اگست، 2022ء

ماہنامہ رحیمیہ

اگست، 2022ء

اگست 10, 2022 4 مضامین ڈاؤن لوڈ کریں EPUB ڈاؤن لوڈ کریں

1 / 4

جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال

جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال

(اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘ سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور ان کے پاس کچھ نہیں، مگرخیالات۔)   (-2البقرہ: 78)

گزشتہ آیات میں یہودی علما کی دو خرابیاں بیان کی گئی تھیں: ایک یہ کہ اللہ کے کلام کو سمجھنے کے باوجود ‘اس میں جان بوجھ کر تحریف کرتے تھے۔ دوسرے یہ کہ صحیح اور سچے علم کو عام انسانوں سے چھپاتے تھے۔ ان کے سامنے من گھڑت باتیں بیان کرتے تھے۔

اس آیت میں یہودیوں کے عام عوام کی خرابی بیان کی جا رہی ہے۔ اس خرابی کی وجہ بھی دراصل یہودی علما ہی ہیں، جو اُنھیں الفاظ کے گورکھ دھندوں میں اُلجھا کر جھوٹی تمنائیں اور آرزوئیں اُن میں پیدا کرتے تھے اور پھر اُن سے کھیلتے تھے۔ انھیں فروخت کرکے اُن سے مال و دولت کماتے تھے۔

 اس آیت میں یہودیوں کے جاہل اور عام لوگوں کی دو خرابیاں بیان کی جا رہی ہیں: ایک یہ کہ وہ اللہ کی سچی کتاب تورات کا علم بالکل نہیں رکھتے۔ اس علم سے بالکل کورے اور بے پڑھے لکھے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ وہ صرف جھوٹی تمنائیں اور آرزوئیں رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے پاس اَور کچھ نہیں۔ یہودی معاشرے کی بڑی خرابیاں یہی تھیں کہ ایک طرف اُن کے علما اور اہلِ دانش لوگوں سے صحیح علم کو چھپاتے اور سچے علم میں تحریف کرتے تھے۔ دوسری طرف عام آدمی حقائق پر مبنی توراتِ مقدس کے سچے علم پر صحیح عمل کرنے کے بجائے محض تمناؤں اور آرزوؤں کے پیچھے بھاگتے تھے۔ پھر اہلِ علم و دانش اُن کی تمناؤں اور آرزوؤں کو بیچ کر اپنے مادی مفادات اور دولت حاصل کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں دوسری جگہ علم و عمل کی اہمیت اور لوگوں کی تمناؤں اور آرزوؤں کی نفی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: ’’نہ تمھاری اُمیدوں پر مدار ہے، نہ اہل کتاب کی اُمیدوں پر۔ جو کوئی بُرا کام کرے گا، اُس کی سزا پاوے گا۔ اور نہ پاوے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ اپنا کوئی مددگار۔ اور جو کوئی کام کرے اچھے، مرد ہو یا عورت اور ایمان رکھتا ہو، سو وہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں، اور ان کا حق ضائع نہ ہوگا تِل بھر‘‘۔ (-4 النساء: 123) اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں:

’’کتاب والوں، یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں، جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی، ہم نہ پکڑے جائیں گے۔ ہمارے پیغمبر حمایت کرکے اُن کو بچا لیں گے۔ اور نادان اہلِ اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کرلیا کرتے ہیں۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی اُمید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں۔ جو بُرا کرے گا، پکڑا جاے گا۔ کوئی ہو۔ اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی۔ اللہ جس کو پکڑے، وہی چھوڑے تو چُھوٹے‘‘۔

 جب کسی معاشرے سے علم و شعور اور اُس پر صحیح عمل ختم ہوجاتا ہے اور محض تمنائیں اور جھوٹی آرزوئیں باقی رہ جاتی ہیں، تو پھر لایعنی خیالات اور توہمات غالب آجاتے ہیں۔ حقائق کے برخلاف محض اندازے اور گمانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں معاشرے مزید خرابی کی طرف لُڑھکتے چلے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ پر مشرکین مکہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ’’اُن کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہے۔ وہ صرف گمان اور وہم کی اتباع کرتے ہیں۔ اور ظنون و اَوہام حق واضح کرنے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے‘‘۔ (-53 النجم: 28)

