

گزشتہ دو آیات (2 - البقرہ: 163 - 164) میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے بنیادی اُصولِ توحید کی اساس پر انسانی اجتماعیت کی تشکیل سے متعلق معاشی وسائل پر مبنی اُمور کا ذکر تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی آسمان و زمین کی تخلیق، دن اور رات کا تغیر و تبدل، کشتیوں میں آمد و رفت کے ذریعے سے انسانی منافع کے اُمور، آسمان سے برستے پانی کے ذریعے مُردہ زمینوں کو زراعت کے قابل بنا کر زندہ کرنا، انسانی ضروریات کے لیے ہر طرح کے جانوروں کی نشو و نما اور پھیلاؤ، ہواؤں اور بادلوں کو مسخر کرنا وغیرہ ارتفاقاتِ انسانی اور وسائلِ معاش سے متعلق اُمور بیان کیے۔ اور یہ کہ صاحبانِ عقل و شعور کے لیے اس میں خدا کی بہت سی نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت ہے۔
زیرِ نظر آیات (2- البقرہ: 165 تا 167) میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ جب یہ تمام اُمور کرنے والا اور کرۂ ارض پر پیدا کیے گئے یہ تمام وسائل اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی کاریگری اور تخلیق ہے تو اسی وحدہ لا شریک کو ماننا، اُسی کی عبادت کرنا، اُسی کے پیدا کردہ ان وسائلِ معاش کو انسانیت کی ترقی کے لیے استعمال میں لانااور پھر اُسی سے پوری شدت کے ساتھ محبت اور تعلق قائم کرنا لازمی اور ضروری ہے۔ اس حوالے سے طاقت و قوت کے مختلف مصنوعی مراکز؛ بت، فرعون و ابوجہل وغیرہ کو اللہ کی ذات کے ساتھ شریک اور دوست رکھنا قطعاً غلط ہے۔ جو لوگ ایسے ظلمِ عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں سزا اور عذاب کے مستحق ہیں۔
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ﴾ (اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اَوروں کو دوست، ان کی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی): بعض لوگ ایسے ہیں جو ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کے اُصولِ توحید کو نظر انداز کرتے ہوئے اللہ کو چھوڑ کر بعض دوسری چیزوں اور ظاہری مراکزِ قوت کو اللہ کا شریک بنا کر اپنا دوست بنا لیتے ہیں اور وہ اُن سے ایسی دلی محبت رکھتے ہیں کہ جو حقیقت میں صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کے لائق ہے۔
اس آیتِ مبارکہ میں ’’أنداد‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ’’نِد‘‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ’’نظیر‘‘ اور ’’مثیل‘‘ کے آتے ہیں۔ یعنی ایسے لوگ جو کچھ چیزوں یا لوگوں کو اللہ کی ’’نظیر‘‘ اور ’’مثیل‘‘ کے طور پر اُس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ کائنات کے تمام وسائل پیدا کرنے اور معاشی طور پر انھیں استعمال کرنے کے لیے فائدے کے قابل بنانا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کام ہے۔ اُس کے علاوہ کسی طاقت کے مصنوعی مرکز کو اس حوالے سے اللہ کا ’’نظیر‘‘ اور ’’مثیل‘‘ ماننا اور اُن سے محبت رکھنا کھلا تضاد ہے۔
اس آیت میں اگرچہ براہِ راست اُن لوگوں سے خطاب ہے، جو اللہ کا شریک سمجھ کر بتوں، پتھروں اور غیراللہ کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ اس آیت میں اُن لوگوں کے اس بُرے کام کی طرف بھی اشارہ ہے، جو لوگوں کو اپنا غلام بنا کر اُن سے اپنی غلامی کرواتے اور اُن کے حلال و حرام کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے کر معاشی وسائل پر قبضہ کرکے اُن پر غلبہ حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ خود کو اللہ کی ’’نظیر‘‘ اور ’’مثیل‘‘ دکھا کر عام لوگوں سے اپنی اطاعت کرواتے ہیں۔اس طرح گویا کہ وہ خدا بن کر انسانی اجتماعیت کے بنیادی اُصولوں کو پامال کرتے ہیں۔
