حضرت حسان بن ثابت خزرجی نجاری انصاری رضی اللہ عنہٗ (1)

حضرت حسان بن ثابت خزرجی نجاری انصاری رضی اللہ عنہٗ (1)

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہٗ جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوالولید‘‘ اور آپؓ کا لقب ’’شاعر رسول اللہ‘‘ تھا۔ آپؓ مدینہ میں قبیلہ بنوخزرج کے ایک گھر میں پیدا ہوئے۔ آپؓ کا سلسلۂ نسب یہ ہے: حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو۔ آپؓ کی والدہ کا نام فریعہ بنت خالدتھا، جو قبیلہ خزرج سے تھیں اور حضرت سعد بن عبادہؓ سردارِ خزرج کی چچا زاد بہن تھیں۔

حضرت حسانؓ بڑھاپے میں ایمان لائے۔ ہجرت کے وقت آپؓ کی عمر 60 برس تھی۔ آپؓ کی آدھی زندگی دورِ جاہلیت کی اور باقی آدھی عہد ِاسلامی کی یادگار ہے۔ آپؓ کی دینی و عملی خدمات تاریخِ اسلام کا اہم باب ہیں۔ قرآن حکیم کی فصاحت و بلاغت سن کر جو شعرا مسلمان ہو گئے، اس نے ان میں ایک نئی روح پھونک دی، حسان بن ثابتؓ بھی ان میں سب سے زیادہ حصہ لینے والے ہیں۔ آپ ؓسے چند احادیث مروی ہیں، جو کتب احادیث میں موجود ہیں۔ آپؓ اگرچہ عمر رسیدہ ہونے کے باعث کسی غزوے میں شامل نہ ہوئے، مگر اپنی شعر و شاعری اور زبان کے تیکھے استعمال سے دشمن کے خلاف مثبت پروپیگنڈے کے ذریعے خیال و عمل کی قوتوں کو مہمیز دیتے رہے۔ آپؓ طویل عمر اور تجربے کی وجہ سے دُور رَس نگاہ کے حامل اور صاحبِ بصیرت شخص تھے، جس کی نشان دہی آپؓ کے کلام میں جابہ جا محسوس ہوتی ہے۔ آپؓ قریش کے اسلام دشمن شعرا کی ’’ہجو‘‘ کا مسکت جواب دیتے تھے۔ اس دور کا سوشل میڈیا‘ شعری کلام ہوا کرتا تھا۔ کسی کے خلاف یا حمایت کے لیے اشعار کہے جاتے اور بہت جلد وہ پھیل جاتے اور زبان زدِ عام ہوجاتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات پر حضرت حسانؓ نے بڑے پُر درد مرثیے لکھے۔ شاعری کے لحاظ سے عہد ِجاہلیت اور دورِ اسلامی کے آپؓ بہترین شاعر تھے۔ کفار کی ہجو (بُرائی) اور مسلمانوں کی شان میں بے شمار اشعار کہے ہیں۔ شاعری ان کے خاندان میں نسلاً بعد نسلاً چلی آتی تھی۔ باپ، دادا، بیٹے عبد الرحمن اور پوتے سعید بن عبد الرحمن سب شاعر تھے، بلکہ اصحابِ مُذہَّبَات میں سے تھے، یعنی ایسے شاعر تھے کہ ان کی باتیں آبِ زر (سونے کے پانی) سے لکھی جائیں۔ شاعری آپؓ کی سیرت کا ایک مستقل عنوان ہے۔

عہد ِاسلام کی شاعری مبالغے سے خالی ہے۔ ظاہر ہے جو شعر مبالغے سے خالی ہو، وہ بالکل پھیکا، بے مزہ ہوگا۔ حضرت حسانؓ خود فرماتے ہیں کہ: ’’اسلام جھوٹ سے منع کرتا ہے، اس وجہ سے میں نے اِفراط (بڑھا چڑھا کر بیان) کو جو جھوٹ کی ایک قسم ہے، بالکل چھوڑ دیا ہے۔ حضرت حسانؓ کی ہجو دفاعِ دین پر مشتمل اور گالی گلوچ سے خالی ہے۔ اہلِ حق کی دینِ حق کے غلبے کی جدو جہد، جہاد کو واضح کرنے کے لیے تھی۔ صاحب ’’الروائع‘‘ نے آپؓ کو شعرِ اسلامی کا بانی و مؤسس قراردیا ہے۔ اس طرح وہ ایک تاریخ داں شاعر ثابت ہوئے۔ انھوں نے اپنے اشعار میں دین و سیاست کو جمع کیا ہے۔ ( دیوانِ حسان، دکتور عمر فاروق الطباع )

متعلقہ مضامین

اَندلُس کے علما و سائنس دان ؛شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی  ؒ

بارہویں صدی عیسوی کے عبقری انسان، عظیم فلسفی، مفکر، محقق، صوفی، علوم کا بحرِ ناپیدا کنار، روحانی و عرفانی نظامِ شمسی کے مدار، اسلامی تصوف میں ’’شیخِ اکبر‘…

مفتی محمد اشرف عاطف نومبر 13, 2021

ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ

تحریکِ ریشمی رومال کے دوران کابل میں امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ان کی قائم کی گئی حکومتِ موقتۂ ہند کی موجودگی اور پنجاب اور بنگال میں جاری تحریکوں کی وجہ سے بر…

وسیم اعجاز مارچ 18, 2022

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ

حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعیداحمد رائے پوری قدس سرہٗ نقوشِ زندگی کا ایک مختصر خاکہ تحریر: مفتی عبدالخالق آزاد ٭ آپؒ کی پیدائش رجب 1344ھ / جنوری 1926ء کو حضرتِ اقدس…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 13, 2021

طارق بن زیاد ؛ فاتح اندلس

طارق بن زیاد خلافت ِبنی اُمیہ کے مسلم جرنیل تھے۔ وادیٔ تافنہ الجزائر میں ۵۰ھ / 670ء میں پیدا ہوئے اور دمشق میں 720ء میں تقریباً پچاس سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا افریقا ک…

مفتی محمد اشرف عاطف فروری 17, 2021