اسی طرح ایک اَور جگہ لوگوں پر دلائل کی روشنی میں حجت قائم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’آپ کہہ دیجیے! کیا تمھارے پاس کچھ علم ہے؟ کہ تم اُسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ تم تو صرف ظن و گمان کی پیروی کرتے ہو۔ اور صرف اٹکل اور تخمینے لگاتے ہو۔ کہہ دیجیے کہ (سچے علم کی بنیاد پر) اللہ کی حجت اور دلائل پورے ہوچکے ہیں‘‘۔ (-6 الانعام: 148)

ان آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے علم و شعور کی اہمیت واضح کی ہے۔ ایسا علم و شعور جو صحیح عمل اور سیدھے راستے کی رہنمائی کرے۔ اس لیے کہ انسانی معاشرے حقائق پر مبنی علم و شعور سے ہی ترقی کرتے ہیں۔ صحیح علم کی بنیاد پر کیے گئے اعمال ہی کسی قوم کی ترقی اور کامیابی کے ضامن ہوتے ہیں۔ ان آیات میں دوسری یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ محض تمناؤں اور آرزوؤں اور لایعنی خیالات سے کوئی قوم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ یہودی معاشرے کے ساتھ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کے اعلیٰ علم اور بہترین سیاسی نظم و نسق کے باوجود اس قوم کے علما اور عوام زوال کا شکار ہوئے۔ قوموں کی قیادت سے محروم ہوئے۔ ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر گئے۔ پستی میں چلے گئے۔

قرآن حکیم نے ان آیات میں یہودی معاشرے کی ان خرابیوںکی عکاسی کرکے دراصل مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اگر یہ لوگ بھی یہودیوں کے نقشِ قدم پر چلیں گے، اسی طرح علمی حقائق کے برعکس محض تمنائیں اور آرزوئیں پالیں گے، لایعنی خیالات کے اسیر ہوں گے تو ان کے لیے بھی زوال یقینی ہے۔

جب کسی قوم کے قائدین علمی حقائق مسخ کرنے لگیں اور اصل علم چھپا کر غلط اعداد و شمار کے ذریعے سے مفادات اُٹھانے لگیں، اور عام لوگ اُن کے اُلجھاؤ میں آکر محض تمنائیں پالنے لگیں، لایعنی خیالات اور فضول نظریات اور مفاد پرست جماعتوں کے پیچھے بھاگنے لگیں، تو یقینا ایسے معاشرے دنیا اور آخرت میں سوائے ذلت و رُسوائی کے اَور کچھ حاصل نہیں کرتے۔ جیسا کہ اس وقت مسلمان معاشروں کا یہی حال ہوچکا ہے۔ انھیں اپنے غلط افکار و نظریات پر نظرثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آیات ہمیں برانگیختہ کرتی ہیں کہ ہم بے علمی پر مبنی فرسودہ رویے چھوڑیں اور قرآنی علم و فکر سے پختہ وابستگی اور اُن میں رُسوخ پیدا کرکے صحیح نظریہ اور شعور پیدا کریں اور اپنے معاشروں کی ترقی کے لیے کردار ادا کریں۔

2 / 4

نظامِ ظلم کی حمایت کا نتیجہ

نظامِ ظلم کی حمایت کا نتیجہ

عَنْ اَوْسِ بْنِ شُرَحْبِیْلؓ؛ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ: ’’مَنْ مَّشٰی مَعَ ظَالِمٍ لِیُقَوِّیَہٗ، وَ ھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہٗ ظَالِمٌ، فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلَامِ‘‘۔ (مشکوۃ: 5135)

(حضرت اوس بن شرحبیلؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے، تاکہ وہ اس کو تقویت پہنچائے، حال آں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے۔ ایسا شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے‘‘۔)

