حضرت آدمؑ کے زمین پر آنے کا سبب

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطانُ عَنها فَأَخرَجَهُما مِمّا كانا فيهِ ۖ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُم فِي الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتاعٌ إِلىٰ حينٍ (36:2)
(پھر ہلا دیا شیطان نے ان کو اس جگہ سے، پھر نکالا اُن کو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے۔ اور ہم نے کہا تم سب اُترو، تم سب ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ اور تمھارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک۔)
گزشتہ آیت میں ذکر تھا کہ حضرت آدمؑ کو خلافت دینے کے بعد جنت میں پُرسکون ماحول میں کھانے پینے کی سہولت عطا کی گئی۔ نیز اُن سے کہا گیا کہ: ’’وہ گندم یا انگور کے درخت کے قریب نہ جائیں، ورنہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوں گے۔‘‘ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرائی۔ تب حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے اللہ کے سامنے دل سے ندامت اور توبہ کی۔ اللہ نے معاف کرکے خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے زمین پر بھیج دیا۔
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطانُ عَنها فَأَخرَجَهُما مِمّا كانا فيهِ ۖ : حضرت آدمؑ کو سجدے سے انکار کرنے کے سبب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ذلیل اور رُسوا کر کے وہاں سے نکال دیا تو اُس کے دل میں حضرت آدمؑ کے خلاف حسد، کینہ اور بغض اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس لیے کہ وہ خود زمین پر اللہ کا خلیفہ بننا چاہتا تھا، جب کہ اس کے اندر چھپی بداَخلاقی کے سبب وہ اس اعزاز کا مستحق نہیں تھا۔ حضرت آدمؑ کو اس عزت سے محروم کرنے کے لیے شیطان موقع کی تلاش میں تھا۔ اُس نے انھیں دھوکے سے بہکایا۔
سورت الاعراف میں اس طرح ہے:ـ ’’پھر شیطان نے اُن کے دل میں وسوسہ ڈالا، تاکہ اُن کی شرم گاہیں __ جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں __ اُن کے سامنے کھول دے۔ اور کہا: تمھیں تمھارے ربّ نے اس درخت سے نہیں روکا، مگر صرف اس لیے کہ کہیں تم فرشتے ہوجاؤ، یا ہمیشہ کے لیے رہنے والے ہوجاؤ۔ اور ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ البتہ میں تمھارا خیرخواہ ہوں۔ پھر انھیں دھوکے سے مائل کرلیا۔ پھر جب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو اُن پر اُن کی شرم گاہیں کھل گئیں۔ اور وہ اپنے اوپر بہشت کے پتے جوڑنے لگے۔‘‘ (7:20-21) ان آیات سے معلوم ہوا کہ شیطان نے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی چھپی ہوئی شرم گاہیں کھلوانے کے لیے اُن کے دل میں وسوسہ ڈالا اور انھیں دھوکا دیا۔ اس پر انھوں نے گندم یا انگور کا ممنوعہ درخت کھا لیا، جس کے نتیجے میں ان دونوں میں جنسی جذبات پیدا ہوئے۔ اس سے مغلوب ہو کر جنسی تعلق کے سبب اُن کی شرم گاہیں کھلیں۔ اس طرح حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی طبعی بہیمیت کا اظہار ہوا۔
حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک تقریب پیدا کی کہ حضرت آدمؑ کو زمین پر بھیجا جائے، تاکہ خلافت کے جس کام کے لیے پیدا ہوئے ہیں، وہ سرانجام دیں۔ چناںچہ اُن کی طبیعت پر شہوت کا غلبہ ہوگیا۔ اس حالت میں انھیں سچے علم اور باطل کے درمیان اشتباہ پیدا ہوگیا۔ حق بات یہ ہے کہ جنت میں رہنے کے مخصوص زمانے میں اللہ کا ایک سچا حکم یہ تھا کہ: ’’یہ درخت کھانا حرام ہے۔ ایسا کرنا جنت سے نکلنے اور بھوک، پیاس اور مشقتوں کا باعث بنے گا۔‘‘ ایک دوسرا صحیح علم یہ الہام کیا گیا تھا کہ: ’’یہ درخت کھانا نوعِ انسانی کی بقا کا ذریعہ اور خلافت سے متعلق ارادۂ الٰہیہ کو پورا کرنے کا باعث ہے۔‘‘ حضرت آدمؑ کی طبیعت پر جب یہ دونوں علم نازل ہوئے تو انھیں اشتباہ پیدا ہوا۔ وہ حیران و پریشان رہے۔ شیطان کے وسوسہ ڈالنے اور اُس کی طرف سے قسمیں اٹھانے پر وہ یہ سمجھے کہ یہ درخت کھانے سے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اس طرح صحیح علم میں باطل کی ملاوٹ ہوگئی۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: ’’آدم بھول گئے اور ہم نے اُن میں پختہ عزم نہیں پایا‘‘ (115:20) (تاویل الاحادیث، ص:14) اس غفلت پر حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ نے اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگی۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی اور انھیں زمین پر جانے کا حکم دے دیا۔
وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ : حضرت آدمؑ نے خلافت کے لیے درکار اعلیٰ علمی صلاحیت کا فرشتوں کے سامنے اظہار کرکے اپنی مَلَکی قوت کی صلاحیت ظاہر کی تھی۔ اب اگرچہ شیطان نے حسد اور کینہ رکھتے ہوئے اپنے خیال کے مطابق دشمنی کی تھی کہ حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی سے آدمؑ بھی راندۂ درگاہ ہوں گے، لیکن اُس کی کارستانی ناکام ہوگئی۔ بلکہ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے طبعی تقاضوں کی تکمیل کا موقع پیدا ہوگیا۔ اب یہ ضروری تھا کہ انھیں خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے زمین پر بھیجا جائے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم نیچے زمین پر چلے جاؤ۔ اب جن انسانوں میں مَلَکیت کی اعلیٰ درجے کی صلاحیت ہوگی اور وہ اپنے طبعی تقاضوں کو بہ قدرِ ضرورت پورا کریں گے ، انھیں ترقی اور کامیابی ملے گی۔ اور جو لوگ شیطان کے زیراثر اپنی بہیمیت کے تقاضوں سے مغلوب ہوں گے اور مَلَکیت کو بالکل بھول کر شیطان کے پیروکار بنیں گے، ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہمیشہ دشمنی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
وَلَكُم فِي الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتاعٌ إِلىٰ حينٍ : اس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیج دیا گیا۔ دوسری جگہ ارشادِ ربانی ہے کہ: ’’تمھارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور ایک وقت تک نفع اٹھانا ہے۔ فرمایا: تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔‘‘ (7:25) اس طرح حضرت آدمؑ اور اُن کی اولاد کو زمین پر زمان و مکان کی پابندی کے ساتھ خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے اور علم و عدل کی بنیاد پر کردار ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے لیے ہر انسان کے واسطے ایک خاص زمانۂ حیات (life time) اور ایک مخصوص ’’مستقر‘‘ اور مقام (space) مقرر کردیا۔ وہ زمین پر اپنی زندگی میں مقرر کردہ زمانے اور موجودہ مقام میں اعتدال اور توازن برقرار رکھے۔ اپنی شخصیت میں، اپنے خاندان اور عائلی نظام میں، ملکی ریاست اور قومی نظام میں اور کل انسانیت کے حوالے سے عدل و انصاف کا ایسا ماحول اور نظام قائم کرے، جس میں انسانوں کے درمیان دشمنی کے بجائے امن و امان، معاشی خوش حالی پیدا ہو۔ وہ اس دنیا اور آخرت میں ترقی اور کامیابی کا مستحق بنے۔
متعدی امراض سے متعلق نبویؐ تعلیمات

