بنی اسرائیل کی اجتماعی تربیت کے اُمور

وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ وَأَنزَلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ ۖ كُلوا مِن طَيِّباتِ ما رَزَقناكُم ۖ وَما ظَلَمونا وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ
(اور سایہ کیا ہم نے تم پر اَبر کا اور اُتارا تم پر مَن اور سلویٰ۔ کھاؤ پاکیزہ چیزیں، جو ہم نے تم کو دیں۔ اور انھوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا، بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔)
گزشتہ آیات میں یہ واضح کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی اَخلاقی تربیت کے لیے بڑی کوشش کی۔ یہ تذکرہ آیت نمبر 49 سے لے کر آیت نمبر 56 تک کیا گیا ہے۔ زیرنظر آیت سے ان کی اجتماعی تربیت سے متعلق اُمور کا بیان ہے۔
وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں ایک بڑا صحرا آتا ہے۔ اس صحرائی زندگی میں بنی اسرائیل کی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے کیا گیا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ فرماتے ہیں: ’’جب فرعون غرق ہوچکا اور بنی اسرائیل بحکمِ الٰہی مصر سے شام کو چلے تو جنگل میں اُن کے خیمے پھٹ گئے۔ گرمی آفتاب کی ہوئی تو تمام دن ابر رہتا اور اناج نہ رہا تو مَن و سلویٰ کھانے کے لیے اُترتا‘‘۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے انسانی معاشرے کی اجتماعی ترقی کے چار ارتفاقات بیان کیے ہیں۔ تہذیب ِشخصی کے ساتھ پہلی اجتماعیت صحرائی زندگی سے شروع ہوتی ہے۔ انسان کو اس مرحلے پر گرمی سردی سے بچاؤ کے طریقے سوچنے پڑتے ہیں اور کھانے پینے سے متعلق اُمور اختیار کرنے ہوتے ہیں۔ فرعون کی غلامی سے آزادی کے بعد بنی اسرائیل کی تربیت کا مرحلہ شروع ہوا تو انھیں صحرائی زندگی سے متعلق اُمور سکھانا ضروری تھے۔ چاروں طرف گرمی اور دھوپ کی موجودگی میں جہاں بنی اسرائیل کے افراد کا اجتماع ہوتا، وہیں ایک بادل اُس اجتماع پر سایۂ فگن ہوتا۔ اس طرح غلامی کے زمانے میں جو انفرادیت اُن میں پیدا ہوچکی تھی، اُسے دور کرکے اجتماع میں رہنے کی صلاحیت اور استعداد اُن میں پیدا کی گئی۔ انفرادیت کی صورت لیے ہوئے انسان آپس میں لڑتے بھڑتے ہیں۔ غلامی کے زمانے میں اُن کی عادات ایسی ہی تھیں۔ یہاں انھیں اکٹھے رہنے کے طور طریقے سکھانے کا انتظام کیا گیا۔ کسی قوم کا اس طور پر اجتماعی زندگی کا خوگر ہونا‘ بہت بڑا اِنعام ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل پر ہوا۔
وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی: اجتماعی زندگی میں اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ کھانے پینے کا نظام افراد کی اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے کے طور پر وجود میں آئے۔ انفرادی مفادات کے لیے ذخیرہ اندوزی، اجتماعی نظام کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ بنی اسرائیل پر یہ بھی انعام ہوا کہ اُن کے کھانے پینے کی ضروریات کا اجتماعی نظام من و سلویٰ کی صورت میں کیا گیا۔ من و سلویٰ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت شیخ الہندؒ لکھتے ہیں: ’’مَن‘‘ ایک چیز تھی شیریں، دھنیے کے سے دانے، ترنجبین کے مشابہ، رات کو اوس میں برستے، لشکر کے گرد ڈھیر لگ جاتے۔ صبح کو ہر ایک اپنی حاجت کے موافق (وہاں سے) اٹھا لیتا۔ اور ’’سَلوٰی‘‘ ایک پرندہ ہے جس کو بٹیر کہتے ہیں۔ شام کو لشکر کے گرد ہزاروں جمع ہوجاتے۔ اندھیرا ہوئے بعد پکڑ لاتے، کباب کر کے کھاتے۔ مدتوں تک یہی کھایا کیے‘‘۔ اس طرح صحرا کی سادہ زندگی میں بنی اسرائیل کے پورے اجتماع کے لیے یکساں طور پر کھانے اور پینے کا نظام اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بنایا گیا۔ اس صورت میں جو کچھ من و سلویٰ جمع ہوتا، ہر آدمی اپنی ضرورت اور حاجت کے مطابق اُس میں سے لے لیتا۔ حاجت سے زائد جمع کرنے کی ممانعت کی گئی تھی۔ گویا عدل و انصاف کا ایک اجتماعی نظام بنایا گیا، جس سے تمام لوگ مجموعی طور پر فیض یاب ہوتے رہیں۔
کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف سے اُن کے رزق کا انتظام کیا کہ تکلیف، مشقت اور گرمی سے بچاؤ کے لیے بادل کا انتظام، تاکہ امن سے رہیں اور کھانے پینے کے لیے من و سلویٰ کا انتظام، تاکہ بھوک اور پیاس کی مشقت سے بچیں۔ انھیں حکم دیا گیا کہ ہم نے یہ جو پاکیزہ رزق دیا ہے، اس کو کھاؤ پیو، اجتماعی طور پر برتو، لیکن ذخیرہ اندوزی اور سرمایہ پرستی میں مبتلا نہ ہو۔ حضرت شیخ الہندؒ لکھتے ہیں: ’’اس لطیف و لذیذ غذا کو کھاؤ اور اس پر اکتفا کرو۔ نہ آگے کے لیے ذخیرہ جمع کرکے رکھو اور نہ دوسری غذا سے مبادلہ کی خواہش کرو‘‘۔ انفرادی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزی کرنا بڑا ظلم ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے اس سے منع کردیا گیا۔ دوسرے یہ کہ اجتماعی تربیت سیکھنے کے لیے انسانی زندگی کی غذا سادہ ہو اور سب کے لیے ہو۔ انفرادی ذائقے اور لذت کے لیے مخصوص غذاؤں کا مطالبہ تربیتی حوالے سے انتہائی نقصان دہ ہے۔ فوجی اور عسکری زندگی میں عمدہ اور سادہ غذا ہی دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ جدوجہد کرنے والا ایک فرد عیش پسند غذاؤں کا عادی ہوجائے تو وہ اجتماعی اور عسکری حوالے سے ناکارہ ہوجاتا ہے۔
وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ: تربیت سے متعلق ان اجتماعی ہدایات کی بنی اسرائیل نے خلاف ورزی کی۔ اس طرح انھوں نے اپنے اوپر خود ظلم کیا۔ حضرت شیخ الہند لکھتے ہیں: ’’اوّل ظلم یہ کیا کہ (مَن و سلویٰ) ذخیرہ کر کے رکھا تو گوشت سڑنا شروع ہوگیا۔ دوسرے (غذا کا) مبادلہ چاہا کہ مسور، گیہوں، ککڑی، پیاز وغیرہ ملے۔ جس سے طرح طرح کی تکلیف اور مشقت میں مبتلا ہوئے‘‘۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت کبھی نہ سڑتا‘‘ (بخاری: 3330)۔ گویا کہ اجتماعی زندگی سے بغاوت کے بنی اسرائیلی انداز کا اثر یہ ہے کہ آئندہ کے لیے ذخیرہ کیے ہوئے مال پر لعنت پڑنے لگی۔ آپؐ نے اس پر لعنت فرمائی ہے کہ: ’’المحتکر ملعون‘‘ (ذخیرہ اندوزی کرنے ولا ملعون ہے)۔ (سنن ابن ماجہ)
اس طرح بنی اسرائیل نے خود اپنا نقصان کیا اور پورے طور پر اس اجتماعی نظام کو قبول نہیں کیا۔ اس آیتِ مبارکہ میں یہی بات واضح کی گئی ہے۔
عبودیت کا ثمر

عَنْ اَبِي ہُرَیْرَۃَؓ، عَنِ النَّبِيﷺ: ’’اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: یَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِی اَمْلأ صَدْرَکَ غِنی، وَاَسُدُّ فَقْرَکَ، وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَلَأتُ صَدْرَکَ شُغْلاً وَلَمْ اَسُدَّ فَقْرَکَ‘‘۔(مسند احمد: 5378)
(حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے ابنِ آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہوجا۔ مَیں تیرے سینے کو مال داری سے بھر دوں گا۔ اور تیری محتاجگی کو سیدھا کردوں گا۔اگر تو نے اس طرح نہ کیا تو مَیں تیرے سینے کو مشغولیات سے بھر دوں گا۔ اور تیری محتاجگی کو دور نہیں کروں گا ‘‘۔)
انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبودیت ہے اور عبودیت کا معنی ہے کہ انسان اپنے فکروخیال، اپنی اِنفرادی، اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی زندگی میں اس راہ پر چلنا شروع کرے جو اِسے پرودگارِ عالم نے بتلائی ہے۔ خود کو شریعت اور عقل سلیم کے تابع کرلے۔ انسان جب اپنے فکروعمل کو اس راہ پر ڈال دیتا ہے تو عبودیت کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں۔
زیرِنظر حدیثِ قدسی میں حضورﷺ فرماتے ہیں کہ جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کرکے عبودیت کی راہ پر آجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس پر انعام فرماتے ہیں۔
انعاماتِ الٰہی کی دو نوعیتیں ہیں: پہلی یہ کہ اللہ اپنی طرف سے ہدایت اور رحمت سے یوں نوازتا ہے کہ انسان کا قلب گناہوں کی آلودگیوں، گردوپیش کے بُرے اَثرات اور شیطانی اَثرات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ بُرے خیالات ختم ہوکر اچھے خیالات جنم لینے لگتے ہیں۔ دل اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ اس پر اللہ کی صفات کا رنگ چڑھ جاتا ہے، جس سے اس کے قلب کو سکون، اطمینان، راحت اور یقین کی کیفیت نصیب ہوجاتی ہے۔ یہ وہ دولت ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے انبیائے کرامؑ، صحابہ کرامؓ اور اولیائے کرامؒ اپنی زندگیاں وقف کردیتے ہیں۔
دوسرا انعام جو اللہ کی طرف سے انسان کو نصیب ہوتا ہے وہ غنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مَیں تیرے دل کو غنی کردوں گا۔ اس کا ثمر یہ ہوگاکہ دُنیوی ضرورتیں پوری ہوں گی۔ اس کے وسائل، اسباب، ان کے حصول کا فہم اور ہمت اللہ تعالیٰ ارزاں فرمائیں گے۔ انسان کی دُنیوی ضروریات اور حاجات آسانی سے پوری ہوجائیں گی، جس سے اس کی تنگ دستی اور بھوک ختم ہوگی، دل مستغنی ہوجائے گا۔ اہم بات یہ کہ دنیا میں انہماک کے بجائے اسے وہ عقلِ سلیم ملے گی، جو اِسے اللہ سے غافل نہ ہونے دے گی۔ جس سے اس کو ظاہری و باطنی اطمینان، سکون اور خوشی نصیب ہوگی۔ یہی انسانی زندگی میں بیش قیمت چیز ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ ’’الغِنیٰ غنی النّفس‘‘ (حقیقی مال داری نفس کا مستغنی ہونا ہے)۔ اگر انسان عبودیتِ الٰہی سے غافل رہا تو پھر مذکورہ نعمتوں سے بھی محروم رہے گا۔
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہٗ

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہٗ عربی النسل ہیں۔ دورِ جاہلیت میں غلام بنا کر مکہ میں بیچ دیے گئے تھے۔ نسباً تمیمی ،بنو خزاعہ کے غلام اوربنو عوف کے حلیف تھے۔ آپؓ پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ وہ خوش نصیب بزرگ ہیں، جو دعوتِ اسلام کے بالکل ابتدائی مراحل میں یعنی دارِ ارقم میں حضور اکرمؐ کے مرکز بنانے سے قبل ہی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت خبابؓ ان صحابہ کرام میں سے ہیں جو رزقِ حلال کمانے میں ہرقسم کی مشقت اٹھاتے تھے۔ آپؓ لوہار کا پیشہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ عاص بن وائل نے آپؓ سے کام کروایا اور اس کی مزدوری نہ دی۔ اس کے ذمے قرض ہوگیا تو وہ آپؓ کو تنگ کرتا کہ جب تک محمدؐ کا انکار نہ کرو تو قرض واپس نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ’’ایسا تو ممکن نہیں!‘‘ آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے زمانے میں اسلام کا اظہار مکہ کے نظام میں ایسا سخت جرم تھا،جس کی سزا میں مال و دولت، ننگ و ناموس ہر چیز سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا، لیکن حضرت خبابؓ نے اس کی بالکل پر واہ نہ کی اور علیٰ الاعلان اسلام کا اظہار کرنے والے چند افراد میں شامل ہوئے۔ آپؓ غلام تھے، جن کا کوئی بھی حامی ومددگار نہ تھا، اس لیے کفار نے آپؓ کو مشقِ ستم بنا لیا اوران کو بڑی درد ناک سزائیں دیتے تھے۔ ننگی پیٹھ کو دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹاکر سینے پر ایک بھاری پتھر رکھ کر ایک آدمی اوپر سے مسلتا اوروہ اس وقت تک ان انگاروں پر کباب ہوتے رہتے، جب تک خود زخموں کی رطوبت آگ کو نہ بجھاتی، لیکن اس سختی کے باوجود آپؓ کی زبان کلمۂ حق سے نہ پھرتی۔
چوںکہ مکی دور عدمِ تشدد کی پالیسی کا تھا، جس میں ضروری تھا کہ نظریۂ حق کی دعوت اور اس پر تربیت حاصل کرنی ہے۔ دشمن کی ہر اشتعال انگیزی کاجواب صبر و تحمل سے دینا ہے۔ طیش اور غصے میں نہیں آنا ہے۔ چناں چہ رحمۃ للعالمین اس کسمپرسی کی حالت میں حضرت خبابؓ کی تالیفِ قلب فرماتے اور ہمت دلاتے، لیکن ان کا آقا اتنا سنگ دل تھا کہ وہ ان کے لیے اتنا سہارا بھی نہ برداشت کرسکا اوراس کی سزا میں لوہا آگ میں تپاکر اس سے ان کا سر داغ دیا۔ بالآخر حضرت خبابؓ نے آپؐ سے کہا کہ: ’’میرے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائیں کہ وہ مجھے اس عذاب سے نجات دے‘‘۔ آپؐ نے دعا فرمائی کہ: ’’خدایا! خباب کی مددفرما‘‘۔ ان سب مشکلات کے باوجود حضرت خبابؓ دینِ حق کے علوم و معارف سے آراستہ رہے۔
حضرت خبابؓ مدتوں نہایت صبر و استقلال کے ساتھ یہ تمام مصیبتیں جھیلتے رہے۔ پھر جب ہجرت کی اجازت ملی تو آپؓ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ یہ ہجرت تکلیف و مصائب کے خوف سے نہ کی تھی، بلکہ صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے تھی۔ مدینہ آنے کے بعد آپؐ نے ان میں اور خراش بن صمہؓ غلامِ تمیم کے درمیان مواخات کرادی۔ آپؓ مدنی دور میں بھی تمام اجتماعی اور دینی خدمات انجام دیتے رہے، تمام غزوات میں شرکت کی اور فعال کردار ادا کرتے رہے۔
مسلمانوں میں اوّل دن سے ہی تعلیم قرآن کا شوق تھا اور مشکل ترین زمانے میں بھی قرآنی علوم و معارف سے آگاہی اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ چناں چہ ایک مرتبہ حضرت خبابؓ حضرت عمرؓ کی بہن اور بہنوئی کو گھر میں قرآن حکیم سکھلا رہے تھے کہ عمر (قبل از اسلام) آ پہنچے اور حضرت خبابؓ گھر میں چھپ گئے۔ گویا غلام ہوکر بھی علمی کردار ادا کرتے ہیں ۔ حضرت خبابؓ کی علمی اور فکری نسبت بہت گہری ہے۔ حضرت معدیکرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابن مسعوؓد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے سورہ طٓسٓمّ جو دو سو آیات پر مشتمل ہے، سنانے کی فرمائش کی تو انھوں نے فرمایا: ’’یہ سورت مجھے یاد نہیں ہے، البتہ تم ان صاحب کے پاس چلے جاؤ جنھوں نے اسے خود نبیؐ سے یاد اور حاصل کیا ہے، یعنی حضرت خبابؓ‘‘۔ چناں چہ ہم لوگ حضرت خبابؓ کے پاس آئے تو انھوں نے ہمیں وہ سورت پڑھ کر سنائی۔
حضرت خبابؓ کے فضائل کی وجہ سے حضرت فاروقِ اعظم ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ ایک دن حضرت خبابؓ آپؓ سے ملنے گئے تو حضرت عمرؓ نے ان کو اِکراماً اپنی نشست گاہ پر بٹھایا اور لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ: ’’ان کے علاوہ صرف ایک شخص اَور ہے جو اس پر بیٹھنے کا مستحق ہے۔ حضرت خبابؓ نے پوچھا امیر المؤمنین! وہ کون؟ فرمایا: بلالؓ! آپؓ نے عرض کیا: ’’وہ میرے برابر کیسے مستحق ہوسکتے ہیں؟ حال آںکہ مکی دور میں مشرکین میں ان کے بہت سے مدد گار تھے، لیکن میرا پوچھنے والا سوائے اللہ کے کوئی نہ تھا‘‘۔ آپؓ نے اس دور کی اپنے مصائب وآلام کی تاریخ سنائی اور اپنی پیٹھ دکھائی، جس کے خون و پانی سے آگ بجھا کرتی تھی۔
