مئی،2025ء

ماہنامہ رحیمیہ

مئی،2025ء

مئی 06, 2025 5 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 5

امامِ انسانیت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ کی وصیت

امامِ انسانیت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ کی وصیت

گزشتہ آیات (-2 البقرہ: 131-130) میں ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ سے روگردانی کے حماقت پر مبنی بُرے نتائج سے آگاہ کیا گیا تھا۔ اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں کل انسانیت کی رہنمائی کے لیے منتخب کرلیا تھا اور انھوں نے ’’ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ‘‘ کہہ کر اسے قبول کرلیا تھا۔ اس طرح ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کسی خاص نسلی گروہ اور فرقے میں بند نہیں ہے۔ اللہ کا حکم کسی قوم کے کسی فرد کے ذریعے سے بھی نازل ہو تو اُسے ہر حال میں تسلیم کیا جائے گا۔

اب ان آیات (-2 البقرہ: 133-132) میں واضح کیا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد؛ حضرات اسماعیل و اسحاق علیہما السلام کو اسی دینِ حنیفی کی وصیت کی تھی اور اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنی موت کے وقت اپنی اولاد کو اپنے ان تینوں بزرگوں کی اتباع کرنے کا حکم دیا تھا اور ایک اللہ وحدہٗ لاشریک کے پیغامِ الٰہی کو قبول کرکے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تھا۔

﴿وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ ﴾ (اور یہی وصیت کر گیا ابراہیم اپنے بیٹوں کو اور یعقوب بھی): یہودیوں اور نصاریٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس دینِ حنیفی کی تشریح کرتے ہوئے ملّتِ طبیعیّین اور ملّتِ نَجّامِین کے زیرِ اثر ایسا ملغوبہ تیار کیا تھا، جس سے انھوں نے یہودیت اور عیسائیت کے فرقوں کی صورت میں پیش کیا تھا اور اللہ وحدہٗ لاشریک کے احکامات پسِ پشت ڈال کر نہ صرف باہمی تفرقے میں مبتلا ہوئے اور ایک دوسرے کی نفی کی، بلکہ آج دینِ اسلام کی مخالفت بھی کر رہے ہیں اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی طرف غلط باتیں منسوب کررہے ہیں۔

ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کو جو وصیت کی تھی اور جو حضرت یعقوبؑ نے یہودہ سمیت اپنے بارہ بیٹوں کو وصیت کی تھی، وہ دو اُمور پر مشتمل تھی:

1۔﴿يَابَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ ﴾ (کہ اے بیٹو! بے شک اللہ نے چن کردیا ہے تم کو دین): تمام جہانوں کے ربّ تبارک و تعالیٰ نے تمھارے لیے جو دین منتخب کیا ہے، وہ عالم گیر ہے۔ کل انسانیت کے فائدے کا ہے۔ ربّ العالمین کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام جہان میں بسنے والی انسانیت کا ربّ ہے، نہ کہ کسی ایک قوم کو چھوڑ کر صرف کسی دوسری قوم کا ربّ ہے۔ چناں چہ یہ بات غلط ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں آنے والے نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو اس لیے چھوڑ دیا جائے کہ وہ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام کی نسل اور قوم میں سے نہیں ہے، اللہ کے دین کا دنیا میں نزول کسی بھی فرد کے ذریعے سے ہوجائے، اُسے قبول کیا جائے۔ اس لیے کہ ان دونوں حضراتؑ نے اپنی اولاد کو یہی وصیت کی تھی کہ وہ دینِ اسلام کو قبول کریں۔

2۔﴿فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ﴾ (سو تم ہرگز نہ مرنا، مگر مسلمان): اسی طرح انھوں نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ اسی عالم گیر دینِ حنیفی پر اسلام کی حالت میں تمھاری موت آنی چاہیے۔ اس دینِ حنیفی کی قبولیت عارضی اور وقتی نہیں، بلکہ مرتے دم تک اس دینِ اسلام کی تعلیمات پر قائم رہنا تمھارے لیے لازمی اور ضروری ہے۔

