائیوں سے جہادی بیانئے سے پسپا ہوتے ہوئے مذہبی طبقے افغانستان میں دوبارہ طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو دیکھ کر اپنے زنگ آلود بیانیے کو دوبارہ پالش کرنے لگے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بعض ’’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘‘ (تزویراتی گہرائی) کے پرانے کھلاڑی ان مذہبی قوتوں کی پیٹھ ٹھونک کر ممولے کو شاہین سے لڑانے کے درپے نظر آرہے ہیں۔

اب اس ساری صورتِ حال میں ان تینوں کرداروں یعنی امریکا، پاکستان میں بیٹھے ’’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘‘ کے ماسٹر مائنڈ اور مذہبی ’’جہادی‘‘ جماعتوں کا تحلیل و تجزیہ ضروری ہے، تاکہ ہم اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کو قومی تقاضوں کے تناظر میں نبھا سکیں۔

امریکا بہ ظاہرافغانستان کو چھوڑ تو رہا ہے، لیکن وہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں امن ہو۔ وہ یہاں موجودمختلف قبائلیوں کی پیٹھ ٹھونکتا رہے گا، تاکہ افغانستان میں خانہ جنگی جاری رہے۔ وہ اپنے شطرنج کے مہرے کبھی بھی مکمل طور پر ضائع نہیں ہونے دیتا۔ وہ اپنے مخالف ہوجانے والے پرانے اتحادیوں کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ ہاں! البتہ ان کے پَر ضرور کاٹتا ہے اور آنے والے وقت میں ان کے کردار کی گنجائش بھی نکال لی جاتی ہے۔ انتشار کی قوتیں ہمیشہ امریکا کے پے رول پر رہی ہیں۔ انتشار کی قوتوں کو باقی رکھنا اور پھر انھیں استعمال کرنا امریکا کا پرانا وطیرہ ہے۔ ماضی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکا جہاں کہیں بھی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ امن قائم کرنے کے نام پر گیا ہے، وہاں کبھی امن نہیں ہوا۔ امریکا ہمیشہ ان علاقوں میں بداَمنی کی جلتی آگ پر تیل چھڑک کر وہاں سے واپس ہوتا ہے۔ انارکی کی یہ صورتِ حال آپ کو عراق، شام، لیبیا اور افغانستان میں یکساں طور پر نظر آئے گی۔ یہ دراصل امریکا کی ظالمانہ سفاکی کی میراث ہے، جو وہ دنیا کو بانٹتا ہے،لیکن اب امریکا کے لیے افغانستان میں یہ کھیل کھیلنا اتنا آسان نہیں رہا۔ کیوں کہ اب علاقے کی قوتوں کی بیداری اور بین الاقوامی کردار ادا کرنے پر ان کی آمادگی امریکا کے لیے ایک بھاری پتھر ثابت ہوگا۔

ایک دور میں عالمی سطح کی سرد جنگ میں ہمارے قومی اداروں نے اپنی شرکت کا جواز ’’اسٹرٹیجک ڈیپتھ‘‘ کو بنایا تھا، لیکن وقت کے دھارے نے ان اداروں کو نہ صرف سوچنے پر آمادہ کیا، بلکہ اپنی پوزیشن بدلنے پر بھی مجبور کیا اور ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ان اداروں کو اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرنا پڑا۔ چناں چہ پاکستان کے اعلیٰ فوجی عہدے دار نے 2018ء میں جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس ساری صورتِ حال کو واضح کردیا تھا۔ اب بھی حکومت اور اداروں کی طرف سے واضح طور پر کہا جارہا ہے کہ پاکستان، افغانستان کی بگڑتی صورتِ حال کا اثر کسی صورت میں بھی پاکستان پر نہیں پڑنے دے گا، لیکن ایک مخصوص طبقہ جو ہمیشہ اپنے ہاں سے زیادہ دوسرے ملکوں میں اسلامی حکومتوں اور خلافتوں کا خواہاں رہا ہے، وہ آج بھی افغانستان میں طالبان کے قبضوں پر فخر کرتا نظر آتا ہے۔ یہ ایک مخصوص لابی پاکستان میں تو جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کی بات کرتی ہے، لیکن افغانستان میں ہمیشہ شدت پسندوں کو سپورٹ کرتی آئی ہے۔ یہ نام نہاد جمہوریت پسند آج بھی سٹیج پر کھڑے ہو کر افغانستان میں شدت پسندوں کے حملوں کو ’’فتوحات‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں کا وہ ’’جہادی وِنگ‘‘ ہے، جو محض قوم کے جذبات سے کھیلتا ہے، ورنہ انھیں مذہب اور اسلام کی حکومت سے کوئی غرض نہیں۔ یہ وہی ذہنیت ہے، جنھوں نے قیامِ پاکستان کے وقت بھی پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔ کا نعرہ لگایا تھا، جو صرف مسلمانوں کا جذباتی استحصال تھا اور قیام پاکستان کے بعد بھی یہ اسی ڈگر پر قائم رہے، لیکن اداروں اور پارلیمنٹ میں اسلام نافذ کرنے سے انھیں کبھی کسی نے نہیں روکا۔ لیکن نہ جانے یہ کیوں اپنے ہاں سے زیادہ کشمیر اور افغانستان میں اسلام کے نفاذ کی جدوجہد میں کوشاں رہے ہیں۔

اس مسئلے کا تیسرا فریق ہمارے ملک کی وہ مذہبی جماعتیں ہیں، جو ماضی میں افغانستان کے معاملات میں کافی اثر و رُسوخ رکھتی تھیں، لیکن ان کایہ اثر و رُسوخ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور امریکا کی آشیرباد سے تھا، ورنہ ان کا کردار اس میں ایک آلۂ کار قوت سے زیادہ کبھی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے مذہبی جماعتوں کے اس اثر و رُسوخ کو ختم کردیا گیا تھا، جس پر یہ مقامی اسٹیبلشمنٹ سے نالاں ہو کر ایسے شکوے شکایات بھی کرتی رہی ہیں کہ ہمیں افغانستان میں مغرب کی خواہش پر روس کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اب امریکا نے خطے میں نئے داؤ پیچ کھیلنے شروع کیے ہیں تو یہ پھر اس کھیل میں حصہ دار بننے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اب پاکستان اور افغانستان کے عوام ان جماعتوں کے کردار کو جان چکے ہیں اور وہ ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔  (مدیر)

5 / 11

طہارت اور اِخبات کی اصل روح

طہارت اور اِخبات کی اصل روح

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’جب طہارت اور اخبات کے دونوں خُلق باہم جمع ہوجائیں تو شارع (نبی اکرم ﷺ) نے اسے ’’ایمان‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

’’الطُّہُور شَطْرُ الإیمان‘‘(طہارت ایمان کا ایک حصہ ہے)۔  (مسلم: 534)

اسی طرح آپؐ نے طہارت کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’إنّ اللّٰہ نظیفٌ یُحِبّ النَّظافۃ‘‘۔ (ترمذی: 2799)

(اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے)۔

آپ نے دوسرے خُلق (اِخبات) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’الإحسان أن تعبُد اللّٰہ کأنّک تراہ فإن لم تکن تراہ فإنّہ یراک‘‘(احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی ایسے عبادت کرو گویا کہ تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ پس اگر تم اُسے دیکھ نہ رہے ہو (یہ خیال رکھو کہ) بے شک اللہ تعالیٰ تمھیں دیکھ رہا ہے)۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ: 2)