حضرت خبابؓ۳۷ھ میں کوفہ میں طویل عرصے تک سخت بیماری میں مبتلا رہے۔ آپؓ کوفہ میں وفات پانے والے سب سے پہلے صحابیٔ رسول ہیں۔ آپؓ کی وصیت کے مطابق کوفہ شہر کے باہر آپؓ کی تدفین کی گئی۔ آپ کی عمر 73 سال تھی۔ اس سے قبل لوگ مرنے والوں کو اپنے اپنے گھروں کے صحن یا دروازوں کے باہر دفنایا کرتے تھے۔ آپؓ کی وصیت سے یہ سنت جاری ہوگئی اور کوفہ شہر سے باہر قبرستان میں تدفین کو رواج ملا۔ آپؓ کی نماز ِجنازہ حضرت علیؓ نے پڑھائی اور آپؓ کی قبر پر کھڑے ہوکر آپؓکی بھرپور زندگی کا یوں تعارف کرایا: ’’اللہ خباب پر رحم فرمائے۔ اپنے شوق سے اسلام قبول کیا۔ دِلی رغبت سے ہجرت کی۔ مجاہدانہ جد و جہد سے بھرپور زندگی گزاری۔ جسمانی مرض میں مبتلا رہے۔ اللہ تعالیٰ اچھے عمل کرنے والوں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کرتا‘‘۔
مسلم دُنیا کو درپیش چیلنجز اور بیسویں صدی کی مسلم فکر

اس وقت مسلم دُنیا غم و غصے کی ایک خاص کیفیت سے دوچار ہے۔ اس کی وجہ فلسطین میں اسرائیل کی غیر انسانی اور وحشیانہ کارروائیاں ہیں۔ فلسطین میں قریب ایک صدی سے مقامی فلسطینی باشندوں سے روا رکھا جانے والا سلوک واقعی غیر انسانی ہے۔ اس پر ہرقوم اور ملت کے دردِ دل رکھنے والے انسان دُکھی اور پریشان ہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ یہ مسئلہ برطانوی استعمار کا پیدا کردہ ہے، مگر اس وقت ہمارے پیشِ نظر فلسطین سمیت دنیا بھر میں موجود مسلمان قیادتوں کو درپیش بحرانوں اور چیلنجز کی چند وجوہات اور اسباب ہیں، جنھیں چنداں اہمیت نہیں دی جاتی، بلکہ ان اسباب کو باربار دُہرایا جاتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یمن، فلسطین، افغانستان، عراق اور لیبیا سمیت مسلم جغرافیے کے مختلف خطے آگ و خون کے دریا سے گزررہے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر مسلم دُنیا اپنے اپنے ملکوں میں اندرونی طور پر مختلف سماجی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے۔
اس صورتِ حال پر جذباتی ہو کر کسی ملک اور قوم کے خلاف محض جذباتی نعرے لگا لینا یا انھیں اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر عصری تقاضوں اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کرنا‘ مسائل کی تفہیم اور درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرنے میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہے۔ اب ہمیں مسلم معاشروں کی جڑیں کھوکھلی کردینے والے حقیقی اسباب و علل پر بڑی سنجیدگی سے غور وفکر کی ضرورت ہے، تاکہ ان اسباب کے سد ِباب کے لیے قوم و ملت کو کوئی لائحۂ عمل دیا جاسکے۔
ہماری دانست میں مسلم معاشروں کا پہلا چیلنج اور بحران ایک خاص قسم کے ردِعمل کا شکار ہوکر شدت پسندی کی راہ پر چل نکلنا ہے۔ ان کی قیادتوں نے اس تشدد کو ایک عرصے سے جہاد کا نام دے رکھا ہے۔ مذہبی قیادتوں نے معمولی معاوضے پر ریاستوں کو اس کے حق میں مذہبی دلائل فراہم کیے ہیں۔ ریاستوں اور دانش وروں کے باہمی اشتراک نے عوام کو اس ’’جہاد‘‘ کے ذریعے اسلام کے عالمی غلبے کا خواب دکھا رکھا ہے۔ اسے ہم نظریے کا بحران کہہ سکتے ہیں، جس نے دین کی سُوءِ فہم تعبیر (Misunderstood interpretation of religion) سے جنم لیا ہے جس کا خمیر 20 ویں صدی کی بعض اسلامی شخصیات کے نظریات سے تیار ہوا ہے۔ اس کی بنیاد انھوں نے اسلام کے دورِ عروج کی بعض اصطلاحات کو درست تناظر میں نہ سمجھنے کی وجہ سے رکھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسی دور ہی کے باشعور علما کی جماعت نے استعمار سے آزادی کے لیے عدمِ تشدد کا راستہ اختیار کیا اور بعد از آزادی اسلام کی انسان دوست فکر کے تناظر میں قومی جمہوری فکر پر ریاست کے خدو خال کو واضح کیا، جب کہ اوّل الذکر طبقے کے ہاں اسلام اور قومیت ایک جگہ جمع نہ ہوسکے اور وہ ہمیشہ اسلام اور قومیت کو دو الگ الگ حقیقتوں کے طور پر دیکھتے رہے۔ اس سے ہمارے ہاں بہت سے فکری مغالطوں نے جنم لیا۔ ان فکری مغالطوں کی وجہ سے مسلم معاشروں میں جدوجہد کی درست سمت ہی کا تعین مشکل ہوگیا اور ہمارا مخلص نوجوان بے شعوری کے سبب تشدد کی بنیاد پر کھڑی کی گئی تحریکوں کا حصہ بن کر بے منزل راستوں پر چلتا رہا۔ چوں کہ یہ راستہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے ہم سے زیادہ ہمارے دشمن کے لیے مفید تھا، اس لیے وہ خفیہ طور پر ایسی تحریکوں کو معاونت بھی فراہم کرتارہا۔ اسی وجہ سے طالبان، داعش، بوکوحرام اور حماس جیسی تحریکیں مسلم معاشروں میں قومی اور جمہوری طرز ِفکر کے حامل طبقوں کی حمایت توحاصل نہ کرسکیں، لیکن ایک خاص حکمتِ عملی سے مسلمان معاشروں کا چہرہ انھیں تحریکوں کو سمجھا جانے لگا۔ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ (mainstream media) بھی انھیں کو کوریج دیتے اور دکھاتے ہیں۔ دوسرے علمائے حق کے مؤقف کو ثانوی حیثیت دے کر پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
یہ کھیل گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یوں شدت پسند بیانیے کو صفِ اوّل (front foot) پر جگہ دے کر اسلام کی انسانیت دوست فکر کو پیچھے دھکیلنے کی سعیٔ نامشکور جاری ہے۔ اس سے مسلم معاشروں میں ایک ایسی فضا تیار کرلی گئی ہے کہ جب بھی کشمیر، فلسطین، یمن اور مشرقِ وسطیٰ میں حالات خراب ہوتے ہیں تو یہی شدت پسند بیانیہ پوری فضا کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔ عوام کوئی گہری شعوری بات اور ان خطوں میں موجود ان سلگتے مسائل کے پسِ منظر اور اس کے حقیقی حل کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مسلم دنیا کو لاحق اس شدت پسند بیانیے کے مرض کا پسِ منظربعض لوگ اسلام کی بنیادی فکر اور نظریے میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ وہ لوگ برصغیر میں استعمار کے خلاف علمائے حق کی جدوجہد سے موجودہ شدت پسند بیانیے کو جا ملاتے ہیں، حال آںکہ یہ موجودہ شدت پسند بیانیہ اس معتدل قومی اور ملّی فکر کے علیٰ الرغم تیار کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد اس دور میں انھیں علمائے حق کے مقابلے پر کھڑے طبقے کی فکر پر ہے، جو ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر پوری دنیا کو فتح کرنے کی باتیں کیا کرتا تھا، جب کہ معتدل اور انسان دوست فکر کے ترجمان یہ علما اس دور میں بھی غیر مسلم ابنائے وطن کو اپنے ساتھ لے کر ایک اجنبی قابض طبقے کے خلاف قومی جدوجہد ِ آزادی میں مصروفِ کار رہے تھے اور بعد از آزادی ایک قومی جمہوری ریاست اور اس کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ لیکن مسلمان معاشرے میں موجود رومانیت پسند طبیعتوں نے اپنی الگ راہ لی اور دنیا میں اسلام کے نام پر شدت پسند بیانیے کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے۔ پھر جو کچھ ہوا، وہ ایک پوری تاریخ ہے۔
