عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز

عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط

عَنْ أبِي ہُرَیْرَۃَ، أِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟‘‘ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لا دِرْھَمَ لَہُ، وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: ’’إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي، یَأْتِي یَوْمَ الْقِیَاَمَۃِ بصَلَاۃِ، وَ صِیَامٍ، وَ زَکَاۃٍ، وَ یَأْتِي قَدْ شَتَمَ ھٰذَا، وَ قَذَفَ ھٰذَا، وَ أَکَلَ مَالَ ھٰذَا، وَ سَفَکَ دَمَ ھٰذَا، وَ ضَرَبَ ھٰذَا، فَیُعْطٰی ھٰذا مِنْ حَسَنَاتِہِ، وَ ھٰذا مِنْ حَسَنَاتِہِ، فَإِنْ فَنَیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْضَیٰ مَا عَلَیْہِ أُخِذَ مِنْ خَطَایَاھُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّار‘‘۔ (المسلم، حدیث 2581)

(حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ـ‘‘ صحابہؓ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے، جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میری اُمت کا مفلس وہ شخص ہے، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (کی ادائیگی کا عمل) لے کر اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ تو اس کی نیکیوں میں سے اِس کو بھی دیا جائے گا اور اُس کو بھی دیا جائے گا۔ اور اس پر جو ذمہ ہے، اس کی ادائیگی سے پہلے اگر اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی، تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔)

یہ حدیث عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط بیان کررہی ہے۔ آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق اُمت کا مفلس وہ کہلائے گا، جس نے نماز، روزہ اور زکوٰۃ تو ادا کیا ہوگا، لیکن لوگوں کے ساتھ اس کا میل برتائو ٹھیک نہیں تھا۔ گالی گلوچ کرتا، ان پہ تہمت لگاتا، ناجائز مال حاصل کرتا، خون بہاتا، قتل کرتا اور مارپیٹ کرتا تھا۔ ایسا شخص روزِ قیامت جب حساب کتاب کے لیے اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا، تو اس کے ظلم کے شکار لوگ اللہ کے رُوبرو شکایت کریں گے اور ہر ایک اپنے اوپر ہونے والا ظلم بیان کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائیں گے کہ اس کے ان جرائم کے بدلے میں اس کی نیکیاں ان ستم زدہ لوگوں کو دے دو، لیکن اس کی زیادتیوں کا بدلہ ابھی مکمل نہ ہوا ہوگا کہ اس کی ساری زندگی کی عبادات، معاملات کی خرابی کی نذر ہوجائیں گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اَب شکایت کرنے والوں کے گناہ اس کے اوپر ڈال دو۔ تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور ان گناہوں کے بوجھ کے ساتھ اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

معلوم ہوا کہ عبادات کا اہم مقصد اَخلاق کی درستی ہے۔ ہر عبادت کا اپنا ایک مقصد  اور الگ الگ نتائج ہیں۔ یہ مقاصد اِنسانی مزاج، رویوں اور اس کے اَخلاق کی درستی کے حصول کے لیے ہیں۔ یوں عبادات انسان کے لیے ایک اچھا انسان بننے میں مددگار ہوتی ہیں۔ اس لیے مؤمن کو اس امر پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں؟ یوں اس کے رویوں سے ظاہر ہوجائے گا کہ عبادات کا اس پر کیا اَثر ہورہا ہے۔

متعلقہ مضامین

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز اگست 10, 2021

علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ (2)

عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز نومبر 11, 2023

حیا کی اہمیت

​عَنْ اِبن مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّﷺ: ’’إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافعَلْ مَاشِئْتَ‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 3483)(حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے، …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز ستمبر 11, 2025

ذوالحج کے پہلے دس دِنوں کی فضیلت

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃ - رضی اللّٰہ عنہ - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ : ’’مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبُّ إِلی اللّٰہِ أَنْ یَّتَعَبَّدَ لَہٗ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحَجَّۃِ، یَعْدِلُ صِیَامُ کُلَّ یَوْمٍ مِنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ، وَ قِیَامُ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز جون 07, 2024