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ’’لاَ عَدْوَی، وَ لاَ طِیَرۃَ، وَ لاَ ہَامَّۃَ، وَ لاَ صَفَرَ، وَ فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ۔‘‘ [البخاری: 5707]
(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا، اور نہ کوئی پرندہ منحوس ہوتا، اور نہ اُلو میں نحوست ہوتی ہے، اور نہ ہی ماہِ صفر میں کوئی نحوست ہے۔ اور کوڑھ کے مریض سے ایسے بھاگو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔)
اس حدیث کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں علم و شعور کے برخلاف جہالت پر مبنی کچھ مزعومہ تصورات کا ردّ کیا گیا ہے اور اصل حقیقت واضح کی گئی ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ’’عَدْوَی‘‘ یعنی ایک مریض کا مرض ازخود دوسرے مریض کو ہر حال میں منتقل ہوجاتا ہے۔ چناںچہ اونٹ پالنے والے عربوں میں یہ تصور تھا کہ خارشی اونٹ سے ہی دوسرے اونٹ کو خارش کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ وہ موت کا اصل سبب اسی کو قرار دیتے تھے۔ حضوؐر نے اس تصور کی نفی کی اور فرمایا کہ: ’’لاَ عَدْوَی‘‘ یعنی کسی کا مرض کسی دوسرے میں سرایت نہیں کرتا۔ چناںچہ جب حضوؐر نے یہ بات فرمائی تو ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا کہ: ’’ہمارے اونٹ ہرنیوں کی طرح چوکڑی بھرتے اور صحت مند ہوتے ہیں، لیکن ایک خارشی اونٹ ان میں داخل ہو کر سب کو خارش کا مریض بنا دیتا ہے۔‘‘ اس پر حضوؐر نے فرمایا: ’’فمن أعدی الأوّل؟‘‘ [رواہ البخاری: 5775] (سب سے پہلے والے اونٹ میں کس نے مرض پیدا کیا؟)، یعنی پہلے مریض (zero patient) میں کس نے مرض پیدا کیا؟ اسی طرح زمانۂ جاہلیت میں مرض کی طرح چند دیگر اشیا، مخصوص پرندوں، صفر کے مہینے وغیرہ میں بھی نحوست کے تصورات بھی رواج پذیر تھے۔ اس حدیث میں حضوؐر نے ایسے تمام تصورات کو بھی رد کردیا۔ حدیث کا یہ حصہ دیگر حضرات صحابہ کرامؓ؛ عبداللہ بن مسعودؓ، عائشہ صدیقہؓ، ابن عمرؓ، ابن عباسؓ، جابرؓ اور انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے۔ حدیث کا یہ حصہ ’’مشہور‘‘ احادیث میں سے ہے۔
اس حدیث میں آپؐ نے واضح کیا کہ اس کرۂ ارض پر پیدا ہونے والے امراض، موجود اشیا اور گردشِ زمانہ سے وجود میں آنے والے ماہ و ایام ایک طے شدہ نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان میں ذاتی طور پر کوئی ’’سعد‘‘ اور ’’نحس‘‘ نہیں ہوتا۔ اللہ کی ذات پر توکل و اعتماد اور اس کے نظام پر پختہ یقین ہونا ایک مؤمن کی خصوصیت ہے۔
اس حدیث کے آخری حصے میں فرمایا: ’’جس آدمی کو کوڑھ کا موذی مرض لاحق ہوجائے تو اس سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘ حضرت عائشہؓ سے ایک روایت میں ہے کہ: ’’لا عدوی، و إذا رأیت المجذوم ففرّہٗ کما تفرّ من الأسد‘‘ (کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا، اور جب تم کسی کوڑھی کو دیکھو تو اس سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہیں)۔ [رواہ ابن خزیمہ فی ’’کتاب التّوکُّل‘‘] اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ : ’’لا یُوردنّ ممرض علٰی مصحّ‘‘ [رواہ مسلم: 5791] (کسی مریض جانور کو صحیح جانور کے سامنے مت لاؤ)۔ لیکن حضرت جابرؓ سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے کوڑھی کے مریض کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ اپنے کھانے کے برتن میں داخل کیا۔ پھر اس سے فرمایا کہ: ’’بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور اللہ پر اعتماد اور اُس پر توکل کرو۔‘‘ [رواہ التّرمذی: 1817] اسی طرح حضرت عائشہؓ سے ایک عورت نے کوڑھی کے بارے میں سوال کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ: ’’حضوؐر نے فرمایا ہے کہ: ’’لاعدوَی‘‘۔ پھر فرمایا کہ: ’’میرا ایک غلام اس مرض میں مبتلا تھا۔ وہ میرے برتن میں کھاتا تھا، میرے پیالے میں پیتا تھا اور میرے بستر پر سوتا تھا۔‘‘ [أخرجہ الطّبری، قالہٗ ابن حجر فی ’’فتح الباری شرح البُخاری‘‘]
مشہور محدث حافظ ابنِ حجر ’’شرح بخاری‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: ’’کوڑھی کے سلسلے میں مختلف احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے حضرت عمرؓ اور سلف صالحین کی ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ کوڑھی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا درست ہے اور اس سے دور رہنے سے متعلق جو روایات ہیں، وہ منسوخ ہیں۔ لیکن دیگر حضرات کی رائے یہ ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں تطبیق کی جاسکتی ہے کہ کوڑھی کے مریض سے دور رہنا احتیاط کے طور پر ہے اور حضوؐر کا اس کے ساتھ ایک برتن میں کھانا شرعی جواز کو بیان کرنا ہے۔‘‘ [فتح الباری شرح البخاری، کتاب الطّبّ، ج:10، ص: 158-59]
ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک آدمی سے دوسرے آدمی میں مرض سرایت نہ کرنے کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ کسی مریض سے تندرست آدمی میں کوئی مرض بالکل منتقل نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ عرب لوگ اس کو ایک مستقل سبب سمجھتے تھے۔ وہ اللہ پر سِرے سے توکل اور اعتماد کرنا بھول چکے تھے۔ حق اور سچی بات یہ ہے کہ کسی مریض کا مرض دوسرے لوگوں میں بیماری کا باعث تبھی ہوتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کا حکم اور قضا اُس کے خلاف کام نہ کر رہی ہو۔ اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم جاری ہوتا ہے تو اسباب کے نظام کو باقی رکھتے ہوئے وہ نافذ ہوجاتا ہے۔ اس نکتے کو شریعت کی زبانی یوں تعبیر کیا گیا کہ کسی مریض سے دوسرے آدمی کو مرض لاحق ہونا ’’اسبابِ عقلیہ‘‘ میں سے نہیں ہے، بلکہ کائنات میں جاری دیگر ’’اسبابِ عادیہ‘‘ کی طرح صرف ایک سبب ہے۔‘‘ [حجۃ اللہ البالغہ، بیان الطب، ص:489]
’’سبب ِعقلی‘‘ وہ ہے کہ اگر وہ سبب پایا جائے تو لازمی طور پر اُس کا مسبَّب پایا جائے۔ ’’سبب ِعادی‘‘ وہ ہوتا ہے کہ جو کسی مسبَّب کے دیگر اسباب میں سے ایک سبب بن جاتا ہو۔ شاہ صاحبؒ کی اس تشریح سے معلوم ہوا کہ متعدی مرض تبھی دوسرے انسانوں میں سرایت کرتا ہے، جب دیگر اسباب مثلاً قوتِ مدافعت (immunity) وغیرہ کمزور ہوں اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی کارفرما ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جانوروں اور انسانوں کی صحت اور مرض کا فطری نظام بنایا ہے، جو اسباب و مسبّبات کے تحت کام کرتا ہے۔ انسان جب انسانیت سے بغاوت کرتے ہوئے خلافِ فطرت کام کرتا ہے تو اسباب و مسبّب کے نظام کے تحت امراض پیدا ہوتے ہیں۔ چناںچہ ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرے، لیکن خوف اور وہم میں مبتلا نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد اور ایمان و یقین رکھتے ہوئے پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ کام کرے۔
عالمی استعماری نظام کا انسانیت پرنیا حملہ

