ستمبر،2023ء

ماہنامہ رحیمیہ

ستمبر،2023ء

ستمبر 07, 2023 8 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 8

فکری گمراہی کی و جہ سے عملی سیاست کا فساد

فکری گمراہی کی و جہ سے عملی سیاست کا فساد

سورۃ البقرہ کی گزشتہ آیات (97 تا 99) میں واضح کیا گیا کہ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے بنیادی حقائق میں سے ایک حضرت جبرائیل علیہ السلام کی تاریخی حقیقت کو ماننا ہے، جب کہ یہودیوں کی فکری گمراہی یہ تھی کہ انھوں نے جبرائیل امینؑ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر نازل کی جانے والی وحی کی وجہ سے انھیں اپنا دشمن قرار دے دیا تھا۔ اس طرح وہ ملتِ حنیفی کے بنیادی فکر و فلسفے کا انکار کرکے گمراہی میں مبتلا ہوئے۔

ان آیات (100-101) میں یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے فکر و فلسفے کے بنیادی حقائق سے انحراف کی عادت اپنا لیتی ہے تو اُس کی عملی اجتماعی اور سیاسی زندگی بھی اس ملت کے بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتی ہے۔ یہودی لوگ ملتِ حنیفی کے بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی کرکے سیاسی بدعہدی کے مرض کا شکار تھے۔ وہ اجتماعی اور سیاسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوتے تھے۔ اس بے یقینی اور بے علمی کی وجہ سے سیاسی ذلت و رُسوائی اور معاشی بھوک و اِفلاس کی حالت میں مبتلا تھے۔

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ(کیا جب کبھی باندھیں گے کوئی قرار (عہد) تو پھینک دے گی اس (عہد) کو ایک جماعت ان میں سے ):

انسانی معاشروں کی سیاسی، معاشی اور سماجی شیرازہ بندی انسانوں کے درمیان وجود میںآنے والے سماجی معاہدات(Social Contracts)سے عبارت ہوتی ہے۔ کسی معاشرے کے افراد آپس میں سیاسی اور معاشی معاہدے میں بندھے ہوتے ہیں۔ ایسے معاہدات کی پاسداری سے ہی قوموں کی سیاسی اور معاشی قوت وجود میں آتی ہے۔ عہد شکنی کی روایت اختیار کرنے سے اُس قوم کی عملی سیاست فیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کی ایسی ہی سیاسی، معاشی اور اجتماعی خرابی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی تاریخ اُٹھا کر دیکھو کہ جب بھی انھوں نے کسی فرد، قوم اور اجتماع سے کوئی معاہدہ یا عہد کیا تو ان کے مفاد پرست گروہ نے اسے پسِ پشت ڈال دیا اور اس سے روگردانی کی۔

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ لکھتے ہیں کہ: ’’ان کی یہ عادت قدیم ہے کہ جب اللہ، یا رسول، یا کسی شخص سے کوئی عہد مقرر کرتے ہیں تو انھیں میں (سے) کی ایک (مفاد پرست) جماعت اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے، بلکہ بہت سے یہودی ایسے ہیں، جو تورات پر ایمان نہیں رکھتے۔ ایسوں کو عہد شکنی میں کیا باک (روک) ہوسکتا ہے‘‘۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جو قوم عہد شکنی اور وفائے عہد کی قوت سے محروم ہوتی ہے، وہ کبھی سیاسیات میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ لوگ اُس جماعت پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ان کی عہد شکنی قدم قدم پر انھیں سیاسی ذلت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے): جب کسی قوم میں عہد شکنی کی یہ روایت پختہ ہوجاتی ہے تو اُن کے اکثر لوگ اپنے فکر و نظریے پر ایمان و اِیقان کی کیفیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اُن کی اکثریت اپنی خواہشات اور مفاد پرستی کے خلاف اپنے مانے ہوئے آئین، دستور اور کتاب کو حقیقت میں تسلیم نہیں کرتی۔ صرف ظاہری طور پر اُس پر ایمان کا اظہار کرتی ہے۔ حقیقی طور پر وہ یقین سے خالی ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کا یہی معاملہ تھا کہ اُن کی اکثریت ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی عظیم ترین کتاب تورات کے دستوری حقائق اور قانونی نظام پر یقین نہیں رکھتی تھی۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ(اور جب پہنچا ان کے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو اُن کے پاس ہے، تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہلِ کتاب سے): اب جب رسول اللہ ﷺ ملّتِ ابراہیمیہ کے بنیادی حقائق کے مطابق اللہ کی طرف سے ایسی کتاب لائے ہیں، جو یہودیوں کی کتاب یعنی تورات کی تعلیمات کی پوری طرح تصدیق کرتی ہے تو عادی عہد شکنوں کی بنی اسرائیلی جماعت اُسے بھی ماننے سے انکاری ہے۔ حال آں کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب تورات کے بنیادی اُصولوں اور حقائق کی تصدیق کرنے والی ایک اَور عظیم کتاب اللہ کی طرف سے قرآن حکیم کی صورت میں نازل ہوئی ہے اور اُس نے انھیں حکم دیا ہے کہ ملّتِ حنیفیہ کے بنیادی اُصولوں کو مضبوطی سے پکڑو اور جو انحرافات یا تغیر و تبدل تم نے کیے ہیں، انھیں چھوڑ دو تو انھوں نے اسے بھی پسِ پشت ڈل دیا۔ جب کہ انھیں کتابِ مقدس قرآن حکیم کی تعلیمات کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے تھا۔

كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘(کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے (کر دیا)، گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں): ان پر لازم تھا کہ وہ اجتماعی زندگی کے بنیادی معاہدات کو تسلیم کرتے اور اللہ کی کتابوں پر پوری طرح عمل کرکے اپنی فکری گمراہی کی خرابیوں کو دور کرتے اور اپنی سیاسی کمزوریوں کو دور کرکے ملّتِ حنیفی کی اَساس پر ایک نظام قائم کرتے، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی ہی کتاب تورات کو بھی کچھ اس طرح پسِ پشت ڈال دیا، گویا کہ وہ اس کتاب کو جانتے ہی نہیں ہیں۔

اب ایک طرف تورات پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسری طرف انھوں نے ان تعلیمات کو خلط ملط کردیا ہے۔ یہ لوگ فرشتوں اور ملائکہ کی جانب سے ہونے والی وحیٔ الٰہی اور انسان نما شیطانوں اور ابلیس کی سکھائی ہوئی باتوں کو باہم ملا کر تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس طرح اپنے زوال کے دور میں فکری گمراہی کے ساتھ ساتھ عملی سیاسی ذلت اور رُسوائی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

