

قرآنِ حکیم کے عجائبات اور ابدی رہنمائی
11؍ جولائی 2025ء کو حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ نے ادارہ رحیمیہ لاہور میں دورۂ تفسیر کی تکمیل کے موقع پر خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:
’’معزز دوستو! دو ہفتے سے جاری دورۂ تفسیر قرآن حکیم میں ہم سب اس عزم اور ارادے کے ساتھ شریک ہوئے کہ اللہ کی کتاب کو سمجھیں گے، اس کے مطابق اپنے اخلاق و اعمال اور اپنے احوال پیدا کریں گے، اور پھر اپنی اپنی جگہوں پر جا کر قرآنی تعلیمات کے عملی تقاضوں کی تکمیل کریں گے۔ الحمد للہ! ان دو ہفتوں میں ہم نے کتاب مقدس قرآن حکیم کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور اس کے بنیادی پیغام کو جاننے کی کوشش کی ہے۔
امام ترمذیؒ اپنی کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث (نمبر 2906) نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’عنقریب بہت سے فتنے پیدا ہوں گے، آزمائشیں آئیں گی‘‘۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ ان فتنوں سے بچنے اور سیدھے راستے پر قائم رہنے کا کیا طریقہ ہے؟ تو آپ ﷺ ْ نے فرمایا کہ: فتنوں سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی کتاب قرآن حکیم (کے ساتھ مضبوط تعلق )ہے۔ یہ کتاب ایسی عظیم الشان ہے جس میں تم سے پہلے کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ ماضی کی قوموں کا عروج و زوال، معاشروں کی تباہی و بربادی اور انبیا علیہم السلام اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اس میں بیان کی گئی ہے۔ انسان ان واقعات سے رہنمائی حاصل کر کے ان فتنوں سے نکلنے کا راستہ پا سکتا ہے۔ خصوصاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ غلامی اور پستی کی حالت سے نکلنے کے لیے کس طرح جدوجہد کی جاتی ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ: اس کتاب میں بعد میں آنے والے حالات اور رہنمائی کے اصول بھی موجود ہیں۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ جتنا بھی اس میں غور و فکر کیا جائے، اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ علما ہر دور میں اس سے نئے علمی نکات اور مسائل کے حل تلاش کرتے رہیں گے، لیکن اس کے معارف اور عجائبات میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔ قیامت تک نئے تقاضوں اور نئے مسائل کے حل کے لیے اس کتاب سے رہنمائی ملتی رہے گی۔قرآن حکیم بار بار پڑھنے سے بوسیدہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر دم تازہ رہتا ہے۔ اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس کی مٹھاس دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ا نھیں سیراب کرتی ہے۔ جو شخص تدبر اور توجہ کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہے، وہ نورِ الٰہی کے سائے میں آجاتا ہے اور اس کے وجود میں یہ نور سرایت کر جاتا ہے۔قرآنِ حکیم وہ نورِ الٰہی ہے، جس کی روشنی میں ہم سوسائٹی کے مسائل کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کتاب مقدس میں بے شمار علوم اور عظیم خزانے موجود ہیں، اور انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اس کی رہنمائی سے وابستہ رہے‘‘۔
