جون ، 2022ء

ماہنامہ رحیمیہ

جون ، 2022ء

جون 11, 2022 8 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 8

یہودی اہلِ علم کی پہلی خرابی؛ تحریف ِکلام اللہ

یہودی اہلِ علم کی پہلی خرابی؛ تحریف ِکلام اللہ

۞ أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَـٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ٧٥

(اب کیا تم اے مسلمانو! توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمھاری بات، اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام، پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر، اور وہ جانتے تھے۔)

گزشتہ آیت میں یہودیوں کے دلوں کی سختی کا حال بیان کیا گیا تھا اور بتلایا تھا کہ وہ پتھر دل یا اُس سے بھی زیادہ سخت دل ہوچکے ہیں۔ اس سبب سے انھوں نے بہت سے غلط اعمال کیے۔ اُن کے خراب اعمال کی تفصیل آیت 75 تا 102 میں بیان کی گئی ہے۔

اس آیتِ مبارکہ میں اُن کی سب سے پہلی خرابی بیان کی جا رہی ہے کہ انھوں نے اللہ کے کلام اور کتاب کو سمجھنے کے باوجود اُس میں تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔

أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَكُمْ : اس آیتِ مبارکہ میں سب سے پہلے مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ کیا تم یہ لالچ رکھتے ہو کہ یہ یہودی تمھارے دین پر ایمان لے آئیں گے اور مسلمان ہوجائیں گے؟ مدینہ منورہ میں صحابہؓ کی خواہش تھی کہ یہودی بھی اس دین کو قبول کرلیں۔ اس کے لیے انھیں دعوت دی جاتی تھی۔ اس پر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس طرح کی طمع اور خواہش مت رکھو۔ اس لیے کہ ان کے دل اتنے سخت ہوچکے ہیں کہ یہ اللہ کے کلام میں تحریف کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ جو سمجھ بوجھ کے باوجود اللہ کے پاک کلام میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ تمھاری بات کیسے مانیں گے؟ اور تمھارے دینِ اسلام پر کیونکر ایمان لائیں گے؟

وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَـٰمَ ٱللَّهِ : ان یہودیوں میں دو طرح کے لوگ ہیں: ایک وہ جو اللہ کے کلام تورات کے عالم اور اس کی سمجھ رکھنے والے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو اَن پڑھ اور اُمی ہیں۔ کتاب کا علم نہیں رکھتے۔ دلوں کی سختی کے سبب ان دونوں طبقوں کی حالت کی خرابی کی نوعیت مختلف ہے۔ پہلے اہلِ علم طبقے پر مشتمل فریق کی خرابی بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں اَن پڑھ لوگوں کی خرابی کا ذکر ہے۔

اللہ کے کلام کو سننے سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں، جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ’’اے موسیٰ! اگر ہم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے تو ہم وہ گفتگو سننا چاہتے ہیں، جب آپ اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انھیں اپنے ساتھ طور پہاڑ پر لے گئے اور وہاں انھیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اِن کاموں کا حکم دیا ہے اور اِن کاموں سے روکا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جانے والوں میں سے ایک فریق نے آکر بنی اسرائیل کے سامنے اُن باتوں میں تحریف کرکے بیان کیا۔ یا کلام اللہ کے سننے سے مراد تورات ہے، جو اللہ کا کلام ہے۔ اسے یہ لوگ سنتے ہیں اور اس میں تحریف کرتے ہیں۔

ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ : یہودی اہلِ علم طبقے کی خرابی یہ ہے کہ تورات میں بیان کردہ اللہ کے کلام کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اُس میں اپنی ذاتی خواہشات اور خود ساختہ نظریات کے مطابق لفظی اور معنوی تحریف کرتے ہیں۔

تحریف کی حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں کے علما و اَحبار نے اپنی عقل اور اپنے حالات کے مطابق اپنی ترقیات کے لیے کچھ نظریات و اَفکار گھڑ لیے تھے۔ پھر وہ کوشش کرکے تورات کی آیات میں دور دراز کی تاویلات کرکے اپنے ان نظریات و اَفکار کو ثابت کرتے تھے۔ حال آں کہ وہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کتاب اللہ کی آیات کا اصل مدلول اور مفہوم کیا ہے۔ اس کے باوجود اُس کے ترجمے اور مفہوم میں کچھ کلمات کا اضافہ کرکے تبدیلی پیدا کردیتے تھے اور اُسے عام لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے۔ اور انھیں یہ باور کراتے تھے کہ وہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے اور وہ کتاب اللہ پر صحیح عمل کرنے والے ہیں۔ عام طور پر اُن کی یہ عادت بن چکی تھی۔ تورات کے اصل نسخوں کو وہ عوام سے دور رکھتے تھے اور انھیں اپنے مراکز میں محفوظ اور مقفل رکھا جاتا تھا۔ اُن ترجموں کی اپنی خواہشات کے مطابق شروح اور حواشی لکھے جاتے۔ اس طرح دور دراز کے علاقوں میں اُن کی تحریف شدہ باتیں پھیل گئیں۔ پھر جب جالوت اور بُختِ نصر کے حملوں کے نتیجے میں ان کے مراکز تباہ و برباد ہوئے تو تورات کے اصل نسخے بھی اُس کی زد میں آئے۔ تو اب اُن کے لیے تورات کی اصل عبارت اور اُن میں اضافہ شدہ حواشی اور شروح میں فرق و امتیاز پیدا کرنا مشکل ہوگیا۔ ان کے دلوں کی سختی سے کلامِ الٰہی میں تحریفات کی یہ وبا اور خرابی ان کی عادت بن گئی۔

فائدہ: امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں کتابِ مقدس قرآن حکیم پر مشتمل اللہ کا کلام آج بھی مِن و عَن محفوظ ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ علمائے اسلام اور سلف صالحین نے اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی کہ مصحفِ قرآنی میں کلماتِ قرآنی کے علاوہ ایک بھی زائد کلمہ تحریر کیا جائے۔ یہاں تک کہ سورتوں کے نام اور آیاتِ قرآنی پر لگی حرکات و سکنات، اعراب اور نقطوں میں بھی کوئی کمی بیشی کسی صورت گوارا نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علمائے اسلام کو یہودیوں کی اُن تحریفات کا علم تھا کہ جو تورات کی اصل کتاب کے ساتھ زائد تشریحی جملوں اور اضافہ شدہ حواشی کے لکھنے سے پیدا ہوئی تھی۔ یوں اصل کلام اللہ محفوظ نہیں رہا۔ تورات محرف شدہ ہوگئی۔

