

گزشتہ آیات (2 - البقرہ: 151 تا 157) میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اُصول پر کسی معاشرے کے افراد کے تہذیبِ اَخلاق کے عملی اُمور؛ ذکر، شکر، صبر، نماز، جان قربان کرنے کا جذبہ اور آزمائشوں میں اللہ کی طرف رجوع کا ذکر کیا گیا تھا۔
اس آیت (2 - البقرہ: 158) میں تعظیم شعائر اللہ کی اَساس پر حجِ بیت اللہ الحرام، عمرہ اور اُس کے گرد و نواح کے مقاماتِ مقدسہ؛ صفا و مروہ کی ’’سعی‘‘ ایسے اہم عاشقانہ سفر کا ذکر ہے، تاکہ انسانی نفس‘ اَخلاقِ الٰہیہ اور ارتفاقاتِ اجتماعیہ کا خوگر بن جائے۔
﴿ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ﴾ (بے شک صفا اور مروہ نشانیوں میں سے ہیں اللہ کی): ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ میں بیت اللہ الحرام کی مرکزیت اور حرمت گزشتہ آیات میں تفصیل سے بیان کی جاچکی ہیں۔ اب بیت اللہ کے قریب واقع شعائر اللہ میں سے دو اہم شعائر؛ صفا و مروہ کے درمیان حضرت ہاجرہؑ کی سنت پورا کرتے ہوئے سعی اور دوڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ فرماتے ہیں:
’’صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں مکہ میں، اہلِ عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہمیشہ حج کرتے رہے۔ اور حج کرتے تو ان دو پہاڑیوں کا بھی طواف (سعی) کرتے۔ کفر کے زمانے میں ان دو پہاڑیوں پر کفار نے دو بُت (اِساف اور نائلہ) رکھے تھے، (وہ) ان کی تعظیم کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ طواف ان دو بتوں کی تعظیم کے لیے ہے۔
جب لوگ مسلمان ہوئے اور بت پرستی سے تائب ہوئے تو خیال ہوا کہ صفا اور مروہ کا طواف تو اِن بتوں کی تعظیم کے لیے تھا۔ جب بتوں کی تعظیم حرام ہوئی تو صفا اور مروہ کا طواف بھی ممنوع ہونا چاہیے۔ یہ ان کو معلوم نہ تھا کہ صفا اور مروہ کا طواف (سعی) تو اصل میں حج کے لیے تھا۔ کفار نے اپنی جہالت سے بت رکھ چھوڑے تھے، وہ دور ہوگئے۔
اور اَنصارِ مدینہ چوں کہ کفر کے زمانے میں (بھی) صفا اور مروہ کے طواف کو بُرا جانتے تھے تو اسلام کے بعد بھی ان کو اس طواف میں خلجان ہوا اور آپ ﷺ سے عرض کیا کہ: ہم پہلے سے اس کو مذموم جانتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فریقِ اوّل (مہاجرینِ مکہ) اور ثانی (انصارِ مدینہ) دونوں کو بتلا دیا گیا کہ صفا اور مروہ کے طواف میں کوئی گناہ اور خرابی نہیں۔ یہ تو اصل سے اللہ کی نشانیاں ہیں ان کا طواف کرنا چاہیے‘‘۔
﴿شَعَائِرِ اللّٰهِ ﴾ : امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’شعائر‘‘ کا معنی ’’علامات‘‘ ہے۔ یہ جمع ہے، اس کا واحد ’’شَعِیرَۃٌ‘‘ آتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر) شعائر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں: ’’شعائر‘‘ سے مراد ایسے محسوس ظاہری اُمور اور علامات ہیں کہ جنھیں اس لیے بنایا گیا ہے کہ اُن کے ذریعے سے اللہ کی عبادت کی جائے اور وہ صرف اسی کام کے لیے مخصوص کردیے گئے، یہاں تک کہ لوگوں کے نزدیک اُن اُمور کی تعظیم کرنا‘ اللہ کی تعظیم کرنا اور ان اُمور کی تعظیم میں کوتاہی کرنا گویا اللہ کی جناب میں گستاخی کرنا ہے۔ اور یہ بات اللہ کی طرف سے انسانوں کے دلوں میں خوب اچھی طرح بٹھا دی گئی۔ کچھ اس طرح کہ اُن کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیے بغیر نکل نہیں سکتی‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ)