گزشتہ مہینے کے آخری عشرے سے پاکستانی قوم پر ایک خوف اور دہشت مسلط کردی گئی ہے، جس نے آہستہ آہستہ ملک کے طول وعرض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ابھی قوم دہشت گردی، بم بلاسٹنگ اور خودکش حملوں سے جاں بر نہ ہوئی تھی کہ ایک نئی مصیبت نے قوم کو دبوچ لیا ہے۔اس وائرس کی گونج چین، اٹلی، یورپ اور امریکا سے ہوتی ہوئی ایران کے تفتان بارڈر سے ہمارے وطنِ عزیز میں بھی سنی جانے لگی۔ لوگ اس کا شکار ہوتے رہے۔ دھیرے دھیرے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ پہلے صوبائی حکومتوں اور پھر مرکز نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا۔ اب حال یہ ہے کہ لوگ گھروں میں آئسولیٹ یعنی تنہا ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس خوف وہراس کی فضا میں کئی ایک بیانیے گردش کررہے ہیں۔ لوگ خوف زدہ ہیں۔ جو کوئی جیسا مفروضہ اور احتیاط بتاتا ہے، وہ اسے اختیار کرلیتے ہیں۔ گویا ان کی یہ حالت حسبِ ذیل ہے ؎
برائے نام ہی سہی بہ احتیاط کیجیے
درون کذب و افترا ، صداقتیں خلط ملط
اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کا بیانیہ ایک ہے، جس کی صدا ہم سب اپنے میڈیا پر ملاحظہ کررہے ہیں۔ میڈیا نے اس معاملے میں خاصا خوف و ہراس پیدا کیا ہے، جس کے متعدد اسباب ہیں۔ ایک ایسا مرض جو جان لیوا نہیں، بلکہ اس سے شفایاب ہونے کی تعداد کئی ایک مہلک امراض سے کہیں زیادہ ہے، لیکن اسے ایک خوف کی علامت کے طورپر متعارف کروانا پسِ پردہ کئی ایک محرکات کو بے نقاب کرتا ہے۔ بعض ملکوں کے وزرا اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ہم عالمی ادارۂ صحت (W.H.O)کی ہدایات کے پابند ہیں اور موجودہ کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے ہم اسی ادارے کی بنائی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ W.H.O کا ڈھانچہ امریکا کے نظامِ صحت پر قائم ہے۔ آج دنیا بھرکے ممالک میں جہاں جہاں بھی اس وائرس کے بارے میں میڈیا پر آگہی دی جارہی ہے، وہ صرف W.H.O کے نظامِ صحت کے حوالے سے ہی ہے۔ کسی دوسرے متبادل طریقۂ علاج کی رائے نہیں لی جارہی، بلکہ بعض جگہوں پر تو متبادل طریقۂ علاج کی کوشش کو غیر قانونی اقدام سمجھ کر اُن کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ جب کہ دوسری طرف یہ حقیقت اور اطلاعات بھی پیش نظر رہنی چاہئیں کہ یہ وائرس جس سے خلقِ خدا کو ایک آزمائش اور فتنے میں ڈال دیا گیا ہے، قدرتی نہیں، بلکہ مصنوعی ہے اور اسے خاص مقاصد کے لیے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ جیسے جیسے حالات آگے بڑھ رہے ہیں، سائنسی ماہرین کی طرف سے اصل حقائق اور اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں، اور عالمی اداروں کی طرف سے اس وائرس سے متعلق دی گئی معلومات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جو یقینا تشویش ناک ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ اس سارے کھیل کے پیچھے مغربی استعمار چھپا بیٹھا ہے اور یہ منطق کہ یہ وائرس خود سرمایہ دار ملکوں میں بھی پھیل رہا ہے تو سرمایہ داری کی تاریخ سے واقف اس کی سفاکیت سے آگاہ ہیں کہ اس نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے معصوم انسانوں کا ناحق خون بہایا ہے۔
اب اس سوال کا جواب تلاشنا اہم ہے کہ سرمایہ داری نظام آخر ایسا کیوں کرنا چاہ رہا ہے؟ اس کا جواب امپیریلزم کی حقیقت کو سمجھنے کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ استعماری قوتوں نے ہمیشہ اپنی بالادستی کو قائم رکھنے اور دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے نت نئے حربے اور طریقے ایجاد کیے ہیں۔ تاریخِ انسانی کی بیشتر جنگیں اسی استعماری جذبے کا شاخسانہ ہیں۔ ماضی قریب کی جنگوں نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح ان قوتوں نے ملکوں کے درمیان جنگیں کرواکے انھیں کمزور کرنے کے بعد اپنے آپ کو طاقت کا محور منوایا ہے۔ گزشتہ ادوار میں جنگوں میں فتح عددی اکثریت اور اسلحے کے زور پر حاصل کی جاتی رہی ہے۔ ماضی میں سب سے بڑی تجارت بھی ہتھیاروں کی ہی رہی ہے۔ اب ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی عام ہوچکی ہے۔ بہت سے ملک اپنے دفاع کا ساز وسامان خود بنانے لگے ہیں، حتیٰ کہ بہت سے ملک ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ کئی ایک تو اعلانیہ ایٹم بم بھی بناچکے ہیں۔ لہٰذا اب استعمار‘ دنیا کو کنٹرول کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔ مثلاً مصنوعی طریقوں سے موسموں پر کنٹرول حاصل کرنا اور ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے سے سونامی، طوفان، زلزلوں اور سیلابوں سے انسانی آبادیوں کو تہہ وبالا کرنا‘ اس کے جدید طریقہ ہائے جنگ ہیں، جس کی ہمیں چند سال پہلے دنیا میں رونما ہونے والے واقعات سے مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔
اب یہ استعماری نظام دنیا کو بائیولوجیکل وار کی طرف لے کر جارہا ہے، جس میں بیماریوں اور وائرسز کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنے اور اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا عالمی پروگرام تشکیل دیا جارہا ہے۔ اب اسلحے کی فروخت سے زیادہ میڈیسن اور میڈیکل کِٹس فروخت کرکے اپنے معاشی اہداف کو حاصل کیا جائے گا۔ اسی لیے آج دنیا میں ادویات سازی اور اس کی فروخت دنیا کا سب سے بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ اس لاک ڈاؤن میں ملکوں کی معیشت تباہی کے دھانے کی طرف بڑھ رہی ہے، جسے بعد ازاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے ذریعے بحال کرنے کے لیے اس عمل کا جواز تراشا جائے گا۔
آج خوف سے دھندلائی اس فضا میں حقیقی صورتِ حال کو سمجھنا اور اس پر رہنمائی دینا باشعور حلقوں کا سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہ حالات ایسی قیادت کی موجودگی وقت کا تقاضا ثابت کررہے ہیں۔ اسی لیے ولی اللّٰہی فکر سے وابستہ نوجوانوں کو ان کے قائدین کی طرف سے عوامی خدمت کے لیے جہاں اس وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور عوام میں اس کی آگہی اور شعور پیدا کرنے کے لیے کہا گیا ہے، وہیں استعماری قوتوں کی طرف سے انسانیت پر اس بائیولوجیکل وار مسلط کرنے کا شعور بھی اُجاگر کیا جارہا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو احتیاط کے نام پر سماجی تنہائی کا شکار ہونے کے بجائے آگے بڑھ کر اس مصیبت میں گھرے انسانوں کی مالی اور طبی مدد کے ساتھ ساتھ ان کی نفسیاتی بحالی کا کام بھی کرنا ہے۔ انھیں خوف سے نکال کر دُکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشارکرنا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فتنے اور مصیبت سے قوم اور انسانیت کو نجات اور فتح نصیب فرمائے۔(آمین!) (مدیر)
فتنوں کی اقسام اور اُن کی پہچان (1)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’جاننا چاہیے کہ فتنوں کی چند اقسام ہیں:
(1۔ فتنۂ شخصیت): انسان کا ذاتی فتنہ یہ ہے کہ اُس کا دل ایسا سخت ہوجائے کہ اُسے احکاماتِ الٰہی کی فرماں برداری کی حلاوت حاصل نہ ہو اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے مناجات کی لذت جاتی رہے۔ یاد رہے کہ انسانی شخصیت کے تین شعبے ہیں:
(۱) قلب: انسان میں تمام احوال و کیفیات کی ابتدا دل سے ہوتی ہے، مثلاً غصہ، جرأت، حیا، محبت، خوف، قبض (قلبی ناپسندیدگی)، بسط (دل کی کشادگی) وغیرہ۔
(۲) عقل: انسان کی عقل اُن علوم کا مرکز ہے، جو اُسے اپنے حواس (دیکھنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور محسوس کرنے) سے حاصل ہوتے ہیں۔ خواہ وہ تجربے، اندازے وغیرہ سے حاصل کیے ہوئے ’’بدیہی علوم‘‘ ہوں، یا دلیل و منطق اور مکالمے اور مباحثے سے ہونے والے نظریاتی علوم ہوں۔
(۳) طبیعتِ انسانی: یہ انسانی نفس کی بقا کے لازمی تقاضوں یا حیوانی تقاضوں کا مرکز ہے، جیسا کہ کھانا، پینا، سونا اور جنسی تعلق قائم کرنا وغیرہ۔
(قلبِ انسانی کی درجِ ذیل اقسام ہیں:)
(۱) قلبِ بہیمی: جب انسان کے دل پر حیوانی خصلتوں اور عادات کا غلبہ ہوتا ہے تو اُس کے دل کی خوشی اور تنگی کی کیفیت جانوروں کی طرح ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ اپنی طبیعت اور وہم کے سبب سے جانوروں میں ہوتا ہے۔ ایسا دل ’’قلب ِبہیمی‘‘ ہے۔
(۲) قلبِ شیطانی: جب انسان کا دل نیند میں یا جاگنے کی حالت میں شیطانی وسوسوں کو قبول کرتا ہے تو ایسے انسان کو ’’شیطان الانس‘‘ (انسانی شیطان) کہا جاتا ہے۔
(۳) قلبِ انسانی: جب انسان کا دل مَلَکیت کی عادات و احوال کا خوگر بنتا ہے تو ایسے دل کو ’’قلبِ انسانی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے تمام قلبی حالات و کیفیات؛ خوف اور محبت وغیرہ سچے افکار و خیالات اور صحیح نظریات کی طرف میلان رکھتے ہیں۔
(۴) قلبِ روحانی: جب انسانی دل کی مذکورہ بالا کیفیت مزید صاف ستھری ہوکر قوت حاصل کرلیتی ہے اور دل کا نور مزید بڑھتا ہے تو ایسے دل کو ’’روح‘‘ کہا جاتا ہے۔ چناںچہ وہ بغیر کسی دلی تنگی کے ان روحانی عادات سے خوشی محسوس کرتا ہے اور بغیر کسی تکلف اور تصنع کے اُن کیفیات سے مانوس ہوجاتا ہے۔ اس کی یہ کیفیات اس کے سانس کی طرح اس کی جان کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مَلَکیت کے خواص اس کا مزاج بن جاتے ہیں،اس کے لیے اسے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔
(عقلِ انسانی کی درجِ ذیل اقسام ہیں:)
(۱) (عقلِ بہیمی:) جب بھی عقل پر بہیمی عادات و اطوار غالب ہوجاتی ہیں تو وہ اس کے مکر و فریب اور دھوکے میں آجاتی ہے۔ اس کی عقل پر طبعی تقاضوں کو اُبھارنے والے نفسانی خیالات غالب ہوجاتے ہیں۔ چناںچہ اگر وہ جنسی طاقت رکھتا ہے تو اُس کے نفس میں جماع وغیرہ کے خیالات آتے ہیں۔ اگر وہ بھوکا ہو تو انواع و اقسام کے کھانوں کے خیالات غالب رہتے ہیں وغیرہ۔
(۲) (عقلِ شیطانی:) جب عقل پر شیطانی وسوسے اور خیالات کا غلبہ ہوتا ہے تو اُس کی عقل پر انسانی ترقی کے بہتر اجتماعی نظاموں کو توڑنے کے نفسانی خیالات غالب آجاتے ہیں۔ وہ انسانی اجتماع کے صحیح افکار و نظریات اور اعتقادات میں شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتا ہے۔ اُس کا رُجحان سوسائٹی کے لیے ایسے بُرے کاموں کی طرف ہوجاتا ہے، جنھیں انسانوں کی فطرتِ سلیم قبول نہیں کرتی۔
(۳) (عقلِ سلیم:) جب اُس پر ایک درجے میں مَلَکی روح کی عادتیں غالب آتی ہیں تو اُسے ’’عقل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی عقل بدیہی یا نظری طور پر حاصل علومِ ارتفاقات کو تسلیم کرتی ہے اور اللہ کی طرف رجوع سے متعلق علوم کی تصدیق کرتی ہے۔
(۴) (عقلِ سِرّی:) عقلِ سلیم جب مزید صاف ستھری ہوجاتی ہے اور اُس کا نور مضبوط ہوتا ہے تو اسے ’’سِرّ‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ غیب سے حاصل ہونے والے علوم کو قبول کرتی ہے۔ خواہ وہ علوم (سچے) خواب کی صورت میں حاصل ہوں، یا فراست، کشف اور کسی غیبی آواز وغیرہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والے علوم ہوں۔
(۵) (عقلِ خفی:) جب عقلِ سِرّی‘ زمان و مکان سے بالا تر مجرداتِ عالَم اور ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف میلان رکھے تو اُسے ’’خفی‘‘ کہا جاتا ہے۔
(طبیعتِ نفسانی کی درجِ ذیل اقسام ہیں:)
(۱) (نفسِ امارہ:) جب انسانی طبیعت‘ بہیمی عادات و اطوار کی طرف بہکنے لگے تو اسے ’’نفسِ امارہ‘‘ (برائی پر اُبھارنے والا نفس) کہا جاتا ہے۔
(۲) (نفسِ لوامہ:) جب انسانی طبیعت‘ بہیمیت اور مَلَکیت کے درمیان ڈولتی رہے اور وہ کبھی اِدھر (مَلَکیت) کبھی اُدھر (بہیمیت) چلی جائے تو وہ ’’نفسِ لوامہ‘‘ ہے۔
(۳)(نفسِ مطمئنّہ:) جب انسانی طبیعت‘ شریعت کی پابندیوں کو قبول کرے، اُس سے بغاوت نہ کرے، اُس کی اتباع سے بالکل نہ ہٹے تو وہ ’’نفسِ مطمئنّہ‘‘ ہے۔
(2۔ فتنۂ عائلی:) انسان کے گھر کا فتنہ یہ ہے کہ خاندانی نظام میں فساد پیدا ہوجائے۔ اس فتنے کی طرف نبی اکرمؐ نے اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے کہ: ’’ابلیس پانی پر اپنا تخت لگا کر بیٹھتا ہے ۔۔۔ پھر فرمایا: اُن شیطانوں میں سے ایک آتا ہے، وہ کہتا ہے: میں نے میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کرا دی۔ تو شیطان اُسے اپنے قریب کرلیتا ہے اور اُسے کہتا ہے کہ تُو بہت اچھا شیطان ہے۔‘‘ (مسلم، حدیث: 7106)
(3۔ فتنۂ مملکت:) ایسا فتنہ جو دریا کی لہروں کی صورت میں ملکی قومی نظام میں فساد پید اکرتا ہے۔ ایسا فساد نااہل لوگوں کی طرف سے حکومت پر مسلط ہونے کی ناحق خواہش سے واقع ہوتا ہے۔ اس فتنے کے بارے میں رسول اللہؐ نے یہ فرمایا ہے کہ: ’’شیطان جزیرۃ العرب میں اپنی عبادت سے مایوس ہوچکا ہے، لیکن لوگوں کے درمیان فتنہ پروری کرکے لڑائی کرائے گا۔‘‘ (مسلم، حدیث: 7103) (حُجّۃ اللّٰہ البالغہ، باب الفتن)
خلافت ِبنواُمیہ کے ساتویں خلیفہ ؛ ولید بن عبدالملک (1)

ولید بن عبدالملک بن مروان ۵۰ھ / 607 ء میں پیدا ہوئے۔ چھتیس سال کی عمر میں اپنے والد عبدالملک بن مروان کی وفات کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے۔ اپنے والد کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر ولید نے جامع مسجد دمشق میں خطبہ دیا، جس کا خلاصہ یہ تھا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کا ولی ایسے شخص کو بنایا ہے، جو حدودِ شرعیہ قائم کرے گا۔ مجرموں اور فساد فی الارض پھیلانے والوں کے ساتھ سختی اور اہل فضل و کمال کے ساتھ احترام و اکرام کا رویہ اختیار کرے گا۔ جو بیت اللہ کا حج اور اسلامی سرحدات کی حفاظت کا عزم رکھتا ہے۔ لوگو! تم خلیفہ وقت کی اطاعت کرو اور آپس میں اتحاد و اتفاق کو قائم رکھو۔ یاد رکھو! سرکشی و بغاوت کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘‘
گورنروں کا تقرر: سب سے پہلے خلیفہ ولید نے اہل اور باصلاحیت افراد کو اہم علاقوں کا گورنر مقررکیا۔ مثلاً عراق کے پُرشورش علاقے پر حجاج بن یوسف کو جو پہلے سے اس علاقے کے گورنر تھے، بحال رکھا۔ قتیبہ بن مسلم جو اسلامی فتوحات کو ترکستان اور چین تک بڑھانے والے ہیں، ان کو خراسان کا گورنر مقرر کیا۔ موسیٰ بن نصیر جو شمالی افریقی ممالک کو فتح کرتے ہوئے یورپ تک پہنچے تھے، ان کو شمالی افریقی ممالک کا گورنر مقرر کیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا۔
