

تہذیبِ اَخلاق کے بعد انسانی اجتماعیت کے بنیادی اُمور
گزشتہ آیات ( 2 - البقرہ: 151تا 162) میں ملتِ ابراہیمیہ کی اَساس پر افرادِ انسانی کے اَخلاق کی تہذیب کے لیے بنیادی اَساسی اُصول اور اُن کی علمی و شعوری اہمیت واضح کی گئی تھی۔ پھر الٰہی علم و شعور کو چھپانے والوں پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت کی وعید سنائی گئی تھی۔ پھر اس سورت میں چوں کہ انسانی اجتماعیت کے مختلف مراحل؛ ارتفاقِ اوّل تا بین الاقوامی ارتفاق سے متعلق‘ اُصولی رہنمائی دی گئی ہے، اس لیے آیات (-2 البقرہ: 163 تا 176) میں ابتدائی درجے کی اجتماعیت؛ ارتفاقِ اوّل سے متعلق بنیادی وسائلِ معاش اور کھانے پینے کے آداب اور اُصول بیان کیے ہیں۔
اس درس کی پہلی آیت (163) تہذیبِ اَخلاق کے گزشتہ بیان کردہ اُصولوں کا خلاصہ ذاتِ باری تعالیٰ کی وحدانیت او راُس کی رحمانیت اور رحیمیت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر دوسری آیت (164) میں اُس ذاتِ واحد کی طرف سے اِس کرۂ ارض پر پیدا کیے گئے بنیادی وسائل معاش کی نشان دہی کی گئی ہے۔ نیز ان وسائلِ معاش پر مشتمل انعامات اور آیات پر عقلی اور شعوری طور پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔
﴿ وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ ﴾ (اور معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے): عربی زبان کا لفظ ’’الٰہ‘‘ دراصل محبت کی علامت ہے۔ ’’اَلَہَ‘‘ یا ’’وَلَہَ‘‘ مادہ جذب و کشش اور محبت پر دلالت کرتا ہے ۔ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمھاری محبت کا مرکز صرف ایک ایسا واحد خدا ہے، جس کی طرف جبلی طور پر انسانیت کا قلب کھنچتا ہے اور اُس کی محبت چاہتا ہے۔ ہندی اور سنسکرت کے محققین علما ’’الٰہ‘‘ کا ترجمہ ’’من موہن‘‘ سے کرتے رہے ہیں۔ ہندی زبان میں ’’من موہن‘‘ کا مطلب اپنے من کی پسندیدہ اور محبوب ذات ہے۔
جب ایک انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اُس میں ’’حُبِ الٰہی‘‘، ’’حُبِ عقلی‘‘ اور ’’حُبِ عشقی‘‘ پیدا ہوجاتا ہے (ان تینوں کی تفصیلات حضرت شاہ محمداسماعیل شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’صراطِ مستقیم‘‘ میں بیان فرمائی ہیں) تو وہ ہر دم اُس ’’الٰہِ واحد‘‘ کے ذکر، اُس کی نعمتوں پر شکر اور اُس کی آزمائشوں پر صبر کی حالت سے لذت پاتا رہتا ہے۔ اس طرح اجتماعیتِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو اس کرۂ ارض پر انعامات کے طور پر وسائلِ معاش رکھے ہیں، انھیں انسان صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں شکر اور استقامت کے ساتھ استعمال میں لاتا ہے۔
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ فرماتے ہیں: ’’لَا اِلٰہَ اِلّا ھُوَ‘‘ میں ’’توحیدِ ذات‘‘ کا اور ’’الرَّحمٰن الرَّحِیم‘‘ میں ’’توحیدِ صفات‘‘ کا ثبوت تھا اور ’’اِنَّ فِی خَلقِ الخ‘‘ میں ’’توحیدِ افعال‘‘ کا ثبوت ہوا، جس سے مشرکین کے شبہات‘ بالکلیہ (مکمل طور پر) مندفع (دور) ہوگئے‘‘۔ (توحید کی ان تینوں قسموں کی تفصیلات کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ’’تفہیماتِ الٰہیہ‘‘ دیکھیں۔)
﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ﴾ (کوئی معبود نہیں اس کے سوا ،بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا): کلمہ﴿الرَّحْمٰنُ ﴾ اور﴿الرَّحِيمُ﴾ محققین علمائے ربانیین کے نزدیک یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ’’تجلّی اعظم‘‘ اور ’’حظیرۃ القدس‘‘ کے عنوانات ہیں۔ ان کلمات کے ساتھ انسان کا تعلق دراصل ’’تعظیمِ شعائر اللہ‘‘ کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ انسان﴿الرَّحْمٰنُ ﴾کی تجلی کے ذریعے اس دنیا میں موجود انعاماتِ الٰہیہ سے مستفید ہوتا ہے اور﴿الرَّحِيمُ ﴾ کے مقدس حظیرہ اور دائرے سے وہ زندگی کے تمام دُنیوی اور اُخروی مراحل میں مستفید ہوتا ہے۔ اس آیت میں تہذیبِ اَخلاق سے متعلق تمام اُمور جمع ہوگئے۔ ارتفاقِ اوّل سے متعلق معاشی وسائل سے پہلے ان کا ذکر ضروری تھا۔