جاہلیت کے زمانے میں لوگ معاشی وسائل کے حصول کے لیے حکمرانوں اور مذہبی پروہتوں کو اللہ کا شریک مان کر اُن سے اپنی مالی اور معاشی حاجات مانگتے تھے۔ وہ لوگ حکمرانوں کی طاقت کے مراکز کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا کر اُن کی غلامی میں مبتلا رہتے، جب کہ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کا بنیادی تقاضا ان انحرافات سے بچ کر صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ پوری یکسوئی سے تعلق قائم کرنا ہے۔
ایسے غلام معاشروں کے لوگ معاشی وسائل کے لالچ میں حکمران طبقوں سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جو محبت دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ سے رکھنا چاہیے تھی۔ وہ چند ٹکوں کے لالچ میں حکمرانوں کی غلامی کا طوق اپنی گردن میں ڈال کر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت سے دور رہتے ہیں اور طاقت ور طبقوں کے لیے ایک آلہ کار بن کر کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ حکمران طبقے بھی فرعون کی طرح یہ دعویٰ کرنے لگ جاتے ہیں کہ﴿أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلٰى﴾ (79 - النازعات: 24) (مَیں تمھارا بڑے مرتبے والا رب ہوں)۔ یہ دعویٰ ربوبیتِ خداوندی کے خلاف کھلی بغاوت ہے اور یہ گویا کہ اللہ کے مقابلے میں ایسے ’’نِد‘‘، ’’نظیر‘‘ اور’’مثیل‘‘ ہونے کا دعویٰ ہے، جو سراسر غلط ہے۔ چناں چہ اس آیتِ مبارکہ میں ان کے اس شرک اور کفر پر مبنی رویے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ﴾ (اور ایمان والوں کو اس سے زیادہ تر ہے محبت اللہ کی): جاہلیت کے زمانے کے ان گمراہ کن لوگوں کے بالمقابل اللہ پر ایمان رکھنے والے عقل مندوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے شدید محبت رکھتے ہیں۔
نورِ ایمانی کے آجانے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ایسا ’’نُقطۂ حُبّیہ‘‘ پیدا ہوجاتا ہے، جو ہمہ وقت ذاتِ باری تعالیٰ کی محبت میں ڈوبا ہوا اور اُس کی شرابِ محبت سے لبریز رہتا ہے۔ یوں اپنے دل میں زندگی کی تمام سیاسی وسماجی سرگرمیوں میں اللہ کا محتاج رہتا ہے، کسی اَور طاقت ور حکمران طبقوں و پتھروں اور بتوں کو نہیں پوجتا اور ایمان پر پورے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے اور اس کے مطابق عملی اقدامات اُٹھاتا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کا فکر اور طریقہ مشرکین کے افکار اور طریقے سے بالکل الگ ہوجاتا ہے۔ مشرک لوگ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر غیر اللہ کی محبت میں مغلوب ہوجاتے ہیں، جب کہ ایک مؤمن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت میں ڈوب کر اپنی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی اعمال کرتے ہوئے انسانیت کے نفع کا بہترین نظام قائم کرتا ہے۔
﴿وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ﴾ (اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جب کہ دیکھیں گے عذاب کہ قوت ساری اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے): ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ سے وابستگی کے تمام دعوے داران _ وہ بنی اسرائیلی ہوں یا بنی اسماعیلی _ہر ایک کو اپنی محبتوں کا مرکز ذاتِ باری تعالیٰ کی وحدانیت کی صورت قائم رکھنا ضروری ہے۔ خواہ انسانی زندگی میں تہذیبِ اَخلاق سے متعلق اُمور ہوں، جو گزشتہ آیات 152 تا 162 میں بیان کیے گئے اور خواہ انسانی اجتماعیت کے لیے وسائلِ معاش کی فراہمی سے متعلق اُمور ہوں، جیسا کہ آیات 163 و 164 میں واضح کیا گیا۔ گویا انسانوں کی تمام انفرادی اور اجتماعی سرگرمیوں کا مرکز توحیدِ الٰہی کے منبع سے پھوٹتا ہے اور اُس کے تابع ہے۔ جب انسان فطری طور پر غور و فکر کرتا ہے تو اُسے یہ حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ تمام تر قوتوں کا بنیادی مرکز‘ ذاتِ باری تعالیٰ ہے تو وہ اس سے محبت کرتا ہے۔