رفاہی کام: خلیفہ ولید نے رفاہِ عامہ اور انسانی مفادات کے بہت سے عمدہ کام کیے۔مثلاً سڑکیں بنوائیں۔ ہسپتال قائم کیے۔ مسافروں کے لیے سرائیں بنوائیں۔ کنویں کھدوائے۔ راستوں میں امن و امان کو یقینی بنایا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی، مدینہ تک ایک نہر کھدوائی جس سے پانی کی قلت دور ہوئی۔ ۸۷ھ / 705ء میں جامع مسجد دمشق کی توسیع و تعمیر کی اور اسی سال حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زیراہتمام مسجد ِنبویؐ کی توسیع ہوئی۔ ازواجِ مطہرات کے حجروں کو مسجد ِنبویؐ میں شامل کیا گیا۔ معذور افراد کے لیے ماہانہ وظائف مقرر کیے اور انھیں بھیک مانگنے کی ممانعت کردی۔ نابینا اور اپاہج افراد کی خدمت کے لیے خادم رکھوائے۔ (دیارِ بکری، ص: 312، ج:3 و البدایہ و النہایہ، ص: 164، ج:9)
فتوحات: خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں کثرت سے فتوحات ہوئیں۔ پیہم فتوحات سے لوگوں کو حضرت عمرفاروقؓ کا زمانہ یاد آگیا۔ ۸۷ھ / 705ء میں ولید کے بھائی مسلمہ بن عبدالملک نے بلادِ روم کے بہت سے علاقوں کو فتح کیا۔ انھی کی قیادت میں ۸۹ھ / 707ء میں آذربائیجان فتح ہوا۔ موسیٰ بن نصیر کی زیرقیادت شمالی افریقا کے بہت سے ممالک مفتوح ہوئے۔ طارق بن زیاد کی زیر کمان ہسپانیہ (سپین) فتح ہوا۔ ولید کے زمانۂ خلافت میں محمد بن قاسم بن یوسف ثقفی __ جو حجاج بن یوسف کے بھتیجے تھے __ نے ہندوستان کے بہت سے علاقے فتح کیے۔ بلکہ یوں کہیے کہ ولید کی ہمت و عزیمت اور حجاج کی غیرت و حمیت کے نتیجے میں ہندوستان میں اسلام کا بول بالا ہوا اور یہ فتوحات ولید کی خلافت کے کارہائے نمایاں شمار کیے جانے لگے۔ بہت سے مؤرخین نے خلیفہ ولید اور امیر حجاج بن یوسف ہی کو فاتح ہندوستان تسلیم کیا ہے اور اسے ان کے محاسن میں شمار کیا ہے۔
وبا کے سائے میں

سال 2020ء میں امریکی الیکشن کے تناظر میں امریکا کا دنیا میں جاری مختلف جنگوں سے نکلنا، چین اور روس کو نیچا دکھانا، یورپی یونین کو کمزور کرنا اور امریکا کی مقامی معیشت کو سہارا دینا دراصل موجودہ امریکی انتظامیہ کا ہدف رہا ہے، لیکن اُسے ہر میدان میں کافی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چناںچہ ایران امریکا کشیدگی، افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی، امریکا چین تجارتی جنگ اور کرونا وائرس کے بعد OPEC ممالک میں تیل کی ترسیل سے متعلق کھینچا تانی اور ایسے ہی کئی دیگر اُمور کا تعلق امریکی سیاسی رجحان سے ہی ہے۔ اس ماحول میں پاکستانی مقتدرہ نے اپنا حصہ خوب طے کیا۔ چناںچہ افغانستان میں کردار ادا کرنے کے بدلے میں امید بن چلی تھی کہ پاکستان کو IMF اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے خاطر خواہ امداد مل جائے گی اور اس ماحول میں معدنی تیل کی قیمتوں میں بے پناہ کمی نے تو پاکستان کے دن بدلنے کی نوید سنادی تھی۔
چناںچہ مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے اس آواز کو بلند کیا جانے لگا کہ اسٹیٹ بینک اب شرح سود کم از کم دو فی صد تک کم کرے، تاکہ کاروباری سرگرمیاں بڑھائی جاسکیں۔ دوسری جانب حکومت سود کی ادائیگی سے بچنے والی رقم کو ترقیاتی کاموں، بالخصوص گھروں کی تعمیر میں لگائے تاکہ روزگار کے ذرائع بڑھیں۔ تیسرا یہ کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کو بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں تبدیل کیا جائے اور پیداواری خرچ کو کم کرتے ہوئے برآمدی صنعت کو اَور مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔ کرونا وائرس جب تک پاکستان میں نہیں آیاتھا، اُس وقت تک ہماری معیشت عمومی طور پر محفوظ تھی، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اب یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ پہلے سے نازک اور کمزور معیشت اب شاید ہی بڑے جھٹکے کے لیے تیار ہو۔ جہاں درآمدات میں کمی ہوگی، وہاں برآمدات میں بھی کمی ہوگی۔ تیل کی درآمد سے جو رقم بچے گی، وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کی کمی کو ہی برابر کرلے تو کافی ہوگا۔ کیوںکہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ عالمی سطح پر کساد بازاری خاص طور پر دوسرے ممالک سے آنے والے مزدوروں پر بھاری پڑے گی اور وہ اپنے گھروں میں پہلے سے کم رقوم بھیج سکیں گے۔
2003ء میں سارس وائرس آیا تھا۔ جب چین کی معیشت کا عالمی پیداوار میں 4 فی صد حصہ تھا۔ اُس وقت دنیا اس قدر باہم متصل نہیں تھی۔ اس لیے 25 ممالک میں 800 کے لگ بھگ اموات برداشت کرلی گئی تھیں، لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے۔ آج چین کا دنیا کی کُل پیداوار میں حصہ 19 فی صد ہے اور دنیا ترسیلِ زر و صنف کے ایک پیچیدہ نظام سے منسلک ہے، جس سے خاص طور پر انسانوں کی خوردنی ضروریات بھی وابستہ ہوچکی ہیں ۔ کرونا وائرس کا پھیلاؤ یہ بتا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں اس تسلسل کے متأثر ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ چین کے حالیہ بیانات کی روشنی میں کُچھ تجزیہ نگار کرونا وائرس کو بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن اس میدان میں بھی چین جیت رہا ہے۔ ایسے میں بہت ضروری ہے کہ ہم چین کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنائیں اور پاکستان کو معاشی تباہی سے بچانے کی سر توڑ کوشش کریں۔
فتنہ؛ جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا

20؍ مارچ 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’معزز دوستو! یہ جمعتہ المبارک کا اجتماع ہے اور اجتماعیت قائم کرنے کا حکم دین اسلام کی تعلیمات کا بڑا بنیادی اور اساسی حکم ہے۔ انسانوں میں اجتماعیت کا قائم رہنا انسانیت کی بقا کا راز ہے۔ اس لیے نماز باجماعت کا حکم دیا گیا ہے۔ خاص طور پر جمعتہ المبارک کی اجتماعیت اور جمعہ کی نماز کے اہتمام کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اجتماعیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ دین کے اساسی امور میں سے ہے۔ اس کا قائم کرنا اُمتِ مسلمہ پر قیامت تک کے لیے فرض ہے۔
آج ہم جس فتنے میں مبتلا ہیں، اس کی حقیقت سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ کرونا وائرس کا فتنہ جو پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، اس کے حقائق پر غور و فکر کرنا، قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی حقیقت و ماہیت اور قرار واقعی حیثیت کا سمجھنا لازمی اور ضروری ہے۔ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ قرآن حکیم کی آیات پر غور و فکر اور تدبر اور نبی اکرم ﷺ کی احادیث کی روشنی میں حقائق کا جائزہ لینا ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ اور ذمہ داری ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس حوالے سے مسلمان معاشروں میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم انتہا پسندی کے بہت سے مظاہر اور رویے ہمارے سامنے پائے جاتے ہیں۔ دین ایسی معتدل اور اُمتِ وسط بنانا چاہتا ہے، جو ہر پیش آمدہ معاملے میں متوازن، بہتر اور عمدہ رائے قائم کرتی اور اس پر عمل کرتی ہے۔ آج اسے ہم نے فراموش کردیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (25:8) (بچتے رہو اس فساد سے کہ نہیں پڑے گا تم میں سے خاص ظالموں پر ہی)۔ وہ فتنہ تم میں سے خاص ظالموں تک ہی محدود نہیں ہوگا، بلکہ تم تمام تک پہنچے گا۔ بالخصوص اُن کے لیے ہوگا، جو ظالم نظام اور ظالم کرداروں کی مزاحمت کے سلسلے میں مداہنت اختیار کرتے ہیں۔ جو لوگ ظلم کے سسٹم کو سمجھنے کے باوجود اُس کے حق میں بات کرتے ہیں اور اُس کے خلاف مزاحمتی شعور نہیں رکھتے۔ اور وہ دین میں مداہنت یعنی حق بات کو بیان نہ کرنے کے مرض میں مبتلا ہوں گے، یہ فتنہ اُن تک بھی پہنچے گا۔ ظالم تک تو پہنچے گا ہی کہ ظالم نے ظلم کیا ہے، لیکن وہ مظلوم جو اس فتنے میں اُن ظالموں کے آلہ کار بن کر اُن کے ظلم کا پروپیگنڈا کریں گے، یا اُن کے ظلم کے خلاف چپ رہیں گے، یہ فتنہ انھیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