قرآنی علوم کی تفہیم کا ولی اللّٰہی منہج
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’ادارہ رحیمیہ میں ہونے والے دورۂ تفسیر کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ہم اس میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ان علوم و افکار کی روشنی میں قرآن حکیم کو سمجھتے ہیں، جو اعلیٰ درجے کی حکمت پر مبنی ہیں۔ حکمتِ شاہ ولی اللہ کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ جیسا دور ہو اور جیسی صورت حال ہو، اس کے مطابق قرآنی حکمتِ عملی اور امور کو سمجھنے کی رہنمائی ملتی ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ یہ دور عقل و برہان کا دور ہے، اس لیے ضروری ہے کہ قرآنی علوم کی عقلی بنیادوں اور اس کے شعوری منہج کو سمجھا جائے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اصولِ تفسیر اور علم التفسیر پر جو اعلیٰ درجے کی علمی گفتگو کی ہے، اسے پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ دورۂ تفسیر عمومی دوستوں کے لیے ہے اور اس میں عام فہم باتیں بیان کی جاتی ہیں تاکہ ایک بنیادی نظریہ متعین ہو جائے، لیکن صرف عمومی باتوں پر اکتفا کرنا کافی نہیں۔ شاہ صاحبؒ کے علوم کی گہرائی اور ولی اللّٰہی سلسلے کے اکابرین کی بنیادی خصوصیات کو سمجھنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر دورہ ہائے تفسیر صرف آسان اور سہل باتوں تک محدود ہو جائیں اور شاہ صاحب کی علمی کتابوں پر گفتگو نہ ہو تو یہ علوم رفتہ رفتہ مٹ جائیں گے اور ان کی اہمیت کم ہو جائے گی۔
امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتابوں پر غور و فکر کیا اور ان کی روشنی میں قرآن حکیم کی عربی، سندھی اور اُردو زبانوں میں ایک منظم تفسیر لکھوائی۔ اس کے پس منظر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا علمی منہج اور نظمِ قرآنی کارفرما ہے، جس کی بنیاد پر آیات کی ترتیب اور سورتوں کی تفہیم بیان کی جاتی ہے۔ لیکن چوں کہ ہم امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم سے پوری طرح آگاہ نہیں، اس لیے اکابر کی بہت سی علمی گفتگو ہمارے لیے دشوار اور ناقابلِ فہم محسوس ہوجاتی ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک طرف بچوں اور ابتدائی درجے کے طلبا کے لیے قرآن حکیم کی تعلیمات سے وابستگی کے اصول بیان کرتے ہیں، اور دوسری طرف قرآن حکیم کے اعلیٰ ترین علوم و مضامین کی بھی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ نظمِ اجتماعی کے قیام کے لیے نظمِ قرآنی (الفاظِ قرآنی) کی پابندی ضروری ہے اور شاہ صاحب نے قرآن کے مطالبات، اس کے طبیعی نظام اور اس کے سسٹم پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔
انسان کی ترقی دو چیزوں سے ہوتی ہے: ایک علم، جو اس کے دماغ اور وجود کو روشن کرے، اس کی سوچ کو پختہ بنائے اور اسے شک و وہم سے نکال کر علمِ یقینی تک پہنچائے۔ یہی علمِ یقینی معاشروں کے نظمِ اجتماعی کی بنیاد بنتا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اس علم کے نتیجے میں انسان پر ایک قلبی کیفیت اور وِجدانی حالت طاری ہو، جس سے اعمال صادر ہوں۔ یہی ’’حالتِ الٰہیہ‘‘ ہے۔ قرآن حکیم انسان کو علمِ یقینی بھی عطا کرنا چاہتا ہے اور اس علم کے مطابق احوال، کیفیات اور اَخلاق بھی پیدا کرنا چاہتا ہے‘‘۔
