The fundamentals of human collectivity after the civilization of morality

تہذیبِ اَخلاق کے بعد انسانی اجتماعیت کے بنیادی اُمور
گزشتہ آیات ( 2 - البقرہ: 151تا 162) میں ملتِ ابراہیمیہ کی اَساس پر افرادِ انسانی کے اَخلاق کی تہذیب کے لیے بنیادی اَساسی اُصول اور اُن کی علمی و شعوری اہمیت واضح کی گئی تھی۔ پھر الٰہی علم و شعور کو چھپانے والوں پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت کی وعید سنائی گئی تھی۔ پھر اس سورت میں چوں کہ انسانی اجتماعیت کے مختلف مراحل؛ ارتفاقِ اوّل تا بین الاقوامی ارتفاق سے متعلق‘ اُصولی رہنمائی دی گئی ہے، اس لیے آیات (-2 البقرہ: 163 تا 176) میں ابتدائی درجے کی اجتماعیت؛ ارتفاقِ اوّل سے متعلق بنیادی وسائلِ معاش اور کھانے پینے کے آداب اور اُصول بیان کیے ہیں۔
اس درس کی پہلی آیت (163) تہذیبِ اَخلاق کے گزشتہ بیان کردہ اُصولوں کا خلاصہ ذاتِ باری تعالیٰ کی وحدانیت او راُس کی رحمانیت اور رحیمیت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر دوسری آیت (164) میں اُس ذاتِ واحد کی طرف سے اِس کرۂ ارض پر پیدا کیے گئے بنیادی وسائل معاش کی نشان دہی کی گئی ہے۔ نیز ان وسائلِ معاش پر مشتمل انعامات اور آیات پر عقلی اور شعوری طور پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔
﴿ وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ ﴾ (اور معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے): عربی زبان کا لفظ ’’الٰہ‘‘ دراصل محبت کی علامت ہے۔ ’’اَلَہَ‘‘ یا ’’وَلَہَ‘‘ مادہ جذب و کشش اور محبت پر دلالت کرتا ہے ۔ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمھاری محبت کا مرکز صرف ایک ایسا واحد خدا ہے، جس کی طرف جبلی طور پر انسانیت کا قلب کھنچتا ہے اور اُس کی محبت چاہتا ہے۔ ہندی اور سنسکرت کے محققین علما ’’الٰہ‘‘ کا ترجمہ ’’من موہن‘‘ سے کرتے رہے ہیں۔ ہندی زبان میں ’’من موہن‘‘ کا مطلب اپنے من کی پسندیدہ اور محبوب ذات ہے۔
جب ایک انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اُس میں ’’حُبِ الٰہی‘‘، ’’حُبِ عقلی‘‘ اور ’’حُبِ عشقی‘‘ پیدا ہوجاتا ہے (ان تینوں کی تفصیلات حضرت شاہ محمداسماعیل شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’صراطِ مستقیم‘‘ میں بیان فرمائی ہیں) تو وہ ہر دم اُس ’’الٰہِ واحد‘‘ کے ذکر، اُس کی نعمتوں پر شکر اور اُس کی آزمائشوں پر صبر کی حالت سے لذت پاتا رہتا ہے۔ اس طرح اجتماعیتِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو اس کرۂ ارض پر انعامات کے طور پر وسائلِ معاش رکھے ہیں، انھیں انسان صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں شکر اور استقامت کے ساتھ استعمال میں لاتا ہے۔
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ فرماتے ہیں: ’’لَا اِلٰہَ اِلّا ھُوَ‘‘ میں ’’توحیدِ ذات‘‘ کا اور ’’الرَّحمٰن الرَّحِیم‘‘ میں ’’توحیدِ صفات‘‘ کا ثبوت تھا اور ’’اِنَّ فِی خَلقِ الخ‘‘ میں ’’توحیدِ افعال‘‘ کا ثبوت ہوا، جس سے مشرکین کے شبہات‘ بالکلیہ (مکمل طور پر) مندفع (دور) ہوگئے‘‘۔ (توحید کی ان تینوں قسموں کی تفصیلات کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’تفہیماتِ الٰہیہ‘‘ دیکھیں۔)
﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ﴾ (کوئی معبود نہیں اس کے سوا ،بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا): کلمہ﴿الرَّحْمٰنُ ﴾ اور﴿الرَّحِيمُ﴾ محققین علمائے ربانیین کے نزدیک یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ’’تجلّی اعظم‘‘ اور ’’حظیرۃ القدس‘‘ کے عنوانات ہیں۔ ان کلمات کے ساتھ انسان کا تعلق دراصل ’’تعظیمِ شعائر اللہ‘‘ کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ انسان﴿الرَّحْمٰنُ ﴾کی تجلی کے ذریعے اس دنیا میں موجود انعاماتِ الٰہیہ سے مستفید ہوتا ہے اور﴿الرَّحِيمُ ﴾ کے مقدس حظیرہ اور دائرے سے وہ زندگی کے تمام دُنیوی اور اُخروی مراحل میں مستفید ہوتا ہے۔ اس آیت میں تہذیبِ اَخلاق سے متعلق تمام اُمور جمع ہوگئے۔ ارتفاقِ اوّل سے متعلق معاشی وسائل سے پہلے ان کا ذکر ضروری تھا۔
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ (بے شک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں ): اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتدائے زمانے سے لے کر اب تک‘ انسانیت کے لیے زمین پر رہنے کے لیے جو زراعت، صنعت اور تجارت وغیرہ سے متعلق بنیادی وسائلِ معاش پیدا کیے گئے ہیں، اس آیت مبارکہ میں ان کا بڑی جامعیت کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’ارتفاقات کے دو دائرے ہیں: پہلی حد اور دائرہ وہ ہے، جس سے ناقص اجتماعیت رکھنے والے لوگ بھی خالی نہیں ہوتے، جیسے دیہات اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنے والے اور مرکزی علاقوں اور معتدل آب و ہوا اور موسموں سے دور رہنے والے لوگوں کی اجتماعیت؛ اس کو ہم ’’ارتفاقِ اوّل‘‘ کہتے ہیں‘‘۔ (حُجّۃُ اللّٰہِ البَالِغہ، باب کیفیّۃ استنباط الارتفاقات)
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے انسان سب سے پہلے کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔ انسانوں کا کھانا پینا اور معاشی ضروریات پورا کرنا‘ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی اجتماعیت کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ کوئی فردِ انسان جب بھی اجتماعیت قائم کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہو تو وہ سب سے پہلے معاشی وسائل کے کسب اور حصول کے لیے جدوجہد اور کوشش کرتا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں بیان کردہ وسائلِ معاش کے بارے میں﴿لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ کہا گیا ہے اور عقل و شعور کی بنیاد پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے‘‘۔
’’زمینوں کی تخلیق میں غور و فکر‘‘ سے یہ بات واضح ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ کی زمین مختلف ساخت اور شکل و صورت میں پیدا کی گئی ہے۔ آیت میں زمین کے زرعی اور رہائشی استعمال کے ساتھ ساتھ اس میں چھپے خزانوں اور معدنیات کی طرف بھی اشارہ ہے۔
ایسے ہی آسمانوں کی تخلیق میں اُن تبدیل ہوتے فضائی موسموں کے زمین پر اثرات پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ اس طرح مختلف فصلوں کے پیداواری عمل کو واضح کیا گیا ہے، تاکہ انسان اپنی زندگی کو منظم کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ان زمینی اور آسمانی وسائل کو استعمال میں لاکر اپنی اجتماعیت قائم کرے۔
﴿وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ﴾ (اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں ): کرۂ ارض پر رات دن کے تغیر و تبدل سے مختلف ممالک اور علاقوں کے رہنے والے لوگ _ خواہ اُن کا تعلق سرد علاقوں سے ہو یا گرم علاقوں سے _ اپنے معاشی وسائل کے حصول کے لیے راستے تلاش کرتے اور دن میں سورج کی توانائی اور رات میں چاند کی چاندنی اور ستاروں کی چمک سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔
﴿وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور کشتیوں میں جو کہ لے کر چلتی ہیں دریا میں لوگوں کے کام کی چیزیں ): اس آیت میں نفعِ انسانیت کے لیے کی جانے والی تجارت میں لوگوں کی مشغولیت کی طرف اشارہ ہے۔ خاص طور پر جزیرۃ العرب کے دونوں طرف واقع خلیجِ احمر اور خلیجِ فارس میں کشتیوں کے ذریعے سے سمندر میں تجارتی قافلے سفر کیا کرتے تھے۔ آج بھی دنیا بھر میں مال برداری کے لیے بڑے بڑے بحری جہاز سمندروں کا سینہ چیر کر‘ دور دراز ممالک میں مختلف ملکوں کی پیدا کردہ اشیا پہنچاتے ہیں۔ معاشی وسائل کا بڑا دار و مدار اِسی بحری راستے کے ذریعے عالمی تجارت پر ہے۔
