

حضرت شیخ الہندؒکی فکر: آج کے قومی بحران کا حل
برطانوی سامراج نے برعظیم پاک و ہند پر اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران صرف سیاسی اقتدار ہی قائم نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی فکری، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی یلغار بھی مسلط کی، جس کا مقصد مسلمانوں کو وحیٔ الٰہی کی رہنمائی سے دور اور مغربی استعماری نظام کے تابع بنانا تھا۔ علمی میدان میں دینِ حق سے بے خبری اور عملی میدان میں سود، استحصال، خود غرضی اور مفاد پرستی کو فروغ دیا گیا، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو اپنی دینی شناخت اور اجتماعی شعور سے محروم ہو جائے۔
اس استعماری منصوبے کے مقابلے میں ولی اللّٰہی تحریک ایک عظیم مزاحمتی قوت بن کر اُبھری۔ حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی انقلابی فکر اور امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے ’’فتویٰ دارالحرب‘‘ سے لے کر امام شاہ محمد اسحاق دہلویؒ، حضرت سیّداحمد شہیدؒ، حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالحئی بڈھانویؒ کی جنگِ بالاکوٹ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی جنگِ شاملی و تھانہ بھون اور قیامِ دار العلوم دیوبند تک ایک مسلسل جدوجہد سامنے آتی ہے، جس کا بنیادی مقصد؛ اسلام کو اپنی اصل روحِ عبادات کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ایک مکمل اجتماعی نظامِ حیات کے طور پر نافذ کرنا تھا۔
اس عظیم سلسلے کی بیسویں صدی کی نہایت مؤثر کڑی شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ (1851ء - 1920ء) ہیں۔ انھوں نے ولی اللّٰہی تحریک کو نئی روح، نئی حکمتِ عملی اور نئے تقاضوں کے مطابق منظم کیا۔ بالخصوص مالٹا کی اسیری سے واپسی کے بعد انھوں نے اگلے دور کے قومی تقاضوں کی تشکیل اور ان کے حصول کے لیے جو اُصولی رہنمائی فرمائی اور جن نکات پر عملی جدوجہد کرنے کی طرف توجہ دلائی، وہ آج بھی ہماری قومی زندگی کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے سب سے پہلے منظم اجتماعی زندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے نزدیک منتشر افراد کبھی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے، بلکہ مستحکم تنظیم، سماجی نظم و ضبط اور اجتماعی شعور ہی قوموں کو زندہ کرتا ہے۔ آج جب ہماری اجتماعی قوت مختلف گروہوں، جماعتوں اور مفادات میں تقسیم ہو چکی ہے تو ان کی یہ تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ انھوں نے ہر معاملے میں انجام بینی، پُر عزم احتیاط، ثابت قدمی اور عاقلانہ حکمتِ عملی کو کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ جذباتی فیصلوں اور وقتی نعروں کے بجائے مستقل مزاجی، حکمت اور تدبر ان کی جدوجہد کا بنیادی وصف تھا۔ یہی وہ اُصول ہے جس کی آج کی سیاسی اور سماجی قیادت کو شدید ضرورت ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے غلامانہ تعلیمی نظام سے نجات کو بھی آزادی کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے نزدیک وہ تعلیم جو اپنی صالح تہذیب، دین اور قومی شناخت سے کاٹ دے، درحقیقت ذہنی غلامی پیدا کرتی ہے۔ آج ہماری درس گاہیں محض ملازمت پیدا کرنے والے ادارے تصور ہوتی ہیں، جنھیں کردار، شعور اور قیادت سازی سے کوئی سروکار نہیں۔ ایسے میں حقیقی خود انحصاری اور بامقصد آزادی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے خود غرضی، عیاری اور ذاتی مفادات کی سیاست کو قوموں کی تباہی قرار دیا۔ ان کے نزدیک اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینا ایک ایسی بیماری ہے جو قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ افسوس کہ آج یہی رویہ ایک نظریۂ زندگی بن کر ہمارے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچوں میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ کی فکر میں کسی قوم کی بقا اس کے صحیح شعور پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے فکری، تہذیبی اور سیاسی دشمنوں کو پہچاننے میں ناکام ہو جائے تو اس کی آزادی اور شناخت دونوں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس لیے انھوں نے مسلمانوں کو یہ بنیادی سبق دیا کہ دشمن کو دشمن اور بدخواہ کو بدخواہ سمجھنا ضروری ہے۔انھوں نے اس جانب خصوصی توجہ دلائی کہ اسلام کو عبادات کے مجموعے سے بڑھ کر زندگی کے مکمل نظام کے طور پر جانا جائے۔ چناں چہ سیاست، معیشت، تعلیم، عدالت، اَخلاق اور معاشرت سب اس کے دائرے میں شامل ہیں۔ یہی جامع تصورِ حیات‘ ولی اللّٰہی فکر کی اصل روح ہے، جسے آج شعوری توجہ کے ساتھ سمجھنے اور منظم عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