قرآن حکیم کی حفاظت کا ایک اَور سبب یہ بھی ہے کہ یہ تسلسل اور تواتر کے ساتھ مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ رہا ہے۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی تمام مساجد میں تراویح کی سنت ادا کی جاتی ہے۔ یہ عمل مبارک اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرفاروقؓ کے قلب میں الہام کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں قرآن حکیم کے حفظ کا ذوق و شوق پیدا ہوا اور قرآن حکیم سینوں سے سینوں میں منتقل ہوتا رہا۔ بعض لوگ تراویح کی سنت کو ’’بدعتِ عمریہ‘‘ کہہ کر رد کرتے ہیں، یہ لوگ وہ ہیں جن کے دلوں میں دراصل قرآن داخل نہیں ہوا اور وہ لوگ تراویح کی وجہ سے قرآن کی حفاظت کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پائے۔

 

2 / 8

دانائی کی بات

دانائی کی بات

عَنْ اَنَسٍؓ، أنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّ ﷺ: أوْصِنِیْ! فَقَالَ: ’’خُذِ الأمْرَ بِالتَّدْبِیْرِ، فَإِنْ رَأَیْتَ فِیْ عَاقِبَتِہٖ خَیْرًا فأَمْضِہٖ، وَ إنْ خِفْتَ غَیًّا فأَمْسِکْ‘‘۔ (مشکوٰۃ: 5057)

(حضرت انسؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبیﷺ سے سوال کیا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر کام کے انجام پر غور کرلیا کرو، اگر آپ کو اس کا اچھا نتیجہ نکلنے کی اُمید ہو تو اس کام کو کر ڈالو۔ اور اگر یہ خوف ہو کہ اِدھر اُدھر بھٹکنا پڑے گا تو نہ کرو۔)

حضورﷺ کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے نتیجے پر غور وفکر کرنے کی طرف توجہ دِلا رہے ہیں۔ اگر غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ نکلے کہ یہ کام ممکنہ طور پرمفید ہے تو پھر آپ اسے شروع کرلیں۔ اگر خطرات ہوں اور اس بارے میں کوئی شک ہو تو پھر رِسک نہیں لینا چاہیے۔ غیرواضح صورتِ حال کے ہوتے ہوئے کسی کام کو کرنا‘ نادانی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے یہاں یہ نہیں کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کر لو تو وہ کام خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا، بلکہ یہ کہا کہ جو خداداد عقل تمھارے پاس ہے، اس کو کام میں لائو۔ اگر وہ اس کام کے حق میں فیصلہ نہیں کرتی تو پھر اسے چھوڑ دو۔

لوگ اِنفرادی زندگی میں ایسا کرتے ہیں کہ وہ پیشِ نظر مسئلے پر درست طور پر غور ہی نہیں کرتے، یا دانا لوگوں کی رہنمائی پر دھیان نہیں دیتے۔ اور کہتے ہیں: کوئی بات نہیں، اللہ بہتر کرے گا۔ جب کہ جو کام آج واضح نہیں ہے، اس کے بارے میں اللہ پر بھروسہ کرنے کی بات کرنا‘ حماقت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

قومی اور اجتماعی زندگی میں بھی ہمارے ہاں یہ روِش پائی جاتی ہے کہ جس بات کا زیادہ پروپیگنڈا ہوتا ہے، اس بات پر لوگ یقین کرلیتے ہیں۔ اس امر پر غوروفکر کرنے کا عمومی رُجحان نہیں ہے۔ اجتماعی طور پر قوم نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ لوگ مفادپرست اور جاہل قیادت کے پیچھے اندھا دُھند بھاگے جارہے ہیں۔ جب کہ قرآن نے ’’عبادالرحمن‘‘ کی صفت بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ: ’’رحمن کے بندے وہ ہیں کہ جب ان کو اللہ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے تو یہ بہرے اندھے ہوکر اس پر نہیں گر پڑتے‘‘۔ (-25 الفرقان: 73) بلکہ اس میں غور کرتے ہیں اور اس ہدایت کی بات کو بھی سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔ کہاں پروردگار کی آیات پر تحقیق و تفتیش اور اس کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے کر اختیار کرنے کی مؤمنوں کی خوبی اور کہاں آج کے مؤمن جو کمرشل میڈیا پر مشہور ہونے والی بات پہ دھوکا کھائے جارہے ہیں۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ باربار ایک ہی قسم کا دھوکا دیا جارہا ہے۔ مذہبی اور قومی کارڈ استعمال کرنے والے مذہب اور عوام کے نام پر دھوکا دینے والے روزِ اوّل سے ایک ہی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ حقوق تلفی اور قوم فروشی کا بازار گرم ہے، مگر مسلمانوں کے غوروفکر کو چھوڑ دینے کی عادت نے انھیں اجتماعی اور قومی زوال سے دوچار کر دیا ہے۔

3 / 8

حضرت حاطِب بن أبی بَلْتَعَہ لَخْمی رضی اللہ عنہٗ

حضرت حاطِب بن أبی بَلْتَعَہ لَخْمی رضی اللہ عنہٗ

حضرت حاطِب بن أبی بَلْتَعَہ لَخْمی رضی اللہ عنہٗ تجارت پیشہ تھے۔ آپؓ مہاجرین میں سے تھے۔ آپؓ نے حضور ﷺ کی مکہ سے ہجرت سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپؓ حضوؐر کے ساتھ غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، غزوۂ خندق، دیگر تمام جنگوں اوردینی و اجتماعی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ آپؓ دورِ نبویؐ کے بہترین تیر اندازوں میں سے ایک تھے۔ ایامِ جاہلیت میں شاعری و شہ سواری میں آپؓ شہرت رکھتے تھے۔ حضرت حاطبؓ نے۳۰ھ میں 65 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ خلیفہ وقت سیّدنا حضرت عثمان بن عفانؓ نے آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

جب حضور اقدس ﷺ نے مصر کے بادشاہ کی طرف خط لکھا تو پوچھا کہ ’’یہ خط کون لے کر جائے گا؟ جس کی مزدوری و اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے‘‘۔ حضرت حاطبؓ فوراً کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے حضرت حاطبؓ کو دعا دی کہ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے ارادوں میں برکت عطا فرمائے‘‘۔ چناں چہ آپؓ قاصدِ رسول اللہؐ بن کر مصر کی طرف روانہ ہوئے اور رسول اللہؐ کے سفیروں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