اگر چہ اب پرائیویٹ جہادی بیانیے کو اپنی مصلحتوں کے پیشِ نظر پسِ منظر میں لے جایا جا رہا ہے، لیکن شدت پسندی اپنی جگہ پر موجود ہے، جس نے ماضی میں جہاد کے پرائیویٹ عمل کو جنم دیا تھا۔ نہ جانے بڑی سرکار کی ضرورتیں اور تقاضے کب دوبارہ اسے اسلام کا تقاضا بناکر پھر سے اپنے نہاں خانے سے نکال لائیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس فکر اور بیانیے کے پسِ منظر کو پیشِ نظر رکھ کر اور اس کی کسی بھی نئی شکل کے مضمرات سے واقف رہا جائے۔ (مدیر)
تمام نیکیوں کا بنیادی اساسی اُصول؛ توحید ِالٰہی (2)

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
[توحید کے ان آخری دو مرتبوں کی مخالف جماعتیں]
’’... توحید کے ان آخری دونوں مرتبوں (1۔ آسمانوں اور زمینوں کی حکمرانی 2۔ اور اللہ کے علاوہ کوئی اَور عبادت کا مستحق نہیں) کے بارے میں کچھ انسانی جماعتیں اختلاف رکھتی ہیں۔ ان جماعتوں کا تجزیہ کیا جائے تو اُن کے بڑے تین فرقے ہیں:
(1) نجومی: یہ لوگ کہتے ہیں کہ ستارے عبادت کے مستحق ہیں۔ اُن کی عبادت دنیا میں نفع دیتی ہے۔ اپنی حاجتیں ان ستاروں کے سامنے پیش کرنا برحق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تحقیق کی ہے کہ:
(الف) انسان کی نیک بختی اور بدبختی، انسان کی صحت اور بیماری اور یومیہ ہونے والے حوادث و واقعات میں ان ستاروں کا بڑا اثر ہوتا ہے۔
(ب) ان ستاروں میں عقل رکھنے والی روحیں کام کرتی ہیں، جو اِن ستاروں کی حرکات و سکنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ یہ روحیں اپنی عبادت کرنے والوں سے غافل نہیں ہیں۔
اس طرح انھوں نے ستاروں کے نام پر بڑی عمارتیں تعمیر کیں اور اُن کی عبادت کی۔
(2) مشرکین: یہ لوگ کائنات کے بڑے بڑے کاموں کے عالم گیر نظم و نسق کے حوالے سے تو مسلمانوں کے موافق ہیںاور اس میں بھی متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قطعی اور حتمی حکم صحیح ہے۔ وہ اللہ کے سوا کسی اَور کو حکم دینے کا اختیار نہیں دیتے، وہ باقی درجِ ذیل اُمور میں مسلمانوں سے موافقت نہیں رکھتے:
(الف) ان کا کہنا ہے کہ اُن سے پہلے ایسے نیک لوگ گزرے ہیں، جنھوں نے اللہ کی عبادت اور اُس کا قرب حاصل کیا تو اللہ نے خود انھیں اُلوہیت کا لباس پہنا دیا۔ اس طرح وہ نیک لوگ باقی مخلوق میں سے خود عبادت کے مستحق بن گئے۔ بالکل اسی طرح کہ کوئی بندہ کسی ملک کے شہنشاہ کی بہت اچھی طرح خدمت کرے تو شہنشاہ ایسے خدمت گار کو کسی علاقے کا بادشاہ بنا دیتا ہے اور اپنے ماتحت ریاست کے شہروں میں سے کسی ایک شہر کا نظم و نسق اور حکمرانی اُس کے سپرد کردیتا ہے۔ اب اُس شہر والوں پر لازمی ہے کہ اپنے اوپر مقرر کیے ہوئے بادشاہ کی فرماں برداری اور اطاعت کریں۔
(ب) وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی عبادت اُس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوتی، جب تک کہ اُن نیک بندوں کی عبادت نہ کی جائے، بلکہ حق تعالیٰ بہت بلند درجے پر ہے۔ اس کے قرب کے لیے صرف اس کی عبادت فائدہ نہیں دے گی، بلکہ ان نیک بندوں کی عبادت کرنا لازمی ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سفارش کریں۔
(ج) ان کا کہنا ہے کہ اللہ کے یہ نیک بندے سنتے بھی ہیں، دیکھتے بھی ہیں اور اپنے عبادت کرنے والوں کی سفارش بھی کرتے ہیں۔ وہی اُن کے کاموں کا نظم و نسق بھی چلاتے ہیں او ران کی مدد کرتے ہیں۔
چناںچہ انھوں نے ان نیک بندوں کے نام پر پتھر گھڑ لیے اور اپنی توجہ کا قبلہ و کعبہ ان پتھروں کو بنا لیا۔ اس کے بعد آنے والی نااہل نسلوں نے اُن نیک بندوں کی شکل و صورت اور ان کے بنائے ہوئے پتھروں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھا، بلکہ انھوں نے براہِ راست انھی پتھروں کو اپنا معبود بنا لیا۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس شرک اور کفر کو درجِ ذیل طریقوں سے رد کیا:
(الف) کبھی اس بات پر تنبیہ کی کہ حکمرانی اور بادشاہت صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ (ب) کبھی یہ بات واضح کی کہ یہ پتھر کے بنے ہوئے بت جمادات میں سے ہیں۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے ان سے قرآن حکیم میں درجِ ذیل سوالات کیے: (1) ’’کیا اُن کے پاؤں ہیں، جن سے وہ چلتے ہیں؟ (2) کیا ان کے ہاتھ ہیں، جن سے یہ پکڑتے ہیں؟ (3) کیا ان کی آنکھیں ہیں، جن سے یہ دیکھتے ہیں؟ (4)کیا ان کے کان ہیں، جن سے یہ سنتے ہیں؟ ‘‘(الاعراف:95)
3۔ نصرانی: یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ کا قرب اور باقی مخلوق پر برتری حاصل ہے۔ پس یہ مناسب نہیں ہے کہ انھیں ’’عبد‘‘ (اللہ کا غلام) کہا جائے اور دوسرے انسانوں کے برابر قرار دیا جائے۔ اس لیے کہ یہ اُن کے ساتھ بے ادبی ہے اور ان کو اللہ سے جو قرب حاصل ہے، اُسے نظرانداز کرنا ہے۔
(الف) پھر بعض نصرانیوں نے اس خصوصیت کی تعبیر کرتے ہوئے اُن کا نام ’’اِبنُ اللّٰہ‘‘ (اللہ کا بیٹا) قرار دے دیا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ باپ اپنے بیٹے پر رحم کرتا ہے اور اپنی نگاہوں کے سامنے اُس کی تربیت کرتا ہے اور وہ غلاموں کے مقابلے پر بلند تر ہوتا ہے۔ چناںچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ کہنا زیادہ بہتر ہے۔
(ب) بعض نصرانیوں نے حضرت عیسیٰؑ کا نام ’’اللہ‘‘ رکھ دیا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰؑ کی ذات میں حلول کرگیا ہے۔ وہ اُن کے وجود میں داخل ہوگیا ہے۔ اسی لیے حضرت مسیحؑ سے ایسی کرامات اور آثار ظاہر ہوتے ہیں، جو کسی بشرِ انسانی سے ظاہر ہونا ممکن نہیں۔ مثلاً مُردوں کو زندہ کرنا، پرندے بنا کر اُڑانا۔ اس لیے اُن کا کلام‘ اللہ کا کلام ہے اور اُن کی عبادت‘ اللہ کی عبادت ہے۔
ان کے بعد ان کی نااہل اولادوں نے حضرت مسیحؑ کے اس نام کی اصل وجہ کو نہیں سمجھا اور انھوں نے حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کا حقیقی بیٹا بنا دیا۔ یا انھوں نے یہ گمان کرلیا کہ حضرت مسیحؑ تمام پہلوؤں سے خود اللہ ہیں۔
اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس غلط فکر کا درجِ ذیل طریقوں سے رد کیا:
(1) کبھی یہ حقیقت بتلائی کہ اللہ کی تو کوئی بیوی ہی نہیں ہے (اس کا بیٹا کیسے ہوگیا؟)۔ (الانعام: 101)
(2) کبھی یہ حقیقت واضح کی کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو بغیر کسی مادے کے پیدا کرنے والا ہے۔ اور اللہ کے حکم کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ’’کُنْ‘‘ کہتا ہے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ (البقرہ: 116-17)
یہ تین (گمراہ) فرقے ہیں، جن کے بڑے لمبے چوڑے دعوے ہیں اور ان کی بہت سی خرافات ہیں۔ تحقیق کرنے والے پر یہ بات مخفی نہیں ہے۔
توحید کے انھی دو مرتبوں (1۔ آسمانوں اور زمینوں کی حکمرانی 2۔ اور اللہ کے علاوہ کوئی اَور عبادت کا مستحق نہیں) کے حوالے سے قرآن عظیم نے بحث کی ہے اور کافروں کے شبہات کو کافی طور پر بہت اچھے اور بہترین طریقے سے رد کیا ہے۔
(المبحث الخامس، مبحث البرّ و الإثم، باب 1: توحید)
عبدالرحمن الداخل (2)

یورپ میں آزاد اُمَوی ریاست کے بانی