﴿أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ﴾ (کیا تم موجود تھے جس وقت قریب آئی یعقوب کے موت؟): یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات اور تحریفات کو ’’یہودیت‘‘ اور ’’نصرانیت‘‘ کے عنوان سے متعارف کروایا تھا۔ ان میں سے ہر ایک حضرت یعقوب علیہ السلام کی وصیت سے متعلق خود ساختہ تصورات رکھتے تھے۔ اپنی ان تحریفات پر مبنی گروہیت ہی کو وہ دین سمجھتے تھے اور باقی کو گمراہ سمجھتے تھے۔ خاص طور پر اپنی تحریفات کو حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہوئے دینِ اسلام کا انکار کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سوال کیا ہے کہ کیا تم حضرت یعقوب علیہ السلام کی موت کے وقت موجود تھے؟ اپنی اس موقع پر عدمِ موجودگی کے باوجود اُن کی طرف غلط باتیں کیوںمنسوب کرتے ہو؟ حال آں کہ اس وقت کی صورتِ حال یہ ہے کہـ:

﴿إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي﴾ (جب کہا اپنے بیٹوں کو: تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد؟): ماضی کی حقیقی تاریخ یاد رکھو! حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا تھا کہ: میرے بعد تم کس ربّ کی عبادت کرو گے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ کے دینِ حنیفی کو قبول کرو گے یا اَحبار و رُہبان میں سے کسی کو اپنا ربّ مان کر اُس کے بیان کردہ حلال و حرام کو تسلیم کرو گے؟

﴿قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴾ (بولے: ہم بندگی کریں گے تیرے ربّ کی، اور تیرے باپ دادوں کے ربّ کی، جو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے فرماں بردار ہیں) : تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے تمام بیٹوں نے اپنے والد ِگرامی کے سامنے دو باتوں کی قبولیت کا اعلان کیا تھا:

1۔ ہم تیرے خدا اور تیرے آباؤ اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل وحضرت اسحاق علیہم السلام کے ایک واحد خدا کی عبادت کریں گے۔ اُسی کی غلامی تسلیم کریں گے۔ کسی اَور کو اُس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

2۔ ہم اُسی ایک خدا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام احکامات کو تسلیم کریں گے۔ خواہ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی زمانے میں کسی بھی نبی پر نازل ہوں، وقت کے اُن نبی پر ایمان لائیں گے اور اُن کے احکامات کو تسلیم اور قبول کریں گے۔

اس طرح ان آیات میں ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی اصل حقیقت واضح کی گئی ہے کہ وہ خدائے وحدہٗ لاشریک کی طرف سے ہر دور میں نازل شدہ انبیاؑ کی تعلیمات پر ایمان لانا ہے۔ اس کے مطابق نبیٔ آخر الزمان حضور اقدس ﷺ ہی اس ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اس دور میں نمائندے ہیں، ان کی پیروی کرنا ضروری ہے۔

2 / 5

والدین کا اولاد کے لیے بہترین تحفہ

والدین کا اولاد کے لیے بہترین تحفہ

​

عَنْ أَیُّوْبَ بْنِ مُوْسٰیؒ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ:’’مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَہٗ مِنْ نُّحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبِ حَسَنٍ‘‘۔ (سنن ترمذی: 1952)

(حضرت ایوب بن موسیٰؒ (تابعی) اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کوئی باپ اپنے بیٹے کو اس سے اچھا عطیہ نہیں دے سکتا کہ اسے اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنا سکھا دے‘‘۔)