دینِ اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم ترین حکم نظامِ عدل کا قیام اور ظلم کی روک تھام ہے۔ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ پسند ہیں‘ جو عدل قائم کرتے اور ظلم کو ختم کرتے ہیں۔ حق دار کو حق دینا، عدل کہلاتا ہے۔ مؤمن کو حکم ہے کہ وہ زندگی کی ہر سطح پر عدل کے تقاضے پورے کرے۔ اپنی جان کا تحفظ کرنا، ماں باپ، بیوی بچوں، اعزہ و اقربا، ہمسائیوں اور معاشرتی عدل و انصاف کے قیام کے لیے عدل کرنے والی قوتوں کی حمایت کرنا، عدل کرنے والے انسان کی پہچان ہے۔ عادل انسان اللہ کو بہت محبوب ہے۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’یومِ محشر کہ جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا، تو اس دن اللہ تعالیٰ سات لوگوں کو اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دیں گے۔ ان میں سے پہلا شخص عدل کرنے والا امام (حکمران) ہوگا‘‘۔ (رواہ البخاری) اس بنا پر عدل انسانی اعمال میں سے ایک ایسا عمل ہے جو اسے اللہ کا مقرب اور مغفرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ جہنم سے چھٹکارے اور جنت کا حق دار بنا دیتا ہے۔ یہ ایسی خوبی ہے جو بے شمار اچھائیوںکی بنیاد اور بے شماربرائیوں کو روکنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

جب کہ ظلم کا معنی ہے کسی کا حق مار کر اس کو اس کے حق سے محروم کردینا۔ یہ عمل کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ زیرنظر حدیث میں رسول اللہؐ فرمارہے ہیں کہ جو شخص ظلم کا حامی ہے اور ظالم کو تقویت دینے کے لیے اس کی حمایت کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اسے اسلام سے خارج کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی اسلام ہی سے خارج ہوگیا تو پھر اس میں اسلام کی دیگر خوبیوں کی پرورش کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ قرآن حکیم نے جن حکمرانوں کو دُنیاوی زندگی میں قابلِ مذمت قرار دیا ہے، ان کا بنیادی جرم مخلوقِ خدا پہ ظلم ڈھانا تھا۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی ظلم کرنے والوں کے بارے میں سخت وعیدات آئی ہیں۔ عوام کو معاشی و سیاسی طبقات میں بانٹنا، ظالم ریاستوں کا وطیرہ ہوتا ہے۔ اسے قرآن حکیم نے فرعون، نمرود اور ان جیسے ظالم حکمرانوں کا وصف قرار دیا ہے۔ ان کے مقابلے پر اولوالعزم پیغمبروں کے عادلانہ کردار کا ذکر کیا ہے۔ اَب انسان کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے فرعونوں کا حامی بننا ہے یا پیغمبروں کی راہ اپنانی ہے۔

حاصل یہ کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان عدل کرنے والا اور ظلم سے دور رہنے والا ہو۔ اور ظلم پسند قوتوں کے مقابلے پر سینہ سپر ہوکر ان کا مقابلہ کرنے والا ہو۔

3 / 4

مؤذنوں کے سردار حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہٗ

مؤذنوں کے سردار حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہٗ

آپؓ کا نام: بلال، کنیت:ابوعبداللہ، والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا۔ آپؓ حبشی نژاد غلام تھے۔ آپؓ مکہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت بلالؓ مؤذنین کے سرخیل، قدیم الاسلام، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گہرے دوست اور اصحابِ صفہ میں سے تھے۔ آپؓ ظاہری شکل کے لحاظ سے ایک سیاہ فام حبشی تھے۔ آئینۂ دل شفاف تھا۔ اس کو نورِ ایمان نے اس وقت منور کیا، جب کہ معدودے چند بزرگوں نے آپ ﷺ کی دعوتِ اسلام پر لبیک کہا تھا۔ اسلام لانے کی پاداش میں آپؓ کو تپتی ہوئی ریت، جلتے ہوئے سنگ ریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹایا گیا تاکہ وہ اپنی رائے بدلیں، لیکن ان تمام روح فرسا آزمائشوں کے باوجود آپؓ نے توحید و آزادیٔ رائے کی مضبوط رسی کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ایک روز حضرت بلالؓ حسبِ معمول مشقِ ستم بنائے جا رہے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اس طرف سے گزرے اور یہ عبرت ناک منظر دیکھ کر آپؓ کا دل بھر آیا۔ آپؓ نے ایک گراں قدر رقم معاوضے میں دے کر حضرت بلالؓ کو آزاد کردیا۔ آں حضرت ﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا: ’’ابوبکر! تم مجھے اس میں شریک کرلو‘‘، عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آزاد کراچکا ہوں۔ حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ حضرت عمرفاروقؓ فرمایا کرتے تھے: ’’ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں اور انھوں نے ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا‘‘۔