عبدالرحمن الداخل۱۳۸ھ/ 756ء سے۱۷۲ھ / 788ء تک اندلس کے حکمراں رہے۔ وہ 731ء میں دمشق میں پیدا ہوئے اور 30؍ ستمبر 788ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ 25 سال کی عمر میں اندلس کے حکمران بنے اور تقریباً 32 سال تک نہایت کامیابی کے ساتھ حکمرانی کی۔ ملک کا انتظام و انصرام عمدہ طریقے سے چلایا۔ عوام کی خوش حالی کی طرف ان کی توجہ سب کاموں سے زیادہ تھی۔ وہ تمام اسباب بروئے کار لائے گئے، جن سے عوام کو امن و امان اور معاشی ترقی حاصل ہو۔ امن و امان کے قیام کے لیے مقامی اُمرا کی بغاوتوں کو فرو کیا۔ فرانس کے بادشاہ شارلیمان کا حملہ پسپا کیا۔ علم و عمل کی وہ شمعیں روشن کیں، جن سے یورپ کا اکثر حصہ مستفید ہوا۔ اندلس کی سرزمین علمی تاریخ میں بڑی زرخیز ثابت ہوئی۔ وہ مردم خیزی میں کسی بھی طرح بغداد اور دمشق سے کم نہیں تھی۔ اندلس کی کوکھ سے جن عظیم اصحابِ علم و فضل اور سائنس دانوں نے جنم لیا، انھیں کا کسبِ کمال تھا جس کی بدولت قرطبہ جیسا عظیم شہر رشکِ فلک بنا۔ اندلس کی تمدنی ترقی کے پیچھے جن اہلِ علم کا ہاتھ تھا، وہ قدیم و جدید دونوں علوم سے آراستہ تھے۔ دینی غلبے اور دُنیوی ترقی کے لیے جدید و قدیم کا حسین امتزاج ضروری ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ فرماتے ہیں: ’’اسلام باتوں سے نہیں قائم ہوسکتا۔ اگر دنیا کے بڑے ملکوں کے دوش بہ دوش کھڑے ہونا ہے تو جدید علوم سیکھنے ہوں گے۔ جب کوئی ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوتا، تو وہ نہ دین کی خدمت کرسکتا ہے، نہ دنیا کی‘‘۔ عبدالرحمن الداخل عالم فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین منتظم اور باتدبیر حکمران تھا۔ اس نے یہاں قلعوں اور شہروں کی فصیلیں تعمیر کروائیں۔ مسجد قرطبہ کی تعمیر اس کا عظیم کارنامہ ہے، مگر آج اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ اسی عمارت کو دیکھ کر علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ لکھی تھی ؎
اے حرمِ قرطبہ عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود
رنگ ہو یا خِشت و سنگ، چِنگ ہو یا حرف و صورت
معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود
عبدالرحمن الداخل نے اندلس کی سرزمین پر پہلا کھجور کا درخت لگایا۔ اس درخت کو دیکھ کر اس کو اپنا وطن دمشق یاد آیا تو اس نے عربی میں نظم کہی، جس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیے ؎
میری آنکھ کا نور ہے تُو
میرے دل کا سرور ہے تُو
اپنی وادی سے دور ہوں میں
میرے لیے نخلِ طور ہے تُو
اندلس کے مشاہیرِ علم و فضل اور سائنس دان اگلی قسط میں ا ن شاء اللہ۔
خودمختار مرکزی بینک؟

غلامی کے بھی کئی ڈھنگ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ کسی کو قید ہی کرلیا جائے تو وہ غلام قرار پائے گا۔ گزشتہ اڑھائی سو سال میں جہاں ہمارے آقاؤں نے اجارہ داری اور آدابِ حکمرانی سیکھے ہیں، وہاں ہم جیسی اقوام نے آدابِ غلامی میں ترقی کی ہے۔ پہلے براہِ راست حکمرانی اور وسائل پر قبضے کا دور تھا۔ پھر پوری دنیا میں آزادی کی تحریکات نے اس قسم کی حکمرانی کا ناطقہ بند کردیا۔ اس کے بعد سے بالواسطہ حکمرانی کا انداز پنپ رہا ہے۔ جدید دور میں تو غلام اقوام کو محدود ترقی اور کامرانی سے بھی ہم کنار کردیا گیا ہے۔ پاکستان کا انداز ِغلامی اب بدل کر نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ دنیا بڑی تیزی سے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی گرفت میں جا رہی ہے۔ ایسے میں پرانا طرز ِحکمرانی دراصل عالمی نظام کے لیے سوٹ ایبل نہیں رہا۔ وہ قومی نظام جو عالمی سامراجی نظام کے تقاضے پورا نہیں کرسکتا، اب زیادہ دیر چل نہیں سکتا۔ ہمارے جیسے ممالک میں تو صدر یا وزیر اعظم دراصل طاقت و قوت کا منبع تصور کیے جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے ہم آج تک نوابی دور سے نہیں نکلے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی مرکزی حکومتوں پر ان گناہوں کا بار بھی ڈال دیتے ہیں، جو صوبائی حکومتوں نے کیے ہوتے ہیں، لیکن ترقی یافتہ دنیا میں نظام کو چلانے کا انداز ادارہ جاتی ہوچکا ہے۔ چناںچہ جس طریقے سے انسانی جسم کام کرتا ہے، جہاں کئی ضروری اُمور جسم کے اعضا خود کار طریقے پر بروئے کار لے آتے ہیں اور ان کے مخصوص کاموں میں انسان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اسی طرح آج کے دور میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے تابع مملکت کے کچھ امور ایسے ہوتے ہیں، جن میں مقامی حکمرانوں کو کوئی دخل نہیں ہوتا اور ان ضروری حکومتی اُمور کو اپنے مفاد کی قانون سازی کے ذریعے مستقل بنیادوں پر کام جاری رکھنے کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے، تاکہ وسیع تر عالمی مفاد جیسے لین دین، تجارت، تعلیم و تربیت اور رابطہ وغیرہ جیسے اُمور کسی حکومت کے آنے اور جانے سے رُکنے نہ پائیں۔
آئی ایم ایف کے اکیس مالیاتی پروگراموں کے دوران ان عالمی اداروں نے تدریجاً یہی کیا ہے۔ چناں چہ ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، نادرا، ایف آئی اے، پاسپورٹ آفس وغیرہ کو ان عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت سے تدریجاً جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔ یہ ایک نہ رُکنے والا سلسلہ ہے۔ کروڑوں ڈالر کی امداد برائے شعبہ جاتی درستگی اور پھرFATFکی تلوار سمیت یہ ادارے مل کر ہماری جدید غلامی کے راستے ہموار کر رہے ہیں۔ سیاسی حکومتیں اپنی لوٹ مار اور عوامی سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے عالمی اداروں سے بے پناہ قرض لیتی رہی ہیں۔ انھوں نے اس پر بھی بس نہیں کیا، بلکہ مقامی بینکوں، اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کے ریکارڈ توڑ دیے۔ اس سے بھی کام نہ چلا تو نوٹ چھاپ لینے کے عمل کی انتہا کردی گئی۔ اس کا نتیجہ مقامی سرمایہ دار اور مقامی منڈیوں پر براجمان ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سیاسی صف بندی کا حصہ بن کر بھگتا۔ اب ان سرمایہ داروں کو مزیدبڑے کام کرنے ہیں اور انھیں مقامی نظام اور ذیلی صف بندیوں میں نہیں الجھنا۔
چناں چہ ان سرمایہ داروں کے لیے کھیل کے طریقے وضع کیے جارہے ہیں اور ان طریقوں کو قانونی تحفظ دینے کی تیاری ہے۔ ایک حوالے سے دیکھا جائے تو یہ درست بھی ہے۔ کیوںکہ سیاسی صف بندی کی قیمت بالآخر عوام سے ہی وصول کی جاتی ہے، جو آج کے دور میں چین اور دیگر قوتوں کے ساتھ مقابلے کے حوالے سے مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس لیےAutonomous(خود مختار) اور آزاد اِداروں کے دور کا آغاز کیا جاچکا ہے کہ تنازعے کی صورت میںجلد فیصلہ ہو، معاملہ آگے بڑھے اور حکومتیں عوامی مقبولیت حاصل کرنے یا اپنی کرپشن کی خاطر و سائل فراہم کرنے کے لیے نوٹ نہ چھاپیں، یا بے پناہ قرض نہ لیں، یا مخصوص صنعتوں کو ٹیکس میں چھوٹ اور مراعات نہ دیں، بلکہ یہ سب کام برابری کی سطح پر ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو ٹاسک دیا تھا، جو اس نے بہترین انداز میں سرانجام دیا ہے۔ اس کے ثمرات کو دوام بخشنے کے لیے اور گزشتہ ادوار کے عاقبت نااندیش فیصلہ سازوں سے مستقبل میں بچے رہنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے کے حوالے سے مہم کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ یہ عمل یقینا ہماری معاشی غلامی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا، لیکن پاکستان جس کی مقتدرہ ایک بازیچۂ اَطفال سے کم نہیں۔ اس کی معاشی بے راہ رویوں سے تنگ آکر ہمارے آقا نے یہی کرنا تھا۔ چناں چہ اب ہمارا مرکزی بینک ایک متوازی حکومت کے طور پر سامنے آئے گا، جس میں ملکی مانیٹری پالیسی اور شرح سود، کرنسی کی قدر، نوٹوں کی چھپائی، حکومت کو قرض وغیرہ اب ایک طے شدہ قاعدے سے ہوگا۔ اس کے بروئے کار آنے کا سراسر تعلق عالمی مالیاتی نظام سے جڑا ہوگا، جس میں مقامی سیاسی و معاشی پالیسی ثانوی حیثیت اختیار کرلے گی۔