والدین اپنی اولاد کے دُنیوی مسائل کے حل کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ اس حوالے سے نبی ﷺ نے رہنمائی فرمائی ہے کہ ایک باپ اپنے بچے کو جو سب سے بہترین چیز دے سکتا ہے، وہ اس کی اچھی تربیت ہے۔ اس کے اَخلاق کو سنوارنا، زندگی گزارنے کا سلیقہ بتانا اور آدابِ زندگی سمجھانا، تاکہ رشتہ داروں اور جن کے ساتھ وہ لین دین کرتا ہے یا اپنی منصبی ذمہ داریوں کو نبھاتا ہے، وہ ان حوالوں سے بہترین اور اچھا انسان ثابت ہو۔ اچھا اَخلاق اور اچھے رویے رکھنے والا ہو، جس سے متعلقین کو تکلیف کے بجائے راحت پہنچے اور آسانیاں میسر آئیں۔ اپنی اولاد سے ایک سچی اور حقیقی محبت کے اِظہار کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ اس حدیث میں اولاد کی مادی ضرورتوں کی فراہمی کی نفی نہیں ہے، البتہ یہاں ایک خاص دائرے میں بات سمجھائی جارہی ہے کہ ماں باپ کے لیے اولاد کے حوالے سے جو بات زیادہ قابلِ توجہ ہے، وہ اس کی اَخلاقی تربیت ہے۔ اس کو اچھے اَخلاق کی تربیت دینا اور بُرے اخلاق سے بچانا ہے۔

عموماً اور آج کل بالخصوص ایک سوچ ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے مال و دولت جمع کرنے اور جائیداد بنانے کے لیے بہت فکر مند رہتے ہیں اور ساری زندگی اس پر لگا دیتے ہیں۔ اولاد کی تربیت اور ان کے اَخلاق سنوارنے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، تو اس حدیث میں رسول اللہﷺ نے اس غلطی کی اِصلاح کی طرف توجہ دِلائی ہے۔ تاہم دیگر آیات و احادیث میں اس حوالے سے رہنمائی موجود ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے دنیاوی تقاضوں کو پورا کرکے آخرت میں اَجر کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ ماں باپ کو اولاد کی تربیت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ہی جنت عطا کی جائے گی۔

مشاہدہ یہ ہے کہ جن بچوں کی اَخلاقی تربیت کی طرف دھیان نہیں دیا جاتاتو ماں باپ کا جمع کیا ہوا مال جب ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس مال کو بے دریغ خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں، جس سے کئی مصیبتیں اور مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں۔ اگر ماں باپ کی زندگی ہی میں ایسا ہوجائے تو یہ صورتِ حال اُن کے لیے بڑی آزمائش اور تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ماں باپ اس کو پسند نہیں کریں گے کہ جس مقصد کے لیے انھوں نے ساری زندگی لگا دی، وہی ان کی اولاد کے لیے وَبالِ جان بن جائے۔ اس بنا پر اس حدیث میں اولاد کی تربیت کے حوالے سے گراں قدر رہنمائی ہے۔

3 / 5

حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ قریشی عبدری الحجبی رضی اللہ عنہٗ

حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ قریشی عبدری الحجبی رضی اللہ عنہٗ

​​

حضرت عثمان بن طلحہ قریشی رضی اللہ عنہٗ بہت سی انسانی خوبیوں اور بہترین اَخلاق اور انسانیت کے مظہر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔آپؓ بیت اللہ الحرام کے حاجب یعنی کلید برداری کے منصب پر فائز تھے۔ صلح حدیبیہ کے بعد آپؓ نے اسلام کی تعلیمات اور فکر پر گہرا غور کیا۔ اپنے ضمیر و فطرت کی آواز پر لبیک کہا اور دینِ حق دینِ اسلام کو قبول کیا۔ اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوگئے اور ترکِ وطن و اعزہ و احباب کا فیصلہ کرکے مہاجرین میں شامل ہوگئے۔ آپ مکہ کے نظام کے بڑے اہم ذمہ داروں میں سے تھے۔ آپؓ نے اپنے دو جلیل القدر بہادر، زیرک اور انتہائی عقل مند دوستوں حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرتعمرو بن عاصؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی اور خدمتِ اسلام میں مصروف ہو گئے۔ آپؓ فتح مکہ میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ حنین اور طائف کے غزوات میں شریک رہے۔ پھر حضوؐر کے ساتھ مدینہ واپس آگئے اور آپؐ کے وصال کے بعد پھر مکہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ رسول اللہؐ نے آپؓ کو فتح مکہ کے دن بیت اللہ کی چابیاں واپس کیں اور اس فتح کے دن کعبۃ اللہ میں رسول اللہ کے ساتھ جو تین لوگ اندر داخل ہوئے، ان میں سے ایک نام ’’عثمان بن طلحہ‘‘ کا ہے۔

