

حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ
حضرت عمرو بن حزم انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗخاندانِ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ’’ابوضحاک‘‘ تھی۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو ’’ابو عبدالملک‘‘ کا لقب بھی دیا تھا۔ ہجرتِ نبوی کے وقت آپؓ کم سن تھے۔ آپؓ بچپن میں ہی اسلام لا چکے تھے۔ آپؓ کے علاتی بھائی بیعتِ عقبہ میں شامل تھے۔ گھریلو ماحول سے متاثر ہوئے اور مسلمان ہوگئے ۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد میں آپؓ کی عمر کم تھی، اس لیے شریک نہ ہوسکے، البتہ غزوۂ احزاب کے وقت 15 برس کی عمر کو پہنچ گئے تھے، اس لیے اس غزوے کے بعد آنے والے تمام غزوات جو عہد رسالت میں ہوئے، آپ ﷺ کے ساتھ شامل رہے۔
حضرت عمرو بن حزمؓ فطری طور پر نہایت صالح اور ذہین و فطین تھے اور بڑے ذوق و شوق سے قرآن حکیم اور احکامِ دین کی تعلیم حاصل کی اور آپ ﷺ کی شفقت اور توجہ کی وجہ سے چند سال کے اندر فضل و کمال کا سرچشمہ بن گئے۔ آپ ﷺ نے بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی قدر کی اور اسی وجہ سے 20 سال کی کم عمری میں ہی بنو حارث بن کعب کا عامل اور معلم بنا کر بھیج دیا۔کتاب ’’الاستیعاب‘‘ میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمرو بن حزمؓ کو اہلِ نجران پر عامل (گورنر) بنایا اور اس سے مراد بنو حارث بن کعب ہے، تاکہ ان میں یہ دین کی سمجھ پیدا کریں، قرآن کی تعلیم دیں اور ان سے صدقات وصول کریں۔ یہ دس ہجری کا واقعہ ہے۔ چلتے وقت رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو ایک تحریری فرمان عطا فرمایا، جس میں اسلام کے فرائض، حدود اور شریعت کے احکام درج تھے۔ امام ابنِ کثیرؒ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ آپؐ نے وفد بنی حارث کے ساتھ ان کا والی بنا کر ان کے قبیلے میں بھیجا، تاکہ ان کو فقاہتِ دین و سنت پر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ جو تحریر عطا فرمائی اس میں ان سے عہد لیا اور خصوصی احکامات دیے۔
ابنِ سعد اس فرمان کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کو یمن بھیجتے وقت آپﷺ نے ایک عہد نامہ تحریر کروایا تھا، جس میں اسلام کے فرائض،شریعت اور حدود کی تعلیم دے دی۔ اس کے کاتب حضرت اُبیٔ ابن کعبؓ تھے۔ اسے ’’فرمانِ نبوی‘‘ یا ’’کتاب‘‘ یا ’’عہدنامہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ مولانا عبد الشہید نعمانیؒ نے اپنی کتاب ’’فرامینِ نبوی‘‘ میں اس خط کے بارے میں لکھا ہے کہ: یہ عہد نامہ کئی وجوہ کی بنیاد پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ایک طرف جہاں اسلام کی بنیادی ارکان کے بارے میں تفصیلات ہیں، وہاں نظم مملکت کے سلسلے میں بھی یہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس میں نہ صرف ایک حکمران کے ضروری اوصاف کی نشان دہی ہے، بلکہ اس کے فرائض کی تفصیل بھی موجود ہے۔ اس عہدنامے سے پتہ چلتا ہے کہ بعض مواقع پر آپ ﷺ مختلف مناصب اور ذمہ داریاں سونپتے ہوئے عہد بھی لیا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن حزم انصاریؓ کی وفات۵۱ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
Tags

Maulana Qazi Muhammad Yousuf
مولانا قاضی محمد یوسف کا شمار حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے خلفاء مجازین میں ہوتا ہے۔ مدرسہ اشرفیہ تعلیم القرآن (حسن ابدال) اور گوجرانوالا اور جامعہ مدنیہ لاہور میں زیر تعلیم رہے۔ 1988ء میں فاضل عربی/ فاضل اردو کی سند حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم۔اے اسلامیات اور طبیہ کالج راولپنڈی و نیشنل طبّی کونسل پاکستان سے طب کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی۔ 1980 کی دہائی میں دوران تعلیم حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی فکری جدوجہد سے منسلک ہوئے۔ 1991 میں جامعة الملك السعود الرياض سعودی عرب سے تدریب المعلمین کی سند حاصل کی. اس وقت آپ گورنمنٹ ڈگری کالج واہ کینٹ میں بطور استاد فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔’’جامعہ خادم علوم نبوۃ‘‘ حسن ابدال کے مہتمم اور جامعہ عائشہ صدیقہ حسن ابدال میں مدرس ہیں۔ مسجد خلفائے راشدین میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنا خاندانی مطب بھی چلا رہے ہیں۔ تعلیمی اور فلاحی ادارے "التقویٰ ٹرسٹ" کے سرپرست، کامیاب استاد و منتظم اور طبیب و خطیب ہیں۔ حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مدظلہ کی سرپرستی میں خانقاہ رحیمیہ اور ادارہ رحیمیہ کے فکروعمل کی ترویج میں کوشاں ہیں۔ ماہنامہ مجلہ "رحیمیہ" میں "صحابہ کا ایمان افروز کردار" کے عنوان سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔
Related Articles
اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …
خلافتِ راشدہ کے نظام میں وسیع تر بامعنی مشاورت اور آج کی جمہوریت
وطنِ عزیز کی سیاست اپنے روز ِقیام ہی سے مختلف نعروں سے عبارت رہی ہے، جیساکہ ہم نے گزشتہ ماہ کے شذرات میں یہاں اسلامی نظام کے نمائشی نعروں کے برعکس چند سنجیدہ گزارشات …
ابو عمارہ، سیّدِ شہدا ء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہٗ
ابو عمارہ، سیّدِ شہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہٗ مہاجرینِ اوّلین میں سے ہیں۔ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے چچا، رضاعی بھائی اور آپؐ سے صرف دو سال بڑے تھے، گویا آپؐ کے ہم عمر تھے۔ حضرت ح…
حضرت ثابت بن قیس بن شماس اَنصاریؓ ’خطیبُ النبیؐ‘
حضرت ثابت بن قیس بن شماس خزرجیؓ اَنصار کے اور رسول اللہ ﷺ کے ’’خطیب‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ فصاحت و بلاغت اور خطابت میں آپؓ کو بڑی مہارت حاصل تھی، اس …