﴿وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ﴾ (اور پانی میں جس کو کہ اتارا اللہ نے آسمان سے پھر جلایا (زندہ کیا) اس سے زمین کو‘ اس کے مرگئے پیچھے): اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے آسمان سے نازل کردہ اُس پانی کا تذکرہ ہے، جس سے بنجر زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ آیت میں زراعت اور کاشت کاری جیسے اہم وسیلۂ معاش کی طرف اشارہ ہے۔ زمین کے لیے پانی ہی زندگی ہے۔ اس سے مردہ زمینوں میں جان آتی ہے، فصلیں اُگتی ہیں، انسانوں کی غذاؤں کا نظم و نسق قائم ہوتا ہے۔ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے نظریے کے تحت دراصل یہ اُسی الٰہِ واحد کا فیضان ہے۔ زرعی معیشت‘ انسانی اجتماعیت کا بنیادی سبب ہے۔ زراعت ہی کے ذریعے سے کھانے پینے کی چیزوں میں وہ بنیادی افادیت پیدا ہوتی ہے، جس پر انسانی زندگی کا مدار ہے۔ نہ صرف یہ کہ پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، بلکہ زمینوں سے اُگنے والی فصلات انسان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾ (اور پھیلائے اس میں سب قسم کے جانور ): اس کرۂ ارض پر انسان کے معاشی وسائل میں ہر طرح کے جانوروں کی نشو و ارتقا بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ چناں چہ انسان کے معاش میں کام آنے والے جانور؛ اونٹ، گائے، بھینس اور گھوڑے وغیرہ پالنا بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ نیز اسی طرح جنگلوں میں پلے ہوئے جانوروں کا شکار‘ انسانی غذائی ضروریات کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں ان تمام جانوروں کی پرورش، ان کی دیکھ بھال، ان کو اپنے کاموں کے لیے استعمال کرنے کی اجتماعی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
﴿وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ ﴾ (اور ہواؤں کے بدلنے میں ): کرۂ ارض پر ہواؤں کا اِدھر سے اُدھر چلنا بھی معاشی حوالے سے بڑی عقلی نشانی رکھتا ہے۔ یہی ہوائیں ہیں، جو بارش کے بادلوں کو کھینچ کر کسی جگہ لاتی ہیں اور پانی برسا کر اس زمین کو زندہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ نیز انسان آلات اور اَوزاروں کے ذریعے سے ہواؤں میں تصرف کرکے چیزوں کو اپنے کام میں لاتا ہے۔ چناں چہ ہواؤں کے ذریعے سے پن چکی چلا کر آٹا پیستا ہے اور کنوؤں سے پانی نکالنے کا طریقہ قدیم زمانے سے انسانوںمیں رائج ہے اور کشتیوں کے رُخ کو ہواؤں سے کنٹرول کرنا اور آج ہواؤں میں تصرفات کے ذریعے سے جدید دور میں ہوائی توانائی(Wind Energy)پیدا کی جا رہی ہے۔ غرض! انسان کے معاشی وسائل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی چلائی ہوئی ہواؤں اور انسان کے اُن میں تصرفات کا بھی بڑا بنیادی دخل ہے۔
﴿وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ﴾ (اور بادل میں جو کہ تابع دار ہے اس کے حکم کا‘ درمیان آسمان و زمین کے ): انسان کے لیے معاشی وسائل کے حصول میں آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیے گئے بادلوں کا بھی بڑا دخل ہے۔ سب سے پہلے تو اس زمینی فضا میں بادلوں کے بننے کا عمل اور مختلف گیسوں کے باہمی تعامل اور کمپیکٹ ہونے سے جو بارش برستی ہے، اور اُس سے زمین پر جل تھل ہو کر انسانی اجتماعیت کے بہت سے اُمور میں رنگ بھرتی ہے، فصلیں اُگاتی ہے اور خوشیاں لاتی ہے۔ آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ :’’اس آیت کے بارے میں میرا ایک خاص نظریہ ہے کہ اس آیت میں سٹیم کو کنٹرول کرکے انجن چلانے اور زمین پر گاڑیاں دوڑانے کے مفہوم کو سمجھا جاسکتا ہے۔ زمین سے دریافت ہونے والی گیسز کے استعمالات نے اس دور میں انسان کے لیے بہت سی فیکٹریاں اور کارخانے چلانے کا سامان بھی پیدا کردیا ہے۔ یہ گیسز اور سٹیم پانی سے حاصل ہوتی ہیں یا تیل سے، یا دونوں کے باہمی تعاون سے ۔ ان کے ذریعے سے فضا میں بڑے ہوائی جہاز چلانا اور سمندروں میں بحری جہاز رواں دواں رکھنا بھی اس میں شامل ہے۔ اور اس دور میں تو اب ان ہی سے بجلی پیدا کرنے کاعمل وجود میں آچکا ہے‘‘۔
﴿لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴾ (بے شک ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے) : ہمارے اس دور میں یہ مذکورہ بالا تمام اُمور انسانی ارتفاقات کے تمام دائروں میں بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ پر ایمان و یقین رکھنے والوں پر یہ لازمی اور ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال کرکے ان تمام اُمور سے مستفید ہوں اور اپنی ہر درجے کی اجتماعیت کو ترقی دینے میں کردار ادا کریں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں ہیں، جو عقل مند قوم ان میں غور و فکر کرے گی، وہ ترقیات کی منازل طے کرے گی۔ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے علاوہ جتنی بھی مسخ شدہ ملتیں اور نظام ہائے زندگی ہیں، وہ علت و معلول اور اسباب و مسبّبات کے تمام دائروں کو محض طبعیات یا فلکیات کی حد تک جوڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک تو ذاتِ باری تعالیٰ کو نہ مان کر بے عقلی کا ثبوت دیتی ہیں، نظامِ اسباب و مسببات کے اصل مسببِ حقیقی؛ ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہونا پرلے درجے کے ذہنی افلاس اور عقلی کوتاہی کا مظاہرہ ہے۔ دینِ اسلام کو ماننے والی انسانی اجتماعیتوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں پر عقلی حوالے سے غور و فکر کرکے ایک طرف الٰہِ واحد کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے اور دوسری طرف اُس کی ان مذکورہ بالا نعمتوں کو انسانی اجتماعیت کی ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے۔
بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجر

بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجر
عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْھُمَا، عَنِ النَّبِیِّﷺ، قَالَ؛ ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہٖ وَ یَدِہٖ، وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ‘‘۔ (الجامع الصحیح للبُخاری، حدیث: 6484)
(حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ (کی ایذا) سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے‘‘۔)
عربی بلاغت کے لحاظ سے یہاں کمالِ اسلام مراد ہے، یعنی مؤمن کے ایمان کا کمال یہ ہے کہ وہ انسانوں کے لیے باعث ِتکلیف نہ ہو۔ ان کی ذہنی کوفت، عزت و آبرو کے لیے خطرہ اور ان کے ذاتی، خاندانی یا اجتماعی حقوق کو نقصان پہنچانے کا باعث نہ ہو۔
ہجرت کے معروف معنی دین پر عمل کرنے کے لیے اپنا گھر بار، وطن چھوڑنے کے برعکس، نبیﷺ نے اس حدیث میں ہجرت کا ایک دوسرا معنی یہ ارشاد فرمایا کہ آپ گناہوں اور اللہ کی نافرمانی کو چھوڑ دیں تو گویا آپ نے ہجرت کا مقام حاصل کر لیا۔ نجی زندگی میں اخلاقیات کی پابندی ضروری ہے، لیکن جب کوئی بداخلاقی اجتماعی صورت اختیار کر لے تو اس کے اَثرات نسلوں اور قوموں کی تباہی و بربادی تک چلے جاتے ہیں۔ اس بنا پر مسلمان کو اپنے گردوپیش کے ماحول کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کیا عمدہ اخلاق عموماً رواج پذیر ہیں اور باہمی معاملات میں انسانوں کی جان، مال، عزت و آبرو کو خطرات تو لاحق نہیں ہیں۔ ایسے میں ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور اجتماعی زندگی کو جامع دین پر گامزن کرنے کی جدوجہد کرے۔
