علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ (2)

علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ (2)

عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:

’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَایُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا۔۔۔‘‘۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأَنَّہُ یَعْنِي: الْخَطَایَا۔ (السّنن لابن ماجۃ، حدیث: 255)

(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کا علم خوب حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا کے حکمرانوں اور مال دار لوگوں سے مل کر ان سے دنیا کی چیزیں لیتے ہیں اور اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں، مگر واقع میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا والوں کی قربت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے۔۔۔۔‘‘ راوی محمد بن صباح کہتے ہیں: گویا کہ سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔)

نمبر2: زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے دوسری رہنمائی یہ فرمائی کہ اہلِ دین کا دنیا پرستوں کے ساتھ اپنے مالی مفادات وابستہ کرنا، درست نہیں ہے۔ اہلِ حق علما کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دین کی حفاظت ان لوگوں سے وابستہ کرلیں جو دنیادار ہوں، اور پھر یہ خیال قائم کرلینا کہ ایسے لوگوں سے وابستہ مالی اغراض کے باوجود ہمارا دین محفوظ رہے گا، یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ ایسے سرمایہ پرست بلامقصد اور آسانی سے کسی کو کچھ نہیں دیتے۔ سرمایہ پرست کا ذہن محض سرمایہ جمع کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتا ہے کہ میں نے اس سے مالی فائدہ اُٹھانا ہے۔

حضورﷺ اس موقع پر شاید کوئی سخت جملہ فرمانا چاہتے تھے، مگر بہ وجوہ خاموش رہے، تو راوی نے اس کا مطلب یہ لیا کہ آپﷺ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ دنیاپرستوں سے ہم اپنا دین بچا لیں گے اور دنیا لے لیں گے۔ بھلا وہ جو خود دُنیا کا طالب ہو، کسی دوسرے کو بلاعوض اپنا مال کیسے دے سکتا ہے۔ وہ خود دنیا کی خاطر ہی حکمران ہیں۔ اگر علما ان سے مالی مفادات وابستہ کر کے ان کی دنیاپرستی کے لیے ڈھال بنتے ہیں اور لوگوں میں یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دین دار لوگ ہیں، تو اہلِ دین بہت سستے بِکے، بلکہ انھوں نے اپنے لیے اور دین کے لیے بہت توہین آمیز طریقہ اپنا لیا۔ وہ نہ صرف دنیا میں خسارے میں ہیں، بلکہ آخرت کا بھی بڑا خسارہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ حق کی پہچان اور ان سے وابستگی کی قدروقیمت کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ(2)

عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:

’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَایُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا۔۔۔‘‘۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأَنَّہُ یَعْنِي: الْخَطَایَا۔ (السّنن لابن ماجۃ، حدیث: 255)

(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کا علم خوب حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا کے حکمرانوں اور مال دار لوگوں سے مل کر ان سے دنیا کی چیزیں لیتے ہیں اور اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں، مگر واقع میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا والوں کی قربت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے۔۔۔۔‘‘ راوی محمد بن صباح کہتے ہیں: گویا کہ سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔)

نمبر2: زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے دوسری رہنمائی یہ فرمائی کہ اہلِ دین کا دنیا پرستوں کے ساتھ اپنے مالی مفادات وابستہ کرنا، درست نہیں ہے۔ اہلِ حق علما کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دین کی حفاظت ان لوگوں سے وابستہ کرلیں جو دنیادار ہوں، اور پھر یہ خیال قائم کرلینا کہ ایسے لوگوں سے وابستہ مالی اغراض کے باوجود ہمارا دین محفوظ رہے گا، یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ ایسے سرمایہ پرست بلامقصد اور آسانی سے کسی کو کچھ نہیں دیتے۔ سرمایہ پرست کا ذہن محض سرمایہ جمع کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتا ہے کہ میں نے اس سے مالی فائدہ اُٹھانا ہے۔

حضورﷺ اس موقع پر شاید کوئی سخت جملہ فرمانا چاہتے تھے، مگر بہ وجوہ خاموش رہے، تو راوی نے اس کا مطلب یہ لیا کہ آپﷺ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ دنیاپرستوں سے ہم اپنا دین بچا لیں گے اور دنیا لے لیں گے۔ بھلا وہ جو خود دُنیا کا طالب ہو، کسی دوسرے کو بلاعوض اپنا مال کیسے دے سکتا ہے۔ وہ خود دنیا کی خاطر ہی حکمران ہیں۔ اگر علما ان سے مالی مفادات وابستہ کر کے ان کی دنیاپرستی کے لیے ڈھال بنتے ہیں اور لوگوں میں یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دین دار لوگ ہیں، تو اہلِ دین بہت سستے بِکے، بلکہ انھوں نے اپنے لیے اور دین کے لیے بہت توہین آمیز طریقہ اپنا لیا۔ وہ نہ صرف دنیا میں خسارے میں ہیں، بلکہ آخرت کا بھی بڑا خسارہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ حق کی پہچان اور ان سے وابستگی کی قدروقیمت کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

