اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
فروری 11, 2022 - خطباتِ جمعتہ المبارک
اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد

14؍ جنوری 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’معزز دوستو! دینِ اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد انسانیت کو اللہ کے ساتھ جوڑنا اور اُن میں ایسی اجتماعیت پید اکرنا ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے، خدا پرستی پیدا کرنے اور انسان دوستی کے لیے کردار ادا کرے۔ دین حق کے غلبے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرے۔ اس لیے دینِ اسلام کی تمام تعلیمات میں اس حقیقت کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ جو کام بھی دین میں زیادہ فرض اور لازمی ہیں، وہ تمام کام اجتماعی طور پر سرانجام پانے چاہئیں، تاکہ اُن کی اجتماعی طور پر ادائیگی انسانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں قائم ہوجائے۔ دنیا میں اجتماعیت کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔ ہر انسان اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے سے لے کر موت تک اجتماع کا محتاج ہے۔ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تو پیدائش کے وقت بھی کسی دائی اور نرس کی ضرورت ہوتی ہے، ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو پرورش کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ ایک اجتماعی عمل ہے۔ اور جب دفنایا جاتا ہے تو تب بھی ایک اجتماع اُسے اٹھا کر قبر میں اُتارتا ہے۔ اُس کی نماز ِجنازہ پڑھتا ہے۔ گویا اوّل سے آخر تک انسان اجتماع کا محتاج ہے۔ اس لیے اجتماعیت اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ اکیلا انسان دنیا میں کچھ نہیں کرسکتا۔ کھانا پینا ہو، لباس تیار کرنا ہو، رہنا سہنا ہو، مکان بنانا ہو، ان تمام کے لیے اجتماعی عمل ہی ایک انسان کی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے۔

اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت سے لے کر آدمیت کے اختتام تک کے ہر مرحلے میں اجتماع منعقد کیا۔ انسان پیدا کرتے وقت بھی فرشتوں کا اجتماع کیا تھا اور دنیا کے اختتام پر قیامت کا اجتماع بھی ہوگا۔ان تمام اجتماعات کی جمعہ کے دن سے نسبت ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ سیّد الایام (تمام دنوںکا سردار) ہے کہ اسی جمعہ کے دن میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا۔ پھر اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا۔ اسی جمعہ کے دن میں ہی جنت سے دنیا میں خلافت اور حکمرانی کے لیے روانہ کیا گیا۔ اسی جمعہ کے دن میں ہی صور پھونک کر پوری کی پوری انسانیت کو اس کرۂ ارض سے سمیٹ لیا جائے گا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 1356) انسان کے لیے اہم ترین چار مواقع ہیں: اس کی پیدائش کے، اس کے جنت میں داخل ہونے کے، جنت سے نکل کر اس دنیا میں خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے، اور اس کرۂ ارض سے واپس اپنے وطنِ اصلی کی طرف جانے کے، جسے یوم القیامہ کہا گیا ہے، یعنی قیامت کا دن۔ دینی تعلیمات اور ارشاداتِ نبوی کے مطابق یہ تمام مراحل جمعہ کے دن سرانجام پائیں گے‘‘۔

اجتماعِ جمعتہ المبارک اور اشاعتِ دین کے اُمور

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’اے ایمان والو! جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن، تو دوڑو اللہ کی یاد کو‘‘۔ (-62 الجمعہ: 9) یعنی جمعہ کے دن جب اذان دے دی جائے تو تمھاری ذمہ داری یہ ہے کہ اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ کر پہنچو۔ دوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہانپتے کانپتے ہوئے، چھلانگیں مارتے ہوئے پہنچو، بلکہ کوشش اور سعی شروع کردو، تیاری شروع کردو۔ سعی کا لفظ عربی میں اس لیے بھی بولا جاتا ہے کہ اُس کے لیے کوتاہی مت کرو، مکمل تیار ہو کر مسجد میں اللہ کے ذکر کے لیے پہنچو۔ عرب لوگ تاجر تھے۔ ان کے ہاں سب سے زیادہ دلچسپی کی چیز کاروبار اور لین دین تھا۔ تو فرمایا: ’’اور چھوڑ دو خرید و فروخت‘‘۔ یعنی خرید و فروخت اور لین دین بند کردو اور اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔

یہ آیت ایک خاص تناظر میں نازل ہوئی ہے کہ ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ اُس زمانے میں نماز ِجمعہ کے بعد خطبہ دیا جاتا تھا۔ کافی دنوں سے مدینہ میں کوئی غلہ وغیرہ باہر سے نہیں آیا تھا۔ لوگ کھانے پینے کی اشیا کے سلسلے میں حاجت مند تھے۔ جیسے ہی آپؐ نے خطبہ دینا شروع کیا تو اتنے میں کسی نے آکر خبر دے دی کہ تاجروں کا قافلہ غلہ لے کر آگیا ہے۔ جیسے ہی لوگوں نے یہ سنا تو سوائے بارہ حضرات جن میں حضرت ابوبکر صدیق بھی تھے، کوئی باقی نہ رہا۔ سب خطبہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم سب چلے جاتے، کوئی باقی نہ رہتا تو یہ پوری وادی تم پر آگ سے بھر جاتی‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر) اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں حکم دیا کہ جیسے ہی اذان ہوجائے تو دراصل تمھیں اب اللہ کے ذکر کی طرف جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل متوجہ ہونا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ تمھارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم علم رکھتے۔ تمھیں پتہ ہوتا کہ نبی اکرمؐ کی مجلس میں اور اس اجتماعیت میں بیٹھ کر ذکر اللہ کی طرف متوجہ ہونا کتنا اونچا کام ہے تو تم جمعہ میں حضوؐر کا خطبہ چھوڑ کر نہ جاتے۔

حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ خاص طور پر جمعہ کے دن میں انسانی اجتماع میں دین کی اشاعت کا ہدف ہے، تاکہ نبی اکرمؐ کی بعثت کے مقصد ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کو پورا کیا جائے۔ جمعہ کے چند بنیادی مقاصد ہیں: ایک تو یہ کہ اس اجتماع میں ہر طرح کے لوگ علم والے اور غیرعلم والے موجود ہوں، تاکہ جمعہ کے اجتماع میں لوگ اہل علم سے سیکھیں کہ کون کون سے دینی کام کرنا لازمی اور ضروری ہیں۔ مثلاً نماز کیسے پڑھی جائے گی؟ ذکر کیسے کیا جائے گا؟ عبادات کیسے کی جائیں گی؟ اور دین کے فرائض اور واجبات کیا ہیں؟ اس کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں؟ نیز اس اجتماع کی طاقت سے دشمن پر رعب پیدا کرنا بھی مقصد ہے، تاکہ انسانیت دشمن طاقتوں پر دین کے سیاسی غلبے اور اجتماعی طاقت کا اظہار ہو، جو کہ اجتماع کے بغیر نہیں ہوتا‘‘۔

اجتماعِ جمعتہ المبارک کی وجہ جواز

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

جمعہ کی اہمیت پر بے شمار احادیث میں نبی اکرمؐ نے گفتگو فرمائی اور لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ جمعہ کے اجتماع میں ضرور شریک ہوں۔ اس لیے کہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ جب مسلمان صرف اللہ کی طرف توجہ کے ساتھ ایک اجتماع میں شریک ہو کر بیٹھتے ہیں اور ہر دل میں جو ایمان روشن ہے، اور اللہ کی تجلیات اُس قلبِ مؤمن پر آرہی ہیں تو اس سے سینکڑوں چراغ جلتے ہیں تو روشنی بہت پھیل جاتی ہے۔ اس اجتماع میں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے بیٹھنا مسلمان جماعت کے جوش اور جذبے کو بڑھاتا ہے۔ اُن کے اندر تحریک پیدا ہوتی ہے۔ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ انواراتِ الٰہیہ متوجہ ہوتے ہیں۔