ان آیاتِ مبارکہ میں بنی اسرائیل کی فکری اور عملی خرابیوں کو بیان کرکے مسلمانوں کے سامنے یہ سوچ اور فکر واضح کی جا رہی ہے کہ وہ ملّتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اصل بنیادی عقائد و افکار اور تجلیات و انوارات اور عالم گیر فلسفہ و فکر کا شعور حاصل کریں، اُس پر پختگی کے ساتھ اپنے ایمان اور ایقان کو بڑھائیں اور اس حنیفی فکر کی اَساس پر معاہدات کی پاسداری، قانونی نظام کی پابندی اور دینی احکامات پر دل و جان سے عمل کرنے کی سیاسی، معاشی اور سماجی ذمہ داریوں سے پوری طرح عہدہ برآ ہوں۔

2 / 8

اچھے اور بُرے انسان کی پہچان

اچھے اور بُرے انسان کی پہچان

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ؛ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: خَیْرُکُمْ مَنْ یُرْجٰی خَیْرُہٗ وَ یُؤْمَنُ شَرُّہٗ، وَشَرُّکُمْ مَنْ لَّا یُرْجٰی خَیْرُہٗ وَلَا یُؤْمَنُ شَرُّہٗ۔ (الجامع للتّرمذی، حدیث 2263)

(سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں بہتر شخص وہ ہے، جس سے خیر کی اُمید رکھی جائے اور جس کے شر سے بے خوف رہا جائے اور تم میں سے بُرا شخص وہ ہے، جس سے خیر و بھلائی کی کوئی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے بے خوف نہ رہا جائے‘‘۔)

اس حدیث مبارک میں نبیﷺ نے ایک ایسے معتبر شخص کا تعارف کروایا ہے کہ جس کے اخلاق بلند ہوں اس کا معاملہ انسانوں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے۔ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں لوگوں کو یقین ہوجائے کہ اس کا ہر قول و عمل انسانوں کی بھلائی، ان کی عزت و آبرو، جان و مال اور انسانی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے۔ اور لوگوں کا کسی سے خیر کی اُمید قائم ہوجانااور اس کے شر سے بچنے کا یقین کر لینا‘ اس کے بہترین انسان ہونے کی دلیل ہے۔ ایسا شخص خود بھی قلبی اور ذہنی لحاظ سے پُرسکون رہتا ہے اور معاشرے کی بہتری کے لیے اچھی مثال بنتا ہے۔

عمدہ اخلاق ایسا اعلیٰ انسانی وصف ہے جو اس کو انسانوں میں معتبر کردیتا ہے، بداَخلاق لوگوں کو اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں غنیمت ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں، وہ اپنے کردار و عمل سے اپنے اردگرد لوگوں کو ایک اچھے انسان کی پہچان کا خاموش پیغام دیتے ہیں۔

نبیﷺ کا عمدہ خُلق ہی آپؐ کو تمام انسانوں میں معزز بناکر آپؐ کو اللہ کی طرف سے پُرشکوہ لقب رحمۃ لّلعالمین کا مستحق قرار دِلواتا ہے۔ قرآن حکیم نے آپؐ کے کردار و عمل کی جو سب سے بڑی سند دی وہ آپؐ کے خلق کا بہت بلند ہونا ہے۔ (سورۃ القلم، 4) اسی بنا پر دوست دشمن سبھی آپؐ کے حسن خلق سے متأثر تھے۔ احادیثِ مبارکہ میں شرپسند قوتوں یا مردم آزار لوگوں کے بارے میں ناپسندیدگی کے اِظہار اور مختلف تنبیہات ایک درست کرداروعمل کی راہ متعین کرتی ہیں۔

مادہ پرست نظام کے غلبے کی وَجہ سے دوسروں کو تکلیف دینے اور نقصان پہنچانے کا مرض اِنفرادی اور اجتماعی طور پر رواج پا چکا ہے۔ ایسے میں ضرورت یہ ہے کہ معاشرے میں باصلاحیت، بااخلاق اور اچھے رجحانات رکھنے والے لوگوں کی اجتماعیت پیدا کی جائے۔ ان کی تعلیم و تربیت کے ذریعے سے معاشرے میں اس سوچ کو عام کیا جائے کہ پورے معاشرے میں ایسے اخلاق کو غالب آنا چاہیے۔ اور وہ ایک عوامی زبان بن کر قوم کی حالت کو بدل دیں۔

3 / 8

پاکستانی نظام کا قانون کے نام پر کھلواڑ

پاکستانی نظام کا قانون کے نام پر کھلواڑ

جب ہم کسی ملک یا معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے یا زوال پذیر ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس میں ایک اہم ترین پیمانہ؛ معاشرے میں ایسے قانون کی حکمرانی کا ہے، جس کے ذریعے سے اس معاشرے میں موجود تمام افراد کے لیے آزادیٔ رائے، عدل، امن، معاشی خوش حالی کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہو۔ دوسرے یہ کہ ایسے قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا‘ یا قانون کو موم کی ناک بنانے کا رویہ ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی یعنی رُول آف لاء(Rule of Law)پر عمل کو مہذب معاشروں کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے وفاداری معاشرے کے ہر ایک فرد کو اس بات کی ضمانت فراہم کرتی ہے کہ اس معاشرے میں آزادی اور مساوات کے مواقع سب کے لیے یکساں ہیں۔ ایسے معاشروں میں عدل کے منصفانہ نظام کے ذریعے پُر اَمن طریقے سے سیاسی اختلافِ رائے کو حل کرلیا جاتا ہے۔ وہاں کا عدالتی نظام‘ عدل کے بنیادی اُصولوں کی روشنی میں قوانین کی تشریح‘ قانون کی روح کے مطابق کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی وہ بنیادی قانونی اصول ہے، جو ملک میں موجود تمام افراد، برادریوں، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے لیے مساوات اور جواب دہی کا تصور فراہم کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے تحت قانون سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ قانون پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سب افراد، ادارے اور جماعتیں قانون کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ ایک منصفانہ نظامِ حکومت میں کوئی ایک شخص، ادارہ، جماعت یا خود حکومت دوسرے سے زیادہ اہم یا قانون سے بالاتر نہیں ہوتی۔

آج دنیا میں ایسے ملک بھی ہیں، جہاں آئین، دستور اور قانون تو موجود ہیں، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہے، وہ مقتدر اور طاقت ور طبقوں کے ہاتھ میں موم کی ناک ہیں۔ انھیں وہ جب جس طرف چاہتے ہیں، موڑ دیتے ہیں۔ ان ملکوں کے قوانین طاقت ور کے سامنے مکڑی کا وہ جالا ہیں، جنھیں وہ جب چاہیں‘ توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان بھی اسی قبیل کے ملکوں میں شامل رہا ہے۔

ویسے تو پاکستان کی پوری تاریخ ہی آئین، دستور اور قانون سے مذاق اور کھلواڑ کی بدترین مثالوں سے بھری پڑی ہے، لیکن گزشتہ سال سن 2022ء میں رجیم چینج آپریشن کے نتیجے میں آنے والی حکومت اور ان کے سہولت کاروں کے ہاتھوں اس شیشے کے گھر پر جو سنگ باری ہوئی ہے، اس نے قانون کی بے توقیری کی سب حدیں پار کردی ہیں۔