ان دونوں کے اَخلاق کے مجموعے پر مشتمل ’’سکینت‘‘، ’’وسیلہ‘‘ اور ’’ایمان‘‘ حاصل کرنے کا عمدہ ترین طریقہ یہ ہے کہ انبیا علیہم السلام کی طرف سے بیان کردہ احکاماتِ شرعیہ کی پابندی کی جائے۔ اسی کے ساتھ اُن اعمال کی حقیقی روح اور اُن کے انوارات کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے اور انھیں کثرت سے کیا جائے۔ اُن اعمال کے بتلائے ہوئے طریقے اور اُن میں (حضوؐر کے بتلائے ہوئے) ذکر و اذکار کی پوری رعایت رکھی جائے۔

(طہارت کی روح)  طہارت کی روح یہ ہے کہ:

(1)        وہ ایک باطنی نور ہے۔

(2)        اُنس و محبتِ الٰہی اور شرح صدر کی حالت کا نام ہے۔

(3)        ذہن میں گڑبڑ پیدا کرنے والے افکار کا خاتمہ کرنا ہے۔

(4)        ذہنی تشویشات، دلی قلق، فکری انتشار، تنگ دلی اور گھبراہٹ کی اشتعال انگیزی سے دور رہنا ہے۔

(نماز کی روح)   نماز کی روح یہ ہے کہ:

(1)        اللہ تعالیٰ کی معیت میں حضوری کی حالت پیدا کرنا۔

(2)        عالَمِ جَبَرُوت کی طرف متوجہ رہنا۔

(3)        اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت و جلال کو محبت اور اطمینان کی حالت میں یاد رکھنا۔

(4)        نبی اکرمﷺ نے احسان سے متعلق حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

(5)        نماز کی روح پیدا کرنے کے لیے نماز میں ان احادیث کے معنی کی مشق کی جائے:

(الف) آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:

’’میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کردی ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے، جو وہ مجھ سے سوال کرتا ہے۔

جب بندہ کہتا ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ‘‘(میرے بندے نے میری تعریف کی)۔

پھر جب بندہ کہتا ہے : الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِتو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:’’أثنیٰ علیّ عبدی‘‘(میرے بندے نے میری تعریف کی)۔

جب میرا بندہ کہتا ہے کہ:مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِتو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ(میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی)۔

جب بندہ عرض کرتا ہے :اِیّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُتو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ھٰذَا بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ و لعبدی ما سأل‘‘ (یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے، جو اُس نے سوال کیا)۔

جب بندہ کہتا ہے:’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم، صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ‘‘تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ھٰذَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سَألَ‘‘(یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا ہے)۔

اس حدیث میں نبی اکرمؐ نے اس حکم کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ نماز میں جب بندہ کوئی کلمہ ادا کرے تو اللہ کی طرف سے دیے گئے جواب کا بھی لحاظ رکھے۔ اس طرح انسان میں اللہ کے سامنے حضوری کی کیفیت بہت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

(ب) نبی اکرمؐ نے اپنی تہجد کی نماز میں کچھ دعائیں پڑھی ہیں۔ انھیں حضرت علیؓ وغیرہ صحابہؓ نے روایت کیا ہے۔ ان دعاؤں کے معنی کا لحاظ رکھ کر انھیں پڑھے۔

(آپﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے۔

پھر ثنا وغیرہ دعائیں پڑھتے تھے۔ جب رکوع میں جاتے تو یہ پڑھتے:

’’اللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ لَکَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ، وَ بَصَرِیْ، وَ مُخِّیْ، وَ عَظَمِیْ، وَ عَصَبِیْ‘‘۔

جب رکوع سے سر اُٹھاتے تو یہ پڑھتے:

’’اللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْ ئَ السَّمَاوَاتِ، وَ مِلْ ئَ الأرْضِ، وَ مِلْ ئَ مَا بَیْنَہُمَا، وَ مِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ‘‘۔

جب سجدے میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے:

’’اللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ لَکَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْہِیْ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ  وَ صَوَّرَہٗ، وَ شَقَّ سَمْعَہٗ وَ بَصَرَہٗ، تَبَارَکَ اللّٰہُ أحْسَنُ الْخَالِقِیْن‘‘۔

پھر تشہد اور سلام کے درمیان یہ دعا پڑھتے:

’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ مَا أَخَّرْتُ، وَ مَا أَسْرَرْتُ وَ مَا أَعْلَنْتُ، وَ مَا أَسْرَفْتُ، وَ مَا أَنْتَ أَعَلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ أَنْتَ المُؤَخِّرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنتَ‘‘(مسلم: 1812، ترمذی: 3421)۔

)من أبواب الإحسان، باب(1): علمُ الشّرائع و الإحسان(

6 / 11

اَندلُس میں علوم و فنون کی ترقی؛ خلفائے بنی اُمیہ کے رہینِ منت

اَندلُس میں علوم و فنون کی ترقی؛ خلفائے بنی اُمیہ کے رہینِ منت

اَندلُس (ہسپانیہ) میں سائنسی و ادبی علوم کی ترقی بھی خلفائے بنی اُمیہ کی رہینِ منت ہے، اگرچہ اَندلُس میں علوم کا ارتقا بغداد اور دمشق کی نسبت دیر سے ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شروع میں سیاسی عدمِ استحکام تھا، جب کہ علمی و معاشی و تہذیبی ترقی کے لیے سیاسی طور پر امن و استحکام ضروری ہوتا ہے۔ جب عبدالرحمن الناصر خلیفہ بنے تو اُن کی کوششوں سے ملک میں ہر طرح سے استحکام قائم ہوا۔ وہ خود چوں کہ عالم فاضل اور کشادہ ذہن کے مالک تھے، تو ان کے دور میں علم و فن اور سائنسی علوم کے فروغ کے لیے کوششیں شروع ہوئیں۔ تہذیب و ثقافت کو نئی جہتیں عطا ہوئیں۔ سائنسی علوم کی حقیقی بنیاد بھی انھیں کے دور میں پڑی۔ ان کے دور کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ آزادیٔ افکار کا دور تھا۔ لوگ آزادانہ سائنس و فلسفہ کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ سائنسی علوم کی مختلف شاخوں میں باقاعدہ تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوا۔ عبدالرحمن الناصر نے یونانی علوم کی وہ کتابیں جن کا بغداد میں عربی ترجمہ ہوچکا تھا، وہ بغداد سے منگوائیں۔ انھیں سائنسی علوم کی بنیاد بنا کر مزید تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

یونانی اہلِ علم کا انداز ِفکر فلسفیانہ موشگافیوں تک محدود تھا۔ تاہم مسلم سائنس دانوں نے اپنی تحقیقات میں تجربے کو کسوٹی قرار دیا۔ اس تجرباتی سائنسی طریقۂ کار کے اصل بانی تو بغداد کے مسلم سائنس دان ابوالبرکات بغدادی (1065ء - 1155ء) ہیں، جنھوں نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کی سائنسی شواہد کے ساتھ مطابقت پر غور و خوض کرنے کے بعد اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں نے اس فکر کو فروغ دیا اور باور کیا کہ تجربہ ہی وہ کسوٹی ہے، جو سائنسی علوم میں حقیقت تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ چناں چہ اَندلُس میں بھی سائنسی علوم کے حصول کے لیے تجربہ ہی حتمی کسوٹی قرار پایا۔

یوں تو اکثر علوم و فنون پر اَندلُس میں کام کا آغاز ہوا، تاہم علمِ طب، علمِ ہیئت اور علمِ نباتات پر دیگر علوم و فنون کی نسبت زیادہ تحقیق و تجربات ہوئے۔