حضرت بلالؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو آپ ﷺ نے ان کے اور عبیدہ بن حارث مطلبیؓ کے درمیان یا ایک روایت میں ابو عبیدہ بن الجراح کے درمیان مواخات کرائی۔ حضرت بلالؓ سب سے پہلے وہ بزرگ ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔ آپؓ کی آواز نہایت بلند وبالا اور دِل کش تھی۔ وہ فصیح و بلیغ تھے۔ ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں کو بے چین کردیتی تھی۔ لوگ اپنے کام چھوڑ کروالہانہ وارفتگی کے ساتھ ان کے ارد گرد جمع ہوجاتے۔

حضرت بلالؓ سفروحضر میں ہر موقع پر رسول اللہؐ کے مؤذنِ خاص، آپؐکے اہل و عیال کے نان و نفقہ کے نگران اور آپؐ کے خزانچی تھے۔ عیدین و استسقا کی نمازوں میں بلالؓ آپؐ کے آگے لاٹھی لے کر چلتے ۔ راستہ میں کوئی پتھر ہوتا تو اس کو لاٹھی سے ہٹا دیتے۔ سامنے سے آنے والوں پر نظر رکھتے، تاکہ کہیں سامنے سے کوئی دشمن نہ آجائے اور آپؐ کوکوئی تکلیف پہنچے۔ حضرت بلالؓ غزوات بدر، اُحد، خندق اور تمام مشاہد میں رسول اللہ کے ساتھ حاضر رہے۔ فتح مکہ پر آپؐنے حضرت بلالؓ کو کعبۃ اللہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا تاکہ سابقہ ظالمانہ طبقاتی نظام کی شکست اور کمزور پسے ہوئے طبقوں کی عزت اور قانونِ الٰہی کی بلندی کا اظہار ہو۔ گویا حضرت بلالؓ مظلوم عوام کی ترقی اور عزت کا استعارہ بن گئے۔ حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت بلالؓ جہاد کے لیے شام کے محاذ پر گئے اور پھر وہیں قیام پذیر ہوگئے۔ آپؓ دمشق میں 60 سال سے زائد عمر میں سن۲۰ھ میں عہد ِفاروقی میں فوت ہوئے۔

4 / 4

جمہوری تماشہ اور گماشتہ میڈیا

جمہوری تماشہ اور گماشتہ میڈیا

کسی بھی معاشرے میں حقیقی سیاسی عمل _ جو کسی بھی دباؤ سے آزاد ہو _ اس معاشرے کے مسائل کا حقیقی حل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں سیاسی عمل کٹھ پتلیوں کے سہارے اَن دیکھی قوتیں کنٹرول کرتی ہوں، وہ معاشرے نت نئے بحرانوں کی زد میں رہتے ہیں۔ وہاں مسائل کے مصنوعی حل بحرانوں سے مزید بحرانوں کے جنم لینے کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں اور بغل بچہ جمہوریت خود شیطان کی آنت ثابت ہوتی ہے۔ جیساکہ ہم پاکستان کی تاریخ میں روز ِاوّل سے اس کا مشاہدہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے، یہاں ابھی تک عوامی نمائندگی کا حقیقی نظام جڑ نہیں پکڑ سکا اور جمہوری تماشے کے نام پر عوام اور جمہوریت دونوں کے ساتھ ایک کھلواڑ جاری ہے۔

اس سال پاکستان میں مارچ 2022ء کو حزبِ مخالف کی ساری سیاسی جماعتوں کی قومی اسمبلی میں حکومت کے خلاف خراب حکمرانی اور معیشت کی بداِنتظامی کے الزام کے تحت اسمبلی کا جواجلاس بلانے کی ریکوزیشن اور تحریکِ عدمِ اعتماد سے بحران پیدا ہوا تھا، وہ تاحال جاری ہے۔ تاہم 26؍ جولائی کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رُکنی بنچ کے فیصلے نے دونوں فریقوں کو سستانے کا کچھ وقت دے دیا ہے۔