آپ ﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہؓ کی سابقہ انسانی، مثبت تعمیری خدمات کی بنیاد پر امانت و دیانت کے اصول پرمستقبل کی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے انھیں فرمایا کہ: ’’یہ بیت اللہ کی چابیاں اب لے لو!ہمیشہ کے لیے تمھارے پاس ہوں گی۔ ان چابیوں کو سوائے ظالم کے کوئی اور تم سے نہیں چھین سکتا‘‘۔ اس طرح کعبہ کی کلید برداری قیامت تک اس خاندان کو سپرد ہوئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام مثبت، سچی اقدار و معاہدات کو سیاسی و اجتماعی فتوحات اور تبدیلیوں میں مد نظر رکھتا ہے، سب کچھ طاقت کے نشے میں مسمار نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت عثمان بن طلحہؓ سے کتبِ حدیث میں پانچ روایات موجود ہیں، ایک صحیح مسلم میں ہے۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں سے حضرت ابن عمرؓ، حضرت عروہ ابن زبیرؓ، آپ کے چچا زاد بھائی حضرت شیبہ ابن عثمان الحاجبؓ ہیں۔

اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب ہجرت کے لیے مکہ سے نکلیں تو آپؓ اکیلی تھیں۔ آپؓ کے خاندان کے لوگ بھی ساتھ دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس موقع پر جب مقام تنعیم پر عثمان ابن ابو طلحہؓ نے اکیلے ایک عورت کو سفر پر دیکھا تو عرب روایات اور قریش کی انسانی روایات کے اعتبار سے ایک عورت کو اکیلے سفر نہ کرنے دیا اور مدینہ تک انہیں پوری حفاظت کے ساتھ پہنچایا۔ اسی لیے حضرت اُم سلمہؓ کی رائے ان کے حق میں یہ تھی کہ میں نے ان سے بڑھ کر شریف النفس انسان نہیں دیکھا۔

عرب مؤرّخ مدائنی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن طلحہؓ کی وفات۴۲ہجری میں مکہ میں ہوئی۔(سیر اعلام النبلاء، الاصابہ، اسد الغابہ)

4 / 5

​حقائق سے عاری نعروں اور بے عمل جذباتی بیانیوں کی سیاست

​حقائق سے عاری نعروں اور بے عمل جذباتی بیانیوں کی سیاست

’پاکستان تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے‘، ’ملک ایک تشویش ناک دور سے گزر رہا ہے‘!!! یہ جملے ایک بار آج پھر ہماری سیاست اور صحافت کی شہ سرخیوں کی شکل میں اخبارات اور چینلز کی زینت بن رہے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت سے قطعاً انکار نہیں کہ اس وقت سیاسی طور پر ملک میں عدمِ استحکام کی فضا غالب ہے۔ سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے خطرات نے دفاعی اداروں کے لیے فکرمندی کی فضا کو جنم دیا ہے۔ قومی اُفق پر آزمائشوں کے سائے گہرے ہو تے چلے جارہے ہیں۔ پاکستان کو ہندستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا سامنا ہے۔ خاص طور پر پہلگام واقعے کے بعد پڑوسی ملک کے الزامات اور فوجی کاروائی کی دھمکیوں نے حالات کو تشویش ناک حد تک خراب کردیا ہے، جس کی وجہ سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تناؤ بڑھ چکا ہے۔

ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہے کہ پاکستان اور ہندستان کے تعلقات‘ تاریخی طور پر پیچیدہ اور متنازعہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی تقسیم کے وقت 1947ء میں شروع ہونے والے اختلافات نے جلد ہی کشیدگی کی شکل اختیار کر لی، جس کی وجہ سے تین بڑی جنگیں اور کئی سرحدی تنازعات ہماری جنگی تاریخ کا حصہ ہیں۔