علمائے دین کا دنیاپرستوں کی قربت کا نتیجہ(2)

عَن ابنِ عبّاسؓ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:

’’إنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِيْ سَیَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّیْنِ، وَ یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُوْلُونَ: نَأتِي الْأُمَرَائَ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاھُمْ، وَ نَعْتَزِلُہُمْ بِدِیْنِنَا، وَ لَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَایُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا۔۔۔‘‘۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأَنَّہُ یَعْنِي: الْخَطَایَا۔ (السّنن لابن ماجۃ، حدیث: 255)

(حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کا علم خوب حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا کے حکمرانوں اور مال دار لوگوں سے مل کر ان سے دنیا کی چیزیں لیتے ہیں اور اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں، مگر واقع میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ جیسے کانٹے دار درخت سے سوائے کانٹوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا والوں کی قربت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، سوائے۔۔۔۔‘‘ راوی محمد بن صباح کہتے ہیں: گویا کہ سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔)

نمبر2: زیرِنظر حدیث میں نبی اکرمؐ نے دوسری رہنمائی یہ فرمائی کہ اہلِ دین کا دنیا پرستوں کے ساتھ اپنے مالی مفادات وابستہ کرنا، درست نہیں ہے۔ اہلِ حق علما کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دین کی حفاظت ان لوگوں سے وابستہ کرلیں جو دنیادار ہوں، اور پھر یہ خیال قائم کرلینا کہ ایسے لوگوں سے وابستہ مالی اغراض کے باوجود ہمارا دین محفوظ رہے گا، یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ ایسے سرمایہ پرست بلامقصد اور آسانی سے کسی کو کچھ نہیں دیتے۔ سرمایہ پرست کا ذہن محض سرمایہ جمع کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ ہر جگہ یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتا ہے کہ میں نے اس سے مالی فائدہ اُٹھانا ہے۔

حضورﷺ اس موقع پر شاید کوئی سخت جملہ فرمانا چاہتے تھے، مگر بہ وجوہ خاموش رہے، تو راوی نے اس کا مطلب یہ لیا کہ آپﷺ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہے کہ دنیاپرستوں سے ہم اپنا دین بچا لیں گے اور دنیا لے لیں گے۔ بھلا وہ جو خود دُنیا کا طالب ہو، کسی دوسرے کو بلاعوض اپنا مال کیسے دے سکتا ہے۔ وہ خود دنیا کی خاطر ہی حکمران ہیں۔ اگر علما ان سے مالی مفادات وابستہ کر کے ان کی دنیاپرستی کے لیے ڈھال بنتے ہیں اور لوگوں میں یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دین دار لوگ ہیں، تو اہلِ دین بہت سستے بِکے، بلکہ انھوں نے اپنے لیے اور دین کے لیے بہت توہین آمیز طریقہ اپنا لیا۔ وہ نہ صرف دنیا میں خسارے میں ہیں، بلکہ آخرت کا بھی بڑا خسارہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ حق کی پہچان اور ان سے وابستگی کی قدروقیمت کا لحاظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

 

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز
مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز

پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد ناصرعبدالعزیز ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے ممبر ایڈوائزری بورڈ اور حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے مجازین میں سے ہیں۔ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم جامعہ خیر المدارس ملتان سے حاصل کر کے 1989ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ 1994ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) سے ایل ایل بی آنرزشریعہ اینڈ لاءکیا۔ ازاں بعد پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے بطور استاد وابستہ ہوگئے۔ اس دوران  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ آج کل گورنمنٹ  گریجویٹ کالج جھنگ کے شعبہ اسلامیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسرہیں اور مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ انوار العلوم عثمانیہ ریل بازار جھنگ صدر کے اہتمام و انصرام کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رحیمیہ نظام المدارس کے ناظم امتحانات بھی ہیں۔  "ماہنامہ رحیمیہ" میں درسِ حدیث کے عنوان سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

ذوالحج کے پہلے دس دِنوں کی فضیلت

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃ - رضی اللّٰہ عنہ - قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ : ’’مَا مِنْ أَیَّامٍ أَحَبُّ إِلی اللّٰہِ أَنْ یَّتَعَبَّدَ لَہٗ فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحَجَّۃِ، یَعْدِلُ صِیَامُ کُلَّ یَوْمٍ مِنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍ، وَ قِیَامُ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز جون 07, 2024

عبادات اور اَخلاقیات کا باہمی ربط

عَنْ أبِي ہُرَیْرَۃَ، أِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: ’’أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟‘‘ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لا دِرْھَمَ لَہُ، وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: ’’إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي، یَأْتِي یَ…

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز فروری 11, 2022

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز اگست 10, 2021

اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد

14؍ جنوری 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوستو! دی…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری فروری 11, 2022