فقہا کے ہاں جمعہ کا اجتماع وہیں پر فرض ہے، جہاں شہر ہو اور اس شہر کے اندر حاکمِ وقت جمعہ پڑھائے، تاکہ سیاسی طاقت کا اظہار ہو۔ اس لیے جمعہ ایک شہر میں ایک جامع مسجد میں ہونا چاہیے۔ یہ اُصول اور ضابطہ ہے۔ آج دورِ غلامی کے اثرات ہیں کہ ہر محلے کی مسجد میں جمعہ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کے غلبے کے زمانے میں ایک شہر میں ایک بڑی جامع مسجد کے علاوہ کبھی کوئی جامع مسجد نہیں رہی۔ اس میں بادشاہ یا سرکاری نمائندہ اگر وہ عالم ہوتا، وہ خود، یا اُس کا نامزد کردہ سرکاری شاہی امام، جو دین کا سرکاری نمائندہ ہوتا تھا، وہ جمعہ پڑھاتا تھا۔ پرائیویٹ طور پر کوئی آدمی اپنا جمعہ شروع نہیں کرسکتا تھا۔

شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت الکثیب میں ہر جمعہ میں انبیا اور جنتیوں کا جب اجتماع کرتے ہیں تو اس وقت مالک الملک، شہنشاہِ مطلق، احکم الحاکمین اللہ تبارک و تعالیٰ اس میں اپنا نزولِ اِجلال فرماتے ہیں۔ تو جیسے اللہ تعالیٰ نزولِ اجلال فرماتے ہیں، ایسے ہی اللہ کا نمائندہ نبی یا خلیفۂ نبی یا اُس کا نائب، تو جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے اور وہ جب اپنے تخت پر نزولِ اِجلال فرمائے گا تو جنت الکثیب سے مماثلت ہوگی۔ اس لیے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی اتھارٹی ہے، ایسے ہی اُس کے نائب کی اتھارٹی بھی ہوتی ہے۔ وہ سیاسی طاقت بھی رکھتا ہے۔

آج کل یہ جو جمعہ کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات ہمارے محلوں کی مسجدوں میں ہوتے ہیں۔ یہ صرف اس زمانے کے لیے تھا کہ جب ہندوستان غلام ہوا۔ اس وقت علما نے اجازت دی تھی کہ غلامی کے زمانے میں جمعہ کی اجتماعیت کا مزاج باقی رہے۔ اس کی عادت نہ چھوٹ جائے۔ جامع مسجد میں ایسا صاحبِ استعداد عالم جمعہ پڑھائے، جو علمی استعداد بھی رکھتا ہو، سیاسی استعداد بھی رکھتا ہو اور اُس میں طریقت اور قلب کی ایسی توجہ بھی ہو کہ وہ اُس جنت الکثیب سے ربط پیدا کرکے انسانی دلوں کو کھینچ کر اُس کے ساتھ جوڑنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی رکھے۔ تاکہ ظاہری طور پر دنیا میں اگر خلافت یا حکومت اور دین کی سیاست نہیں بھی ہے تو احکم الحاکمین کی عدالت سے اُس کی روحانی سیاست کے اس دائرے سے لوگوں کو جوڑنے کی اہلیت اس میں ہو‘‘۔

جمعتہ المبارک کی اجتماعیت کے اثرات

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’آج کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ کوئی نوجوان مسجد میں نہیں آتا۔ عین اُس وقت جب عربی کا خطبہ شروع ہوتا ہے تو لوگ پہنچتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جمعہ کے خطبات میں ان کے مسائل سے متعلق گفتگو نہیں ہوتی۔ یا ضعیف حدیثوں کی بنیاد پر حور و قصور کے قصے ہوں گے، یا پچھلے ماضی کے فخر و مباہات کے قصے ہوں گے۔ یا اَور کسی طرح کی بے کار سی باتیں کہی جاتی ہیں۔ دین سکھانے، دین سمجھانے، اس کا شعور پیدا کرنے، فہم پیدا کرنے، جنت اور جہنم سے تذکیر و تذکر اور دینی سیاسی شعور کی بلندی کی طرف متوجہ کرنے اور اُن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کا علم عام طور پر خطیبوں کی گفتگو میں نہیں ہوتا۔ جب کہ جمعہ کے اجتماع کا اصل مقصد دلوں کو ذاتِ باری تعالیٰ سے جوڑنا اور تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔ اگر یہ نہیں، تو جمعہ کا اجتماع محض رسم ہے۔