لیکن پھر بھی ہمیں مندرجہ بالا جملے کیوں رسمی اور کسی تاثیر سے خالی نظر آتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے ملک کی حکومتوں کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیاں اورسیاسی و مذہبی جماعتوں کی بچگانہ اور شعور سے عاری حرکتیں ہیں۔ ہمارے خیال میں ان حکمرانوں اور سیاسی ومذہبی قبیلوں کے من پسند حالات یہی ہیں جو آج کل ملک میں انھوں نے پیدا کر رکھے ہیں۔ گو ! یہ ایک تلخ حقیقت ہے، لیکن اس کے کہے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ حالات جان بوجھ کر حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ ان پر سیاست کی جاسکے اور پھر دوسروں کو اس پر موردِ الزام ٹھہرایا جاسکے۔ گویا خرابیٔ بسیار کے لیے خود خراب حالات کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے، تاکہ؎

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

کیوں کہ ان خراب حالات میں ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو کچھ ایسے نعرے اور سلوگن ہاتھ لگ جاتے ہیں، جس سے ان کے لیے جلسوں، ریلیوں اور چندوں کی راہ ہموار ہو جاتی ہے اور گلشن کا کاروبار چل نکلتا ہے، جن کے ذریعے وہ اپنی عوام کو جذباتی بنا کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں پاکستانی سیاست میں کچھ ایشوز خطیبوں کی تقریروں میں رنگ بھرنے اور عوام کے دلوں کو گرمانے میں خاص تاثیر رکھتے ہیں۔ آج کل کی فضا میں ایک بار پھر وہ سارے سلوگن ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں اور وہ نعروں اور ایشوز کے ذریعے سیاست میں اپنے اپنے ’’گلشن‘‘ کا کاروبار چلاتے نظر آتے ہیں۔

اس موقع پر ایک سنجیدہ ذہن کو یہ سوچنے کا موقع ملتا ہے کہ وہ پاکستان میں سیاست اور حکومت کے بنیادی ڈھانچے پر غور و فکر کر کے یہ حقیقت دریافت کرے کہ ہمارے ہاں سول وفوجی حکومتوں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کا سیاسی آہنگ اور ہتھیار کیا رہا ہے؟ ہم جگہ کی کمی کے باعث ذیل میں نظام کے ان تینوں کوزہ گروں میں سے صرف ایک عنصر یعنی مذہبی جماعتوں کی اس موقع پرستی یا ’’نبض شناسی‘‘ کا جائزہ لیں گے کہ وہ قوم کو کس وقت کیا بیچتا رہا ہے؟

قیامِ پاکستان کی کوششوں سے لے کر قراردادِ مقاصد اور بعد ازاں 1973ء کے آئین میں اسلامی دفعات شامل کروانے تک مذہبی جماعتیں اکثر یہ تأثر دیتی رہی ہیں کہ اسلام کو اندرونی اور بیرونی قوتوں سے خطرات لاحق ہیں، حال آں کہ وہ نظام سے جڑی اندرونی قوتوں کے ساتھ مل کر سیاست کاری کے فن میں یدِ طولیٰ کے دعوے دار بھی ہیں۔ وہ مذہبی اقدار کے تحفظ اور اسلامی نظام کے نفاذ اور بعض دیگر مذہبی ایشوز کے نام پر لوگوں کو متحرک کرتے ہیں اور ان جذباتی ایشوز سے بہ آ سانی عوام کو اپنی طرف راغب کرلیا جاتا ہے۔ یہ ایشوز اکثر‘ حقیقت سے زیادہ پروپیگنڈے پر مبنی ہوتے ہیں۔ مذہبی سیاست دان اور مذہبی جماعتیں جذبات کو بھڑکانے کے لیے غیر مصدقہ واقعات کو ہوا دیتی ہیں۔ فلسطین اور کشمیر، پہلے افغانستان بھی ان میں شامل تھا، جیسے مسائل جذباتی مرچ مصالحے کے ساتھ مسلم امہ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے پیش کیے جاتے ہیں اور مقامی مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے، جیسے آج کل فلسطین کے نہتے عوام کے زخموں پر اپنی سیاسی عمارت کھڑی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں تمام مذہبی جماعتوں کا مینارِ پاکستان پر متحدہ کنونشن اور اس میں ہونے والی شعور سے عاری جذباتی تقریریں اور بیانات نمونے کے طور پر سامنے رہیں، جس میں کوئی فلسطین کے محاذ پر جانے کے لیے بے تاب ہے اور کوئی دلی کی جامع مسجد میں نماز پڑھنے کا دم بھرتا ہے اور کوئی ہندوستان کے شہر دیوبند میں ناشتے کی خواہش لیے پیٹ پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔

اور کبھی کبھی مذہبی سیاست میں مغربی ثقافت کے خلاف بیانیے کو اسلامی ہوا دی جاتی ہے، حال آں کہ بیش تر اِن مذہبی سیاست کے رہنماؤں کی اولادیں مغربی ثقافت کے زیرِ سایہ پھل پھول رہی ہوتی ہیں اور مغرب کے مسلط سرمایہ داری نظام میں محض مغربی ثقافت کے خلاف نعرہ‘ لوگوں کو فریب دینے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

ہماری سیاست میں یہ ایشوز وقت اور حالات کے ساتھ نئی شکل اختیار کر تے رہتے ہیں، جیسا کہ ہماری قومی سیاست پر 1950ء کی دہائی میں لسانی ایشوز غالب تھے۔ 1980ء کی دہائی میں مذہبی شدت پسندی اور آج کل سوشل میڈیا پر دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیوں کے ساتھ ساتھ غزہ اور فلسطین کاز اور جنگی جنون کا غلبہ ہے۔

ہماری مجموعی سیاست میں مذکورہ بالا طبقوں کے کردار کے باعث اس طرح کے مسائل‘ پاکستان کی سیاست کی گاڑی چلانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور ہر ایک گروپ نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ان کا فائدہ اٹھایا ہے۔

کسی اَور موقع پر سول اور فوجی حکومتوں اور سیاست دانوں کے کردار پر بھی تفصیل سے بات کرنے کی کوشش کی جائے گی، تا ہم مذہبی جماعتوں نے مذہبی حساسیت کو سیاسی طاقت میں بدلنے کی دانستہ کوشش کی، جس میں عوامی جذبات کو ابھار کر مذہبی شناخت کے تحفظ کا بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ اس عمل نے فرقہ واریت کو فروغ دیا، سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا، اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی گئی۔

5 / 5

احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں ’’عقل‘‘ سے متعلق مقامات

احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں ’’عقل‘‘ سے متعلق مقامات

​​​

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’جب ہم اُن بنیادی اُمور کے بیان سے فارغ ہوئے جن پر علم الاحسان کے باب سے متعلق احادیثِ نبویہؐ کی تشریح موقوف تھی، تو اب ہم اس باب سے متعلق احادیث کی شرح شروع کرتے ہیں۔ پس ہم کہتے ہیں کہ: ’’عقل‘‘ سے متعلق تمام مقامات واحوال کا مرکزی اُصول ’’یقین‘‘ ہے۔ اس ’’یقین‘‘ سے جو مقامات اور احوال پھوٹتے ہیں، وہ ’’توحید‘‘، ’’اخلاص‘‘، ’’توکل‘‘، ’’شکر‘‘، ’’اُنس‘‘، ’’ہیبت‘‘، ’’تفرید‘‘، ’’صدیقیت‘‘، ’’محدثیت‘‘ اور اس کے علاوہ ایسے مقامات ہیں، جن کا شمار کرنا طوالت رکھتا ہے۔

(مقامِ ’’یقین‘‘ سے متعلق احادیث)

(1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا ہے کہ: ’’الیقینُ الإیمانُ کُلُّہٗ‘‘ (’’یقین‘‘ کا پیدا ہوجانا مکمل ایمان ہے)۔ اور اسے ’’مرفوعاً‘‘ بھی روایت کیا گیا ہے (طبرانی وبیہقی وغیرہ نے اس حدیث کو موقوفاً روایت کیا ہے اور امام بیہقیؒ نے اس کو نبی اکرم ﷺ کا قولِ مرفوع روایت کیا ہے)۔ (الدُّرُّ المَنْثُور، 1/66)