قرآنی علوم کی بنیادیں اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تصورِ تفسیر
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن حکیم کی آیات اور سورتوں کا اسلوب اور اس کے مضامین کے فہم کا ایک بنیادی سسٹم بھی بیان فرمایا۔ شاہ صاحبؒ نے ’’الفوز الکبیر‘‘ میں قرآن حکیم کے پانچ علوم بیان کیے ہیں، ان کے نتیجے میں جو علم التفسیر وجود میں آئے گا، اس کے درجِ ذیل 10 بنیادی نکات متعین کیے ہیں(دیکھئے! ’’تفہیماتِ الٰہیہ‘‘):
1۔ جمہور انسانوں کے حقوق غصب کرنے والے سرمایہ پرست مذہبی اور سیاسی گروہوں کی سطحی انسانیت دشمن سوچ کی نشان دہی
2۔انسانیت کے تسلیم شدہ ارتفاقات اور اَخلاقیات کی ترغیب اور بداَعمالیوں سے ترہیب
3۔آیاتِ عظمیٰ اور نعمتِ کبریٰ پر غور وفکر اور حالتِ الٰہی طاری کرنے کی دعوت
4۔ ایمانِ حقیقی پیدا کرنے والی آیات پر غور وتدبُّر
5۔ ماضی میں انبیا علیہم السلام کے بارے میں قرآنی واقعات اور ان کی اُمتوں کے قصوں سے انسانی زندگی میں درست اَحوال واَخلاق پیدا کرنے کی دعوت
6۔انسانیت کے مُسلَّمہ سچے اُصولوں اور ضابطوں میں ہونے والی تحریفات کا ردّ
7۔ارتفاقات و اقترابات سے متعلق انعامات کی تمثیلات سے حالتِ الٰہی پیدا کرنا
8۔معاد (احوالِ آخرت) سے حالتِ الٰہی کی کیفیت طاری کرنا
9۔ انسانیت کے اعمالِ فاسدہ اور ان کی قباحت اور دنیا اور آخرت میں نتائج کا بیان
10۔ قرآنی سورتوں کے تین طرح کے اسالیب : بعض سورتیں فرمانِ شاہی کی طرح، بعض قصیدے کے انداز میں اور بعض مختصر قطعات کی صورت میں نازل ہوئی ہیں، جن کے ذریعے قرآن اپنے مضامین مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ علم تفسیر پر جب ہم گفتگو کریں گے تو یہ 10 بنیادی علوم ہمارے پیشِ نظر رہنے چاہئیں۔ ان دس بنیادی امور کے ذریعے سے اصل نقطہ وہ ہے، جو انسانوں میں ایمانِ حقیقی پیدا کرنا ہے، اس کے گرد جو حالات و رسومات کے غلاف چڑھ چکے ہیں، ان کو پھاڑنا ہے، اور ایسی حالت طاری کرنی ہے جس کے ذریعے سے وہ اصل ایمان حقیقی کا نقطہ اُبھر کر سامنے آجائے، تعلق مع اللہ پیدا ہو جائے، اللہ کے اس نظام پر یقین پیدا ہو جائے، اور وہ اللہ کی مخلوق کے لیے ارتفاقات اور اَخلاق کی بنیاد پر اپنا قومی اور بین الاقوامی نظام بنائے۔ ان علوم تفسیر کے ذریعے سے ایمان کی یقینی حالت پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ منہج ہے جو امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قرآن فہمی اور شعور کے اعتبار سے متعین کیا ہے۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک علمِ تفسیر کا مقصد صرف آیات کی تشریح نہیں بلکہ انسان میں علمِ یقینی، ایمانِ حقیقی، اصلاحِ احوال، اخلاقِ حسنہ اور اللہ کے نظام پر کامل یقین پیدا کرنا ہے، تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں قرآن کی رہنمائی میں درست راستے پر قائم ہو سکیں‘‘۔
