حضرت حاطِب بن أبی بَلْتَعَہ لَخْمی رضی اللہ عنہٗ

مولانا قاضی محمد یوسف

مولانا قاضی محمد یوسف
مولانا قاضی محمد یوسف
جون 11, 2022 - ایمان افروز واقعات
حضرت حاطِب بن أبی بَلْتَعَہ لَخْمی رضی اللہ عنہٗ

حضرت حاطِب بن أبی بَلْتَعَہ لَخْمی رضی اللہ عنہٗ تجارت پیشہ تھے۔ آپؓ مہاجرین میں سے تھے۔ آپؓ نے حضور ﷺ کی مکہ سے ہجرت سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپؓ حضوؐر کے ساتھ غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، غزوۂ خندق، دیگر تمام جنگوں اوردینی و اجتماعی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ آپؓ دورِ نبویؐ کے بہترین تیر اندازوں میں سے ایک تھے۔ ایامِ جاہلیت میں شاعری و شہ سواری میں آپؓ شہرت رکھتے تھے۔ حضرت حاطبؓ نے۳۰ھ میں 65 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ خلیفہ وقت سیّدنا حضرت عثمان بن عفانؓ نے آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

جب حضور اقدس ﷺ نے مصر کے بادشاہ کی طرف خط لکھا تو پوچھا کہ ’’یہ خط کون لے کر جائے گا؟ جس کی مزدوری و اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے‘‘۔ حضرت حاطبؓ فوراً کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے حضرت حاطبؓ کو دعا دی کہ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے ارادوں میں برکت عطا فرمائے‘‘۔ چناں چہ آپؓ قاصدِ رسول اللہؐ بن کر مصر کی طرف روانہ ہوئے اور رسول اللہؐ کے سفیروں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

حضرت حاطبؓ انتہائی عقل مند، معاملہ فہم، مردم شناس، قرآنی علوم اور سماجی معلومات کے ماہر اور تجربہ کار شخصیت کے حامل تھے۔ جب آپؓ بادشاہِ مصر کے دربار میں حاضر ہوئے اور مکتوبِ نبویؐ پیش کیا تو بادشاہ نے کہا: ’’مرحبًا بکتاب النّبی العربی‘‘ (نبیٔ عربی کے خط کے لیے خوش آمدید)۔ اس کے بعد اچانک بادشاہ نے ایک تحریر منگوائی، جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ تک سب انبیاء علیہم السلام کی تعریف اور حلیہ درج تھا۔ سفیر سے کہا کہ اپنے سردار کی تعریف بیان کرو تو حضرت حاطبؓ نے ان الفاظ میں آپؐ کی تعریف بیان کی:

’’میرے آقا محمد الرسول اللہ ﷺ نہایت خوب صورت، خوش رُو، چستہ بدن، میانہ قد اور ایک بزرگ ترین ہستی ہیں۔ آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان ایک تِل ہے، جو چاند کی طرح چمکتا رہتا ہے۔ آپؐ صاحبِ خشوع، متدین، پاک دامن، نقصان سے بَری، سچ بولنے والے اور حَسین ہیں۔ آپؐ کی ناک مبارک ستواں اور بلند، پیشانی کشادہ، زبان باریک، دونوں اگلے دانت خوش نما اور چمک دار، آنکھیں سُرمگیں، دونوں اَبرُو باریک و دراز، اگلے دونوں دانتوں میں کسی قدر کشادگی، سینہ چوڑا اور کشادہ، شکم مبارک مثل ریشمی کپڑے کی شکن کے، زبان فصیح اور آپؐ کا نسب سب سے اچھا اور خالص ہے۔ صلّی اللّٰہ علیہ وآلہ و أصحابہ و سلّم قدر حُسنہ و جمالہ‘‘۔

گویا سفیر میں ایسی خصوصیات ہونی ضروری ہیں کہ فوری پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات سے درست تعارف کراسکے اور کسی بھی نظام کے مطالعے اور قوتِ مدبرہ ونافذہ کے ذریعے متعلقہ ملاقات و مکالمہ سے نتائج اخذ کرسکے، تاکہ اپنے نظریات اور نظام کی ترقی اور مستقبل کی کامیابی کی راہیں تلاش کی جاسکیں۔

متعلقہ مضامین

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

مولانا قاضی محمد یوسف اکتوبر 10, 2022

خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت

وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات …

مولانا محمد عباس شاد نومبر 11, 2021

حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

​حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗحضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗخاندانِ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوضحاک‘‘ تھی۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو ’’ابو…

مولانا قاضی محمد یوسف جولائی 03, 2026

حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘

حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس …

مولانا قاضی محمد یوسف مارچ 16, 2023