(2) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’(اللّٰہُمَّ!) ۔۔۔ واقْسِمْ لَنَا مِنَ الیَقِینِ مَا تُھَوِّنُ بہ علینا مصائب الدُّنیا‘‘۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3502) (اے اللہ! ہمیں ایسا خوف عطا کردے جو تیری نافرمانی اور ہمارے درمیان حائل ہوجائے اور اپنی ایسی اطاعت عطا فرما، جس کے نتیجے میں ہم تیری جنت میں پہنچ جائیں) اور ہمیں اتنا یقین دے دے کہ جس کی وجہ سے دنیا کی مصیبتیں ہم پر آسان ہو جائیں۔)

مَیں کہتا ہوں کہ: ’’یقین‘‘ کا معنی اور مطلب یہ ہے کہ ’’جو کچھ شریعت میں ’’تقدیر‘‘ کے مسئلے اور ’’آخرت‘‘ کے مسئلے سے متعلق آیا ہے ، اس پر ایک مؤمن کا ایمان رکھنا ہے اور یہ ایمان اُس کی ’’عقل‘‘ پر اس طرح غالب آنا ہے کہ اُس کی عقل اس ایمان (کے نور) سے بھر جائے اور اُس کی عقل سے ایمانی قطروں کی بارش اُس کے ’’قلب‘‘ اور ’’نفس‘‘ پر برسے، یہاں تک کہ وہ ان یقینی اُمور کو اس طرح بصیرت کی آنکھ سے دیکھے گویا کہ یہ اُمور ایک محسوس اور سامنے کی دیکھے ہوئے اُمور ہیں۔

اور یہ جو فرمایا ہے کہ: ’’یقین‘‘ ہی مکمل ایمان ہے‘‘، اس لیے کہ ’’یقین‘‘، ’’عقل‘‘ کو مہذب بنانے میں سب سے عمدہ مقام کی حیثیت رکھتا ہے اور ’’عقل‘‘ کا مہذب ہونا ہی ’’قلب‘‘ اور ’’نفس‘‘ کے مہذب ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اور یہ بات اس لیے ہے کہ ’’یقین‘‘ جب ’’قلب‘‘ پر غالب آتا ہے تو اُس سے بہت سے شعبے پھوٹتے ہیں۔ پھر وہ اُن چیزوں سے نہیں ڈرتا جس سے عام طور پر انسان ڈرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ جو چیز بھی اُسے پہنچی ہے، وہ اُس کے لیے غلط نہیں اور جو غلط ہے، وہ اُسے پہنچ نہیں سکتی۔ اس طرح اُس پر دنیا کی مصیبتیں جھیلنا آسان ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کو آخرت میں جو وعدے دیے گے ہیں، اُس پر کامل اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اُس کا نفس بہت زیادہ اسباب جمع کرنے کی طرف متوجہ ہونے کو بُرا سمجھتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی واجبی قدرت ہی اپنے اختیار اور ارادے سے اس عالم میں مؤثر ہے۔ اور جو مادی اسباب ہوتے ہیں، وہ اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ہیں۔ چناں چہ عام لوگ جن چیزوں کے حصول کی کوشش کرتے اور مشکلات برداشت کرتے ہیں، اُن کے حصول میں مؤمن کی کوشش میں کمی آجاتی ہے۔ اس کے نزدیک دنیا کے سونا چاندی اور یہاں موجود پتھر ایک برابر حیثیت رکھتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب ’’یقین‘‘ مکمل، مضبوط اور طاقت ور ہوجاتا ہے اور اُس پر ہمیشگی پیدا ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ اُس کی حالت میں کوئی فقر و فاقہ، کوئی مالداری، کوئی عزت اور کوئی ذِلت تبدیلی پیدا نہیں کرسکتی تو اس یقین سے بہت سارے شعبے پھوٹتے ہیں۔

(مقامِ ’’شکر‘‘ سے متعلق احادیث)