حضرت شیخ الہندؒ نے محض قراردادیں منظور کرنے یا بیانات جاری کرنے کی رسمی کارروائی کے بجائے مسلسل عمل، قربانی اور استقامت کو تبدیلی کی اصل ضمانت قرار دیا اور حقوق کے حصول کے لیے عدم تشدد، صبر، پُرامن احتجاج اور منظم جدوجہد کی راہ دکھائی۔فرقہ واریت سے اجتناب اور گروہیت شکنی ان کی فکر کا اہم ستون تھا۔ وہ امت کو مسلکی تقسیم سے نکال کر مشترکہ قومی اور دینی مقاصد پر متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ آج جب معاشرہ سیاسی، معاشی، مذہبی طور پر مختلف داخلی تقسیموں کا شکار ہے تو ان کی یہ نصیحت پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
انھوں نے کامل آزادی کا تصور پیش کیا۔ ایسی آزادی جو صرف سیاسی اقتدار تک محدود نہ ہو، بلکہ فکری، تعلیمی، معاشی اور تہذیبی خود مختاری کو بھی اپنے اندر سموئے۔ اسی لیے انھوں نے تنظیمی طاقت، قومی وحدت اور خصوصاً جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں اور کالجوں کے گریجویٹس کو آزادی اور تعمیرِ ملت کی جدوجہد میں شریک ہونے کی دعوت دی۔
آج پاکستان اور پورا خطہ جن فکری انتشار، معاشی بحران، سیاسی عدمِ استحکام، تعلیمی زوال اور اَخلاقی کمزوریوں سے دوچار ہے، ان کا حل محض وقتی اقدامات میں نہیں، بلکہ اس مزاحمتی شعور میں پوشیدہ ہے، جسے حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی پوری زندگی میں پروان چڑھایا۔ ان کے خطوط، بیانات اور عملی جدوجہد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ نظریے، تنظیم، کردار اور اجتماعی عزم سے زندہ رہتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد محض ایک سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و اَخلاقی انقلاب کی دعوت تھی، جس کا مقصد انسان کی فکر، کردار، معیشت، تعلیم اور سیاست سب کو قرآن و سنت کی بنیاد پر استوار کرنا تھا۔ انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ قوموں کی آزادی صرف سرحدوں کی آزادی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ذہنوں کی آزادی، کردار کی پختگی اور اجتماعی شعور کی بیداری بھی ناگزیر ہے۔ اگر قوم کا تعلیمی نظام غلامانہ ہو، معیشت سود اور استحصال پر قائم ہو، سیاست ذاتی مفادات کا شکار ہو اور معاشرہ فرقہ واریت میں بٹ جائے تو محض سیاسی آزادی حقیقی آزادی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ کے پیش کردہ ان اصولوں کو محض تاریخی دستاویزات یا علمی مباحث تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انھیں قومی تعمیرِ نو کا عملی منشور بنایا جائے۔ ہمارے مدارس، جامعات، سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں اور فکری مراکز اگر تنظیم، دیانت، استقلال، قومی وحدت، دینی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بنا لیں تو ایک نئی فکری بیداری جنم لے سکتی ہے۔ ولی اللّٰہی فکر کا اصل تقاضا یہی ہے کہ قوم اپنے ماضی سے سبق لے، حال کے چیلنجز کا ادراک کرے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے منظم، باکردار اور بااصول قیادت پیدا کرے۔
حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد کا یہی پیغام ہے کہ حالات کی شکایت کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کے لیے میدانِ عمل میں اُترا جائے، صرف قراردادوں اور نعروں پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ علم، کردار، تنظیم اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنایا جائے۔ اگر ہم حضرت شیخ الہندؒ کے اس پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف موجودہ فکری و تہذیبی بحرانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں، بلکہ ایک ایسی خود مختار، باوقار اور عدل وانصاف پر قائم اسلامی ریاست کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں، جو ولی اللّٰہی تحریک اور اکابرینِ ملت کے خوابوں کی حقیقی تعبیر ہو۔ یہی آج کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے اور یہی حضرت شیخ الہندؒ کے افکار سے وفاداری کا عملی تقاضا بھی۔(مدیر)

Anees Ahmed Sajjad
Administrater Rahimia Institute of Quranic sciences, Lahore
Related Articles
پاکستان میں غلبۂ دین کے عصری تقاضے
ہم نے گزشتہ مہینے انھیں صفحات پر پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی جدوجہد کے تناظر میں دو اہم سوالوں کے جوابات کے ضمن میں دو انتہاؤں کا جائزہ لیاتھا کہ وہ کیوں کر غلط ہیں۔ آج…
معاشی پھیلاؤ کا بجٹ
آمدہ سال حکومت 131 کھرب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خود حکومتی اندازے کے مطابق قریباً 79 کھرب روپے وصول کیے جاسکیں گے۔ باقی رقم اندرونی اور بیرونی قرض…
پاکستان کی داغ داغ سیاست
77 سال قبل جب پاکستان کی ریاست وجود میں آئی تو تقسیم کی لکیر کے اس پار سے جوق در جوق لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے یہاں پہنچے، لیکن گزشتہ ستتر سالہ حوادث و واقعات نے …
تینوں لطائف کے تجرباتی دلائل اور عقل مندوں کا اتفاق
تینوں لطائف کے تجرباتی دلائل اور عقل مندوں کا اتفاقامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :(’’عقل‘‘ اور ’’قلب‘‘ و ’’نفس‘‘ کے حوالے سے چوتھی قسم)’’چو…