معزز دوستو! جمعہ کے اجتماع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس اجتماع میں شریک ہونا، اور پھر اس اجتماع کے ذریعے سے اہم ترین بات سیکھنا، یعنی سات دنوں بعد ایک دن دینی علم کو سیکھنے کے لیے، اپنے قلب کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے وقت نکالنا لازمی اور ضروری ہے۔ اپنا کاروبار بند کردیں، اپنا دفتر بند کردیں، اپنے کام کاج بند کردیں اور جمعہ کے لیے آئیں۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب ایک جمعہ میں شرکا کے دل و دماغ میں انواراتِ الٰہیہ اُس اجتماع کی برکت سے پیدا ہوتے ہیں تو اگلے جمعہ تک اُن کا اثر رہتا ہے۔ اگلے جمعہ تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یا اُن گناہوں سے انسان بچتا ہے۔ (صحیح بخاری: 883) اُس نور کا اثر انسان کے ضمیر پر چوٹ لگاتا ہے کہ تُو غلط کام کر رہا ہے۔ بے شعوری کی بات کر رہا ہے۔ غلط بات کہہ رہا ہے۔ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ ایک آدھ دفعہ تو سمجھاتا ہے اور بہت ہی کوئی ڈھیٹ ہو تو وہ کہتا ہے کہ چھوڑو ضمیر ومیر کو اور اپنا غلط کام کرو۔ جمعہ کے نور کا یہ اثر اُسے غلط کاموں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب اگلا جمعہ آتا ہے تو آدمی دوبارہ گویا نورِ الٰہی سے چارج ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر مزید انواراتِ الٰہیہ کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ اس لیے نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جس نے لگاتار تین جمعے چھوڑ دیے، خطرہ ہے کہ اُس پر غفلت کی مہر نہ لگ جائے۔ (سنن ابوداؤد: 1052) وہ گویاکہ اُس نورانی اجتماع سے محروم ہوگیا۔ اور اُس کے اثرات اس کے دل پر نہیں آئے تو غفلت کی وجہ سے اُس کا دل کہیں بند نہ کردیا جائے کہ بھئی! تم اس سے آگے بڑھنے کی استعداد نہیں رکھتے۔ اس لیے جمعہ کے اجتماع کی اہمیت سمجھ کر اس کی پوری تیاری کرکے اللہ کو راضی کرنے، اللہ کی طرف متوجہ رہیں۔ اس لیے یہاں آنے کے بعد بھی گپ شپ نہیں ہونی چاہیے۔ خاموشی سے قلب کو ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں۔ اللہ کے دین کی باتیں سننے اور سمجھنے کی طرف اپنے آپ کو متوجہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جمعہ اور اس اجتماعیت کی قدر کرنے اور اس سے انواراتِ الٰہیہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘ (آمین!)۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم

حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ

سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔

1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔

15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...

 

متعلقہ مضامین

مؤمنانہ فراست کا تقاضا

عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …

مولانا ڈاکٹر محمد ناصرعبدالعزیز اگست 10, 2021

اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیے بغیر کوئی کامل نظام قائم نہیں ہوسکتا

یکم؍ اکتوبر 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز …

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری نومبر 18, 2021

غلبۂ دین کی نبوی حکمت عملی اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں

خطاب حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ (کہروڑ پکا میں بخاری چوک میں واقع جامع مسجد تالاب والی میں 14فروری 2009ء بروز ہفتہ کو عشاء کی نماز کے بعد سیرت النبی ﷺ…

مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری اکتوبر 14, 2021

اَحبار و رُہبان کی دین فروشی اور فاسد کردار

12؍ اگست 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: ’’معزز…

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری ستمبر 12, 2022