قرآن حکیم میں دوسری جگہ پر سورت الحج میں ارشاد فرمایا گیا کہ: ’’جس نے اللہ کے شعائر کی تعظیم کی، بے شک یہ دلوں کے ادب اور تقویٰ کی بات ہے‘‘۔ (-22 الحج: 32) اس آیت کی تشریح میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ بڑے شعائر اللہ کی چار اقسام بیان کرتے ہیں: 1۔ قرآن حکیم (کتاب اللہ)، 2۔ کعبہ (بیت اللہ)، 3۔ نبی (رسول اللہ)، 4۔ نماز۔
امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ ملتِ محمدیہ ﷺ کے تحت ان چاروں شعائر کی اہمیت او ران کے باہمی ربط کو ایک مثال سے سمجھاتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:
1۔ جب کو ئی فرد (یعنی نبی) اللہ کے حکم سے ’’ملإ اعلیٰ‘‘ کی تعلیم دنیا میں قائم کر نے کے لیے اُٹھ کھڑا ہو تو اس شخصیت کو ’’رسولُ اللّٰہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
2۔ ’’ملإ اعلیٰ‘‘ کی الٰہی تعلیمات اس دور میں جس عظیم کتاب میں لکھی ہوئی ہوں تو اُسے ’’کتاب اللّٰہ‘‘ اور قرآن حکیم کہا جاتا ہے۔
3۔ وہ مکان اور مقامِ مقدس، جسے ’’رسول اللّٰہ‘‘ نے ’’کتاب اللّٰہ‘‘ کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنی ملت کا مرکز بنا یا، ’’بیت اللّٰہ‘‘کہلاتا ہے۔
4۔ پھر اللہ کے یہ تینوں شعائر؛ ’’کتاب اللّٰہ‘‘ کی اساس پر ’’بیت اللّٰہ‘‘میں ’’رسول اللّٰہ‘‘ کی تعلیم سے جو جامع علمی و عملی شکل اور تربیتی ہیئت پیداہو تی ہے، اسے ’’الصّلاۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس تعلیم سے جو نماز قائم کی جاتی ہے، وہ بھی شعائر اللہ میں سے ہے، اس لیے کہ اس تعلیم کا مقصد یہی ہے‘‘۔ (تفسیر سورت البقرہ)
کعبۃ اللہ کے ذیلی شعائر میں سے ’’صفا‘‘ پہاڑ اور ’’مروہ‘‘ کا پہاڑ بھی ہیں۔ لہٰذا حجِ بیت اللہ کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صفا و مروہ کے درمیان ’’سعی‘‘ ضرور کریں۔ صفا و مروہ کی تاریخی اہمیت اور بیت اللہ سے اُن کے ربط اور تعلق کو بیان کرتے ہوئے امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں:
’’بیت اللّٰہ‘‘ وہی ہے، جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حنیفیت کی تعلیم کے لیے اپنے مرکز کے طور پر قائم کیا۔ یہ شعائر اللہ میں سے ہے۔ ’’بیت اللّٰہ‘‘ کے قریب ’’صفا‘‘ اور ’’مروہ‘‘ دو پہاڑ ہیں۔ ان دونوں مقامات کی (تحریک ِ حنیفیت اور) ’’بیت اللّٰہ‘‘ کی تاریخ میں ایسی بڑی عظمت ہے، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
﴿الْمَرْوَةَ ﴾ : ’’مروہ‘‘ وہ مقام ہے، جس جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر نے کا ارادہ کیا تھا۔ مروہ کے بارے میں حضورﷺ نے عمرہ کے دوران فرمایا تھا کہ: ’’ہٰذا المَنْحَرُ یعنی: المَرْوَۃَ‘‘ (یہ قربان گاہ ہے، یعنی: مروہ۔ مکہ کی ہر گلی اور اُس کے راستے قربان گاہ ہیں)‘‘۔ جیسا کہ ’’مُوَطّأ امام مالک‘‘ (حدیث: 1166) سے ثابت ہے۔اس لیے ’’مروہ‘‘ بھی شعائراللہ میں سے ہے۔
﴿الصَّفَا ﴾ : جہاں تک ’’صفا‘‘ کا تعلق ہے، اگرچہ اس کی تاریخ ہم بھول گئے ہیں، البتہ غالب گمان یہ ہے کہ ’’صفا‘‘ کی تاریخی عظمت اس حوالے سے ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر کھڑے ہوکر لوگوں کو حج کی دعوت دی تھی۔ یعنی: انھوں نے حنیفی تحریک کی تعلیم دی تھی۔ تاریخی حوالے سے ہم اپنے نبی محمدمصطفی ﷺ کی سیرت کا یہ واقعہ بھی جانتے ہیں کہ: ’’جب حضور اقدس ﷺ پر یہ آیت ’’آپ اپنے قبیلہ قریش کو ڈرائیے‘‘ (-26 الشعراء: 214)۔ نازل ہوئی تو آپﷺ ’’صفا‘‘ پر کھڑے ہوئے۔ اور اپنے قبیلے کو پکارا: ’’اے بنی عبدالمطلب! اے بنی عبد ِمناف!‘‘ اس پر ابولہب نے کھڑے ہوکر آپ ﷺ کا انکار کیا‘‘۔یہ واقعہ _ جس میں آپﷺ کی دعوت پھر مخالفین کی طرف سے تکذیب کا ذکر ہے _دعوتِ قرآنی کی تحریک میں اپنا ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
