نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (3)

نیٹو مظالم سے بچانے کی رُوسی حکمت ِعملی   (3)

( مسئلہ یو کرین کا پس منظر)

ملک میں ایمر جنسی نافذ کردی جاتی ہے۔ فوجیں ماسکو میں پہنچنا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہاں ان فوجوں کا سامنا انسانی ہاتھوں سے بنی ہوئی زنجیر وں سے ہوتا ہے، جو رشین پارلیمنٹ کی حفاظت کررہی ہوتی ہیں۔ ان دنوں رشین پارلیمنٹ کے صدر بورس یلسن (Boris Yelstin) تھے۔ وہ ایک ٹینک پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور جلوس کی قیادت کرتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے بغاوت تین دنوں میں ناکام ہوجاتی ہے اور گوربا چوف واپس ماسکو چلے جاتے ہیں۔ 21؍ اگست 1991ء کو باغی ہار مان لیتے ہیں اور انھیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ حالات مکمل طور پر خراب ہوجاتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کا رُعب اور دبدبہ ملیا میٹ ہوجاتا ہے۔ رشین فیڈریشن ایک اتحاد کے بجائے ایک ملک کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

سوویت یونین کے بعد روس کی سب سے بڑی ریاست یوکرین تھی۔ وہ یکم؍ دسمبر 1991ء کو اپنی آزای کا اعلان کردیتی ہے۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوویت یونین ختم ہوگیا ہے۔ 8؍ دسمبر 1991ء کو یلسن یوکرین اور بیلاروس کے ساتھ مل کر ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک نیا معاہدہ وجود میں آتا ہے، جسے سی آئی ایس کا نام دیا جاتا ہے۔ یعنی ’’آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ‘‘ (Commonwealth of Independent States)۔ اگلے ہفتے میں اس یونین میں آٹھ مزید ریاستیں شامل ہوجاتی ہیں، جو دفاع اور معیشت میں مل کر کام کرنے کا عہد کرتی ہیں۔ گوربا چوف 25؍ دسمبر 1991ء کو کرسمس کے دن پارٹی قیادت سے علاحدہ ہوجاتے ہیں۔ ساتھ ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

سوویت یونین کی تحلیل انسانی تاریخ کا ایک عظیم ترین المیہ کہلاتا ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ ’’انسانی سماج اِرتقا کے تحت آگے بڑھتا ہے۔ اِر تقا ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کی کوئی شکل حتمی اور آخری نہیں ہوتی‘‘۔ اِرتقا کے عمل کو مہمیز کرنے میں قدرت کے کرشمے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کرشمے سائنس اور ٹیکنالوجی کی شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایجادات شروع میں تو مخصوص کاروباری حلقوں میں جِدّت لانے کا ذریعہ بنتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ ہی ایجادات سے جڑے دیگر شعبے متحرک ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ انسانی زندگی میں مختلف قسم کی سہولتیں پیدا ہونے سے یہ عمل تیز ہوجاتا ہے، لیکن سارا سماج ان تبدیلیوں سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو تا۔ کچھ شعبے محروم رہ جاتے ہیں۔ ریاست جو سارے عمل کی نگران اور ذمہ دار ہوتی ہے، جو شعبے ترقیات سے محروم رہیں، ان کا بروقت تدارُک کرکے محر ومیوں کی تلافی کرتی ہے۔ ایسا معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہونے سے ارتقا ئی عمل کا حصہ بنا رہتا ہے۔

سوویت یونین جس نظریے پر وجود میں آیا تھا، اس نے انسانی معاشرے کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی تھیں۔ اپنے سماج سے جڑی ریاستوں کے جملہ مسائل بھی حل کیے تھے۔ اس کا نظریہ پس ماندہ اور غریب ملکوں کے وسائل لوٹنا نہیں، بلکہ انھیں تعاون اور تحفظ فراہم کرنا تھا، جب کہ اس کے مقابل سرمایہ دارانہ سماج کا مقصد دنیا کے وسائل کو لوٹنا ہی نہیں، بلکہ ان کے سماجی ڈھانچوں کو تباہ برباد بھی کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام مقابل قوتوں سے لڑتا تھا تو اپنے وسائل کے بجائے دنیا کے دیگر ملکوں کو اس آگ میں جھونکتا تھا۔ اس نے اپنے خطے میں آج تک ایک بھی لڑائی نہیں لڑی، البتہ اس کی جنگ اپنے ملک کے ایسے سربراہان کے خلاف رہی ہے، جو معاشرے میں سماجی مساوات کو فروغ دینا چاہتے تھے۔ انھیں حرفِ غلط کی طرح راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس نے تمام تر جنگیں یا تو ایشیا میں لڑیں اور یا پھر یورپ کو اس کی جولان گاہ بنایا۔