علمِ طب: اَندلُسی سائنس دانوں نے علمِ طب پر بہت نمایاں کام کیا، اگرچہ اَندلُس میں طبی علوم کا تعارف ایشیا سے ہجرت کرکے آنے والے اطبا کے ذریعے ہوا، جو طبی کتب کا ذخیرہ بھی اپنے ساتھ لائے۔ یونس الحراقی، اسحاق بن عمران، اسحاق بن سلیمان اور ابن الجزار خصوصی طور پر اَندلُس میں طبی علوم کے فروغ کا ذریعہ بنے۔

طب کے جن معروف شعبوں پر کام ہوا، وہ یہ تھے: (۱)امراض کی تشخیص، (۲)امراضِ اطفال، (۳)امراضِ نسواں، (۴)امراضِ چشم اور (۵)سرجری۔ یہ وہ شعبے تھے جن پر خصوصی طور پر کام ہوا۔ امراض کی تشخیص میں اس قدر مہارت تھی کہ نبض سے مرض کی تشخیص کرلی جاتی۔ ابن الاصم تو تشخیصِ امراض میں اس قدر ماہر تھا کہ محض نبض سے دیکھ کر معلوم کرلیتا کہ مریض کیا کھا کر آیا ہے۔ سرجری میں ابوالقاسم الزاہراوی اَندلُسی اطبا میں سرِ فہرست شمار کیے جاتے ہیں۔

 

7 / 11

کرپٹوکرنسی کے اثرات

کرپٹوکرنسی کے اثرات

آج جدید دور‘ ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں لین دین کے نظام کو سافٹ ویئرز کی مدد سے بڑی حد تک فعا ل کرلیا گیا ہے۔ لوگوں کے پاس لین دین کے ایسے ذرائع آچکے ہیں، جنھیں سمجھنا اور اس کے بعد ان میں سے ٹیکس کی صورت میں اپنا حصہ نکالنا حکومت کے لیے ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ حکومتی عمال عام طور پر اپنے کام میں جدت کے قائل نہیں ہوتے۔ ان کی اس ’خاصیت‘ کی وجہ سے ٹیکنالوجی میں طاق عام عوام بہ آسانی انھیں چکمہ دے لیتے ہیں۔ جدید دور میں لین دین کے نظام میں کرپٹو کرنسی کی صورت میں انقلابی تبدیلی آچکی ہے۔ وہ وقت دور نہیں، جب حکومت کی اپنی رِٹ __ جو بینکنگ اور کرنسی کے نظام کی بنیاد پر قائم رکھتی تھی اور من مرضی کے ٹیکس جمع کرتی تھی __ کمزور پڑتی جائے گی۔ بینکنگ فراڈ، جمع کھاتوں میں پڑی رقم کا غلط استعمال، آن لائن چوری، بینک میں پڑی رقوم پر حکومتی اداروں کے لامتناہی اختیارات، جہاں ٹیکس والے کچھ بھی کہہ کرلوگوں کو ان کی دولت سے محروم کردیں، یہ سب تدریجاً ختم ہوتا چلا جائے گا اور بلاک چینBlock Chainٹیکنالوجی کی بدولت اب دنیا ایک نئے ورلڈ آرڈر کی جانب گامزن ہے۔

کرپٹو کرنسی میں سٹّے بازوں کی موجودگی نے بھی اسے اتنا نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آزادی ہے اور اس پر کسی حکومت کا تصرف نہیں ہے۔ اس وقت اس شعبے کی عالمی سطح پر مالیت 15 کھرب ڈالرز تک جا پہنچی ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو میں فرق ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کی ریگولیٹر مرکزی حکومت ہوتی ہے اور یہ نظام پیپر کرنسی جیسا ہی ہے، لیکن ’بلاک چین‘ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی کرپٹو کرنسی کا ریگولیٹر کوئی نہیں۔ اس نیٹ ورک کے ممبران ہی اس کے ریگولیٹر ہیں اور ان سب کے پاس اس سے متعلق لین دین کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں جھوٹ، دھوکا، زبردستی وغیرہ کم از کم نیٹ ورک کی سطح پر نہیں ہوسکتا اور لین دین کسی بھی حکومتی ایجنسی یا بدنیت لوگوں سے بلا خوف و خطر رواں دواں رہے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اب تو ووٹنگ کا نظام بھی وضع کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی ہیئت 5GاورQuantum Computingکی آمد کے بعد مکمل تبدیل ہوجائے گی۔ کیوں کہ اس کے بعد ڈیٹا پروسیسنگ کی رفتار میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ ہو جائے گا۔ حالیہ دنوں میں چینی کمپنی نےQuantum Computerکے ذریعے ایک ریاضی کی مساوات کا حل ستر منٹ میں نکال لیا، جسے گوگل کو حل کرنے میں آٹھ سال لگے تھے۔ وہ وقت دور نہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اس طریقۂ تبادلہ کو اپنا لے گی اور اندازہ ہے کہ اوّل درجے میں حکومتوں کی معاشی اجارہ داری کو زک پہنچے گی، جو بالآخر عالمی ریاستی ڈھانچے کو بدل ڈالے گی۔

8 / 11

استعمار کا شکست خوردہ مکروہ چہرہ

استعمار کا شکست خوردہ مکروہ چہرہ

استعماری نظام پے در پے ناکامیوں کے بعد شکست و ریخت کاشکار ہوچکا ہے۔ اپنے غلبے کے دور میں دنیا میں ظلم و زیادتی اور قہر و غضب کی بدترین مثالیں رقم کیں۔ دعوے کے طور پر تو بہ قول شخصے امریکا جمہوریت پسند قوتوںکے لیے ’’روشنی کا مینار‘‘ کہلاتا تھا، لیکن درحقیقت عملی طور پر دنیا میں آمریت کی بدترین شکل شمار ہوتا ہے۔ استعمار کاامریکی چیپٹرChapter(باب) اتنا سفاک تھا کہ اس نے اپنے ہی ملک کے متعدد صدور کے قتل سے بھی گریز نہیں کیا۔ اپنے عہد میں یہ اتنا بدلحاظ ثابت ہوا تھا کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے بھی اس کے قہر سے بچ نہیں سکتے تھے۔ وہ اپنے مخالف نکتہ ہائے نظر رکھنے والے کمزور، غریب اور چھوٹے چھوٹے ملکوں کی قومی قیادت کوتہ و تیغ کردیتا تھا۔ امریکا نے ان ملکوں کی قومی قیادت کو ہی نہ صرف دنیا سے انتہائی ظلم و ستم کے ساتھ مٹایا، بلکہ ان ملکوں کے سماجی ڈھانچوں کو بھی مسمار کر دیا۔ ترقی یافتہ سماج میں خوف و ہراس کی علامت بن گیا۔ اس کے کھاتے میں کیے گئے ظلم اور ناانصافیوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس کا شمار کرنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔

دنیا میں استعمار کے بے شمار آپریشن چلتے رہتے تھے۔ اب تک کا آخری آپریشن افغانستان تھا، جس کا آغاز ببرک کارمل کی حکومت کے آغاز سے ہی شروع ہوگیا۔ حکومت گرانے کے لیے ’’آپریشن مجاہدین‘‘ 1979ء میں شروع ہوا۔ 1986ء میں قائم ہونے والی ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت‘ 1992ء میں افغانستان کے قصرِ صدارت تک محدود کردی گئی۔ 1996ء میں ’’آپریشن طالبان‘‘ کے ذریعے ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو اس کی موت ساتھ ہی ختم کر دیا گیا۔ دوسری طرف 1992ء میں ہی مجاہدین کی متوازی حکومت کھڑی کردی گئی۔ اس کی سربراہی شروع میں صبغت اللہ مجددی کو سونپی گئی، جو صرف دو ماہ تک برقرار رہ سکی۔ بعد میں معاملات پروفیسر برہان الدین ربانی کو منتقل ہوگئے۔ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان میں ملا محمد عمر کی سربراہی میں امارتِ اسلامیہ کا ’’طالبان دور‘‘ شروع ہوگیا۔ 2002ء میں حامد کرزئی کی سربراہی میں اسلامی عبوری حکومت کا آغاز ہوا۔ اشرف غنی کی آج کی حکومت اسی کا تسلسل ہے۔