نبیﷺ نے اس حدیث میں زبان سے تکلیف نہ پہنچانے کو پہلے ذکر کیا، چوں کہ زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کا رویہ عام ہے۔ کسی کی عزت و آبرو پر زبان چلا دینا اور بے جا تنقید کر دینا بہت آسان ہے۔ یہ عمل باہمی تعلقات میں خلل ڈالتا ہے۔ دوسرے انسان کو اذیت میں مبتلا کرتا ہے۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے بہ طورِ خاص زبان کے استعمال پر دھیان دینے کا کہا۔ بہ قول ایک عربی شاعر کے زبان کے زخم نہیں بھرتے۔ تلواروں کے زخم بھر جایا کرتے ہیں، زبان کا کھاؤ بڑا گہرا ہوتا ہے یہ خاندانوں اور نسلوں میں لمبی لڑائی کا باعث بن جاتا ہے۔ اور دوسرا ذکر ہاتھ کا کیا کہ اس سے کوئی جانی نقصان ہوسکتا ہے، زخم لگ سکتا ہے، چوٹ لگ سکتی ہے۔
آخر پر آپﷺ نے فرمایا: آپ اگر اللہ کی نافرمانی کے کاموں کو چھوڑ دیں تو یہ ہجرت کے درجے کے مترادف ہے، کیوں کہ ہجرت اللہ کی نافرمانی کے ماحول سے نکلنے اور دین پر عمل درآمد کے لیے ہوتی ہے تو جس نے گناہوں کی زندگی چھوڑ دی تو اس نے ہجرت کامقصد حاصل کرلیا۔
حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ

حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ
حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗخاندانِ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوضحاک‘‘ تھی۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو ’’ابو عبدالملک‘‘ کا لقب بھی دیا تھا۔ ہجرتِ نبوی کے وقت آپؓ کم سن تھے۔ آپؓ بچپن میں ہی اسلام لا چکے تھے۔ آپؓ کے علاتی بھائی بیعتِ عقبہ میں شامل تھے۔ گھریلو ماحول سے متاثر ہوئے اور مسلمان ہوگئے ۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد میں آپؓ کی عمر کم تھی، اس لیے شریک نہ ہوسکے، البتہ غزوۂ احزاب کے وقت 15 برس کی عمر کو پہنچ گئے تھے، اس لیے اس غزوے کے بعد آنے والے تمام غزوات جو عہد رسالت میں ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ شامل رہے۔
حضرت عمرو بن حزمؓ فطری طور پر نہایت صالح اور ذہین و فطین تھے اور بڑے ذوق و شوق سے قرآن حکیم اور احکامِ دین کی تعلیم حاصل کی اور آپ ﷺ کی شفقت اور توجہ کی وجہ سے چند سال کے اندر فضل و کمال کا سرچشمہ بن گئے۔ آپ ﷺ نے بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی قدر کی اور اسی وجہ سے 20 سال کی کم عمری میں ہی بنو حارث بن کعب کا عامل اور معلم بنا کر بھیج دیا۔کتاب ’’الاستیعاب‘‘ میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمرو بن حزمؓ کو اہلِ نجران پر عامل (گورنر) بنایا اور اس سے مراد بنو حارث بن کعب ہے، تاکہ ان میں یہ دین کی سمجھ پیدا کریں، قرآن کی تعلیم دیں اور ان سے صدقات وصول کریں۔ یہ دس ہجری کا واقعہ ہے۔ چلتے وقت رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو ایک تحریری فرمان عطا فرمایا، جس میں اسلام کے فرائض، حدود اور شریعت کے احکام درج تھے۔ امام ابنِ کثیرؒ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ آپؐ نے وفد بنی حارث کے ساتھ ان کا والی بنا کر ان کے قبیلے میں بھیجا، تاکہ ان کو فقاہتِ دین و سنت پر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ جو تحریر عطا فرمائی اس میں ان سے عہد لیا اور خصوصی احکامات دیے۔
ابنِ سعد اس فرمان کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کو یمن بھیجتے وقت آپﷺ نے ایک عہد نامہ تحریر کروایا تھا، جس میں اسلام کے فرائض،شریعت اور حدود کی تعلیم دے دی۔ اس کے کاتب حضرت اُبیٔ ابن کعبؓ تھے۔ اسے ’’فرمانِ نبوی‘‘ یا ’’کتاب‘‘ یا ’’عہدنامہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ مولانا عبد الشہید نعمانیؒ نے اپنی کتاب ’’فرامینِ نبوی‘‘ میں اس خط کے بارے میں لکھا ہے کہ: یہ عہد نامہ کئی وجوہ کی بنیاد پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ایک طرف جہاں اسلام کی بنیادی ارکان کے بارے میں تفصیلات ہیں، وہاں نظم مملکت کے سلسلے میں بھی یہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس میں نہ صرف ایک حکمران کے ضروری اوصاف کی نشان دہی ہے، بلکہ اس کے فرائض کی تفصیل بھی موجود ہے۔ اس عہدنامے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض مواقع پر آپ ﷺ مختلف مناصب اور ذمہ داریاں سونپتے ہوئے عہد بھی لیا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن حزم انصاریؓ کی وفات۵۱ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
حضرت شیخ الہندؒکی فکر: آج کے قومی بحران کا حل

حضرت شیخ الہندؒکی فکر: آج کے قومی بحران کا حل
برطانوی سامراج نے برعظیم پاک و ہند پر اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران صرف سیاسی اقتدار ہی قائم نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی فکری، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی یلغار بھی مسلط کی، جس کا مقصد مسلمانوں کو وحیٔ الٰہی کی رہنمائی سے دور اور مغربی استعماری نظام کے تابع بنانا تھا۔ علمی میدان میں دینِ حق سے بے خبری اور عملی میدان میں سود، استحصال، خود غرضی اور مفاد پرستی کو فروغ دیا گیا، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو اپنی دینی شناخت اور اجتماعی شعور سے محروم ہو جائے۔
اس استعماری منصوبے کے مقابلے میں ولی اللّٰہی تحریک ایک عظیم مزاحمتی قوت بن کر اُبھری۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی انقلابی فکر اور امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے ’’فتویٰ دارالحرب‘‘ سے لے کر امام شاہ محمد اسحاق دہلویؒ، حضرت سیّداحمد شہیدؒ، حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالحئی بڈھانویؒ کی جنگِ بالاکوٹ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی جنگِ شاملی و تھانہ بھون اور قیامِ دار العلوم دیوبند تک ایک مسلسل جدوجہد سامنے آتی ہے، جس کا بنیادی مقصد؛ اسلام کو اپنی اصل روحِ عبادات کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ایک مکمل اجتماعی نظامِ حیات کے طور پر نافذ کرنا تھا۔
اس عظیم سلسلے کی بیسویں صدی کی نہایت مؤثر کڑی شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (1851ء - 1920ء) ہیں۔ انھوں نے ولی اللّٰہی تحریک کو نئی روح، نئی حکمتِ عملی اور نئے تقاضوں کے مطابق منظم کیا۔ بالخصوص مالٹا کی اسیری سے واپسی کے بعد انھوں نے اگلے دور کے قومی تقاضوں کی تشکیل اور ان کے حصول کے لیے جو اُصولی رہنمائی فرمائی اور جن نکات پر عملی جدوجہد کرنے کی طرف توجہ دلائی، وہ آج بھی ہماری قومی زندگی کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے سب سے پہلے منظم اجتماعی زندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے نزدیک منتشر افراد کبھی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے، بلکہ مستحکم تنظیم، سماجی نظم و ضبط اور اجتماعی شعور ہی قوموں کو زندہ کرتا ہے۔ آج جب ہماری اجتماعی قوت مختلف گروہوں، جماعتوں اور مفادات میں تقسیم ہو چکی ہے تو ان کی یہ تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ انھوں نے ہر معاملے میں انجام بینی، پُر عزم احتیاط، ثابت قدمی اور عاقلانہ حکمتِ عملی کو کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ جذباتی فیصلوں اور وقتی نعروں کے بجائے مستقل مزاجی، حکمت اور تدبر ان کی جدوجہد کا بنیادی وصف تھا۔ یہی وہ اُصول ہے جس کی آج کی سیاسی اور سماجی قیادت کو شدید ضرورت ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے غلامانہ تعلیمی نظام سے نجات کو بھی آزادی کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے نزدیک وہ تعلیم جو اپنی صالح تہذیب، دین اور قومی شناخت سے کاٹ دے، درحقیقت ذہنی غلامی پیدا کرتی ہے۔ آج ہماری درس گاہیں محض ملازمت پیدا کرنے والے ادارے تصور ہوتی ہیں، جنھیں کردار، شعور اور قیادت سازی سے کوئی سروکار نہیں۔ ایسے میں حقیقی خود انحصاری اور بامقصد آزادی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے خود غرضی، عیاری اور ذاتی مفادات کی سیاست کو قوموں کی تباہی قرار دیا۔ ان کے نزدیک اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینا ایک ایسی بیماری ہے جو قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ افسوس کہ آج یہی رویہ ایک نظریۂ زندگی بن کر ہمارے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچوں میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ کی فکر میں کسی قوم کی بقا اس کے صحیح شعور پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے فکری، تہذیبی اور سیاسی دشمنوں کو پہچاننے میں ناکام ہو جائے تو اس کی آزادی اور شناخت دونوں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس لیے انھوں نے مسلمانوں کو یہ بنیادی سبق دیا کہ دشمن کو دشمن اور بدخواہ کو بدخواہ سمجھنا ضروری ہے۔انھوں نے اس جانب خصوصی توجہ دلائی کہ اسلام کو عبادات کے مجموعے سے بڑھ کر زندگی کے مکمل نظام کے طور پر جانا جائے۔ چناں چہ سیاست، معیشت، تعلیم، عدالت، اَخلاق اور معاشرت سب اس کے دائرے میں شامل ہیں۔ یہی جامع تصورِ حیات‘ ولی اللّٰہی فکر کی اصل روح ہے، جسے آج شعوری توجہ کے ساتھ سمجھنے اور منظم عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے محض قراردادیں منظور کرنے یا بیانات جاری کرنے کی رسمی کارروائی کے بجائے مسلسل عمل، قربانی اور استقامت کو تبدیلی کی اصل ضمانت قرار دیا اور حقوق کے حصول کے لیے عدم تشدد، صبر، پُرامن احتجاج اور منظم جدوجہد کی راہ دکھائی۔فرقہ واریت سے اجتناب اور گروہیت شکنی ان کی فکر کا اہم ستون تھا۔ وہ امت کو مسلکی تقسیم سے نکال کر مشترکہ قومی اور دینی مقاصد پر متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ آج جب معاشرہ سیاسی، معاشی، مذہبی طور پر مختلف داخلی تقسیموں کا شکار ہے تو ان کی یہ نصیحت پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
انھوں نے کامل آزادی کا تصور پیش کیا۔ ایسی آزادی جو صرف سیاسی اقتدار تک محدود نہ ہو، بلکہ فکری، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی خود مختاری کو بھی اپنے اندر سموئے۔ اسی لیے انھوں نے تنظیمی طاقت، قومی وحدت اور خصوصاً جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں اور کالجوں کے گریجویٹس کو آزادی اور تعمیرِ ملت کی جدوجہد میں شریک ہونے کی دعوت دی۔
آج پاکستان اور پورا خطہ جن فکری انتشار، معاشی بحران، سیاسی عدمِ استحکام، تعلیمی زوال اور اَخلاقی کمزوریوں سے دوچار ہے، ان کا حل محض وقتی اقدامات میں نہیں، بلکہ اس مزاحمتی شعور میں پوشیدہ ہے، جسے حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی پوری زندگی میں پروان چڑھایا۔ ان کے خطوط، بیانات اور عملی جدوجہد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ نظریے، تنظیم، کردار اور اجتماعی عزم سے زندہ رہتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد محض ایک سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و اَخلاقی انقلاب کی دعوت تھی، جس کا مقصد انسان کی فکر، کردار، معیشت، تعلیم اور سیاست سب کو قرآن و سنت کی بنیاد پر استوار کرنا تھا۔ انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ قوموں کی آزادی صرف سرحدوں کی آزادی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ذہنوں کی آزادی، کردار کی پختگی اور اجتماعی شعور کی بیداری بھی ناگزیر ہے۔ اگر قوم کا تعلیمی نظام غلامانہ ہو، معیشت سود اور استحصال پر قائم ہو، سیاست ذاتی مفادات کا شکار ہو اور معاشرہ فرقہ واریت میں بٹ جائے تو محض سیاسی آزادی حقیقی آزادی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ کے پیش کردہ ان اصولوں کو محض تاریخی دستاویزات یا علمی مباحث تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انھیں قومی تعمیرِ نو کا عملی منشور بنایا جائے۔ ہمارے مدارس، جامعات، سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور فکری مراکز اگر تنظیم، دیانت، استقلال، قومی وحدت، دینی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بنا لیں تو ایک نئی فکری بیداری جنم لے سکتی ہے۔ ولی اللّٰہی فکر کا اصل تقاضا یہی ہے کہ قوم اپنے ماضی سے سبق لے، حال کے چیلنجز کا ادراک کرے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے منظم، باکردار اور بااصول قیادت پیدا کرے۔
حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد کا یہی پیغام ہے کہ حالات کی شکایت کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کے لیے میدانِ عمل میں اُترا جائے، صرف قراردادوں اور نعروں پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ علم، کردار، تنظیم اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنایا جائے۔ اگر ہم حضرت شیخ الہندؒ کے اس پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف موجودہ فکری و تہذیبی بحرانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں، بلکہ ایک ایسی خود مختار، باوقار اور عدل وانصاف پر قائم اسلامی ریاست کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں، جو ولی اللّٰہی تحریک اور اکابرینِ ملت کے خوابوں کی حقیقی تعبیر ہو۔ یہی آج کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے اور یہی حضرت شیخ الہندؒ کے افکار سے وفاداری کا عملی تقاضا بھی۔(مدیر)
نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات

’’نفس‘‘ سے متعلق ’’مقامات‘‘ (2)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
(2۔ حیا)
(’’نفس‘‘ کے مقامات میں سے دوسرا مقام ’’حیا‘‘ ہے۔) جب ’’توبہ‘‘ کا مقام مکمل ہوجاتا ہے اور وہ انسانی نفس میں ایک مضبوط ملکہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جلالتِ شان کے سامنے انسان کے نفس میں اضمحلال اور کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ اس حد تک کہ کوئی تبدیل کرنے والا بھی اُسے تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس مقام کو ’’حیا‘‘ کہا جاتا ہے۔
’’حیا‘‘ کا معنی لغت میں یہ ہے کہ انسانی نفس اُن چیزوں سے رُک جائے، جن کو عام طور پر لوگ عیب سمجھتے ہیں۔ پس اس لغوی معنی کو شریعت نے انسانی نفس میں مضبوط ملکہ کی طرف منتقل کردیا، کہ جس کے ذریعے سے انسانی نفس اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے پگھل جائے، جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ اور اس حالت کے سبب سے وہ اُن خیالات کی طرف نہ جھکے، جو شریعتِ الٰہیہ کے مخالف ہوتے ہیں۔
نبی اکرم ْﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’حیا ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح، حدیث 5077) پھر (ایک دورسی حدیث میں) آپ ﷺ نے حیا کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ سے شرم و حیا کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیا کرنے کا حق ہے‘‘ ۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیا کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’حیا کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیا کرنے کا جو حق ہے، وہ یہ ہے کہ: (الف) تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ، (ب) اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں، ان کی حفاظت کرو، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، (ج)اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے۔ پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیا کی، جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے‘‘۔ (جامع ترمذی، حدیث: 2458)