اس آیتِ مبارکہ میں ’’فتنہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کرونا وائرس بھی ایک فتنہ ہے اور اس فتنے کی جو قرار واقعی حیثیت ہے، وہ سمجھنے کے لیے ہمیں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔‘‘
سماج کی پرتوں میں فتنوں کی چھ اقسام
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حُجّۃُ اللّٰہ البالغہ‘‘ کے ’’بابُ الفِتن‘‘ میں چھ طرح کے فتنے بیان کیے ہیں:
(1) فتنۃ الرّجل فی نفسہٖ (انسان کا اس کی اپنی ذات سے متعلق فتنہ): یعنی انسانی نفس اپنے تین دائروں (نفس، قلب اور عقل) کے حوالے سے فتنے میں مبتلا ہوجائے۔ اس کا نفس مَلَکیت کی صفات کا حامل ہونے کے بجائے بہیمیت کے تابع ہوکر جانور بن جائے۔ قلب اپنے ارادوں اور عزائم میں اللہ اور اُس کے رسولؐ اور فرشتوں کی اطاعت کے بجائے ظالموں اور جانوروں کی اتباع کرنے لگ جائے۔ اس کی عقل میں گرد و پیش کے حقائق کا تجزیہ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت ختم ہوجائے۔
(2) فتنۃ الرّجل فی أہلہٖ (انسان کا اپنے خاندان سے متعلق فتنہ): یعنی گھریلو نظام میاں بیوی کے تعلقات میں لڑائیاں اور فتنہ پیدا ہوجائے۔ طلاقیں کثرت سے ہونے لگیں۔ سماجی نظام کی بنیادی اکائی ’خاندانی نظام‘ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے۔
(3) فتنۃ تموج کموج البحر(ایسا فتنہ جو اس طریقے سے پھیلے گا، جیسے سمندر کی لہریں ساحل سے ٹکراتی ہیں): یہ فتنہ پورے اجتماع کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کسی سوسائٹی میں بہترین عدل و انصاف کا نظام موجود ہو اور انفرادی سوچ کے حامل فتنہ پرور لوگ اس نظام میں مداخلت شروع کردیں اور قومی نظام ٹوٹنے لگے تو یہ بھی ایک بڑا فتنہ ہے۔
(4) فتنۃ ملّیۃ (پوری ملت ِاسلامیہ کے لیے فتنہ): ہر نبی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اس کے حواریین میں کچھ ناخلف لوگ پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ نااہل لوگ جب حکمرانی کرنے لگتے ہیں تو اس ملت کے لیے بہت بڑا فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ جیسے چنگیز خان نے مسلمانوں کی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا کر خلافت توڑ پھوڑ کر رکھ دی۔
(5) فتنۃ مستطیرۃ (فتنۂ عام): یہ فتنہ کل انسانیت کی چولیں ہلا دے گا کہ معاشرے میں اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھنے اور اپنے آپ کو پاکیزہ سمجھنے والے لوگ انسانیت کی اجتماعی ذمہ داریوں سے روگردانی کرکے خودساختہ روحانیات کی طرف چلے جائیں گے۔ دوسرے لوگ روحانیت سے ہٹ کر ہر چیز کو بالکل حیوانی پیمانے پر پرکھیں اور رائے قائم کریں گے۔ ان کے درمیان وہ لوگ ہوں گے کہ نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے۔ انھیں کوئی جس طرف لگا دے گا، اس طرف چل پڑیںگے۔ ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوگی۔
(6) فتنۃ الوقائع الجویّۃ المنذرۃ بالإہلاک (وہ فتنہ کہ جو فضائی واقعات سے متعلق ہو، جن میں عام ہلاکت کا خوف ہو): جیسا کہ بڑے بڑے طوفان آنے لگیں، مختلف وبائیں پھیلیں، لوگ زمین میں دھنس جائیں، جگہ جگہ آگ پھیل جائے وغیرہ۔
موجودہ کرونا وائرس کا تعلق فتنہ نمبر5 سے ہے۔ یہ وبا نہیں ہے۔ وبا ایسی نہیں ہوتی کہ جس سے ساڑھے سات آٹھ ارب کی آبادی میں صرف چند ہزار لوگ مریں، بلکہ اس سے لاکھوں لوگ مرتے ہیں۔ یہ انسان نما درندوں اور شیطانوں کا پیدا کردہ فتنہ اور بیماری ہے۔ یہ انسان کی حیوانیت اور درندگی کا مظہر ہے۔ اس کا تعلق قدرتی آفات سے نہیں ہے۔‘‘
خوف کا کاروبار ؛ سامراجی ہتھیار
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’قرآن حکیم میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ’’جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اُسے مشہور کردیتے ہیں۔‘‘ (83:4) اس کے متعلق تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین اور کم سمجھ مسلمانوں کے بارے میں ہے کہ وہ دشمن کے وار کو نہیں سمجھتے اور اس کے آلہ کار بن کر اس کے حملے کو پروپیگیٹ کرتے ہیں۔ خوف بیچتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے کاروبار اور بزنس کیا جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’اور اگر اس کو پہنچا دیتے رسول تک اور اپنے سچے رہنماؤں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو اس میں تحقیق کرنے والے ہیں۔‘‘ (83:4) یعنی اگر وہ اس خبر کو پروپیگنڈا کرنے سے پہلے رسولؐ کی ہدایات کے تناظر میں جائزہ لے لیتے، یا جو رسولؐ کی اتباع میں کام کرنے والے دین کا شعور اور سمجھ رکھنے والے سچے رہنما ’’اولی الامر‘‘ ہیں، ان تک بات پہنچا تے تو وہ ضرور جان لیتے کہ یہ تو جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ آج لوگوں میں خوف پیدا کرکے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ اُن کی مسجدوں کو تالے لگائے جا رہے ہیں۔ ان کے مدرسے اور سکول بند کیے جا رہے ہیں۔
برطانوی سامراج اور یوریپن بھیڑیوں کی خوف بیچنے کی ایک تاریخ ہے۔ وہ خود تمام کیمیائی ہتھیار اور وائرسز بناتے ہیں اور پھر میڈیا وار کے ذریعے سے جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ آج امریکا معذرت کرتا ہے کہ ہم نے افریقا کے اندر بہت سے کیمیائی وائرسز کا تجربہ کیا۔ کیسی معذرت؟ دس بیس سال کے بعد کرونا وائرس کے حوالے سے بھی معذرت کریں گے کہ جی ہم نے کوئی تجربہ (experiment) کیا تھا۔ اس طرح اس انسانیت دشمن طاقتوں اور قوتوں کی یہ پوری تاریخ ہے۔ اس میں سب سے بڑا ہتھیار پروپیگنڈا ہے۔ قرآن نے کھل کر بتا دیا کہ یہ کم سمجھ مسلمان اور منافقین ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کو __ امن کا ہو یا خوف کا ہو __ پھیلاتے ہیں۔