حضرت حاطبؓ انتہائی عقل مند، معاملہ فہم، مردم شناس، قرآنی علوم اور سماجی معلومات کے ماہر اور تجربہ کار شخصیت کے حامل تھے۔ جب آپؓ بادشاہِ مصر کے دربار میں حاضر ہوئے اور مکتوبِ نبویؐ پیش کیا تو بادشاہ نے کہا: ’’مرحبًا بکتاب النّبی العربی‘‘ (نبیٔ عربی کے خط کے لیے خوش آمدید)۔ اس کے بعد اچانک بادشاہ نے ایک تحریر منگوائی، جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ تک سب انبیاء علیہم السلام کی تعریف اور حلیہ درج تھا۔ سفیر سے کہا کہ اپنے سردار کی تعریف بیان کرو تو حضرت حاطبؓ نے ان الفاظ میں آپؐ کی تعریف بیان کی:

’’میرے آقا محمد الرسول اللہ ﷺ نہایت خوب صورت، خوش رُو، چستہ بدن، میانہ قد اور ایک بزرگ ترین ہستی ہیں۔ آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان ایک تِل ہے، جو چاند کی طرح چمکتا رہتا ہے۔ آپؐ صاحبِ خشوع، متدین، پاک دامن، نقصان سے بَری، سچ بولنے والے اور حَسین ہیں۔ آپؐ کی ناک مبارک ستواں اور بلند، پیشانی کشادہ، زبان باریک، دونوں اگلے دانت خوش نما اور چمک دار، آنکھیں سُرمگیں، دونوں اَبرُو باریک و دراز، اگلے دونوں دانتوں میں کسی قدر کشادگی، سینہ چوڑا اور کشادہ، شکم مبارک مثل ریشمی کپڑے کی شکن کے، زبان فصیح اور آپؐ کا نسب سب سے اچھا اور خالص ہے۔ صلّی اللّٰہ علیہ وآلہ و أصحابہ و سلّم قدر حُسنہ و جمالہ‘‘۔

گویا سفیر میں ایسی خصوصیات ہونی ضروری ہیں کہ فوری پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات سے درست تعارف کراسکے اور کسی بھی نظام کے مطالعے اور قوتِ مدبرہ ونافذہ کے ذریعے متعلقہ ملاقات و مکالمہ سے نتائج اخذ کرسکے، تاکہ اپنے نظریات اور نظام کی ترقی اور مستقبل کی کامیابی کی راہیں تلاش کی جاسکیں۔

4 / 8

پاکستان میں امریکی مداخلت؛ تاریخی تسلسل پر ایک نظر

پاکستان میں امریکی مداخلت؛ تاریخی تسلسل پر ایک نظر

پاکستان کے سیاسی میدان کا درجۂ حرارت بہ دستور قائم ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی پوزیشن بدل چکی۔ جو حکومت میں تھے وہ اپوزیشن ہوگئے اور متحدہ اپوزیشن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مفاد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، بلکہ لا اینڈ آرڈر اور مہنگائی کی صورتِ حال پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہوچکی ہے، بلکہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر یک مُشت 30 روپے فی لیٹر اضافہ کرکے مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا کردی ہے۔ سابقہ حکومت نے اگر مہنگائی کی بارودی سرنگیں بچھائی تھیں تو موجودہ حکومت نے مہنگائی کی کارپٹ بمباری شروع کردی ہے۔ عوام سیاسی پارٹیوں کے غلامانہ معاشی فیصلوں کے سبب کہیں کے نہیں رہے۔ اس بار کی سیاسی کشمکش نے ایک نئی بحث کا در کھولا ہے کہ آیا پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی میں امریکا کا کوئی کردار ہوتا ہے یا نہیں؟ مزید برآں امریکا پاکستان کے داخلہ خارجہ معاملات پر اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں؟ اس سے ماورا کہ کون سی پارٹی امریکا مخالف کارڈ استعمال کررہی ہے، ہم خالصتاً اس مسئلے کو پاکستان کی تاریخ کی روشنی میں زیرِ بحث لانا چاہتے ہیں کہ آیا پاکستان میں امریکا کو عمل دخل حاصل رہا ہے یا نہیں؟ تاکہ ہماری نئی نسل تاریخ کے اس باب سے حقیقی آگاہی حاصل کرسکے۔

یہ تو ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکا کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا رہا ہے اور اپنی ناپسندیدہ حکومتوں کو ہٹاکر اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسندِ اقتدار پر بٹھاتا رہا ہے۔ اس کے لیے پیش بندی کے طور پر وہ اپنی ایک طویل مدتی حکمتِ عملی بھی تشکیل دیتا ہے، جیساکہ پاکستان کے باب میں اس نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی اپنی مداخلت کے راستے ہموار کرنا شروع کر دیے تھے۔

تشکیلِ پاکستان سے تقریباً ساڑھے تین ماہ قبل یکم؍ مئی 1947 کو قائدِ اعظم محمد علی جناح سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے دو نمائندوں نے ملاقات کی تھی۔ ان میں سے ایک جنوبی ایشیا ڈویژن کے سربراہ مسٹر ریمنڈ (Raymond) اور دوسرے بھارت میں امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری تھامس ای ویل (Thomas E Weil) تھے۔ اس ملاقات کی غرض یہ تھی کہ دونوں طرف کی قیادتیں پاکستان اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کی نوعیت کو طے کرسکیں۔ چناں چہ قائدِ اعظم نے امریکی سفارت کاروں سے کہا کہ: ’’مسلم لیگ کسی صورت انڈین یونین کو تسلیم نہیں کرے گی اور وہ پاکستان بنانا چاہتی ہے، جو یقینا امریکا کے مفاد میں ہوگا۔ پاکستان دیگر مسلم ممالک سے مل کر روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا سے مدد کا خواہاں ہوگا‘‘۔ بعد ازاں ایک بیان میں بانیٔ پاکستان نے کہا: ’’ہمارے مفادات روس کے بجائے دو عظیم جمہوری ملکوں برطانیہ اور امریکا سے وابستہ ہیں‘‘۔ قیامِ پاکستان کے صرف دو ہفتے بعد پہلے وزیرِ خزانہ ملک غلام محمد نے امریکی امداد کے لیے براہِ راست امریکا سے درخواست کی۔ فیروز خان نون نے تُرکی میں امریکی سفیر سے کہا: ’’ہم روس کے خلاف ہیں۔ پاکستان امریکا کی منڈی بن سکتا ہے۔ امریکا کو ہماری مالی مدد کرنی چاہیے‘‘۔ 1950ء میں روس کی دعوت کے باوجود پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کو امریکا لے جانے والی قوتیں بھی پاکستان میں امریکی مفادات کے لیے سر گرم تھیں۔ امریکا ہی کی طرف سے ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والے ڈاکومنٹ کی رُو سے لیاقت علی خاں کے قتل کے پیچھے بھی امریکی سی آئی اے کا کردار تھا۔ 1954ء میں بغداد پیکٹ کے ذریعے پاکستان کا روس کے خلاف دفاعی امریکی اتحادی بننا پاکستان میں امریکی اثر و رُسوخ کے بغیر کیسے ممکن تھا۔

وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے کردار کی بھی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے! جب 1956ء میں اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہر سوئز کو نیشنلائز کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ نہر اس وقت برطانوی اور فرنچ کمپنیوں کی ملکیت میں تھی۔ اس وقت دنیا میں دو گروہ بن گئے: ایک وہ جو مصر کی حمایت کر رہا تھا اور دوسرا برطانیہ کی۔ آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان کا نمائندہ وفد اس وقت برطانیہ کی بلائی گئی سوئز کانفرنس میں موجود تھا؟! اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں اسلحہ اور پیسہ امریکا اور اس کے اتحادیوں سے مل رہا تھا تو ہم نے اپنے ’’قومی مفاد‘‘ میں مصر کے بجائے برطانیہ کا ساتھ دیا۔ اس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی سے جب پوچھا گیا کہ مسلمان ملک کے بجائے آپ نے برطانیہ کو کیوں سپورٹ کیا؟ تو انھوں نے کہا کہ: ’’مسلم ممالک سے اتحاد کا ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ یہ تو صفر جمع صفر برابر صفر والی بات ہے‘‘۔ صدر جمال عبدالناصر اسی لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مؤقف کی حمایت نہیں کرتے رہے۔

 اس بات کے بھی دستاویزی ثبوت کتابوں میں شائع ہوچکے ہیں کہ پاکستان کا پہلا مارشل لاء میرجعفر کے پڑپوتے سکندر مرزا کے ذریعے پاکستان پر امریکی آشیر باد ہی سے ممکن ہوا تھا۔ بعد ازاں امریکا ایوب خان کی پشت پناہی کرنے لگا اور ان کے فوجی مارشل لاء کو سپورٹ کیا۔ ایوب خاں خطے کی اُبھرتی ہوئی طاقت چین کی آفرز کو ٹھکراتے ہوئے امریکی اشاروں پر چلتا رہا۔ 1965ء کی پاک انڈیا جنگ کے بعد ایوب خاں امریکی سرد مہری کے خلاف روس اور چین کے قریب ہوا تو ملک میں اس کے خلاف عوامی مظاہرے منظم کروادیے گئے۔ ایوب خان کے خلاف سیاسی پارٹیوں کا اتحاد ’’پی ڈی ایم‘‘ کے نام سے نواب زادہ نصراللہ خان کی قیادت میں بنا۔ ان مظاہروں میں بھٹو کا بھی کلیدی کردار رہا۔ پھر جنرل یحییٰ کی سرپرستی کرکے ملک دولخت کروا دیا۔ پھر بھٹو کو امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے دھمکی دی اور ان کا عدالتی قتل کروا کر انھیں عبرت ناک مثال بناکر اپنی بات سچ کردکھائی۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ ضیاء الحق امریکی پیش بندی کا حصہ تھا، جس کے ذریعے قیامِ پاکستان کے وقت کے منصوبے روس کے خلاف ’’جہاد‘‘ کو عملی جامہ پہنایا گیا۔

کارگل جنگ کے موقع پر نواز شریف امریکا جاکر وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر امریکی منصوبوں کے زیرِ نگرانی معاہدوں پر دستخط کرکے آئے۔ پاکستان کے آزاد قبائلی علاقوں میں سی آئی اے کی جنگی سرگرمیوں نے پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کیے رکھا۔ پھر پاکستانی صدر پرویز مشرف کو امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کی پاکستان کو پتھر کے دور میں پہچانے کی دھمکی ابھی ماضی قریب کی تاریخ کا حصہ ہے۔

یہ بات تاریخی حقائق سے ثابت شدہ ہے کہ ماضی میں یہ مداخلت ہوتی رہی اور کروائی بھی جاتی رہی ہے۔ ہر دور میں پاکستان کے ریاستی اداروں اور ہر شعبۂ زندگی میں امریکا کے مخبر اور کارندے موجود رہے ہیں۔ آج بھی ہمارے ریاستی اور غیر ریاستی اداروں میں امریکیوں کا بہت اثر و رسوخ ہے۔ پاکستان میں تمام ’’رجیم چینج‘‘ آپریشنز، خواہ وہ سول حکومتیں ہوں یا مارشل لاء، اس میں امریکا ملوث رہا ہے۔

ہمارے ہاں کی سیاسی پارٹیوں کی قیادت اپنے ہی ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے امریکی خوشنودی کو ضروری سمجھتی رہی ہیں۔ بہت سے لیڈر امریکا جاجا کر اپنی وفاداریاں پیش کرکے اقتدار کا چانس حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے رہے ہیں۔

ظاہر ہے پاکستان میں امریکا جس جماعت کو اقتدار کے بالا خانے تک پہنچنے کے لیے سیڑھی فراہم کرتا ہے، اس سے پیشگی اپنی کچھ شرائط بھی منواتا ہے۔ پارٹیاں بسا اوقات اپنے نظریات اور رُجحانات سے عدمِ مطابقت کے باوجود ان شرائط کو قبول بھی کرتی ہیں۔ جنرل حمید گل تو اپنے ایک انٹرویو میں یہ تک کہہ چکے ہیں کہ: ’’پاکستان کا آرمی چیف امریکا کی مرضی کے خلاف نہیں چنا جاسکتا‘‘۔

ایسے ہی جب پاکستان میں کسی بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک اپنا منہ سر بنانے لگتی ہے تو پہلے وہ اپنے آپ کو امریکی آئینے میں دیکھتی ہے۔ اپنی بین الاقوامی لابی میں اپنے پارٹنرز سے مشورہ کرتی ہے۔ وہ انھیں بتاتے ہیں کہ لوہا گرم ہے یا نہیں؟ چوٹ مارنے کے وقت کا انتخاب انھیں کے کہنے پر کیا جاتا ہے۔ جیسے حالیہ حکومتی تبدیلی کا واقعہ رونما ہوا۔ پارٹی وفاداری بدل کر ممبرانِ اسمبلی اسی وقت اپنی جماعت کے وجود سے گوشت کے لقمے نوچنے چڑھ دوڑتے ہیں، جب انھیں اشارہ مل جاتا ہے۔