افغانستان میں تما م فوجی آپریشنز گزشتہ صدی کے اختتام تک امریکی ہدایات کے مطابق مکمل کیے جاتے تھے۔ حالیہ صدی کے آغاز میں پاکستان کی فوجی قیادت تبدیل ہوگئی۔ نئی قیادت کے رُجحانا ت میں تبدیلی محسوس کی گئی۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان امریکا کے بعد روس کے دورے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جس کی وجہ سے انھیں 16؍ اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ پاکستان شروع سے امریکی تابع داری میں کام کرتا چلا آرہا تھا، لیکن جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد رُوس کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کیا گیا۔ مشرف نے روس کا پہلا سرکاری دورہ 4؍ فروری 2003ء کو شروع کیا، جو 5 سے7 فروری تک جاری رہا۔ 33 افراد کا وفد صدر کے ہمراہ تھا۔ سی این این کے ہمراہ روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اس دورے سے آپ کس قسم کی توقعات لیے ہوئے ہیں؟ جنرل نے جواب میں کہا: ’’ بہت اچھی‘‘۔ جنرل نے اپنے دورے کے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات قائم کرنے اور انھیں فروغ دینے میں ’’لینڈ مارک‘‘ ثابت ہوگا۔ جنرل پرویز مشرف نے بہ طور صدر پاکستان اور آرمی چیف کے‘ روس کا پہلا دورہ کیا تھا، جسے اس کی سزا دی گئی۔ اس پر متعد د جان لیو احملے کیے گے۔ ایک حملہ 14؍ دسمبر 2003ء کو راولپنڈی میں ہوا، جس میں بڑی مشکل سے اس کی جان بچائی جاسکی۔ اس کے بعد ایک اور فول پروف حملہ کیا گیا۔ 25؍ دسمبر کو جب دوبارہ حملہ کیا تو بہ یک وقت دو اٹیک کیے گئے، جو پہلے سے بھی زیادہ تباہ کن تھے۔ دھما کے سے گاڑی ہوا میں اُڑی۔ زمین پر دوبارہ گرنے سے گاڑی کے تمام ٹائر تباہ ہوگئے۔ جنرل صاحب گاڑی کے صرف ریموں پر چل کر اسلام آباد پہنچ سکے۔ (عالمی نیوز ایجنسی رائٹر، فیکٹ باکس 6؍جولائی 2007 ء)

جنرل مشرف کا یہ اقدام انتہائی دلیرانہ اور جرأت مندانہ تھا۔ اس نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال کر خارجہ پالیسی میں شفٹ پید ا کی تھی۔ عالمی سیاست میں چین اور روس نے ابھی اتنے بڑے بڑے فیصلے کرنے کا عندیہ نہیں دیا تھا۔

آج حالیہ صدی کی تیسری دہائی شروع ہوچکی ہے۔ روس دوسری دہائی میں مشرقِ وسطیٰ میں عالمی استعماری طاقتوں کے دانت کھٹے کرچکا تھا۔ چین معاشی میدان میں معجزاتی حد تک کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ خبر رساں ادارے را ئٹرز 13؍ جون 2021ء کی رپورٹ کے مطابق لندن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے جی سیون کے عالمی رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ: ’’وہ دن کب کے چلے گئے جب چھوٹے ممالک کے گروہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھوٹے، بڑے، مضبوط، کمزور، امیر اور غریب ہر طرح کے ملک برابر ہیں۔ اور یہ کہ عالمی امور پر تمام ممالک کی مشاورت کے بعد فیصلے ہونے چاہئیں‘‘۔ کیمو نسٹ پارٹی کی صد سالہ تقریبات کے انعقاد کے موقع پر یکم؍ جولائی 2021ء کو چینی صدر نے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ: ’’چین کو دھمکانے کا وقت گیا۔ کسی طاقت نے دھونس جمانے کی کوشش کی تو اس کا سر دیوارِ چین پر مارکر پاش پاش کردیں گے‘‘۔ (اے پی پی۔ شہنوا، یکم؍ جولائی 2021ء)

افغانستان میں چالیس سال قبل استعماری طاقتوں نے جس کھیل کی شروعات کی تھیں، آج واپسی کے ذلت آمیز سفر کا آغاز کرنے جا رہی ہیں۔ دورانِ جنگ خطے میں آلۂ کار طبقہ پیدا کرنے کے لیے کھربوں ڈالرز خرچ کیے گئے۔ خطے سے لوٹتے وقت ساتھ چلنے والی قوتوں کو زیرنگیں رکھنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کا استعمال شروع کردیا ہے۔ دراصل استعمار کے پاس تعمیر کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

میڈیا کے ذریعے طالبان کے نام پر جو جتھے متعارف کرائے جارہے ہیں، بیس سال قبل انھیں کی حکومت ختم کرکے کرزئی حکومت قائم کی گئی تھی۔ آج یہ جتھے انھیں کی بساط پر نئے انداز میں دوبارہ کھیلنے والے نہیں ہیں۔ کیوںکہ خطے کی طاقتوں نے جس طرح استعماری طاقتوں کو للکارا ہے، یہ جتھے مزید کسی پراکسی وار کا حصے بنتے دکھائی نہیں دیتے۔ میڈیا کے ذریعے جو تأثر پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ طالبان نے اتنے ضلعوں پر قبضہ کرلیا ہے اور لوگ افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کی طرف بھاگ رہے ہیں، گویا ایک تو ان ملکوں کو مستقبل میں کسی گیم کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسرا یہ تأثر عام کرنے کی سعی ہے کہ ہمارے جانے کے بعد کسی میں اتنی استعداد نہیں ہے کہ وہ ہماری جگہ لے سکے۔ گویا خطہ مستقل بداَمنی کا شکار رہے گا۔ حال آںکہ دنیا جانتی ہے کہ علاقائی طاقتوں کا مستقبل عالمی امن اور استحکام میں مضمر ہے۔ لہٰذا وہ خطے میں ا سی کے حصول کی حکمتِ عملی پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

9 / 11

اسلام میں اجتماعیت مقصود ہے

اسلام میں اجتماعیت مقصود ہے

 

۱۵؍ محرم الحرام ۱۴۲۲ھ / 4؍ ستمبر 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! دینِ اسلام اپنی اجتماعیت کے ساتھ اپنے غلبے کے تقاضے کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جماعت کی اجتماعیت ہی دین کے غلبے کے لیے لازمی اور ضروری ہے۔ ہمارے ہاں محرم الحرام کے مہینے میں مسلمان جماعت کے افتراق و انتشار پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، جب کہ اس کے بجائے جماعتِ صحابہؓ کے اجتماعی کردار کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ صحابہ کرامؓ کی پوری کی پوری جماعت نے دین کے غلبے کی جدوجہد کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ افراد اجتماعیت کا حصہ بن کر کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی فرد کو، خواہ وہ صحابی ہو، تابعین میں سے ہو، اولیاء اللہ میں سے ہو، جماعت سے کاٹ کر پیش کرنا، اجتماعیت کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔

یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام کے مقابلے میں کفر کے بھی افراد پیشِ نظر نہیں ہوتے، بلکہ ہدف کفر کی وہ اجتماعی طاقت ہے، جو دینِ حق کا راستہ روکتی ہے، انسانیت کی ترقی کے راستے میں رُکاوٹ بنتی ہے، اُس ظالمانہ اجتماعیت کو توڑنا مقصود ہے۔ کفر کی اجتماعیت کو توڑ کر غیرمسلم اور کافر افراد ایک مسلمان ریاست اور اجتماعیت میں امن کی زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ اُن کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اگر وہ انفرادی حیثیت میں مغلوبیت کی حالت میں، کفر و شرک، ظلم کے نظام کی مغلوبیت قبول کرتے ہوئے دینِ اسلام کے عدل و انصاف کے نظام کو قبول کرتے ہیں تو اپنے عقیدے پر رہ سکتے ہیں۔ عقیدے کی بنیاد پر کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔

اگر ایک کافر اپنے غلط نظام کو توڑ کر انفرادی حیثیت میں کفر میں رہتے ہوئے مسلمان ریاست اور حکومت میں رہ سکتا ہے تو صحابہ کرامؓ کے باہمی مزاجی اختلافات __ جو مزاج کے طبعی تقاضوں کے تحت ہیں __ میں ہماری طرف سے ایسا جنگ و جدل کا ماحول بیان کرنا، فتوے لگانا، افتراق پیدا کرنا، کفر کا بازار گرم کرنا، قطعی طور پر غلط ہے۔ صحابہؓ کی اجتماعیت نے اجتماعی طور پر دین کے غلبے کا ہدف پورا کیا ہے۔ وہ ائمہ اہل بیت ہوں یا صحابہ کرامؓ کی وہ اولوالعزم اجتماعیت ہو، جو حضرت امیرمعاویہؓ کی قیادت میں کردار ادا کرنے والی ہے۔ حضرات ابوبکر صدیق، عمرفاروق، عثمان غنی اور علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہم تو وہ خلفائے راشدین ہیں کہ جن کی اتباع بعد کی دونوں جماعتوں؛ ائمہ اہل بیت اور خلفائے بنواُمیہ دونوں نے کی ہے۔ اُس اجتماعیت میں ہر فرد نے اپنی حمیتِ دینی کے تحت جماعت کے اجتماعی مقاصد کو پورا کیا ہے۔ شریعت، طریقت اور سیاست کی اجتماعیت برقرار رکھی ہے۔ دین کے غلبے کے لیے کام کیا ہے‘‘۔

’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ سامراجی پالیسی ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’دینِ اسلام کی اجتماعیت کا ہدف ظلم کے نظام کا خاتمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا میں دینِ حق کے غلبے کے لیے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’ہم نے اپنے رسولؐ کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ دینِ حق کو دینِ باطل پر غالب کریں‘‘۔ پوری جماعتِ صحابہؓ نے اجتماعی طور پر غلبۂ دین کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ افراد کے مزاج کے اختلاف سے جماعت کی اجتماعیت نہیں ٹوٹتی۔ مزاجوں کا اختلاف رہتا ہے۔ صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک اپنے طبعی مزاج کے ساتھ حمیتِ اسلامی، دین کی غیرت اور دین کے غلبے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنے والے ہیں۔ جب سے اس برعظیم پاک و ہند میں زوال پیدا ہوا اور غلامی مسلط ہوئی ہے، تو ہمارے ذہنوں میں انفرادیت کے جراثیم ایسے داخل کردیے گئے کہ اپنے اپنے بزرگ پر قبضہ کرکے اُس کی بنیاد پر باقیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے، فتوے لگانے، جھگڑے پیدا کرنے، جلوس نکالنے کا مرض لاحق ہوگیا۔

اس برعظیم پاک و ہند میں افتراق و انتشار پیدا کرکے حکمرانی کرنا انگریز سامراج کی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی سیاست کا لازمی شاخسانہ ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی شیعہ سنی فسادات ہیں۔ ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ’جی یہ شیعہ سنی فرقے تو چودہ سو سال سے چلے آرہے ہیں‘۔ لیکن کیا اس کی بنیاد پر تاریخِ اسلام میں کبھی لڑائی جھگڑے ہوئے ہیں؟ مسلمان جماعت کی چودہ سو سال کی تاریخ میں اس طرح کے جھگڑے کہ جس سے سوسائٹی میں افتراق و انتشار جنم لے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو؟ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ سب انگریز سامراج کے تسلط کے زمانے میں شروع ہوا۔ 1905ء میں لکھنؤ میں وہاں کی ریاستی انتظامی طاقتوں اور قوتوں نے پہلا شیعہ سنی فساد کرایا، جس میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ورنہ مسلمان معاشروں میں بہت سے فرقے گزرے ہیں۔ ان کے درمیان علمی مکالمہ ہوتا رہا ہے۔ دلائل، بات چیت، سمجھنے سمجھانے کے لیے مباحثے اور مکالمے رہے ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی صحت مندانہ علمی روایت ہوتی ہے۔

اس برعظیم پاک و ہند میں حال آںکہ سیاسی اختلاف موجود تھا، ہمایوں کے ایران سے آنے کے بعد شیعہ اُمرا کا دہلی پر ایک اعتبار سے قبضہ ہوگیا۔ اُن کے اثرات بڑھ گئے، لیکن اس کی وجہ سے مغل ریاست ہل گئی ہو؟ نہیں! اُسی دربار میں سنی اُمرا بھی تھے اور شیعہ اُمرا بھی تھے۔ اکبر کے بعد ہمایوں اور جہانگیر کے زمانے میں، بلکہ اورنگزیب عالمگیر جیسے اہم ترین بادشاہ کے زمانے میں بھی کہ جہاں ہندوؤں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر سلوک کیا گیا تو شیعوں کے ساتھ تو ان سے بھی اچھا سلوک رکھا گیا۔ مغل ریاست میں صلاحیت اور اہلیت کا حامل ایک ہندو تھا تو اُسے بھی گورنر لگا دیا اور اگر شیعہ تھا تو اُسے بھی گورنر لگا دیا گیا۔ شیعہ سنی لڑائی جھگڑے کا کبھی کوئی واقعہ نہیں ہوا، بلکہ سیاسی حوالے سے اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد اور میرٹ پر فیصلے ہوتے تھے‘‘۔

 

 

ماتم کے جلسوں جلوسوں کے روٹس کا پسِ منظر

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’محرم الحرام کے جلسے جلوسوں کے لائسنس سب سے پہلے انگریز سامراج نے شیعوں اور سنیوں کو دیے۔ ورنہ قدیم تمام شیعہ علما کے ہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہٗ کی اس شہادت پر دس محرم کا معمول یہ رہا ہے حضرت حسینؓ کی یاد میں اُن کی اور صحابہؓ کی دین کے غلبے کی جدوجہد کو یاد کرکے روتے تھے۔ بس اتنا سا ماتم تھا۔ سنی صوفیا اور علما کے ہاں بھی یہ روایت رہی ہے کہ اپنے کسی بزرگ کی وفات کے زمانے میں اُس دن جمع ہو کر اُس بزرگ کے اقوال یاد کرتے تھے۔ اُن کی تقریریں اور خطابات سنتے تھے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ سر پیٹنا، مار دھاڑ کرنا، سینہ کوبی کرنا کبھی نہیں رہا۔ شیعوں کی بنیادی کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ ماتم اس طریقے سے کرنا کہ جس سے اذیت پہنچے، ناجائز ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’جب کوئی آدمی مردے پر اس طریقے سے نوحہ کرتا ہے، روتا پیٹتا ہے، ماتم کرتا ہے، تو اُس سے مردے کو اذیت پہنچتی ہے‘‘۔ سچے علما نے کبھی یہ کام نہیں کیا۔