اس حکومت کی پہلی بے اصولی تو اس ایوان کے حوالے سے تھی، جو حکومت کو قانون سازی کے لیے ایوان کے میرٹ کا تقاضا کرتا ہے، لیکن یہاں تو کوئی حقیقی اپوزیشن ہی نہیں تھی۔ اپوزیشن پارٹی ایوان سے باہر تھی اور منحرف ارکان کو جہاں حکومت گرانے کے لیے استعمال کیا گیا، اسی کو اپوزیشن تسلیم کرکے ایک مصنوعی پارلیمانی عمل کے ذریعے انھیں اپوزیشن کا کردار سونپ دیا گیا۔ نام نہاد ’تحریکِ عدم اعتماد‘ کے نتیجے میں جس پارٹی پر اپوزیشن کی ذمہ داری عائد ہوئی، اس نے اپنے غلط تخمینوں کے ذریعے بھان متی کی حکومت کو واک اووَر دے کر اپنی پارلیمانی ذمہ داریوں سے بھی انحراف کیا۔

پھر اس بھان متی حکومت نے وہ وہ کام کیے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک بدترین اضافہ ہیں۔ مثلاً پہلے تو اس حکومت نے نیب اور ایف آئی اے میں اپنے سمیت پورے حکومتی اتحاد پرقائم اربوں روپے کے کیسز ختم کروائے۔ پھر متعدد ترا میم کے ذریعے نیب اور ایف آئی اے کے دانت نکال کر اپنی مرضی کے افسران بھرتی کرکے ان اداروں کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کردیا۔ ایسے ہی دیگر متعدد اداروں کے قوانین میں ترامیم کرکے ان کے کردار کو اپنے سیاسی مقاصد میں سہولت کار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔

ہم انھی صفحات پر سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سیاسی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر سخت ناقد رہے ہیں، لیکن کسی سیاسی مخالف کو قوانین کی من پسند تشریح یا ترامیم کے سہارے دیوار سے لگانے کے عمل کی ہرگز حمایت نہیں کی جاسکتی۔ پی ڈی ایم حکومت نے جس طرح میڈیا کو لالچ اور اشتہارات، الیکشن کمیشن کو انتخابات کروانے میں ٹال مٹول، پارلیمنٹ میں قانون سازی، سپریم کورٹ کے ساتھ محاذ آرائی اور قوانین میں ترامیم کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا، وہ کسی بھی طرح آج کے جمہوری دور میں قابلِ ستائش نہیں۔ اس کا نقصان یہ ہو ا ہے کہ لوگ اس ملک کے مستقبل سے مایوس ہوکر اپنی دھرتی کو خیرباد کہنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

اس حکومت نے سپریم کورٹ سے ’’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء‘‘ کے نام پر قانون سازی کے ذریعے اس وقت محاذ آرائی شروع کردی‘ جب سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں صوبائی انتخابات میں تاخیر پر الیکشن کمیشن آف پاکستان(ECP)کے خلاف سوموٹو نوٹس لیا، لیکن حکومت نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے الیکشن سے راہِ فرار اختیار کرکے عدلیہ کے احترام کے بھاشن دینے والے سیاست دانوں نے عدلیہ کے وقار کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ ڈالی۔ یوں چیف جسٹس کے فیصلے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ دوسری طرف ایک سیشن جج سابق وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ کیس میں عدالتی پروسیجر کو روندتے ہوئے ایک فیصلہ سناتے ہیں تو اس کے فیصلے پر اگلے پانچ منٹ میں عمل در آمد شروع ہو جاتا ہے۔ چیف جسٹس کا فیصلہ کوئی پوچھتا نہیں اور ایک سیشن جج کے فیصلے پر سابق وزیراعظم جیل پہنچادیا جاتا ہے۔ شاید ایسے ہی موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا    ؎

خرد کا نام جنوں پڑ گیا ، جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

یہ وہ اپروچ ہے جس کے ذریعے قانون کو انصاف کے لیے نہیں، بلکہ اپنے عزائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لولی لنگڑی پارلیمنٹ نے جاتے جاتے جتنے قوانین کے بل پاس کیے ہیں، وہ بھی قانون کی اجتماعی روح سے خالی ہیں۔ پھر اسپیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے ترمیمی بلوں پر صدرِ پاکستان کے دستخطوں کے قضیے نے پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا سامان کردیا ہے۔           (مدیر)

4 / 8

مختلف اوقات اور حالات کی دعائیں(4)

مختلف اوقات اور حالات کی دعائیں(4)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

(نئے کپڑے پہننے کی دعائیں)

جب نیا کپڑا پہنے تو یہ دعائیں پڑھے:

(1)        ’’اللّٰہُمَّ ! لَکَ الْحَمْدُ کَمَا کَسَوْتَنِیْہِ _ و یُسمِّیْہ باسمہ _ أَسأَلُکَ خَیْرَہٗ و خَیْرَ مَا صُنِعَ لَہُ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ‘‘۔ (رواہ التّرمذی و أبو داؤد، مشکاۃ، حدیث: 4342)

(اے اللہ! تیرے لیے حمد و ثنا ہے جیسا کہ تُو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا _ ساتھ میں اس کپڑے کا نام لے _ ، میں تجھ سے اس کی اچھائی کا اور جس خیر و برکت کے لیے اسے بنایا گیا ہے، اس کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں اس کے شر سے اور جس شر کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)

(2)        ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَ أَتَجَمَّلُ بِہٖ فِی حَیَاتِی‘‘۔(رواہ التّرمذی و أحمد، مشکاۃ، حدیث: 4374)  (ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے لباس پہنایا، جس کے ذریعے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اس کے ذریعے میں اپنی زندگی میں خوب صورتی حاصل کرتا ہوں۔)

(کھانے اور پینے کی دعائیں)

جب کھانا کھائے اور پانی پئے تو یہ دعائیں پڑھے:

(1)        ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِن المُسْلِمِینَ‘‘۔(مشکاۃ: 4204) (ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔)

(2)        ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہٰذَا الطَّعَامَ، وَ رَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّۃٍ‘‘۔(رواہ أبو داود، حدیث: 4023) (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا۔)

(3)        ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَ وَ سَقٰی، وَ سَوَّغَہُ وَ جَعَلَ لَہُ مَخْرَجًا‘‘۔(رواہ أبوداؤد، مشکاۃ: 4207) (ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے کھانا کھلایا پلایا، اور اسے حلق سے اُترنے والا بنایا اور پھر اس کے نکلنے کی راہ بنائی۔)

(کھانا ختم کرنے کی دعا)

جب دسترخوان اُٹھایا جائے تو یہ دعا پڑھے:’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبُّنَا‘‘۔ (رواہ البخاری، مشکاۃ، حدیث: 4199)

(ہر قسم کی بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے، اے ہمارے ربّ! کفایت کی گئی ،نہ چھوڑی گئی، اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جائے۔)

(مسجد کی طرف جانے کی دعا)