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾ (بے شک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں ): اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتدائے زمانے سے لے کر اب تک‘ انسانیت کے لیے زمین پر رہنے کے لیے جو زراعت، صنعت اور تجارت وغیرہ سے متعلق بنیادی وسائلِ معاش پیدا کیے گئے ہیں، اس آیت مبارکہ میں ان کا بڑی جامعیت کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’ارتفاقات کے دو دائرے ہیں: پہلی حد اور دائرہ وہ ہے، جس سے ناقص اجتماعیت رکھنے والے لوگ بھی خالی نہیں ہوتے، جیسے دیہات اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنے والے اور مرکزی علاقوں اور معتدل آب و ہوا اور موسموں سے دور رہنے والے لوگوں کی اجتماعیت؛ اس کو ہم ’’ارتفاقِ اوّل‘‘ کہتے ہیں‘‘۔ (حُجّۃُ اللّٰہِ البَالِغہ، باب کیفیّۃ استنباط الارتفاقات)
امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ: ’’دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے انسان سب سے پہلے کھانے پینے کا محتاج ہوتا ہے۔ انسانوں کا کھانا پینا اور معاشی ضروریات پورا کرنا‘ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی اجتماعیت کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ کوئی فردِ انسان جب بھی اجتماعیت قائم کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہو تو وہ سب سے پہلے معاشی وسائل کے کسب اور حصول کے لیے جدوجہد اور کوشش کرتا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں بیان کردہ وسائلِ معاش کے بارے میں﴿لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾ کہا گیا ہے اور عقل و شعور کی بنیاد پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے‘‘۔
’’زمینوں کی تخلیق میں غور و فکر‘‘ سے یہ بات واضح ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ کی زمین مختلف ساخت اور شکل و صورت میں پیدا کی گئی ہے۔ آیت میں زمین کے زرعی اور رہائشی استعمال کے ساتھ ساتھ اس میں چھپے خزانوں اور معدنیات کی طرف بھی اشارہ ہے۔
ایسے ہی آسمانوں کی تخلیق میں اُن تبدیل ہوتے فضائی موسموں کے زمین پر اثرات پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ اس طرح مختلف فصلوں کے پیداواری عمل کو واضح کیا گیا ہے، تاکہ انسان اپنی زندگی کو منظم کرنے کے لیے خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ان زمینی اور آسمانی وسائل کو استعمال میں لاکر اپنی اجتماعیت قائم کرے۔
﴿وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ﴾ (اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں ): کرۂ ارض پر رات دن کے تغیر و تبدل سے مختلف ممالک اور علاقوں کے رہنے والے لوگ _ خواہ اُن کا تعلق سرد علاقوں سے ہو یا گرم علاقوں سے _ اپنے معاشی وسائل کے حصول کے لیے راستے تلاش کرتے اور دن میں سورج کی توانائی اور رات میں چاند کی چاندنی اور ستاروں کی چمک سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔
﴿وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور کشتیوں میں جو کہ لے کر چلتی ہیں دریا میں لوگوں کے کام کی چیزیں ): اس آیت میں نفعِ انسانیت کے لیے کی جانے والی تجارت میں لوگوں کی مشغولیت کی طرف اشارہ ہے۔ خاص طور پر جزیرۃ العرب کے دونوں طرف واقع خلیجِ احمر اور خلیجِ فارس میں کشتیوں کے ذریعے سے سمندر میں تجارتی قافلے سفر کیا کرتے تھے۔ آج بھی دنیا بھر میں مال برداری کے لیے بڑے بڑے بحری جہاز سمندروں کا سینہ چیر کر‘ دور دراز ممالک میں مختلف ملکوں کی پیدا کردہ اشیا پہنچاتے ہیں۔ معاشی وسائل کا بڑا دار و مدار اِسی بحری راستے کے ذریعے عالمی تجارت پر ہے۔
﴿وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ﴾ (اور پانی میں جس کو کہ اتارا اللہ نے آسمان سے پھر جلایا (زندہ کیا) اس سے زمین کو‘ اس کے مرگئے پیچھے): اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے آسمان سے نازل کردہ اُس پانی کا تذکرہ ہے، جس سے بنجر زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ آیت میں زراعت اور کاشت کاری جیسے اہم وسیلۂ معاش کی طرف اشارہ ہے۔ زمین کے لیے پانی ہی زندگی ہے۔ اس سے مردہ زمینوں میں جان آتی ہے، فصلیں اُگتی ہیں، انسانوں کی غذاؤں کا نظم و نسق قائم ہوتا ہے۔ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے نظریے کے تحت دراصل یہ اُسی الٰہِ واحد کا فیضان ہے۔ زرعی معیشت‘ انسانی اجتماعیت کا بنیادی سبب ہے۔ زراعت ہی کے ذریعے سے کھانے پینے کی چیزوں میں وہ بنیادی افادیت پیدا ہوتی ہے، جس پر انسانی زندگی کا مدار ہے۔ نہ صرف یہ کہ پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، بلکہ زمینوں سے اُگنے والی فصلات انسان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾ (اور پھیلائے اس میں سب قسم کے جانور ): اس کرۂ ارض پر انسان کے معاشی وسائل میں ہر طرح کے جانوروں کی نشو و ارتقا بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ چناں چہ انسان کے معاش میں کام آنے والے جانور؛ اونٹ، گائے، بھینس اور گھوڑے وغیرہ پالنا بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ نیز اسی طرح جنگلوں میں پلے ہوئے جانوروں کا شکار‘ انسانی غذائی ضروریات کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں ان تمام جانوروں کی پرورش، ان کی دیکھ بھال، ان کو اپنے کاموں کے لیے استعمال کرنے کی اجتماعی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
﴿وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ ﴾ (اور ہواؤں کے بدلنے میں ): کرۂ ارض پر ہواؤں کا اِدھر سے اُدھر چلنا بھی معاشی حوالے سے بڑی عقلی نشانی رکھتا ہے۔ یہی ہوائیں ہیں، جو بارش کے بادلوں کو کھینچ کر کسی جگہ لاتی ہیں اور پانی برسا کر اس زمین کو زندہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ نیز انسان آلات اور اَوزاروں کے ذریعے سے ہواؤں میں تصرف کرکے چیزوں کو اپنے کام میں لاتا ہے۔ چناں چہ ہواؤں کے ذریعے سے پن چکی چلا کر آٹا پیستا ہے اور کنوؤں سے پانی نکالنے کا طریقہ قدیم زمانے سے انسانوںمیں رائج ہے اور کشتیوں کے رُخ کو ہواؤں سے کنٹرول کرنا اور آج ہواؤں میں تصرفات کے ذریعے سے جدید دور میں ہوائی توانائی(Wind Energy)پیدا کی جا رہی ہے۔ غرض! انسان کے معاشی وسائل کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی چلائی ہوئی ہواؤں اور انسان کے اُن میں تصرفات کا بھی بڑا بنیادی دخل ہے۔