انگریز کے زمانے میں شیعوں کو لائسنس دیا گیا کہ امام حسین کی یاد میں جلوس نکالو۔ اس برعظیم پاک و ہند میں 1905ء سے پہلے حضرت حسینؓ کی شہادت پر کبھی جلوس نہیں نکلے۔ پھر جب شیعوں کے اس عمل پر سنیوں نے اعتراض کیا تو اُن کو کہا گیا کہ لو بھئی! تم بھی جلوس کا لائسنس لے لو۔ تم بھی دفاعِ صحابہؓ کے نام پر جلوس نکالا کرو۔ شیعوں کے لیے جان بوجھ کر جلوس کے وہ راستے منتخب کیے گئے کہ جو سنیوں کے علاقے سے گزرتے ہیں، تاکہ جھگڑا ہو اور وہاں کسی سنی کو پیسے دے کر اُس سے پتھراؤ کرایا جاتا اور جھگڑا پیدا ہوتا۔ دفاعِ صحابہؓ کی ریلی کے لیے وہ راستے متعین کیے گئے جو شیعوں کے علاقے سے گزرتے ہیں۔ اور کسی شیعہ کو کھڑا کرکے وہاں پتھراؤ کرادیا۔

جیسے افغانستان کے جہاد میں یہاں کے سسٹم نے ہر ایک جماعت کو استعمال کیا۔ شیعوں کی جہاد والی پارٹی اپنی تھی، اور سنیوں کی اپنی تھی، دیوبندیوں کی اپنی تھی، اہل حدیثوں کی اپنی تھی۔ ایسے ہی ایرانی انقلاب کو جو امریکا طاغوت کے خلاف آیا تھا، اُس کو روکنے کے لیے شیعہ سنی جھگڑے کو یہاں پروان چڑھایا گیا۔ ورنہ 1978ء سے پہلے اُسی مسجد میں سنی بھی نماز پڑھ رہا ہے، اُسی مسجد میں شیعہ بھی پڑھ رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی مرکزی جامع مسجد میں چلے جاؤ، آج بھی شیعہ وہاں نماز پڑھتا ہے۔ کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ اپنے اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہاں باقاعدہ محاذ گرم کیا گیا۔ افتراق و انتشار پیدا کیا گیا۔ لڑائی جھگڑا یہاں کے سسٹم کی ضرورت تھی۔ یہاں کے آلۂ کار دونوں طرف کے مولوی، وہ جھگڑے پیدا کرتے۔ جب سامراج کو اپنی ضرورت پیش آئی تو پھر ’’ملّی یک جہتی کونسل‘‘ بھی بنا دی گئی۔ وہاں شیعہ سنی لیڈر اکٹھے کھا پی رہے ہوتے ہیں۔ جب باہر نکلتے ہیں تو اُن کی زبانیں آگ اُگلتی ہیں۔ کفر اور شرک کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی گردنیں اُڑائی جاتی ہیں‘‘۔

مسلمانوں کا حقیقی دشمن اور آج کا تقاضا

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمانوں کا دشمن سامراج ہے، طاغوت ہے، سرمایہ داری نظام ہے۔ وہ سرمایہ داری نظام جس نے اس خطے پر کفر اور شرک، ظلم اور ستم کے لیے بدمعاشی پیدا کی۔ انسانیت کو غلام بنانے کے لیے کردار ادا کیا۔ اُس کی بنیاد پر ملکوں کی لڑائیاں پیدا کرائی گئیں۔ فرقوں کی لڑائیاں کھڑی کی گئیں۔ نوجوانوں کی قربانی دی گئی۔ نوجوانوں کو شہید کرایا گیا۔ مفادات اپنے اٹھائے گئے۔ محرم الحرام آتا ہے تو جھگڑا بھی خود پیدا کرایا جاتا ہے اور پھر صلح کے نام پر، امن کے نام پر میٹنگز بھی خود ہی کی جاتی ہیں۔ پھر مذہب کو بدنام کیا جاتا ہے کہ مذہب تو سوائے لڑائی بھڑائی سکھانے کے اَور کوئی کام ہی نہیں کرتا۔ اس کا کام تو لوگوں کو فرقوں کے اختلافات میں مبتلا کرنا ہے۔

مذہب کو بدنام کرنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ حال آںکہ مذہب کی تو حکومت ہی نہیں ہے۔ جب مذہب کی حکومت نہیں تو مذہب کا فرقہ کہاں سے ہوگیا؟ یہ تو سامراج کی حکومت ہے۔ سرمایہ داری کی حکومت ہے۔ ظلم کا نظام ہے۔ عدل کا نظام قائم کرو۔ وہ جو تمام علما کا متفقہ ضابطہ رہا ہے، وہ نافذ کرو۔ وہ نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جھگڑے کھڑے کرنا مقصود ہے۔ فرقہ واریت کی فضا پیدا کرنا، نوجوانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنا خطرناک بات ہے۔ نوجوانوںکو ان سے علاحدہ رہنا چاہیے۔ یہ مذہب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اس ظالمانہ سسٹم کا معاملہ ہے۔ سامراجی نظام کا معاملہ ہے۔ یہ دین کا معاملہ نہیں ہے۔ ہوش مند مسلمان، خواہ وہ کسی فرقے کا ہو، وہ طاغوت کو اپنا ہدف سمجھتا ہے۔ آزادی اور حریت کے لیے کردار ادا کرتا ہے۔

صحابہؓ کی اجتماعیت کو سمجھو۔ ائمہ اہل بیت اور صحابہؓ کفر اور دشمن کے مقابلے پر یک جان رہے ہیں۔ خلافتِ بنواُمیہ میں تابعینؒ، تبع تابعینؒ ہوں یا ائمہ اہل بیتؒ ہوں، انھوں نے اِنھیں بنواُمیہ کی بیعت کی ہے۔ اِنھیں کی بیعت امام زین العابدینؒ اور امام باقرؒ نے کی۔ اِنھیں کی بیعت امام موسیٰ کاظمؒ اور امام زیدؒ نے کی ہے۔ یہ تمام کے تمام لوگ اسی ایک جماعت کی اجتماعیت کا حصہ رہے۔ یہی اجتماعیت خلافتِ بنوعباس اور خلافتِ بنوعثمان میں رہی۔ یہ مسلمانوں کی اصل تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرنا غلط ہے۔ صوفیا کا دور ہو، محدثین اور فقہا کا تسلسل ہو، ائمہ اہل بیت کا سلسلہ ہو، اولیاء اللہ اور علمائے ربانیین کے سلسلے ہوں، یہ ساری ایک جماعت ہے۔ شریعت، طریقت اور سیاست تینوں کی جامعیت کو لے کر اس جماعت نے غلبۂ دین کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ اس نظریے کو سمجھنا آج کے مسلمان کی اہم ضرورت ہے۔ اس اجتماعیت اور اجتماعی شعور کی بنیاد پر کردار ادا کرنا، مسلمان کے لیے لازمی ہے۔ فرقہ واریت سے برأت کا اعلان کرنا، امن و امان کو یقینی بنانا، نظریہ اور شعور پیدا کرنا، سامراج کے مقابلے پر عدمِ تشدد کے اُصول پر اپنی اجتماعیت پیدا کرنا آج کے دور کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس اجتماعیت کو سمجھنے اور اس کے مطابق کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین!)‘‘۔