ترقی یافتہ دنیا کے مرکزی بینک اپنے ملکوں کے فائدے کے لیے آزاد اور خود مختار ہیں۔ ان میں قابلِ ذکرامریکا، جرمنی، یورپی یونین، روس، بھارت، اسرائیل، اٹلی، یونان ترکی وغیرہ شامل ہیں۔ برطانوی مرکزی بینک مکمل آزاد ادارہ نہیں ہے، جہاں شرح سود کے تعین جیسا اہم فیصلہ یہ خود نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ چین اور ایران قابلِ ذکر ہیں، جن کے مرکزی بینک اپنے مقامی قوانین کے تابع ہیں۔ مرکزی بینک کی آزادی ایک ایسی بحث ہے، جو قریباً ڈیڑھ صدی سے جاری ہے۔ جہاں یہ بینک آزاد ہیں، وہاں حکومتیں اپنی مشکلات اور ناکامیوں کا بار ان پر ڈالتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ جہاں یہ بینک مقامی پالیسی کے تابع ہیں، وہاں کرنسی کی مصنوعی قدر، افراطِ زر وغیرہ بروئے کار آتے ہیں۔ چوں کہ پاکستان ایسے بڑے فیصلے خود کرنے کا عادی نہیں، اس لیے طے یہ پایا ہے کہ ہمارا مرکزی بینک آزاد ہوگا اور ہماری مقتدرہ کو اسٹیبلشمنٹ، موسمی صورتِ حال اور قدرت کے علاوہ اسٹیٹ بینک بھی میسر ہوگا، جن پر وہ اپنی ناکامیوں کا بار ڈال سکیں گے۔ یاد رہے! یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترمیم کی جارہی ہے۔ اس سے قبل چار دفعہ ایسا کیا جا چکا ہے، لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہمیں اپنی غلامی کا احساس ہوا ہے۔
قرآن حکیم ایک امانت ہے

19؍ مارچ 2021ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے جامعہ خدیجۃُ الکُبریٰ بورے والا میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوستو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابِ مقدس قرآن حکیم کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ اقدس پر نازل کیا ہے۔ یہ اللہ کی ایک امانت ہے، جو نبی اکرمؐ کے سپرد کی گئی ہے۔ آپؐ نے یہ امانت اُمت ِمحمدیہ کے حوالے کی ہے۔ امانت کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ جس کے سپرد کی جائے، وہ پوری دیانت کے ساتھ اس امانت کے حقوق ادا کرے، اُن ذمہ داریوں کو پورا کرے، جو امانت رکھوانے والے نے کسی امین کے ذمہ لگائی ہیں۔ یہ وہ امانت ہے کہ جو سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو دی گئی، پھر حضرت ادریس علیہ السلام اور شیث علیہ السلام سے ہوتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کو ملی۔ یہی امانت حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام سے ہوتی ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آئی۔ پھر جامع، کامل اور مکمل شکل میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قلب ِاطہر پر نازل ہوئی۔ پھر نبی اکرمؐ کے قلبِ اطہر سے صحابہ کرامؓ کے قلوب میں یہ امانت نازل ہوئی۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ یہ امانت مردوں کے دلوں میں منتقل ہوئی ہے۔ وہ اولوالعزم افراد جو واقعی مرد کہلانے کے قابل ہیں، اصل میں اُن کے قلوب کی گہرائیوں میں نازل ہوئی ہے۔ انھوں نے اسے سیکھا اور اس کی تعلیم دی۔ اس کی تعلیمات کو آگے منتقل کیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6497) نبی اکرمؐ کی صحبت سے یہ کتابِ مقدس قرآن حکیم صحابہؓ کے قلوب میں اور صحابہؓ کے قلوب سے تابعین کے قلوب میں اور پھر تبع تابعین کے دلوں میں، ایسے ہی اولیاء اللہ کے قلوب سے ہوتے ہوئے قیامت تک مردوں کے دلوں میں یہ امانت منتقل ہوتی رہے گی۔
اس امانت کی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ نبی اکرمؐ پر یہ امانت نازل ہوئی تو اس کی عظمت اور ہیبت کی وجہ سے آپؐ پر وہ لرزہ طاری ہوا تھا کہ جو جبرائیل امینؑ کی پہلی وحی کے بعد آپؐ کپکپاتے ہوئے لہجے میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہتے ہیں کہ ’’زمّلونی زمّلونی‘‘(بخاری) ۔ مجھے چادر اوڑھاؤ، لحاف اوڑھاؤ۔ احساسِ ذمہ داری کا عالم یہ ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے فرماتے ہیں کہ ’’خشیتُ علیٰ نفسی‘‘ (بخاری)، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، خوف ہے، اتنی بڑی امانت میرے سپرد کی گئی ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے تسلی دی کہ ڈرنے کی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو رُسوا نہیں کرے گا۔ وہ ہمت اور طاقت دے گا۔ جس نے جو امانت آپؐ کے سپرد کی ہے، آپؐ اس اُمانت کو حق داروں تک پہنچائیں گے۔ اس لیے محمد ِمصطفی ْﷺ سے کہا گیا کہ: ’’اے رسولؐ! جو اللہ پاک نے آپ پر پیغام منتقل کیا ہے، اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے‘‘ (المائدہ: 67)۔
امانت اور دیانت داری کے تقاضے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’کتابِ مقدس قرآن حکیم کی امانت کا انسانوں میں منتقل کرنے کا صرف یہی مطلب نہیں کہ اُس کا کلام اور تلفظ لوگوں کو سکھا دیا جائے، بلکہ امانت جب دل کی گہرائیوں میں آتی ہے تو پورے وجود کو رنگین کردیتی ہے۔ انگ انگ اُس کی روشنی سے منور ہوجاتا ہے۔ پھر اُس کا اٹھنا، اُس کا بیٹھنا، اُس کا چلنا، اُس کا کام کاج کرنا، وہ اس امانت کی ذمہ داریوں کے مطابق ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اُس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ کسی نے آپ کو کسی کام کا امین بنایا ہو، کوئی کام آپ کے سپرد کیا ہو، کوئی ڈیوٹی لگائی ہو، تو آپ وہ کام کتنی ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔ جیسے ایک ملازمت ہوتی ہے تو ملازم جس سے تنخواہ وصول کرتا ہے، اس کے کاموں کا امین ہے۔ مزدور کا کام امانت کے ساتھ کام کرنا ہے۔
جب حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں نے اپنے والد ِگرامی سے یہ سفارش کی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مزدور رکھ لیا جائے تو فرمایا تھا کہ یہ قوی بھی ہے، طاقت ور بھی ہے۔ کام بھی کرسکنے کی اس میں صلاحیت ہے اور امانت دار بھی ہے۔ دونوں باتیں ہیں۔ جو آدمی کسی کام کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اس کا فریضہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو اپنی صلاحیت و استعداد اور پوری دیانت داری سے ادا کرے۔