جب مسجد کی طرف جائے تو یہ دعا پڑھے:’’اللّٰہُمَّ ! اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا، وَ اجْعَلْ فِی لِسَانِی نُورًا، وَ اجْعَلْ فِی سَمْعِی نُورًا، وَ اجْعَلْ فِی بَصَرِی نُورًا، وَ اجْعَلْ خَلْفِی نُورًا، وَ أَمَامِی نُورًا، وَ اجْعَلْ مِنْ فَوْقِی نُورًا، وَ مِنْ تَحْتِی نُورًا، اللّٰہُمَّ ! وَأَعْظِمْ لِی نُورًا‘‘۔(رواہ أبوداود، حدیث: 1353) (اے اللہ! تُو نور پیدا فرما میرے دل میں، نور عنایت فرما میری زبان میں، اور نور دے میرے کان میں، نور دے میری نگاہ میں، میرے پیچھے نور بنا، میرے آگے نور بنا، میرے اوپر نور کا سایہ فرما اور میرے نیچے نور فرما۔ اور اے اللہ! میرے لیے نور کو اَور بڑھا دے۔)

(مسجد میں داخل ہونے کی دعائیں)

جب مسجد میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے:

(1)        ’’أَعُوذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیمِ، وَ بِوَجْہِہِ الْکَرِیمِ، وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیمِ، مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ‘‘۔(مشکوۃ:، حدیث: 749) (میں شیطان مردود سے اللہ عظیم، اس کی ذات کریم اور اس کی قدیم بادشاہت و قدرت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں۔)

(2)        ’’اللّٰہُمَّ ! افْتَحْ لِی أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘۔(رواہ ابن ماجۃ، حدیث: 773)

                (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔)

(مسجد سے باہر نکلنے کی دعا)

جب مسجد سے باہر نکلے تو یہ دعا پڑھے:’’اللّٰہُمَّ ! إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ‘‘۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ، حدیث: 70) (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل چاہتا ہوں۔)

(بجلی کڑکنے اور گرج چمک کے وقت کی دعا)

جب بجلی کڑکنے، گرجنے اور چمکنے کی آواز سنے تو یہ دعا پڑھے:

’’اللّٰہُمَّ ! لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔ اللّٰہُمَّ إِنِی أعوذُ بِکَ مِن شَرِّہا‘‘،(رواہ الترمذی، مشکاۃ:1521) (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا، نہ اپنے عذاب سے ہلاک کرنا، اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت عطا فرمانا۔اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔)

(تیز آندھی چلنے کے وقت کی دعا)

جب تیز ہوائیں اور آندھی چلے تو یہ دعا پڑھے:          

’’اللّٰہُمَّ ! إِنِّی ! أَسْأَلُکَ خَیْرَہَا وَخَیْرَ مَا فِیہَا وَخَیْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا فِیہَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِہِ‘‘۔(متّفق علیہ، مشکاۃ، حدیث: 1513) (اے اللہ! میں اس (آندھی) کی خیر کا، اس میں جو خیر ہے اس کا، اور اس کے ساتھ جو بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے، اس میں جو شر ہے اس کا اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کے شر کی تجھ سے پناہ چاہتا ہوں۔)                       

(باب الأذکار و ما یتعلّق بھا)

5 / 8

خلافتِ بنو عباس؛ نظام و کارنامے

خلافتِ بنو عباس؛ نظام و کارنامے

خلافتِ بنو عباس کا زمانہ بھی خلافتِ راشدہ اور خلافتِ بنواُمیہ کی طرح خیر و برکت کا زمانہ تھا۔ ابتدا میں اسلام اور عربی رنگ غالب تھا، لیکن فتنوں کے ظہور اور متوکل علی اللہ کے قتل سے پہلے تک مملکت کا نظام اور نفاذ سراسر اِسلامی تھا۔ اسلامی قوانین کا اجرا و نفاذ، عدل و قضا کا قیام، امن و امان کی بحالی، ذِمیوں اور غیرمسلموں کے حقوق کی حفاظت، اسلام اور مسلمانوں کے حقوق اور عزت و ناموس کی نگہداشت، خصوصاً علومِ دینی و دُنیوی کی ترویج‘ مملکتِ عباسیہ کے تمام صوبوں اور علاقوں میں نمایاں تھے۔

امام شمس الدین ذہبیؒ نے خلافتِ عباسیہ کے ابتدائی دور کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: ’’اس زمانے میں اسلام اور مسلمان عزت و احترام کی اقدار سے پوری طرح مالا مال تھے۔ علم کی کثرت و تازگی تھی۔ ہر طرف جہاد کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ سنتوں کا رواج تھا۔ بدعات سرنگوں تھیں۔ حق و صداقت کی آواز بلند کرنے والے کثیر تعداد میں موجود تھے۔ عبادت گزار اور زاہدوں کی کثرت تھی۔ لوگ امن و امان اور خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ مغربِ اقصیٰ (مراکش) اور اندلس سے لے کر ہندوستان و حبشہ تک اسلام کی شان و شوکت کے مظاہر عام تھے۔ (تذکرۃُ الحُفّاظ، ج: 1، ص:224)

امام ذہبیؒ کے الفاظ اس دور کے حالات کا نقشہ کھینچ رہے ہیں کہ خلافتِ عباسیہ کا دور بنواُمیہ کی طرح اسلام کے حق میں کس قدر پُر بہار اور پُر شکوہ تھا، ہر طرف انسانی قدریں پوری تابانی و درخشانی کے ساتھ روشن و جلوہ گر تھیں۔ اسلامی قلم رَو کے تمام خطے اس کی آسائشوں اور برکتوں سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ نظامِ حکومت عادلانہ تھا، سماجی و معاشی اور سیاسی تمام شعبوں میں عدل و انصاف کی کار فرمائی تھی۔

خصوصاً علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کے حوالے سے دورِ بنو عباس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان سے پہلے خلافتِ راشدہ اور خلافتِ بنواُمیہ کے زمانے میں زیادہ تر توجہ فتوحات اور سلطنت کے انتظامی اُمور کی طرف تھی، لیکن خلافتِ عباسیہ میں خلفا کی توجہ جہاں سلطنت کے نظامِ عدل کی طرف تھی، وہاں علم و ادب خصوصاً سائنسی علوم کی ترویج و اشاعت کی طرف بہت زیادہ تھی۔ ہارون الرشید اور مامون الرشید کا دورِ خلافت اس کی نمایاں مثال ہے (جس پر ہم آئندہ شماروں میں بات کریں گے)۔

اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ علم و ادب کی ترقی کا آغاز دورِ بنواُمیہ میں ہوا اور اس کا نقطۂ عروج خلافتِ عباسیہ میں ہوا۔ علم و ادب کی وسعت اور انسانی اقدار کی آفاقیت و ہمہ گیری خلافتِ بنو عباس کا امتیاز و خصوصیت ٹھہری۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ بیان کرتے ہیں کہ: ’’اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ عباسیوں نے ایرانیوں اور عجمیوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے اسلام کے بین الاقوامی غلبے کے لیے عالمی نظام بنایا۔ چناں چہ اس دور میں عرب اور غیرعرب مسلمان مل کر حکومتیں قائم کرتے رہے‘‘۔ (کتاب شعور و آگہی)