مَیں (شاہ ولی اللہ) کہتا ہوں کہ: کبھی اُس انسان کے لیے جو اپنی جبلت کے ضعف اور کمزوری کی وجہ سے بعض افعال کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتا ہے، عرف میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا حیا والا ہے۔ اور کبھی اُس آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا حیا والا ہے،جو صاحبِ مروّت ہوتا ہے اوروہ ایسا کام نہیں کرتا جس کے پھیل جانے پر لوگ باتیں بنائیں۔ حال آں کہ اس طرح کے دونوں لوگ ایسی ’’حیا‘‘ نہیں رکھتے، جو نفس کے مقامات میں سے کسی درجے میں شمار ہوتی ہے۔
پس نبی اکرم ﷺ نے: (الف) اس حیا کا مرادی معنی اُن افعال کو بیان کرنے سے متعین کردیا جو حیا سے پھوٹتے ہیں۔ (ب) اور آپ ﷺ نے اس سبب کو بھی واضح کردیا، جس سے یہ حیا حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور اس کے قریب تر وہ چیزیں بھی بیان کردیں، جو عام طور پر ’’حیا‘‘ کو لازم ہوتی ہیں۔
چناں چہ حدیث میں آپ ﷺ کے اس ارشاد: (الف) ’’فلیحفظ الرأس‘‘ (یعنی: سر کی حفاظت کرے) سے اُن افعال کو بیان کرنا مقصود ہے، جو انسانی نفس میں موجود ملکہ حیا سے پھوٹتے ہیں۔ اور اس سے مراد یہ ہیں: جو شریعت کے مخالف چیزیں ہوں، اُن کو چھوڑ دے۔ (ب) آپ ﷺ کے اس ارشاد: ’’ولیذکرِ الموت‘‘ (موت کو یاد رکھے) سے اُس سبب کو بیان کرنا مقصود ہے، جو انسانی نفس میں قرار پکڑ لیتا ہے۔ (ج) اور ایسے ہی آپ ﷺ کے اس فرمان: ’’ومن أراد الآخرہ‘‘ (جو آدمی آخرت کا ارادہ رکھتا ہے‘‘ سے حیا کی اُس قریبی چیز کا بیان ہے جس کا تعلق ’’زہد‘‘ سے ہے، اس لیے کہ ’’حیا‘‘ کا مقام، ’’زہد‘‘ کے مقام سے باہر نہیں ہوتا۔
(3۔ ورع اور پرہیزگاری)
پس جب انسانی نفس میں ’’حیا‘‘ کا مقام جم جاتا ہے تو نورِ ایمانی بھی نازل ہوتا ہے اور اُس نورِ ایمانی کے ساتھ قلب کی جبلت مل جاتی ہے۔ پھر وہ نورِ ایمانی‘ قلبی جبلت کے ساتھ مل کر نفس کی طرف بہاؤ کرتا ہے۔ اور وہ انسانی نفس کو شکوک و شبہات سے بچا لیتا ہے۔ اس مقام کو ’’ورع‘‘ کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ:
’’بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں، لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی۔ جو شبہات سے بچا، اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا‘‘۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2494)
اسی طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو چیز تجھے شک میں ڈال دے، اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر، کیوں کہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2773)اسی طرح آپ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ: ’’بندہ حقیقی متقی تب بنتا ہے کہ وہ قابلِ اعتراض چیزوں کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ایسی چیزیں بھی چھوڑدے، جن پر کوئی اعتراض نہیں‘‘۔ (مشکوٰۃ، حدیث: 2775)
مَیں کہتا ہوں کہ: کبھی کسی مسئلے میں دو پہلو آپس میں ایک دوسرے کے متضاد ہوتے ہیں۔ ایک پہلو جائز اور مباح کا ہوتا ہے، جب کہ دوسرا پہلو حرام کا ہوتا ہے:
(الف) شریعت سے ثابت شدہ اصل مسئلے کے ماخذ میں یہ دو پہلو ہوتے ہیں: مثلاً دو حدیثیں آپس میں ایک دوسرے کے متعارض ہیں، یا دو قیاس آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ (ب) یا کسی پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں جواز اور حرام کے احکام کے ذریعے سے ان دونوں کے درمیان شریعت میں مقرر کردہ قاعدے کے مطابق تطبیق دے دی گئی ہے۔ لیکن بندے اور اللہ کے درمیان معاملہ اُس وقت تک صاف نہیں ہوتا، جب تک انسان اُسے چھوڑ نہ دے اور ایسی چیز اختیارکرے، جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہ ہو‘‘۔ (حُجّۃ اللّٰہ البالغہ، أبواب الإحسان، باب: 4، المقامات والأحوال)
سلطنتِ عثمانیہ کے آٹھویں حکمران؛ سلطان بایزید ثانی

سلطنتِ عثمانیہ کے آٹھویں حکمران؛ سلطان بایزید ثانی
سلطان محمد فاتح کے دو بیٹے تھے، جو مختلف صوبوں کے گورنر تھے۔ ایک بیٹا بایزید ثانی اماسیہ کا حاکم تھا تو دوسرا بیٹا جمشید کرمانیہ کا۔ بایزید کا رجحان مذہب و فلسفہ کی طرف تھا۔ وہ سادہ مزاج حلیم الطبع اور شریعت کا پابند تھا۔ شاعری سے بھی خاصی دلچسپی تھی۔ ان تمام خوبیوں کے باوصف وہ فنِ حرب و ضرب اور شجاعت و بہادری میں بھی ممتاز تھا۔دوسرے لڑکے شہزادہ جمشید میں اپنے باپ سلطان محمد فاتح کے زیادہ تر اوصاف پائے جاتے تھے۔ وہ شجاعت و بہادری میں باپ کی طرح تھا۔ حکمرانی و جہاں بانی کی اہلیت خدا داد تھی۔ شاعری کا بھی بہترین ذوق تھا۔سلطان محمد فاتح کا جب انتقال ہوا تو سلطنت کے وزیرِ اعظم نے سلطان کی وفات کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی، تاکہ شہزادہ جمشید قسطنطنیہ پہنچ جائے۔ وزیرِ اعظم‘ شہزادہ جمشید کا حامی تھا اور وہ اس کو تختِ سلطنت پر بٹھانا چاہتا تھا، جب کہ فوج بایزید ثانی کی حامی تھی۔ والد کی وفات کی خبر سن کر شہزادہ بایزید قسطنطنیہ پہنچ گئے اور فوج (ینی چری) کی حمایت سے تختِ سلطنت پر براجمان ہوگئے۔ اُدھر سلطنت کے وزیرِ اعظم کو فوج نے قتل کر دیا۔ اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے اپنے منظورِ نظر شہزادے کو تخت پر بٹھانے کے لیے سلطان محمد فاتح کی وفات کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی۔
فوج نے بایزید ثانی کو سلطان کے منصب پر فائز کرنے کے صلے میں تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مراعات کا مطالبہ کر دیا جو بایزید کو مجبوراً پورا کرنا پڑا۔ اس کے بعد تین سو سال تک فوج کی یہ خودسری اور بے جا مطالبات کی روایت جاری رہی۔ یہ روایت جہاں شاہی خزانے پر بار تھی، وہاں عثمانی سلاطین کے لیے باعثِ خفت بھی تھی۔
عثمانی خاندان کی روایت چلی آرہی تھی کہ کوئی شہزادہ تاج و تخت سے کم پر راضی نہ ہوتا تھا۔ اس لیے سلطان محمد فاتح کے انتقال پر اس کے بیٹوں میں اقتدار کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اس صورتِ حال میں بایزید ثانی اگرچہ تختِ سلطانی پر بیٹھ چکا تھا اور فوج اور دیگر اربابِ سلطنت نے اس کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا تھا، لیکن شہزادہ جمشید نے بغاوت کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے اس نے یہ تجویز پیش کی کہ سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ عثمانی سلطنت کا وہ حصہ جو یورپ میں ہے اس پر بایزید کی حکومت ہو اور ایشیائی صوبوں پر جمشید کی حکومت تسلیم کر لی جائے، لیکن بایزید نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس پر دونوں میں محاذ آرائی شروع ہو گئی۔پہلے مرحلے میں عثمانی سپہ سالار احمد کدک نے شہزادے جمشید کی اس بغاوت کو فرو کیا۔ شکست کھانے پر شہزادہ بھاگ کر مصر چلا گیا اور مصر کے بادشاہ کے یہاں پناہ حاصل کر لی۔ مصر پر اس وقت مملوکوں کی حکومت تھی۔اگلے سال مصر کی فوجی مدد کے ساتھ اور ایشیائے کوچک کے بعض ترک سرداروں کی حمایت سے پھر مقابلے کے لیے کمر بستہ ہوا تو اس بار بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
اب کی بار شہزادہ ’’روڈس‘‘ (یونان کا مشہور جزیرہ جو بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں ترکی کے ساحل سے قریب ہے) پہنچا۔ وہاں کا عیسائی حکمران انتہائی چالاک و عیار تھا۔اس نے ایک طرف تو شہزادہ جمشید کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور دوسری طرف سلطان بایزید ثانی سے رابطہ کرکے شہزادے کو اپنی تحویل میں رکھنے کا پینتالیس ہزار ڈوکاٹ (سونے کا سکہ) کا معاوضہ طلب کیا۔ چناں چہ کئی برس تک یہ شہزادہ ان کی تحویل میں رہا۔ پھر فرانس میں کچھ عرصہ رہا۔ اس وقت یورپ کے یہ حکمران شہزادے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے سلطنتِ عثمانیہ کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ ان منصوبوں میں وہاں کا کلیسا بھی شامل تھا۔
