سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

Maulana Qazi Muhammad Yousuf

Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Maulana Qazi Muhammad Yousuf
Feb 17, 2021 - Eman Afroz Waqeyat
سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

حضرت زینبؓ آںحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپؓ بعثتِ نبویؐ سے دس برس پہلے پیدا ہوئیں۔ اس وقت آپؐ کی عمر 30 برس تھی۔ آپؓ اوّلین مسلمان ہونے والوں میں سے تھیں۔ مشرکین مکہ کی جانب سے حضوؐر اور آپؐ کے اہل و عیال کوجوتکلیفیں پہنچیں، ان سب میں آپؓ اور آپؓ کی بہنیں شریک رہیں۔ آپؓ بالخصوص تکالیف کے دور میں حضوؐر کو معاونت اور مدد بہم پہنچاتیں۔ مکہ کے مشکل ترین دور میں کہ جب حضوؐر اور آپ ؐ کے اہل خانہ پر روزانہ مصائب کے پہاڑ توڑے جاتے، آپؐ اپنی اس ہونہار صاحبزادی کو تسلی دیتے کہ: ’’دین حق کی حمایت میں کھڑے ہونے پر اللہ تعالیٰ تمھارے والد کا حامی و ناصر ہے۔ تم اپنے ابا پر مت خوف کھاؤ‘‘۔ سنہ 7 نبوی میں آں حضرتؐ اورآپؐ کے ساتھیوں کو شَعبِ بن ابی طالب میں قید کیا گیا۔ وہاں آپؐ تین برس تک قیدر ہے اورفاقوں پرفاقے گزرے۔ ان سب مصائب میں حضرت خدیجہؓ اورآپؐ کی سب ہی اولاد شریک رہی۔ حضرت زینبؓ کو جو تکلیف پہنچی، اس کے بارے میں حضوؐر نے فرمایا: ’’وہ میری سب سے اچھی بیٹی تھی، جومیری محبت میں ستائی گئی‘‘۔ 
حضرت زینبؓ کا نکاح ابوالعاص بن ربیع لقیط سے ہوا، جو حضرت زینبؓ کے خالہ زاد تھے۔ وہ تجارت میں امانت داری کے حوالے سے مشہور تھے۔ نبوت کے تیرہویں سال جب آنحضرتؐ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپؐ کے اہل وعیال مکہ میں رہ گئے تھے۔ آپؐ نے اپنی اہلیہ حضرت سودہؓ اوراپنی صاحبزادیوں حضرت فاطمہؓ اورحضرت اُم کلثومؓ کو مدینہ منورہ بلا لیا، لیکن حضرت زینبؓ اپنے شوہرکے پاس ہی رہیں۔ یہاں تک کہ غزوۂ بدر ہوا اور اس میں آپؓ کے شوہر ابوالعاص کفار کی طرف سے شریک ہوئے اور گرفتار ہوگئے۔ انھیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ مکہ جا کر حضرت زینبؓ کو مدینہ منورہ بھیج دیں گے۔ اس طرح آپؓ نے اپنے شوہر کو حالتِ شرک ہی میں چھوڑکر سنہ ۲ ہجری میں غزوۂ بدرکے بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ (طبقات: 8/20) اس کے بعد ایک موقع پر پھر آپؓ کے شوہر ابوالعاص گرفتار ہوکر مدینہ لائے گئے تو حضرت زینبؓ نے ان کوپناہ دی۔ ابوالعاص نے مکہ جاکر لوگوں کی امانتیں حوالہ کیں اور اسلام لائے اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے۔ حضرت زینبؓ نے ان کوحالتِ شرک میں چھوڑا تھا، اس لیے دونوں میں باہم تفریق ہوگئی تھی۔ وہ مدینہ آئے توزینب دوبارہ ان کے نکاح میں آگئیں۔ اس کے بعد آپؓ بہت کم وقت زندہ رہیں اور ۸ ہجری میں وفات پاگئیں۔ 
سیّدہ زینبؓ بلند اَخلاق وعادات کی مالک تھیں۔ خود آپؓ کے شوہر اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ جب سردارانِ مکہ نے دباؤڈالا کہ محمد کی بیٹی کو طلاق دو، جس عورت سے کہوگے ہم تمھاری شادی کر دیں گے تو ابوالعاص __ جو حال آںکہ مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے __نے کہا کوئی عورت زینب کے برابر نہیں ہوسکتی۔ حضرت زینبؓ کا کردار آج کی مسلم خواتین کے لیے قابلِ رشک، لائق ترین اور بلند اسوہ ہے۔ 

Related Articles

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُمُّ المومنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد قریش کے چند مشہورِ زمانہ سخی افراد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنت عامر کنانیہ تھیں، جن کا تعلق معزز قبیلہ بنوفراس …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Oct 10, 2022

Hazrat Hakeem ibn Hizam al-Qurashi al-Asadi

Hazrat Hakeem ibn Hizam al-Qurashi al-Asadi, also known as Abu Khalid Maki, was deeply devoted to the Prophet Muhammad (peace be upon him). He embraced Islam during the…

Maulana Qazi Muhammad Yousuf Jul 11, 2023

حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ قریشی عبدری الحجبی رضی اللہ عنہٗ

​​حضرت عثمان بن طلحہ قریشی رضی اللہ عنہٗ بہت سی انسانی خوبیوں اور بہترین اَخلاق اور انسانیت کے مظہر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔آپؓ بیت اللہ الحرام کے حاجب یعنی کلید برداری کے …

Maulana Qazi Muhammad Yousuf May 08, 2025

سیّدنا عبدالملک بن مروانؒ

پچھلے دنوں ایک دعائیہ تقریب میں ایک ’’عالمی مبلغ‘‘ نے جھوٹی اور موضوع روایات کا سہارا لے کر خلفائے بنواُمیہ کی کردار کشی کی اور ایسے جھوٹے واقعات …

Mufti Muhammad Ashraf Atif Jun 11, 2022