استعمار کے نزدیک معاہدات کی کو ئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ محض دفع الوقتی ہوتے ہیں۔ میخائیل گوربا چوف نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جو معاہدۂ امن کیا تھا، استعمار نے اسے محض وقتی اور عارضی نوعیت کی ایک بیٹھک سے زیادہ کوئی اہمیت نہ دی۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ روس اس وقت کمزور ہے۔ وہ اپنے اتحادیوں کی حفاظت تو درکنار، آئندہ وہ خود اپنے ملک کے دفاع کی اہلیت بھی کھو بیٹھا ہے۔ لہٰذا اس پہلو کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس نے اگلے چند سالوں میں سوویت یونین کی طرف میلان رکھنے والے ملکوں کو چن چن کر تباہ و برباد کردیا۔ روس محض ایک تماشائی کی حیثیت سے سب کچھ دیکھتا رہا۔

اگلے پچیس برس روس اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور اِقدام کی اہلیت حاصل کرنے کے عمل میں مصروف ہوگیا۔ وہ امریکا کے خلاف جنگ کی تیاری بہت عرصہ پہلے شروع کرچکا تھا۔ اس کے تحقیقاتی اداروں نے 2007ء میں پہلی دفعہ ایس 200 میزائل فوج کے حوالے کیا تھا۔ روس نے جب اچھی طرح اس کا تجربہ کرلیا تو پھر شام کے محاذ پر 2015ء میں اس کا جدید ورژن ایس 300 متعارف کروایا۔ امریکا شام کے دہانے بحیرۂ روم میں اپنے جنگی بیڑے کے ذریعے شام پر حملہ آور ہونے کی سر توڑ کوشش و ہمت کرتا رہا۔ ایک ماہ کے طویل دورانیے میں ذلت آمیز شکست کے بعد ناکام و نامراد واپس لوٹا تو پھر عالمی سیاست کا رُخ بدلنا شروع ہوگیا۔

یوکرین کی جنگ امریکا اور روس کی جنگ ہے۔ روس کے مقابلے میں یوکرین کوئی بڑی طاقت نہیں تھی۔ روس اس پر بڑی آسانی سے قبضہ کرسکتا تھا، لیکن استعماری طاقتوں نے بعد میں گوریلا وار شروع کرنی تھی، جیسا کہ افریقا کے بعض ممالک میں اور مشرقِ وسطیٰ میں عراق، لیبیا اور شام کے محاذوں پر اس کا مشاہدہ اور تجربہ کیا جا چکا تھا۔ روس کبھی بھی اپنے دشمن کو کمزور نہیں سمجھتا۔ وہ اس کی ممکنہ طاقت کا جائزہ لینے کے بعد ہی اقدام کرتا ہے۔ امریکا نے اپنی جس ٹیم کو قربانی کے بکرے کے طور پر میدان میں اُتارا تھا، روس نے اس کی تمام تر کمزوریوں یعنی خامیوں اور طاقت یعنی خوبیوںکو اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔                                 (جاری ہے۔)

مرزا محمد رمضان
مرزا محمد رمضان

مرزا محمد رمضان

متعلقہ مضامین

ایشیائی طاقتیں اور مستقبل کا افغانستان

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے بہ قول ’’مغلوں کے دور میں ہندوستان پوری دنیا کی مجموعی پیدا وار کا 24 فی صد حصہ اکیلا پیدا کرتا تھا، لیکن برطانیہ نے اسے لوٹ …

مرزا محمد رمضان ستمبر 10, 2021

اقوامِ عالم کی ترقی کے لیے دو قرآنی اُصول

20؍ اگست 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوس…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 10, 2021

ایشیا سے امریکی اِنخلا کا آغاز؛ افغانستان

عالمی اَخبارات کی فراہم کردہ خبریں دنیا میں خبر کا معیار سمجھی جاتی ہیں۔ خطے میں تربیت یافتہ صحافی اور اَخبارات اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ امریکا کی کسی بھی ناکامی کو کامیاب…

مرزا محمد رمضان جولائی 08, 2021

ایشیائی بالا دستی کے تقاضے

[میانمار میں 2021ء کا فوجی انقلاب] یورپ اور مغربی دنیا کے غلبے کے عہد نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہ دولت انسانی زندگی میں بے پناہ سہولتیں تو پیدا کیں، لیکن ان کے ثمرات ک…

مرزا محمد رمضان مارچ 14, 2021