شہزادہ جمشید کے ان حالات پر مشہور برطانوی مؤرخ و مستشرق اسٹینلے لین پول لکھتا ہے کہ: ’’اس وقت دنیائے مسیحیت میں ایک بھی ایسا ایمان دار بادشاہ نہ تھا، جو قیدی پر ترس کھاتا اور کوئی ایسا حکمران جو پوپ اور چارلس ہشتم (شاہِ فرانس) کی عبرت ناک اور ضمیر فروشانہ سازشوں پر نفریں کرتا‘‘۔ اس وقت سے لے کر آج تک یورپ کے ان بھیڑیوں کا یہی سازشی کردار رہا ہے۔ برعظیم کی تاریخ اور دیگر وہ ممالک جہاں یہ قابض ہوئے، وہاں کے حالات و واقعات ان کی بربریت، عہد شکنی اور سازشی رویوں کے عکاس ہیں۔شہزادہ جمشید کو جب یورپ کے ان حکمرانوں اور مذہبی رہنماؤں کے ان ارادوں کا علم ہوا تو اس نے مرتے وقت یہ دعا کی: ’’اے میرے رب! اگر دینِ حق کے یہ دشمن چاہتے ہیں کہ میری ذات کو آلہ کار بنا کر ان منصوبوں کو پورا کریں، جو انھوں نے مسلمانوں کی بربادی کے بنا رکھے ہیں تو آج کے بعد مجھے زندہ نہ رکھ اور میری روح کو اپنی طرف اٹھا لے‘‘۔ اور اس طرح فاتحِ قسطنطنیہ کا یہ جوان ہمت بیٹا 36 سال کی عمر میں قیدِ فرنگ اور قیدِ حیات دونوں سے آزاد ہو گیا۔ سلطان بایزید ثانی نے اس کی میت کو یورپ سے منگوا کر شاہی اعزاز و اکرام کے ساتھ ’’بروصہ‘‘ میں سپردِ خاک کیا۔
سلطان بایزید ثانی کے عہدِ حکومت کا دورانیہ 1481ء سے 1512ء پر مشتمل ہے۔ ان کا طرزِ حکومت اس لحاظ سے منفرد تھا کہ انھوں نے صلح، امن اور علم و حِلم سے رعایا کے دلوں پر حکمرانی کی۔1492ء میں جب سپین کے صلیبیوں نے اندلس کے مسلمانوں اور یہودیوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی اور ان کو سپین سے نکالنا شروع کیا تو اس وقت کی دیگر سلطنتیں آج کی طرح خاموش تھیں، لیکن سلطنتِ عثمانیہ کے اس حکمران نے خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ ایسے وقت میں مسلمانوں اور یہودیوں کی مدد کی۔ اپنی بحریہ کے ذمہ داروں کو حکم دیا کہ وہ ان مظلوموں کو سپین سے نکال کر عثمانی علاقوں میں آباد کریں۔ چناں چہ انھیں قسطنطنیہ، ازمیر اور دیگر شہروں میں آباد کیا گیا۔ ان کے ہنرمندوں کے ہنر سے فائدہ اٹھایا گیا، جس سے عثمانی سلطنت میں معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ بایزید کے دورِ حکومت میں بہت سے علمی ادارے قائم ہوئے، مساجد، ہسپتال اور کارواں سرائے تعمیر ہوئیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دور میں سلطنت مستحکم ہوئی، تاہم اندرونی خانہ جنگی کی وجہ سے مشکلات بھی پیش آئیں۔
قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی

قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی
11؍ جولائی 2025ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں دورۂ تفسیر کی تکمیل کے موقع پر خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! دو ہفتے سے جاری دورۂ تفسیر قرآن حکیم میں ہم سب اس عزم اور ارادے کے ساتھ شریک ہوئے کہ اللہ کی کتاب کو سمجھیں گے، اس کے مطابق اپنے اخلاق و اعمال اور اپنے احوال پیدا کریں گے، اور پھر اپنی اپنی جگہوں پر جا کر قرآنی تعلیمات کے عملی تقاضوں کی تکمیل کریں گے۔ الحمد للہ! ان دو ہفتوں میں ہم نے کتاب مقدس قرآن حکیم کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور اس کے بنیادی پیغام کو جاننے کی کوشش کی ہے۔
امام ترمذیؒ اپنی کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث (نمبر 2906) نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’عنقریب بہت سے فتنے پیدا ہوں گے، آزمائشیں آئیں گی‘‘۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ ان فتنوں سے بچنے اور سیدھے راستے پر قائم رہنے کا کیا طریقہ ہے؟ تو آپ ﷺ ْ نے فرمایا کہ: فتنوں سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی کتاب قرآن حکیم (کے ساتھ مضبوط تعلق )ہے۔ یہ کتاب ایسی عظیم الشان ہے جس میں تم سے پہلے کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ ماضی کی قوموں کا عروج و زوال، معاشروں کی تباہی و بربادی اور انبیا علیہم السلام اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اس میں بیان کی گئی ہے۔ انسان ان واقعات سے رہنمائی حاصل کر کے ان فتنوں سے نکلنے کا راستہ پا سکتا ہے۔ خصوصاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ غلامی اور پستی کی حالت سے نکلنے کے لیے کس طرح جدوجہد کی جاتی ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ: اس کتاب میں بعد میں آنے والے حالات اور رہنمائی کے اصول بھی موجود ہیں۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ جتنا بھی اس میں غور و فکر کیا جائے، اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ علما ہر دور میں اس سے نئے علمی نکات اور مسائل کے حل تلاش کرتے رہیں گے، لیکن اس کے معارف اور عجائبات میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔ قیامت تک نئے تقاضوں اور نئے مسائل کے حل کے لیے اس کتاب سے رہنمائی ملتی رہے گی۔قرآن حکیم بار بار پڑھنے سے بوسیدہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر دم تازہ رہتا ہے۔ اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس کی مٹھاس دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ا نھیں سیراب کرتی ہے۔ جو شخص تدبر اور توجہ کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہے، وہ نورِ الٰہی کے سائے میں آجاتا ہے اور اس کے وجود میں یہ نور سرایت کر جاتا ہے۔قرآنِ حکیم وہ نورِ الٰہی ہے، جس کی روشنی میں ہم سوسائٹی کے مسائل کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کتاب مقدس میں بے شمار علوم اور عظیم خزانے موجود ہیں، اور انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اس کی رہنمائی سے وابستہ رہے‘‘۔
قرآنی علوم کی تفہیم کا ولی اللّٰہی منہج
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ادارہ رحیمیہ میں ہونے والے دورۂ تفسیر کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ہم اس میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ان علوم و افکار کی روشنی میں قرآن حکیم کو سمجھتے ہیں، جو اعلیٰ درجے کی حکمت پر مبنی ہیں۔ حکمتِ شاہ ولی اللہ کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ جیسا دور ہو اور جیسی صورت حال ہو، اس کے مطابق قرآنی حکمتِ عملی اور امور کو سمجھنے کی رہنمائی ملتی ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ یہ دور عقل و برہان کا دور ہے، اس لیے ضروری ہے کہ قرآنی علوم کی عقلی بنیادوں اور اس کے شعوری منہج کو سمجھا جائے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اصولِ تفسیر اور علم التفسیر پر جو اعلیٰ درجے کی علمی گفتگو کی ہے، اسے پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ دورۂ تفسیر عمومی دوستوں کے لیے ہے اور اس میں عام فہم باتیں بیان کی جاتی ہیں تاکہ ایک بنیادی نظریہ متعین ہو جائے، لیکن صرف عمومی باتوں پر اکتفا کرنا کافی نہیں۔ شاہ صاحبؒ کے علوم کی گہرائی اور ولی اللّٰہی سلسلے کے اکابرین کی بنیادی خصوصیات کو سمجھنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر دورہ ہائے تفسیر صرف آسان اور سہل باتوں تک محدود ہو جائیں اور شاہ صاحب کی علمی کتابوں پر گفتگو نہ ہو تو یہ علوم رفتہ رفتہ مٹ جائیں گے اور ان کی اہمیت کم ہو جائے گی۔
امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتابوں پر غور و فکر کیا اور ان کی روشنی میں قرآن حکیم کی عربی، سندھی اور اُردو زبانوں میں ایک منظم تفسیر لکھوائی۔ اس کے پس منظر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا علمی منہج اور نظمِ قرآنی کارفرما ہے، جس کی بنیاد پر آیات کی ترتیب اور سورتوں کی تفہیم بیان کی جاتی ہے۔ لیکن چوں کہ ہم امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم سے پوری طرح آگاہ نہیں، اس لیے اکابر کی بہت سی علمی گفتگو ہمارے لیے دشوار اور ناقابلِ فہم محسوس ہوجاتی ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک طرف بچوں اور ابتدائی درجے کے طلبا کے لیے قرآن حکیم کی تعلیمات سے وابستگی کے اصول بیان کرتے ہیں، اور دوسری طرف قرآن حکیم کے اعلیٰ ترین علوم و مضامین کی بھی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ نظمِ اجتماعی کے قیام کے لیے نظمِ قرآنی (الفاظِ قرآنی) کی پابندی ضروری ہے اور شاہ صاحب نے قرآن کے مطالبات، اس کے طبیعی نظام اور اس کے سسٹم پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔
انسان کی ترقی دو چیزوں سے ہوتی ہے: ایک علم، جو اس کے دماغ اور وجود کو روشن کرے، اس کی سوچ کو پختہ بنائے اور اسے شک و وہم سے نکال کر علمِ یقینی تک پہنچائے۔ یہی علمِ یقینی معاشروں کے نظمِ اجتماعی کی بنیاد بنتا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اس علم کے نتیجے میں انسان پر ایک قلبی کیفیت اور وِجدانی حالت طاری ہو، جس سے اعمال صادر ہوں۔ یہی ’’حالتِ الٰہیہ‘‘ ہے۔ قرآن حکیم انسان کو علمِ یقینی بھی عطا کرنا چاہتا ہے اور اس علم کے مطابق احوال، کیفیات اور اَخلاق بھی پیدا کرنا چاہتا ہے‘‘۔
قرآنی علوم کی بنیادیں اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تصورِ تفسیر
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن حکیم کی آیات اور سورتوں کا اسلوب اور اس کے مضامین کے فہم کا ایک بنیادی سسٹم بھی بیان فرمایا۔ شاہ صاحبؒ نے ’’الفوز الکبیر‘‘ میں قرآن حکیم کے پانچ علوم بیان کیے ہیں، ان کے نتیجے میں جو علم التفسیر وجود میں آئے گا، اس کے درجِ ذیل 10 بنیادی نکات متعین کیے ہیں(دیکھئے! ’’تفہیماتِ الٰہیہ‘‘):
1۔ جمہور انسانوں کے حقوق غصب کرنے والے سرمایہ پرست مذہبی اور سیاسی گروہوں کی سطحی انسانیت دشمن سوچ کی نشان دہی
2۔انسانیت کے تسلیم شدہ ارتفاقات اور اَخلاقیات کی ترغیب اور بداَعمالیوں سے ترہیب
3۔آیاتِ عظمیٰ اور نعمتِ کبریٰ پر غور وفکر اور حالتِ الٰہی طاری کرنے کی دعوت
4۔ ایمانِ حقیقی پیدا کرنے والی آیات پر غور وتدبُّر
5۔ ماضی میں انبیا علیہم السلام کے بارے میں قرآنی واقعات اور ان کی اُمتوں کے قصوں سے انسانی زندگی میں درست اَحوال واَخلاق پیدا کرنے کی دعوت
6۔انسانیت کے مُسلَّمہ سچے اُصولوں اور ضابطوں میں ہونے والی تحریفات کا ردّ
7۔ارتفاقات و اقترابات سے متعلق انعامات کی تمثیلات سے حالتِ الٰہی پیدا کرنا
8۔معاد (احوالِ آخرت) سے حالتِ الٰہی کی کیفیت طاری کرنا
9۔ انسانیت کے اعمالِ فاسدہ اور ان کی قباحت اور دنیا اور آخرت میں نتائج کا بیان
10۔ قرآنی سورتوں کے تین طرح کے اسالیب : بعض سورتیں فرمانِ شاہی کی طرح، بعض قصیدے کے انداز میں اور بعض مختصر قطعات کی صورت میں نازل ہوئی ہیں، جن کے ذریعے قرآن اپنے مضامین مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ علم تفسیر پر جب ہم گفتگو کریں گے تو یہ 10 بنیادی علوم ہمارے پیشِ نظر رہنے چاہئیں۔ ان دس بنیادی امور کے ذریعے سے اصل نقطہ وہ ہے، جو انسانوں میں ایمانِ حقیقی پیدا کرنا ہے، اس کے گرد جو حالات و رسومات کے غلاف چڑھ چکے ہیں، ان کو پھاڑنا ہے، اور ایسی حالت طاری کرنی ہے جس کے ذریعے سے وہ اصل ایمان حقیقی کا نقطہ اُبھر کر سامنے آجائے، تعلق مع اللہ پیدا ہو جائے، اللہ کے اس نظام پر یقین پیدا ہو جائے، اور وہ اللہ کی مخلوق کے لیے ارتفاقات اور اَخلاق کی بنیاد پر اپنا قومی اور بین الاقوامی نظام بنائے۔ ان علوم تفسیر کے ذریعے سے ایمان کی یقینی حالت پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ منہج ہے جو امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن فہمی اور شعور کے اعتبار سے متعین کیا ہے۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک علمِ تفسیر کا مقصد صرف آیات کی تشریح نہیں بلکہ انسان میں علمِ یقینی، ایمانِ حقیقی، اصلاحِ احوال، اخلاقِ حسنہ اور اللہ کے نظام پر کامل یقین پیدا کرنا ہے، تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں قرآن کی رہنمائی میں درست راستے پر قائم ہو سکیں‘‘۔
پیغامِ قرآن کی امانت اور ہماری ذمہ داری
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’الحمدللہ! دورۂ تفسیر قرآن حکیم کے سلسلے میں دو ہفتوں کے اس قیام میں قرآن حکیم کی آیات اور سورتوں کے حوالے سے جو گفتگو سنی گئی، اس کا مقصد انسانیت کے نام قرآن کا بنیادی پیغام، غور و فکر کی دعوت اور اس منہج کو سمجھنا ہے، جسے ولی اللّٰہی اسلوب کی اساس پر شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسنؒ اور حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اختیار کیا۔ اب ضروری ہے کہ یہاں حاصل ہونے والے علم، اجتماعی حالت اور کیفیت کو محفوظ رکھا جائے۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ ان تعلیمات پر عمل کیا جائے، ان کی دعوت دی جائے، اس کے مطابق ماحول بنایا جائے اور نئی نوجوان نسل تک اس پیغام کو منتقل کیا جائے۔
ہر انسان ایمانِ حقیقی پر پیدا ہوتا ہے، اس لیے ہر انسان محترم ہے۔ ماحول، رسم ورواج اور غلط تصورات نے اس پر جو غلاف چڑھا دیے ہیں، انھیں حکمتِ عملی سے دور کرنا ضروری ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بیان کے مطابق قرآن حکیم کی ’’موعظتِ حسنہ‘‘ کا مقصد ’’اوہامِ ظلمانیہ‘‘ اور ’’مدارکِ ظلمانیہ‘‘ کو ’’انوارِ قدسیہ‘‘ کے ذریعے توڑنا ہے۔ یعنی: قرآن کے عقلی اور شعوری دلائل کے ذریعے ان غلط تصورات اور بیانیوں کا ازالہ کرنا ہے، جو انسان کے فہم پر حاوی ہو چکے ہیں۔
آج امت کو خصوصاً اس بات کی ضرورت ہے کہ غلامی کے دور میں پیدا ہونے والے وہ بیانیے، جو تعلیم، سیاست، معیشت، سماج اور قومی تعمیر کے نام پر ذہنوں پر مسلط ہیں، قرآن کے انواراتِ قدسیہ کی روشنی میں ختم کیے جائیں۔ یہاں قہر سے مراد زبردستی نہیں بلکہ عقل، شعور اور مضبوط دلائل کا سلسلہ ہیں۔ انسانیت کا احترام برقرار رکھتے ہوئے غلط خیال کو توڑنا ہے، انسان کو نہیں۔ خیالات‘ مکالمے، بحث اور حسنِ استدلال سے بدلتے ہیں، توہین اور تذلیل سے نہیں۔دعوت کا اسلوب حکم چلانے کا نہیں بلکہ مشاورت، رفاقت اور خیرخواہی کا ہونا چاہیے۔ داعی کا کام لوگوں کے منفی، ظلمانی خیالات اور شکوک و شبہات کو دور کرنا ہے اور بہ تدریج قرآنی پیغام کے انواراتِ مقدسہ، مدارکِ نورانیہ اور یقین کے رنگ میں ان کے افکار، احوال، اعمال اور اخلاق کو ڈھالنا ہے۔ اس کے لیے علوم کے ساتھ احوال و مقامات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اس بنیاد پر قرآن کی دعوت کو اپنی سوسائٹی، ماحول، نوجوانوں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک تمام جہادوں میں سب سے اعظم الانواع انسانوں کو ہدایت کے راستے پر لانا ہے۔ انبیا علیہم السلام اسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے کہ وہ انسانیت کو ظلمانی مدارک سے نکال کر نورانی خیالات، احوال اور اعمال کی طرف لے آئیں۔ لہٰذا ایک سچے مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ اس منہج کو سمجھے، اپنے اخلاق، اعمال اور احوال کو درست کرے، صالح ماحول پیدا کرے اور نئی نسل کو اس ماحول میں شامل کرنے کے لیے اجتماعی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فریضے کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ آمین!