لہٰذا حکومتی تبدیلیوں میں امریکی مداخلت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کی ریاست اور سیاست دان اپنے قیام سے آج تک امریکا سے خطیر عطیات اور قرضہ جات وصول کرتے ہوئے بدلے میں اپنی تابع داری پیش کیے ہوئے ہیں۔

آج سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر امریکا اپنے سامراجی عزائم کے تحت ہماری خود مختاری کو پامال کرنے کا مجرم ٹھہر تا ہے تو وہیں ہماری سیاسی اور مذہبی قوتیں جو امریکا کے اشاروں پر اپنی تحریکوں کی نوک پلک سیدھی کرکے عوام کو دھوکا دیتی ہیں، وہ بھی اتنی ہی مجرم ہیں۔               (مدیر)

5 / 8

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار  (2)

اَخلاق کی درستگی کے لیے دس مسنون ذکر و اَذکار  (2)

 

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :

(4۔ ’’اللّٰہ أکبر‘‘ کی عظمت اور سلطنت )

’’چوتھا ذکر ’’اللّٰہ أکبر‘‘ ہے۔ اس جملے میں اللہ کی عظمت اور اُس کی قدرت اور اُس کی بادشاہت اور سلطنت کو ملاحظہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ اللہ کی معرفتِ ثبوتی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اسی لیے اس جملے کی فضیلت میں درجِ ذیل حدیث وارد ہوئی ہے کہ: ’’اللّٰہ أکبر‘‘ آسمان و زمین کے درمیان تمام چیزوں کو بھر دیتا ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2322)

(ان چار کلمات کی فضیلت میں ارشاداتِ نبویؐ)

(1)         ’’یہ چار کلمات تمام کلمات سے افضل ہیں: (۱) سبحان اللّٰہ، (۲) و الحمد للّٰہ، (۳) و لا الٰہ إلَّا اللّٰہ، اور (۴) اللّٰہ اکبر‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 2294)

(2)         اور ایک روایت میں ہے کہ: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ چاروں کلمات بہت محبوب ہیں۔ تمھیںان کے پڑھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ان میں سے جس کلمے کو چاہو پہلے پڑھ سکتے ہو‘‘۔ (حوالہ بالا)

(3)         اور ایک روایت میں ہے کہ: ’’یہ چاروں کلمات جنت میں باغ لگانے کا باعث بنتے ہیں‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2315)

(دوسری حدیث میں دیگر چار کلمات کی فضیلت کا سبب)

حضرت جویریہؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے صبح نماز پڑھانے کے لیے تشریف لے جا رہے تھے کہ میں اپنے مصلّے پر بیٹھی تھی۔ پھر چاشت کے وقت حضوؐر واپس تشریف لائے تو میں اُسی طرح اپنے مصلّے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ تو رسول اللہؐ نے مجھ سے پوچھا کہ: ’’جس حالت میں مَیں تمھیں چھوڑ کر گیا تھا، تم اُس وقت سے اسی طرح بیٹھی ہوئی ہو؟‘‘ تو انھوںنے فرمایا کہ: ہاں! نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’میں نے اُس کے بعد چار کلمات تین مرتبہ پڑھے ہیں۔ اگر اُن کا وزن تمھارے اب تک پڑھے ہوئے کلمات کے ساتھ کیا جائے تو میرے پڑھے ہوئے یہ کلمات اُن سے زیادہ وزنی ہوں گے: ’’سُبحان اللّٰہ و بِحَمْدہٖ (۱) عَدَدَ خَلْقِہٖ، (۲) و رِضَائَ نَفْسِہٖ، (۳) و زِنَۃَ عَرشِہٖ، (۴) و مِدادَ کَلِمَاتِہ‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 2301)

(ترجمہ: اللہ کی تسبیح و تحمید ہے (۱)اُس کی تمام مخلوق کی تعداد کے برابر، (۲)ذاتِ باری تعالیٰ کی اپنی رضا کے برابر، (۳)اُس کے عرش کے وزن کے برابر، (۴) اُس کی تعریف میں لکھے گئے کلمات کی روشنائی کے برابر۔)

اس حدیث کی حقیقت یہ ہے کہ کسی عمل کی شکل و صورت جب نامۂ اَعمال میں قرار پکڑ لیتی ہے تو اس کی جزا او رثواب کے موقع پر اُس صورت کا پھیلاؤ اور اُس کی وسعت اُس کلمے کے معنی کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کلمہ ’’عَدَدَ خَلْقِہٖ‘‘ کے عمل کی صورت وجود میں آئی ہے تو اُس کی وسعت اس جملے کے معنی کی وسعت کے مطابق ہوگی۔

(ذکر اَذکار کرنے والوں کے لیے ایک اُصولی ضابطہ)

یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ جس آدمی کا زیادہ تر میلان ذکر اللہ کے معنی کے رنگ سے اپنے نفس کو رنگین کرنے کی طرف ہوتا ہے تو اُس کے حق میں یہ بات مناسب ہے کہ وہ ذکر اللہ کثرت سے کیا کرے۔ اور جس آدمی کا زیادہ تر میلان اپنے نامۂ اَعمال میں عمل کی صورت کو زیادہ محفوظ کرنے اور قیامت کے دن اُس کے نتائج کی طرف ہو تو اُس کے حق میں زیادہ نفع بخش بات یہ ہے کہ وہ ایسا ذکراختیار کرے جو کیفیت کے اعتبار سے باقی تمام ذکرو اذکار سے فائق اور بلند تر ہو۔

کسی آدمی کو یہ نہیںکہنا چاہیے کہ ’’جب ان کلمات کو صرف تین مرتبہ پڑھنا باقی تمام ذکر اذکار سے افضل ہے تو پھر ذکر کی کثرت کرنا اور سارے وقت کو اُس میں استعمال کرنا وقت کا ضائع کرنا ہے؟‘‘ اس لیے کہ بعض کلمات کی فضیلت ایک اعتبار سے ہے اور بعض دوسرے کلمات کی فضیلت دوسرے اعتبار سے ہوتی ہے۔

(امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’یعنی اس اعتبار سے کہ کم الفاظ اور بغیر تکرار کے زیادہ ثواب حاصل ہو تو یہ (حدیثِ جویریہؓ والے) کلمات افضل ہیں۔ اور اس اعتبار سے کہ ذکر کے رنگ سے نفس کو رنگین کرنا ہے اور قلب کو اُس ذکر کے معنیٰ سے منور کرناہے تو پھر پہلے چار کلماتِ ذکر کی کثرت کرنا اور انھیں باربار دُہرانا اور اپنے زیادہ تر وقت کو اس میں خرچ کرنا زیادہ افضل ہے۔)

(مترجم کہتا ہے کہ: اسی لیے صوفیائے کرام اپنے مسترشدین کے نفوس کو ذکر اللہ سے رنگین کرنے اور قلوب کو ذکر اللہ سے منور کرنے کے لیے ذکر و اذکار کی کثرت اور اپنے زیادہ تر اوقات کو اس کے شَغَل میں مشغول رکھنے کا حکم دیتے ہیں۔)

نبی اکرم ﷺ نے اُم المؤمنین حضرت جویرؓیہ کو اعمال کے ثواب کے اعتبار سے رہنمائی کی ہے۔ اور اس سلسلے میں اُن کو ترغیب دی ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے ذکر کے حوالے سے جو یہ طریقۂ کار بیان فرمایا ہے کہ ’’اللّٰہ أکبر‘‘ اور باقی دیگر کلمات کو ’’لا إلٰہ إلَّا اللّٰہ‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس کا راز یہ ہے کہ اس طرح انسانی نفس کو ذکر الٰہی کی طرف پوری توجہ حاصل رہتی ہے۔ ورنہ تو وہ صرف زبانی تلفظ اور لقلقہ رہ جاتا ہے۔(حضرت سندھیؒ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’اگر کوئی آدمی صرف ’لا إلٰہ إلَّا اللّٰہ‘‘ کا ذکر کرے اور اُسی کو دُہراتا رہے تو وہ اُس کی عادت بن جاتا ہے اور وہ بغیر کسی توجہ اور غور و فکر کے پڑھتا رہتا ہے، لیکن جب اُس کے ساتھ اپنی حالت کے تقاضوں کے مطابق باقی کلمات کبھی کبھی ساتھ شامل کرتا رہے تو یہ بات انسانی نفس کو متنبہ کرنے میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ اور انسان پورے طریقے سے ذکر ِالٰہی کے معنی میں خوب غور و فکر اور تدبر کرتا ہے‘‘۔)             (باب الاذکارِ و ما یتعلّق بھا)

6 / 8

سیّدنا عبدالملک بن مروانؒ

سیّدنا عبدالملک بن مروانؒ

پچھلے دنوں ایک دعائیہ تقریب میں ایک ’’عالمی مبلغ‘‘ نے جھوٹی اور موضوع روایات کا سہارا لے کر خلفائے بنواُمیہ کی کردار کشی کی اور ایسے جھوٹے واقعات ذکر کرکے اَخلاف کو اَسلاف سے بدظن کرنے کی ناکام کوشش کی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خلفائے بنواُمیہ کا دور تاریخِ اسلام کا سنہری دور ہے۔ خصوصاً عبدالملک بن مروانؒ کا دور اسلامی فتوحات کا دور ہے۔ امن و امان، معاشی خوش حالی اور دین کی سربلندی کا زمانہ ہے، جس میں ’’مؤطا امام مالک‘‘ کو اسلامی دستور ہونے کی حیثیت حاصل رہی۔

عبدالملک بن مروانؒ خود بھی عالم و فاضل، عابد و زاہد اور مدینہ کے مشہور فقہا میں سے تھے۔ بڑے بڑے ائمہ کرام ان کے علمی و عملی کمالات کے معترف ہیں۔ مثلاً امام شعبیؒ جو کہ عظیم محدث، صحاح ستہ کے ثقہ راوی اور کئی صحابہؓ کے شاگرد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: ’’میں نے جس کسی سے گفتگو کی، اپنے آپ کو اس سے برتر پایا، سوائے عبدالملک کے، کہ اس کے ساتھ کبھی حدیث یا شعر پر گفتگو ہوئی تو ا س نے میرے علم میں اضافہ کیا‘‘۔ محدث ابوالزنادؒ کہتے ہیں کہ: ’’سعید بن مسیبؒ، عبدالملک بن مروانؒ، عروہ بن زبیرؒ اور قبیصہ بن زویبؒ فقہائے مدینہ ہیں‘‘۔ عُبادہ بن مثنیٰؒ نے صحابیٔ رسول حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے بعد ہم مسائل کس طرح (کس سے) دریافت کریں؟ تو انھوں نے فرمایا کہ: ’’مروان کے بیٹے فقیہ ہیں، ان سے دریافت کرنا‘‘۔ امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ: ’’عبدالملکؒ نے حضرت عثمانؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت اُمِ سلمہؓ، حضرت ابنِ عمرؓ اور حضرت امیرمعاویہؓ سے احادیث سنیں‘‘۔ اور بقول شاہ معین الدین ندویؒ: ’’اگر وہ حکمران نہ ہوتے تو وہ مدینہ کی مسند ِعلم کی زینت ہوتے‘‘۔ علم و فضل میں یکتائے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہادر و کامیاب حکمران بھی تھے۔ اندرونِ ملک بغاوتوں اور شورشوں کو ختم کرکے ملک کو سیاسی لحاظ سے مستحکم کیا۔ فتوحات سے سلطنت کو وسعت بخشی۔ انھیں کے زمانے میں شمالی افریقا میں فتوحات کا آغاز ہوا۔ ترکستان اُموی خلافت کا حصہ بنا۔ رومیوں کو قیساریہ کے مقام پر شکست دے کر بہت سے رومیوں کے علاقے اسلامی حکومت کے زیرِنگیں آئے۔

حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب ایران، شام اور افریقا کے کچھ علاقے فتح ہوئے، لیکن بعض انتظامی دُشواریوں کی وجہ سے دفتری نظام علاقائی زبانوں میں ہوتا تھا۔ ایران اور عراق میں پہلوی زبان رائج تھی۔ شام میں سریانی اور مصر میں قدیم مصری زبان کا رواج تھا تو عبدالملک کے زمانۂ خلافت میں عربی زبان کو دفتری زبان کے طور پر رائج کیا گیا، جس سے قومی وحدت کے تصور کو فروغ ملا۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ اسلامی سِکّوں اور زَرِی کرنسی کا اِجرا بھی ہے، جس سے تجارت میں سہولت ہوئی۔ ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور خوش حالی میں اضافہ ہوا۔ خانۂ کعبہ کی ازسرِنو تعمیر کی اور ہر سال کعبہ پر نیا غلاف چڑھانے کی رسم کا آغاز ہوا۔ یہ ریشمی غلاف ہر سال دمشق سے روانہ کیا جاتا تھا۔