اسی طرح آپ ﷺنے اس مقامِ صفا پر کھڑے ہو کر ایک دفعہ اس پہاڑ کی طرف اشارہ کیا، جو صفا کے بالمقابل تھا اور فرمایا کہ: ’’اگر مَیں تمھیں یہ بتلاؤں کہ ایک بہت بڑا لشکر اس وادی میں تم پر حملہ آور ہونے کو ہے، کیا تم میری تصدیق کرو گے؟‘‘ تو لوگوں نے کہا تھا: ’’ہاں! اس لیے کہ ہمیں آپ کے بارے میں سوائے بھلائی کے اور کوئی تجربہ نہیں‘‘ سوائے ابولہب کے (جس نے تکذیب کی)۔ آپ ﷺنے ان سے فرمایا تھا کہ: ’’مَیں تمھیں بڑے سخت عذاب کی خبر دیتا ہوں‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر: 4770)
چناں چہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺکا لشکر اسی وادی کی طرف سے آیا اور جیسا کہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ: ’’إنّی نذیرٌ لکم بین یَدَی عذابٌ شدید‘‘، تو دراصل آپؐ کی مراد یہی تھی۔ اور جنھوں نے اس دن انکار کیا تھا، وہ مسلمان ہوئے اور آپﷺ سے اس حال میں بیعت کی، جب کہ آپؐ صفا پر اُسی جگہ کھڑے تھے۔ اور جب انقلابِ مکہ کا ظہور ہوا تو اسی پہاڑ پر کھڑے ہوکر آپﷺ نے یہ دعا مانگی: ’’الحمدُ للّٰہ الّذی أنْجَزَ وعدَہ، ونَصَرَ عبدَہ، وہزم الأحزاب کُلَّہ‘‘(مسند امام احمد، حدیث: 4926) (سب تعریفیں اسی خدا کے لیے ہیں، جس نے اپنا (غلبے کا) وعدہ پوراکردیا، اپنے بندے کی امداد کی اور تمام باطل جماعتوں کو شکست دی)۔ یہ دعا جو ہم صفا پر کھڑے ہو کر مانگتے ہیں، وہ دراصل اسی واقعے کو یاد کرنا ہوتا ہے۔ اس واقعے کو صفا پہاڑ کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔
اس واقعے کی بنیاد پر ہمارا گمان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کو حج کی طرف اسی مقامِ صفا پر کھڑے ہو کر بلایا تھا۔ اس ابراہیمی دعوت کی تکمیل ہمارے نبی ﷺ کے ہاتھوں سے ہوئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صفا اور مروہ ان دو پہاڑوں کی آپؐ کی دعوت کو پھیلانے میں بڑی تاثیر ہے۔ ان دونوں مقامات کا تعلق بیت اللہ الحرام کے ساتھ ہے۔ صفا و مروہ کا شعائر اللہ میں سے ہونے کا یہی مطلب ہے‘‘۔ (الہام الرحمن، سورت البقرہ)
﴿فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ﴾ (سو جو کوئی حج کرے بیت اللہ کا، یا عمرہ، تو کچھ گناہ نہیں اس کو، کہ طواف کرے ان دونوں میں):ایک مسلمان کی تعلیم و تربیت کے لیے حج بیت اللہ کی بڑی اہمیت ہے۔ ہر صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک دفعہ حج کا ادا کرنا فرض ہے۔ اسی طرح بیت اللہ کے فیوضات حاصل کرنے کے لیے عمرے کی ادائیگی بھی انسانی قلوب کے تزکیے میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ حج کی عظمت بیان کرتے ہوئے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں کہ: ’’حج کی حقیقت یہ ہے کہ صالحین کی ایک عظیم جماعت کا ایک زمانے (یومِ عرفہ) میں اجتماع ہونا، جس میں انعام یافتہ لوگوں؛ انبیا ؑ، صدیقین، شہدا اور صالحین کی حالت کو یاد کیا جائے۔ اور ایسی جگہ اور مکان میں یہ اجتماع ہو کہ جس میں اللہ کی واضح نشانیاں موجود ہیں اور اُس جگہ کی طرف دین کے بڑے ائمہ کی جماعتوں نے اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہوئے، اللہ کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے، اس سے خیر کی اُمید اور رغبت رکھتے ہوئے اور اُس سے گناہوں کی معافی کے ارادے سے سفر اختیار کیا ہو۔ اس لیے کہ جب انسانوں کی ہمتیں اس کیفیت کے ساتھ کسی جگہ جمع ہوتی ہیں تو وہاں اللہ کی رحمت اور مغفرت کا نزول ضرور ہوتا ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، باب اسرار الحج)