آج کہا جاتا ہے کہ جی کرونا وبا تھی، جس پر چین والوں نے فتح حاصل کرلی۔ کیسے کی؟ سب سے پہلے انھوں نے وہاں میڈیا اور خوف پھیلانے والے لوگوں کو کنٹرول کیا۔ نفسیاتی وار کو روکا۔ پھر اس پورے دورانیے میں کہیں نہیں کہا کہ یہ امریکا نے حملہ کیا ہے۔ کیوں کہ حالتِ جنگ میں دشمن کے وار کو پروپیگیٹ کرنا‘ قوم کا مورال گرا دیتا ہے۔ نفسیاتی پستی پید اکرتا ہے۔ اس لیے جب انھوں نے مکمل طور پر مرض پر قابو پا لیا تو سب کچھ کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ یہ بدمعاشی اُن امریکی فوجیوں نے کی ہے، جو ’’ووہان‘‘ آئے تھے۔ اُن کے ذریعے سے یہاں یہ بیماری مسلط کی گئی۔ قومیں خوف بیچتی نہیں، خوف کو کنٹرول کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے ہاں خوف کا عالم یہ ہے کہ سعودی عرب میں مسجد ِحرام اور مسجد ِنبویؐ بند کردی۔ جمعہ پر پابندی لگا دی۔ مسجدوں کو اُجاڑ دیا۔ وہ اجتماعیت جس کے بارے میں رسول اللہؐ نے کہا تھا کہ: ’’جو جماعت کی نماز پڑھنے نہ آئے، میں چاہتا ہوں جا کر اُس کے گھر کو آگ لگا دوں‘‘ اس اجتماعیت کو توڑ دیا۔‘‘
فتنے کے مادی اسباب اور وظیفوں کی تکرار
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’عجیب معاملہ ہے۔ کسی بھی جنگ کا مقابلہ تو مزاحمتی شعور سے ہوتا ہے، یہاں وظیفے بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ کرونا وائرس بالفرض وبا یا عذاب ہے تو ایسا کیوں ہے؟ اجتماعیتیں توڑنے، حرام کھانے، رشوت لینے، لوٹ مار کرنے، بدانتظامی کرنے، سیاسی تباہی و بربادی اُتارنے کی وجہ سے یہ عذاب ہے اور اسے ٹالنے کے لیے وظیفے بتائے جا رہے ہیں کہ ’’لاَ إلٰہ إلَّا أنتَ سُبحانک إنّی کُنتُ من الظّالمین‘‘ پڑھو۔ ضرور پڑھنا چاہیے، لیکن پہلے تعین تو ہونا چاہیے کہ ظالمین سے کیا مراد ہے؟ ایک آدمی بے چارہ مزدور مظلوم، وہ ظالم کیسے ہوگیا؟ اس حکمران طبقۂ ظالمین کے ظلم کی نوعیت تو بتاؤ۔ حضرت یونس علیہ السلام سے ایک اجتماعی کام میں غفلت ہوئی۔ وہ قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اللہ نے ان کی اس لغزش کی وجہ سے انھیں مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیا۔ اُنھیں احساس ہوا کہ میں نے اجتماعیت کو چھوڑ دیا۔ تو انھوں نے ’’لاَ إلٰہ إلَّا أنتَ سُبحانک إنّی کُنتُ من الظّالمین‘‘ پڑھا۔ آج ہمارے مذہبی لوگ اجتماعیت کا کام چھوڑ کر اپنی کوٹھیوں اور بنگلوں میں جا بیٹھے۔ وظیفہ پڑھنے اور بتانے لگ گئے۔ باہر نکلنے کی کوشش تو کرو، تم بزدل بن کر اندر بیٹھ گئے تو لوگوں کو حوصلہ کیسے ہوگا؟ لوگ کہیں گے کہ تمھارے دین کی تعلیم کی تاثیر کہاں گئی؟ اگر ایمان مضبوط ہے تو میدان میں آؤ۔ جدوجہد اور کوشش کرو۔ لوگوں کو حوصلہ دو۔ بتلاؤ کہ یہ عذاب کن اجتماعی گناہوں کی وجہ سے آیا؟ کس حکمران طبقے کے ظلم سے آیا؟ گھروں کا نظام درست کرو۔ اپنی ذات کو ٹھیک کرو۔ اپنے قلب اور عقل کو دینی شعور کا حامل بناؤ۔ اپنی اجتماعیت کو درست کرو۔ اپنی ملت کے نظام کو درست کرو۔ شیطان اور ظالم کے آلہ کار مت بنو۔ اور یہی احکامات اور ہدایتِ الٰہی لوگوں کو بتاؤ۔
یہاں زبان گونگی ہے، کیوںکہ سرمایہ داری نظام کے خلاف بولیں گے تو چالیس پچاس لاکھ روپے مہینہ ان کو کیسے ملے گا؟ سرمایہ دار کے مطلب کی ویڈیو بنا کر ڈالیں گے۔ اُن کے مفادات کی بات بیان کریں گے۔ کھرا سچ اور حق جو قرآن اور نبی اکرمؐ کی احادیث سے ثابت ہے، اُسے بیان کرنے کی جرأت نہیں کریں گے۔ یہی وہی عمل ہے، جس سے قومیں تباہ ہوتی ہیں کہ جب اُن کے علما بک جائیں، اُن کے پیر وظیفے فروخت کرنے لگ جائیں، اُن کے سیاست دان نااہل ہوں، کرپٹ ہوں، انسانیت دشمنی کے رویے اختیار کریں تو ’’فتنۃ مستطیرۃ فی النّاس‘‘، وہ فتنہ پوری سوسائٹی میں پھیل جاتا ہے۔ آج یہ فتنہ پوری سوسائٹی میں تین طبقات پر مشتمل ہے۔ یا تو وہ لوگ ہیں، جو روحانیت کے نام پر اپنے اپنے گھروںمیں قید ہوگئے۔ باہر کے لوگوں سے ملنا جلنا انھوں نے ممنوع قرار دے دیا۔ اور حیوانیت کے حامل انسان نما درندوں نے اپنی درندگی بیچنے کے لیے خوف پھیلانا شروع کردیا۔ باقی لوگ نہ اِدھر کے ہیں، نہ اُدھر کے ہیں۔ کسی مذہبی رہنما کی بات سنتے ہیں تو وظیفے پر وظیفہ پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ کسی دین بیزار کے پیچھے لگتے ہیں تو قدرتِ الٰہی کے جاری کردہ نظام کا انکار اور توہین کرنے لگ جاتے ہیں۔‘‘
موجودہ فتنے کا مقابلہ شعور اور ہمت سے کرنا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے اپنے خطبے کے آخر میں فرمایا:
’’آج وائرس کے نام پر میڈیا وار بھی جاری ہے۔ معتدل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ اس کا مقابلہ شعور اور ہمت سے کیا جائے۔ ایک آفت دشمن نے مسلط کردی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ تمام احتیاطی تدابیر جو ماہر ڈاکٹر بتلا رہے ہیں، انھیں اختیار کرنا چاہیے۔ حضوؐر نے تو فرمایا کہ ’’ہمیشہ باوضو رہو۔‘‘ ایک وضوئے خفیف بھی ہے کہ اگر آپ پورا وضو نہیں بھی کرنا چاہتے تو چہرہ دھو لو اور ہاتھ دھو لو۔ یہ تو ہر حالت میں کیا جاسکتا ہے۔ کھانے کے بعد، باتھ روم استعمال کرنے کے بعد۔ اب ساری دنیا کو آفت پڑی ہوئی ہے کہ جی ہاتھ دھو لو۔ اگر حضوؐر کی بات پہلے مان لیتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ حضوؐر نے فرمایا: بے وضو پر شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ جب وضو کیا ہوا ہوتا ہے تو شیطان اور ہر طرح کے وائرس سے انسان محفوظ ہوتا ہے۔ اگر حضوؐر کی بات پر یقین ہے اور روح میں طاقت ہے تو کوئی دنیا کا وائرس اثر نہیں کرسکتا۔ ہاں ڈھلمل یقین ہو، اور مسلمان کو حضوؐر کی بات پر یقین نہ ہو اور سائنس دان کی بات پر یقین ہو توپھر کیا کہا جاسکتا ہے۔ اب پورے چائنہ کو فکر پڑی ہوئی ہے کہ جن جانوروں سے وائرس پھیلتا ہے، انھیں ممنوع قرار دینا چاہیے۔ چودہ سو سال پہلے نبیؐ نے فرما دیا تھا کہ کون سے جانور انسانیت کے لیے حلال ہیںاور کون سے حرام اور نقصان دہ ہیں۔ آپؐ کی تو بات نہیں مانی اور اب فکرمند ہیں۔
بات یہ ہے کہ ہم کم سمجھی کی بنیاد پر میڈیا کے پروپیگنڈے کو قبول کر رہے ہیں۔ آج دلیلیں دی جا رہی ہیں کہ سائنس دانوں اور ڈاکٹروں نے یوں یوں احتیاط کرنے کو کہا ہے۔ ہر وقت باوضو رہو تو کوئی شیطان تم پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ کیا اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا؟ اگر اپنے اوپر خوف مسلط کرلو گے تو خوف زدہ آدمی خواہ کتنے ہی وظیفے پڑھے، وہ اس خوف سے ہی مر جائے گا۔ اس لیے تدابیر اختیار کرو، لیکن دوسروں سے محبت سے ملو۔ اگر نفرت سے دیکھو اور بغض سے ملو گے تو ضرور وائرس اثر کرے گا۔ آپ کسی کو گھور کر نفرت سے دیکھیں گے تو آپ کے جسم سے نفرت خارج ہوگی اور سامنے والے کی طرف سے بھی اسی طرح کا ردِ عمل آئے گا۔ اس کا اثر آپ کے وجود پر طاری ہوگا۔ اس لیے پیار سے دیکھو، پیار سے ملوجلو۔ کیوںکہ محبت انسانیت کی اساس ہے۔
حضوؐر نے جو فرائض و واجبات، ذکر اذکار، تسبیحات اور مسنون چیزیں بیان کی ہیں، ان کی پابندی کرو۔ وہ انسانیت کی ترقی اور بھلائی کے لیے ہیں۔ نماز باجماعت کی پابندی کرو۔ قرآن حکیم کی تلاوت کرو۔ ذکرُ اللہ سے تعلق قائم کرو۔ قلب میں دینی شعور پیدا کرو۔ عقل میں سمجھ اور بلندی پیدا کرو۔ اجتماعی معاملات؛ سیاسیات، معاشیات، سماجیات کو درست تناظر میں سمجھو اور بہترین انسانیت دوست اجتماعی نظام قائم کرو تو کوئی شیطان اللہ کی طاقت اور اللہ کے ایمان، اللہ کے کلام سے زیادہ طاقت ور نہیں ہوسکتا۔ اس فتنے کا مقابلہ جرأت، ہمت اور حوصلے سے کرو۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ آمین‘‘
امریکا ۔ طالبان امن معاہدہ!