جو لوگ اس بنیادی اُصول سے بغاوت کرکے ذاتی تعلیم و تربیت اور اجتماعی اُمور میں اللہ کے ساتھ کسی بت، پتھر، فرعون، نمرود یا اپنے کسی حکمران طبقے کو شریک ٹھہراتے ہیں، وہ خود اپنے اوپر اور انسانی اجتماعیت پر انتہائی ظلم کرنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنی محبتوں کا مرکز غیر اللہ کو بنا دیا۔ ایسے ظالم طبقوں پر دنیا اور آخرت میں عذابِ الٰہی نازل ہوگا۔ ایسے ظالم حکمران طبقات اور وہ لوگ جو وسائلِ معاش کے حصول کے لیے اُن کی اتباع کرنے والے ہیں، یہ تمام دیکھ لیں گے کہ ان ظالم طبقات پر نازل ہونے والے عذاب کے دن تمام طاقت اور قوت صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہوگی۔ اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ فرماتے ہیں: ’’یعنی: جن ظالموں نے خدا کے لیے شریک بنائے، اگر وہ اُس آنے والے وقت کو دیکھ لیں کہ جس وقت ان کو عذابِ الٰہی کا مشاہدہ ہوگا کہ زور سارا اللہ ہی کے لیے ہے۔ عذابِ خداوندی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اب اللہ کا عذاب سخت ہے۔ ہرگز اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ نہ ہوں اور نہ اُن سے امیدِ منفعت رکھیں‘‘۔
چناں چہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل نے فرعون کو بڑا رب سمجھ کر اُس کو نہ صرف اللہ کا شریک مانا، بلکہ مالی مفادات اور منفعتوں کے لیے اُس سرکش ظالم کی حکمرانی کو تسلیم کیا اور ملتِ ابراہیمیہ کے قائم کردہ یوسفی اُصولوں کو نظرانداز کیا، تو اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیج کر اپنے آپ کو ’’ربِّ اعلیٰ‘‘ سمجھنے والے فرعون کو دریا میں غرق کرکے ایسے عذاب میں مبتلا کیا جو رہتی دنیا تک نشانِ عبرت بن گیا۔ جو لوگ فرعون کی طاقت اور قوت کو مان کر اُسی کو رب سمجھے ہوئے تھے، دنیا میں عذاب کے دن پتہ چل گیا کہ تمام تر قوت اور طاقت صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ہے۔ ان ظالموں کو آخرت میں حشر میں بھی اللہ کے عذاب سے گزرنا ہوگا، یہ بات یقینی ہے کہ اُس دن طاقت اور قوت اور حقیقی حکمرانی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی ہوگی۔ کوئی دنیا کا حکمران اور ظالم اس کی بادشاہی کو چیلنج نہیں کرسکتا۔
اسی طرح مکہ کے وہ ظالم حکمران، جو اس اُمت کے فرعون کی حیثیت سے اپنی سیادت اور قیادت کو یقینی جانتے تھے اور مکہ اور گرد و نواح کے مظلوم اور کمزور لوگ محض چند معاشی وسائل کی احتیاجی میں انھیں خدا سمجھے ہوئے تھے، غزوۂ بدر کے موقع پر اُن طاقت ور حکمرانوں اور ظالموں میں سے ستر لوگوں کو قتل کردیا گیا اور بقایا ستر لوگوں_ جو مکہ کی سیاسی طاقت کا نشان تھے _کو گرفتار کرکے مدینہ لایا گیا۔ دنیا میں اللہ کی طاقت و قوت واضح ہو کر سامنے آئی اور یہ لوگ عذابِ الٰہی میں مبتلا ہو کر نشانِ عبرت بنے۔
﴿إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ ﴾ (جب کہ بیزار ہوجاویں گے وہ کہ جن کی پیروی کی تھی ان سے کہ جو ان کے پیرو(کار) ہوئے تھے، اور دیکھیں گے عذاب اور منقطع ہوجائیں گے ان کے سب علاقے): ان ظالموں پر جب دنیا اور آخرت میں عذاب نازل ہوگا اور اُن کے دلوں میں جو بتوں اور حکمران طبقوں کی محبت جاگزیں ہے، وہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو ان کے متبعین بھی ان سے بیزار ہوجائیں گے اور ان کی اجتماعی طاقت سے تمام رابطے منقطع ہوجائیں گے۔ خاص طور پر آخرت میں اُن کے تمام ذرائع و اسباب بھی منقطع ہوکر رہ جائیں گے۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں کہ: ’’یعنی: وہ وقت ایسا ہوگا کہ بیزار ہوجائیں گے متبوع اپنے تابع داروں سے، اور بت پرست اور بتوں میں کوئی علاقہ (تعلق) باقی نہ رہے گا، ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا، عذابِ الٰہی دیکھ کر‘‘۔