﴿وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ﴾ (اور بادل میں جو کہ تابع دار ہے اس کے حکم کا‘ درمیان آسمان و زمین کے ): انسان کے لیے معاشی وسائل کے حصول میں آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیے گئے بادلوں کا بھی بڑا دخل ہے۔ سب سے پہلے تو اس زمینی فضا میں بادلوں کے بننے کا عمل اور مختلف گیسوں کے باہمی تعامل اور کمپیکٹ ہونے سے جو بارش برستی ہے، اور اُس سے زمین پر جل تھل ہو کر انسانی اجتماعیت کے بہت سے اُمور میں رنگ بھرتی ہے، فصلیں اُگاتی ہے اور خوشیاں لاتی ہے۔ آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں کہ :’’اس آیت کے بارے میں میرا ایک خاص نظریہ ہے کہ اس آیت میں سٹیم کو کنٹرول کرکے انجن چلانے اور زمین پر گاڑیاں دوڑانے کے مفہوم کو سمجھا جاسکتا ہے۔ زمین سے دریافت ہونے والی گیسز کے استعمالات نے اس دور میں انسان کے لیے بہت سی فیکٹریاں اور کارخانے چلانے کا سامان بھی پیدا کردیا ہے۔ یہ گیسز اور سٹیم پانی سے حاصل ہوتی ہیں یا تیل سے، یا دونوں کے باہمی تعاون سے ۔ ان کے ذریعے سے فضا میں بڑے ہوائی جہاز چلانا اور سمندروں میں بحری جہاز رواں دواں رکھنا بھی اس میں شامل ہے۔ اور اس دور میں تو اب ان ہی سے بجلی پیدا کرنے کاعمل وجود میں آچکا ہے‘‘۔
﴿لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴾ (بے شک ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے) : ہمارے اس دور میں یہ مذکورہ بالا تمام اُمور انسانی ارتفاقات کے تمام دائروں میں بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ پر ایمان و یقین رکھنے والوں پر یہ لازمی اور ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال کرکے ان تمام اُمور سے مستفید ہوں اور اپنی ہر درجے کی اجتماعیت کو ترقی دینے میں کردار ادا کریں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں ہیں، جو عقل مند قوم ان میں غور و فکر کرے گی، وہ ترقیات کی منازل طے کرے گی۔ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے علاوہ جتنی بھی مسخ شدہ ملتیں اور نظام ہائے زندگی ہیں، وہ علت و معلول اور اسباب و مسبّبات کے تمام دائروں کو محض طبعیات یا فلکیات کی حد تک جوڑتی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک تو ذاتِ باری تعالیٰ کو نہ مان کر بے عقلی کا ثبوت دیتی ہیں، نظامِ اسباب و مسببات کے اصل مسببِ حقیقی؛ ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہونا پرلے درجے کے ذہنی افلاس اور عقلی کوتاہی کا مظاہرہ ہے۔ دینِ اسلام کو ماننے والی انسانی اجتماعیتوں کو اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں پر عقلی حوالے سے غور و فکر کرکے ایک طرف الٰہِ واحد کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے اور دوسری طرف اُس کی ان مذکورہ بالا نعمتوں کو انسانی اجتماعیت کی ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے۔
Tags

Mufti Abdul Khaliq Azad Raipuri
Spiritual Mentor of Khanqah Aalia Rahimia Qadiria Azizia Raipur
Chief Administrator Rahimia Institute of Quranic Sciences
Related Articles
چار بنیادی انسانی اَخلاق حاصل کرنے کے طریقے
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جاننا چاہیے کہ ان چار اَخلاق (طہارت، اِخبات، سماحت، عدالت) کے: (الف)…
چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار (2)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’(اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے مسنون ذکر و اذکار کی اہمیت پر چوتھی حدیث:)…
چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جب تم نے (ان چاروں اَخلاق؛ طہارت، اِخبات، سماحت اور عدالت کے) اصول ج…
چاروں اَخلاق کے حصول کے لیے مسنون ذکر و اَذکار (3)
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’(اَخلاقِ اربعہ کے حصول کے مسنون ذکر و اذکار کی اہمیت پر چھٹی حدیث:) …