پاکستان میں جاری نا پختہ اور بے صیقل سیاسی عمل کے نتیجے میں ابھی عوامی نمائندگی کے حقیقی نظام کی اس منزل کے نشانات تو کہیں دکھائی نہیں دیتے، لیکن کچے گھڑے پر سرمایہ داری کے دریا میں اس مزعومہ سیاسی سفر سے سیاست کے طالبِ علموں کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے اور اس عمل کا ہر کردار ایسا غلطاں و پیچاں ہے، جسے واضح کرنا اہلِ دانش پر لازم ہے۔

سب سے پہلے تو پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ اس واقعے نے اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے کہ دُنیا پر اپنے سرمایہ داری نظام کی بدولت گرفت رکھنے والے ممالک کو اگر چھوٹے ملکوں میں بغل بچہ جمہوریت میں اگرکسی سیاسی جماعت یا لیڈرسے اختلاف ہو جائے تو اپنے داخلی مہروں کے ذریعے یا اَن دیکھے دباؤ کے تحت ان جمہوری تماشے کا تار و پود ایسے بکھیرا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے سامنے نشانِ عبرت بن جائے۔ اس سے جمہوری تماشے کے آمرانہ مزاج کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ گویا بہ قولِ اقبالؒ ابھی تک  ع

ہے  وہی  ساز ِ  کہن  مغرب  کا  جمہوری  نظام

دوسری طرف میڈیا اور اس پر براجمان موسمی دانش وروں کی کھیپ کا وہ کردار ہے، جو ایک خاص بیانیے کو لے کر عوام کے ذہنوں پرحملہ آور ہوتی ہے، جیسے کہ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں صوبائی اسمبلی کے ڈی سیٹ ہونے والے ممبران کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج بارے انھوں نے اپنے تجزیوں کے سبب ایک ایسا سماں باندھا کہ قوم پی ڈی ایم اتحاد کو نجات دہندہ تسلیم کرچکی ہے اور اب کی بار اقتدار سے بے دخل کی جانے والی پارٹی اس کے ہاتھوں کھیت رہے گی، لیکن پنجاب کی نوجوان نسل ابھی نئے عشق کی اسیر ہے۔ اس نے ان متعدد جماعتوں کے اتحاد کو ایسی عبرت ناک شکست دی کہ اینکروں کی خواہشات کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔ اس سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں کا میڈیااپنے مالی اور گروہی مفادات کا محافظ ہے۔ اوریہ ایک تجارت ہے، جس میں تجزیہ نگار ایک بروکر کا کردار اداکرتے ہیں۔ مالکان نے ایسے تجزیہ نگار پال رکھے ہیں کہ واقعات و حالات کچھ بھی ہوں، انھوں نے اپنے مالکان کی حسبِ خواہش حقیقت کے خلاف وہ تجزیہ پیش کرنا ہے، جو میڈیا گروپ کے دھڑے بندیوں کی فضا کی آبیاری کرے اور مسلسل خبروں اور تجزیوں سے عوام کی رائے پر اثر انداز ہوتا رہے۔

یہ فضا کسی بھی معاشرے میں نئے خیال اور رُجحان کے خلاف بند باندھنے کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے، جس کے کبھی بھی مثبت نتائج نہیں آتے۔ یہ سرمایہ داری نظام میں میڈیا کی وہ پالیسی ہے، جس میں میڈیا سرمایہ داروں کا ہوتا ہے اور وہ مکمل طور پر اُن کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ وہ خبروں، تجزیوں اور رِپورٹوں میں وہی کچھ دکھانے کی کوشش کرتا ہے، جو سرمائے اور وسائل پر قابض طبقوں کی خواہش ہوتی ہے۔