پیغامِ قرآن کی امانت اور ہماری ذمہ داری
حضرت آزاد رائے پوری مدظلہٗ نے مزید فرمایا:
’’الحمدللہ! دورۂ تفسیر قرآن حکیم کے سلسلے میں دو ہفتوں کے اس قیام میں قرآن حکیم کی آیات اور سورتوں کے حوالے سے جو گفتگو سنی گئی، اس کا مقصد انسانیت کے نام قرآن کا بنیادی پیغام، غور و فکر کی دعوت اور اس منہج کو سمجھنا ہے، جسے ولی اللّٰہی اسلوب کی اساس پر شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسنؒ اور حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اختیار کیا۔ اب ضروری ہے کہ یہاں حاصل ہونے والے علم، اجتماعی حالت اور کیفیت کو محفوظ رکھا جائے۔ اس کا راستہ یہ ہے کہ ان تعلیمات پر عمل کیا جائے، ان کی دعوت دی جائے، اس کے مطابق ماحول بنایا جائے اور نئی نوجوان نسل تک اس پیغام کو منتقل کیا جائے۔
ہر انسان ایمانِ حقیقی پر پیدا ہوتا ہے، اس لیے ہر انسان محترم ہے۔ ماحول، رسم ورواج اور غلط تصورات نے اس پر جو غلاف چڑھا دیے ہیں، انھیں حکمتِ عملی سے دور کرنا ضروری ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بیان کے مطابق قرآن حکیم کی ’’موعظتِ حسنہ‘‘ کا مقصد ’’اوہامِ ظلمانیہ‘‘ اور ’’مدارکِ ظلمانیہ‘‘ کو ’’انوارِ قدسیہ‘‘ کے ذریعے توڑنا ہے۔ یعنی: قرآن کے عقلی اور شعوری دلائل کے ذریعے ان غلط تصورات اور بیانیوں کا ازالہ کرنا ہے، جو انسان کے فہم پر حاوی ہو چکے ہیں۔
آج امت کو خصوصاً اس بات کی ضرورت ہے کہ غلامی کے دور میں پیدا ہونے والے وہ بیانیے، جو تعلیم، سیاست، معیشت، سماج اور قومی تعمیر کے نام پر ذہنوں پر مسلط ہیں، قرآن کے انواراتِ قدسیہ کی روشنی میں ختم کیے جائیں۔ یہاں قہر سے مراد زبردستی نہیں بلکہ عقل، شعور اور مضبوط دلائل کا سلسلہ ہیں۔ انسانیت کا احترام برقرار رکھتے ہوئے غلط خیال کو توڑنا ہے، انسان کو نہیں۔ خیالات‘ مکالمے، بحث اور حسنِ استدلال سے بدلتے ہیں، توہین اور تذلیل سے نہیں۔دعوت کا اسلوب حکم چلانے کا نہیں بلکہ مشاورت، رفاقت اور خیرخواہی کا ہونا چاہیے۔ داعی کا کام لوگوں کے منفی، ظلمانی خیالات اور شکوک و شبہات کو دور کرنا ہے اور بہ تدریج قرآنی پیغام کے انواراتِ مقدسہ، مدارکِ نورانیہ اور یقین کے رنگ میں ان کے افکار، احوال، اعمال اور اخلاق کو ڈھالنا ہے۔ اس کے لیے علوم کے ساتھ احوال و مقامات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اس بنیاد پر قرآن کی دعوت کو اپنی سوسائٹی، ماحول، نوجوانوں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک تمام جہادوں میں سب سے اعظم الانواع انسانوں کو ہدایت کے راستے پر لانا ہے۔ انبیا علیہم السلام اسی مقصد کے لیے مبعوث ہوئے کہ وہ انسانیت کو ظلمانی مدارک سے نکال کر نورانی خیالات، احوال اور اعمال کی طرف لے آئیں۔ لہٰذا ایک سچے مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ اس منہج کو سمجھے، اپنے اخلاق، اعمال اور احوال کو درست کرے، صالح ماحول پیدا کرے اور نئی نسل کو اس ماحول میں شامل کرنے کے لیے اجتماعی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فریضے کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے‘‘۔ آمین!

مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
سلسلہ عاليہ رائے پور کے موجودہ مسند نشین پنجم
حضرت اقدس مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ
سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے موجودہ اور پانچویں مسند نشین حضرت اقدس مولانا مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ آپ کے والد گرامی راؤ عبدالرؤف خان(مجاز حضرت اقدس رائے پوری چہارم)ہیں۔ آپ کی پیدائش02 /جمادی الاول1381ھ/12 /اکتوبر1961ء بروز جمعرات کو ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپ کا نام ” عبدالخالق"رکھا۔9سال کی عمر میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی۔ اس سے آپ کی ابتدائی دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حفظ قرآن حکیم حضرت کے حکم سے ہی قائم شدہ جامعہ تعلیم القرآن ہارون آباد میں مکمل کیا اور درس نظامی کے ابتدائی درجات بھی اسی مدرسے میں جید اسا تذہ سے پڑھے۔ پھر جامعہ علوم اسلامیہ کراچی میں حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی(شاگرد مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا محمد ادریس میرٹھی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی)، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی(شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی و مولانا سید حسین احمد مدنی)وغیرہ اساتذہ سے دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علوم دینیہ کی تکمیل کی ۔ پھر دو سال انھی کی زیرنگرانی تخصص فی الفقہ الاسلامی کیا اور دار الافتار میں کام کیا۔
1981ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوری سے با قاعدہ بیعتِ سلوک و احسان کی اور آپ کے حکم سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری سے ذکر کا طریقہ اور سلسلہ عالیہ کے معمولات سیکھے۔ اور پھر12سال تک حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی معیت میں بہت سے اسفار کیے اور ان کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔1992ء میں ان کے وصال کے بعد حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کی صحبت میں رہے اور مسلسل بیس سال تک ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہے اور ظاہری اور باطنی تربیت کی تکمیل کی۔ رمضان المبارک1419ھ/ 1999ء میں حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائےپور میں آپ کو اجازت اور خلافت سے سرفراز فرمایا۔
15سال تک آپ جامعہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں تفسیر، حدیث ، فقہ اور علوم ولی اللہی کی کتابوں کی تعلیم و تدریس کرتے رہے۔2001ء میں ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے قیام کے بعد سے حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے ایما پر لاہور میں مستقل قیام کیا۔ اس وقت سے اب تک یہاں پر دورۂ حدیث شریف کی تدریس اور علوم ولی اللہی کے فروغ کے ساتھ ماہنامہ رحیمیہ اور سہ ماہی مجلہ"شعور و آگہی" کی ادارت کے فرائض اور ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ نے اپنی زندگی کے آخری چار سالوں میں آپ کو اپنا امام نماز مقرر کیا۔ آپ نے اُن کے حکم اور تائیدی کلمات کے ساتھ سلسلہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کا طریقہ تربیت و معمولات بھی مرتب کیا۔ آپ بھی شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیت ہیں۔ آپ حضرت اقدس مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری کے جانشین ہیں اور سلسلے کے تمام خلفا اور متوسلین آپ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ مزید...
متعلقہ مضامین
قوموں کی سیاسی بے شعوری کے خطرناک نتائج
سورت البقرہ کی گزشتہ آیات (86-85) میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ انسانی معاشرے میں تقربِ بارگاہِ الٰہی کے لیے عبادات اور عدل و انصاف کی سیاست میں تفریق پیدا کرنے والی جماعت دنی…
بنی اسرائیل کے لیے قومی اور ملکی سطح کا اجتماعی نظام
وَإِذ قُلتُم يا موسىٰ لَن نَصبِرَ عَلىٰ طَعامٍ واحِدٍ فَادعُ لَنا رَبَّكَ يُخرِج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَرضُ مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها ۖ قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذي هُوَ أَدنىٰ بِالَّذي هُوَ خَيرٌ ۚ اهبِطوا مِصرًا فَ…
تہذیبِ نفس کے عہد و میثاق کی خلاف ورزی
گزشتہ آیات (البقرہ: 80-82) میں یہودیوں کی تحریفات، ظنون و اَوہام اور ظلم و فساد کا تذکرہ تھا۔ اس آیتِ مبارکہ (البقرہ: 83) سے یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے کہ بنی اسرائیل کو …
دینی بے شعوری کا غلاف ؛ تباہی کا راستہ
سورت البقرہ کی گزشتہ آیت (87) میں یہ حقیقت واضح کی گئی تھی کہ جب بنی اسرائیل میں سوسائٹی کی جامع دینی تعلیمات کے حوالے سے تقسیم و تفریق کا رویہ پیدا ہوا اور وہ صرف رسمی …