10 / 11

حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ

حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ

کسی بھی قوم کی آزادی کی تحریک یقینا ہمت حوصلے اور جرأت سے عبارت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تحریکاتِ آزادی میں ٹھیک ایک صدی قبل جاری ہونے والی تحریکات میں بھی جن حریت پسند لوگوں اور خاص طور پر علمائے حق نے حصہ لیا، انھوں نے جدوجہد کا حق ادا کیا۔ ان تحریکات میں سب سے اہم تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت، تحریکِ عدم تعاون اور جمعیت علمائے ہند کا قیام وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ انھیں حریت پسندوں میں پانی پت کے علاقے کا ایک نام حضرت مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ بھی ہے۔ مولانا موصوفؒ 1890ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کو مخدوم جلال الدین کبیر الاولیاءؒ کی اولاد کی نسبت سے علاقے میں قدر و منزلت حاصل تھی۔ ابتدائی تعلیم پانی پت ہی میں حاصل کی۔ آبائی پیشہ زراعت تھا، لہٰذا اپنا ذریعۂ معاش بھی اسی کو بنایا۔ انھوں نے دیکھا کہ یہ دور سیاسی طور پر گہما گہمی کا دور ہے اور وطنِ عزیز کی حریت و آزادی کے لیے مسلمانانِ ہند اور خاص طور پرعلمائے کرام اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ چوں کہ وہ خود فطری طور پر بہادر اور جرأت کے حامل تھے، اس لیے اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا اپنا مذہبی فریضہ خیال کیا۔

ہندوستان کی ہمہ گیر تحریک‘ تحریکِ خلافت کی جب بنیاد رکھی گئی تو مولانا لقاء اللہؒ اس وقت بننے والی خلافت کمیٹی کے اراکین میں سے تھے۔ تحریکِ خلافت میں سر گرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں انھیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کے خطبہ صدارت نومبر 1920ء میں جن علمائے کرام کی گرفتاری کی پُرزور الفاظ میں مذمت فرمائی تھی، ان میںمولانا ظفر علی خان، مولانا فاخر الٰہ آبادیؒ اور صوفی اقبالؒ کے ساتھ ساتھ مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتیؒ بھی شامل تھے۔ اسی خطبہ صدارت میں حضرت شیخ الہندؒ نے دیگر فرزندانِ ہند کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو مسلمانوں پر ظلم قرار دیا تھا۔

حضرت مولانا سیّد محمد میاںؒ تحریکِ خلافت میں مولانا لقاء اللہؒ کے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’ تحریکِ آزادی کی تمہید تحریکِ خلافت تھی۔ اور تحریکِ خلافت کا پہلا مردِ میدان جس نے 1919ء اور 1920ء کے وحشیانہ جیل خانے کو سب سے پہلے آگے بڑھ کر آباد کیا، یہی خوش وضع، حسین و جمیل لقاء اللہ عثمانی تھا، جس کے دورِ شباب پر ہزاروں حُسن قربان ہوتے تھے‘‘۔ (بزرگانِ پانی پت)

28؍ دسمبر 1919ء کو جمعیت علمائے ہند کے قیام کے لیے امرتسر میں منعقد ہونے والے اجلاس میںبھی مولانا لقاء اللہؒ شریک تھے۔ یوں جمعیت العلمائے ہند کے بانی اراکین میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ تحریکِ خلافت ہو یا تحریکِ عدمِ تعاون، جمعیت العلمائے ہند کا قیام ہو یا تقسیمِ ہند کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا، الغرض! ہر محاذ پر مولاناؒ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ حریت و آزادی کی اس بھرپور جدوجہد کے ساتھ ساتھ فتنۂ قادیانیت کے تدارُک کے لیے بھی انھوں نے علمی اور عملی کردار ادا کیا۔ اس پورے دورانیے میں ان کو ہندوستان کی مایۂ ناز ہستیوں کے ساتھ عملی کردار ادا کر نے کا موقع ملا، جن میں نمایاں نام حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ اور دیگر حریت پسند حضرات شامل ہیں۔

حالات کی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جس خطے کی آزادی کے حصول کے لیے مولانا لقاء اللہؒ نے دن رات ایک کر دیے اور کسی بھی مخالفت کی پرواہ نہیں کی، تقسیمِ ہندوستان کے وقت اس اپنے ہی وطن میں پردیسی اور اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوگئے۔ تقسیمِ ہند کے وقت پورے ہندوستان کی طرح پانی پت میں بھی حالات بہت زیادہ سنگین صورت اختیار کرگئے تھے۔ پانی پت کی مسجد مخدوم صاحب پر شرنارتھیوں کا ناجائز قبضہ ہوگیا تھا۔ اس مسئلے کی وجہ سے مولاناؒ کو بہت تشویش تھی۔ اس کی بازیابی کے لیے 9 سال تک مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ بالآخر 1956ء میں اس قبضے کو ان کی مساعی سے مکمل طور پر چھڑا لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی پاکستان ہجرت کے عمل کے بعد پانی پت کے گنتی کے مسلمانوں پر جو ظلم و جبر روا رکھا گیا، اس کے مقابلے میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مولاناؒ کے استقلال کو دیکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں میں بھی ہمت اور حوصلہ بیدار ہوا۔ موصوفؒ نے پانی پت کے مسلمانوں کی حفاظت اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے بھی بہت کردار ادا کیا۔

مولانا سیّد محمد میاںؒ 1947ء کے ہنگامہ خیز دور میں مولانا لقاء اللہؒ کی مساعی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’ہنگاموں کے ختم ہونے اور فضا کے ساکن ہونے کے بعد جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ مکمل انخلا کے باوجود مسلمان دیہاتوں میں موجود ہیں تو جمعیت علمائے ہند کے ذمہ داران کی طرف سے اصرار شروع ہوا کہ پانی پت میں دینی تعلیم کا سلسلہ از سرِنو شروع کیا جائے۔ اس تحریک کو حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تائید سے تقویت ملی‘‘۔ (پانی پت اور بزرگانِ پانی پت)

مولانا عبدالماجد دریابادیؒ‘ مولانا لقاء اللہؒ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہند وَ پاکستان کے مسلمانوں میں کوئی مجھ سے فرمائش کرتا ہے کہ 10 مخلص ترین انسانوں کے نام بتائو تو اس ننھی منھی فہرست میں میرے علم و یقین کے مطابق ایک نام مولانا لقاء اللہ عثمانی پانی پتی کا ضرور آتا ہے۔ مخلص مسلمان نایاب نہیں، ماشاء اللہ! ابھی بڑی تعداد میں ہیں، لیکن لقاء اللہ عثمانی ان میں گلِ سرسبد تھے‘‘۔

مولانا لقاء اللہ عثمانیؒ نے۳؍ ذوقعدہ۱۳۱۹ھ / 23؍ جنوی1969ء کو داعیٔ اَجل کو لبیک کہا۔ ان کا مزار پانی پت کے محلہ مخدوم صاحب کی تاریخی مسجد مخدوم المشائخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء کے صحن میں مرجع خلائقِ ہے۔

شورش کاشمیری کا ایک شعر ان کے بارے میں کچھ اس طرح ہے:

یہ عقدہ کھل گیا مجھ پر لِقاء اللہ سے مل کر
زمانہ خواہ کیسا ہو، مسلماں ایسے ہوتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

11 / 11

ہماری والدۂ مرحومہ  رحمہا اللّٰہ تعالٰی

ہماری والدۂ مرحومہ  رحمہا اللّٰہ تعالٰی

ہماری والدۂ محترمہ نعیمہ خاتون مؤرخہ۲۴؍ شوال المکرم۱۴۴۲ھ / 5؍ جون 2021ء بروز ہفتہ کو مختصر علالت کے بعد اپنے ربّ سے جا ملیں۔إنّا لِلّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔

آپؒ کے والد ِگرامی کا نام راؤ ممتازعلی خاں تھا۔ آپؒ کی پیدائش جنوری 1940ء میں اپنے آبائی قصبے ’’کلانَور‘‘ ضلع روہتک مشرقی پنجاب (اب ہریانہ، انڈیا) میں ہوئی۔ آپؒ کے والد ِگرامی قصبے کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے۔ وہ انتہائی نیک صالح شخصیت تھے، اس لیے لوگ انھیں ’’ملا ممتاز علی خاں‘‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ دہلی کے قریب ہونے کی وجہ سے اس قصبے کے اکثر لوگ قدیم زمانے سے فوجی اور عسکری خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ پہلے مسلمان حکمرانوں کے لیے اپنی عسکری خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد بہت سے لوگ انگریز فوج میں بھی بھرتی ہونے لگے، لیکن راؤ ممتازعلی خاں حریت پسند علمائے دیوبند سے تعلق کی وجہ سے اس سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ انھوں نے سچے علما کے ساتھ اپنا تعلق آخر تک برقرار رکھا۔

والدۂ محترمہؒ کے بچپن میں ہی ان کے والد ِگرامی کا انتقال غالباً 1944ء میں ہوگیا تھا۔ اس کے بعد بڑے بھائی راؤ اعزازعلی خاں کے زیرنگرانی آپؒ کی پرورش ہوئی۔ وہ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے بیعت ہوئے تو پورے گھرانے کا تعلق رائے پوری مشائخ کے ساتھ جڑ گیا۔ والدۂ محترمہؒ کی بڑی ہمشیرہ کا نکاح حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ کے خادم راؤ عطاء الرحمن خاں رائے پوریؒ کے ساتھ 1946ء میں ہوا۔ اس موقع پر حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ ان کی بارات کے ساتھ قصبہ ’’کلانَور‘‘ تشریف لائے اور کئی دن ہمارے ننہیال میں قیام فرمایا۔ اس موقع پر حضرت رائے پوریؒ نے والدۂ محترمہؒ کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعا دی۔

والدۂ محترمہؒ پاکستان منتقل ہونے کے بعد 1958ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ سے لاہور میں بیعت ہوئیں۔ ہمارے والد ِگرامی راؤ عبدالرؤف خاںؒ حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ سے 1957ء میں بیعت ہوچکے تھے۔ ہمارے خالو راؤ عطاء الرحمن خاںؒ کی تحریک اور حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ کی مشاورت سے اُن کا رشتہ طے ہوا۔ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے 32-Bجیل روڈ لاہور میں قیام کے دوران 1960ء میں خود حضرت رائے پوریؒ نے ان کا نکاح پڑھایا اور ان کے لیے دعا کی۔ والدِ گرامی فرمایا کرتے تھے کہ: ’’میں جب اس موقع پر حضرتؒ کی قیام گاہ پر پہنچا تو حضرت کا کمرہ متوسلین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ میں دروازے میں ہی بیٹھ گیا۔ حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ مراقبے کی حالت میں تھے۔ اس موقع پر حضرتؒ نے پوری آنکھیں کھول کر مجھے غور سے دیکھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ حضرتؒ کی آنکھوں کی نورانیت میرے وجود میں داخل ہو رہی ہے۔ میں نے اپنے پورے جسم میں عجیب و غریب کیفیت محسوس کی۔ پھر حضرتؒ نے قریب بلایا اور نکاح پڑھایا‘‘۔ والد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’حضرت رائے پوریؒ کی اس گہری نظر کو میں اب تک اپنے وجود میں سرایت کرتا ہوا محسوس کرتا ہوں اور اُس کا فیض پاتا ہوں‘‘۔

حضرت اقدس رائے پوری ثانیؒ سے اس تعلق کی وجہ سے والدۂ محترمہ حضرتؒ کے بتلائے ہوئے معمولات کو پوری پابندی سے کرتی تھیں۔ حضرت رائے پوری ثانیؒ کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ سے بھی ان کا اسی طرح تعلق رہا۔ حضرت رائے پوری ثالثؒ کا ہارون آباد میں ہمارے گھر پر کئی کئی ہفتے تک قیام ہوا کرتا تھا۔ اس موقع پر آنے والے تمام مہمانوں کے لیے کھانا تیار کروانا اور بڑی تندہی سے حضرتؒ کے لیے خصوصی کھانے تیار کرنا والدۂ محترمہؒ کا بڑا ذوق تھا۔

حضرت رائے پوری ثالثؒ کے حکم پر والد ِگرامیؒ نے 1965ء میں اپنے گاؤں چک نمبر 73/4-Rمیں ’’تعلیم القرآن‘‘ کے نام سے ایک مکتب کا آغاز کیا تو طلبا اور استاذ محترم کے کھانے کا انتظام والدۂ محترمہ ہی کرتی تھیں۔ 1970ء میں جب شہر ہارون آباد میں جامعہ تعلیم القرآن کی توسیع ہوئی، تب بھی وقتاً فوقتاً طلبا اور اساتذہ کے لیے کھانے کا انتظام بڑے ذوق شوق کے ساتھ کیا کرتی تھیں۔ والد ِگرامیؒ اکثر حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کے ساتھ سفر و حضر میں رہتے تھے۔ والدۂ محترمہ تن تنہا گھرداری کا سارا نظام چلاتیں اور بچوں کی پرورش میں کردار ادا کرتی تھیں۔ حضرت اقدس رائے پوری ثالثؒ کے وِصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوریؒ سے بھی آپؒ کا تعلق شیخ کی طرح رہا۔ میرے اکثر حضرت اقدس رائے پوری رابعؒ کے ساتھ اسفار کے زمانے میں بھی گھر میں تمام کاموں کی نگرانی فرماتیں اور دعائیں کرتی رہتی تھیں۔ ان تمام کاموں کے باوجود حضرات مشائخ رائے پور کے بتلائے ہوئے معمولات کی پابندی کرتی تھیں۔ صبح تہجد کے لیے جلد اُٹھنا، سب کے لیے دعائیں مانگنا اُن کا معمول تھا۔

وصال سے تقریباً تین چار روز پہلے بیمار ہوئیں۔ بخار ہوا، کچھ کھانسی وغیرہ تھی۔ 3؍ جون کو مجھے ادارہ رحیمیہ کے نئے کیمپس کی تعمیر کے آغاز کے لیے پشاور جانا تھا۔ اس موقع پر بھی انھوں نے بہ خوشی مجھے جانے کی اجازت دی، حال آںکہ بعد میں انھوں نے کسی سے فرمایا کہ: ’’ان کے دادا کا انتقال اس وقت ہوا، اس کے والد ِگرامی گھر پر موجود نہیں تھے۔ لگتا ہے کہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا‘‘۔ پشاور پہنچ کر میں نے والدۂ محترمہ سے بات کی تو دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’تم جس کام کے لیے گئے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں کامیاب کرے، باقی اللہ خیر کرے گا‘‘۔ جمعۃ المبارک کی شام تک طبیعت ٹھیک رہی۔ پھر اچانک ہفتے کے روز طبیعت خراب ہوئی اور تھوڑی ہی دیر میں دوپہر کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں اور ہم چاروں بھائیوں: راقم سطور، راؤ محمدعبداللہ خاں، مولوی عبدالرحیم طاہر اور مولوی عبیداللہ اور دو بہنوں کو سوگوار چھوڑ کر آخرت کی طرف روانہ ہوگئیں     ؎

خاکِ مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا                   اب دُعائے نیم شب میں کس کو مَیں یاد آؤنگا

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے                           سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

شمارہ ختم

واپس