جب متعدد جماعتی حکومتی اتحاد کے مقابلے میں اقتدار سے نکالی جانے والی پارٹی، جس کے بارے عوام بہت جذباتی ہوچکے تھے، 20 میں سے 15 نشستیں لے چکی اور ایوان میں اس کی سادہ اکثریت ثابت ہوگئی تو نتائج کو ایک گجراتی خط کے ذریعے بدلنے کی کوشش کی گئی، جس سے الیکشن کے ذریعے حل کیا جانے والا بحران مزید گہرا ہوگیا۔

یہاں پر ایک مُذمِن مرض کو مرکزِ نگاہ بنائیے! وہ یہ کہ ہمارے سیاست دانوں کی اکثریت ہارتی ہوئی جمہوری قدروں کا پاس کرنے کے بجائے کسی چالاکی، شرارت اور ممبران کی خریدوفروخت یا بے اصولی کی چھری سے جمہوریت کو ذبح کرنے کی آخری دم تک کوشش کرتی ہے۔ اور اس ملک کی تاریخ ہے کہ یہاں جمہوریت ہمیشہ نیم مردہ مریضوں، مارشل لاء، آمروں، عدالتی فیصلوں، ٹیلی فون کالز، بیرونی سائفرز اور خفیہ رکھے جانے والے مختلف خطوط کی زد اور ٹھوکروں پر رہی ہے۔

اس گماشتہ جمہوریت کے سارے پراسیس میں ووٹرز لسٹ کی تیاری اور پبلک پولنگ اسٹیشنز سے لے کر جمہوریت کے اعلیٰ ایوانوں؛ سینٹ، نیشنل اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں تک میں عوام کے ووٹ اور رائے کی ایسی ناقدری کی جاتی ہے کہ کبھی یہ ووٹ خریدا جاتا ہے اور کبھی بیچا جاتا ہے۔ کبھی قبول نہیں کیا جاتا اور کبھی گِنا ہی نہیں جاتا۔ کبھی بلاوجہ اعتراض لگاکر مسترد کردیا جاتا اور کبھی اس کے خلاف کوئی اَور ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور کبھی منتخب ایوان ہی کو چلتا کردیا جاتا ہے۔ انتخابات کے ذمہ دار ادارے ’صوبائی الیکشن کمیشن‘ کی جانب سے ووٹرز لسٹ میں 40 لاکھ لوگوں کو فوت شدگان لکھا گیا، جس کو عدالت میں چیلنج کرنے پر اسے ڈیٹا انٹری کی انسانی غلطی قرار دے کر اصلاح کی گئی۔ اور طُرفہ تماشا یہ ہے کہ اس سارے عمل میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ملک میں جمہوریت کی دعوے دار جماعتوں کے چیمپیئن بھی شامل ہوتے ہیں ۔ 

اور یہ ایک آمرانہ اور جمہوریت شکن روایت کا تسلسل ہے، جس کا آغاز قیامِ پاکستان کے وقت ہوا۔ وہ اس طرح کہ معروف خدائی خدمت گار رہنما باچا خان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عبد الجبار خان صاحب صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے، مگر فقط آٹھ دن بعد یعنی 22؍ اگست 1947ء کو اس وقت کے گورنر جنرل نے ان کی وزارت برطرف کر دی، حال آںکہ اس وقت باچا خان ، کانگریس کی طرف سے ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کو قبول کرنے کے بعد پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں شمولیت کا فیصلہ بھی کر چکے تھے۔

حالیہ عدالتی فیصلے نے جمہوریت کے دعوے داروں کے درمیان اقتدار کی کشمکش کو  بہ ظاہرعارضی اِفاقہ فراہم کیا ہے، لیکن اس فیصلے نے اس جمہوری تماشے کی حقیقت کو بھی واضح کردیا ہے کہ جمہوریت کے دعوے داروں میں اتنا بھی ظرف نہیں کہ وہ الیکشن میں کامیاب ہونے والی پارٹی کو پُر اَمن اور جمہوری طریقے سے اقتدار سپرد کرسکیں۔ اور مزید برآں ارکان کی خریدوفروخت نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ اس نظام کی اَساس اَخلاق، اُصول، جمہوریت اور صالح روایات کے بجائے صرف اور صرف زر اور سرمائے پر ہے۔   (مدیر)

شمارہ ختم

واپس