ہند وکش کے اونچے پہاڑوں میں گِھرا اَفغانستان، جو شمال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے سے جا ملتا ہے، دشوار گزار علاقے، نیم ہموار زمین پر مشتمل ہے۔ یہاں مختلف قومیں اور قبائل آباد ہیں۔ CIA کی فیکٹ بک کے مطابق جولائی 2011ء میں اس کی کل آبادی 2 کروڑ 89 لاکھ 35 ہزار کے لگ بھگ تھی۔
2001ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے اُسامہ بن لادن کی حوالگی پر مجبور کرنے کے لیے افغانستان پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ اسی سال مارچ میں طالبان نے مذہبی انتہا پسندی کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں ہزاروں سال پرانے بدھا کے مجسمے تباہ کردیے۔ 11؍ ستمبر 2001ء (نائن الیون) کو امریکا کے شہر نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر مبینہ دہشت گردی کے ذریعے تباہ ہوگیا۔ امریکا نے اسامہ بن لادن کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے امریکا کے حوالے کریں۔ طالبان کے انکار کرنے پر امریکا نے 7؍ اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر حملہ کرکے اس کو تباہ کردیا۔ دسمبر 2001ء میں طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا گیا۔ 9؍ اکتوبر 2004ء کو حامد کرزئی کو افغانستان کا صدر چن لیا گیا۔ 13؍ اور 14؍ مئی 2007ء کو افغانی اور امریکی افواج کے ساتھ پاکستانی فوج کی جھڑپیں شروع ہوگئیں، جس میں کئی امریکی اور پاکستانی فوجی مارے گئے۔ دسمبر 2009ء میں امریکی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے ا مریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کو مرحلہ وار نکال لے گا۔ اس کے بعد کئی مرتبہ امریکا نے یہ بات دہرائی۔
اب 29؍ فروری 2020ء کو امریکا اور طالبان کے مابین قطر کے شہر دوحہ میں ایک معاہدے کے مطابق امریکا نے افغانستان سے افواج کے مرحلہ وار انخلا کا اعلان کردیا۔ معاہدہ افغان حکومت کے بجائے طالبان کے ساتھ کیا گیا۔ امریکا نے کہا کہ وہ 14 ماہ کے اندر اندر اپنی اور اتحادیوں کی تمام افواج کو نکال لے گا۔ پہلے مرحلے میں امریکا اپنی 12 ہزار فوج کو کم کرکے 8600 کر دے گا۔ اس کے بعد بقیہ 5 فوجی اڈوں سے بھی امریکا اور اس کے اتحادی اپنی تمام افواج نکال لیں گے۔ مزید یہ کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر افغانستان پر عائد پابندیوں کو بھی 29؍ مئی 2020ء تک ختم کروا دے گا۔
معاہدے کے بعد طالبان کی طرف سے اس پر دستخط کرنے والے عبدالغنی ملا برادر سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اُن کی تعریف کی۔ اس موقع پر ملابرادر نے افغانستان کی ترقی کے لیے امریکا سے مدد مانگی، جسے پورا کرنے کا امریکی صدر نے وعدہ کیا۔ امریکا نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے اس کی معاشی مدد بھی کرے گا۔ بی بی سی کی یکم؍ مارچ 2020ء کی رپورٹ کے مطابق امن معاہدے پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ’’امریکی افواج افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کررہی تھیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ کوئی اور اس کام کو سرانجام دے۔ یہ کام اب طالبان کریں گے یا افغانستان کے ارد گرد میں واقع ممالک۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ: ’’ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو، سیکرٹری دفاع مارک ایسپر اور امریکی عوام جنھوں نے اس جنگ میں اپنا خون اور پیسہ صَرف کیا، کو مبارک باد دیتا ہوں۔‘‘ صدر کا مزید کہنا تھا کہ: ’’یہ وقت اپنے لوگوں (افواج) کو گھر لانے کا ہے۔‘‘
فروری 2019ء میں اقوامِ متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک 32,000 شہری اور 42,000 شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکی یونیورسٹی برائون کے ذیلی ادارے واٹسن انسٹیٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق 58,000 سیکورٹی اہل کار اور 42,000 ہزار شدت پسند اس جنگ میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ جہاں تک پیسہ صَرف کرنے کی بات ہے، امریکی وزاتِ دفاع کے مطابق افغانستان میں اکتوبر 2001ء سے مارچ 2019ء تک فوجی اخراجات 760 ارب امریکی ڈالر تھے۔ جب کہ مذکورہ یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے کے مطابق یہ اخراجات ایک ٹریلین امریکی ڈالر (یعنی ایک ہزار ارب امریکی ڈالر) سے بھی تجاوز کرچکے ہیں۔ اسی ادارے کاکہنا ہے کہ گزشتہ 11 برسوں میں ساڑھے 15 ارب امریکی ڈالر محض فراڈ اور خورد برد کی مد میں گم ہوچکے ہیں۔
بی بی سی کی 9؍ مارچ 2014ء کی یک طرفہ رپورٹ کے مطابق بہ ظاہر تو روسی اور امریکی فوجی مداخلتوں کا موازنہ نہیں بنتا، کیوںکہ روسی فوج سوویت اثر و رسوخ کو وسیع کرنے آئی تھی۔ جب کہ کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج ستمبر گیارہ (نائن الیون) کے حملوں کے دہشت گردی کے خاتمے اور جمہوریت کو تقویت دینے آئی تھی۔ اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’’روس نے سالانہ 2 بلین ڈالر خرچ کیے، جب کہ امریکا ابھی تک 700 بلین ڈالر خرچ کرچکا ہے۔‘‘ امریکا آج دنیا میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کا سب سے بڑا نمائندہ ہے۔ اس نے سوشلسٹ نظریے کو شکست دینے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کر ڈالے۔ یہ بات غیرفطری ہے کہ گروہیت کی نمائندہ سوچ‘ اجتماعیت کے حامل نظریے سے شکست کھا جائے۔ امریکیوں میں کتنا بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف سوشلسٹ نظریے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سد ِمآرِب کھڑی کررہے ہیں تودوسری طرف اسی نظریے کے جدید تصور کمیونزم کے فروغ کے لیے راستہ ہموار کررہے ہیں۔ چوںکہ آج سرمایہ دارانہ امریکی سوچ اشتمالیت کے نظریے کے مقابلے میں پس ماندہ اور گروہیت کی نمائندہ ہے، اس لیے اس کا شکست کھانا فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حالات کا جبر امریکی صدر کو یہ کہنے پر مجبور کردیتا ہے کہ:’’یہ وقت اپنے لوگوں کو گھر واپس لانے کا ہے۔‘‘
شمارہ ختم
واپس