دنیا کے کاموں میں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں دیانت اور امانت کے ساتھ کام کرنا چاہیے، لیکن کلمہ طیبہ پڑھ کر، کتابِ مقدس قرآن حکیم پڑھ کر اُس امانت کو پوری دیانت کے ساتھ پورا کرنے کا تصور ہمارے ہاں عام طور پر نہیں پایا جاتا۔ قرآن حکیم کے پڑھنے پڑھانے کا یہ رویہ سراسر غلط ہے۔ یہ قرآن حکیم کی عظمت کی خلاف ورزی ہے کہ ہم نے اُس امانت کو پورا کرنے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔ انبیا علیہم السلام، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، اولیاء اللہؒ، علمائے ربانیینؒ کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہوتی ہے کہ وہ قرآن حکیم کی اس امانت کو اپنے عملی کردار، اپنے نظم و نسق، اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کے جذبے سے ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے فکر و عمل کو قرآنی تعلیمات کے تناظر میں ڈھالتے ہیں اور اس کے مطابق کردار ادا کرتے ہیں۔
سورتِ ہود کے نزول پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ:
’’مجھے سورت ہود نے بوڑھا کردیا‘‘ (سنن ترمذی، حدیث: 3297)۔
اس سورت میں بہت ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ مجھے کہا گیا ہے کہفَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ(ہود: 112)، ثابت قدم رہنا، جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ خواہش پرستوں کی بات کی اتباع مت کرنا۔ ظالم لوگوں کے پیچھے مت چلنا۔ اُن کی طرف میلان ظاہر مت کرنا۔ جیسے حکم دیا گیا ہے، اس کے مطابق بالکل سیدھے رہنا۔ اُن لوگوں کی اتباع مت کرنا، جنھوں نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا ہے، جو اپنے کاموں میں ظالم ہیں، متکبر، بددیانت، بداَخلاق اور جھوٹے ہیں اور امانت میں خیانت کرتے ہیں‘‘۔
امانت کا تقاضا یہ ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قرآن حکیم کی عظیم امانت کو امانت نہیں سمجھا جاتا ہے۔ رٹا سسٹم کے تحت قرآن پڑھ لیا، حفظ کرلیا، تلاوت کرلی، اور سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی نورانیت کے ساتھ رابطہ پیدا کرلیا۔ انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں کہ کب اس نورانیت کے نتیجے میں دولت کے انبار آئیں، کب ہمارے لیے انعامات کے راستے کھلیں، جب کہ دل میں تو چور بیٹھا ہے۔ دل تو بخل، ضد بازی، حسد اور کینے سے بھرا ہوا ہے۔ انسانی سسٹم میں ظلم موجود ہے۔ عظمتِ قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ آج قرآن حکیم پڑھنے پڑھانے، سننے سنانے والے اس امانت کو سب سے پہلے تو دل کی گہرائیوں میں اُتاریں۔ پھر اس کا اثر ان کے اَخلاق و کردار، ان کے مالی معاملات اور ان کے رہن سہن سے ظاہر ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اس امانت کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ملک و قوم کے، بلکہ بین الاقوامی نظام کے عدل و انصاف پر قائم کرنے کی جدوجہد اور کوشش کریں۔
آج ظلم و ستم کا مکمل نظام ہر انسان کو گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ ذرا کسان کا حال تو دیکھیں! وہ بے چارہ کاشت کار جو چھ مہینے ایک فصل سنبھالتا ہے، سرمایہ داروں کی مقرر کردہ قیمت پر کھاد ڈالتا ہے، اُن کی مقرر کی ہوئی قیمت کا بیج ڈالتا ہے، اُن کی دی ہوئی دوائیوں کو اُن کی قیمت پر سپرے کرتا ہے۔ جب چھ مہینے کی فصل تیار ہوتی ہے تو حکومت میدان میں آجاتی ہے۔ پچھلے سال جو کسانوں کے ساتھ ظلم ہوا، کسی جگہ سے اُس کے خلاف آواز اٹھی؟ خود کسانوں نے آواز اٹھائی؟ اسسٹنٹ کمشنر لاؤ لشکر کے ساتھ میدان میں آگئے اور ان کاشت کاروں سے چودہ سو روپے پر گندم اٹھائی۔ دو چار سرمایہ دار جیب میں ہیں، پولیس فورس کے ذریعے سے اُن کے گودام بھرے گئے۔ کہا گیا کہ کسان اپنے کھانے کی صرف بیس پچیس من گندم سٹاک کرے، اس کے علاوہ سب بیچ دے۔ اور جیسے ہی گندم کسانوں کے ہاتھ سے نکلی تو چوبیس سو روپے من ہوگئی۔ کیوں؟ کون سا مافیا ہے، جس نے یہ ظلم کیا۔
افسوس تو اُن گونگے مذہبی لوگوں پر ہے کہ جو اس کاشت کار سے زکوٰۃ اور عشر وصول کرنے اور چندہ وصول کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں، لیکن کبھی جمعہ کے خطبے میں اس کے خلاف آواز اٹھائی؟ قرآن پڑھنے والوں نے اس کے بارے میں کوئی بات کی؟ تمھیں کسان کی اس حالت کو نہیں دیکھنا؟ اس کو بچت کیا ہوتی ہے؟ اس کی محنت کتنی تھی؟ چھ مہینے کی محنت اور سرمایہ داروں، کمیشن ایجنٹوں، غلہ منڈی کے آڑھتیوں نے اپنی منہ مانگی قیمت پر کھاد بیج ڈالا، اس کا تو عوض ہی نہیں آیا۔ آج پھر حکومت سولہ سو روپے من گندم کا اعلان کرتی ہے، کس بل بوتے پر؟ مارکیٹ اگر اوپن ہے، سرمایہ دار مارکیٹ ہے، کوریا سے اور روس سے اٹھائیس سو روپے من گندم خرید کر یہاں لائی جا رہی ہے اور مقامی کاشت کار کو آج کہا جا رہا ہے کہ تم صرف سولہ سو روپے تک گندم بیچو۔ کیا یہ قرآنی تعلیمات پر مبنی امانت کا حق ادا کرنا ہے؟ امانت کی ذمہ داری تو یہ تھی کہ حکومتیں اپنے عوام سے ظلم دور کریں‘‘۔
قرآن ہر طرح کے ظلم کا انکار کرتا ہے
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’یاد رکھیں! قرآن حکیم دو ٹوک ہے۔ جو آدمی لوگوں پر ظلم کرتا ہے، قرآن حکیم اس کی مذمت کرتا ہے۔ قرآن حکیم بددیانتی کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔ دیانت اور امانت‘ دین کا بڑا بنیادی تقاضا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ‘‘ (الاحزاب: 72) (ہم نے امانت نازل کی ہے)۔ اس انسان کو اس کی ضرورت ہے۔ کیوں ضرورت ہے؟ کیوں کہ یہ بڑا ’’ظلوم‘‘ اور بڑا ’’جہول‘‘ ہے۔ اس کی جہالت دور کرنے کے لیے ہم نے یہ امانت نازل کی، تاکہ یہ علم والا بنے، اپنا ظلم اور اپنی بداَخلاقی دور کرے۔
آج ہمارا سسٹم ظلم کا ہے۔ مافیاز سوسائٹی پر مسلط ہیں۔ آئی ایم ایف‘ پاکستان کی کابینہ کو آرڈر دیتا ہے کہ اپنے اسٹیٹ بینک کو آزادی دو۔ کیا دنیا کے ایک سو بانوے ملکوں میں کسی ملک کا بینک آئی ایم ایف کے عالمی غلامی پر مبنی آزادی کا حامل ہے؟ ملکوں کے بینک اپنے قومی مفادات کے تحت ازخود اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کی داخلی سیاسی پارٹیوں کی مداخلت سے آزاد ہوتے ہیں، بلکہ عالمی طاغوتی قوتوں کی غلامی سے بھی آزاد ہوتے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ بینک کی آزادی کے نام پر آئی ایم ایف جو کرانا چاہے، ہمارے بینک کے مقتدر لوگوں سے کرلے۔ پورے ملک کا معاشی نظام جس بینک سے چلتا ہے، اس پورے بینکنگ نظام پر عالمی سرمایہ داری نظام کا قبضہ کرا دیا گیا۔ کیا یہ امانت ہے؟ کہا جاتا ہے کہ عوامی حکومت ہے، جمہوری حکومت ہے۔ یہ کیسی جمہوری حکومت ہے کہ جمہور کا گلا گھونٹ کر اُس کو مادر پدر آزاد قومی ریاست کے تمام دائروں سے آزاد کرکے عالمی سامراجی نظام کے آگے ڈال دیا گیا۔ یہ امانت ہے؟ کیا بددیانتی کی اس سے بڑھ کر کوئی انتہا ہوسکتی ہے؟