شہیدِ وطن شہیداللہ بخش سومروؒ

شہیدِ وطن شہیداللہ بخش سومروؒ
سندھ دھرتی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے ماضی کے ہر دور میں ایسے حکمران میسر آئے، جنھوں نے وطنِ عزیز میں سیاسی وحدت اور ارتقا میں نمایا ں کردار ادا کیا۔ انھیں شخصیات میں ایک نمایاں نام شہید اللہ بخش سومروؒ کا ہے۔
شہید اللہ بخش سومروؒ اگست 1900ء میں شکار پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ گرامی کا نام محمد عمر سومرو تھا۔ ابتدائی تعلیم شکار پور ہی میں حاصل کی۔ کم عمری میں والدِ گرامی کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کی وجہ سے خاندان کی ساری ذمہ داریاں ان ہی کے کندھوں پر آ گئیں۔ مزاجاً سماجی اور اجتماعی طبیعت کے حامل شخص تھے۔ اسی بنا پر 1923ء میں جیکب آباد کی میونسپل کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔ سماجی رابطوں اور اجتماعی مسائل کے حل میں ان کی کاوشوں کی وجہ سے 1928ء میں میونسپل بورڈ کے صدر منتخب ہوئے۔ فروری 1937ء کے عام انتخابات میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کی جانب سے لیجسلیٹو کونسل کے ممبر منتخب ہوئے اور پھر ایک سال بعد مارچ 1938ء میںوزیر اعظم سندھ کا حلف اٹھایا۔
یہ وہ دور تھا، جب ہندوستان کی تقریباً تمام بڑی جماعتیں امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو اپنے وطن ہندوستان واپس لانے کے لیے تحریکات چلا رہی تھیں۔ انھیں کاوشوں میں ایک نمایاں نام سردار محمد امین خان کھوسوؒ کا بھی تھا۔ سردار صاحبؒ اس وقت سندھ اسمبلی کے ممبر اور شہیداللہ بخش سومروؒ کے بہت ہی قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے ۔ ان دونوں حضرات نے باہم مل کر یہ ضمانت دلوائی کہ مولانا سندھی واپسی پر عدم تشدد کے پابند ہو کر سیاسی کام کریں گے۔ تب کہیں جا کر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو وطن واپسی کی اجازت ملی۔ امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو ہندوستان میں واپس لانے کی تحریک‘ وزیرِ اعظم سندھ سر غلام حسین ہدایت اللہ کے دور میں شیخ عبدالمجید سندھیؒ کے ایما پر بھی چلی، لیکن حکومتِ وقت اس وقت کسی قسم کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ بعد ازاں جب سردار محمدامین خان کھوسوؒ کی کوششوں سے یہ موقع شہید اللہ بخش سومرو کو ملا تو انھوں نے بذاتِ خود اس مسئلے کے حل میں حصہ لیا اور حکومتِ سندھ کی جانب سے ضمانت فراہم کی۔ 7؍ مارچ 1939ء کو جب حضرت سندھیؒ وطن واپس تشریف لائے تو شہید اللہ بخش سومروؒ نے خود کراچی کی بندرگاہ منوڑہ میں جا کر آپؒ کا استقبال کیا ۔
شہید موصوفؒ کے ساتھ امامِ انقلابؒ کی ایک طویل ملاقات کا اہتمام حافظ الملت سردار محمد امین کھوسوؒ نے کیا تھا۔ یہ ملاقات سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طویل ملاقات کے بعد سردار امین کھوسوؒ کا کہنا یہ تھا کہ: ’’شہید اللہ بخشؒ کی سیاست کی بنیادیں اسی ملاقات میں ہی استوار ہوئی تھیں، یہاں سے ان کی سیاسی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا‘‘۔
شہید اللہ بخشؒ نے وزیرِ اعظم سندھ کے عہدے کے دوران تعلیم پر خاص توجہ دی، لائبریریاں قائم کیں، تاکہ مطالعے کا رُحجان پیدا کیا جا سکے۔اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا، تاکہ لوگ اس شعبے کی جانب متوجہ ہوں۔ نہری نظام کو بہتر بنایا۔ انتظامی حوالے سے ان کا یہ فیصلہ تاریخ میں رقم ہے کہ کابینہ کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کے بجائے عام عوام کو سہولتیں دیں۔ ہندو و مسلم کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، تاکہ ملکی ترقی میں اتحاد و اتفاق سے حصہ لیا جائے۔ شہید موصوفؒ کے یہی اقدامات تھے کہ سندھ بھر کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں میں مشترکہ مقبول تھے۔
1942ء میں جب دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آیا اور خدشہ تھا کہ عام کاشت کاروں اور ہاریوں کا بہت زیادہ نقصان ہوجائے گا، اس دوران موصوفؒ نے یہ حکم دیا کہ پانی کا رُخ ان کی اپنی زمینوں کی جانب موڑ دیا جائے، تاکہ کسانوں کو اس سیلابی ریلے کے نقصان سے بچایا جا سکے۔
شہید موصوفؒ نے انگریز سرکار کے ان تمام اقدامات کی مخالفت کی، جس سے قوم کو نقصان ہوتا ہو۔ ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ تحریک کے دوران انھوں نے گورنر سندھ برٹش گورنمنٹ اور وائسرائے کو ایک خط لکھ کر یہ احتجاج کیا تھا کہ اُس نے اپنی تقریر میں ہندوستان کے سیاسی لیڈروں کی توہین کی ہے۔ اس بات نے انگریز سرکار کو بے حد ناراض کر دیا اور سرکار نے اُن کو کہا کہ وہ معافی مانگیں، یا پھر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ شہید اللہ بخش سومروؒ نے بجائے استعفیٰ دینے کے سرکار کی طرف سے دیے ہوئے ’’خان بہادر‘‘ اور ’’آرڈر آف برٹش ایمپائر‘‘ ٹائٹل واپس کیے، جس نے برٹش حکومت کو آگ بگولا کر دیا۔ سرکار نے انھیں اس عہدے سے 10؍ اکتوبر 1942ء کو فارغ کر دیا۔ ان کی جگہ پھر دوبارہ سرغلام حسین ہدایت اللہ کو سندھ کا پرائم منسٹر بنایا گیا، جن کا اقتدار پاکستان بننے تک جاری رہا۔
ایک دفعہ شکار پور کے نواح میںایک شخص کے آنے کی اطلاع ملی کہ وہ ڈھونگی آدمی مجبور اور پریشان حال عورتوں کو نقلی تعویذ دے کر لوٹ رہا ہے تو شہید موصوفؒ ٹانگے پر بیٹھ کر اس طرف نکل پڑے، تا کہ اسے سمجھایا جائے کہ وہ ان سے کچھ پیسے لے کر کوئی اَور کاروبار کرے اور یہ فراڈ نہ کرے، مگر ان کی آمد کا سن کر وہ کہیں بھاگ گیا۔ جب وہ ٹانگے پر واپس آ رہے تھے کہ اسی ڈھونکی آدمی کے کچھ لوگوں نے ان پر پستول کے فائر کردیے، جس سے وہ 14؍ مئی 1943ء کو شہید ہو گئے۔
شہیداللہ بخش سومروؒ دو مرتبہ ( 1938ء تا 1940ء اور پھر1941ء سے 1942ء) سندھ کے وزیرِ اعظم (اس وقت ’پریمیئر‘ کہلاتے تھے ) رہے۔ ان کا دورِ حکومت‘ سندھ کی ترقی کا سنہرا دور کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔ان کا مزار شکار پور میںمحلہ ’’ہاتھی در‘‘ کے پنج پیر قبرستان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مرقد پر اپنی خاص رحمتوں کی بارش فرمائے ۔ آمین!
End of issue
Back