6 / 8

کارپوریٹ فارمنگ کے ممکنہ اثرات

کارپوریٹ فارمنگ کے ممکنہ اثرات

حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی اب پچیس کروڑ نفوس سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس آبادی کی بنیادی ضروریات ادنیٰ طریقے سے بھی پوری کرنے کے لیے ملکی معیشت کو سالانہ بنیادوں پر کم از کم تین فی صد سے بڑھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہمیت زرعی پیداوار کے تسلسل کو حاصل ہے۔ اشیائے صَرف کی قدر میں اضافے کے عمل میں پہلا قدم دراصل زرعی پیداوار کا ہی ہوتا ہے۔

ہماری نااہلی اور ناکامی کی طویل فہرست میں زرعی شعبے سے متعلق جدید تکنیکی اور تحقیقی عمل کا فقدان ہمیں خوراک کی مستقل عدمِ فراہمی کا شکار کرچکی ہے۔ چناں چہ بڑی اجناس میں پاکستان کی پیداواری اوسط دنیا کی اوسط کے نصف سے بھی کم ہے۔ صرف گندم کو ہی لے لیجیے جس میں ہماری کارکردگی قدرے بہتر ہے۔ اس میںپاکستان کی اوسط قریباً ایک ٹن اور ہمارے ہمسایہ ملک چین کی دو ٹن فی ایکڑ ہے۔

ہماری نااہلی کا یہ قصہ اب ایک دہائی پر محیط ہے اور آج ہماری خوراک کی صورت میں درآمدات سولہ ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ یاد رہے یہ ایسی درآمدات ہیں جنھیں روکا نہیں جاسکتا۔ لوگ چائے کی درآمدات کا کہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مد میں سالانہ پچاس کروڑ ڈالر ادا کیے جاتے ہیں۔ اگر سارا پاکستان چائے پینا چھوڑ بھی دے پھر بھی ہماری درآمدی ضرورت ٹس سے مس نہیں ہوگی۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان2022ء تک سالانہ بنیادوں پر آٹھ ارب ڈالرکے لگ بھگ اپنے بیرونی قرض میں اضافہ کررہا تھا۔ اگر ہم نے زرعی شعبے سے یہ بے اعتنائی نہ برتی ہوتی تو شاید آج ہم پر اس قدر قرض نہ ہوتا اور ہماری بقا کو لاحق خطرات نسبتاً کم ہوتے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری مقتدرہ نے اس پہلو پر سوچنا شروع کردیا ہے، لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں بھی ٹیکنوکریٹس کے روپ میں عادی سرمایہ داروں نے وہ حل پیش کیا ہے جو یورپ اور امریکا اپنی معیشتوں میں عرصہ ہوا متعارف کروا چکے ہیں ۔ وہاں شہری آبادیوں میں بے پناہ اضافے اور زرعی پیداوار میں کمی کے خطرات کی وجہ سے کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ اور آسان شرائط پر قرضے اور سبسڈی پر آلات کی فراہمی نے زرعی پیداوار کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کردیا اور دنیا کارپوریٹ فارمنگ کے ثمرات سے متعارف ہوئی۔ اس کے برعکس پاکستان جیسے ملکوں میں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ یہاںایک بہت بڑی آبادی اس شعبے سے وابستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے سے موجود افرادی قوت کی تکنیکی و فنی مہارت میں اضافے کی حکمتِ عملی بنائی جائے، نہ کہ انھیں ایک مشکل مقابلے سے دوچار کردیا جائے، جہاں سب سے بڑا چیلنج انگریزی میں لکھے قوانین اور شنوائی کے لیے کمزور مقامی عدالتیں و انتظامیہ جو کارپوریٹ فارمنگ کے لبادے میں مقتدر قوتوں کی فرنٹ کمپنیوں سے کسان کے لیے حق لینے سے قاصر ہی رہیں گی۔ خلیجی ممالک نے اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، ایسے میں حکومت کے ذمے زمین اور پانی کی فراہمی ہوگا اور بیرونی سرمایہ کار کی جانب سے سرمایہ اور تکنیکی مہارت متعارف کروائی جائے گی۔ 

ایسے میں جب ہمارا کسان اس حوالے سے پیچھے رہ گیا ہے تو ایک حد تک نئی تکنیک و مہارت بہرحال ہمیں فائدہ دے گی اور ہماری ملکی پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گی لیکن اس کے بدلے میں ہمارا کسان کتنا منظم ہوتا ہے اور اسے مقابلے کے لیے کتنا ہموار میدان ملتا ہے یہ ابھی دیکھنا باقی ہے ۔ کیوں کہ ہمارا قصہ تو یہ ہے کہ ہم طاقتور سے اپنا پانی تک تو چھڑوا نہیں سکتے یہ کارپوریٹ سیکٹر میں بدیشی زبان اور قوانین کے ہوتے ہوئے معلوم نہیں کسان کیسے فائدہ اٹھائیں گے؟

7 / 8

جدہ امن کانفرنس

جدہ امن کانفرنس

یوکرین کے بحران پر دو روزہ مذاکرات 5 تا 6؍ اگست 2023ء بروز ہفتہ اتوار کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہوئے۔ جہاں شرکا نے امن کے لیے مشترکہ بنیاد بنانے کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ سعودی وزیرِ مملکت اور قومی سلامتی کے مشیر مصدق بن محمد العیبان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چین اور اقوامِ متحدہ سمیت 40 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے سیکیورٹی مشیروں اور نمائندوں نے شرکت کی۔ یوکرین کے موجودہ صدر زیلنسکی نے اپنے امن فارمولے کا اعلان نومبر 2022ء میں 20 بڑی معیشتوں کے گروپ کے دو روزہ سربراہی اجلاس منعقدہ نوسا، دعا ،بالی، انڈونیشیا(Nusa Dua, Bali, Indonesia)میں 15 تا 16؍ نومبر 2022ء میں کیا تھا۔ پلان میں مطالبہ دس نکات کی شکل میں کیا گیا تھا:

1۔ تابکاری اور نیوکلیئر سیفٹی: یوکرین میں یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ زیپو ریزیا(Zaporizhzhia)کے ارد گرد حفاظت کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے ، جو اَب روس کے زیرِ قبضہ ہے۔2۔ خوراک کی حفاظت: بہ شمول یوکرین دنیا کے غریب ترین ممالک کو اناج کی برآمدات کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ 3۔ توانائی کی حفاظت: روسی توانائی کے وسائل پر قیمت کی پابندیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ یوکرین کو اس کے پاور انفراسٹرکچر کو بحال کرنے میں مدد کرنا، جس میں سے نصف کو روسی حملوں سے نقصان پہنچا ہے۔ 4۔ تمام قیدیوں اور جلاوطن افراد کی رہائی: بہ شمول جنگی قیدی اور روس بھیجے گئے بچے شامل ہیں۔ 5۔ یوکرین کی علاقائی سا  لمیت کی بحالی: اور روس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اس کی تصدیق کی، جس کے بارے میں زیلنسکی نے کہا کہ ’’مذاکرات پر منحصر نہیں ہے‘‘۔6۔ روسی فوجیوں کا انخلا اور دشمنی کا خاتمہ: روس کے ساتھ یوکرین کی ریاستی سرحدوں کی بحالی۔ 7۔ انصاف: جس میں روسی جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی ٹریبونل کا قیام بھی شامل ہے۔8۔ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام: ماحولیات کے تحفظ کو بحال کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت کے ساتھ پانی کی صفائی کی سہولیات فراہم کرنا۔9۔ تنازعات میں اضافے کی روک تھام اور یورو - اٹلانٹک خلا میں حفاظتی ڈھانچے کی تعمیر: بہ شمول یوکرین کے لیے ضمانتیں۔ 10۔ جنگ کے خاتمے کی تصدیق: جس میں شامل فریقین کی دستخط شدہ دستاویز بھی شامل ہے۔

کانفرنس کا انعقاد کرکے امریکا نے کوشش کی کہ سعودی عرب جو امریکی اثر و رسوخ سے نکل کر خطے کی طاقتوں کے ساتھ مل کر مستقبل کے فیصلے کر نے کی طرف پیش قدمی کرنے لگا ہے، اس کے گرد دائرہ تنگ کیا جائے۔ اسے اس کردار سے روکا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں اتنی تعداد میں نمائندوں کو جمع کرکے اپنی سیاسی قوت کا اظہار کیا ہے۔

یوکرینی صدر نے تنازعے کی بنیادی وجہ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ حال آں کہ نیٹو جانتا ہے کہ جنگ کیوں شروع ہوئی؟ یوکرینی صدر کے پیشِ نظر یہ بات رہنی چاہیے تھی۔ یہ جتھہ یوکرین کو جو انتہائی مہنگے جنگی آلات فراہم کررہا ہے، ا س کا اس کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔

یو کرینی صدر کا فارمولا جس سیاسی سوچ کا مظہر دکھائی دیتا ہے، وہ نہ تو جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے اور نہ ہی تنازعہ ختم کرنے کا کسی قسم کا کوئی عندیہ ظاہر کر رہی ہے۔ منصوبے میں بعض مطالبا ت جنونی قسم کے ہیں۔ گویا جنگ ہار کر بھی جیتنے کی معصومانہ خواہش کی گئی ہے۔ روس نے یوکرین کے علاقوں کو جس طرح ساتھ ملایا ہے، وہ ان کو کسی قیمت پر واپس نہیں کرے گا۔ نیٹو نے اپنے تمام وسائل جس طرح جنگ میں جھونکے تھے، اس کا مطلب تو روس کو شکست سے دوچار کرنا تھا، لیکن جنگ روس جیت رہا ہے۔ لہٰذا فیصلے جیتنے والے کی مرضی سے ہوتے ہیں، ہارنے والے کی تمناؤں اور خواہشات کے مطابق نہیں ہوتے۔ جنگ بندی کا مطالبہ روس کی طرف سے نہیں آیا۔ جو کیمپ مطالبہ کررہا ہے، اسے پیچھے ہٹنا ہے اور اپنی جان بخشی کروانا ہے۔

ہارنے والوں کے غرور اور تکبر کی حالت یہ ہے کہ افریقا کا جو گروپ امن منصوبہ لے کر آیا تھا، اسے جس طرح بے وقعت کرکے واپس بھیجا تھا، وہ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ تھا۔ لہٰذاجس قسم کا منصوبہ پیش ہوا ہے، اس پر مِن و عَن عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ روس نے جو فتوحات اور کامیابیا ں سمیٹی ہیں، وہ ان سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کامیابیوں میں یوکرینی فوجوں اور مغربی طاقتوں کا بھی عمل دخل اور فوجی کردار شامل ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔

یوکرینی صدر نے جو اپنا 10نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، اس میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجوں کا انخلا اور یوکرینی سرحدوں کی بحالی کو یقینی بنانے اور روس پر جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان نکات پر جدہ کانفرنس میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن شریک نمائندوں میں آلہ کار ممالک کے علاوہ مخا لف فریق میں سے کسی نے حمایت نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ زیلنسکی کا کہناتھا کہ یہ کانفرنس کامیا ب ہوئی ہے اور آئندہ سربراہان کو منصوبے میں شریک کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ جب کہ روس نہ تو خود شریک ہو ا اور نہ ہی اس کے کسی حمایتی نے ان نکات کی حمایت کی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اب یورپ میں یہ بازگشت سنائی دینے لگی ہے کہ یوکرین میں کون سے افراد کے نام یوکرینی صدر کے متبادل کے طور پر موزوں ترین ہوں گے؟ یورپ کا کہنا ہے کہ یوکرین کو دیے گئے ہتھیاروں کو روس نے تباہ و برباد کردیا ہے۔ امریکا جنگ ہار رہا ہے۔ زیلنسکی کے غائب ہونے کے نتیجے میں کو ن اس کی جگہ لے گا؟ اگر کوئی بھی جگہ لیتا ہے تو یہ روس کی فتح ہے ،لیکن زیلنسکی کی جگہ لینے والا امریکی نہیں ہونا چاہے۔ کیوں کہ اس سے جنگ ختم نہیں ہوگی، بلکہ مزید سازشیں جاری رہنے سے خطہ مستقل جنگ کی آماج گاہ بنا رہے گا۔

8 / 8

زنگ آلود دِلوں کی صفائی اور ترقی میں ذکرُ اللہ کی اہمیت

زنگ آلود دِلوں کی صفائی اور ترقی میں ذکرُ اللہ کی اہمیت

4؍ اگست 2023ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے جامعہ تعلیم القرآن، ریلوے مسجد، ہارون آباد، ضلع بہاولنگر میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:

’’دنیا کے قیام کا بڑا بنیادی سبب حضرت انسان ہے اور انسان کا اس دنیا میں قائم رہنے کا ذریعہ اور سبب کتابِ مقدس قرآن حکیم کی وہ تعلیمات ہیں، جو اللہ سے ہمارا تعلق قائم کرتی ہیں۔ وہ ہمیں اس کائنات کے مرکز اور محور خانۂ کعبہ سے جوڑتی ہیں۔ وہ اس پوری دنیا کا ایسا مرکز ہے، جس کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ کے انوارات اور فیوضات و برکات پورے کرۂ ارض کے انسانوں کے دل و دماغ پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اللہ پاک نے خانۂ کعبہ کو ’’انسانیت کے لیے بنایا گیا پہلا گھر‘‘ فرمایا ہے۔ (-3 آلِ عمران: 96) انسان دنیا میں جہاں بھی پھیل جائے، جب بھی اپنی اصل فطرت کی طرف متوجہ ہوگا تو اُس کا دل خانۂ کعبہ کی طرف کھنچے گا۔ اس سے پہلے انسان کا اصلی گھر جنت تھا۔ خانۂ کعبہ انسان کو اُس جنت کے اصل گھر کی یاد دلانے کے لیے واسطہ ہے۔