مختصر یہ کہ تاریخ کے اوراق ان کے کارناموں سے معمور ہیں، لیکن افترا پرداز لوگ ضعیف ترین، بلکہ موضوع روایات کا حوالہ دے کر تاریخ اسلام کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ بنواُمیہ کے خلفا تو انسانی خدمت اور اپنے علمی و عملی کارناموں کی بدولت دُنیا میں بھی سُرخ رُو ہوئے اور برزخی و اُخروی زندگی میں بھی ان شاء اللہ سُرخ رُو ہوں گے، البتہ ایسے عادل حکمرانوں پر الزام تراشی کرنے والے ہی رُوسیاہ ہوں گے۔

7 / 8

1997ء ایشیائی کرنسی بحران میں پاکستان کے لیے سبق

1997ء ایشیائی کرنسی بحران میں پاکستان کے لیے سبق

1997ء میں ایشیائی کرنسی بحران میں مشرقِ بعید کے تمام ممالک خاص طور پر‘ اور دُنیا کے دیگر ممالک عام طور پر ان پالیسیوں کی وجہ سے متأثر ہوئے تھے، جنھیں آج کا پاکستان بروئے کار لاچکا ہے۔ اس بحران کا آغاز تھائی لینڈ سے ہوا۔ اس وقت کے تھائی لینڈ کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ ہم آج کے پاکستان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی برآمدات، سالانہ پیداوار، غیرملکی سرمایہ کاری اور اس کی دوسری طرف معیشت پر بڑھتا ہوا قرض۔ غیر پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری، جن میں پراپرٹی، سٹاک ایکسچینج اور کرنسی کا سٹہ، ہاٹ ڈالر اور گَھٹتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر قابلِ ذکر تھے۔ یہی حال انڈونیشیا اور فلپائن کا تھا۔ زرِمبادلہ کی بے پناہ طلب کو کم کرنے کی غرض سے مجبوری میں اُٹھایا گیا ایک قدم تھائی لینڈ کی معیشت کو لے ڈوبا۔ چناں چہ ’’تھائی بھات‘‘ کی قیمت کو مارکیٹ کی طلب اور رَسد کے حوالے کردیا گیا۔ اسے معاشی زبان میںFree Floatکہا جاتا ہے۔ اس عمل نے ایک مسلسل عمل کو جنم دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس گراوٹ کے عمل نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے بعد تھائی لینڈ میں احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں حکومت کو گھر جانا پڑا۔ انڈونیشیا میں سہارتو کی تیس سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ فلپائن کے صدر رَاموس کا بھی یہی انجام ہوا۔ البتہ ملائشیا کے مہاتیر محمد نے نہ صرف اس بحران کا مقابلہ کیا، بلکہ ملائشیا اس بحران سے نکلنے والا سب سے پہلا ملک بن گیا۔

اس بحران کے دوران اور بعد میں ملائشیا کے علاوہ تمام قابلِ ذکرمتأثرہ ممالک نے وہی کیا جوIMFنے انھیں کہا۔ بڑے بڑے اقدامات میں شرح سود میں بے پناہ اضافہ، ترقیاتی اخراجات میں زبر دست کمی، ٹیکسز میں ہوش رُبا اضافہ ، کرنسی میں شرم ناک گراوٹ اورIMFسے اربوں ڈالر کے قرضوں کی وصولی۔ چناں چہ تھائی لینڈ نے 20، انڈونیشیا نے 23 اور کوریا نے 35 ارب ڈالر ابتدائی دنوں میں حاصل کیا۔ اس دوران مہنگائی اور بے روزگاری نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ان ممالک میں موجود سیاسی حکومتیں زبردست عدمِ استحکام کا شکار رہیں، لیکن ملائشیا میں نہ تو حکومت گری اور نہ ہی معیشت۔ وقتی اضمحلال ضرور آیا، لیکن مضبوط اِرادے اور منفرد معاشی اقدامات اور سب سے بڑھ کرIMFسے دوری کی حکمتِ عملی ملائشیا کو بچا گئی۔ ملائشیا نے ترقیاتی اخراجات میں کمی نہیں کی، تاکہ بے روزگاری نہ بڑھے۔ ’’ملائیشیائی رِنگیٹ‘‘ کی قیمتFixکردی، تاکہ اس میں غیرمعمولی اُتار چڑھاؤ نہ ہونے پائے۔ شرح سود کو کاروبار کے موافق رکھا، تاکہ کاروباری نقصانات کے نتیجے میں دیوالیہ ہونے سے بچا جاسکے اور نتیجتاًبے روزگاری نہ بڑھے۔ یہ وقت ہے کہ ملائشیا جیسے اقدامات پاکستان بھی کرے، لیکن کیا کریں! ہمارے پاس نہ لیڈرشپ ویسی ہے، جو منفرد اور انقلابی فیصلے کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری مقتدرہ خود ہی مافیا بھی ہے۔ بھلا وہ کیوں ایک دن کا نقصان برداشت کرے۔ ان کی حکمرانی کمیشن ایجنٹی اور تقرری و تبادلے سے آگے نہیں بڑھی۔ دوسری طرف ہمارے مالیاتی نظام کا بڑا حصہ توIMFکے کنٹرول میں ہے۔ یہاںہوگا تو وہی جوIMFسرکار چاہے گی۔

8 / 8

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (3)

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (3)

( مسئلہ یو کرین کا پس منظر)

ملک میں ایمر جنسی نافذ کردی جاتی ہے۔ فوجیں ماسکو میں پہنچنا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہاں ان فوجوں کا سامنا انسانی ہاتھوں سے بنی ہوئی زنجیر وں سے ہوتا ہے، جو رشین پارلیمنٹ کی حفاظت کررہی ہوتی ہیں۔ ان دنوں رشین پارلیمنٹ کے صدر بورس یلسن (Boris Yelstin) تھے۔ وہ ایک ٹینک پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور جلوس کی قیادت کرتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے بغاوت تین دنوں میں ناکام ہوجاتی ہے اور گوربا چوف واپس ماسکو چلے جاتے ہیں۔ 21؍ اگست 1991ء کو باغی ہار مان لیتے ہیں اور انھیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ حالات مکمل طور پر خراب ہوجاتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کا رُعب اور دبدبہ ملیا میٹ ہوجاتا ہے۔ رشین فیڈریشن ایک اتحاد کے بجائے ایک ملک کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

