

بداَخلاقی اور گناہوں کو چھوڑنے کا عظیم اَجر
عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْھُمَا، عَنِ النَّبِیِّﷺ، قَالَ؛ ’’الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہٖ وَ یَدِہٖ، وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ‘‘۔ (الجامع الصحیح للبُخاری، حدیث: 6484)
(حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ (کی ایذا) سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے‘‘۔)
عربی بلاغت کے لحاظ سے یہاں کمالِ اسلام مراد ہے، یعنی مؤمن کے ایمان کا کمال یہ ہے کہ وہ انسانوں کے لیے باعث ِتکلیف نہ ہو۔ ان کی ذہنی کوفت، عزت و آبرو کے لیے خطرہ اور ان کے ذاتی، خاندانی یا اجتماعی حقوق کو نقصان پہنچانے کا باعث نہ ہو۔
ہجرت کے معروف معنی دین پر عمل کرنے کے لیے اپنا گھر بار، وطن چھوڑنے کے برعکس، نبیﷺ نے اس حدیث میں ہجرت کا ایک دوسرا معنی یہ ارشاد فرمایا کہ آپ گناہوں اور اللہ کی نافرمانی کو چھوڑ دیں تو گویا آپ نے ہجرت کا مقام حاصل کر لیا۔ نجی زندگی میں اخلاقیات کی پابندی ضروری ہے، لیکن جب کوئی بداخلاقی اجتماعی صورت اختیار کر لے تو اس کے اَثرات نسلوں اور قوموں کی تباہی و بربادی تک چلے جاتے ہیں۔ اس بنا پر مسلمان کو اپنے گردوپیش کے ماحول کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کیا عمدہ اخلاق عموماً رواج پذیر ہیں اور باہمی معاملات میں انسانوں کی جان، مال، عزت و آبرو کو خطرات تو لاحق نہیں ہیں۔ ایسے میں ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور اجتماعی زندگی کو جامع دین پر گامزن کرنے کی جدوجہد کرے۔
نبیﷺ نے اس حدیث میں زبان سے تکلیف نہ پہنچانے کو پہلے ذکر کیا، چوں کہ زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کا رویہ عام ہے۔ کسی کی عزت و آبرو پر زبان چلا دینا اور بے جا تنقید کر دینا بہت آسان ہے۔ یہ عمل باہمی تعلقات میں خلل ڈالتا ہے۔ دوسرے انسان کو اذیت میں مبتلا کرتا ہے۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے بہ طورِ خاص زبان کے استعمال پر دھیان دینے کا کہا۔ بہ قول ایک عربی شاعر کے زبان کے زخم نہیں بھرتے۔ تلواروں کے زخم بھر جایا کرتے ہیں، زبان کا کھاؤ بڑا گہرا ہوتا ہے یہ خاندانوں اور نسلوں میں لمبی لڑائی کا باعث بن جاتا ہے۔ اور دوسرا ذکر ہاتھ کا کیا کہ اس سے کوئی جانی نقصان ہوسکتا ہے، زخم لگ سکتا ہے، چوٹ لگ سکتی ہے۔
آخر پر آپﷺ نے فرمایا: آپ اگر اللہ کی نافرمانی کے کاموں کو چھوڑ دیں تو یہ ہجرت کے درجے کے مترادف ہے، کیوں کہ ہجرت اللہ کی نافرمانی کے ماحول سے نکلنے اور دین پر عمل درآمد کے لیے ہوتی ہے تو جس نے گناہوں کی زندگی چھوڑ دی تو اس نے ہجرت کامقصد حاصل کرلیا۔
Tags

Maulana Dr Muhammad Nasir
پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد ناصرعبدالعزیز ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور کے ممبر ایڈوائزری بورڈ اور حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری ؒ کے مجازین میں سے ہیں۔ درسِ نظامی کی مکمل تعلیم جامعہ خیر المدارس ملتان سے حاصل کر کے 1989ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ 1994ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) سے ایل ایل بی آنرزشریعہ اینڈ لاءکیا۔ ازاں بعد پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے بطور استاد وابستہ ہوگئے۔ اس دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ آج کل گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ کے شعبہ اسلامیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسرہیں اور مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ انوار العلوم عثمانیہ ریل بازار جھنگ صدر کے اہتمام و انصرام کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رحیمیہ نظام المدارس کے ناظم امتحانات بھی ہیں۔ "ماہنامہ رحیمیہ" میں درسِ حدیث کے عنوان سے سلسلہ وار لکھ رہے ہیں۔
Related Articles
اسلام کی تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد
14؍ جنوری 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’معزز دوستو! دی…
مؤمنانہ فراست کا تقاضا
عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِی اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ: ’’لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری: 6133) (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ …
غلبۂ دین کی نبوی حکمت عملی اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں
خطاب حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ (کہروڑ پکا میں بخاری چوک میں واقع جامع مسجد تالاب والی میں 14فروری 2009ء بروز ہفتہ کو عشاء کی نماز کے بعد سیرت النبی ﷺ…
اَحبار و رُہبان کی دین فروشی اور فاسد کردار
12؍ اگست 2022ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: ’’معزز…