اسی طرح مدینہ منورہ بھی انسانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لیے کہ یہاں جبرئیل امین علیہ السلام جو وحی لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ کے قلبِ اطہر پر اُسے نازل کیا، اُس کا ایک خاص رشتہ اور ایک تعلق ہے۔ اُس تعلق کی وجہ سے مدینہ کے اندر بھی ایک خاص کشش پائی جاتی ہے۔ کتابِ مقدس قرآن حکیم دنیا میں اس لیے نازل ہوئی ہے کہ انسانی دلوں کو مشرکینِ مکہ کے شرک اور کفر و ظلم کے نظام کی وجہ سے جو زنگ چڑھ چکا تھا، اُسے صاف کیا جائے۔ ایسے انسانوں کی اصل انسانیت بحال کی جائے، تاکہ اپنے مرکز کی طرف اُن کا کھنچاؤ اور جذب صحیح ہوجائے۔ انسانی دل زنگ آلود ہوچکے ہیں، کھنچ نہیں رہے۔ مقناطیس تو اپنی طاقت سے انسانی دلوں کو کھینچتا ہے، لیکن لوہے میں لوہے کی بات نہ رہے، زنگ آلود ہو تو وہ کیسے کھنچے گا؟ اسی طرح خانۂ کعبہ کے انوارات تو انسانیت کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، لیکن انسانی دل، جن پر گناہوں، ظلم و کفر، شرک، انسانیت دشمنی، بداَخلاقی، انسانوں کو نقصان پہنچانے، حسد، کینہ اور بغض عداوت کا زنگ چڑھ جاتا ہے، ان کو قرآن حکیم کی تعلیمات صاف و شفاف کردیتی ہیں۔

ہر چیز کا ایک ریگ مال ہوتا ہے، جو اُس کی صفائی، زنگ آلودگی کو ختم کرتا ہے۔ انسانی دلوں کا ریگ مال ذکرُ اللّٰہ (اللہ کا ذکر) ہے۔ قرآن حکیم بھی ذکر اللہ ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ہم نے آپؐ پر ایک ذکر نازل کیا ہے، جو دلوں کو صیقل کرتا ہے، صفائی کرتا ہے۔ یہ ذکر اور وحی بڑے واضح دلائل کے ساتھ، بہت دو ٹوک تحریر، کتاب اور معاہدے کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ رسول اللہؐ کے قلبِ اطہر پر نقش ہوا ہے۔ پھر صحابہؓ کے قلوب پر نقش ہوا ہے اور آج تک سینوں سے سینوں میں نقش ہوتا چلا آرہا ہے‘‘۔

خانۂ کعبہ کی مرکزیت اور انسانیت کے لیے اس کے انوارات

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’پچھلے دنوں دنیا کے کچھ محققین نے تحقیق کی ہے کہ مسلمانوں کا انسانیت اور کرۂ ارض پر بڑا اِحسان ہے۔ مسلمان نہ ہوتے تو یہ زمین، یہ انسانیت تباہ و برباد ہوجاتی۔ کیوں کہ مسلمان جب خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتا ہے، تو حجرِ اسود اور کعبہ سے ایسی نورانی اور مقناطیسی شعاعیں پھوٹتی ہیں، جو پورے کرۂ ارض کا احاطہ کرلیتی ہیں۔ اگر طواف ایک لمحے کے لیے بھی رُک جائے تو یہ شعاعیں نکلنی بند ہوجائیں۔

انسانی قلب کا خانۂ کعبہ کی عمارت اور حجرِ اسود کے ساتھ ایک ایسا رشتہ ہے کہ انسان اس کا مسلسل طواف کرتا رہتا ہے، جس لمحے طواف رُکتا ہے تو نماز پڑھتا ہے اور اپنے دل کو خانۂ کعبہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اُس کے نتیجے میں خانۂ کعبہ سے تہہ بہ تہہ شعاعیں اور مقناطیسی لہریں نکلتی ہیں، جس سے پوری کائنات ریچارج ہوجاتی ہے۔ اُس میں نئے سِرے سے توانائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر یہ چارجنگ رُک جائے تو کرۂ ارض بھی فارغ ہوجائے۔ انسان بھی انسان نہ رہیں، کچھ اَور بن جائیں اور قیامت آجائے۔

انسانی دل، خانۂ کعبہ اور حجرِ اسود کا آپس میں ایکشن ری ایکشن ہوتا ہے، یعنی انسان ان کی طرف توجہ کرے گا تو وہاں سے نورانی لہریں آئیں گی، اگر توجہ ہی نہ کرے تو وہ نہیں آئیں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین تک ایک نور کی رسّی پھینک رکھی ہے، جو آدمی اس کو مضبوطی سے پکڑ لے گا، وہ کامیاب ہوگا، وہ صحیح انسان بنے گا۔ اور جو نہیں پکڑے گا، وہ انسان نہیں ہے، وہ اس کرۂ ارض کا فضلہ ہے۔ یہ نور کی رسّی اسی خانۂ کعبہ میں ہے۔ اس لیے ایک مسلمان سے کہا گیا کہ اگر وہ خانۂ کعبہ کے قریب نہیں ہے، طواف نہیں کرسکتا تو اپنے اپنے علاقے میں کم از کم پانچ وقت خانۂ کعبہ کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کرے، اس میں خانۂ کعبہ کی شعاعیں پڑیں اور اُس کو زندگی عطا کریں اور اُس کو انسان بنائیں۔ اس لیے نمازی انسان‘ حقیقی انسان ہوتا ہے۔ جو نماز نہیں پڑھتا تو ظاہر ہے وہ انسانیت سے دور چلا گیا۔

اس لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھیں گے کہ نماز پڑھی تھی؟ یعنی اُس مرکز سے تعلق قائم کیا تھا، جہاں سے تمھاری انسانیت برقرار ہونی تھی؟ پھر اس نماز کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوال ہوگا کہ کیا نماز پڑھنے کے نتیجے میں تمھارے دلوں پر یتیم، مسکین اور غریب کے مسئلے حل کرنے کے جو اثرات مرتب ہونے چاہئیں تھے، وہ بھی پیدا ہوئے تھے کہ نہیں؟ نماز تو پڑھی، لیکن عدل و انصاف کا انکار کیا، مسکینوں اور یتیموں کے حقوق ادا نہ کیے تو وہ نماز کس کام کی؟ قرآن حکیم میں جہاں بھی نماز کا ذکر آیا ہے، ساتھ ہی زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگی، جب تک کہ دوسرے انسانوں پر خرچ کرنے کے لیے انسان زکوٰۃ اور صدقات نہیں دیتا۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں‘‘۔