ان شعبوں میں سے ایک مقام ’’شکر‘‘ کا ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کے پاس جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں ہیں، ان کا فیضان اُس کے خالق ومالک - جَلَّ مَجْدُہٗ - کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اور وہ اپنے آپ کو اُس کا شکر ادا کرنے سے عاجز دیکھے اور اسی مشاہدے اور کیفیت میں وہ مضمحل رہے اور گھلتا رہے۔

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں سب سے پہلے جو لوگ پکارے جائیں گے، وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے والے ہیں، وہ جو ہر مصیبت اور خوشی میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں‘‘۔ (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ، حدیث: 2308)

مَیں کہتا ہوں کہ بات یہ ہے کہ ’’شکر‘‘ ادا کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ انسان کی ’’عقل‘‘ اور ’’قلب‘‘ پر اللہ تعالیٰ پر یقین کی فرماں برداری غالب ہے اور یہ کہ نعمتوں کی معرفت اور اُن نعمتوں کو پیدا کرنے والے کے فیضان کا مشاہدہ عالم مثال میں ایسی ’’قوتِ فعالہ‘‘ پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مثالی قوتیں اور ’’الھیاکل الأُخرویّۃ‘‘ (اُخروی نعمتیں) وجود میں آتی ہیں۔ چناں چہ تفصیلی طور پر نعمتوں کی معرفت اور انعام دینے والی ذات تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اُن کے فیضان کا مشاہدہ اللہ کی سخاوت کے دروازے کو کھٹکھٹانے میں دعائے مستجاب سے کسی طرح کم نہیں ہے۔

(اس کی تشریح کرتے ہوئے امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ:

’’قوائے مثالیہ سے متأثر ہونے کا مطلب اُس شکر ادا کرنے والے فرد کے اعمال کا عالمِ مثال میں مثالی شکل اختیار کرنا ہے۔اور ایسی قوتوں کی شکل اختیار کرنا ہے کہ جیسے اس عالم میں ہونے والے مختلف واقعات کے پیچھے قوتیں کارفرما ہوتی ہیں۔ ’’الھیاکل الأُخرویّۃ‘‘(اُخروی نعمتوں) سے مراد مثلاً جنت میں عطا کردہ نعمتیں ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیضان ہونے والی نعمتوں کو تفصیلی طور پر جان لیتا ہے اور اُن کے فیضان کا مشاہدہ کرلیتا ہے اور اُس کی حمد و ثنا اور شکر ادا کرتا ہے تو یہ عالمِ مثال میں ایسی فعال قوتوں کو وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے، جو عالم مثال کی قوتوں کو متأثر کرتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اُس عالم آخرت میں خیر کے واقعات اور جنت کی نعمتیں وجود میں آتی ہیں۔ نعمتوں کی معرفت اور اُن کے نزول کا مشاہدہ دعا کی تاثیر اور اللہ کے دروازے کے کھٹکھٹانے سے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔) (حاشیہ)

’’شکر‘‘ اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنی گزری ہوئی عمر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے عجیب و غریب انعامات پر متنبہ نہ ہو، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت کیا گیا ہے کہ جب وہ اُس حج کے بعد مکہ سے واپس لوٹ رہے تھے، جس کے بعد انھوں نے کوئی حج نہیں کیا تو انھوں نے فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ وہ عطا کرتا ہے جس کو چاہے جو چاہے۔ مَیں اس ’’وادیٔ ضجنان‘‘ میں اپنے والد خطاب کے اونٹ چراتا تھا اور وہ بڑے سخت مزاج آدمی تھے۔ مَیں جب کام کرتا تھا تو مجھے تھکا دیتے تھے اور جب مَیں کوتاہی کرتا تھا تو میری پٹائی کرتے تھے۔ اور آج میری صبح شام ایسے گزر رہی ہے کہ میرے اور اللہ کے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے کہ جس سے مَیں ڈرتا ہوں‘‘۔ (الاستیعاب علیٰ ہامش الإصابۃ، ترجمہ عمر، ج: 2، ص: 472) (ابواب الاحسان، باب: 4، المقامات والاحوال)

شمارہ ختم

واپس