حج اور عمرہ کے مناسک میں سے صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی ہے۔ اس آیت کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے حضرت عروہ بن زبیرؒ فرماتے ہیں کہ: ’’مَیں نے (اپنی خالہ) نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا (ان دنوں مَیں نوعمر تھا) کہ: اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں آپؓ کا کیا خیال ہے: ’’صفا اور مروہ بے شک اللہ کی یادگار چیزوں میں سے ہیں۔ پس جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان آمدورفت (یعنی سعی) کرے‘‘۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ’’ہرگز ایسا نہیں! اگر تمھارے خیال کے مطابق مسئلہ یہی ہوتا تو پھر واقعی ان کے سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہ تھا، لیکن یہ آیت (مدینہ کے) اَنصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ (اسلام سے پہلے) انصار ’’منات‘‘ بت کے نام سے احرام باندھتے تھے۔ یہ بت مقامِ ’’قُدَید‘‘ میں رکھا ہوا تھا اور اَنصار‘ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو انھوں نے سعی کے متعلق آپ ﷺ سے پوچھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی‘‘۔ (صحیح بخاری، حدیث: 4495)
﴿وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ﴾ (اور جو کوئی اپنی خوشی سے کرے کچھ نیکی، تو اللہ قدرداں ہے سب کچھ جاننے والا): اس آیت میں ایک بنیادی اُصول واضح کردیا گیا کہ جو آدمی بھی خیر اور نیکی کا کوئی بھی کام دل کی خوشی اور مسرت کے ساتھ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اُس کے دل کی حالت کو جاننے والا اور اس کا قدر دان ہے۔
اس لیے حج بیت اللہ سے متعلق مناسکِ حج، صفا و مروہ کے درمیان سعی وغیرہ تمام شعائر کی ادائیگی میں دل کی خوشی اور اطمینان کا ہونا ضروری ہے۔ شعائر اللہ کی تعظیم پر مبنی خیر کے کام کرتے وقت‘ نفس، قلب اور عقل میں خوشی اور اعتماد کی کیفیت ہونی چاہیے، تاکہ انسان کے قلب پر حالتِ الٰہیہ طاری ہوجائے اور اُس کا تعلق ملائِ اعلیٰ اور اُس کی تجلیات سے مضبوط اور مربوط ہوجائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس طاری ہونے والی حالتِ الٰہیہ کی صورت میں ایسے انسان کی بہت قدر کرتا ہے۔ اس کے مراتب اور مقامات بلند کرتا ہے۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم
حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ
سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔
1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...
متعلقہ مضامین
عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت
۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…
دشمن کے منفی رویوں کو سمجھنا اور نظم و نسق کی پابندی
گزشتہ آیات (البقرہ: 104 تا 107) میں یہ واضح کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے یہودی اس حد تک انحطاط، ذلت اور غضبِ الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں کہ اب اُن کا تحریف شدہ دین منسوخ کیا…
تہذیبِ نفس کے عہد و میثاق کی خلاف ورزی
گزشتہ آیات (البقرہ: 80-82) میں یہودیوں کی تحریفات، ظنون و اَوہام اور ظلم و فساد کا تذکرہ تھا۔ اس آیتِ مبارکہ (البقرہ: 83) سے یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ بنی اسرائیل کو …
جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال
(اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘ سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور ان کے پاس کچھ نہیں، مگرخیالات۔) (-2البقرہ: 78) گزشتہ آیات میں یہودی علما کی …