ستر سال ہوگئے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہوئے۔ جتنا اسلام ان بہتر سالوں میں مٹایا گیا ہے، جتنا قرآن کے خلاف یہاں بددیانتی اور بدنظمی کا نظام قائم کیا گیا ہے، انگریزوں نے بھی اتنا نہیں کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ قرآن کا وہ نظام جو دراصل کل انسانیت کے لیے فلاح و بہبود کا ہے، اسلام کا وہ نظام جو انسانوں کے نفو س کی تہذیب کے لیے ہے، اس کو آج ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ بس رسمی طور پر مدرسے بنے ہوئے ہیں، مسجدیں بنی ہوئی ہیں، قرآن رٹہ سسٹم کے تحت حفظ کرلیا، حافظ ہے، لیکن غلط کاریاں نہیں چھوڑتا۔ بددیانتی نہیں چھوڑتا۔ مولوی ہے، لیکن کاروبار میں آیا تو وہاں بھی وہی کام کر رہا ہے جو دوسرے کر رہے ہیں۔ سیاست میں آیا تو جو کام دوسرے کر رہے ہیں، وہی مولانا کر رہے ہیں۔ کیا فرق ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ تبدیلی کیا ہے؟ آج قرآن کے ساتھ بددیانتی کرنا ہی عذاب کا سبب ہے۔ عذاب سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ قرآن کی اس امانت کو سمجھا جائے اور اس امانت کو دیانت کے ساتھ ادا کرنے، اپنے آپ کو بدلنے، اپنے سسٹم کو بدلنے، اپنے ماحول کو بدلنے کے لیے کردار ادا کیا جائے‘‘۔
ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری ؒکا سانحۂ اِرتحال

2؍ فروری 2021ء کو ایک افسوس ناک پیغام کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ ولی اللّٰہی تحریکات و شخصیات کے محقق ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے ہیں۔ إنّا للّٰہ و إنّا إلیہ راجعون۔ پاکستان میں تحریکاتِ آزادی کے رہنمائوں، ان کے اَفکار و خیالات اور قومی، ملّی و ادبی خدمات کو اپنی تحاریر کی صورت میں ہر خاص و عام سے متعارف کروانے میں ماضی قریب میں جن دانش وروں اور محققین نے انتہائی اہم کردار ادا کیا، ان میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوریؒ کا بھی ہے۔ ولی اللّٰہی تحریک سے تعلق رکھنے والی تقریباً تمام شخصیات پر ان کے قلم نے سفر طے کیا۔
موصوف شاہجہانپور میں محمد حسین خاں کے ہاں 30؍ جنوری 1940ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام تصدق حسین خاں تھا۔ مدرسہ شاہی مراد آباد سے قرآنِ حکیم حفظ کیا اور عربی و فارسی کی کتابیں پڑھیں۔ 1951ء میں ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے۔ محض 17؍ سال کی عمر میں ہی لکھنے کا آغاز کیا۔ اپنا قلمی نام ’ابوسلمان الہندی‘ اور بعد ازاں ’ابوسلمان شاہجہانپوری‘ اور متعدد تحریروں میں ’ابوشاہد‘ بھی استعمال کیا۔ مطالعے کی عادت موصوف کو اپنے ماموں مقصود حسن خاں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ ان کے ہاں اخبار ’’مدینہ‘‘ بجنور اور اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی باقاعدگی کے ساتھ آتا تھا۔ لکھنے کا شوق موصوف کے چچا محترم مولانا محمد عبدالہادی خاں (شاگرد مفتی کفایت اللہ دہلویؒ) کی وجہ سے پروان چڑھا۔ انھیں کی بدولت ولی اللّٰہی جماعت کے اکابرین سے محبت کا تعلق پیدا ہوا۔ ان پر ان کے متعدد مضامین اور کتب شائع ہوچکی ہیں۔ ان حضرات میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے لے کر مولانا ابو الکلام آزادؒ اور امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ تک تقریباً تمام رہنما شامل ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ پر کثیر تعداد میں تحقیقی مقالہ جات اور تحاریر لکھنے کی وجہ سے موصوفؒ کو پاکستان میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
ڈاکٹر ابوسلمان مرحوم کا ولی اللّٰہی تحریک سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ1980ء میں پی ایچ ڈی کے لیے جو عنوان منتخب کیا، وہ بھی ’’تذکرۂ خانوادۂ ولی اللّٰہی‘‘ تھا۔ تمام عمر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ انجمن ترقیٔ اُردو پاکستان، شاہ ولی اللہ اکیڈیمی حیدرآباد، مدرسہ تعلیم القرآن، ہولی قرآن سوسائٹی، نیشنل کالج کراچی کے علاوہ متعدد تعلیمی اداروں میں خدمات سرانجام دیں۔ تحقیق و تدوین کے لیے جو ادارے خود قائم کیے، ان میں ادارہ تحقیقات افکار و تحریکاتِ ملّی کراچی، مولانا ابوالکلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کراچی پاکستان، مکتبہ شاہد، علی گڑھ کالونی کراچی اورادارہ تصنیف و تحقیق پاکستان قابل ذکر ہیں۔ ان اداروں سے گراں قدر تحاریر اور کتب شائع ہوتی رہیں، جن میں مولانا ابو الکلام آزادؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کی شخصیات اور تحریکات کے تعارف کے علاوہ بے شمار کتب شامل ہیں۔ 100 سے زائد کتب تحریر اور مدوّن کیں، جن میں انتہائی اہم کام شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کی سیاسی ڈائری قابلِ ذکر ہے، جو کم و پیش 7000 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ 1986ء میں موصوفؒ کی رہائش گاہ علی گڑھ کالونی میں کچھ شر پسند عناصر نے گھروں کو آگ لگا دی تو اس میں آپ کی قیمتی کتابوں کا ذخیرہ اور نادر مخطوطات کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کی دستاویزات بھی جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگئیں۔ یقینا یہ صدمہ بہت دکھ انگیز تھا، لیکن آپؒ کے ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحقیق نے ہمت نہیں ہارنے دی اور ایک بار پھر سے کتابوں کو جمع کرنا شروع کردیا۔
ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہان پوریؒ ہر اُس فرد کا احترام کرتے تھے، جو ولی اللّٰہی خانوادے اور ان کی تحریکات سے لگائو رکھتا تھا۔ ولی اللّٰہی اکابرین کے سلسلے میں ہونے والے متعدد سیمینارز میں شرکت کی غرض سے ملکِ عزیز کے علاوہ ہندوستان کے بھی اسفار کیے۔ پاکستان میں ولی اللّٰہی افکار پر جدوجہد کرنے والی جماعت تنظیم فکر ولی اللّٰہی پاکستان کے بانی حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ انتہائی عقیدت کا تعلق تھا۔ جب بھی کبھی حضرتِ اقدسؒ کراچی کے دورے پر تشریف لاتے تو خود چل کر حاضر ہوتے اور اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتے تھے۔ متعدد بار ایسا ہوا کہ تحریکاتِ آزادی اور حریت پسند اکابرین کی خدمات کے بارے میں موصوف اور حضرتِ اقدسؒ کے درمیان گھنٹوں نشست جاری رہتی۔ اپنے قریبی دوست مولانا عطاء الرحمن شیرازی صاحب سے حضرتِ اقدسؒ کی آمد کے بارے میں دریافت کرتے رہتے تھے۔
حضرتِ اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے وصال کے بعد خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ سے بھی اسی طرح عقیدت کا تعلق رکھتے تھے۔ اپنی ترتیب دی ہوئی کتب بھی حضرت رائے پوری کو پیش کرتے رہتے تھے۔ جب انھیں حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب اور امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی کتاب ’’التّمہید لتعریف أئمّۃ التّجدید‘‘ کا ترجمہ پیش کی گئی تو بہت خوش ہوئے اور دیر تک ان حضرات کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ آخری عمر میں باوجود اس کے کہ یاد داشت ساتھ نہ دیتی تھی، لیکن مولانا ابو الکلام آزادؒ اور حضرت مدنیؒ کے سیاسی تصورات اور ان کی خدمات کے بارے میں بڑے اعتماد کے ساتھ گفتگو جاری رکھتے۔ ولی اللّٰہی تحریک کے ان اکابرین کا نام سنتے ہی ان کی آنکھوں میں خاص چمک آجاتی تھی۔ غرض! یہ کہ موصوف نے تحقیق اور تدوین کے میدان کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ وہ اس میدان کے شہ سوار تھے۔ آخری عمر میں ضعف بڑھ گیا تھا۔ آپ کی زندگی کا علم، ادب اور تحقیقی و تصنیف سے بھر پور یہ سفر 2؍ فروری2021ء کو پورا ہوا اور آپؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبول فرمائے۔ (آمین!)
شمارہ ختم
واپس