سوویت یونین کے بعد روس کی سب سے بڑی ریاست یوکرین تھی۔ وہ یکم؍ دسمبر 1991ء کو اپنی آزای کا اعلان کردیتی ہے۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوویت یونین ختم ہوگیا ہے۔ 8؍ دسمبر 1991ء کو یلسن یوکرین اور بیلاروس کے ساتھ مل کر ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک نیا معاہدہ وجود میں آتا ہے، جسے سی آئی ایس کا نام دیا جاتا ہے۔ یعنی ’’آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ‘‘ (Commonwealth of Independent States)۔ اگلے ہفتے میں اس یونین میں آٹھ مزید ریاستیں شامل ہوجاتی ہیں، جو دفاع اور معیشت میں مل کر کام کرنے کا عہد کرتی ہیں۔ گوربا چوف 25؍ دسمبر 1991ء کو کرسمس کے دن پارٹی قیادت سے علاحدہ ہوجاتے ہیں۔ ساتھ ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

سوویت یونین کی تحلیل انسانی تاریخ کا ایک عظیم ترین المیہ کہلاتا ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ ’’انسانی سماج اِرتقا کے تحت آگے بڑھتا ہے۔ اِر تقا ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کی کوئی شکل حتمی اور آخری نہیں ہوتی‘‘۔ اِرتقا کے عمل کو مہمیز کرنے میں قدرت کے کرشمے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کرشمے سائنس اور ٹیکنالوجی کی شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایجادات شروع میں تو مخصوص کاروباری حلقوں میں جِدّت لانے کا ذریعہ بنتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ ہی ایجادات سے جڑے دیگر شعبے متحرک ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ انسانی زندگی میں مختلف قسم کی سہولتیں پیدا ہونے سے یہ عمل تیز ہوجاتا ہے، لیکن سارا سماج ان تبدیلیوں سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو تا۔ کچھ شعبے محروم رہ جاتے ہیں۔ ریاست جو سارے عمل کی نگران اور ذمہ دار ہوتی ہے، جو شعبے ترقیات سے محروم رہیں، ان کا بروقت تدارُک کرکے محر ومیوں کی تلافی کرتی ہے۔ ایسا معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہونے سے ارتقا ئی عمل کا حصہ بنا رہتا ہے۔

سوویت یونین جس نظریے پر وجود میں آیا تھا، اس نے انسانی معاشرے کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی تھیں۔ اپنے سماج سے جڑی ریاستوں کے جملہ مسائل بھی حل کیے تھے۔ اس کا نظریہ پس ماندہ اور غریب ملکوں کے وسائل لوٹنا نہیں، بلکہ انھیں تعاون اور تحفظ فراہم کرنا تھا، جب کہ اس کے مقابل سرمایہ دارانہ سماج کا مقصد دنیا کے وسائل کو لوٹنا ہی نہیں، بلکہ ان کے سماجی ڈھانچوں کو تباہ برباد بھی کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام مقابل قوتوں سے لڑتا تھا تو اپنے وسائل کے بجائے دنیا کے دیگر ملکوں کو اس آگ میں جھونکتا تھا۔ اس نے اپنے خطے میں آج تک ایک بھی لڑائی نہیں لڑی، البتہ اس کی جنگ اپنے ملک کے ایسے سربراہان کے خلاف رہی ہے، جو معاشرے میں سماجی مساوات کو فروغ دینا چاہتے تھے۔ انھیں حرفِ غلط کی طرح راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس نے تمام تر جنگیں یا تو ایشیا میں لڑیں اور یا پھر یورپ کو اس کی جولان گاہ بنایا۔

استعمار کے نزدیک معاہدات کی کو ئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ محض دفع الوقتی ہوتے ہیں۔ میخائیل گوربا چوف نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جو معاہدۂ امن کیا تھا، استعمار نے اسے محض وقتی اور عارضی نوعیت کی ایک بیٹھک سے زیادہ کوئی اہمیت نہ دی۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ روس اس وقت کمزور ہے۔ وہ اپنے اتحادیوں کی حفاظت تو درکنار، آئندہ وہ خود اپنے ملک کے دفاع کی اہلیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ لہٰذا اس پہلو کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس نے اگلے چند سالوں میں سوویت یونین کی طرف میلان رکھنے والے ملکوں کو چن چن کر تباہ و برباد کردیا۔ روس محض ایک تماشائی کی حیثیت سے سب کچھ دیکھتا رہا۔

اگلے پچیس برس روس اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور اِقدام کی اہلیت حاصل کرنے کے عمل میں مصروف ہوگیا۔ وہ امریکا کے خلاف جنگ کی تیاری بہت عرصہ پہلے شروع کرچکا تھا۔ اس کے تحقیقاتی اداروں نے 2007ء میں پہلی دفعہ ایس 200 میزائل فوج کے حوالے کیا تھا۔ روس نے جب اچھی طرح اس کا تجربہ کرلیا تو پھر شام کے محاذ پر 2015ء میں اس کا جدید ورژن ایس 300 متعارف کروایا۔ امریکا شام کے دہانے بحیرۂ روم میں اپنے جنگی بیڑے کے ذریعے شام پر حملہ آور ہونے کی سر توڑ کوشش و ہمت کرتا رہا۔ ایک ماہ کے طویل دورانیے میں ذلت آمیز شکست کے بعد ناکام و نامراد واپس لوٹا تو پھر عالمی سیاست کا رُخ بدلنا شروع ہوگیا۔

یوکرین کی جنگ امریکا اور روس کی جنگ ہے۔ روس کے مقابلے میں یوکرین کوئی بڑی طاقت نہیں تھی۔ روس اس پر بڑی آسانی سے قبضہ کرسکتا تھا، لیکن استعماری طاقتوں نے بعد میں گوریلا وار شروع کرنی تھی، جیسا کہ افریقا کے بعض ممالک میں اور مشرقِ وسطیٰ میں عراق، لیبیا اور شام کے محاذوں پر اس کا مشاہدہ اور تجربہ کیا جا چکا تھا۔ روس کبھی بھی اپنے دشمن کو کمزور نہیں سمجھتا۔ وہ اس کی ممکنہ طاقت کا جائزہ لینے کے بعد ہی اقدام کرتا ہے۔ امریکا نے اپنی جس ٹیم کو قربانی کے بکرے کے طور پر میدان میں اُتارا تھا، روس نے اس کی تمام تر کمزوریوں یعنی خامیوں اور طاقت یعنی خوبیوںکو اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔                                 (جاری ہے۔)

شمارہ ختم

واپس