﴿وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ﴾ (اور کہیں گے پیرو(کار): کیا اچھا ہوتا جو ہم کو دنیا کی طرف لوٹ جانا مِل جاتا، تو پھر ہم بھی بیزار ہوجاتے ان سے، جیسے یہ ہم سے بیزار ہوگئے ): آخرت میں ان کا یہ حال ہوگا کہ اُن کے تمام پیروکار طاقت کے اُن غیرالٰہی مراکز سے برأت کا اعلان کردیں گے، جیسا کہ وہ ظالم حکمران اس وقت اپنے متبعین سے برأت کا اعلان کیے ہوئے ہوں گے۔
اس کی تشریح کرتے ہوئے ’’فائدہ‘‘ میں حضرت شیخ الہند تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’اور مشرکین اس وقت کہیں گے کہ: اگر کسی طرح ہم کو پھر دنیا میں لوٹ جانا نصیب ہو تو ہم بھی اُن سے اپنا انتقام لیں اور جیسا یہ آج ہم سے جدا ہوگئے، ہم بھی ان کو جواب دے کر جدا ہوجائیں لیکن اس آرزو محال سے بجز افسوس کچھ نفع نہ ہوگا‘‘۔
﴿كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ﴾ (اسی طرح پر دکھلائے گا اللہ ان کو ان کے کام حسرت دلا نے کو، اور وہ ہرگز نکلنے والے نہیں نار سے): اس کی تشریح میں حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں: ’’یعنی: جیسے مشرکین کو عذابِ الٰہی اور اپنے معبودوں کی بیزاری دیکھ کر سخت حسرت ہوگی، اسی طرح پر ان کے جملہ اعمال کو حق تعالیٰ ان کے لیے موجب حسرت بنا دے گا‘‘۔
ان آیاتِ مبارکہ میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ انسانی اجتماعیت کی تشکیل کے لیے دستیاب تمام معاشی وسائل اور اُن کے حصول کی تمام تر جدوجہد کا مرکزی نقطہ‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور تہذیبِ اَخلاق کے ضمن میں ذکرِ الٰہی سے متعلق جو اُمور گزشتہ آیات میں واضح کیے گئے ہیں، اس کے مطابق اپنی تمام تر زندگی کو مرتب کرنا اور انسانی اجتماعیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ معاشی وسائل کو استعمال کرکے اس کا شکر ادا کرنے میں ہے اور اسی میں دنیا اور آخرت میں کامیابی ہے۔

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم
حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ
سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔
1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...
متعلقہ مضامین
جھوٹی آرزوؤں پر مبنی معاشروں کا زوال
(اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی‘ سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور ان کے پاس کچھ نہیں، مگرخیالات۔) (-2البقرہ: 78) گزشتہ آیات میں یہودی علما کی …
عیدالاضحیٰ کے دن کی تاریخی اہمیت
۱۰؍ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ / یکم؍ اگست 2020ء کو حضرت اقدس مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں خطبہ عید الاضحی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’&rsqu…
دشمن کے منفی رویوں کو سمجھنا اور نظم و نسق کی پابندی
گزشتہ آیات (البقرہ: 104 تا 107) میں یہ واضح کیا گیا کہ بنی اسرائیل کے یہودی اس حد تک انحطاط، ذلت اور غضبِ الٰہی کے مستحق ہوچکے ہیں کہ اب اُن کا تحریف شدہ دین منسوخ کیا…
قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی
قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی11؍ جولائی 2025ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں دورۂ تفسیر کی تکمیل کے موقع …