غلبۂ دین اور اس کی حفاظت کا جماعتی نظام

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قرآن حکیم کی حفاظت کی ذمہ داری سے مراد یہ ہے کہ جیسے جبریل علیہ السلام نے بہت ہی محفوظ طریقے سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلبِ اطہر پر اسے نازل کیا تھا، ایسے ہی بڑی حفاظت کے ساتھ آپؐ نے اپنے سینے سے حضرات ابوبکرؓ، عمرؓ،عثمانؓ اور علی المرتضیٰؓ کے سینوں ور دیگر صحابہ کرامؓ کے دلوں میں پوری طرح مِن و عَن منتقل کر دیا۔

شاہ ولی اللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ دین کی حفاظت کا کام ہر نبی کے نائبین اور خلفا کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہر نبی کے ’’حواریّین‘‘ (مخلص نائبین) ہوتے ہیں، میرے بھی حواری ہیں، اس سلسلے میں آپؐ نے چند صحابہ کرامؓ کا نام بھی لیا۔ (ترمذی: 3745) یہ لوگ دین کی حفاظت کے لیے پورے خلوص کے ساتھ اپنے نبی کے مشن کو ہر حال میں برقرار رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سینے رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے صاف شفاف ہوئے اور انھوں نے آگے چل کر وہی کام کیا جو آپؐ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کیا۔

اس لیے آپؐ نے فرمایا کہ: ’’خبردار! میرے صحابہ کے بارے میں زبان درازی مت کرنا، جو اِن سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا، جو اِن سے محبت رکھے گا وہ مجھ سے محبت رکھے گا‘‘۔ (ترمذی: 3862) صحابہ کرامؓ دین کے غلبے کے لیے کام کرنے والے حواری ہیں۔ صحابہؓ سے بغض ہو اور کسی ایک صحابی کو من چاہی بنیادوں پر مان لیا جائے اور باقی صحابہ کا انکار کر دیا جائے تو یہ در اصل رسول اللہ ﷺ کا انکار ہے۔

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ نہ صرف صحابہ کرامؓ، بلکہ ان کے بعد تابعینؒ نے بھی قرآن حکیم کے نور اور نبی ﷺ کے مشن کو سینوں سے سینوں میں منتقل کیا ہے۔ چناں چہ ترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ کے شاگرد عطا بن ابی رباحؒ اور طاؤسؒ تھے۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے صحبت یافتہ اسود بن یزیدؒ، علقمہ بن قیسؒ، ابراہیم نخعیؒ، امام اعظم امام ابو حنیفہؒ، اسی طرح حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عمرؓ کے تربیت یافتہ سعید بن مسیبؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ، امام بخاریؒ وغیرہم تک علومِ قرآنی منتقل ہوئے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت تک ہمیشہ ایک جماعت حق پر برقرار رہے گی (مسلم: 4950) ، جو حفاظتِ قرآنی کا کام کرے گی۔ قیامت تک ایسے انسان ہر دور میں پیدا ہوتے رہیں گے جو قرآن کی حفاظت کریں گے، اس کو سمجھیں سمجھائیں گے، اس کا عملی نظام قائم کریں گے۔ یہی وہ سلسلہ ہے جو حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ تک منتقل ہوا۔ آپؒ نے دار العلوم دیوبند قائم کیا۔ اسی کی اساس پر مدارس و مکاتب کا یہ سلسلہ قائم ہوا، دروسِ قرآن کے سلسلے شروع ہوئے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ نے مکاتبِ قرآن کے طریقے اور اس کے منہج طے کیے۔ اسی کی اساس پر دورہ ہائے تفسیر کے حلقے قائم ہوئے، جس کا بنیادی مقصد اس نورِ الٰہی کتابِ مقدس کی حفاظت تھا۔ آج بھی اگر یہ مقصد پیش نظر ہے تو انبیا کی وراثت ہے اور اگر یہ نہیں ہے تو محض رسم اور مفادات اٹھانا ہے‘‘۔

دین کی حفاظت مسلمانوں کے ذمے ایک فریضہ ہے

حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:

’’دین کی ذمہ داری کوئی پیشہ یا کاروبار نہیںہے۔ دین منتقل کرنا ایک فریضہ ہے۔ ہر طالبِ علم سمجھے اور قرآن حکیم کو اسی طرح مِن و عَن سیکھے کہ جیسے اُس کی تعلیمات رسول اللہ ﷺ، صحابہؓ اور تابعینؒ سے منتقل ہوتی آرہی ہیں، اُسی طرح سمجھ گیا اور اُسی کے مطابق آگے دعوت دینے، منتقل کرنے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تب تو وہ سچا طالبِ علم ہے۔ اور اگر ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا، تو یہ طالبِ علمی نہیں ہے۔

صلاحیت پیدا کرو، علم کو سمجھو، کسی علم میں دین و دنیا کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ایک ڈاکٹر بھی انسانیت کی خدمت کی نیت سے کام کرتا ہے تو یہ بھی ایک انسانی خدمت سرانجام دیتا ہے، دینی کام ہے۔ ایک پروفیسر بھی، ایک انجینئر بھی، ایک کمپیوٹر کا ماہر بھی، ہر فرد جو اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرتا ہے، تو گویا کہ وہ فریضہ ادا کر رہا ہے۔

حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے کو پسند کرتا ہے کہ جو اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرے۔ غیر ماہر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ دین کا علم بھی اچھی طرح پوری مہارت سے حاصل کریں۔ اُس کی مہارت آپ کے عمل، کردار، آپ کے اجتماع اور نظام سے واضح ہو۔ ورنہ تو بس زبان سے قرآن پڑھ لیں اور اُس پر عمل نہ کریں، محض زبان کے حافظ قرآن ہوں، تو وہ نتیجہ کیا پیدا کرے گا؟

حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں نے خواب دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انھوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ ۔۔۔ مجھے ایسے شخص کے پاس لائے جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا۔ جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جا کر اٹھا لاتا۔ ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہو جاتا۔ بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا۔ واپس آ کر وہ پھر اسے مارتا۔ ۔۔۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو انھوں نے کہا: ۔۔۔ وہ ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اسے یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا‘‘۔ (صحیح بخاری: 1386) 

جو قرآن حکیم پر عمل کرے گا، اُس کے اور اُس والدین کے پاؤں کے نیچے فرشتے پر بچھاتے ہیںا ور جو عمل نہ کرے، قرآن فروشی کرے تو اُس کے لیے پتھر والا فرشتہ تیار ہے۔ اس لیے دونوں باتیں (ثواب اور عذاب) سامنے رکھ کر اپنی نیت درست کریں، اپنے آپ کو درست کریں تو یقینا اس نورِ الٰہی سے ہم سب فیض یاب ہوں گے۔ اور اگر ہمارے اَخلاق درست نہ ہوئے، ہماری صلاحیت صحیح نہ ہوئی، تو بڑا ڈر ہے کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن حکیم کے ساتھ سچی وابستگی اختیار کرنے اور اس کے مطابق کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ (آمین!)

شمارہ ختم

واپس